Category Archives: عالمی افسانہ فورم

آلنا

عالمی افسانہ میلہ 2021″

افسانہ نمبر “69” (آخری افسانہ)

” آلنا”

افسانہ نگار.اسماء حسن(اسلام آباد،پاکستان)

آلنا “

شام کے سائے گہرے ہوئے تو خنکی بڑھ گئی اور چہل پہل میں کمی ہو گئی۔قدیم شہر کی تنگ و تاریک گلی کی نکڑ پر بوسیدہ حال مکان کی چھت سے بارش کا پانی ٹِپ ٹِپ برس رہا تھا ۔گلی کے بائیں جانب پتلی سی نالی غلاظت سے بھری پڑی تھی ۔ اکہرے بدن کا پچاس سالہ شخص گندگی سے بچتا بچاتا،چَھپ چَھپ کرتا ہوا سبزی فروش کی ریڑھی کو تقریبا گراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔ سبزی فروشں،ریڑھی کو بارش سے بچانے کی تگ و دو میں موٹی موٹی گالیاں دینا بھول گیا۔۔بجلی کی تاریں کھمبوں سے یوں جُدا تھیں جیسے کوئی خواہش،نارسائی کی چبھن سے تنگ آ کر مسکن چھوڑ دے۔۔ چند گام دور غبارے بیچنے والا لڑکا گھر کی طرف تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا۔۔چھریرے بدن والے نے بھاگتے بھاگتے ڈنڈے سے تین غبارے توڑے اور منظر سے غائب ہو گیا۔۔ لڑکے نے منہ بھر کر گالی دی جو بارش کے شور میں وقعت کھو بیٹھی ۔

گلی کی نکڑ پر شکستہ مکان حالتِ زار پر نوحہ کناں تھا ۔۔ بوسیدہ دروازے کی زنگ آلودہ کنڈی ہوا کے زور پر تھرتھراتی تو چوب بُرادہ اکھڑ کر صحن کی اونچی نیچی،جگہ جگہ سے اُکھڑی اینٹوں میں ضم ہو جاتا ۔۔وہی اینٹیں جوسرخ،نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں مگر یہاں ان کی تقدیر پر کائی جم گئی تھی ۔۔ایک طرف کُنڈی ہوا کے حکم پر لرز سی جاتی تو دوسری طرف گھر میں موجود عورت کی نگاہیں بے تاب اور دل زور زورسے دھڑکنے لگتا۔۔داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک باتھ روم تھا جس پر ہرے کپڑے کی مدد سے اطراف میں اینٹیں رکھ کر چھت بنا دی گئی تھی۔۔

جاڑے کی یخ بستہ راتوں میں گھر کی جان کھاتی خاموشی سے خائف ہوا پیلو کا درخت صحن کے کونے میں منہ بسورے کھڑا تھا۔۔اس کی ہری بھری شاخیں کب کی بانجھ ہو چکی تھیں۔۔خزاں کو صحن میں اترے اکیس سال ہو گئے تھے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آلنے میں موجود تین بچے عین پیلو کے درخت کی پچھلی دیوار کے سوراخوں میں سے ایک سوراخ میں بیٹھے سارا دن چیں چیں کرتے۔دیوار میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں جگہ جگہ تعویذ اور گانٹھیں باندھی گئی تھیں ۔کالے،پیلے،ہرے،نیلے دھاگے جانے کس منت کو پورا کرنے کے لیے گانٹھ رکھےتھے ؟ بھلا گھروں کی درزوں میں بھی کوئی ایسا کرتا ہے؟

تینوں بچے دانہ دنکا کھانے کی لالچ میں پیٹ کے بل آگے بڑھتے تو چڑی انہیں چونچ مار کرپیچھے ہٹاتی اور باری باری ان کے منہ میں دانہ ڈالتی۔۔آلنا بڑی مہارت سے بنایا گیا تھا جس تک طوفانی بارش کی پہنچ ناممکن تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش کا زور ٹوٹا تو گھر میں موجود عورت،نم ہوئی لکڑیوں کو جلانے کی کوشش کر نے لگی۔۔

” کتنی تیز بارش تھی اگر بھاگ کر بالن پکڑا دیتی تو اب تک کھانا بن چکا ہوتا،لکن میٹی کھیلنے سے جان چھوٹے تو ماں کا ھاتھ بٹائے”وہ منمناتے ہوئے بیٹی کو ڈانٹنے لگی اور زور زور سے لکڑیوں کو چولہے میں ٹھونستی جاتی۔ اسی اثنا میں ایک شخص تیزی سے گھر میں داخل ہوا،غباروں کو چارپائیوں کے ساتھ باندھا اورچارپائیوں کو گھسیٹ کر ورانڈے کی طرف لے گیا ۔بدن پر ڈالی چادر اتاری،سلوکے کے اندر ھاتھ ڈال کر بھیگے ہوئے دو لال نوٹ نکالے اورسُکھانے کے لیے رکھ دیئے۔۔

سردیوں کی جمی راتوں کے گُھپ اندھیرے میں کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔اندازے ہی سے اس نےگارے سے لُتھڑے پاؤں کُھرے میں لگی ٹونٹی کے نیچے رکھ کر ٹونٹی کھولی،پاؤں دھوئے اور پیڑی لے کر چولہے کے پاس بیٹھ گیا۔۔عورت نے پاس پڑے تھیلے سے چند کوئلے اٹھائے،چولہے میں پھونکے تو شعلے بھڑک اٹھے اور چہرے واضح ہونے لگے۔۔ لپکتے شعلے کبھی ایک،کبھی دوسرے نفس پر روشنی ڈالتے تو روشنی بھی انکے ملول چہرے دیکھ کر سہم جاتی اور ناگن کی طرح لہراتی ہوئی دوسری جانب مڑ جاتی۔

عورت نے روٹی پر اچار رکھ کر شوہر کو دیا۔جب وہ لکڑی کی مدد سے جلتے ہوئے کوئلوں کو ادھر ادھر کرتی تو چھوٹے چھوٹے ذرات اس کے چہرے سے مس ہوتے ہوئے برآمدے کی ٹین گارڈر سے بنی چھت پر جا ٹکراتے..

۔

بارش تھم چکی تھی مگر ٹھٹرتی رات ظلم ڈھانے لگی ۔۔شوہر نے کھانا کھایا،دیوار سے اوپلے اتار کر تسلے میں ڈالے،آگ جلائی اور چارپائی پر بیٹھ کر ھاتھ سینکنے لگا۔۔وہ ایک نظر چارپائیوں پر ڈالتا اور پھر چولہے کے پاس بیٹھی عورت کو دیکھ کر منہ نیچےکر لیتا۔۔چولہے کی آگ دھیمی ہونے لگی مگر عورت کا وجود تپنے لگا۔۔گالوں پر آنسو بہے،ایک قطرہ آگ میں گرا اور”سی سی سی”کی آواز کے ساتھ دم توڑ گیا۔۔ شوہر نے”سی”کی آواز سن لی تھی مگر جان کر بھی انجان بن گیا۔

“ماں!میرے دل میں ایک خیال آیا ہے اگر میں باہر کے ملک چلا جاؤں تو ہمارے حالات بدل سکتے ہیں؟”

اسے بڑے بیٹے کی بات یاد آئی”ہاں بدل سکتے ہیں مگر تو یہ سوچنا بھی مت۔

ماں نے بڑے سادہ جملے بولے تھے مگر سادہ جملے بے وقعت ٹھہرے، جنہوں نےجانا ہوتا ہے وہ چلے جاتے ہیں۔۔وہ چلا گیا اورماں کو یکسر بھلا بیٹھا۔

“کتنا ظالم ہے، تجھے بالکل خیال نہ آیا کہ تیرے جانے کے بعد ماں باپ اور بہن بھائی کا کیا بنے گا؟”

وہ بڑبڑائی اور پھونکنی کی مدد سے کوئلوں کو ہوا دینے لگی۔۔ٹھنڈ نے اس کے ھاتھوں کو آگ جیسا سرخ کر دیا تھا۔۔خاوند کھانا کھا چکا تو عورت نے چائے کے پانی کو جوش دیتے ہوئے چارپائیوں کو دیکھا اور چولہے کے اوپربنی لکڑی کی چھیج سے چائے کی پیالیاں اتار کر نیچے رکھ لیں۔۔وہ پیالیوں کے کناروں پر پیار سے ھاتھ پھیرتے ہوئے بچوں کے ہونٹوں کی چُسکیاں محسوس کرنےلگی تو ٹوٹی ہوئی پیالی کا کنارا شہادت کی انگلی کو لہولہان کر گیا ۔چھینٹے آگ پر گرے مگر کوئی چنگاری پیدا نہ ہوئی۔

خاوند نے آنکھیں چراتے ہوئے بیوی کو دیکھا اور پائینتی کی طرف پڑے،پیوندلگے کمبل اور کھیس ٹھیک کرنے لگا۔۔بچوں کو سردی تو نہیں لگ رہی یہ سوچ کر اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔تسلا اٹھا کر چارپائیوں کے پاس دھرا اور ایک ٹوٹا پھوٹا میز لا کر اس کے ساتھ رکھ دیا ۔۔اسٹیل کا ایک گلاس اور پانی سے بھرا جگ میز پر رکھا اور سر سے صافہ اتار کر چوتھی چارپائی پر لیٹ گیا۔

بارش کسی نئے مسکن کی تلاش میں کب کی آگے بڑھ گئی تھی۔۔رات گہری ہوئی اور چاند تارے آسمانِ دنیا پرجلوہ گر ہونے لگے۔۔چھوٹے سے گھر میں اس کی چارپائی ورانڈے سے باہر نکل کر کھلے صحن کی طرف چلی جاتی تھی۔۔چاند کے برہنہ سینے پر دہکتے داغ دیکھے تو دل پر لگے اولاد کے زخم ستانے لگے۔۔

ایک دن شام ڈھلے گھر لوٹ رہا تھا تو منہ چھپاتے سورج اور آسمان پر چڑھتے چاند کو دیکھا تو بپھر گیا ۔ھاتھ کی ہتھیلی کو پورا کھولا اور “لخ دی لعنت” کہہ کرمٹھی بھینچ لی” کُل عالم کو روشن کرنے والے ماہتاب و آفتاب میرے کس کام کے؟میرا آنگن تو گور کی طرح خاموش اور کالا سیاہ ہے یہ کہہ کر اس نے ھاتھ میں پکڑا بیلچہ آسمان کی طرف اچھال دیا ۔لوگ اسے پاگل کہہ کر پیچھے بھاگے۔لوگوں کو کیا معلوم کہ اس کے حصے کے چاند تاروں پر تو اماوس نے پہرے بٹھا رکھے ہیں ۔

بتی بند تھی۔۔ چارپائیوں سے ہلکی ہلکی غوں غوں کی آوازیں آتیں تو وہ سوچتا “اگر بتی بند بھی رہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔کون سا کسی کو ٹھوکر لگنی ہے”

گھر پر عجب وحشت طاری تھی،سنسان راتوں کی وہ وحشت جس میں ہواؤں کی سرسراہٹ بھی طوفان جیسی معلوم ہو ۔

بلب جل اٹھا تو احساس ہوا کہ بتی آگئی ہے۔عورت نے ایک نظر بلب پر ڈالتے ہوئے سوئچ بند کر دیا اور چائے کی پیالی شوہر کے آگے رکھ دی۔

” بچے شایدسو گئے ہیں۔۔آنکھ کھلے گی تو چائے پی لیں گے ۔۔یہ دونوں رات کے آخری پہر نظر چرا کر ہانڈی سے کچھ نہ کچھ کھانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔۔کتنا سمجھاتی ہوں کہ جو کھانا ہو پہلے کھا لیا کرو مگر میری سنتا ہی کون ہے؟”

عورت قدرے اونچی آواز میں بڑبڑائی تو تھکے ماندے شوہر نے بے بسی کے عالم میں آنکھیں موند لیں۔۔آگ کی ہلکی ہلکی روشنی سُونے آنگن میں دیے کی لو جیسی تھی ۔

غبارے،گھٹن زدہ ماحول سے گھبرا کر آسمان کی طرف پرواز کر گئے۔۔عورت، ٹھوڑی گھٹنوں پر رکھے،چمٹے کی مدد سے دہکتے کوئلوں کو ادھر ادھر کرنے لگی۔۔اسے خیال آیا کہ عید پروہ نسرین کو گوٹے والا سوٹ سلوا کر دے گی بالکل ویسا جیسا بچپن میں وہ اپنی گڈی کو پہنایا کرتی تھی۔۔سرخ دوپٹہ، چوڑی دار پائجامہ اور ہری قمیض۔۔اسے یاد آیا کہ پچھلی عید پر نسرین کو ماسی کریماں کی پوتی جیسا سوٹ چاہیئے تھا تو کتنی لڑائی کی تھی؟بار بار گردن اٹھا کر ان کے گھر میں جھانکتی اور زمین پرپیر مار کر کہتی کہ ماں مجھے ہوبہو ویسا جوڑا چاہیئے ۔۔

تب اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔اتنی دیر میں نسرین اٹھی اور آنکھیں ملتی ہوئی چولہے کے پاس آن بیٹھی۔۔

“دیکھ اماں،میری اچھی اماں اس بارعید پر مجھے لال جوڑا لے دے گی ناں؟یہ لمبا ااااااااادوپٹہ پیروں تک اور ساتھ پازیب چھن چھن چھنا چھن”یہ کہتے ہوئے اٹھ کر وہ ناچنے لگی”اور ہاں سرخ،ہری چوڑیاں بھی”وہ چولہے کے اوپر گرنے والی تھی کہ ماں نے زور سے بازو پر چمٹا مارتے ہوئے پیچھے ہٹایا۔

” اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے اور ابھی تک تیری حرکتیں بچوں والی ہیں۔۔کون شادی کرے گا تجھ سے؟ “ہائے اماں کر ہی لے گاکوئی۔۔ ایک شہزادہ گھوڑی پر آئے گا اور مجھے لے جائے گا “عورت کی آنکھوں میں بجلی کوند گئی اور وہ بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھنے لگی۔۔ماں نے گلے میں حمائل بیٹی کے بازو چوم لیے۔۔

باپ نے یہ منظر دیکھا تو دھیمی سی مسکان لیے سانس اندر کی طرف کھینچ لی۔

“جا۔ بھائی کو بھی اٹھا لے۔ساری ساری رات جاگوں،دو گھڑی سکون نہیں لینے دیتے “

وہ بولتی جارہی تھی۔۔چھوٹے بیٹے نے اس کے ھاتھوں کو اپنے ھاتھ میں لیا ۔۔

وہ ناراض سا منہ بنائے ہانڈی میں سے سالن نکالنے لگی۔جب ماں کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی تو دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔ماں کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔۔

” کیا تجھے بھائی یاد آرہا ہے؟”بیٹے نے ماں کی گردن میں بازو ڈالے پوچھا تو عورت کا من چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی نیا رستہ بن جائے یا پھر رحمت کا فرشتہ ، جن، پری،دروازہ کھول کر اسے ایسی دنیا میں بھیج دے جو سراب نہ ہو۔۔

رات سرک رہی تھی۔۔بچے اپنے اپنے بستر میں جا گھسے۔۔اس نے پھونکنی دوبارہ اٹھائی اور بچوں کو سردی نہ لگے اس لیے آگ تیز کرنے لگی۔

“آجا!دو گھڑی سو جا کملیے”

شوہر نے گہری سوچ میں گم بیوی کو جگانا چاہا مگر وہ بے سُدھ،ھاتھ سینکتی لمحوں کی قید میں جکڑی بیٹھی تھی۔۔وہی لمحے جو اس کے دماغ کی شریانوں میں گھس کر جانےکون سا منتر پھونک رہے تھے کہ جیسے تخت بلقیس اسے بازار مصر لے جائے گا جہاں اس کا کھویا ہوا بیٹا مل جائے گا یا چارپائی پر لیٹے،غربت میں پسے ناتواں وجود موسی کے کہنے پر من و سلوی سے نواز دیے جائیں گے اور ۔۔۔اور عیسی،دست مبارک کی کرامت دکھا کرمسیحا بن جائے گا۔۔کیا ایسا ہو پائے گا؟”

اسی سوچ میں غلطاں تھی کہ اسے یاد آیا بڑے بیٹے کو کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا ۔وہ گلی کے لڑکوں سے روز لڑتا اور گھر آکر چھوٹے بہن بھائیوں کو خوب مارتا۔۔

“بھاگو ۔۔ بھاگ جاؤ مردودو ۔۔میرے آؤٹ ہونے پر تالیاں کیوں بجائیں؟”وہ چھوٹے بہن بھائی کے کان پر ایک دو تین تھپڑ لگاتا چلا جاتا۔

ماں اس کا ھاتھ پکڑ لیتی۔۔جیسے وہ اس کا ھاتھ پکڑتی تھی اس نے دہکتا کوئلہ اٹھا لیا تھا۔”سی سی”کی آواز پر شوہر نے گردن موڑتے ہوئے دوبارہ دیکھا ۔وہ بھی بے بس تھا،قسمت کے پھیر کو روک سکتا تھا نہ ہی ماں کے دل کو بدلنے کی التجا کرسکتا تھا ۔کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر کروٹ لے کر سو گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چیں چیں کرتی آوازوں میں نمایاں کمی آگئی اور چڑی کی بھاگ دوڑ میں تیزی۔۔وہ روز محنت کرتی مگر آلنے میں پڑے گم صم بچے سوائے چھوٹا سا منہ کھولنے کے کوئی حرکت نہ کرتے۔۔ چڑی کی پھڑپڑاہٹ میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔تینوں بچے ہلکی ہلکی سانسیں لے رہے تھے۔۔بچوں کی سانسیں تھمنے سے پہلے ماں کا دم نکل گیا۔۔بچے بدنصیب تھے جو اڑان بھر کر آخری بار ماں کا منہ بھی نہ چوم سکے کہ قدرت نے انہیں اس صلاحیت سے محروم رکھا تھا۔۔وہ پیلو کے درخت سے گری اور اس کے نیچے بنے مٹی کے گول دائرے میں ہمیشہ کے لیے سو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات گھٹ کر چاند کی پہلی تاریخ جتنی رہ گئی۔۔سردی سے عورت پر کپکپاہٹ طاری ہوئی ۔پژمردہ آنکھیں کبھی بند ہوتیں کبھی کھلتیں۔ شعلوں نے ہار مان لی۔۔تاریکی اور خاموشی دونوں خوف کھا گئے۔

“ماں۔۔۔ماں مجھے چوڑیاں چاہیئں۔۔۔دیکھ ماں میری مہندی مت بھولنا۔۔اماں بازار جائے تو میرا بلا لے آنا اور کرکٹ کا سوٹ بھی۔۔۔تیسرے کی فرمائش پر وہ کانوں پر ھاتھ رکھ کر انہیں کوسنے لگتی۔۔دیکھ اماں تو ان دونوں کا خیال رکھتی ہے، میں کب سے کہہ رہا ہوں مجھے سائیکل لے دے۔۔۔۔ابا سے سفارش کر دے ناں”

الفاظ خلط ملط ہونے لگے..اکیس سالہ صبر دھمال ڈالنے لگا تو سینے میں جکڑن محسوس ہوئی..عورت نے ایک نظر آلنے پر ڈالی،دوسری چارپائیوں پر اور پیڑی گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔۔تڑکا ہونے کو تھا۔۔شوہر اٹھا تو بیوی کو اسی حالت میں پا کر اس کے پاس آن بیٹھا۔ڈھارس دینے کے لیے کندھے پر ھاتھ رکھا تو کندھا لڑھک گیا۔۔

ماں کے عالمِ تمثال سے بے خبر تین ذہنی،جسمانی مفلوج وجود چارپائیوں پر بے سُدھ پڑے تھے مگر پیلو کے درخت پر آئی خزاں اور سیلن زدہ دیواریں چیخ اٹھیں تھیں

موت سے ہم نے سیکھی حیات آرائی

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر68

انجُم قدوائی

علی گڑھ انڈیا

موت سے ہم نے سیکھی حیات آرائی

وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اسکی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس کا اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔

اسُ دن پتہ نہیں کیسے اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ لرزے اور سامنے آتی ہوئی کار نگا ہوں سے اوجھل ہوگئی ایک زور دار دھماکے کی آواز پھر اندھیرا ۔۔۔گہرا اندھیرا چھاگیا ۔۔۔

پتہ نہیں کتنے گھنٹے یا کتنے دن بیت گئے ۔۔ہاسپٹل کے بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا نہ جانے کون کون سی نلکیاں بازوؤں اور چہرے پر لگی تھیں ۔۔کچھ غُنودگی کی سی کیفیت میں میری انگلیوں پر ایک نرم سا دوپٹہ سانس لینے لگا ۔۔اس دوپٹہ کی ایک آواز ، ایک بے بس اور بے حد بے چین آوازمیری سماعت کو تڑپانے لگی ۔

۔۔بیٹا ۔۔۔لوٹ آؤ میں نہ جی سکوں گی ۔۔۔نہ رہ سکوں گی تیرے بغیر ۔۔۔کیا ہوگا میرا ۔۔۔جب تک تو گھر نہیں لوٹ آتا ہے میرے گلے سے کھا نا نہیں اتر تا ۔۔اب کیا کروں گی ۔۔یہاں تو رکنے کی بھی اجازت نہیں میرے بچّے ہائے ۔۔تجھے کیا ہوگیا ۔۔۔”دوپٹے کا لمس کانپ رہا تھا ۔ ۔ دواؤں کی اتنی ساری بد بوؤں کے باوجود اس لمس کی خوشبو میرے ذہن کو معطر کر رہی تھی زندگی کی طرف بلاُ رہی تھی ۔۔۔امی کے نماز کے دوپٹے اتنے نرم ہوتے تھے کہ اکثر میں ان کی نماز کی چوکی پر لیٹ کر ان کی گود میں سر رکھ لیتا تھا ۔۔۔صرف نرمی اور لمس محسوس کر نے کے لئے ۔۔۔ایک عجیب سی خوشبو جس کو کسی اور خوشبو سے مثال دینا ناممکن ہے وہ امی کی خوشبو ہے صرف میری امی کی ۔

میری کلائی کو چھوتا ہوا وہ دوپٹہ دور جانے لگا اور۔۔ اور میں نے کو شش کی کہ ہاتھ بڑھا کر انھیں تھا م لوں مگر میں ایک انگلی بھی نہ ہلا سکا ۔

تکلیف و بے بسی سے دل پر گہرا ملال چھانے لگا میں پھر غنودگی کی کیفیت میں چلا گیا ۔۔۔بے خبر ہوگیا ۔۔

وہ شاید کوئی دوپہر تھی شاید بھیا آفس سے آئے ہونگے ۔۔ان کی مخصوص تیز خوشبو میں محسوس کر رہا تھا وہ بیڈ کے قریب تھے ان کی سخت آواز مجھے سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھنے کے لئے بہت کوشش کرنی پڑ رہی تھی وہ شاید ڈاکٹر سے مخاطب تھے کچھ پریشان لگ رہے تھے بیڈ کے قریب آگئے تھے ان کے کوٹ کا کونا میری انگلیوں میں لگا تو تو میں ڈر گیا بھیا غصّہ میں تھے ان کو گاڑی کے ٹوٹ جانے کا غصہ تھا وہ شینا سے یہی بات کر رہے تھے ۔ان کے لمس سے مجھے ان کے دل کی گہرایوں میں چھپی بات سمجھ میں آنے لگی ۔۔

اتنی منہگی گاڑی لے کر نکلنے کی کیا ضروروت تھی ۔۔اور تمہاری کار کہاں تھی انھوں نے شینا پر برستے ہوئے دوا کا نسخہ اسُ سے چھین لیا ۔۔۔

اب کار کی مرمت کرواؤں گا یا پھر اتنی منہگی دوائیں ۔۔۔

وہ کچھ بول نہیں رہے تھے مگر کوٹ کا لمس یہی کہہ رہا تھا ۔اور میں شرمندگی کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا

۔کیوں چلائی بھیا کی گاڑی ۔۔کاش دن واپس آجاتا کاش ۔۔پھر وہی اندھیرا وہی سننا ٹا سائیں سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے میں امی سے کس طرح لاڈ اٹھواتا تھا ۔۔ان کی نماز کی چوکی میری پسندیدہ جگہ تھی ان کے پاس گھس کر سو جانا ۔

بٹو میری ہتھیلی کا چھالا تھی کسی بھی بات سے اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آجائیں یہ سو چ کرمیرے شب و روز گزرتے تھے مگر یہ سب باتیں شینا کے میری زندگی میں آنے سے پہلے کی باتیں تھیں ۔

جب سے وہ آئی تھی میرا امی کے پاس بیٹھنا بھی گراں گزرتا تھا اسے میں غیر محسوس طریقے سے بہت دور ہوتا چلا گیا ۔۔۔بھولنے لگا تھا سب کو اور میرے منھ پر زور دار چانٹا یہ میری اذیت تھی

بِّٹو کے ہاتھ میں پھول تھے شاید ۔۔مگر اسے آئی سی یو۔ میں رکھنے کی اجازت نہ تھی پھول کی ایک پنکھڑی میری کلائی پر چھوٹی سی بات چھوڑ گئی ۔

۔بھیا خدا کے لئے اچھے ہوجاؤ مجھے چھوڑ کے مت جا نا میرا کوئی نہیں ہے ۔اس کے آنسوؤں کی نمی میری کلائی سے ہوتی ہوئی میرے دل میں اتر رہی تھی ۔۔

وہ میری بہن ہی نہیں میری سکھی سہیلی تھی وہ میری پہلی محبت تھی جب وہ امی کی گو دمیں آئی تو میں آٹھ برس کا تھا ۔۔۔وہ میری سب سے پہلی دوست سب سے پہلا پیار اور سب سے پہلی تسکین تھی۔

امی کے ایک طرف میں دوسری طرف وہ ہوتی تو میں امی کےنرم نرم پیٹ پر سے ہوتا ہوا بس اسی کو دیکھا کر تا ننھی سی گلابی گلابی گڑیا میرے دل کے بے حد قریب تھی ۔

۔اپنی شادی کے بعد میں نے اس کو اکیلا کر دیا تھا مگر وہ اب بھی میرے ساتھ تھی ہر لمحہ ۔مجھے جینا ہے مجھے ان سب کی طرف لوٹنا ہے ۔۔میں اپنے حوصلوں کو مضبوط کر رہا تھا میں اپنی ہمّت کو ان سب آوازوں سے سہارا دے رہا تھا ۔۔

رات کا کوئی پہر تھا شاید جب شینا مجھے دیکھنے مجھ پر جھکی ہوگی اس کی ساری کا آنچل میرے بازو پر ہلکا سا لہرایا ۔۔

میں تو پہلے ہی کہتی تھی اگر ڈیڈی کے پاس کینڈا چلے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔یہاں کیا رکھا ہے ۔۔اور تمہارے گھر والے ؟ یہ بھیا تمہارے کتنا غرور ہے ان کو اپنی پوزیشن کا ۔۔۔تم کینڈا جاکر ان سے دُ گنا زیادہ کما سکتے ہو ۔۔مگر سنو گے تھوڑی ۔۔۔میں تو ہار گئی کہہ کہہ کر ۔۔۔

بٹو کی شادی کی فکر میں تم اکیلے ہی گھلُ رہے ہوتمہارے بھیا کو تو پرواہ بھی نہیں ۔چلو یار یہاں سے ۔سب ٹھیک ہوجائے گا ۔

آج کل پیسہ ہی ہر مشکل کا حل ہے ۔۔۔اب کیسے کہوں تم تو ایسی حالت میں سن بھی نہیں سکو گے ۔

اس کی جھنجھلاہٹ میں صاف محسوس کر رہا تھا ۔۔جھڑکنے کا سا انداز میرے اندر آگ سی لگا رہا تھا ۔کیا اب مجھے ایسے ہی جینا ہوگا ۔۔۔کیا یہی زندگی ہوگی ۔۔یا موت ؟

رفتہ رفتہ سب کا میرے پاس آنا کم ہوتا جارہا تھا بھیاّ بھی کئی کئی دن نہ آتے۔

شینا ایک دن خوب خوشبوؤں میں نہائی ہوئی آئی اور ڈاکٹر جو میرے اوپر جھکا تھا پوچھنے لگی ۔۔

۔کوئی امید ہے کیا ؟

ڈاکٹر کی انگلیاں میرے ماتھے پر تھیں وہ خاموش تھا مگر مجھے سنائی دے رہا تھا 

۔کوما میں ہے کیا پتہ بچ ہی جائے یا پھر چل پڑے اور بچ بھی گیا تو کیا ۔کمر کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اٹھنا بیٹھنا تو ناممکن ہے ۔۔شاید بس سانسیں بغیر مشین کے لے لے اور پھر مڑ کر شینا سے بولا ۔

ہم امید پر قائم رہتے ہیں ۔

شینا اٹھلا کر میرے قریب سے نکلتی چلی گئی ۔

دروازے کے باہر سے ا س کا ہلکا سا قہقہ میں نے صاف پہچان لیا تھا ۔اف ۔۔۔

دھیرے دھیرے میں اس زندگی کا عادی ہوگیا تھا ۔۔پہلے بھیا روز آتے تھے مگر اب وہ بہت مصروف ہوگئے تھے۔امیّ روز آتی مگر اندر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر باہر بیٹھی رہتیں ۔جس وقت اندر آتیں ان کا لمس مجھ سے ہزاروں باتیں کر تا وہ استھما کی مریض تھیں مرض بڑھ رہا تھا ۔۔وہ اپنی فکر بالکل نہیں کر تی تھیں ۔

۔شینا کی بے وفائی ،امی کے مجھے لپٹا کر پیار کرنے سے واضع سنائی دی تھی ۔وہ اب کینڈا جارہی تھی اس نے کمرے میں آکر میری پیشانی پر اپنا کیوٹکس بھرا ہاتھ رکھ کر بڑے ناز سے کہا ۔

یا مجھے سنائی دیا ۔

اب نہیں گزر سکے گی تمہارے ساتھ ۔یہ بھی کوئی زندگی ہے ۔اور اب تو ڈاکٹر بھی مایوس ہوچکے ہیں ۔۔میں کب تک انتظار کروں ۔

ایک دن جب بٹو میرے بال سہلا رہی تھی تو اس کے لمس میں تھرتھرا ہٹ تھی اور امی کے چلے جانے کی خبر بھی تھی ۔میری زبان اکڑ گئی تھی ہونٹ سوکھ رہے تھے ۔دل میں تلا طم بر پا تھا ۔کلائی پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ایک ایک قطرہ میری نسوں میں اتر رہا تھا ۔

میں پانی مانگنا چاہتا تھا مگر میرا جسم ساکت تھا ۔مجھے معلوم تھا امیّ چلی گئیں ورنہ بٹو اس طرح تڑپ کر نہ رو رہی ہوتی ۔

چار برس یوں ہی گزر گئے بِٹو مجھے گھر لے آئی تھی اسپتال کا خرچ بہت آرہا تھا ۔کوئی نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا ۔وہ مجھ کو کہانیاں سناتی مجھ سے باتیں کرتی ۔۔میری دواؤں کا خیال رکھتی ۔میں بے جان لاش کی طرح پڑا رہتا ۔میرے لئے جو میل نرس کا انتظام اس ُ نے کیا تھا اس کی بیزاری بھی مجھے صاف محسوس ہوتی مگر میں لا چار تھا ۔اپنے لئے خود دعا کرتا تھا ۔

وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اس کی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس کا اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔

اسُ دن۔اچانک میری آنکھ کے گوشے سے آنسو کا ایک قطرہ آہستہ آہستہ چلا اور بٹو کی ہتھیلی بھگو گیا ۔۔

ایک معصوم سی خواہش

عالمی افسانہ میلہ “2021”

تیسری نشست

افسانہ نمبر67

ایک معصوم خواہش

کوثر بیگ

جدہ سعودی عرب

زمانہ اپنی بساط پر ہر انسان کے لئے حالات کے الگ الگ مہرے چلتاہے ۔ہہلے میں جب گھر آتا تو گھر کاٹنے کو دوڑتا تھا تنہائی کا احساس دل میں کانٹے چبھوتا رہتا ۔ گھر سے باہر رہنے کی ترجیح میں ہی قرار رہتا۔اب حالات یکسر بدل گئے ہیں ۔حالات کی بساط پر مہرے گھر آنےکے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

گھر میں داخل ہوتے ہی حالات اپنی مسرت کی پوٹلی کھول دیتا ہے۔ بیوی کا مسکراتا ہوا چہرا ، بچوں کی معصومانہ پکار “بابا آئے

بابا أگئے!

یہ سنکر دن بھر کی تکان اتر جاتی۔

شہناز کا میری زندگی میں آتے ہی یہ راز کھلا کہ گھر کیا ہوتا ہے اور سکون کسے کہتے ہیں ۔ صاف ستھرا گھر ، بچوں کی شرارتیں ،معصوم سوالیں ، مہمانوں کا آنا، گھومنا پھرنا ۔ زندگی کی بسا ط پر خوشیوں کے گھوڑے کی ڈھائی چال نے میری زندگی کی کا یا ہی پلٹ دی ۔

یہ سب اللہ کا کرم ہی تو ہے۔

میں بستر پر لیٹا زندگی میں در آئی نئی خو شبوؤں سے معطر زندگی سے لپٹی خوشی اور سکون کے منبہ شہناز کامنتظر ہوں۔

میں نے أواز لگائی

شہناز ، شہنار !

اللہ جانے میری آواز وہ سن بھی پارہی ہے ۔ افف!

تمام کام نپٹا کر کب آئیگی۔

مجھے تو اب نیند آنے لگی ہے ۔

اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں ۔بچوں کو سلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ آہستہ سے دروازہ بند کرکے پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ شہناز نے کہا ۔

شکر ہے تم آگئی ۔ کل سے مجھے اسکول کے بچوں کا جو نیا کام ملا ہے اس کےلئے صبح جلد اٹھنا ہوگا ۔ کل سے سب کام تم جلدی کرلیا کرو۔

تو آپ سوجاتے ۔شہناز نے تیکھے نظروں سے گھورتے ہوۓکہا

“جب تک تم نہ سلاؤ ہم کہاں سونے والے ہیں” ۔میرے خمار بھرے نظر و انداز کلام کے جواب میں شہناز بے اختیار مسکرا کر نظریں چرانے لگی۔

“شہناز وہ عطر کی شیشی کہاں ہے” ؟

میں نے استفسار کیا

“صبو وہ تم میرے لئے لائے ہونا تو میں چاہتی ہوں وہ میں اپنی سکھی سہیلیوں سے ملنے جاؤں تب استعمال کروں ۔ اسے میں نے تم سےچھپا کر رکھ لیا ہے”۔

شہناز وہ عطر میں نے تمہاری سہیلیوں کےلئے نہیں بلکہ میں چاہتا ہوں تم میرے لئے اسے استعمال کرو ۔

پروفیسر صاحب کی بہو جب بھی اس مخصوص خوشبو کا استعما ل کرتی ہیں توسوچتا ہوں کہ تم بھی ایسی ہی خوشبو لگا کرمیرے لئے مہکا کرو۔زندگی میں پہلی بار اتنی قیمتی چیز اسی شوق کے لئے خریدی ہے ۔ دو ماہ کی آمدنی کے برابر رقم خرچ کی ہے تب جاکر خرید سکا ہوں ۔ابھی تک اس کے لئے اڈوانس لیے پیسے ادا نہیں ہوئے ۔ بتاؤ شہناز کہاں رکھا ہے ۔ میں نے زور دیکر پوچھا۔

صبو آپ یوں سارا سامان کپڑے یوں اتھل پتھل نہ کریں میں دیتی ہوں ۔

رکیں ، ذرا ٹہریں ۔۔

کپڑے کو الٹ پلٹ کرتے عطر کی شیشی چٹاک سے میرے سامنے ٹوٹ کر بکھر گئ ۔میں بے اختیار پیشانی پر ہاتھ مار کر تاسف سے شہناز کی آواز پر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا ۔

میں کہہ رہی تھی نا ٹہرنے کے لئے تم نےکپڑوں کے ساتھ نیچے رکھی شیشی توڑ دی .صبو ! آہ یہ کیا کردیا ؟

میری وجہ سے نہیں تمہارے چھپانے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔ ارے واہ یہ سینہ زوری بھی خوب ہے۔

اگر تمہیں ایک وقت میں میری بات سمجھ نہیں آتی تو تم جاسکتی ہو ۔

وہ میری بات سنکر بھل بھل رونے لگی ۔

اب اگر ذرا بھی رونے کا ڈرامہ کیا تو ابھی تمہیں میکے چھوڑ آؤں گا ۔میں نے غصیلے لہجے میں روکھائی سے جواب دیا۔

“چلو ہٹو مجھے مت چھوؤ ۔ مجھے نیند آرہی ہے” ۔

دن بھر کی تکان اور نرم لحاف کے گداز پن نے مجھ پر غنودگی طاری کردی ۔کب نیند کی آغوش میں چلا گیا خبر ہی نہ ہوئی ۔ صبح ناشتہ تیار تھا ۔ آنکھوں کے کٹورے میں سرخ ڈوروں کے ساتھ قریب ہی شہناز بیٹھی تھی مگر میں بنا ناشتہ کئے چپ چاپ کام پر نکل گیا۔

میری تمام محرومیاں ، جھڑکیاں ، میری آنکھوں کے راستہ رواں تھے ۔

آج اماں مجھے بہت یاد آرہی تھی۔ اس وسیع و عریض دنیا میں انکے سوا میرا کوئی نہیں تھا۔ پوچھنے پر بھی اماں نے کسی کے بارے میں نہیں بتایا بس اتنا کہتی تھی کہ تیرا باپ اچھا آدمی تھا جوانی میں حادثہ کا شکار ہوگیا سوائے دو کمروں والےگھر کے اس نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا میں آج بھی اسی گھر میں رہتا ہوں اماں کے دنیا سے رخصت ہونے والا دن قیامت سے کم نہ تھا۔ اماں کی یاد کے ساتھ ہی اس دن کا درد تازہ ہوجاتا ہے ۔ اماں ہی نے مجھے پنچر کی دکان پر رکھوایا تھا اور خود برسوں سے مولوی صاحب کے گھر کام کرنے جاتی تھی انکی بیگم صاحبہ سے منت سماجت کرکے مجھے قرآن مجید اور پانچویں جماعت تک پڑھوایا تھا ۔اماں نے جانے سے پہلے بیگم صاحبہ سے میرا خیال رکھنے کا وعدہ لے گئی تھی ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو آج میں نہ جانے کہاں کی خاک چھان رہا ہوتا ۔وہ میرے لئے سیسہ پلائی دیوار بنی رہیں ۔ اماں کے بعد میں ہر ماہ کی تنخواہ اور آتے جاتے پنچر لگوانے والے لوگوں کی ٹپ اماں کی طرح بیگم صاحبہ کو دے دیتا وہ روز مجھے دونوں وقت کھانا کھلا دیتی ۔ پنچر کی دوکان کے مالک رفیق سیٹھ مجھے سارے پیسے دینے سے منع کرتے مگر میں تو پہلے بھی اماں کو ایسا ہی دیا کرتا تھا ۔اماں مجھے اکثر تاکید کرتی رہتی “صبو تو باہر نہ جانے کیسے لوگوں سے ملتا رہتا ہوگا تجھے میری قسم کوئی بری لت نہ لگا لینا کبھی چائے ،پان ،سگریٹ نہیں پینا ، کبھی گالی نہیں دینا ۔تیرا باپ بہت شریف آدمی تھا۔ بہت زیادہ بھوک لگے تو باہرسے سموسہ وغیرہ کھالیا کر” پر میں وہ بھی نہیں کھاتا سارے پیسے اماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا ۔ پیسے لیتے وقت ان کی آنکھوں میں خلوص سے مہک اٹھتیں جو مجھے بھوک پیاس سے زیادہ عزیز تھی میں اس کی خوشی کےلئے خوب محنت کرتا ۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ ان پیسوں میں وہ میرا بہتر مستقبل دیکھ رہی تھی ۔ بچپن سے مولوی صاحب کے گھر اماں کے ساتھ جایا کرتا تو قریب کی دکان سے چھوٹی موٹی چیزیں خرید لانے کہتے آج بھی بیگم صاحبہ کچھ منگوانا ہوتا تو فون پر کہدیتی ہیں ۔ سودہ سلف لا کر میں ملازمہ کے ہاتھ بھیج دیتا اور اپنی آمدنی کے پیسے مولوی صاحب کے ذریعہ بھیجوا دیتا کیونکہ میرے پندرہ سال مکمل ہونے کے بعد بیگم صاحبہ نے زنانہ خانہ کی طرف کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔اماں کے جانے کے کچھ عرصہ بعد پہلی بار مجھے بیگم صاحبہ نے گھر میں بلایا تھا وہ پردے کے پیچھے بیٹھی مجھ سے کہہ رہی تھیں ۔

دیکھو بیٹا صبور تمہاری ماں کی خواہش تھی کہ وہ تمہیں ایک آٹو رکشہ خرید کر چلانے دیں وہ ایک ایک پیسہ میرے پاس جمع کرتی رہیں ہیں۔ مجھے معلوم ہے اسی نے تمہیں بھی اپنی تنخواہ سونپنےکو کہا ہوگا اسی لئے تم مجھے اپنے پیسے دیتے ہو اور اب وقت آگیا ہے اچھے خاصے پیسے جمع ہوگئے ہیں ۔ میں امام صاحب کو آٹو کی خریداری کےلئے کہہ چکی ہوں ۔ تم اپنا لائسنس بنانے کی تیاری کرو ابھی ستر ہزار کی کمی ہے میں اپنے جاننے والے ایک پروفیسر میاں بیوی سے بات کرلی ہے وہ قرض دینے کو تیار ہیں بشرط کہ انہیں تم روز یونیورسیٹی لے جاکر چھوڑنے کے بعد تمہیں گاڑی گھر پر پہنچانی ہوگی تاکہ انکی ڈاکٹر بہو ہاسپتل جاسکے پھر تمہیں واپسی پر اسپتال سے گاڑی لیکر یونیورسٹی جانا ہوگا ۔ پروفیسر صاحب کو گھر پہنچا کر گاڑی ہاسپٹل میں پارک کرنی ہوگی وہ معقول تنخواہ سے قرض کے پیسوں کی کٹوتی کردیا کرینگے ۔باقی وقت میں کمائے ہوئےآٹو رکشہ کے پیسے بھی ہم قرض میں منہا کرتے جائنگے قرض کی ادائیگی ہوتے ہی تمہیں اختیار ہوگا تم پروفیسر صاحب کی ملازمت کرو یا نہ کرو ۔ اماں کےعلاوہ میں کسی بھی رشتہ سے ناواقف تھا ۔ سیٹھ سے رات دن واسطہ رہتا مگر اس نے کبھی مجھے ایک ملازم سے بڑھکر نہ سمجھا ۔ صبو چار نمبر کا پانا دینا ۔ صبو وہ پیچ والا اسکریو لادے ۔ کبھی بڑا تو کبھی چھوٹا اسکریو ڈرائیور بھاگ کر لا نے کہتے ، دیکھ ہوا بھروانےگاڑی آئی ہے جاکرپائپ لگا ، اسٹبنی اٹھا کر لا ،گاڑی کو سائیٹ بتا ۔بس انہیں میرے کام سے کام رہا- میں بھی اس بھاگ دوڑ سے تھک چکا تھا ۔پھر اماں کی خواہش کو میں کیسے رد کرتا ۔ بیگم صاحبہ کا مشورہ قبول کرلیا ۔ایک سال کے اندر آٹو رکشہ کا قرض ادا ہوگیا ۔ پروفیسر صاحب کے خلوص اور مہینے کو لگی بندھی آمدنی کی وجہ سے آج تک انکی ڈیوٹی بجا لا رہا ہوں ۔

پھر ایک دن مولوی صاحب کے پاس پیسے رکھوانے گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ صبور بیٹا تمہاری بیگم صاحبہ نے کہلا بھیجا ہے کہ “تم کو اب شادی کرلینا چائیے اگر تم کو کوئی لڑکی پسند ہوتو بتائیں ہم بات کر آتے ہیں ،نہیں تو تم کہو تو وہ خود تلاش کرینگی ”

مولوی صاحب آپ کو معلوم ہے میرا اس دنیا میں کوئی رشتہ دار نہیں ، کام کے سوا کبھی کچھ سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔

مولوی صاحب فرمانے لگے اجی میاں خاندان بنانے کی پہلی سیڑھی شادی ہوتی ہے ۔ یہ ہی دنیا کا پہلا رشتہ ہے ۔ ایسے ہی خاندان بنتے ہیں پھر قبیلہ وجود میں آتا ہے معاشرہ ایسے ہی تو تشکیل پاتا ہے ۔ تم شادی کاارادہ تو کرو ،اللہ برکت ڈالے گا۔ پھر ایک دن تمہارا بھی خاندان بنے گا ان شاءاللہ میری دعا ہے تم خوب پروان چڑھو ۔

اس طرح شہناز میری زندگی میں آئی مولوی صاحب کی دعا قبول ہوئی ۔ہمیں اللہ نے دو پیارے بچوں سے نوازا۔

گرد و نواح سے بے خبر ذہن ماضی کے ادھیڑ بن میں گم آٹو کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک پاؤں آٹو رکشہ میں تو دوسرا باہر لٹک رہا تھا ۔فون کی گھنٹی سے میری محویت ٹوٹی۔ مولوی صاحب کو یاد کیا اور انہوں نے فون کرکے مجھے بلا لیا ۔ چل صبو اماں کے بعد ایک وہی تو میرے خیر خواہ ہیں شاید ان سے مل کر دل کو سکون ملے ۔یہ سوچ کر میں ملاقات کےلئے نکل پڑا۔

سلام کرکے بہت دیر سے مولوی صاحب کے سامنے بیٹھا ہوں مگر دل کی بے چینی لب تک نہ آسکی ۔

مولوی صاحب خود چھیڑ کر میری خیریت دریافت کرنے لگے ۔

جی سب بہتر ہے ۔

آج بڑے خاموش ہو میاں کیا بات ہے؟۔ تمہارا کام کیسے چل رہا ہے ؟

الحمدللہ ایک اسکول کے چار بچوں کی راتب ملی ہے ۔سوچ رہا ہوں کچھ پیسے جمع ہوجائیں تو آٹو رکشہ بیچ کر ٹیکسی خرید لوں ۔

اللہ بہتری عطا کرے ۔ مولوی صاحب کی دعا سے قدرے بے چین دل کو قرار آیا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مولوی صاحب حسبِ عادت نصیحت فرمانے لگے ۔ صبور بیٹے ازواجی زندگی کے لئے میری یہ دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنا ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی فطری جذبات و ضروریات کا خیال رکھنا اور ایک دوسروں کے غلطیوں کو نظر انداز کردینا،دل سے معاف کردینا ۔ ایسا کرنے سے رشتہ برقرار رہتا ہے ۔ لہذا خاندان کو مضبوط کرنے کا یہ بہت اہم طریقہ ہے ۔

مولوی صاحب اپنے جیب سے لفافہ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگے یہ تمہاری بیگم صاحبہ نے کچھ پیسے دیے ہیں ۔ میں لینے سے انکار کرنے لگا بیگم صاحبہ کے کہنے پر میں بنک اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے لگا ہوں ۔

مولوی صاحب ناراضگی و اپنایت کے ملے لہجہ میں کہنے لگے تمہیں نہیں چاہیے تو نہ لو ،ان پیسوں سے اپنی

بیوی کے لئے کوئی تحفہ خرید لینا ۔۔۔

میں اجازت کے بعد وہاں سے رخصت ہوا ۔

گھر کی دہلیز پر دستک دینے پر شہناز کو بجھے بجھے چہرے کمہلاۓ ہوۓ گلاب پر شبنم شرمندگی کے قطروں کے ساتھ اپنے سامنے پایا۔ میں نے مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا دئیے ،میرے سیدھے ہاتھ میں اپنی پسند کی برانڈ اور دوسرے ہاتھ میں کچھ سستی عطر کی بوتل تھی جو شہناز کے لئے الگ سے خریدی تھی ۔

شہناز تم اس گھر کی رونق ہو دیکھو تو میں تمہارے لئے ایک کی جگہ دو دو بوتلیں لے آیا ہوں ۔ اب تم مسکرا بھی دو

غلطی تو میری ہی تھی میں مرکر بھی تم سے خفا نہیں ہوسکتی ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں وہ مسکرا کر کہنے لگی۔

اس کی مسکراہٹ سے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے من آنگن میں چار سو بہار ہی بہار چھا گئی ہو۔۔۔

اس کا دکھ

عالمی افسانہ میلہ 2021

, تیسری نشست

افسانہ نمبر66

اس کا دکھ

آصف اظہار علی

علیگڑھ.انڈیا

رنکو سہمے ہوۓ کبوتر کی طرح ڈبل بیڈ پر اپنے ممی اور پا پا کے بیچ گڑ مڑ سا پڑا ہوا ہے.اس کی ممی اور پاپا نے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر رکھی ہے.آج پھر وہ دونوں لڑے ہیں،اکثر ہی لڑتے ہیں.دونوں ہنستے بولتے رہتے ہیں تورنکو کو بہت اچھا لگتا ہے.تب پڑھاٸ میں بھی اس کا دل خوب لگتا ہے اور کھیلنے کودنے کو بھی جی چاہتا ہے ، لیکن جس دن گھر میں لڑاٸ ہوتی ہے اس دن رنکو بہت پریشان ہو جاتا ہے.وہ سوچتا ہے کہ گھر چھوڑ کر کہیں بھاگ ہی جاۓ.ممی کے موٹے موٹے آنسو اس سے نہیں دیکھے جاتے.پا پا کا چیخنا چلانا اسے نہیں اچھا لگتا. کیسے سمجھاۓ سات سال کاننھا سا رنکو اپنی ممی اور پاپا کو.جسے گھر کے حا لات نے بڑ وں کی طرح سوچنے پر مجبور کردیا ہے.بچپن کہیں کھو گیا ہے رنکو کا.وہ ہمیشہ خاموش اور سنجیدہ رہتا ہے.رنکو کو ڈر بھی بہت لگتا ہے کیونکہ ا س کے ممی اور پاپا کےد ر میان کبھی کبھی مرنے مارنے کی باتیں بھی ہو نے لگتی ہیں.ممی کوٸ زہریلی چیز کھانے والی ہوتی ہیں کہ پاپا ہاتھ مار کر ا سے گرا دیتے ہیں اور پھر ممی کو گلے لگا کر پچکارنے لگتے ہیں.ذرا سی دیر میں دونوں میں دوستی بھی ہو جاتی ہے.رنکو چین کی سانس لیتا ہےاور ڈبل بیڈ پر ایک کونے میں کھسک جاتا ہے.ممی اور پاپا بچوں کی طرح ایک دو سرے سے لپٹ جا تے ہیں.لاٸٹ بند ہو جاتی ہے.وہ سمجھتے ہیں کہ رنکو سو گیا ہے لیکن رنکو کیسے سو سکتا ہے وہ انھیرے میں ہی آنکھیں کھو لے ہوۓ ممی ا ور پاپا کی لڑا ٸ کے بعد ہونے والا ملن د یکھتا ہےاور خوش ہوتا ہے.اس کا جی تو کرتا ہے کہ زور زور سے تالی بجانے لگے مگر نہیں اس نے اگر ایسا کیا تو ممی اور پاپا الگ ہو جا ٸیں گے اور رنکو نہیں چاہتا کہ وہ دونوں الگ ہوں.کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہےکہ لڑتے لڑتےاس کی ممی اپنے کپڑے ا ٹیچی میں رکھنے لگتی ہیں اور کہتی جاتی ہیں کہ وہ اب کبھی اس گھر میں نہیں آٸیں گی تو رنکو زور زور سے رونے لگتا ہے.ممی کہیں مت جا یۓ .پلیز مجھے چھوڑ کر مت جا یۓ. تب ممی کے ہاتھ کپڑے رکھتے رکھتے رک جاتے ہیں.رنکو کو گلے لگا کر وہ خوب روتی ہیں اور اس کی خاطر رک جاتی ہیں، لیکن رنکو کو ہمیشہ ڈر ہی لگا رہتا ہے.ممی کسی دن اسے چھو ڑکر چلی ہی نہ جاٸیں.اسکول جاتے وقت اس کا چہرہ ذرا سا نکل آتا ہے.سڑک پر دور تک جاتے جاتے ممی کو مڑ مڑ کر دیکھتا ہےاور ہاتھ ہلاتا رہتا ہے.اسکول میں بھی ڈرا اور سہما ہوا سا رہتا ہے.پڑھنے میں بھی اس کا دل نہیں لگتا.ٹیچر ڈانٹتی ہیں تو رونے لگتا ہے.رنکو کارنگ پیلا پڑتا جارہا ہے.بہت دبلا ہوگیا ہے وہ.اس کی ممی کبھی اسکول جاتی ہیں تو رنکو کی ٹیچرز شکایت کرتی ہیں.پڑھتا نہیں ہے،جانے کیا سوچا کرتا ہے.آپ اس کا پورا چیک اپ کروا یۓ مسزرشید بیمار لگتا ہے.ممی پریشان ہو جاتی ہیں .شام کوجب رنکو کے پاپاگھر آتے ہیں تو ممی نہ جا نے ان سے چپکےچپکے کیا کیا باتیں کرتی ہیں..د ونوں د یر تک سر جوڑے بیٹھے رہتے ہیں.اس روز پا پا اسے گھمانے بھی لے جاتے ہیں،لیکن پیار کی یہ بر سات صرف دو چار روز تک ہی ہو تی ہے اور پر وہی لڑنا جھگڑناشروع ہوجاتا ہے.

رنکو کے پا پا یو نیورسٹی میں پڑھا تے ہیں.ایک لڑکی ریما اکثر ان کے پاس گھر آتی ہے.وہ ریسرچ کر رہی ہے.ریما ان کے گھر آتی ہے تو رنکو سہم جاتا ہے.وہ اسےریما د یدی کہتا ہے.لیکن ریما اسے بالکل اچھی نہیں لگتی ، حالانکہ وہ رنکو کے لۓ ڈھیروں چاکلیٹ اور بسکٹ لے کر آتی ہے،لیکن اس سے کیا .چاکلیٹ تو اس کی ممی بھی منگوا کر یتی ہیں.وہ چاکلیٹ کا بھوکا نہیں ہے.بڑی مشکل سے پاپا کے بہت کہنے پر وہ ریما دیدی سے کوٸ چیز لیتا ہے.رنکو کا ننھا ساذہن بھی یہ بات محسوس کرتا ہے کہ لڑاٸ کی جڑ ریما دیدی ہی ہیں.وہ جب بھی گھر آتی ہیں تو ان کے جانے کے بعد ممی اور پاپا خوب لڑتے ہیں.رنکو سب سمجھتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ریما دیدی کے آتے ہی اس کے پاپا کا چہرہ کھل جاتا ہے اور ممی اداس ہو جاتی ہیں.رنکو کو ایسا بھی لگتا ہے کہ جب تک ریما دیدی پاپا کے کمرے میں ان سے پڑھتی ہیں ممی کادل کام میں نہیں لگتا.رنکو کو پینے کے لۓ ٹھنڈا دودھ ہی پکڑا دیتی ہیں.بار بار کمرے میں جھانک کر آتی ہیں.رنکو سے کہتی ہیں کہ جا دیکھ تیرے پاپا کیا کر رہے ہیں.پاپا سے نہ کہنا کہ میں نے تجھے بھیجا ہے.اس روز کا کھانا بھی رنکو کو اچھا نہیں لگتا کبھی سبزی میں مرچ تیز ہوتی ہے.کبھی روٹی جلی ہوٸ.ممی کے کہنے پر رنکو ایک بار پا پا کے کمرے میں گیا تو پا پا بالکل ممی کی ہی طرح ریما دیدی کو گلے لگا کر پیار کر رہے تھے…..چھی… رنکو الٹے پاٶں واپس چلا آیا.اسے بہت برالگا تھا.دیر تک وہ ایک کونے میں اداس اور پریشان سا کھڑا رہا.شکر ہے کہ ممی آس پاس نہیں تھیں.اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ بات ممی کو بتا ۓ یا نہیں.پھر اس نے سو چا کہ یہ بات ممی کونہیں بتانی چاہیۓ جیسے اسے برا لگا ہے ممی کو بھی بہت برا لگے گا.وہ تو سمجھتا تھا کہ پاپا صرف اس کے اور ممی کے ہیں مگر اب حیران ہے وہ.پا پا سے اس نےدل ہی دل میں کٹی کرلی ہے.پتہ نہیں کالی کلوٹی ریمادیدی پاپا کو کیااچھی لگتی ہیں.کہاں اس کی پیاری پیاری گوری چٹی پریوں جیسی ممی اور کہاں ریما د یدی.اپنی ممی کا دکھ رنکو کا ننھا سا ذہن اب سمجھنے لگا ہے.آج کل بچےبہت جلدی سمجھدار ہوجاتے ہیں.بچوں کی معصومیت اور بھولا پن چند سال کے بعد شاید قصے اور کہانیوں کی ہی باتیں ہو جاٸیں گی.ننھی سی عمر میں ہی وہ ہر بڑی بات جان جاتے ہیں.عورت اور مرد کےرشتوں کو سمجھنے لگتے ہیں.قریبی رشتوں میں پڑی ہوٸ دراریں ان سے چھپی نہیں رہتیں.یہ یقیناً ٹیلیویژ ن کیبل ٹی.وی اور ان ٹی وی سیریلو ں کی مہربانی ہے جن سے ہر وقت بچے اور بڑے چپکے رہتے ہیں.

رنکوکی ممی بیمار رہنے لگی ہیں.ایک بار توبہت بیمار ہو گٸیں.کٸ کٸ ڈاکٹر ان کے پلنگ کو گھیرے کھڑے رہے.رنکو سوچتا ہے کہ جب گھر میں کٸ کٸ ڈاکٹر آتے ہیں تو بیمار مر جاتا ہے.ایسا ہی تو ہوا تھا جب اس کے دادا مرےتھے.کوٸ ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکا تھا.ممی کی طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر آۓ تو رنکو زور زور سے رونے لگا. نہیں ممی ..مرنا نہیں ممی نے جب اس کے سر پر اپنا کمزور سا ہاتھ پھیرا تو وہ اور زور زور سے رونے لگا اور ممی سے لپٹ گیا..رنکو بہت ڈر گیا تھا.ممی کو آنکھیں بند کۓ ہوۓ چپ چاپ لیٹے ہوۓ دیکھتا تود ھک سے رہ جاتاکیا ممی مر گٸیں.گم صم بیٹھا رہتا یا دوڑ کر پا پا کو بلا لا تا کہ دیکھۓ ممی کو کیاہورہا ہے.رات کو سوتے سوتے اٹھ بیٹھتا رنکو اور زور زور سے رونے لگتا.تب ا س کے ممی اور پا پا اسے لپٹاا کر پیار کرتے اور تھپک تھپک کر سلا د یتے.نیند تو رنکو کو ممی کے پاس ہی آتی ہے.ان کے ہاتھ پر وہ جو ایک موٹا سا ابھرا ہوا کالا مسؔہ ہے ا سے ٹٹولتا رہتا ہے اور سو جاتا ہے لیکن جب ممی بیمار ہوٸیں تو ڈاکٹر نے انہیں بالکل الگ آرام سے سونے کے ۓ کہا.رنکو اور اس کے پا پا دوسرے پلنگ پر لیٹتے.ان دنوں رنکو نے جو کچھ دیکھا اس سے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ پا پا تو ممی کو بہت پیار کرتے ہیں.ممی سوجاتی تھیں وہ اٹھ اٹھ کر انہیں دیکھتے ،ان کے سر پر آہستہ آہستہ بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتے رہتے تھے.کبھی ان کی چادر ٹھیک کر کے انہیں اڑھاتے.وقت ہونے پر انہیں دواٸ کھلاتے.رنکو ٹکر ٹکر سب دیکھتا رہتا.اور سوچتا کہ کیا پا پا صرف ممی کو ہی پیار کرتے ہیں اور ریما دیدی، کیا ریما دیدی کو کبھی کبھی یوں ہی پیار کرلیتے ہیں پا پا جیسے کہ میں ، جب مجھے کوٸ ننھا سا بچہ اچھا لگتا ہے تو میں ا سے بھینچ بھینچ کر پیار کر لیتا ہوں اور بس.ہاں ایسا ہی ہے .بالکل ایسا ہی ہے.رنکو کو لگا کہ اس کے پاپاتو بہت اچھے ہیں.ممی تو یوں ہی لڑتی ہیں ان سے اور اپنی طبیعت خراب کر لیتی ہیں.ہوسکتا ہے ممی کو بھی کبھی کسی پر یوں ہی پیار آجاۓ ، کسی انکل پر.کتنے اچھے اچھے دوست آتے ہیں پا پا کے.رنکو کی بے چینی کواب کچھ قرار سا آگیا ہے.اس کی ممی بھی اب ٹھیک ہیں.پاپا کے کوٸ دو ست گھر آتے ہیں تو رنکو ممی کو گھسیٹ کر ڈراٸنگ روم میں لے جاتا ہے.خوب تعریفیں کرتا ہے پاپا کے دوستوں کی.ممی آپ نے دیکھا ، راجیش انکل کتنے اچھے ہیں.پاپا سے بھی اچھے لگتے ہیں نا.آپ ان کے پاس کیوں نہیں بیٹھتیں.ممی ساحل انکل بہت اچھے ہیں نا آپ کی کتنی تعریف کرتے ہیں پا پا سے ، خوب ہنساتے ہیں اور اس کی ممی صرف مسکرا کر رہ جا تیں.

آج رنکو کے پاپا کے قریبی دوست ساحل گھر آۓ تو رنکو کے پاپا گھر پر نہیں تھے.جلدی واپس آنے کے لۓ کہہ کرکسی کام سے بازارگۓ تھے.رنکو کی ممی نے ساحل کو تھوڑی دیر بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے کے ۓ کہا اور دوکپ چاۓ اور ناشتہ لے کر ساحل کے قریب ہی صوفے پر آکر بیٹھ گٸیں.دونوں باتیں کرنے گے.ساحل انکل اور ممی کی زور زور سے ہنسنے کی آواز سناٸ دی تو رنکو نے بھی کمرے میں جھانکا.اسے اچھالگا .ممی تو ہنستے ہنستے دوہری ہوٸ جارہی تھیں.کافی انتظار کے بعد بھی رنکو کے پا پانہیں آۓ تو ساحل چلے گۓرنکو نے ممی کا کھلا ہوا چہرہ د یکھا تو دوڑ کر آیا اور ان کے گلے میں جھولتا ہوا شرماکر بو لا .

”ممی ساحل انکل آپ کو بہت پیار کرتے ہیں نا..“.

تڑاک تڑاک دو زور دار چانٹے اس کی ممی نے رنکو کے گال پر جڑ دۓ اور نہ جانے کیوں بیٹھ کر رونے لگیں ننھا رنکو سسکتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس سے کہاں غلطی ہوگٸ. رات کو پھر ممی اور پاپا کے بیچ زور دار جنگ ہوٸ اور رنکو سہمے ہوۓ کبوتر کی طرح ڈبل بیڈ پران دونوں کے بیچ گڑ مڑ سا پڑا رہا.

ریل کی سیٹی

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر 65

ریل کی سیٹی

ابن عبداللہ

راولپنڈی پاکستان

حبس آلود دوپہر میں جب ریلوے سٹیشن کی تنہاء اُداسی بھری چھاؤں میں اس نے قدم رکھا تو اس کے کچھ دیر بعد ہی ایک پہاڑی چڑیا گرمی سے نڈھال اس کے قدموں میں آن گری۔

ٹوٹے ہوئے لکڑی کے بینچ پر بیٹھتے ہوئے اس نے چڑیا کی پیاس سے نڈھال سانسوں میں موت کی ہلکی سی آمیزش کو شدت سے محسوس کیا اور کسی انجانے خوف کے پیش نظر اس نے پانی کے لئے نظروں کو چاروں طرف پھیلا دیا۔۔

دور ٹوٹے ہوئے مٹی کے ایک مٹکے نے اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر آنکھیں چرا لیں تھیں۔

وہ چڑیا کو بینچ کی سطح پر کسی مرے ہوئے لمحے کی طرح چھوڑ کر بھاگتا ہوا وہاں گیا۔لیکن اس میں پانی کی جگہ تنہائی بھری ہوئی تھی ۔

اس نے سٹیشن ماسٹر کی کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی اور جب وہ پانی لیکر چڑیا کے پاس پہنچا اس کی سانسوں کی ڈور پیاس کی نوکیلی تیز دھار سے کٹ چکی تھی۔

اسے لگا جیسے چڑیا کی پیاس بھری ہوئی آنکھیں اس کے ہاتھ میں موجود میلے گلاس میں بیٹھے ہوئے پانی پر موکوز تھیں۔

یہ کوئی نیک شگون ہر گز نہیں تھا۔

اس نے چڑیا کے مردہ وجود کو مٹی کی نظر کیا اور جب زمین بالکل ہموار ہوگئی تو اچانک ہی آسمان نے اس ناگہانی موت پر نوحہ کہا اور بارش نے ٹین کی چھت پر الواعی دھن کو چھیڑا۔

فضا کسی جوان بیوہ کی آنسوؤں کی طرح گیلی اور سوگوار یادوں کی ہجوم سے نم ہو گئی۔

اس نے اپنے تھکے ہوئے وجود کو بینچ پر گرا دیا اور اطراف میں دیکھنے لگا ۔شاید وہ چڑیا کی موت سے توجہ ہٹانا چاہتا تھا ۔

.اب وہ چاروں طرف انتظار کو چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا سامنے بیٹھے بوڑھے کی جھریوں سے انتظار تاکا جھانکی کر رہا تھا ۔قلیوں کے شکن زدہ لباس کی لکیروں میں بھی انتظار رقص کر رہا تھا ۔اس کے سامنے کچھ دوری پر بیٹھی لڑکی کی ہاتھوں میں لگی مہندی سے بھی انتظار کی مہک آرہی تھی اور اس کی آنکھوں میں انتظار جل رہا تھا ۔انتظار گاہ میں چلتے پھنکے تک ہوا کی جگہ انتظار پھینک رہےتھے .موتیے کے پھول بیچنے والا لڑکا نہیں جانتا تھا کہ اس کے پھولوں سے انتظار کی باس آرہی ھے ۔ اس نے اس بوڑھی کو بھی دیکھا جس کے سفید بالوں میں انتظار کے کچھ کالے بال اگ آئے تھے ۔سپیکر سے آتی آواز گویا انتظار کی آہٹ تھی جسے سن کر سب چونک اٹھتے تھے اور ریل کی پٹڑیوں پر دور تک اس سمت انتظار بھری نگاہ ڈالتے جہاں سے ریل انتظار کی پٹریوں پرسے کچھ اور انتظار لیکر آتی۔یہاں ہرطرف انتظار تھا ۔چلتا انتظار ۔ٹھہرا انتظار۔ دوڑتا انتظار۔ بیٹھا انتظار ۔لیٹا انتظار۔۔بولتا انتظار خاموش انتظار ۔۔ریلوے اسٹیشن کے چپے چپے پر انتظار جم سا گیا تھا۔۔جیسے ٹھہرے پانی پر کائی جم جاتی ھے ۔

لو ٹرین آگئی اس میں بھی ہر سیٹ پر انتظار بیٹھا تھا۔۔ منزل پر پہچ جانے کا انتظار۔۔۔

لاحول ولاقوة__اس کا جی انتظار کی بُو سے متلانے لگا تو اس نے دوبارہ اس چھوٹی سی مٹی کی ڈھیری کو دیکھا جہاں کچھ لمحوں پہلے ہی اس نے پیاسی چڑیا کو دفنایا تھا ۔

چڑیا کی موت شاید آنے والے کسی بڑی جدائی بھرے حادثے کی پیشن گوئی تھی۔

اس نے مردہ چڑیا کی بجھتی ہوئی آنکھوں میں اپنی موت کا عکس لہراتے ہوئے واضح طور پر دیکھا تھا۔

رائگاں سفر کی مشقت اور بے حسی کے منہ زور تھپڑوں سے نڈھال اس کا وجود اس بینچ کی طرح جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا جس پر شاید برسوں بعد وہ آکر بیٹھا تھا۔

جب مٹی کی خوشبو میں اداسی کی خوشبو شامل ہوکر ریلوے سٹیشن کی تنہائی بھری فضا میں پھیل چکی تو بادل اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اس بچے کی طرح سو چکے تھے جسے من پسند کھلونا نہ دیا گیا ہو ۔۔آسمان کی گالوں پر اسی بچے کی طرح کچھ آخری بوندیں لڑکھڑاتی ہوئی تیرے جا رہی تھیں۔

دھوپ نے سٹیشن کے نیم تاریک ماحول میں قدم رکھا تو اس کی نظریں ریلوے لائن پر دور تک دیکھتی ہوئیں اداس تھیں۔

اسے اندازہ ہوا کہ شہر میں ہونے والے حادثوں میں کچھ بڑے حادثے کبھی لوگوں کی نظر میں نہیں آتے۔جیسے اس چڑیا کی موت یا گاڑی کے نیچے آکر مرنے والے بلونگڑے کی موت۔۔

کوئی بھی ٹی وی چینل ایسے واقعات کی کبھی کورج نہیں کرتا ہے۔۔اسے دکھ ہوا کہ کوئی کہانیاں لکھنے والا بھی ان اموات پر کبھی کوئی کہانی نہیں لکھتا ہے۔

اُس نے دوہارہ اس جگہ کو دیکھا جہاں چڑیا دفن تھی۔

کون کہے گا کہ یہاں پیاس سے نڈھال ایک چڑیا دفن ہے ۔۔جس کی جگر گوشے گھونسلے میں بیٹھے اس کی راہ دیکھ رہے ہوں گے۔۔اس چشم تصور میں اس چڑیا کے بچوں کو دیکھا ۔۔۔جن کی آنکھوں میں انتطار پھیلا ہوا تھا۔

کاش میں ان کو بتا سکتا کہ وہ انتظار نہ کریں۔

اس نے دل میں تاسف سے سوچا۔

اس نے وقت گزری کے لئے ریلوے سٹیشن کا مشاہدہ کیا۔

ایک ٹوٹا ہوا پانی کا گھڑا، ایک لیڑ بکس جس میں ایک کوے نے اپنے گھر بنایا ہوا تھا ۔۔اور ایک لکڑی کا بکسہ جو تابوت کی طرح وہاں پڑا ہوا تھا ۔

انگریزوں کی دور کی پرانی گھڑی جو سٹیشن ماسٹر کے کمرے کی دیوار پر کسی ادھورے وعدے کی طرح ایک جگہ رکی ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ دکھ بھرا بوڑھا انتظار جو نجانے کتنی صدیوں سے وہاں بیٹھا ہوا ریل گاڑی کی انتظار بھری آواز کو سن رہا تھا ۔

اور ایک وہ۔۔جو کسی پرانے شکستہ وائلن کی ٹوٹی تاروں میں سانس لیتی کسی دھن کی آواز جیسا تھا۔

آوازیں جب مجسم ہوجائیں تو ان کے اندر کا کہرب کس قدر واضح ہوجاتا ہے۔۔

غرض زندہ لوگوں کے لئے شاید اس ریلوےاسٹیشن میں کوئی کشش یا دلچسپی کا سامان نہیں تھا_

ٹرین پتا نہیں کب آئے گی_اس نے دل میں سوچا اور پھر ریلوے پلیٹ فارم پر چل قدمی کرنے لگا اس کی نگاہیں کسی چیز کی تلاش میں تھیں۔پھر اسے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے کے سامنے ادھ جلا ہوا سیگریٹ بلاآخر نظر آگیا ۔خود سے نگاہیں چراتے ہوئے اس نے سیگریٹ اٹھایا اور جیب سے ماچس نکالی جس میں آخری تیلی بچی ہوئی تھی__اُسے دوسری تیلی کی ضرورت بھی نہیں تھی_

سیگریٹ سلگتے ہوئے وہ وہ خاموشی سے وہیں اسی بینچ پر آ بیٹھا۔

اچانک ہی پٹریاں کسی مریض کی طرح ہلکی سی کانپی

جدائی کی گہری نیند میں سویا ہوا ریلوے سٹیشن یک لخت ہی بیدار ہوا تھا۔

ریل کی آواز ریل سے آگے دوڑتی ہوئی وہاں داخل ہوئی تھی۔

اس نے طویل سانس اپنے اندر کھینچا اور مایوسی سے سگریٹ کو دیکھا جس کے وہ محض دو کش ہی لے سکا تھا۔

جدائی کا وقت پرانی گھڑی سے کود کر باہر آگیا تھا___اور پھر

کچھ ہی دیر بعد وہ اس ریلوے اسٹیشن پر تھکا دینے والے بوڑھے انتطار کی آنکھوں میں تحلیل ہوچکا تھا ۔

اور پیچھے چڑیا کی آخری سانسیں اور اس کا بیگ پڑا رہ گیا تھا جس میں وہ عمر بھر ناکامیاں اور خواب جمع کرتا تھا__اور ہاں___ریل کی سیٹی ___جو گہری اور ہمیشہ کی جدائی کی تمہید تھی

سر طور ہو،سر حشر ہو

عالمی افسانہ میلہ 2021″

تیسری نشست”

افسانہ نمبر”64″

“سر طور ہو،سر حشر ہو”

افسانہ نگار . محمد عمر فیضان علوی(لاہور،پاکستان)

اس کا چہرہ دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے اس کی تہہ میں رنگ کا سمندر تلاطم سے گزر رہا ہو۔ آنکھیں کھوئی کھوئی سی تھیں لیکن ان کی پتلیاں کسی نا معلوم چمک سے دمک رہی تھیں۔ ایسی آنکھیں جو پایاب نظر آتی تھیں لیکن ان کی تہہ نا معلوم تھی۔ اس کے گرد کار ہائے حیات میں ڈوبے ہوئے انسانوں کا سمندر بے طرح ڈول رہا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے درمیان کوئی خاموشی سے اتر آیا ہے۔ ہاں کسی کی سرسری نظر جب اس کے چہرے پہ پڑتی تو ایک غیر محسوس ہیبت سی دل میں اتر آتی تھی۔

وہ خاموشی سے سر اٹھائے نظریں جھکا کر اس سمندر سے راستہ بناتا چل رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشروب کی تلخی نے اس کے حلق میں انگارے بھر دیے جنھیں اس نے لا شعوری غصے کے باعث دانت پیستے ہوئے معدے کی راہ دکھائی اور سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک لمحے کو اس کے قدم لڑکھڑائے لیکن اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے پیچھے مڑ کر اس بے حواس ہجوم کو دیکھا جو تیز میوزک پہ تھرک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ سوچنے لگیں اور پھر وہ دوبارہ رخ پھیر کر سٹول پہ بیٹھ گئی۔ گلاس نے شیشے کی سلیب کو کھرچا تو بار ٹینڈر اس کی طرف متوجہ ہوا۔

“ڈرٹی مارٹینی”

اس نے گلاس کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے بغیر نظر اٹھائے آرڈر دیا۔ بار ٹینڈر نے پیشہ ورانہ انداز میں سر ہلایا اور جام تیار کرتے ہوئے اس لڑکی کو دیکھا جو ہلاکت آفریں حسن کے ساتھ ساتھ نہایت بولڈ لباس پہنے ہوئے تھی۔ کلائی پہ ڈائمنڈ بریسلیٹ اور گلے میں ایک شاندار نیکلس اس کے ہائی کلاس ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔ لیکن اس میں کچھ تھا جو اسے کسی نا معلوم انداز سے اس ماحول سے الگ کررہا تھا۔ وہ کیا تھا، بار ٹینڈر اندازہ نہیں کر سکا اور اس کا جام تیار کر کے اس کے آگے رکھ دیا، پھر اسے غور سے دیکھنے لگا۔

اس نے پلکیں اٹھائیں اور چبھتی ہوئی نظروں نے گویا بار ٹینڈر کی چوری پکڑ لی۔ وہ بوکھلا کر خالی گلاس اٹھائے واپس مڑ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور کہیں مخلتف کہکشائیں گلے مل رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں سکیڑ کر جوئے شِیر کہکشاں کو دیکھنے کی کوشش کی جو ان ستارہ ساز کارخانوں کے سمندر میں نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ مزید کوشش کرتا لیکن سماعت ایک آواز کے کے سامنے سر بسجود ہوگئی:

“گھر ڈھونڈ رہے ہو؟؟؟”

وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیرتی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

سوال سن کر اس کے چہرے پہ خجالت کے رنگ اترے:

“میرا گھر تو تم سے عبارت ہے”

وہ کے ماتھے پہ آئی لٹ کو آہستگی سے پیچھے کرتے ہوئے بولا۔

لڑکی نے سمجھ جانے والے انداز میں شوخی سے سر ہلایا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ یہ کائنات کی بالائی جہت تھی جہاں زمان و مکاں ایک دوسرے سے بغل گیر تھے۔

اب وہ اس کا پرانا گھر ڈھونڈ رہی تھی لیکن زوار کے ہاتھ نے بدن کے روئیں روئیں میں ہیجان برپا کر دیا۔ زوار کے چہرے پہ جذبات کے رنگ بارات کی صورت اترنے لگے۔ اس نے بے اختیار صبا کے کندھے کے گرد بازو پھیلایا۔ صبا نے کچھ چونک کر اسے دیکھا اور اس کا چہرہ دیکھتے ہی وہ سمٹ سی گئی۔

“تمہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے مجھ سا خوش نصیب کوئی بھی نہیں”

وہ اس کے کان کی لو چوم رہا تھا۔صبا کو لگا کہ اس کا دم نکل جائے گا۔ دل قفس توڑ کر سینے سے باہر اچھلنے کی کوشش میں تھا لیکن سانسیں نا معلوم خواہشوں کے بار سے رہ رہ کر آ رہی تھیں۔ بدن کسی کمان کے جیسے ہو رہا تھا۔ زوار نے اس کا چہرہ دیکھا تو اس کی آنکھوں سے گویا رنگ پھوٹنے لگے۔

وہ دونوں محبتوں کی بارش میں بے طرح بھیگ رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کلب میں لائٹس جھلملا رہی تھیں۔ رش تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس کا سر کاؤنٹر پہ ٹِکا ہوا تھا اور سیاہ بال آبشار کی طرح بکھر رہے تھے، پشت عریاں ہو رہی تھی۔

اس کا ایک ہاتھ اس نشے میں بھی کاؤنٹر پہ انگلیاں تھرکا رہا تھا جیسے وہ کسی تال سے سُر ملا رہی ہو۔

بار ٹینڈر بڑی محویت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظروں نے ایک باؤنسر کو ادھر آتے ہوئے دیکھا۔ بار ٹینڈر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا بازو ہلایا۔

لمس پاتے ہی وہ بری طرح چونک کر اٹھی:

“ہاؤ ڈیر یو باسٹرڈ؟”

بار ٹینڈر ہکا بکا رہ گیا۔ تبھی صبا کے کندھے پہ اس باؤنسر نے ہاتھ رکھا اور سختی سے اسے اپنی طرف گھمایا:

“میم، کلب از اوور، لیو ناؤ۔”

اس نے ایک نظر اپنے کندھے پہ جمے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے جیسے برق کوندی ہو۔ وہ اپنی جگہ کھڑی تھی لیکن فائٹر اپنا گلا پکڑے زمین چاٹ رہا تھا۔ اور پھر اس کے ہاتھ پاؤں سیدھے ہوتے گئے۔ شاید بے ہوش ہو گیا تھا۔

اس نے مڑ کر بار ٹینڈر کو گھورا اور انگلی اٹھائی جیسے کہہ رہی ہو آئندہ ہاتھ مت لگانا اور کلب سے باہر چل دی۔ قدم لڑکھڑا رہے تھے مگر آنکھیں جیسے خون سے بھری ہوئی تھیں۔

اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ کوئی مسکرا رہا تھا۔ سر جھٹک کر وہ سامنے آنے والی بس میں سوار ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راستہ سنسان اور ویران تھا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ بے جگر ضرور تھا، مگر بے وقوف نہیں۔

بڑی ہوشیاری سے وہ راہ میں آنیوالی کانٹے دار جھاڑیوں سے دامن بچا کر چل رہا تھا۔ اچانک ایک گہری سانس کی آواز ابھری اور سائے نے زقند لگا کر اس پہ چھا جانا چاہا۔ اس نے پھرتی سے اس کی گردن ناپی اور گھما کر ایک درخت پہ دے مارا۔

ایک دھماکہ ہوا اور اور وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ ایش ٹرے دیوار سے ٹکرا کر کرچیوں میں بدل گئی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے کمرے کے نیم روشن ادھڑے ہوئے در و دیوار پہ ڈالی اور زیرِ لب خود کو کوستے ہوئے کروٹ بدل لی۔

جانی۔ قوس و قزح کا ریچھ

تیسری نشست

افسانہ نمبر 63

’’جانی۔ قوس و قزح کا ریچھ‘‘

نوٹ:یہ کہانی ہر عُمر کےبچوں کے لئے ہے

تحریر: بُش احمد، ایڈیلیڈ، ساؤتھ آسٹریلیا۲۰۲۱۰۸

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’آسٹریلیا میں کسی کو معلوم نہیں کہ جانی کہاں سے آیا تھا۔‘‘، باؔجی نے کہانی شروع کرتے کہا۔

رات کو سونے سے پہلے مجھ سے دو سال بڑا میرا بھائی مسعود اور میَں، ہمارے والد باؔجی کے ساتھ کہانی سُننے لیٹے ہوئے تھے۔ باؔجی کو معلوم تھا کہ اگر کہانی بور کرے گی تو ہم وہیں پر اُن کے ساتھ ہی چارپائی پر سو جائیں گے اور پھر ہمیں اُٹھا کر اپنے اپنے بستر پر لے جانا پڑے گا۔ کہانی سناتے سناتے باؔجی ہماری زبان سے ہُوں ہاں، ٹھیک ہے، وغیرہ یعنی ہمارے جاگتے رہنے کا اِقرار کرواتے جاتے تھے۔ ہر رات وہ ایک ایسے جُملے سے کہانی شروع کرتے تھے کہ ہماری بوجھل آنکھیں اور تھکے ذہن کی کھڑکیاں بند ہوتے ہوتے ایکدم دھڑام سے کُھل جاتی تھیں۔ میرزا ادیب کی کتاب صحرا نورد کے خطوط کی طرح ’’پھر آگے کیا ہوا؟‘‘ کا شوق ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ پھر نیند کس کمبخت کو آنی ہے!

’’جیسا کہ تمہیں معلوم ہے، دوسری عالمی جنگ کے دوران میَں برٹش انڈین آرمی میں تھا۔ میری پوسٹنگ مشرق وسطیٰ میں تھی، ہمارے کیمپ میں انگریزوں ، انڈین عربی مصری حبشی فوجیوں کے علاوہ آسٹریلیا سے آئے ہوئے فوجیوں میں وہاں کے قدیم یعنی ایبوریجنل (Aboriginal) باشندوں میں سے نارِن یاری (Ngarrindjeri) قبیلے کا ایک کالا خوب صورت اور صحت مند نوجوان ’’جان‘‘ بھی تھا۔اُس سے میری دوستی ہو گئی تھی۔ آسٹریلیا کے بارے میں بہت کچھ بتانے کے دوران جب اُسے معلوم ہوا کہ میں پنجاب سے تعلق رکھتا ہوں تو اُسکا موتیوں جیسے دانتوں والا مُنہ خوشی سے کُھل گیا تھا اور آنکھوں میں ایک خاص چمک آ گئی تھی۔پھر اُس نے مجھے یہ کہانی سُنائی تھی۔ اسلئے تمہیں سنانے کے لئے کہانی کے مرکزی کردار کا نام میَں نے اُسی نوجوان کے نام پر ’’جانی‘‘ رکھا ہے۔

جتنے راوی ہیں اُتنی ہی جانی کی داستانیں ہیں۔ آسٹریلیا کے سب سے بڑے دریا کا نام مَرّے (Murray) ہے۔ آسٹریلیا کی دو ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز اور وِکٹوریہ کی سرحد پر واقع آسٹریلین ایلپس (Alps) سلسلہ ہائے کوہ کی برفانی چوٹیوں کی مغربی ڈھلوانوں پرپگھلتی برف کی سینکڑوں ندیوں نالوں میں پِنہاں منبع سے شروع ہوتا ہے۔ ڈارلنگ اور مَرّمْ بیِجی جیسے بڑے دریاؤں کو ساتھ ملاتا، شہ زور مائیٹی (Mighty) مَرّے دریا ایک مائیٹی اژدہے ہی کی طرح بَل کھاتا، راستے میں دونوں اطراف واقع ہزارہا ایکڑ پر مشتمل خوبانی، آڑو، آلو بخارے، بادام، پستہ، مالٹے،لیموں، انگوروں اور کھجوروں کے باغات اور مکئی، چاول، کپاس، گندم، لوبیا، اور آلوؤں کے کھیتوں کی آبیاری کرتا، پندرہ سو میل کا سفر طَے کر کے ساؤتھ آسٹریلیا کی الیگزینڈرینہ اور البرٹ جھیلوں کو سَیراب کرتا، کُورونگ (Coorong) نیشنل پارک کے ریتلے ٹیلوں کے نشیب و فراز کے درمیان اٹکھیلیاں کرتا کبھی بند کبھی کُھلے ’’مَرّے ماؤتھ‘‘(Murray Mouth) کے ریتلے کُھردرے لبوں کو میٹھے پانی کا بوسہ دیتی نازک اندام ندیا بن کر چُلّو بھر پانی میں شرم سے رُک جاتا ہے۔

سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی

ساحل نے ہے ندی کو مقید کیا ہوا

لیکن بھلا ہو خطِ استوا پرایک ہزار میل فی گھنٹہ رفتار پر اپنے ہی گِرد کُرّۂ ارض کی گردش کا جس سے دُوراُفتادہ قُطبِ جنوبی کے برفانی بَرِّاعظم انٹارکٹیکا سے یخ بستہ موسمیاتی فرنٹ کی مہمیز سے الف ہو کر اُچھلتے روڈیو (Rodeo) سواری کرتے تیز جھکڑوں کے ہوائی گھوڑے، مشرق میں بحرالکاہل اورمغرب میں بحرِ ہِند سے ہم نوالہ، ہم پیالہ کرتے بحرالجنوبی (Southern Ocean) کے چاند کے قُرب سے بے قرار مگر خراماں خراماں مدّوجزر پر ٹاپیں مارتے، کُورونگ کے ریتلے ساحل پر آ اُترتے ہیں۔ اُنکی لپیٹ میں آئی طوفانی لہروں کی سَرد مہر آغوش کے تھپیڑوں میں بالآخر مَرّے دریا ریت کے ذرّے ذرّے کی ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے کے بعدتھک ہار کر دھیرے سے لیٹ جاتا ہے۔ اُسکاآخری بوسہ انسانی جونک چِمٹی زمین کے دیدۂِ تَر میں آنسوؤں کی کڑواہٹ چکھتا ہے۔

اِس دریا کے دونوں کناروں پر اور آسٹریلیا کے بیابانوں میں دنیا کی قدیم ترین تہذیب کی زنجیر میں کڑی در کڑی زندہ رہتی ایبوریجنل (Aboriginal) قوم بستی ہے۔ پچھتر ہزار سالوں سے بھی پرانی مسلسل قائم و دوام ایبَورِیجنل قوم کےبڑے بوڑھے بزرگ ابتدائے آفرنیش کے خوابناک وقت (Dreamtime) کی کہانیاں سناتے ہیں۔ آج بھی اگر اِس دریا کے ساتھ ساتھ چلیں تو ہم میں گہری نگاہ رکھنے والے لوگ اُن درختوں کو دیکھ سکتے ہیں جن کی چھال اور لچکدار ٹہنیوں سے پرانے زمانے کے ایبوریجنل اپنی ہلکی پھلکی ناؤ بناتے تھے۔ دریا کے ساحل کے قریب، ہزاروں سالوں کے سیلابوں کی لائی جمع شدہ مٹی کی عمودی ڈھلانوں کی تہوں میں ترک شدہ سیپی اور جانوروں کی ہڈیوں کے ٹکڑے، مچھلیاں پکڑنے کے قدیم پھندے اور قبیلوں کی حدبندی کے پتھریلے آثار ملتے ہیں۔ میَں نے ایبوریجنی لوگوں کو اپنے اپنے علاقے کی کہانیاں سناتے وقت جانی کا ذکر کرتے سُنا ہے۔ انہی علاقوں میں ڈیڑھ سو سالوں سے نوآباد کاشتکار فرنگی لوگوں کی جانی کے بارے میں مجھے بتائی گئی کہانیاں بھی ایکدوسرے سےمختلف ہیں۔ لیکن اُن سب کہانیوں میں تین چار باتیں مشترک ہیں۔ جانی ایک ریچھ جیسی مخلوق تھا۔ جانی کوئی معمولی ریچھ نہیں تھا۔اسکا رویۂ انسانوں کے ساتھ عام طور پر دوستانہ تھا۔ چھوٹے بچوں پر جانی خاص طور پر مہربان تھا۔ آسٹریلیا میں اُسکی قسم کا کوئی اور ریچھ نہیں تھا۔ کوئی نہیں جانتا جانی کہاں سے آیا تھا۔

جانی میں دُنیا کے سب ریچھوں کی نسبت، یکتا منفرد انوکھی اور سحر انگیز خاصیت اُس کی سُرمئی مائل بھوری کھال پر اُگے ہوئے لمبے گھنے مگر ریشم کی طرح نرم ملائم اور چمکتے بالوں کے رنگ کی تھی۔ کیا وہ ہمالیہ کا سفید چھاتی والا کالا ریچھ تھا؟ کیا وہ قطب شمالی کے پولر ریچھ کی طرح برف جیسا سفید تھا؟ کیا وہ امریکہ اور کینیڈا کے کالے اور بھورے ریچھوں کی طرح تھا؟ یا چینی پانڈا کی طرح وہ کالا اور سفید تھا؟ جانی کا جادوئی عجیب و غریب رنگ صورتِ حال سے وابستہ تھا۔ دِن کا کونسا وقت تھا، سورج کا زاویہ کیا تھا، اگر چاندنی رات تھی تو چاند کتنے دن کا تھا،مہینہ کونسا تھا، موسم کونسا تھا، آسمان اور بادلوں کا رنگ کیسا تھا، دیکھنے والا کون ہے، کس طرف کھڑا ہے، جانی سے کتنی دور ہے، کیسے کھڑا ہے کیا سوچ رہاہے، ہشاش بشاش ہے یا غمگین، پُرسکون ہے یا برانگیختہ، لاپروا ہے یا فکرمند، مصروف ہے یا فارغ۔ جوش و خروش سے بھرپُور ہے یا تھکاماندہ،سیَر شُدہ ہے یا بھوکا، صحت مند ہے یا بیمار، بچہ ہے، نوجوان ہے یا بوڑھا، مرد ہے یا عورت، جاہل ہے یا عالم، اور جانی کے لئے کونسا رنگ اسکے مزاج، طبیعت اور جمالیاتی حِسّ کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے، اسکی رُوح کی مضراب کی تاروں کے ساتھ تال میل کرتا ہے۔

جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے کچھ انسانی آنکھیں چیزوں کے عکس میں سورج کی روشنی کے پوشیدہ ساتوں رنگ دیکھ سکتی ہیں۔ نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ انتہائی ذہین انسان اپنے ذہن میں بیک وقت ایک سے زیادہ مختلف متنوع باہمی متضاد خیالات، سوچ اورآرأ بغیر کسی اُلجھن کے رکھ سکتے ہیں۔ کچھ انسانی آنکھیں صرف ایک، دو، تین، چار یا پانچ رنگ دیکھ سکتی ہیں، کچھ لوگوں کو بالکل کوئی رنگ نظر نہیں آتا ۔اسے رنگوں کا اندھاپن سمجھ لو۔ یعنی کچھ لوگوں کو کچھ رنگ تو واقعی نظر نہیں آتے اور کچھ رنگ شاید وہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ اسلئے دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر دیکھنے والے کو جانی مختلف رنگ کا ریچھ نظر آتا تھا۔ ایک شخص کہتا تھا ’’جانی سفید اور کالا ہے‘‘۔ دوسرا شخص کہتا تھا، ’’نہیں! جانی پیلا اور سبز ہے‘‘۔ کوئی اور کہتا تھا، ’’جانی گلابی اور نیلا ہے‘‘۔ اور کوئی صرف ایک ہی رنگ پر اڑا رہتا تھا۔اسکا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ لوگوں کا اکثر اوقات آپس میں جھگڑا ہو جاتا تھا کہ جانی کا حقیقی رنگ کیا تھا۔ عجیب بات یہ بھی تھی کہ چھ سات سال کی عمر تک کے اکثر چھوٹے بچوں کو جانی میں بیک وقت ساتوں رنگ نظر آتے تھے اسلئے اُن کی باہمی لڑائی کم ہی ہوتی تھی۔ ایک اور عجیب بات بھی تھی۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں جانی بالکل نظر نہیں آتا تھا۔ وہ ناک اُونچی کر کے چلتے تھے اور باقی لوگوں کو بے وقوف اور فریبِ نظر کا شکار سمجھتے تھے۔

ایک لمبے عرصے تک لوگوں کا جانی ریچھ کے لئے کسی ایک خاص نام پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔ کیا بوڑھے، کیا نوجوان کیا بچگان سبھی اُسے بس ’’جادو کا ریچھ‘‘ (Magic Bear) کہہ کر پکارتے تھے۔ جب کبھی کسی گاؤں میں شور مچتا تھا کہ قریب ہی کسی پہاڑی پر جانی نظر آیا ہے سب لوگ اپنا اپنا کام چھوڑ چھاڑ کر بچوں کو ساتھ لے کر جانی کو دیکھنے روانہ ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ جلدی جلدی کچھ نہ کچھ پکا کر پکنک منانے ساتھ لے جاتے تھے۔ کچھ لوگ جانی کے لئے اپنے باغوں سے پھل اور کچھ لوگ اپنے اپنے گھریلو شہد کی مکھیوں کے چھتوں سے نکالا ہوا شہد لے جاتے تھے اور اچھا خاصہ میلہ سا لگ جاتا تھا۔

ایک دن اِسی طرح کا میلہ لگا ہوا تھا۔بہار کی آمد آمد تھی لیکن ہوا سَرد تھی۔موسلا دھار بارش ابھی کچھ دیر پہلے ہو کر رُکی تھی۔ بادل پھٹ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی پھوار کبھی کبھی گِر رہی تھی۔ مَرّے دریا کے کنارے ، ایک بستی کے باہر, کھیتوں سے پَرے, شمال مشرق کی طرف ایک اُونچے ٹیلے پر جانی اپنے پچھلے دونوں پاؤں پر سیدھا کھڑا آسمان کی طرف تھوتھنی اُٹھا کر نتھنوں سے کُچھ سونگھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حسبِ معمول، جانی کو دیکھ کر اُسکے رنگ پر تبصرہ کرتے لوگوں کی باہمی چپقلش جاری تھی۔ بارش سے شرابور، ٹھنڈ اور بھوک سےبے چَین بچوں کو سنبھالتے جھگڑتے تھکے چِڑچِڑے لوگوں کے پیچھے سورج بادلوں سے آنکھ مچولی کھیلتا جنوب مغرب کی طرف جھک رہا تھا۔سائے لمبے ہو رہے تھے۔ اچانک جانی کے سَر کے اوپر آسمان پر بادلوں سے جھلکتی، جانی کے پیچھے اُفق پر زمین کو چُومتی، ایک خوبصورت بل کھاتی سیڑھی نما قوس و قزح نمودار ہوئی جس کے رنگوں کا عکس جانی کی ریشمی چمکتی کھال میں نُمایاں ہوا۔ خوشی سے تالیاں بجاتی سُرخ گھنگریالے بالوں اور سُنہری رنگت والی ایک چھ سات سال کی بچی نے کہا، ’’قوس و قزح کا ریچھ سیڑھی سے اُتر کر آیا ہے‘‘ تو بالآخر ست رنگی آنکھ رکھنے والوں کا اتفاق ہو گیا، کہ اُس دن کے بعد سے جانی کو ’’قوس و قزح کا ریچھ‘‘ (Rainbow Bear) کہا جائے گا۔ اور یہی ہوا بھی۔ لیکن جیسا کہ دنیا میں اکثر ہوتا ہے یک رنگی سوچ رکھنے والے کچھ لوگ پھر بھی نہ مانے۔ ان کا ست رنگی لوگوں سے اختلاف چلتا رہا۔

سُرخ گھنگریالے بالوں اور سُنہری رنگت والی اُس بچی کا نام اُمائچی کومبو (Ummaiche Kombo) تھا۔ مقامی نارِن یاری زبان میں اسکا مطلب ہے ’’قوس و قزح‘‘۔ اُسکی ایبورِجنل ماں کا نام ڈاکُو تھا۔ ڈیاری زبان میں ڈاکُو کا مطلب ہے ریت کا ٹیلہ۔ ڈیاری قبیلہ برِّ اعظم آسٹریلیا کے وسطی صحرائی بیابان میں واقع ایک خشک نمکین جھیل کے کناروں پر بستا ہے۔ اُمائچی کومبو کےسُرخ بالوں والے گورے چِٹّے باپ کا نام اکبر خاں تھا۔ اوراُس کا تعلق پنجاب اور کشمیر کے درمیان کے علاقے پُونچھ سے تھا۔

آسٹریلیا تقریباّ چار ہزار کلومیٹر لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہے ۔ دُنیا کے سب آباد بَرِّاعظموں میں آسٹریلیا سب سے خشک آب و ہوا والا بَرِاعظم ہے جس کا سَتر فیصد علاقہ نمی سے محروم ہونے کی وجہ سےبنجر اور ویران ہے۔اسکے سب بڑے شہر سمندر کے پاس واقع ہیں۔ اندرونی علاقہ انتہائی خُشک صحرائی بیابان پرمُشتمل ہے۔دور دراز علاقوں کی بستیوں اور لاکھوں بھیڑیں پالنے والی بڑی بڑی اراضیات پرمشتمل (Sheep stations) فارمز کو آپس میں منسلک کرنے کے لئے اُنیسویں صدی کے دوسرے نِصف میں آسٹریلین حکومت نے ٹیلی گراف کی تاروں اور کھمبوں کا نیٹ ورک قائم کرنا اور ریلوے ٹرین کی پٹریاں بچھانی شروع کر دیں۔ اُن دِنوں موٹر گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ صحرا اور بیابان میں گھوڑوں پر سفر بہت مُشکل تھا۔ سن اٹھارہ سو ساٹھ (1860) سے شروع ہو کر، برٹش انڈیا کے مغربی علاقوں پنجاب، کشمیر، راجستھان، سِندھ اور بلوچستان سے سینکڑوں اُونٹ اور اُونٹوں کی تربیت میں ماہر اُنہی علاقوں کے آدمیوں کو بھرتی کیا گیا۔ بلوچستان میں اُونٹ چَراتے افغان بھی رہتے تھے ،وہ بھی چلے آئے۔ تاروں، کھمبوں اور دیگر سامان و خورد و نوش سے لدے (Camel Train) اُونٹ گاڑیوں کے قافلے ستر سال یہی کام کرتے رہے جب تک موٹر گاڑیوں کا رواج نہیں ہو گیا۔ اُونٹوں کو ہانکنے، اُن کی مہار تھامنے، ڈاچی والوں اُونٹ بانوں کو اُس زمانے سے آسٹریلیا میں افغان کیَمل ڈرائیورز کہا جاتا ہے۔

اکبر خاں بھی ایسا ہی ایک کیمل ڈرائیور یعنی ڈاچی والا تھا۔ ایک قافلے کے ساتھ، وسطی آسٹریلیا کے بیابان میں ڈیاری قبیلے کے علاقے سے گُزرتے ایک پہاڑی چٹان کے نیچے سے پُھوٹتے چشمے کے تالاب کے قریب پڑاؤ کرتے اُسکی ملاقات ایبوریجنل لڑکی ڈاکُو سے ہو گئی۔ نوجوانی کے شباب کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں عِشق نہ پُچھے ذات! بقیہ ساری عُمر وہ یہی کہتا رہا کہ ڈاکُو نے اُسکے دِل پر ایسا ڈاکہ ڈالا کہ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔ اُنہی دِنوں آہستہ آہستہ آسٹریلیا میں موٹر گاڑیوں کا رواج بڑھتا جا رہا تھا۔ اُونٹوں، اُونٹ بانوں کی ضرورت اب کم ہی پڑتی تھی۔ صحرا کی مشکلات جھیلتے اکبر اور ڈاکُو نے فیصلہ کیا کہ مَرّے دریا کے قریب زرعی زمین کے ایک ٹُکڑے پر گھر بسایا جائے اور دونوں جنوبی آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہو گئے جہاں اُن کی ایک بیٹی ہوئی۔ باپ جیسے سُرخ گھنگریالے بال، ناک اور گالوں پر دُھوپ میں نمایاں ہو جانے والے باریک باریک سُرمئی مائل گلابی تِل، ماں جیسی بادامی آنکھیں اور سُنہری رنگت کی وجہ سے بیٹی کا نام اُنہوں نے مقامی نارن یاری قبیلے کی زبان میں اُمائچی کومبو یعنی دھنک رکھا۔

بارش کے بعد قوس و قزح والے اُس دِن سے جانی ریچھ اور اُمائچی کومبو کی گہری دوستی ہو گئی۔ اگلے کئی سالوں میں مَرّے دریا کے دونوں کناروں پر پھرتے پھراتے جب کبھی جانی کا اُسی علاقے میں جانا ہوتا تھا تو وہ اُمائچی کومبو کو اپنے کندھے پر سوار کر کے اکبر اور ڈاکو کے ساتھ پِکنک منانے ایک نزدیکی پہاڑی کی چوٹی پر لے جاتا تھا۔ ڈھلان کی طرف میدان میں رکھی گئی بھیڑوں کے پینے کے لئے بارش کا پانی اکٹھا کرنے کے لئے بند بنا کر ایک تالاب بنایا گیا تھا۔ چوٹی کے آس پاس بے شمار گول چھوٹے موٹے پتھر بکھرے ہوتے تھے۔ بچی کے کہنے پر جانی بڑے سے بڑا گول پتھر اُٹھا کر تالاب کی طرف لُڑھکا دیتا تھا جو دھڑام سے پانی میں گِرتا تھا اور بچی خوشی سے تالیاں بجاتی تھی۔ چاروں مِل کر پِکنک مناتے تھے اور خوشی سے گھر واپس آتے تھے۔ کئی سال ایسا ہی ہوتا رہا اور اُمائچی کومبو گیارہ بارہ سال کی ہو گئی۔لیکن جیسا کہ آنیس نِین نے لکھا ہے، ہمارا ہر نیا ساتھی ہمارے لئے ایک نئی دُنیا وجود میں لئے آتا ہے۔ زندگی ہماری ہمت کے مطابق پھیلتی یا سُکڑتی ہے۔ جانی کی یہ نئی دُنیا بھی بدلنے کو پر تول رہی تھی۔

آسٹریلیا میں انگریزوں کی حکومت نے سن اُنیس سو دس (1910) میں ایک نیا قانون بنایا جس کی رُو سے ہر وہ بچہ مخلوط نسل ٹھہرایا گیا جس کے ماں اور باپ میں سے ایک ایبوریجنل یعنی کالا تھا۔ اُن دِنوں عُرفِ عام میں ایسی نسل کو نیم ذات (Half-Caste) سمجھا اور کہا جاتا تھا جو ایبوریجنل لوگوں کو پسند نہیں آتا تھا۔ ایسےبچوں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور مسیحی تبلیغی مِشنوں نے اپنی تحویل میں لینےکا فیصلہ کیا۔ (اگلے ساٹھ سالوں میں ان دوغلے بچوں کی دو نسلیں اُنکے ماں باپ سے زبردستی چھین لی جائیں گی اور ’’چھینی گئی نسلیں‘‘ کہلائیں گی)۔ اِس قانون کی منطق کے پیچھے گوری رنگت کی چمڑی اور مغربی تہذیب کااحاسِ برتری تھا، نسلی تعصب، تکبر اور یہ مفروضہ تھا کہ سُنہری براؤن رنگت رکھنے والے دوغلوں کو علیحدہ کر کے اُنکی مناسب تہذیب و تربیت کر کے سفید معاشرے میں مدغم کر کے مفید اور کارآمد حصہ بنا دیا جائے تو جنگلوں بیابانوں میں بسنے والی اصلی نسل کی ایبوریجنل قوم خود ہی ناپید ہو جائے گی۔ اِن بچوں کو سفید معاشرے کا فعال رُکن بننے پر مجبورکیا گیا ۔ اُنہیں اپنی قبائلی زبان بولنے یا اپنے والدین کے دئیے گئے ایبوریجنل ناموں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اکثر بچوں کو سرکاری یتیم خانوں میں رکھا گیا جہاں اُنہیں ناجائز طریقوں سے تسلط، تحقیر، غفلت، زیادتی، بے عِزتی اور نامناسب سلوک کا نشانہ بنانا عام دستور تھا۔ کچھ چھوٹے بچوں کو بے اولاد آسٹریلین جوڑوں نے گود لے لیا۔ بڑی عُمر کے اکثر بچے انتظامیہ کے گھروں میں ملازموں کی مانند ہی رکھے گئے۔ ان بچوں اور اُنکے ایبوریجنل والدین پر اس خوفناک تصادم کا اثر بقیہ تُمام عُمر باقی رہے گا اور یہ صدمہ اگلی نسلوں میں بھی چلے گا۔ ہزاروں سالوں سے مقامی زبانیں، آباؤاجداد کے قصے، روایتیں اور رسومات، درختوں کے ٹہنوں کو آگ سے کھوکھلا کر کے ڈِجری ڈُو (Didgeridoo) کا باجا بنانے اور بجانے، نوکیلےپتھر کی چونچ لئےنیزے اور پھینک کر گُھومتے جانے اور گُھومتے ہی واپس آنے والے ایرو ڈائنامِک بُومے ریَنگ (Boomerang) سے شکارکرنے اور خُشک بیابان میں چشموں اور نخلستان کو ڈھونڈ کر زندہ رہنے کے ہُنر و مہارت، آسٹریلین جنگلی جڑی بُوٹیوں کا عِلم اور معاشرتی دانشمندی وغیرہ اگلی نسل میں منتقل ہوتے آئے تھے۔ لیکن اب دُنیا کی قدیم ترین تہذیب کی زنجیر کی کڑیاں ایک ایک کر کے تیزی سے ٹُوٹ رہی تھیں۔

جس دِن پولیس کے ہمراہ حکومتی کارندے جنوب کی سمت سے ایک ٹرک میں دوسرے دوغلے بچوں کواُٹھاتے، اُمائچی کومبو کو بھی تحویل میں لینے آئے وہ اکبر خاں، ڈاکو اور جانی کے ہمراہ پکنک منانے گئی ہوئی تھی۔ گھر واپس آئے تو بستی کے اور لوگوں کے ہمراہ انتظامیہ کو مُنتظر پایا۔ روتی چیختی چلّاتی اُمائچی کومبو کو کھینچ کر اُسکے ماں باپ کی گرفت سے زبردستی علیحدہ کر کے، ٹرک میں ڈال کر آگے شمال کی جانب چلے۔ جانی کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انتظامیہ کے لوگوں کو جانی نظر نہیں آتا۔ چلتے ٹرک سے اُمائچی کومبو نے چیخ کر جانی کو کہا، ’’ مُجھے نہ بُھولنا۔ میں واپس آؤنگی۔ تُم اُسی چوٹی پر میرا انتظار کرنا! تُم ضرور مُجھے دیکھو گے اور بار بار دیکھو گے۔‘‘

اُس دِن سے جانی کی آوارہ گردی بند ہو گئی۔ اب وہ ہر روز صبح سویرے اُسی چوٹی پر جا کر ایک بڑے پتھر پر بیٹھ کر شمال کی طرف رُخ کر کے اُمائچی کومبو کا انتظار کرتا، شام کو اکبر اور ڈاکو کے گھر چلا جاتا جہاں اُمائچی کومبو کے بارے میں باتیں سُنتے سُنتے اُداسی سے روتے روتے سو جاتا۔ کئی سال گُزر گئے۔ اُمائچی کومبو بھی اُن گُمشدہ لوگوں میں شامل ہوگئی جنہیں نامعلوم افراد ٹرک میں ڈال کر لے جاتے ہیں اور انکے پیارے اُنکی شکل دیکھنے کو ترستے تڑپتے یکے بعد دیگرے مر جاتے ہیں۔ پہلے ڈاکو، پھر اکبر خاں کے مرنے کے بعد جانی نے جا کرپہاڑی کی چوٹی پر اُسی چٹان پر مُستقل دھرناجما لیا۔

کہیں ایسا نہ ہو بن جائے پتھر

کہ ہنستا ہے نہ پاگل رو رہا ہے

وہاں بیٹھے بیٹھے جانی کو عرصہ ہو گیا ہے۔ گرمیوں کے تپتے سُورج، تیز ہواؤں کے تھپیڑے، گرج چمک کے اولوں کی بارش، سخت سردیوں اور طوفانوں نے جانی کے ساتھ بُہت نامہربانی کا سلوک کیا ہے۔بدلتے موسموں کی وحشت سے اُسکی کھال پر اُگی ملائم ریشمی چمکدار گنجان بالوں کی تہہ درتہہ سموری جاددئی ست رنگی پوستین آہستہ آہستہ فرسودگی اور بوسیدگی کی نذرہوتے ہوتے غائب ہو گئی ہے۔اُمائچی کومبو کا رستہ تکتے تکتے اُسکا بقیہ جسم پتھرا گیا ہے۔

کہ اب تو دیکھنے میں بھی ہیں کچھ محویتیں ایسی

کہیں پتھر نہ کر ڈالے یہ میرا دیکھتے رہنا

اس پہاڑی چوٹی کے قریب گُھومتی گھماتی سڑک پر موٹر گاڑیوں میں گزرتے، چُھٹی والے دِن اپنے بچوں کے ساتھ سیَر سپاٹے کرتے ’’کَرِنگ کاری‘‘ (Kringkari سفید فرنگی) جانی کی طرف اشارہ کرتے اپنی اپنی مرضی کی کہانی سُناتے ہیں۔ کبھی کبھار سڑک کے کنارے رُک کر، گاڑی سے اُتر کر وہ بچوں کے ساتھ کچے راستے پر چل کر وہاں پہنچتے ہیں جہاں جانی چٹان پر بیٹھا ہے اور کیمرے سے جانی کے ساتھ اپنی تصویریں بنواتے ہیں۔

مَرّے دریا کے دونوں کناروں پر بسنے والے لوگ ابھی بھی جانی کو اور اُس کی جاددئی رنگ پوستین کو یاد کرتے ہیں۔ وہ ابھی بھی جھگڑا کرتے ہیں کہ جانی کا رنگ کیا تھا۔ کبھی کبھی اُن میں سے کوئی مَنچلا بُوڑھا یا جوان اپنے ساتھ رنگین پینٹ کی ایک بالٹی اور برش لے آتا ہے۔ اور جانی کے اُوپر چاروں اطراف بہت پیارسے وہی رنگ کر دیتا ہے جو اُسے اپنے بچپن میں اُسکے دادا نانا نے جانی کی کہانی سُناتے بتایا تھا کہ اُسکی آنکھ میں، دِل میں جانی کا کون سا رنگ بھایا تھا۔ اور جیسا کہ ہم فانی انسانوں کا شیوہ ہے، یہ جھگڑا چلتا رہتا ہے۔کیوں کہ آج کے زمانے میں جب ہم خود اپنی گاڑی میں اس سڑک سے گزرتے ہیں تو ہر دفعہ جانی کو ایک مختلف رنگ میں چمکتا پاتے ہیں۔

جانی آج بھی اُمائچی کومبو کا انتظارکر رہا ہے۔ جانی انتظارکے خاموش سکوت میں ہے۔ وہ اتنا پُرسکون اور پتھر کے بے حرکت بُت کی مانند ساکن ہے کہ بُدھو کَرِنگ کاری اُسے صرف ایک ریچھ نما سنگوارہ پتھر سمجھتے ہیں۔ اور اُسے پتھرکا ریچھ (Bear Rock) کہتے ہیں۔

لیکن ہم اور آپ کُچھ اور ہی جانتے ہیں نا!؟۔۔۔کہانی ختم‘‘ ۔۔۔بآجی بولے۔

اختتامیہ:۔نائیجیریا کے ایک اسکول میں فزکس پڑھاتے ، بچیوں کو کہانیاں سُناتےجب میَں نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے سمُندر پار عرضیاں بھیجنی شروع کیں تو سب سے پہلے جنوبی آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی نے مجھے سکالرشپ کی آفر کی۔آسٹریلیا کی تحقیق کرتے مجھے بچپن کی بُھولی بسری کہانی یاد آئی۔ فوراً آفر قبول کر لی۔ یہاں پہنچا۔ پی ایچ ڈی شروع ہو گئی۔ میرے کام میں ریڈیو ٹرانسمیٹر اور ریسیور بنانے بھی شامل تھے۔ ایڈیلیڈ کے شمال، جنوب اور مشرق میں میَں نے تین ریڈیو اسٹیشنوں کی تکون ایک دوسرے سے اَسّی کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کی۔ ہر ہفتے میَں فزکس ڈیپارٹمنٹ کی گاڑی میں ان تینوں اسٹیشنوں کا چکر لگاتا تھا اور اپنا ڈیٹا جمع کرتا جاتا تھا۔ پہلی دفعہ میَں ایک کَرِنگ کاری ٹیکنیشن کے ساتھ اس بل کھاتی پہاڑی سڑک سے گزرا جس کے قریب جانی بیٹھا ہے تو ٹیکنیشن نے اشارے سے چٹان پر بیٹھا پتھر کا ریچھ دکھایا۔ ہر ہفتے وہاں سے گزرتے باقی کہانی بھی اُتر آئی جسے سُنتے سُنتے میرے اپنے بچے بڑے ہو گئے۔ اب اُردو میں قلمبند کرنے کی توفیق مِلی۔جب کبھی آپ آسٹریلیا آئیں تو میَں آپ کو جانی سے ملانے لے چلونگا (اب تو آپ گُوگل کے نقشے پر بھی دیکھ سکتے ہیں (Australia Bear Rock) لکھ کر تلاش کیجئے۔ گُوگل میں ہی دوسرے سیَر سپاٹے کرنے والے لوگوں کی لی ہوئی تصویریں بھی مل جائیں گی)۔

نقشے کی مدد سے آپ خود بھی وہاں جا سکتے ہیں اور جانی، قوس و قزح کا ریچھ دیکھ سکتے ہیں۔

جانی کو دیکھنے کا مناسب ترین وقت جاننے کے لئے مقامی موسمیاتی پیشگوئی چیک کیجئے۔ جس دِن بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے سورج اور ہلکی ہلکی پھوار نما بارش کا امکان ہو، اُس دِن سہ پہر کے وقت وہاں پہنچئے جب آپ کے پیچھے سورج جنوب مغرب کی طرف جُھک رہا ہو اور بادلوں میں چُھپتا نکلتا ہو۔ اب سڑک پر کھڑے ہو کر جانی کی جانب دیکھئے۔ اگر آپ واقعی خوش قسمت ہیں تو آپ ایک خوبصورت قوس و قزح دیکھیں گے جو جانی کے اوپر آسمان پر چھائی ہو گی۔ نیچے کی تصویر میں نے بیس سال پہلے لی تھی۔ اگر زُوم کر کے غور سے دیکھئے تو آپ کو مدھم سی قوس و قزح بھی دکھائی دے گی جو جانی کے اُوپر چھائی ہوئی ہے اور اُسکے بائیں طرف اُفق پر زمین کو چُوم رہی ہے۔ مُجھے یقین ہے اُمائچی کومبو جانی کو مِلنے آئی ہے۔

دُنیا میں خواہ کیسا اور کتنا بھی بُرا کیوں نہ ہو رہا ہو، ہماری گُمشدہ اُمائچی کومبو، اکثر ہماری نظروں سے اوجھل مگر کبھی کبھار صحیح موسم میں بادلوں سے لٹکتی جھلکتی چمکتی خوشی کی قوس و قزح اپنے پرانے دوست یار جانی کا خیال رکھنے، مِلنے ضرور آتی ہے۔ اپنا وعدہ پُورا کرتی ہے، باربار آتی ہے۔ جانی، جادو کا ریچھ، قوس و قزح کا ریچھ، پتھر کا ریچھ، ریچھ نما پتھر جو بھی اب اسے بُدھو کَرِنگ کاری فرنگی لوگ کہیں لیکن ہم اور آپ کُچھ اور ہی جانتے ہیں نا!؟

نذرا کملا

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر62

نذرا کملا

اقبال مٹ

خانیوال پاکستان

یہ ایک سچی کہانی سے بنا گیاافسانہ ہے۔ امید ہے آپ اسے ضرور ناپسند کریں گے۔ سکول جاتے ہوے بس کے سفر کےدوران ہمیں ایک پاگل اکثر نظر آتا تھا۔ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہنے اور سرخ انگارا آنکھوں والا پاگل ۔۔ بظاہر پرامن مگر چھیڑنے پہ آگ بگولہ ہوجاتا ۔

طالبعلموں سمیت بس کے مسافر اسے بار بار چھیڑتے۔۔

ایک آواز بس کے اندر سے آتی۔۔

اوے نذرا۔۔ بھٹو کی ۔۔۔بیٹی۔۔۔۔

تو نذرا خوش ہو کر جھومنے لگتا اور اپنے ہاتھوں کو چومتا۔

ایک اور آواز۔۔۔اوے نذرا ۔۔بھٹو۔۔۔۔ مر گیا۔۔۔ ہے۔

تو نذرا دونوں ہاتھوں سے سر اور سینہ پیٹنے لگتا۔

عموما”تیسری سمت کی آواز۔۔۔۔

اوے نذرا۔۔۔ ضیاالحق۔۔۔ بس یہ نام سنتے ہی وہ

اول فول بکنے لگتا۔شدید طیش میں آکر ۔ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ کو گالیاں اور بددعائیں دینا شروع کر دیتا۔ بچے ،نوجوان یہ دیکھ کر خوب ہنستے البتہ کچھ بزرگ اس کے اس عمل سے ناراض ہو جاتے اور چھیڑنے والوں کو سختی سے منع کرتے ۔

مجھے یا کسی بھی اورطالبعلم کو اس وقت پتہ نہیں تھا کہ کوئی خود پر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کر رہا ہے۔کون پھانسی کے بعد جنازہ میں شادی جیسا ماحول بنا رہا ہے۔ کوئی نعرے لگاتا ہوا پھٹے چڑھ رہا ہے۔میں اسوقت نویں جماعت کا طالبعلم تھا۔سکول کااخبار بھی صرف اساتذہ ہی پڑھ سکتے تھے۔ البتہ نذرے کی جذباتی کیفیت میرے لیے حیرانگی کا باعث ضرور ہوتی کیوں کہ یہ تماشا روزانہ میرے سامنے اور کئی بار ہوتا۔ اسی دوران الیکشن ہونے والے تھے بائکاٹ بھی ہوے اور نعرے لگے اور ایسے نعرے لگے کہ۔۔

فلاں پالٹی بلے بلے ۔آدھے کنجبر آدھے دلے۔۔۔

کوکا کولا پیپسی فلاں فلاں ٹیکسی۔۔۔

مختلف روٹس کی لوکل بسوں کی چھتیں اس وقت طالبعلموں سے بھری ہوتی تھیں۔ بچے کورس میں یہ نعرے لگاتے اور کچھ بڑے بزرگ مسافروں کے نزدیک ملک میں مذہبی نظام بس ایا ہی چاہتا تھا۔ لوگ کوڑوں اور سرعام پھانسیوں کی حمایت کرتے نہ تھکتے کہ جلد ہی اس ملک کیے اصل بنیادی مسائل حل ہونے والے تھے ہمارے ہائی سکول کے ہیڈ ماستر صاحب روزانہ اسمبلی میں مختلف متنازعہ موضوعات پر ضرور تقریر کرتے ۔ بیماریوں کے بارے میں بھی بتاتے کہ یہ ایک دوسرے کے میل ملاپ سے نہیں پھیلتی ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آتی ہیں۔ وہ ان کےخلاف مختلف وظائف بھی ضرور بتاتے۔ اور اختتامیہ فقرے ضرور بولتے کہ ہمارے مسائل کا اصل حل مذہبی تعلیمات میں ہے۔جو محمد بن قاسم ۔طارق بن زیاد جیسا کوئی موجودہ بندہ ہی کر سکتا ہے۔

خیر

اس وقت طلبا، اساتذہ اور نصاب کا اس طرح کااستعمال مجھے یا کسی طالبعلم کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ یہ بھی کچھ پتہ نہ تھا کہ سیاست میں اس طرح طالب علم بچوں کو کون گھسیٹ رہا ہے۔ البتہ

ہم لوگ کچھ پڑھ لکھ کر یونیورسٹیوں میں چلے گئے اور پھر ہر کسی کی طرح سامنے میدان کارزار تھا۔زندگی ہمیشہ آگے کیطرف ہی چلتی ہے۔

پچھلے سال دبئی سے میرا ایک ہم جماعت ملنے آیا اور زمانہ طالبعلمی کو یاد کرتے کرتے نذرا کملے کی حرکات اور وحشت تک جا پہنچے۔

دوست نے مجھ سے نذرے کے گھر کا ایڈریس پوچھا جو مجھے معلوم نہ تھا مگر انہی بسوں کے مالک ہمارے جاننے والے تھے جن پر ہم روزانہ سفر کر کے اپنے سکول ۔کالج جایا کرتے تھے۔ میں نے ان سے نذرے کملے کے بارے میں فون پردریافت کیا تو انہوں نے مجھے ایک بستی کا بتایا جو کہ میرے گھر سے تیس کلو میڑ ہی دور تھی۔ چند دن بعد میرا دوست بھی آ گیا۔ ہم دونوں نذرے کی بستی میں پہنچ گیے۔۔

یہ ایک پرانی وضع کی بستی تھی جاگیردار کے محل اور اونچی اونچی دیواریں اور ساتھ ساتھ رعایا کمی کمینوں کے بکھرے کچے پکے گھر تھے۔

میرے کلاس فیلو کا ایک رشتے دار بھی ہمیں رہنمائی کے لیے مل گیا۔ بہ قول اس کے

جاگیردار اب تو بڈھا ہو چکا ہے۔کبھی تو یہ اکیلا چارپائی پہ اس طرح بیٹھتا تھا کہ خود درمیان میں رہے تاکہ آنے والا بندہ کے لیے دونوں طرف سے چارپائی پر بیٹھنے کی گنجائش ہی نہ ہو اور وہ نیچے زمین پر ہی بیٹھ سکے۔اب اس کا کروفر ختم ہوچکا ہے اور اب یہ راہ چلتے گزرنے والوں کو آوازیں دیتا ہے کہ ادھر آو کچھ دیر میرے پاس ڈیرے پہ بیٹھو مگر وقت اور دنیا بدل گئی ہے۔

اس آدمی نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اسے اکثر ہم لوگوں نے بھٹو کو گالیاں دیتے ہوے سنا ہے کہ کنجر نے کمی کمین لوگوں کو ہمارے سروں پہ آ چڑھایا ہے۔ ہماری نا ک کٹوادی ہے۔ پٹواری ، ایس ایچ او سے لے کرفوج تک کے وہی لوگ جو کل تک ہماری رعایا تھے۔ کے پاس جب میں کسی کام کے سلسلے میں جاتا ہوں تو مجھے بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔

نذرے کے گھر جا کر اس کی ماں سے ملنا کچھ اور در وا کر گیا۔ نذرآ بچپن ہی سے ذہین فطین اور بستی میں ہردل عزیز بچہ تھا۔پانچویں کے ڈسٹرکٹ بورڈ کے امتحان میں اس کاوظیفہ لگ گیا۔ میڑک میں بھی اے ون گریڈ میں پاس ہوا۔جاگیرادر کی بیٹی جو بعد میں کسی لاہوری وزیر کی بیگم بھی رہی اور دیگر خاندانوں کے بچے اکٹھے کھیلتے کودتے رہتے تھے ۔

ایک دن اچانک نذرے کو دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ پانچ چھ سال بعد نورے منشی نے بستی کی ایک عورت کو جو میری ہمسائی بھی ہے کو بتاتا کہ نذرے نے حویلی میں غلطی سے نیل اور کافور کی ٹکیاں ملا سیرپ پی لیا تھا۔ پتہ نہیں اس میں کہاں تک صداقت تھی۔

نذرے کا خاندان قوم کا موچی مگر علم وعمل پر یقین رکھنے والا خاندان تھا ان کے ایک بزرگ کے بہ قول اس وقت ہمارے بناے جوتے عربستان تک جاتے تھے ملتانی کھسوں کی نفاست اور بناوٹ میں ہمیں کمال مہارت تھی۔۔ ہم کوئی زیادہ کماتے تو نہ تھے البتہ گزراوقات اچھی ہو جاتی تھی۔ اسوقت حکومت نے ہمارے علاقے کے غریبوں کے لیے مرلہ سکیم شروع کی تو ہمیں بھی بستی کے ایک طرف کچھ مرلے مل گئے۔چند ہی سالوں بعد ہم نے ادھر پکے مکان بنوا لیے ۔

بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ کچھ ضرور بچ جاتا اور ہم نے اپنا سارا دھیان ہی بچوں کی پڑھائی پر صرف کیا۔بسوں میں طالبعلموں کے لیے کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے سب بچے تحصیل ہیڈ کوارٹر میں انٹر میڈیٹ ۔بی اے تک با آسانی پڑھ لکھ کر سرکاری ملازمتوں تک جا پہنچے۔ میرا بیٹا اور ایک بیٹی تو بڑے افسر بن گئے۔

اس کی بیٹی سے بھی ملاقات ہو گئی کہ وہ یہاں کسی ویلفئیر کے کام کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی۔ وہ ویکسی نیٹرز کی کوئی بڑی آفیسر تھی اور کسی انکوائری کے سلسلے میں فیلڈ میں آئی ہوئی تھی اور آبائی گھر کے قریب ایسی انکوائری ہو تو آبائی گھر کا چکر تو ضروری ہو جاتا ہے۔ ہم نذرے کی ماں اور بہن کے ساتھ نزدیکی قبرستان میں اس پاگل شخص کی قبر تک بھی گئے۔کتبے پر لکھا تھا

عاشق صادق نذر حسین ولد غلام حسین قوم موچی۔ فاتحہ خوانی کے بعد یوں ہی میں نے میڈم سے پوچھا۔۔

“آپ نے اس دفعہ جنرل الیکشن میں کس سیاسی جماعت کو ووٹ دیا ہے۔؟؟

وہ انگریزی بولنے والے دیسی لوگوں کا سا منہ بنا کر بولی۔

“وہ جو میرے ہیسبنڈ ہیں ناں وہ لاہور کے ہیں اور کہتے ہیں ووٹ لاہور کی پاٹی کا رائٹ ہے”۔

اچانک قبر پھٹی اور نذرا کفن سمیت آدھا باہر نکل کر اپنی بہن کی طرف سرخ انگارا آنکھوں سے دیکھنے لگا۔اس دفعہ اس کے ہاتھوں کا رخ خدا اور آسمان کی بجاے اپنی بڑی بہن کی طرف تھا۔ ہم دونوں کلاس فیلو ڈر کے مارے بس کی سیٹ کے نیچے چھپ گئے۔۔۔۔

مردانگی

عالمی افسانہ میلہ” 2021″

تیسری نشست”

افسانہ نمبر “61”

“مردانگی “

افسانہ نگار..رشی خان۔ (برلن ۔ جرمنی)

رشوت کے وافر مواقع والے سرکاری عہدے پر ترقی پاتے ہی قدرت اللہ نے داڑھی رکھ لی۔دفتری اوقات میں جونہی اذان کی آواز سنائی دیتی تو دفتر کے باقی عملے کے ہمراہ وہ بھی قریبی مسجد کا رُخ کرتا۔یوں جلد ہی وہ قدرت اللہ سے مولوی قدرت اللہ ہو گیا۔ نیچے والا عملہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی ہینکی پھینکی نہیں کر سکتا تھا اس لئے وہ مولوی قدرت اللہ کا چاپلوس بن گیا۔ محکمے میں ہر طرف مولوی قدرت اللہ کی دین داری کے چرچے ہونے لگے۔

محلے کی مسجد کے پیش امام مولانا عمران جمیل سے بھی راہ و رسم بڑھ گئی اور عشاء کے بعد جب سب نمازی چلے جاتے تو بھی مولوی قدرت اللہ اور مولاناعمران جمیل کچھ دیر بیٹھے تبادلہء خیالات کرتے رہتے۔

مولانا عمران جمیل کی علاقے میں بہت عزت تھی۔ دم درود کے لئے بھی لوگ اُن کے پاس آتے رہتے تھے اور کچھ مرد حضرات کو مولانا سے پُڑیاں درکار ہوتی تھیں کہ مولانا کے پاس باپ دادا کے زمانے سے چلے آتے کچھ نسخے بھی تھے۔ سردرد کا دم کرانے والی عورتیں صرف شام کو ہی آتی تھیں۔ کئی بے اولاد عورتوں کو مولانا کی دعا سے اولاد بھی نصیب ہوئی تھی اس لئے دُور دُور سے ایسی عورتیں مولانا کے حضور نذرانے پیش کرنے بھی آتی رہتی تھیں۔ اب تک جو بچے مولانا کی دعا سے پیدا ہوئے تھے وہ ان کی دعا کی تاثیر کی بدولت تھوڑے بہت مولانا سے شکل میں بھی مشابہت رکھتے تھے۔ اور ایسے بچوں کے ماں باپ کو اس بات پر فخر تھا۔

مولوی قدرت اللہ جو اپنے عہدے میں ترقی سے پہلے کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ مِل کر دل بہلانے کے لئے اِدھر اُدھر چلا جایا کرتا تھا وہ سب اب ترک تھا۔ گھر اور دفتر کے علاوہ اس کا باقی وقت اب مولانا عمران جمیل کے ساتھ گزرتا تھا۔

یوں تو بہت سے لوگ اور بہت باقاعدگی سے مولانا عمران جمیل کی خدمت میں نذرانے پیش کرتے اور دعا لیتے تھے مگر اب مولوی قدرت اللہ کے تحائف قدر و قیمت کے لحاظ سے بہت بڑھ گئے تھے۔شاید اسی بنیاد پرہی مولانا نے قدرت اللہ کو اپنے حجرے تک میں ساتھ بٹھانا شروع کر دیا تھا۔ عام طورپر اس حجرے میں دم کروانے یا بچوں کے لئے دعا کروانے والی عورتوں کو ہی آنے کی اجازت تھی۔

جوں جوں مولانا اور قدرت اللہ کی قربت بڑھتی گئی توں توں مولانا کی زبان سے قدرت اللہ کے علم اور کردار کے بارے تعریفوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک سال کے اندر ہی عشاء کی نماز کے بعد کی دعا بھی مولانا اکثر قدرت اللہ سے ہی کرانے لگے۔ یوں رفتہ رفتہ قدرت اللہ بھی یہ سوچنے لگا کہ ضرور خدا اُس سے زیادہ ہی خوش ہے جو اُسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی موٹی موٹی رشوت ملنے لگی ہے،محکمے کے اعلیٰ افسران کو شبہ تک بھی نہیں اور اس کی دعا میں تاثیر بھی بڑھ گئی ہے۔

مولانا کے حجرے میں تو قدرت اللہ کو جگہ مل ہی چکی تھی، اگلی ترقی اُس کی یہ ہوئی کہ سر درد کا دم کرانے کے لئے آنے والی کسی کسی عورت کو وہ قدرت اللہ کے سپرد کرنے لگے۔ قدرت اللہ بھی مولانا کا شاگردِ رشید تھا۔ وہ آنکھیں بند کرکے کوئی آیت پڑھتا اور پھر وہ جس بھی عورت کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پھونک مارتا،اُس کے سر کا درد کافور ہو جاتا۔

انہی عورتوں میں مہتاب بانو نام کی ایک پچیس سالہ حسین و جمیل لڑکی بھی تھی۔ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ دین دار بھی تھی۔ مگر بے چاری روز شام کر آدھے سر کے درد سے تڑپتی ہوئی مولانا کے حجرے میں پہنچتی۔ قدرت اللہ اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتا، کچھ آیات پڑھ کر اُسے پھونک مارتا اور مہتاب بانو کا سر درد رفو چکر ہو جاتا۔ مولانا بھی حالات کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے تھے۔ یوں جب اس سلسلے کو کئی ماہ گزر گئے تو مولانا نے قدرت اللہ کو مہتاب بانو سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لڑکی جوان ہے،مہ رخ و مہ جبین ہے اور اُس کی بیماری کا علاج بھی قدرت اللہ کے پاس ہے تو بے چاری کو کیوں یوں روز خوار ہونا پڑے؟ گھر میں ہو گی تو علاج بھی گھر میں ہی ہو جایا کرے گا۔ قدرت اللہ نے مولانا سے کئی سوال کئے، جن کا مولانا نے نہ صرف یہ کہ خاطر خواہ جواب دے دیابلکہ مہتاب بانو سے بھی کہلوا دیا کہ وہ اس نکاح کے لئے راضی ہے۔

قدرت اللہ بے شک ایک صحت مند اور خوش شکل مرد تھا لیکن اس کی عمر اس وقت تینتالیس سال ہو چکی تھی۔ تیرہ سال پہلے اس نے سترہ سال کی رابعہ سے شادی کی تھی۔ جس میں سے اُس کے تین بچے برکت اللہ،نسبت اللہ اور سکینہ بی بی حیات تھے اور دو بچے پیدائش کے فورا ” بعد ہی فوت ہو گئے تھے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن رابعہ اس کے بعد حاملہ نہ ہو سکی تھی۔ کچھ تو قدرت اللہ کے پاس مزید اولاد کی خواہش کا بہانہ تھا اور کچھ مولانا کے پڑھائے ہوئے سبق،قدرت اللہ نے ایک رات گھر آکر رابعہ کو بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنے جا رہا ہے۔ قدرت اللہ کا بڑا بیٹا بارہ سالہ برکت اللہ اتفاق سے دوسرے کمرے میں اس وقت جاگ رہا تھا، جب اُس نے باپ کے بولنے اور ماں کے رونے کی آواز سنی۔قدرت اللہ اس وقت رابعہ کو بتا رہا تھا کہ اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور رابعہ کے استفسار پر اُس نے قرآن شریف کی سورۃ النساء سے آیت نمبر تین کا حوالہ دیا تھا۔جس کے بعد رابعہ بیگم نے خاموشی اختیار کر لی۔قدرت اللہ نے مہتاب بانو سے نکاح کر لیا لیکن برکت اللہ کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ قرآن شریف میں سورۃالنساء کی آیت نمبر تین میں مردوں کے لئے یہ اجازت درج ہے۔

روپئے پیسے کی تو قدرت اللہ کو کوئی کمی نہ تھی اور چونکہ اس کی اوپری آمدنی کا بڑا حصہ مولانا عمران جمیل کی نذر ہو جاتا تھا شاید اسی لئے قدرت اللہ کے پیسے میں برکت بھی بہت تھی۔ ڈرائیور اور باورچی کے علاوہ گھر کے دیگر کاموں کے لئے بھی ایک ملازم موجود تھا۔ یہ شاید قدرت اللہ کے نکاح کا جادو تھا کہ شادی کے بعد مہتاب بانو کی بیماری میں بتدریج کمی آتی گئی اور وہ تین سال میں ہی دو بچوں کی ماں بن گئی۔ مگر تیسرے بچے کی باری شاید اس لئے نہیں آئی کہ اب قدرت اللہ رات کو زیادہ ہی دیر سے گھر آتا اور آتے ہی سو جاتاتھا۔بچوں اور بیویوں سے اُس کی ملاقات صرف صبح کے وقت ہوتی یا پھر اتوار کا آدھا دن اُن کے حصے آتا۔

رابعہ بیگم تو مہتاب بانو سے قدرت اللہ کے نکاح کے بعد سے ہی حقِ زوجیت سے محروم چلی آرہی تھی مگر اب مہتاب بانو بھی ایک معلقہ کی زندگی گزار رہی تھی۔ یوں دو سال اور بیت گئے۔

اس دوران میں مہتاب بانو اور رابعہ بیگم میں بہنوں جیسے تعلقات استوار ہو گئے۔ برکت اللہ اب سترہ سال کا ہو چکا تھا اور کالج میں

سیکنڈ ائر کا طالب علم تھا مگر باپ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کافی سرد مہری آ چکی تھی۔ بظاہر وہ باپ کا تابعدار تھامگر دل میں اس سے خاصا خفا تھا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ اسے باپ کی پوشیدہ سرگرمیوں کی بھی خبر ملتی رہتی تھی۔ اپنی ماں کے ساتھ قدرت اللہ کا سلوک تو وہ پچھلے پانچ سال سے دیکھ ہی رہا تھامگر اب سوتیلی والدہ کی محرومیوں نے اُسے اُس کا بھی ہمدرد بنا دیا تھا۔اس لئے جونہی اسے خبر ملی کہ قدرت اللہ کسی تیسری شادی کی فکر میں ہے تو اس نے ایک عالمِ دین سے مل کر پہلے تو سورۃ النساء کا ترجمہ اور تفسیر حاصل کی۔اس کا بغور مطالعہ کیا اور پھر اپنی دونوں ماؤں کو حالات سے آگاہ کر دیا۔

سو، اگلی ہی اتوار قدرت اللہ کے لئے کچھ اہم تبدیلیاں لے کر آئی۔

سب سے پہلے تو اورنگ زیب، اُن کاجو گھریلو ملازم تھا اور اکثر اتوار کی صبح قدرت اللہ کی مٹھی چاپی کرکے جگایا کرتا تھا آج غائب تھا۔ خلافِ معمول کوئی بچہ بھی اُس کے پاس نہیں آیا۔ سو وہ اپنی عادت کی نسبت کچھ دیر سے بیدار ہوا۔ غسل کرکے نکلا تو کسی نے اُسے دُھلے ہوئے کپڑے بھی نہیں دئیے۔ اس نے پہلے اورنگ زیب اور باورچی غلام محمد کو طلب کیا پھر باری باری بیویوں کو پکارا اورآخر میں بچوں کے نام کی صدائیں دیں۔مگر کہیں سے کوئی ردِعمل نہیں ملا تو تنگ آ کر رات والے کپڑے پہنے اورسب کو گالیاں دیتا ہوا ناشتے کی میز پر پہنچا۔ وہاں اُس کی دونوں بیویاں ناشتے میں مصروف اور گپ شپ میں مشغول تھیں۔ آج تک تو یہی ہوتا آیا تھا کہ جب تک قدرت اللہ گھر میں ہوتاتو ملازمین اوردونوں بیویاں اُس کے حُکم کے منتظر رہتے۔ مگر آج تو جیسے انہیں قدرت اللہ کی پروا ہی نہیں تھی۔

جب وہ اپنی گالیاں دوہراتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنے لگا تو رابعہ بولی”اگر آپ کی گالیوں کی گردان مکمل ہو چکی ہو تو تشریف رکھئیے اور آسان الفاظ میں بتائیے کہ آپ کو اصل تکلیف کیا ہے؟“

وہ پہلے تو کچھ مزید گالیوں کی بوچھاڑ کرنا چاہتا تھا مگر پھر کچھ سوچ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا

”یہ اورنگ زیب کہاں مرگیا ہے آج؟“ اُس نے سوال کیا

رابعہ بولی ” آج آپ نے اُسے عالمگیر نہیں کہا ؟“

”وہ تو میں کبھی کبھی اسے پیار سے کہہ دیتا ہوں۔ لیکن ہے کہاں وہ حرامزادہ؟“

اب کے مہتاب بولی ”وہ بچوں کے ساتھ باہر گیا ہے“

”اور غلام محمد، وہ کدھر ہے؟ “

”وہ بھی ان کے ساتھ گیا ہے۔اورنگ زیب اکیلا بچوں کو نہیں سنبھال سکتا تھا“ دونوں بہ یک زبان بولیں

”اور ڈرائیور؟ اُس کی آواز نہیں آرہی؟“

”وہی تو لے کر گیا ہے سب کو گاڑی میں“

قدرت اللہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ دونوں بیویاں جو عام طور پر اس کے سامنے بھیگی بلی بنی رہتی ہیں آج تڑاق پڑاق کیسے

بولے جا رہی ہیں۔ کچھ سوچ کر بولا ”میرا ناشتہ کہاں ہے؟“

”ناشتہ بھی مل جائے گا۔ آپ پہلے ہماری بات سنئیے“ رابعہ بولی

”کیوں؟ ناشتے سے پہلے کیوں ضروری ہے تم لوگوں کی بات سننی؟“

اب مہتاب کی باری تھی ”اس لئے کہ ہو سکتا ہے بعد میں آپ کو ناشتے کی حاجت ہی نہ رہے“

”اچھا ! یہ بات ہے؟ تو جلدی بکو کیا بکنا ہے؟“

رابعہ بولی ”ہم دونوں جو آپ کی زوجیت میں ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے“

”کون سا حق ہے جو تمہیں نہیں ملتا ؟ کھانا پیناپہننااوڑھنا بچھونا ہر چیز وافر موجود ہے۔ عالی شان گھر ہے، نوکر چاکر ہیں اور کیا چاہئیے؟“

مہتاب بولی ”آپ ہم دونوں کا حقِ زوجیت ادا نہیں کرتے، یہ ہماری حق تلفی ہے“

وہ مہتاب کو دیکھتے ہوئے بولا ”تم تو ایسی بات نہیں کر سکتی۔ تمہیں تو میں ہر ہفتے دو ہفتے کے بعد ضرور ملتا ہوں۔ اور کتنا ملوں تمہیں؟ تم بھی اب پرانی ہو چکی ہو“

مہتاب نے ترنت جواب دیا ”شاید آپ کی یادداشت بھی کمزور ہو گئی ہے۔ مہینے دو مہینے بعد کہیں ایک بار آپ میرے بستر پر قدم رکھتے ہیں۔ اور اب بات میری نہیں بلکہ ہم دونوں کی ہے۔ آپ کو ہم دونوں کے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار کرنا ہو گا“

”یہ انصاف کی بات کہاں سے آگئی؟“

رابعہ بولی ”جہاں سے آپ کو چار شادیوں کی اجازت ملی۔ قرآن شریف کی سورۃالنساء آیت نمبر تین اور ایک سو انتیس، جن کا حوالہ دے کر آپ نے دوسری شادی کی تھی اور اسلام کی اسی اجازت کو آپ شاید تیسری شادی کے لئے بھی استعمال کریں“

”وہ تو میرا شرعی حق ہے۔وہ مجھ سے کون چھین سکتا ہے؟“

”اس کی فکر مت کریں، وہ آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا مگر اُس حق کے ساتھ انہی آیات میں تمام بیویوں کے ساتھ جو انصاف کا فرض عائد کیا گیا ہے وہ بھی پورا کریں، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔“ اُس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا

”ورنہ۔۔۔۔؟ اچھا۔۔۔ یہ بھی بتا دو ورنہ کیا ہو گا؟“

مہتاب ایک لمحے کے لئے ہچکچائی، مگر پھر مضبوط لہجے میں بولی ”ورنہ ہم دونوں،بچوں کے ہمراہ مولانا عمران جمیل کی مسجد کے باہر جا کھڑی ہوں گی اور ہر آنے جانے والے کو بتائیں گی کہ آپ نامرد ہو چکے ہیں۔ آپ کی مردانگی رخصت ہو چکی ہے۔ آپ ہمارے حقِ زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہیں رہے“

”حرام زادیو ! کتیو ! تم مجھے دھمکیاں دے رہی ہو۔ میں تم دونوں کو طلاق دے دوں گا“

”بے شک بے شک۔ آپ اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں“ رابعہ کا لہجہ طنز سے لبریز تھا ”تب تو لوگوں کے لئے یہ سمجھنا اور بھی آسان

ہو جائے گا کہ ہم جو بھی کہہ رہی ہیں صحیح کہہ رہی ہیں۔ ہمارے بچے بھی ہمارے دعوے کی گواہی دیں گے“

”تمہیں ضرور کسی شیطان نے بہکایا ہے“ قدرت اللہ کا لہجہ ایک دم دھیما ہو گیا ”لیکن ذرا سوچو اگر میں ثابت کردوں کہ میری مردانہ خصوصیات میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی ہے تو پھر۔۔۔۔۔ پھر کیا کرو گی تم دونوں؟“

”لیکن ثابت کیسے کریں گے؟ کہیں زنا کرنے جائیں کے اور اس عورت کو گواہ کے طور پر پیش کریں گے یا مسجد میں آنے والے کسی لڑکے پر دکھائیں گے اپنی مردانگی؟“ رابعہ کے لفظوں میں اب رعب بھی در آیا تھا ”اور رشوت کے ثبوتوں کا کیا کریں گے؟اگر ہم نے وہ اخباروں کو دے دئیے تو لوگ آپ پر تھوکیں گے“

”تم دونوں اچھی طرح جانتی ہو کہ میں جو کچھ بھی کرتا ہوں،تم لوگوں کی بھلائی کے لئے کرتا ہوں“

”تو پھر ہمارے ساتھ انصاف بھی کیجئے“

”کیا طریقہ ہے تم دونوں کے ساتھ انصاف کا؟“

مہتاب بولی ”آپ ہر رات کا آدھا وقت باجی رابعہ کے بستر پر گزاریں گے اور باقی آدھا میرے بستر پر۔ آپ کا علیحدہ کوئی بستر نہیں ہو گا“

”تو میں نیند کب پوری کروں گا؟“

”یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ بے شک دفتر میں سولیا کریں۔ لیکن انصاف کا واحد طریقہ یہی ہے“

”اچھا؟ اور کچھ؟“

”آپ مغرب کی نماز کے بعد گھر سے باہر نہیں رہیں گے۔ عشاء کی نماز آپ گھر میں ہمارے ساتھ ادا کریں گے“

نہ چاہتے ہوئے بھی مولوی قدرت اللہ نے اپنی بیویوں کا یہ مطالبہ مان لیا۔ ناشتہ کیا او کچھ وقت وہاں گزارا۔ ساتھ ساتھ سوچتا رہا کہ اب کیا کرے؟ پھر دوپہر کے بعد مولانا عمران جمیل کے پاس چلا گیا۔ اس نے کئی بار چاہا کہ مولانا سے بات کرے مگر پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔ البتہ مولانا کو یہ بتانا پڑا کہ کچھ دن وہ عشاء کی نماز گھر پر ہی پڑھے گا۔ مولانا کو تشویش تو ہوئی۔ مگر جب قدرت اللہ نے کچھ بتانے سے انکار کر دیا تو انہوں نے بھی ضد نہیں کی اور یہ سوچ کر چپ کر گئے کہ خود ہی وقت آنے پر بتا دے گا۔

قدرت اللہ اب وہ آدھی رات ایک بیوی کے پاس گزارتا، بعد میں وہ تو سو جاتی اور دوسری بیوی جو پہلے ہی کافی نیند پوری کر چکی ہوتی اُس کے پہنچنے پر جاگ جاتی۔ اسے دونوں کے ساتھ جاگنا پڑتا۔ اور کبھی کبھی حقِ زوجیت بھی ادا کرنے پڑتے۔ وہ دونوں دن میں بھی کچھ نہ کچھ سو لیتیں۔ وہ کئی سالوں سے سمجھ رہا تھا کہ رابعہ اب بوڑھی ہو چکی ہے۔ اس کے جذبات بھی مدھم پڑ چکے ہیں۔ مگر اس کی گرمجوشی نے تو قدرت اللہ کو پریشان ہی کر دیا۔ اس کی توقع کے خلاف رابعہ کے ہارمونز ابھی تک بہت ایکٹو تھے۔ مہتاب بھی پچھلے دو سالوں سے نظرانداز کی جا رہی تھی تو اُس کے جذبات بھی چنگاری ملتے ہی شعلوں کی طرح بھڑک اٹھے۔

قدرت اللہ نے مشکل سے دو ہفتے اس روٹین میں گزارے مگر پھر ا س کی برداشت جواب دے گئی۔

اُس نے ایک شام دونوں بیویوں کو بٹھا کر منت کی اور ان سے منوا لیاکہ وہ تین راتیں رابعہ کے بستر میں اور چار راتیں مہتاب بانو کے بستر میں گزارا کرے گا۔

یوں اُس کی گھر والی زندگی تو کسی حد تک قابو میں آ گئی مگر باہر والے سب دم درود اور ٹوٹکے بند ہو گئے۔ اب اُسے مولانا سے اپنی پُڑیوں کی تعداد بھی زیادہ کرنی پڑی۔

مولانا نے بھی آخر ایک دن تنگ آکر پوچھ ہی لیاکہ اصل ماجرہ کیا ہے؟

قدرت اللہ نے جس قدر بتایا جا سکتا تھا بتا دیا۔

مولانا نے اُسے آفر دی کہ وہ اس ضمن میں اُس کے حق میں فتویٰ جاری کر سکتے ہیں۔ اورعابدہ جو کتنے عرصہ سے اُس کا انتظار کر رہی ہے، اس سے نکاح کے لئے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ مگر قدرت اللہ ایسی کسی مدد سے انکار کرتے ہوئے بولا

”مولانا ! آپ صاحبِ منبر ہیں، حرف کے سوار ہیں لیکن میں حرب و ضرب کا نشانہ ہوں اور میدانِ جنگ میں ہوں۔ آپ کے نقطہ نظر میں اور میرے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آپ میری کوئی مدد نہیں کر سکتے“

مگر جو بات اس نے مولانا سے بھی نہیں کہی تھی،وہ تھی

اپنی مردانگی کے زعم کی حفاظت۔ ”مردانگی“ جس کے دو سادہ سی عورتوں نے پرخچے اُڑا دئیے تھے

جب حالات مکمل طور پر رابعہ اور مہتاب کے قابو میں آگئے اور قدرت اللہ کی تیسری شادی کا خطرہ پوری طرح سے ٹل گیا تو دونوں نے مل کر برکت اللہ کا شکریہ ادا کیا۔

شجاعت

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر 60

شجاعت

فاطمہ عثمان

راولپنڈی ۔ پاکستان

“! بے شرمی حد سے بڑھ گئی ہے تمہاری ۔۔۔کتنی زبان چلاتی ہو “

میں اپنی بیوی پر چِلاّ رہا تھا ۔

“بےشرمی والی میں نے کیا بات کہہ دی ؟”

زارا بھی اپنی جگہ قائم تھی ۔

“شوہر کی نا فرمانی بے شرمی ہے ، تمھیں اتنا بھی نہیں سکھایا تمہارے بڑوں نے ؟؟”

میرے سیکھے ہوے سبق میری زندگی کا حاصل تھے ، میں مرد تھا یہ کیسے بھول جاتا۔

ابھی بات باقی تھی کہ میری بیٹی پاس آکر شکایت کرنے لگی،

“ماما بھائی میری کاپی نہیں دے رہا “۔

زارا سمجھانے لگی،

“بھائی ہے نا ، اسکو کھیلنے دو، آپ کوئی اور کاپی لے لو “۔

میری نظریں اپنی بیٹی کے تعاقب میں کمرے کے کونے سے جا لگیں ۔ زارا نے فیصلہ سنانے کے لئے آواز دوبارہ اٹھائی ،

“شجاع اپنے بیٹے کے لئے دیکھے تمام خواب مجھے پورے کرنے ہیں، چاہے کوئی بھی قربانی دینی پڑے !”

میرا سینہ جیسے لاوا اگلنے لگا

” تم گھر اور بچوں پر دھیان دو ۔۔۔ سمجھی !”

میں سلگتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تو اماں وہیں کھڑی تھیں ،

انہیں نظر انداز کرتے ہوۓ گھر کے دروازے کو پار کر گیا ۔۔۔۔

. . .. . . . *-* -* -* -* -* -* -* . . . . . . . .

تنہا جانے کس موڑ پر کھڑا مَیں گہری سوچ میں غرق تھا ، سگریٹ کے کش پہ کش لگا رہا تھا ۔

میری زندگی معمول پر گزرتی ایک دلدل بن چکی تھی ،

مہینے کا سودا۔۔۔

بچوں کی فیس۔۔۔۔

بجلی کا بل۔۔۔

گھر کا کرایہ ۔۔۔

ماں کی دوا ،

اور پھر زوال پر زوال ۔۔۔۔

واردات قلب تھی کہ گھر کا رستہ دانستہ بھول جاؤں جب زارا کی آواز کانوں میں گونجی ،

” مجھے نجی اسکول میں پڑھانا ہے ،اکلوتا بیٹا مان ہے میرا !”

زارا کی آواز میں میرے والدین کی آواز شامل ہو گئی

“بیٹا تُو ہی ہمارا سہارا ہے”

جانے کیوں سگریٹ کا دھواں فضا میں غائب ہونے کے بجائے جیسے میری گردن کے گرد

لپٹنے لگا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے والد ایک سرکاری ملازم تھے ۔

بیٹا پیدا کرنے کا شوق میری ماں کو زیاده تھا ۔

ابّا بتاتے تھے کہ ہر حمل کے دوران میری ماں کتنے جتن کرتیں ،

عامل یا حکیم ،جو بھی بیٹے کی نوید سنانے کی چارہ جوئی کرتا ، اسکا بتایا ہر عمل خود پر فرض کر لیتیں ۔

دو حمل ضائع

ہوئے، پھر دوسری بیٹی کے

بعد مولا نے نرینہ اولاد سے نوازا ،

اور ایک ماں کا خاندان مکمل ہوا ۔

والد کی تنخواه کے مطابق بیٹیوں کو سرکاری اسکول میں داخل کیا ، مگر مجھے اپنی چادر سے پاؤں باہر نکال کر نجی اسکول سے تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا ۔

میری ابتدائی یادداشت میں یہ واضح تھا کہ میری ہر بات کی وقعت تھی ۔

میں جو چاہتا منوا سکتا تھا ۔

حالات تنگ تھے ، جب گھر میں گوشت پکتا تو

میری پلیٹ بھری ہوتی ،

بہنوں کو ایک پارۂِ گوشت ملتا ، میں بسیار خوری کے باعث اور مانگ لیتا ، تو اماں ان کی پلیٹ کھنگال کر وضاحت کے ساتھ مجھے نواز دیتی کہ ،

” بڑا ہوکر بھائی

طاقت ور بنے گا، تبھی تو تم دونوں کی ڈھال بنے گا”۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج میں اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود سانس اپنے پھیپڑوں میں نہیں بھر پا رہا تھا ، سگریٹ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے یاد تھا ایک بار میں نے بہن کی گڑیا توڑ دی اور اس نے مجھے تھپڑ مار دیا ،

اماں بھپر گئیں،

” بدتمیز ! بھائی پہ ہاتھ اٹھاے گی ؟ایسی بےشرمی دوباره کی تو زنده گاڑ دوں گی !”

اور میں دل ہی دل میں خود کو با توقیر مان کر بہت خوش ہوا تھا

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ، جن مراعات پر میں نہال ہوجاتا ، آہستہ آہستہ وہ میرے لیے

جوکھ بننے لگیں تھیں ۔

مستقبل میں والدین کا بڑھاپا اور بہنوں کی شادیاں مجھے انجان

عارضہ میں مبتلا کرنے لگیں ۔

میں جوان ہوا تو کچھ کر دکھانے کی دوڑ میں لگ گیا ، مگر کامیابی نا ملی۔

میں ذہین تھا مگر بمشکل پاس ہوتا ،

بہت کوشش کے بعد بی اے کر پایا ۔

اور میری ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اماں ابّا کے پیار اور غرور بھرے جملے طعنوں میں تبدیل ہونے لگے ۔

” فلاں کا بیٹا دیکھو ، ہمیشہ اول آتا ہے”

” فلاں کا بیٹا تو سرکاری اسکول میں پڑھا ، اور دیکھو محنت کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گیا !!”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

مجھے بمشکل سانس آیا ہی تھا ، کہ میں نے جھٹ سے گرا ہوا سگریٹ اٹھا کر دوباره

ہونٹوں سے لگا لیا ۔

میں اپنے جینے کی ہر وجہ دھویں میں اڑانے لگا !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” بیٹا مرد بن مرد!

تُو چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے

مگر کوشش نہیں کرتا !”

عیب جوئی ہونے لگی تو تلخی بڑھنے لگی ۔

“تجھ سے تو بہتر تھا خدا ایک بیٹی ہی اور دے دیتا ! “

ابّا کے یہ الفاظ مجھے قبر میں دھکیلنے کے لئے کافی تھے۔

“تیری تربیت میں آخر کیا کمی چھوڑی ہم نے ۔۔۔۔اچھا کھلایا اچھا پلایا۔۔۔ اپنا پیٹ کاٹ کر

تجھے مہنگے اسکول میں پڑھایا ،

تُو یہ صلہ دے گا ہماری قربانیوں کا !؟ ” ۔

اماں نے نا امیدی کی راکھ مجھ پہ ڈال دی ۔

میں سانس لینا چاہتا تھا ،مگر

میرے گرد اندیشوں کا اندھیرا چھا گیا ،

جو رفتہ رفتہ میرے سینے میں گھر کرگیا ۔

ابّا کے انتقال کے بعد مجھے چند ہنر سیکھنے پر ایک نجی ادارے میں نوکری مل

گئی تو اماں نے کمیٹی لاد دی۔

پھر کچھ عرصے میں بیٹیاں بیاه دیں اور زارا کو گھر لے آئیں ۔

میری اور زارا کی روز کھٹ پٹ ہوتی۔

ایک دن اماں ہاتھ پکڑ مجھے اپنے کمرے میں لے گئیں ۔

“دیکھ شجاع ۔۔۔اتنی ضد نا کر ۔۔۔خدا نے

تجھے بیٹا دیا ہے ۔۔۔اسکو اچھے اسکول میں پڑھائے گا تو آخر بڑھاپے میں خدا کے بعد

تیرا ہی سہارا بنے گا “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جملہ یاد آیا اور نہ جانے کیسے میں نے کوئی معمہ سلجھا لیا ۔

زمین پر بیٹا یا شوہر کیا خدا کا متبادل ہوتا ہے ؟

ہم اپنی توقعات کے بوجھ تلے اپنے بچوں کی قبر کیوں کھودتے ہیں ؟

یک دم جیسے سالوں پرانی کوئی گہری دھند چھٹ گئی ،

اب مجھے گھر جانا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.

مجھے اپنے وجود میں ثبات پہلی بار محسوس ہوا تھا،

اپنے کمرے میں جا کر زارا کے پاس بیٹھ گیا اور بچوں کو کھیلتے دیکھنے لگا ،

آج انکا اودھم مچانا مجھے زحمت نہیں دے رہا تھا ۔۔

“زارا ” میں نے نرمی سے مخاطب کیا ۔۔۔

“میں دیکھتا ہوں تو میرے پاؤں میں قدیم زنجیر پڑی ہے، جس نے مجھے اپنی منزل تعمیر نہیں کرنے دی ۔۔ اگر میں پاؤں پاؤں اپنی آرزو سے چلتا رہتا ، شاید جینا بھی سیکھ جاتا ۔۔۔۔”

زارا میری طرف دیکھنے لگی ،

میں نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہا ،

“میں چاہتا ہوں دونوں بچوں کو اپنے اپنے خوابوں کے پیچھے اڑان بھرتا دیکھوں ،

ہمیں انکے لئے بس ضربِ دست بننا ہے “

زارا خاموش تھی اور میں ، بیداد کی بیڑی سے اپنی نسل کو آزاد کر کے

زندگی میں پہلی بار اوج پر تھا

مٹی کا مجسمہ

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر 59

مٹی کا مجسمہ

ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی ( کولکاتا،مغربی بنگال،انڈیا )

رہگذ ر کے مجسمے کو دیکھ کر جہاں عقل دنگ رہ جاتی وہیں حیا کی آنکھیں ایسے جھکتی کہ اٹھائے نہیں اٹھتی۔!!

میناکھشی رام اوتار کی اکلوتی بیٹی تھی۔اسکا چہرہ ماں کے سانچے میں لیکن جلد پر باپ کا رنگ غالب تھا۔رام اوتار پیشے سے کمہار تھا۔وہ ہر روز صبح ناچتی چاک پرمٹی رکھ کر طرح طرح کے برتن اور کھلونے تیار کرتا۔سات برس کی عمر سے میناکھشی اسکا ہاتھ بٹاتی ۔اس بار دیوالی کی آمد تھی ۔تیاری مہینوں پہلے شروع ہوگئی ۔میناکھشی نے پوکھر سے مٹی کاٹ کر آنگن میں جمع کرناشروع کیا۔ ایک صبح رام اوتار نے چاک کو کھونٹی پر رکھا اور نم مٹی کو چاک پر ر کھ کرپوری توانائی کے ساتھ اس کو نچایا۔چاک کے ساتھ ساتھ رام اوتار کا من بھی ناچ اٹھا۔ انگلیاں سبک روی کے ساتھ ادھر ادھر اوپر نیچے جنبس کرتی رہیں اور بلرام پور کی سانولی مٹی سے دیپ تیار ہوتے رہے۔!!اس نے میناکھشی کو آواز دی ۔

’’میناکھشی دیئے کو تختے پر رکھکر دھوپ دیکھاؤ۔‘‘

میناکھشی نے ایک ایک دیئے کو تختے پر رکھا۔پھر دوپٹہ سنھالتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے تختے کو اٹھایااور پھونس کے چھپر پر آہستہ سے رکھا۔ پڑوس کابیس سالہ نوجوان ہر روز اس منظر کو بڑے غور سے دیکھتا۔چار پائی سے اتر کر وہ کہتی ۔

’’پریتم تم روزانہ کیا تماشہ دیکھتے ہو۔!!‘‘

وہ شرما کر کہتا۔

’’ میناکھشی میں تم کو دیکھ کر یہی سوچتا ہوں کہ تم لڑکی ہوکر کتنا پریشرم کرتی ہو۔!‘‘

وہ من کو گلابی رنگ میں بھگو کر جواب دیتی ۔

’’دیکھ پریتم ۔۔۔!جب تک جیون ہے ۔محنت تو کرنا ہی ہوگا۔ورنہ سب مان جائے گا پر پیٹ نہیں مانتا۔!‘‘

پریتم چٹکی لیتا۔

’’تو جس کے گھر جائے گی نہ میناکھشی وہ بڑا بھاگوان ہوگا۔!‘‘

میناکھشی اسکی طرف دیکھ کر مسکرادیتی اور پھر رنگ میں برس بھگو کر مٹی کے کوزے پر نقش ابھارنے لگتی ۔اس دوران اسکے چہرے پر ایک عجیب دمک رہتی۔دن بھر باپ کے ساتھ ہاتھ بٹاتے بٹاتے وہ تھک جاتی ۔شام ہوتے ہوتے اس پر غنودگی طاری ہوجاتی ۔دوروٹی کھاکر آنگن میں چارپائی پر لیٹ جاتی اور آسمان پر بکھرے ستاروں کی جھرمٹ میں اپنے مقدر کا ستارہ تلاش کر نے میں مشغول ہوجاتی ۔!

چاندنی رات۔!۔مہواکی شاخ پر گھونسلوں میں چڑیے کے بچوں کی چہکار۔!!۔سرسوں کے کھیت میں لہلہاتے پیلے پیلے پھول۔!!۔آسمان پر چمکتے ستارے کی جھرمٹ میں چمکتا گول چاند۔۔۔!!اور سرسوں کے کھیت میں چاند کو تکتا چکور۔۔۔!! ایسے میں اسکے دل میں ایک انگڑائی اٹھتی ۔پھر کروٹ بدلتے بدلتے آدھی رات گذرجاتی ۔!ہر طرف مہیب سناٹا۔اس کا جی کہتا ۔

’’کب سورج اگے کہ یہ سیاہ رات کٹے تاکہ دیپ پر مینا کاری کا کام کیا جائے۔!!‘‘

آہستہ سے پائتانے سے چادر کھینچتی اور بدن پر ڈال کر سوجاتی۔دوسرے دن سورج اگتا۔پپیہے راگ چھیڑتے۔کوئل کوکتے۔پیلے پیلے سرسوں کے پھول پر بھنورے آتے ۔بیلوں کی جوڑی کے ساتھ کسان ہل کاندھے پر اٹھائے کھیت کی طرف روانہ ہوتے ۔پھر رام اوتا ر کی زندگی کا چاک ناچ اٹھتااور چاک پر ناچتی بلرام پور کی سانولی مٹی سے دیئے کے کورے کھورے تیار ہونے لگتے۔!!جب پانچ سو کے قریب دیئے تیار ہوگئے تو رام اوتا ر نے میناکھشی سے کہا۔

’’بیٹی اب اسکو بھٹی دے دیا جائے۔!!‘‘

بھٹی سلگا۔ایک ایک کچے دیئے کو سجایا گیا۔چاروں طرف پھونس رکھا گیا۔اس پر تھوڑا سا تیل چھڑ ک کر رام اوتارنے سلائی کی تلی مار ی۔آگ لہک اٹھی ۔گھنٹوں بعد جب بھٹی کی آگ سرد ہوگئی تو آہستہ سے سفید اور کالے پھونس کی چھائی کو ہٹا کر اس میں سے ایک ایک دیئے کو آہستہ آہستہ میناکھشی نے باہرنکالا۔پھر رنگوں کی مینا کاری کا عمل شروع ہوا۔ اس دن دیاونتی نے مہوا کے نیچے مٹی کے کورے کھورے میں دودھ گرم کرتے ہوئے من ہی من میں کہا ۔

’’ ہے بھگوان اب کے برس تو ان دیپوں سے اتنا دھن دے کہ میں میناکھشی کے ہاتھ پیلے کر سکوں اور اس کو ڈولی میں بیٹھا کر اسکے ساجن کے دوار بھیج سکوں۔!!‘‘

اتنے میں ٹکٹکی کی ٹک ٹک سے اسکی آتما کوشانتی ملی کیوں کہ اس کی ماں بچپن کے دنوں میں اکثر کہا کرتی کہ جب کسی بات پر ٹکٹکی بول دے تو وہ کام پورا ہوکر رہتا ہے۔ !!

بلرام پور کی سانولی مٹی کپاس اور بادام کی کھیتی کے لئے بہت زرخیز تھی۔ اس گاؤں میں پلاس،ناریل،نیم،برگداور پیپل کے پیڑ تھے۔پیپل کے نیچے کنواں،کنواں کا پانی شیتل،اس پنگھٹ پر گاؤں کے پنہاریوں کا جب جمگھٹ لگتا تو نظارہ بڑا دلکش ہوتا۔بسنت کی ہوا جب چلتی تو کوئل اور پپیہے کی پی کہاں گاؤں والوں کے دلوں میں ایک جوت جگاتے۔ جب ساون برستا تو کبھی کبھی بلرام پور گاؤں کی پتلی پگڈنڈیوں پر مور نکل کر محوِرقص ہوتے۔زمستاں کی جب شب آتی تو سورج ڈھلتے پورا گاؤں لحاف میں سمٹ جاتا۔ بسنت جب دستک دیتا تو کیا کہنا ہر طرف فصلیں لہلہا اٹھتی ۔ بلرام پور کی مٹی سے بنے دیپ میں گاؤں والے بادام کے تیل میں کپاس کی باتی جلاتے۔ جن سے چوبارے روشن رہتے۔گاؤں کا وہ پنگھٹ جس کے سینے میں ہزاروں داستانیں منجمد تھیں اس طوفانی رات کو ایک اور ایک واقعے کا گواہ بن گئی جب قوس قزح کی ڈالی لچک کر ٹوٹ گئی۔!!ہوا یوں کہ مینا کھشی بلرام پور کے گاؤں سے دیپ بیچ کر ہاتھ پیر دھونے اسی پنگھٹ پر آئی۔

زمستان کی آمد آمد ۔نیل گگن پر چاندنی لٹاتا پونم کا چاند اور جوگن بن کررات کے بام پرچڑھتی شام۔۔!!کہ اتنے میں پنگھٹ پر ایک چینخ ابھری اور خلاؤں میں بازگشت چھوڑ کر منجمد ہوگئی۔!!

چاروں طرف ایک مہیب سناٹا۔!!رجنی گندھا کاا سٹیک سامنے سرجو ندی میں تیر رہا ہے۔تھوڑی دوری پر مرجھایا گلاب ندی کے تھپیڑے کی زد میں۔۔۔!!!

چینخ سن کر دیاونتی پنگھٹ کی طرف لپکی او ر طاق پر بیٹھے بوڑھے کبوتر نے نیل گگن پر دیکھا۔

’’راہو کیتو کی چنگل میں ہے۔!‘‘

بجھی بجھی چاندنی میں دیاونتی نے میناکھشی کو مہواکے نیچے چارپائی پر لیٹا کر دیکھا۔ناگ مٹی کے کورے کھورے کا کچا دودھ پی گیا ہے۔کھورے میں بچا دودھ نیلاہوگیا ہے۔دل سے ایک آہ نکلی ۔

’’تقدیر کے ستارے بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں جب تک یہ گردش میں رہیں زندگی سانس نہیں لے پاتی۔!!

سرد رات تپنے لگی۔احتجاج کی سُر تیز ہونے لگی۔بھیڑبڑھتے بڑھتے تھانے تک پہنچی۔

مسز سکسینہ نے تھانے میں گرج کر پوچھا۔

’’ کیا ہو ابھی ابھی ایف آئی آر لانچ ہونے والا تھا۔؟‘‘

ایک اجنبی شخص نے کہا ۔

میڈم آپ کے ماتحت افسر راگھون نے لڑکی کے باپ کو باہر لے جاکرسمجھا بجھا دیا ہے کہ وہ بہت امیر ہے۔کیس کردے گا ۔کیا تم اس سے کیس لڑنے سکوگے۔تمہاری لڑکی کا پھر کہیں شادی نہیں ہوگا۔!!مسز سکسینہ کی آنکھیں انگا رے اگلنے لگی۔اس نے چینخ کر کہا ۔

’’تم سب باہر جاؤ اور را گھون کو اندر بھیجو۔۔۔!!‘‘

’’کیا بات ہے ابھی تک ایف آئی آر لانچ نہیں ہوا؟‘‘

راگھون نے کہا ۔

’’میڈم لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہوگئی ۔!!‘‘

لیکن راگھون کی سماعت میں لان میں ہونے والی بحث کی آواز اب بھی گونج رہی تھی۔

’’ممی تم جھوٹ بولتی ہو۔سرسوں کے کھیت میں اس نے میرے ساتھ ایسا ہی گھناؤنا حر کت کیا ہے۔تب تک باپ کی کرخت آواز لپکی۔

’’ چپ رہو ۔ تم نابالغ ہو۔۔!‘‘

ذہن میں اس باز گشت کی شدت کم ہوئی تو راگھون نے سنا ۔مسزسکسینہ کہہ رہی ہے۔

’’سفاک معاشرے میں روایت،تہذیب کی تمام کڑیاں ایک چھناکے کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر گئی ہیں لیکن بھاگ دوڑ کی اس زندگی میں اس کا احساس کسی کو نہیں ہے۔!جب تک معاشرہ مادہ پرستی کے چنگل میں رہے گا تہذیب ،اخلاق کی بقا خطرے میں رہے گی۔!!‘‘مسز سکسینہ پیر پٹختی ہوئی یہ کہہ کر باہر نکل گئی ۔

’’مسٹر راگھون لڑکی تمہاری ہوتی تو سمجھ میں آتا۔مجھے خبر ملی ہے کہ وہ سالا لڑکی کے چکر میں رہتا ہے۔میں اسکو سبق سکھاؤں گی۔!!تم مردوں کے ہاتھوں عورت کبھی محفوظ نہیں رہی ہے۔چاہے وہ دروپدی ہو۔یا سیتا۔!!‘‘

اس حادثے کے بعد مہینوںآنگن میں رام اوتار کا چاک بظاہر رکا رہا لیکن اسکے اندر کا چاک کافی تیزی سے چلتا رہا ۔!!

دیپاولی کی شام کو جب اجالے پھیلے تو میناکھشی کے اندر گھور اندھیرا تھا ۔باہر دیپاولی کے پٹاخے پھوٹ رہے تھے اور اسکے اندردل کے پھپھولے۔!! اس دن چوبارے میں دیپ روشن کرتے ہوئے دیاونتی نے اپنے چھوٹے بیٹے سے کہا۔

’’بیٹے رام کا ویناس کرنے والے رام جی آج ہی کے دن بن باس کاٹ کر اجودھیا نگری واپس لوٹے تھے اور لوگوں نے مارے خوشی کے اپنے اپنے گھروں میں دیپ روشن کئے اور پٹاخے چھوڑے!!! ‘‘

میناکھشی نے کہا۔

’’نہیں ماں راون ابھی زندہ ہے!!!‘‘

باہر زمستا ں کی ہلکی دھوپ۔!کورٹ کے لان کے ایک کونے میں دیاونتتی اور رام اوتار جوٹ کے تھیلے میں چند بوسیدہ کاغذ لیکر وکیل کے آنے کا انتظار کررہے ہیں۔ایک مزدور کورٹ کے صدر دروازے پر ایک عورت کے قدِآدم مجسمے کی نوکِ پلک سنوار رہا ہے ۔!اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔بائیں ہاتھ میں ایک ترازو ۔ترازو کا ایک پلڑا ایک طرف جھکا ہو اہے اوراس کے نیچے جلی حرفوں میں لکھا ہے۔

’’ stable it or abolish it. ‘‘

ان دونوں کی بغل میں ایک سنگتراش بیٹھا ہے۔ سامنے باغیچے کی طرف دیکھ کر وہ سوچ رہا ہے۔!!

کل موسم بدل جائے گا۔زیتون کی شاخوں پر کلیاں کھلیں گی۔جب ان کلیوں پر شبنم کی بارش ہوگی تب اس کی تراوٹ سے غنچہ پوش جو نازک پنکھڑیوں اور بقچہ مادہ کی حفاظت کرتا ہے پھیل جائیگا۔ پنکھڑیاں کھل جائیں گی۔ان کے رنگین اور خوشنما دامن کی گرفت میں بھنورے آئیں گے اور پھر بھنوروں کے پیروں سے زردانے لپٹ لپٹ کر زیرگی کے عمل کو انجام تک پہنچائیں گے اور پھر موسم بہارمیں نئی فصل لہلہا اٹھے گی۔ بادام کی شاخوں پر گھنگرو کی طرح پھل آئیگا۔اس نے دیاونتی سے پوچھا۔

’’ تم انصاف کے اس مندر میں کیوں آئی ہو۔؟‘‘

دیانتی نے اپنی آپ بیتی سنائی ۔ اسکی آپ بیتی سن کر سنگتراس اداس ہوگیا۔دن بھر وہ سوچتا رہا مالن مائی کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہواجسکو درندوں نے جی بھر کر لوٹا۔اسکا قصور صرف یہ تھا کہ اسکا بھائی گاؤں کی ایک لڑکی سے پریم کرتا تھا جسکی سزا گاؤں کی پنچائت نے اس لڑکی کو دیا۔چند ماہ پہلے ویروں کی بھومی میں منداکنی کے ساتھ تو اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوگیا۔!اس نے اپنے قبیلے سے باہر ایک لڑکے سے پریم کیا تھا۔قبیلہ اس کو برداشت نہیں کیا۔چند لونڈوں نے لڑکے اور لڑکی کو پکڑ کر تھان لے گے اورقبیلے کے سردار نے پچیس پچیس ہزار روپئے تاوان دینے کا حکم سنایا۔لڑکی کا باپ غربت کی وجہ سے اس رقم کو چکانے سے قاصر رہ گیا۔تب قبیلے نے حکم دیا کہ سب لوگ اسے لے جاؤ اور اس کے ساتھ مزے کرو۔!!

پہلے لڑکی کو درخت سے باندھا گیا۔پھر اسکو سڑک کے کنارے ایک چال پر ڈال کراعلان کردیا گیا کہ جسکو جو کرنا ہے وہ کرے۔!پھر کیا تھا نوجوانوں کی ٹولی نے اسکی عصمت کو بتاشے کی طرح کھاگئے۔ !اس دوران لڑکی چیخ وپکار کرتی رہی لیکن کوئی اسکی مدد کے لئے آگے نہیں آیا۔!!

تب تک سورج ڈوب گیا۔سنگتراس کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ۔گھر واپس آکرچاندنی رات کی باہوں میں وہ پہروں سوچتا رہا۔

ستارے اب بھی روشن ہیں۔!چاندنی اب بھی اپنا دامن پھیلائی ہے۔!!سرسوں کے کھیت میں پپیہے اب بھی راگ الاپ رہے ہیں لیکن مالن مائی اورمنداکنی کا وجود اس دھرتی کے لئے ایک بوجھ بن گیاہے۔!!!دامنی کی جھیل فاسد خون سے گندی ہوگئی ہے۔!اس میں بسیرا کرنے والی عصمت کی اپسرائیں منجمدہوکرپتھر بن گئی ہیں۔!! بلرام پور کی سانولی مٹی کے دیئے سے اجالے بانٹنے والی میناکھشی کی زندگی گھنگور تاریکیوں کے سمندر میں ڈوب گئی۔!!!وہ رات بھر پیچ و تاب کھاتا رہااور ذہن کے کورے کاغذ پر کہانی لکھتا رہا۔صبح اٹھکر سنگتراس نے اس کہانی کو اپنے فن کے سانچے میں ڈھالا۔!

ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کا مادرزادبرہنہ جسم۔!

بکھری زلفیں۔ !

جھکی نگاہیں۔!

گول گول چھاتیوں پر نوکیلے دانتوں کے نیلے نیلے داغ۔!!

دونوں رانوں پرسرخ سرخ لہوکے بہتے دھارے اور آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں کے قطرے۔!!!

اس نے اس قدِآدم مجسمے کو شہر کے رہگذر پر نصب کر کے اسکے نیچے جلی حرفوں میں لکھا۔

’’اگلے جنم موہے بیِٹیانہ کیئجو۔

سپوت

عالمی افسانہ میلہ 2021

افسانہ نمبر 58

سپوت

رضیہ کاظمی

نیو جرسی،امریکہ

مہ پارہ کو بی ایڈ کرتے ہی اپنے شہر سے تقریباًدوسو کلومیٹر دور مشرقی یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایل ٹی گریڈ کی نوکری مل گئی تھی۔

اس وقت تک لڑکیوں کے لئے محکمۂ تعلیم کی ملازمت معززسمجھی جانے لگی تھی ۔اس عرصہ میں والدین کو ان کے لئے مناسب رشتوں کی تلاش کا اچھا موقع بھی مل جایا کرتا تھا ۔مقامی اسکول کالجوں میں تقرری نہ ملنے پر اکثر تنگ نظر حضرات بھی اب اپنی بیٹیوں کو دوسرے اضلاع تک بھی بھیجنے لگے تھے۔اس صورت میں عام طور پر نسبتا” ایسے کالجوں کو ترجیح دی جاتی تھی جہاں ٹیچرس ہاسٹل ہوں ۔

مہ پارہ کے والداسے ہاسٹل میں ایک کمرہ دلاکر اسی دن اپنے شہر واپس چلے گئے۔ہاسٹل ایک احاطے کے اندردوسرے احاطے میں واقع تھااور کافی محفوظ تھا۔وہاں مردوں کے سکونت کی قطعا” اجازت نہیں تھی ۔ البتہ ایک ونگ میں کچھ ٹیچریں اپنے کم عمر بچوں کے ساتھ ضرور رہ رہی تھیں ۔اتنے بڑے ہاسٹل میں پانی کا کوئی معقول انتظام نہ تھا اورلے دے کے صرف ایک ہی نل تھا ۔اس کی وجہ سےپانی کی فراہمی میں بہت دشواری تھی ۔مجبوراسبھی نے کام والی ماسیاں مقرر کر لی تھیں۔یہ مہریاں جھاڑو بہارو کر تیں اور سودا سلف بھی لا دیا کرتی تھیں۔

مہ پارہ کو وہاں پہنچنے کے دوسرے ہی دن کچھ دوسری ٹیچروں کے یہاں کام کرنے والی ایک ادھیڑ عمر کی سیدھی سادی سی مہری مل گئی تھی ۔اس کا نام لالی تھا ۔مہ پارہ اسے صرف ایک وقت شام کوہی اپنی موجودگی میں بلاتی تھی ۔اس وقت اسے اپنے گھر کی یاد بہت ستاتی تھی اور وہ تنہا نہیں رہنا چاہتی تھی ۔لالی شام کوخود بھی ذرا جلدی ہی آنا پسند کرتی تھی تاکہ اسے اپنی ضرورت کا پانی باآسانی بغیر دوسری مہریوں سے ٹکرائے ہی حاصل ہوجائے۔

ہندوستان مختلف قوموں، مذہبوں ، تہذیبوں اور زبانوں کا ملک ہے۔ایک علاقہ کی بولی اکثر دوسرے علاقہ کے باشندوں کو مشکل ہی سے سمجھ میں آتی ہے۔ایک ہی صوبہ یو پی کو لیں تویہاں مرکزی اورمشرقی یوپی اورمسلم شرفاء اور نچلے ہندوطبقےکی بول چال میں نمایاں فرق ہے۔مہ پارہ کا تعلق مرکزی علاقہ کے خالص اردو داں مسلم طبقہ سے تھا اس لئےوہ لالی کی باتیں ذرامشکل سے ہی سمجھ پاتی تھی ۔کبھی کبھی لالی سارے کام نمٹانے کے بعد زمین پر آلتی پالتی مارکر بیٹھ جاتی اور اسےاپنی گھریلو داستانیں سناکر اپنا من ہلکا کر لیا کرتی تھی۔زبان و لہجہ میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود بھی روز روز انھیں باتوں کی تکرار سےاب تک مہ پارہ اتنا ضرور جان چکی تھی کہ اس کے شوہر کا نام جگو تھااور وہ ایک دیہاڑی مزدور تھا۔ہندوستان کے لاتعداد مزدور طبقہ کے مردوں کی طرح وہ اپنی ساری کمائی جوئے و شراب میں اڑا دیا کرتا تھا۔لالی کی کمائی پر ہی گر ہستی کا دارومدار تھا۔جیسا کہ عام طور پر اس طبقے میں رواج سا بن گیا ہے اکثر جب شراب کے لئے اس کے پاس پیسے نہ ہوتے تو وہ لالی سے چھینا جھپٹی کرتااوراکثر نا امیدی کی صورت میں اسے زدو کوب بھی کردیا کرتا۔گھر کے اس گھٹن زدہ ماحول سے بچنے کے لئے زیادہ تر لالی کافی رات تک اپنا وقت ہاسٹل ہی میں گزارتی تھی ۔باپ کی سنگت سے دور رکھنے کے لئے وہ اپنے بارہ سالہ بیٹےمونو کو بھی اپنے ساتھ یہیں رکھتی تھی۔ یہ دونوں اپنی کوٹھری میں صرف رات میں سونےکے لیے ہی جاتےتھے ۔بڑا بیٹا سونو جوان ہوتے ہی دوسال پہلےگھر سے کہیں دور بھاگ گیا تھا۔اب لالی اپنی دانست میں اس دوسرے بیٹے کو حتی ا لا مکان صاف ستھرا ماحول دینا چاہتی تھی ۔اب وہ پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ اس ہاساتل کی ٹیچر ممتا تیواری کے اکلوتے بیٹے سمیر کا ہم جماعت تھا۔ وہ اس سے تقریباً” ڈیڑھ دوسال چھوٹا اور بہت ہی شریف الطبع بچہ تھا۔ باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور ماں اور بزرگ نانی کے زیر تربیت تھا۔ پڑھائی میں بھی بہت اچھا تھا ۔مسز تیواری کی پوری توجہ اس کی تعلیم و تربیت پر تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ اکلوتا بیٹا بگڑ گیا تو نتیجہ صفر فی صد چلا جائے گا اور پھر وہ کہیں کی نہ رہ جائیں گی۔

مونو اسکول سے واپس آکر اپنا زیادہ تر وقت اسی کے ساتھ گزارتا تھا ۔ہوم ورک کرنے میں سمیر سے اچھی خاصی مدد مل جاتی تھی ۔اس کا رپورٹ کارڈ ہمیشہ مہ پارہ کو دکھاتی اور جب بھی وہ اچھے نمبر حاصل کرتا وہ خوشی سے پھولی نہ سماتی ۔ اسے پوری امید تھی کہ ان ٹیچرس کے بچوں کے ساتھ رہ کراس کا مونو بھی انھیں کی طرح پڑھ لکھ کر ایک دن کچھ نہ کچھ بن جائے گا۔وہ اسے بے انتہا پیار کرتی تھی ۔ہمیشہ اپنے منھ کا نوالہ کھلانے کو تیار رہتی تھی اور اپنی حیثیت سے کہیں بڑھ کر اس کے لباس پر خرچ کرتی تھی ۔بظاہر مونو کا رکھ رکھاؤ اور طور طریقہ بھی انھیں بچوں کی طرح تھا جن کے درمیان اس کا وقت گزر رہا تھا۔دیکھنے میں خاصا خوش شکل تھا۔بارہ سال کی عمر میں ہی اس نے ایسے ہاتھ پیر نکال لئے تھےکہ ہاسٹل کی انتظامیہ جلد ہی یہاں اس کے داخلے پر پابندی لگانے والی تھی۔

مہ پارہ کو لالی کی یہ عادت پسند تھی کہ اس نے آج تک تنگ دستی کے باوجود کبھی اس سے نہ تو پیشگی تنخواہ کی مانگ کی تھی اور نہ ہی کوئی بخشش طلب کی تھی۔آج جب وہ آئی تو خلاف عادت دس دن پہلے ہی اپنی تنخواہ سے کچھ رقم پیشگی مانگ رہی تھی ۔حسب ضرورت پیسے پاکر وہ باغ باغ ہو گئی ۔اس نے مہ پارہ کو ڈھیروں دعائیں دیں ۔جاتے جاتے اس نے کل کی چھٹی مانگتے ہوئے یہ بتایا کہ کل چھٹ کا تیوہار ہےاور اسے پورے دن مونو کی سلامتی کے لئے چھٹ کا برت رکھناہے ۔رقم اسی کے لئے درکار تھی۔

دوسرے دن شام چار بجے اسکول کی چھٹی کے بعد جب مہ پارہ ہاسٹل پہنچی تو اس نے آج بھی لالی کو حسب معمول اپنے کمرے سے باہر برآمدے میں اپنا منتظر پایا۔مہ پارہ نے اس کے چہرہ کی طرف نگاہ کی تو اس کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں ۔ چہرے پر جگہ جگہ لال کالے چوٹ کےنشانات تھے۔ مہ پارہ نے اسے جگو کی ہی حرکت جانا۔تفصیل پوچھنے پر لالی نے گرنے کا بہانہ بنادیا۔ مرہم پٹی کے لئے کمرے میں جاتے ہی اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا اور وہ پھپھک پھپھک کر رو پڑی ۔اپنی قسمت کو کوستے ہوئے اس نے آخرش سب سچ اگل دیا۔ یہ سب اس کے اپنے اسی لاڈلے کی مہربانی تھی جس کی طویل العمری اور سلامتی کے لئے وہ بیچاری آج سویرے سےاپنے اوپر کھانا پانی حرام کئے ہوئے تھی۔

“ اس نے ایسا کیوں کیا؟”مہ پارہ نے تعجب سے پوچھا۔

“ کچھ نہیں بہن جی ۔بہت بچاوا پر ایکالچھن بھی بگڑ گوا۔”

“ضرور آج تم نےاپنے ساتھ سارا دن اسے بھی بھوکا مارا ہوگا ۔”

“نہیں بہن جی ہم تو دوپہر ما اوکا بھر پیٹ کھلاوا رہا۔”

“ پھر ؟”مہ پارہ کا تجسس بڑھا۔

مہ پارہ کی ہمدردی پاکر اس نے گلو گیر آواز میں جو اپنی داستان سنائی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کئی دنوں سے وہ سمیر کے پیروں میں کسی خاص برینڈ کے جوتے دیکھ کر للچا رہا تھامگر لالی کی جیب خالی تھی ۔آج لالی نے جب اسے بازار سے برت کا سامان لانے کے لئے پیسے دئے تو ان ضروری اشیا کے بجائے وہ اسی رقم سے اپنے من پسندجوتے خرید لایا۔اس کے کے بعد جو صورت حال سامنے تھی وہ اسی لاڈلے کی ہاتھا پائی کا نتیجہ تھی ۔ مہ پارہ کو ایک محاورہ یاد آگیا-

“باپ پر پوت پتا پر گھوڑا بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا” ۔

دل نے کہا۔

“ آخر جراف (giraffe )کی گردن تو لمبی ہوگئی تھی نا ؟

دفعتا” خیال آیا ۔

“ مگر نہ جانے کتنی نسلیں گزرنے کے بعد ہی۔”

مہ پارہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دو بوندیں رخساروں پر لڑھک آئیں۔

اس کے منھ سے اچانک نکلا

“ بے چاری ماں”

دلی پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر 57

دلی پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

اقبال حسن خان

اسلام آباد پاکستان

سب اُنہیں دادا کہتے تھے تو میں بھی کہنے لگا حالانکہ میری اور اُن کی عمریں ایسی نہیں تھیں کہ میں اس رشتے سے پکارتا۔

صحت بہت اچھی تھی اور شاید اس کی ایک وجہ صبح کی سیر بھی رہی ہوگی کیونکہ میری اور اُن کی دوستی کا یہی سبب بنا تھا۔ چار

بیٹے تھے، جن میں سے تین باہر کے ملکوں میں تھے اور خاصے خوشحال۔چوتھا اور سب سے چھوٹا شکیل تھا جو اُن کے ساتھ رہتا تھا۔

میں نے ایک دن کہیں کہہ دیا کہ آپ جس بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں، وہ سب سے چھوٹا ہے نا۔ ارے صاحب وہ تو ہتھے سے اُکھڑ گئے ۔ بولے،، کیا مطلب میں

اپنے بیٹے کے ساتھ رہتا ہوں؟ وہ میرے ساتھ رہتا ہے،،۔ میں نے شرمندہ ہو کر وضاحت کرنے کی کوشش کی ،، وہ دادا۔اصل میں۔۔۔۔،، اُنہوں نے میری بات

کاٹ دی اور اس دفعہ مسکرا کر بولے ،یار عجب دستور ہے دنیا کا۔ اولاد چھوٹی ہوتی ہے تو والدین کے ساتھ رہتی ہے اور جب جوان ہو جاتی ہے تو

والدین اس کے ساتھ رہنے لگتے ہیں، مگر خیر—ہاں تو میں پوچھ رہا تھا کہ لاہور سے اگر سڑک کے رستے سے جائیں تو دلی کتنی دیر میں پہنچ

جائیں گے؟

یہ تذکرہ ہمارے درمیان کوئی تین برس سے ہوتا تھا۔میں جب گھر سے نکل کر اُن کے گھر تک پہنچتا تو پہلے ہی سے ہاتھ میں چھڑی لیے مختصر سے لان

میں کھڑے ملتے۔دعا سلام کے بعد ہم خاموشی سے چلنے لگتے۔کبھی کبھی تو اُس باغ تک خاموشی رہتی جو ہمارے گھروں سے کوئی ڈیڑھ دو کلومیٹر دُور تھا اور

جس میں ہم ہر صبح سیر کرتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیتے تھے۔

تھک کر ہم دونوں گھروں کو روانگی سے پہلے پتھر کی بنچ پر دس پندہ منٹ ضرور بیٹھتے اور یہی وہ وقت ہوتا جب وہ دلی اور لاہور

کے درمیان کار سے جانے کے وقت کا تعین کرنے کی کوشش کرتے۔۔

،،دیکھو میاں ہمارے گھر سے واہگہ تک ایک گھنٹہ سمجھ لو۔لاہور سے دلی کوئی آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔پچھلے سال میرے چچا زاد کا منجھلا لڑکا چھمن آیا تھا

تو یہی بتا رہا تھا۔ یعنی اگر ہم صبح پانچ بجے نکلیں تو چار بجے تک دلی پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارے گاؤں پہلے دلی سے کوئی تین گھنٹے دُور تھا مگر سنا ہے اب سالوں نے

اچھی سڑک بنا دی ہے تو گھنٹے گھر کا رستہ رہ گیا ہے۔ مطلب صبح کا ناشتہ لاہور میں اور شام کی چائے دلی میں۔ ایسا ہی ہے نا؟

شاید ایسا ہی ہو سکتا تھا مگر اس میں بڑی قباحتیں تھیں۔اول تو ویزے کا مسئلہ تھا اور دوسرے یہ کوئی یورپی یونین کے ملک تو تھے نہیں اور نہ ہی کینیڈا اور امریکہ

والا معاملہ تھا کہ کار لی اور پھٹ سے ہندوستان سے پاکستان یا وہاں سے یہاں آئے اور گئے۔میں نے دبی زبان میں کتنی ہی مرتبہ اُنہیں یہ بتانے کی کوشش کی مگر وہ

یہ کہہ کر ناراضی کا اظہار کرتے تھے کہ اس موضوع پر بات کرنے میں کیا ہرج ہے اور کیا بعید کبھی سالے لڑنا وڑنا چھوڑ کے اس پر آمادہ ہی ہو جائیں؟

میں کہتا دادا میں جانتا ہوں اپنی جنم بھومی کو انسان کبھی نہیں بھولتا اور آپ کو اپنا وہ گاؤں یاد آنے لگا ہے جس سے آپ نوجوانی میں جدا ہو گئے تھے۔ کار وار تو بھول جائیے، ریل سے چلے جائیے

یا پھرجہاز سے۔ ویزے کا ذمہ میں لیتا ہوں۔میری چچا زاد وہاں آج کل کسی عہدے پر ہیں۔سفارتخانے والے دو منٹ میں ہندوستانی محکمے سے ویزہ لگوا سکتے ہیں۔،،

ایک مرتبہ جب یہ بات میں نے چوتھی مرتبہ کہی تو چند لمحوں تک اثبات میں سر ہلاتے رہے پھر طویل سانس لے کے بولے،،

ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے مگر یار میں جب بھی ہندوستان جاؤں گا، کار ہی میں جاؤں گا،،

شاید میرے چہرے پر ناگواری کے تاثرات دیکھے تو مسکرا کر بولے۔

میں اٹھارہ برس کا تھا جب پاکستان بنا۔میٹرک میں تھا۔وہاں ہندو لڑکے کہتے تھے ابے اب پاکستان بن گیا ہے تو تم یہاں کیا کر رہے ہو۔

جاتے کیوں نہیں؟ ابا نے ہندوستان کے لیے اوپٹ کیا تھا تو وہ بھی دفتر میں ایسی باتیں سنتے تھے۔دو بھائی مجھ سے چھوٹے تھے۔بہن ہمارے کوئی

تھی نہیں۔طے ہوا کہ پہلے مجھے پاکستان بھجوایا جائے تاکہ میں حالات دیکھ سکوں۔یہاں ہماری ایک پھپھو رہتی تھیں۔اُن کے میاں ریلوے میں انجینئر تھے اور وہ لوگ

پاکستان بننے سے کوئی چار سال پہلے ہی سے یہاں تھے۔خیر میں آ گیا مگر پھپھو نے مجھ سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔مانو اُنہیں مفت کا نوکر مل گیا تھا۔مجھے یہ دیکھ کر

بڑی تکلیف ہوئی۔ خیر، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے ریلوے میں کلرکی مل گئی۔ اُس وقت تک انگریز یہاں دفتروں میں کام کرتے تھے۔ ایک گورا مجھ پہ مہربان ہو

گیا اور دو سال میں ہی میری ترقی بھی ہو گئی۔میں الگ مکان لے کر رہنے لگا۔ اُدھر جب ابا نے پاکستان کا قصد کیا تو ہمارے ساتوں ماموں اڑ گئے کہ ہم تو اپنی بہن

کو نہیں جانے دیں گے۔دو ایک سال یہ جھگڑا چلا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ابا نے آنے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔

یوں سمجھو کہ میں تن تنہا پاکستان میں تھا اور کنبہ ہندوستان میں۔اس دوران والدین دو ایک مرتبہ ملنے آئے۔لگتا تھا کہ وہ ہنگامہ خیزی کے واقعات سے نکل

گئے تھے اور وہاں مطمئن تھے۔تیس برس کی عمر میں اماں نے ہندوستان سے ہی اپنے عزیزوں میں سے ایک لڑکی لا کر میری شادی کر دی۔میں قطعا نہیں

چاہتا تھا۔میں نے صاف انکار کر دیا مگر اماں بولیں،،۔

نیک بخت رضو کے انتقال کو تو نو برس ہو گئے۔ہم نے تجھ سے چھپایا تھا کہ تُو پردیس میں اکیلا ہے تکلیف ہوگی۔بس میرا بچہ اب منع مت کر۔رشیدہ بڑی اچھی

لڑکی ہے۔تُو خوش رہے گا اس کے ساتھ،،۔

دادا پھر اُفق کو تکنے لگے۔میں نے بے چینی سے پوچھا۔

،،دادا کون تھیں یہ رضو؟

طویل سانس لے کر بولے۔

،،ارے یار وہی تو ہمارا سب کچھ تھیں۔جس صبح میں پاکستان آ رہا تھا، چھتوں چھتوں ہوتی ہمارے چھت پہ آخری دفعہ ملنے آئی تھیں اور دو چوڑیاں اُتار کر مجھے

دیتے ہوئے بولی تھیں،،۔

،،جاؤ اللہ کی امان میں دیا۔اور دیکھوں جب بارات لے کر آؤ تو گھوڑے پہ مت آنا۔کار میں آنا۔بس یہ میری خواہش ہے،،۔

میں نے ہنس کر کیا،،۔ تو اس لیے آپ کار میں دلی جانا چاہتے ہیں؟ مگر وہ تو اب نہیں رہیں،،۔

طویل سانس لے کر بولے،،۔ ہاں نہیں رہیں۔ٹی بی ہو گئی تھیں اُنہیں۔میں نے بعد میں سنا کہ اُن کے گھر والے اُن کے مرنے سے

خوش تھے کیونکہ اُنہوں نے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اُن کا اور میرا قصہ صرف اماں کے علم میں تھا اور وہ بھی میں نے

پاکستان روانگی سے دو دن پہلے بتایا تھا۔خیر میاں، جائیں تو جب بھی کار پہ ہی جائیں گے۔اُن کے گھر نہ سہی، اُن کی قبر پہ سہی،،۔

مجھے اس محبت کرنے والے بوڑھے پہ بڑا پیار آیا۔میں نے اُسی رات اپنی چچا زاد کو دلی فون کیا اور پورا قصہ سنا کر

دادا کی خواہش پوری کرنے کی راہ ڈھونڈے کو کہا۔پہلے تو وہ ہنسیں پھر کہنے لگیں۔

،،کوئی مسئلہ نہیں ۔ میں اپنا چچا کہہ کر ویزہ لے دوں گی۔لاہور سے تو مشکل ہے لیکن واہگہ سے دلی تک بلکہ اُن کے گاؤں

تک کار میں پہنچانا میرا ذمہ،،۔

میں نے اگلی صبح یہ خبر دادا کو دی تو مانو بس نہیں چلتا تھا کہ مجھے سر عام گلے لگا لگا کر ادھ موا کر دیتے۔

اب لاہور اور دلی کے درمیان کے فاصلے پر وہ پہلے سے زیادہ گرم جوشی سے گفتگو کررہے تھے۔

،،یار بچی سے پوچھ لیتے کہ واہگہ سے دلی تک کتنی دیر لگتی ہے؟خیر آٹھ ہی گھنٹے لگتے ہوں گے۔تو بھئ کب چلنا ہے اسلام آباد؟

میں رات دیر تک دادا کے بارے میں سوچتا رہا۔ایک مکمل گھریلو اور ذمہ دار باپ اور شوہر ہونے کے باوجود ، اڑسٹھ برس کرنے کے باوجود

وہ کسی ایسی رضو کی محبت کا دیا دل میں ابھی تک جلائے ہوئے تھے جو چھتوں چھتوں ہوتی اُن سے ملنے آتی تھیں اور جنہوں اپنی بارات

کار میں لانے کو کہا تھااور جو اب دنیا میں نہیں تھیں تو دادا اُن کی خواہش کے احترام میں اُن کی قبر پر سہی، کار میں حاضری دینا چاہتے تھے۔

میں انہی خیالوں میں سو گیا۔

صبح حسب معمول اُن کے گھر کا رخ کیا۔اُن کے گھر کے سامنے چند لوگ جمع تھے۔ایک امبولنس بھی کھڑی تھی۔میں تیزی سے قریب پہنچا۔وہ دادا کی میت

امبولنس سے اُتار کر گھر میں لے جا رہے تھے۔اُن کا چھوٹا بیٹا مجھے جانتا تھا۔قریب آیا اور میرے گلے لگ کر رونے لگا،،۔ڈیڑھ بجے ابا کی طبیعت خراب

ہوئی، ہم فورا ہی ہسپتال لے گئے مگر وہ بچے نہیں،،۔میں نے لڑکے کو رسمی تسلی دی اور جنازے کا وقت پوچھا۔مجھ سے وہاں رکا نہیں گیا اور

میں باغ میں چلا گیا۔معمول کی سیر کی اور جب پتھر کی بنچ پر بیٹھا تو لگا دادا میرے برابر ہی میں بیٹھے کہہ رہے ہوں،،

دیکھو یار واہگہ سے اگر نو بجے بھی نکلیں تو دلی زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے۔۔

ملکیت

عالمی افسانہ میلہ 2021″
تیسری نشست”
افسانہ نمبر “56”
“ملکیت”
افسانہ نگار.عامر انور(کراچی،پاکستان)

سعد ایک اچھا اور فرمانبردار بیٹا ہے۔ پہلی اولاد کی جو خوشی اور مسرت ہوتی ہے یہ ہر ماں باپ جانتے ہیں۔ میں ان لمحوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا جب ہسپتال میں میری والدہ نے اسے میری گود میں لاکر دیا تھا۔ بس اسی لمحے میرے اندر یہ احساس جاگا کہ یہ میری ملکیت ہے اور اب میں نے اس کی زندگی کے فیصلے کرنے ہیں۔

اور یہ احساس پھر میری زندگی میں سانس اور خون کی روانی کی طرح شامل ہوگیا۔ یہ احساس اس وقت اور شدت اختیار کرگیا جب سعد کے بعد اللہ نے مجھے دو بےحد پیاری شہزادیاں عطا کی۔

ویسے تو میں کبھی بچیوں کی تعلیم سے بھی غافل نہیں ہوا تھا لیکن سعد کے لیے میں ضرورت سے زیادہ حساس تھا۔ اس کے سونے ، جاگنے کے اوقات ، اس نے کیا پہننا ہے، کب بال کٹوانے ہیں ، ہفتہ بھر میں پاؤں اور ہاتھ کے ناخن کاٹنا۔۔۔۔۔ کھانے میں کیا کھانا ہے کیا نہیں کھانا ۔۔۔ الغرض میٹرک کے رزلٹ تک اس نے ایک روبوٹ کی طرح زندگی گزاری۔۔۔۔ امتحانات میں شاندار کامیابی کو میں نے اپنی تربیت کا انعام سمجھا۔

اس نے بڑی تیزی سے قد نکالا تھا۔ کالج جاتے جاتے قریباً چھ فٹ کے قریب قد ہوچکا تھا۔ کالج کے آزاد ماحول کی وجہ سے میں نے اس کی اور کڑی نگرانی شروع کردی۔ اس کی ماں کبھی کبھی مجھے ٹوک بھی دیتی کہ اب جوان ہورہا ہے۔ بےجا سختی سے کہیں اس کے اندر بغاوت نہ پیدا ہوجائے۔۔۔۔ میں نے اس بات پر بیگم کو سختی سے روک دیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کریں۔ سعد کی کامیابیوں میں میری سختی اور نظم و ضبط کا بڑا ہاتھ ہے۔ اب کالج میں آکر بچوں پر نئی نئی جوانی آتی ہے تو ضروری ہے کہ میں ذرا زیادہ نظر رکھوں۔ آج کی سختی آگے اس کے کام آئے گی۔

میں اس فلسفے کو کوئی الہامی نظریہ سمجھ کر اس پر بھر پور عمل کررہا تھا۔ سعد کوئی بھی کام کرتا تو میں اس سے پوچھتا اور اگر محسوس ہوتا کہ یہ اس کے لیے بہتر نہیں تو اسے سختی سے روک دیتا۔ وہ اس البیلی عمر میں ہی سنجیدہ مزاج ہو گیا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ مسکرائے لیکن زندگی اس طرح گزارے جس طرح میں اس کے لیے ڈیزائن کررہا ہوں۔

سعد جب بارہویں جماعت میں تھا تو دفتر جاتے ہوئے میرا روڈ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ ایک تیز رفتار سوزوکی نے میری موٹر سائیکل کو اس زور سے ٹکر ماری کہ میں اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور گر پڑا۔ میری بائیں ٹانگ فٹ پاتھ سے ٹکرائی اور فریکچر ہوگئی۔

یہ حادثہ ایسا تھا کہ جس کے بارے میں شاید کوئی بھی انسان نہیں سوچتا کہ کبھی ایسا ہوا تو کیا ہوگا۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ بیٹیاں پڑھائی اور بیگم مکمل طور پر گھر داری میں مصروف رہتیں۔ جب کہ سعد بھی ایک طےشدہ پروگرام کے مطابق زندگی گزارتا۔ یہ سب میرے اس قدر عادی ہوچکے تھے کہ باہر کا کوئی بھی کام میرے بغیر کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ سعد چونکہ کالج جانے لگا تھا تو تھوڑا بہت وہ باہر کے معاملات کو دیکھ سکتا تھا۔ مجھے دو ماہ کے لیے مکمل آرام کا کہا گیا۔۔۔۔

یہ میرے لیے بڑا اذیت ناک وقت تھا کیونکہ میں ایک چاق و چوبند اور چست انسان تھا تو یہ بیڈ ریسٹ میرے لیے کسی سزا سے کم نہ تھا۔ بہرحال ان مشکل لمحات میں سعد نے ذمہ داری کو محسوس کیا۔ سب سے زیادہ حیرت مجھے تب ہوئی جب وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال چیک اپ کے لیے لے جاتا۔ اس نے کب گاڑی چلانا سیکھی یہ بات میرے لیے باعث حیرت رہی۔ عام حالات ہوتے تو شاید میں اسے بہت ڈانٹتا لیکن اس وقت اس کی یہ مہارت ہمارے گھر کے لیے بہت کام آرہی تھی۔ بہنوں کو اسکول چھوڑنا ، لانا۔ بازار سے سودا سلف لینا۔۔۔۔ اپنی ماں کو بازار لے جانا۔ ضرورت کے وقت مجھے دفتر لے جانا۔۔۔۔

وہ عمدگی سے گاڑی چلاتا لیکن ایک بات میں محسوس کررہا تھا کہ وہ ریس کو غیر معمولی طور پر دباتا تھا جس سے گاڑی کے آر پی ایم اوپر چلے جاتے تھے۔ ہماری گاڑی آٹومیٹک اور پندرہ سو سی سی تھی تو مجھے سخت کوفت ہوتی جب ریس دبانے سے آر پی ایم اوپر جاتے اور انجن غیر معمولی شور کرتا۔ ابتدا میں ، میں نے سعد کو پیار سے سمجھایا لیکن جلد مجھے احساس ہوا کہ وہ غیر ارادی طور پر ریس کو دباتا ہے۔ شاید اسے خود یہ بات محسوس نہیں ہوتی تھی۔

مجھے تو ہر کام میں سعد کو روکنے کی اس قدر عادت تھی کہ اگر وہ میری بات پر عمل نہیں کرتا تھا تو میں جھنجلا جاتا۔ اب تک وہ میری شخصیت کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا تھا۔ لیکن میں اس زعم میں ہی تھا کہ یہ سب اس کے بہتر مستقبل کے لیے اچھا ہے۔

میرے باوجود کئی دفع منع کرنے کے وہ ریس دبانے کی عادت ترک نہ کرسکا اور میں حیران ہوتا کہ اتنی معمولی سے بات اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔ دو ماہ بڑی اذیت سے گزرے ۔ اللہ اللہ کرکے میرا پلاسٹر کھلا۔ خدا کا شکر ہوا کہ ہڈی اپنی جگہ پر صحیح بیٹھ گئی تھی۔ میں نے ڈاکٹرس کی ہدایت کے مطابق اسٹک کی مدد سے چلنا شروع کردیا تاکہ پیر پر زیادہ زور نہ پڑے۔ اب میں نے دفتر جانا شروع کردیا تھا۔ سعد مجھے گاڑی میں دفتر چھوڑ آتا اور واپسی پر اکثر میرے دفتر کے ساتھی مجھے گھر اتار جاتے۔۔۔۔۔

ایک دن رات کے وقت میری آنکھ کھلی تو سعد کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ گھڑی دیکھی تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ مجھے شدید غصہ آیا کہ اتنی رات کو سعد کیوں جاگ رہا ہے۔ میں نے پلنگ کے ساتھ رکھی اپنی اسٹک کو اٹھایا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سعد کے کمرے کی طرف چل دیا۔ اندر دیکھا تو سعد اپنی پڑھنے والی مخصوص میز کرسی پر ڈائری کے اوپر سر رکھ کر سورہا ہے۔

مجھے اس کا سوتا چہرہ دیکھ کر اس کی معصومیت پر بہت پیار آیا۔ میں نے نہایت آہستگی سے اس کے سر کے نیچے سے ڈائری نکالی۔ وہ بدستور گہری نیند میں تھا۔ میں نے ڈائری میں دیکھا تو ایک نامکمل تحریر اس میں درج تھی۔ شاید لکھتے ہوئے ہی وہ سو گیا تھا۔ میں نے اس نامکمل تحریر کو پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔ سعد نے لکھا تھا کہ

” اللہ کا شکر ہے کہ میرے ابو اب بہت بہتر ہوچکے ہیں۔ میری دعا ہے کہ دوبارہ ایسا کبھی نہ ہو۔ وہ بہت تکلیف میں رہے۔ ان کی تکلیف تو بہتر ہوتی جارہی تھی۔ لیکن ان کے مسلسل گھر رہنے کی وجہ سے میری آزادی مکمل سلب ہوکے رہ گئی تھی۔ آج تک وہ ہمیشہ مجھے دباتے چلے آئے ہیں۔ یہ کرو، وہ نہ کرو۔۔۔۔۔ یہ اچھا ہے، یہ اچھا نہیں ہے۔ یہ سن سن کر میرے کان پک چکے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ میرے مستقبل کے لیے بہتر ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ میری اپنی شخصیت ان کے حکموں پر چل چل کر ختم ہوچکی ہے۔ ان دس گھنٹوں میں جو وہ آفس میں گزارتے تھے مجھے بہت عزیز تھے لیکن ان کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اب وہ وقت بھی۔۔۔۔۔۔۔ “

اگر چہ تحریر نامکمل تھی لیکن آگے کی بات میں بنا پڑھے ہی سمجھ سکتا تھا۔ میں نے وہ ڈائری دوبارہ آرام کے ساتھ اس کا سر اٹھا کر اس کے نیچے رکھ دی۔۔۔۔ میں چند لمحے کھڑا رہا اور پھر پیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور بڑی محبت سے اسے آواز دی کہ سعد بیٹا۔ اٹھو بستر پر جاکر سوجاؤ۔۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا اس نے جلدی سے ڈائری کو بند کردیا۔ میں نے بھی ایسا رویہ رکھا کہ اسے محسوس ہو کہ میں نے کچھ نہیں پڑھا۔۔۔۔۔

بارہویں امتحانات کے پرچوں میں سعد نے نمایاں ترین کامیابی حاصل کی۔ اب وہ میڈیکل یونیورسٹی میں جاتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے کیونکہ میں نے صاف صاف کہ دیا تھا کہ اب تم بڑے ہوگئے ہو۔ اپنی ذمہ داری خود اٹھاؤ۔۔۔۔۔ یہ بات سن کر اس کے چہرے پر خوشگوار حیرت امڈ آئی۔ اب اس کے چہرے پر ایک پروقار متانت بھری مسکراہٹ رہتی ہے جو اس کے چہرے پر بہت بھلی لگتی ہے۔۔۔۔

اور ہاں یاد آیا کہ اب سعد گاڑی چلاتے وقت ریس کو زور سے نہیں دباتا۔۔۔۔۔ حالانکہ میں نے تو اسے ٹوکنا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔۔

منت کی دیگ

عالمی افسانہ میلہ 2021
تیسری نشست
افسانہ نمبر 55
منت کی دیگ
رخشندہ بیگ
کراچی ۔پاکستان ۔
”بھورے ،نذیر ، راجی اور باقی سارے کہاں رہ گٸے ہو “؟
عبدالکریم کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی ۔ گھر کے تینوں کمروں میں ہر عمر کی عورتیں ، لڑکیاں اور بچیاں بلاامتیاز بھری ہوئی تھیں ۔
نواڑی پلنگوں پر عمر رسیدہ عورتیں جو رتبے میں دادی نانی ، تاٸی ،چچی ،ممانی اور پھپھی جیسے عہدوں پر فائز تھیں ,براجمان تھیں ۔کچھ شادی شدہ نوجوان عورتیں میسر آٸے مونڈھوں پر بیٹھیں تھیں ,جن میں سے کچھ اپنا پیٹ سنبھال رہی تھیں ,تو کچھ شیر خوار کو چھاتی سے لگائے اور دوسرے کو گھٹنے پر ٹکائے مامتا لٹانے میں مصروف تھیں ۔لڑکیاں بالیاں نیچے کھیس نما دری پر بیٹھی ایک دوسرے کے کانوں میں گھسی سرگوشیوں میں مصروف نظر آتی تھیں ۔
بڑا سارا صحن رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجا تھا ایک طرف اگربتیاں سلگ رہی تھیں جو ختم ہونے پر دوبارہ لگا دی جاتی تھیں ۔
صحن میں موجود عبدالکریم کلف لگی پگڑی اور سفید کرتا دھوتی میں ملبوس بڑی شان سے مونچھوں کو تاؤ دیتے موجود تھے ۔
پیر پیراں بڑی سرکار کی آمد کا وقت ہوا ہی چاہتا تھا ,”ارے ناہنجاروں کوئی بڑی سڑک تک بھی گیا ہے یا نہیں !!! ؟ بڑے سرکار کی آمد تمام خاندان برادری کے لئے باعث خیر و برکت ہے ,بڑی عزت دی ہے پاک پروردگار نے جو اونچی سرکار ہم کم ذاتوں کے گھر خاندان کو دعائے خیر دینے اور منت کی دیگ کو ہاتھ لگانے آتے ہیں “
”جی ابا جی آپ فکر ہی نہ کریں میں نے کوئی گھنٹہ بھر پہلے سے لڑکوں کو دوڑایا ہوا ہے , بڑی سرکار کی عزت و تکریم میں کوئی کمی نہیں آئے گی جی“۔
”ہوں “ عبدالکریم نے ایک ہنکارا بھرا۔
کمروں میں بیٹھی خواتین میں ایک ہلچل سی پیدا ہوئی ساری آوازیں جو عبدالکریم کی دھاڑ سے ایک چپ میں بدل چکی تھیں آہستہ آہستہ دوبارہ سے بیدار ہونے لگیں ۔
فاطمہ بھی ایک جانب چپ چاپ سر گھٹنوں پر ٹکائے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی ۔وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی یہ سب چیزیں اس کی سمجھ سے باہر تھیں , جب اللہ تبارک و تعالی نے خود فرما دیا ”بندے جو مانگنا ہے مجھ سے مانگ میں تیری شہہ رگ سے بھی قریب ہوں “
تو پھر اپنی مرادوں کے لئے پیروں ، فقیروں، منتوں ، تعویذوں پر اعتقاد کرنا یہ سب اسے کبھی بھی قبول نہ ہوا تھا ۔کچھ اس کی تربیت بھی ایسی ہی ہوئی تھی ,ماں باپ کو ہمیشہ ہر مسئلے ہر پریشانی کے لئے سوھنے پروردگار سے ہی مانگتے دیکھا تھا ,اور اس بہت مہربان پروردگار نے کبھی اپنے در سے مایوس نہیں لوٹایا تھا ۔
اب شادی کے بعد سے ہی اسے ان تمام چیزوں کا شدت سے سامنا تھا اس کی سسرال والوں نے اس طرح کے عقائد دل و جان سے اپنائے ہوئے تھے اور اس سب کے آگے اس کی ہر دلیل ہر بحث بیکار ہی گئی تھی ۔
اللہ کی رضا تھی کہ اس کی شادی شدہ زندگی کو دوسرا سال لگ چکا تھا اور وہ ابھی تک کوئی خوشخبری بھی نہ سنا سکی تھی ۔
آج اس کا یہاں موجود ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جو اس کی ساس نے گزشتہ کچھ ماہ سے شروع کر رکھا تھا ,ہر بتائے گئے ٹوٹکے سے لے کر نا جانے کہاں کہاں سے دم والا پانی ,دم والا گڑ ,اور دم والے دھاگے اس کے لٸے لاٸے جا رہے تھے ۔
گزشتہ دن بھی اس کی ساس کریماں اور شوہر جنید سے اس بات کو لے کر کافی بحث ہوئی تھی جس پر اسے بے دید ، نامراد اور آخر میں کریماں نے گا ل پیٹتے ہوئے کافر ہونے کا فتویٰ تک صادر کر دیا تھا ,اور اسے مجبوراً خاموش ہونا پڑا ۔۔۔۔اور آج وہ سب کے ساتھ تایا عبدالکریم کے گھر ”منت کی دیگ“ گھمائی کی تقریب میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والوں میں شامل تھی ۔
عورتوں میں چھڑی بحث جو کب سے جاری تھی کبھی ہلکی ہوجاتی اور کبھی تیز ,ہر عورت یہی چاہتی تھی کہ اس سال منت کی دیگ گھمائی اس کے حصے میں آئے ۔
اسی لیے تمام عورتیں خود کو زیادہ ضرورت مند ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھیں ۔
بڑی دیر کی کشمکش کے بعد فاطمہ کی ساس کریماں اور پھپھی شاکراں ہی میدان میں بچی تھیں ,باقی ساری خواتین ان دونوں کے حق میں دستبردار ہو کے دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھیں ۔
اب آخری کانٹے کا مقابلہ پھپھی شاکراں اور فاطمہ کی ساس کے درمیان تھا ۔۔۔۔جو فاتح ٹہرتا آج اس کے بھاگ جاگ جانے تھے ۔
دونوں ہی پوری شدومد سے ایک دوسرے کو جھٹلانے اور اپنی حمایتی خواتین کی مدد سے خود کو حقدار ثابت کرنے کی پوری کوشش میں مصروف تھیں ۔
اچانک ہی پیر صاحب کی آمد کا غلغلہ اٹھا اور تمام خواتین ہر دستیاب کھڑکی ,دروازہ , جھری سے باہر کی جانب پر شوق نگاہوں سے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔جنہیں کوئی بھی آڑ میسر نہ آ سکی وہ پورا زور لگا کر آگے والیوں کو پیچھے کھینچنے کی تگ و دو میں لگی تھیں اور کامیابی حاصل کرنے والی کسی طور اپنی جگہ چھوڑنے پر تیار نظر نہ آتی تھیں ۔اتنے میں ڈھول کی تھاپ اور گلاب کی پتیوں کی بارش میں اعلی حضرت بڑی سرکار بڑی شان سے اپنے آٹھ دس مصاحب کے ساتھ قدم رنجہ فرما چکے تھے ۔
اس کے ساتھ ہی پورا صحن ہر عمر کے مرد حضرات سے بھر چکا تھا ۔پیر صاحب کو صحن کے بیچوں بیچ ایک تخت پر جو خوبصورت سرخ مخملی تخت پوش سے ڈھکا ہوا تھا اور خوبصورت مخملیں تکیوں سے مزین تھا بٹھا دیا گیا ۔
باقی تمام عقیدت مند چاروں جانب رکھی چارپائیوں پر عقیدت و احترام سے نظر جھکائے بیٹھ چکے تھے ۔لڑکے بالے دیواروں سے لگے کھڑے تھے اور کچھ چھت کی طرف جاتی سیڑھیوں پر جگہ بنا چکے تھے ۔
ایک واحد ,عبدالکریم کو پیر صاحب کے تخت پر جگہ ملی تھی , جہاں پیر کرامت شاہ پھولوں کے ہاروں سے لدے نیم دراز تھے ۔
قدم بوسی کا سلسلہ شروع ہوا , تمام حضرات باری باری اٹھ کر جاتے پیر صاحب کا ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے اور نظرانے کی رقم دبے ہاتھ سے پیر صاحب کے ہاتھ میں منتقل کرتے الٹے قدم پیچھے ہٹ جاتے ۔
تخت کے ارد گرد بیٹھے مصاحبوں میں سے کوئی تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک نعرہ مستانہ بلند کرتا اور وجد کی کیفیت میں اٹھ کر ایک گول چکر کاٹ کر پھر زمین بوس ہو جاتا ۔ایسے میں ایک اور ہلچل پیدا ہوئی اور لڑکے اٹھ کر باہر کی جانب بڑھے ”منت کی دیگ “آ چکی تھی ۔
عام دیگ سے دوگنا بڑی دیگ جو کہ اوپر سے گوٹا کناری والے سرخ پوش سے ڈھکی ہوئی
جانب بڑھے ”منت کی دیگ “آ چکی تھی اس سرخ پوش کے اوپر جگہ جگہ گھنگھرو بھی ٹنکے ہوٸے تھے ,اوپری گہرائی کو گلاب کے پھول کی پتیوں سے بھرا گیا تھا ۔ چار پانچ لڑکے اس دیگ کو بڑے احترام سے پکڑے صحن کے عین درمیان پیر سرکار کے سامنے کے خالی حصے میں رکھ کے سر جھکائے بڑے احترام سے الٹے قدموں پیچھے ہٹ چکے تھے ۔
خواتین کی طرف بھی ہلچل اپنے عروج پر تھی دیگ کی رونمائی کے لیے خواتین ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑ رہی تھیں ,اس منت کی دیگ کی تعریف و توصیف اس طرح کی جا رہی تھی جو کہ شاید ہی کسی دلہن کو بھی نصیب نہ ہوئی ہو گی ۔
پیر سرکار نے ایک مصاحب کو اشارہ کیا تو ایک لمبی سفید ریشمی ڈوری جو خوب چوڑی بُنی گئی تھی اوراس میں جگہ جگہ موتی جھولتے تھے نہ جانے کہاں سے برآمد کی اور پیر صاحب کے سامنے رکھ دی ,پیر صاحب خاموشی سے آنکھیں بند کئے کسی وظیفے میں مگن ہوگئے جس کے اختتام پر اس ریشمی ڈوری پر پھونکیں ماری گٸیں اور پھر یہ ریشمی ڈوری عبدالکریم کے حوالے کر دی گئی ۔
عبدالکریم نے بڑے اعزاز اور احترام سے ریشم کی ڈوری کو ایک چاندی کے تھال میں رکھ کے تھال سر پر رکھا اور اسے اٹھا کر دیگ کے گرد تین چکر لگائے ,اس کے بعد اس ریشمی ڈوری کو بڑے احترام سے دیگ کے گرد کس دیا گیا ,اس ڈوری کے دو لمبے سرے لٹکتے چھوڑ دیے گئےتھے ۔
یہ ”منت کی دیگ “اسی طرح ہر سال تیار کی جاتی تھی خاندان کا سربراہ ہونے کی وجہ سے عبدالکریم کے گھر ہی اس تقریب کا اہتمام پوری شان و شوکت سے کیا جاتا تھا ۔
اب زیارت کی باری تھی تو تمام مرد حضرات ایک ایک کر کے آتے بڑی عزت اور تکریم سے دیگ کو ہاتھ لگا کر پیر صاحب کی قدم بوسی سے شرف یاب ہوتے ہوئے باہر نکل جاتے ۔
تمام مردوں کے بعد اب عورتوں کی باری تھی , ہرسال اس منت کی دیگ کو گھمانے کا اعزاز جس خوش نصیب عورت کے حصے میں آتا تھا اس کے من کی مراد اسی سال بر آتی تھی , اسی مضبوط عقیدے کی بناءپر اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لیے کڑی محنت کرکے اپنے آپ کو اس کا حقدار ثابت کرنا پڑتا تھا ۔جو معاملہ فہم اور عقلمند عورت یہ بازی جیت لیتی پھر یہ اعزاز اس کی جھولی میں جا گرتا ۔
یہاں موجود خواتین میں سے کئی اسی طرح سے بامراد ہوچکی تھیں ,کتنی ہیں کنواری لڑکیاں اب اپنے شوہروں کے ساتھ آباد تھیں ,کٸی بے اولاد جھولی میں اولاد کی خوشی لیے موجود تھیں ,اور کسی نے بڑی تگ و دو کے بعد دو تین بیٹیوں کے اوپر اسی برکت سے بیٹا پایا تھا اور اب گردن اونچی کئے بیٹھی تھیں ۔
فاطمہ ایک بے چینی کی کیفیت میں مبتلا وقفہ وقفہ سے اپنی ساس اور پھپھی شاکرہ کی جانب دیکھتی تھی ,دونوں اب شاید کسی ایک بات پر متفق ہو چکی تھیں ,کریماں کے چہرے پر پھیلا اطمینان اس کے دل کو بے چین کٸے دے رہا تھا ,اس نے ابھی تک اپنی جگہ سے اٹھنے اور کسی بھی تاک جھانک میں شامل ہونے کی کوٸی کوشش نا کی تھی ۔
مقابلے کی اس دوڑ سے الگ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم وہ کب سے اسی جگہ بیٹھی تھی ۔تمام خواتین ایک قطار میں باہر کی جانب پیر سرکار کی قدم بوسی کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں ۔
کریماں کے چہرے سے جیت کی خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی ,اس نے مضبوطی سے فاطمہ کا ہاتھ تھاما اور قطار کے آخرمیں جا کھڑی ہوئی , اب وہ اس کے کانوں میں ہدایتیں انڈیل رہی تھی ۔
قطار آگے سرکتی جا رہی تھی عورتیں , لڑکیاں پیر سرکار کی قدم بوسی کرتیں اور دیگ کو احترام سے ہاتھ لگاتے آگے بڑھ جاتیں , ابھی یہ عمل جاری ہی تھا کے عبدالکریم کی آواز گونجی ”ہاں بھٸی !! تم سب نے مل کر فیصلہ کر لیا اس بار کون خوش نصیب دیگ گھماٸے گی ؟“
اور اس کے ساتھ ہی کریماں بڑے تفاخر سے فاطمہ کا ہاتھ تھامے قطار سے نکل آئی ۔
آج تین دن ہو گئے تھے پر کریماں کا ماتم ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔اس کی ساری محنت ساری امیدوں پر پانی پھر گیا تھا اس کے کوسنے اور بد دعائیں ہر تھوڑی دیر بعد پھر سے شروع ہو جاتے ,جن کا محور فاطمہ کی ذات تھی ۔
فاطمہ نے بھری برادری میں اس کی ناک جو کٹوا دی تھی اور اسی سبب مراد والی خوشی پھوپھی شاکرہ کی جھولی میں جاگری تھی ۔
وہ بار بار اس وقت کو یاد کر کے آنکھوں میں آنسو بھر لاتی اور ایک دفعہ پھر کوسنے شروع کر دیتی ,تمام عورتوں نے اس کا کیسا مذاق بنایا تھا ۔۔۔۔جب اس کی بہو سے ”منت کی دیگ “کو ریشمی ڈوری سے گھمانے کو کہا گیا اور اس بدبخت سے وہ ہلائی بھی نہ گئی الٹا وہاں غش کھا کر گر پڑی ,اور کیسے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پھپھی شاکرہ کی بہو نے ایک ہی دفعہ میں پوری طاقت لگا کر دیگ گھما ڈالی تھی ۔
دوسری طرف فاطمہ بڑی مطمئن سی یہ کوسنے سنتے اپنے کام انجام دیے جا رہی تھی ,وہ دلیل سے نہ سہی تدبیر سے ہی اپنے ایمان کو بچانے میں کامیاب ہو چکی تھی ,اسے اپنے اللہ سے پوری امید تھی جس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ,جو اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان ہے کچھ دنوں سے جو طبیعت خراب سی تھی اس کی وجہ ایک انعام کی شکل اس کے علم میں آ چکی تھی , اور بہت جلد وہ اپنے نقلی بے ہوش ہونے کی اصلی وجہ بھی کریماں کو بتانے والی تھی ,دھیمی سی مسکان لبوں پر لیے وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی جس نے منت کی دیگ گھماٸے بغیر بھی اس کی مراد پوری کر دی تھی

حضرت جی

عالمی افسانہ میلہ 2021″
تیسری نشست”
افسانہ نمبر “54”
“حضرت جی”
افسانہ نگار .آسیہ رئیس خان( نوی ممبئی ، انڈیا)

نلکے کی ٹونٹی میں کوئی خلل پیدا ہو جائے تو فرش پر ٹپکتا بوند بوند پانی ایک عجیب، ناقابلِ بیان سی کوفت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے۔ بیسیوں بار اس خراب نلکے کو پوری قوت لگا کر بند کرنے پر بھی پانی کے قطرے تھمتے نہیں جب تک کہ ٹونٹی تبدیل نہ کی جائے۔ مسلسل ٹپ ٹپ کی آواز کے ساتھ دائرے کی شکل میں پھیلتی ایسی ہی ناقابلِ بیان کوفت، جھنجھلاہٹ اور بے چینی وقفے وقفے سے اس پر سوار ہوتی رہتی۔ ایک ملفوف احساس تھا جو اس تیزی سے سطح ذہن پر گرتا کہ وہ قطرے کو ہتھیلی میں روک کر اس کے دائروں کو پورے وجود میں پھیلنے سے روک بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے کئی بار اس بے چینی اور کوفت کو سمجھنا چاہا لیکن یہ ریشمی دھاگے کا وہ گچھا تھا جسے سلجھانے والا سرا نہیں ملتا۔

جب بھی یہ دورہ پڑتا، وہ بار بار سر جھٹکتی، خود کو مصروف تر کرلیتی، اونچی آواز میں بے تکان بولتی مگر سب بے سود رہتا۔ زیادہ وقت ہو جائے تو جیسے پانی گرنے کی آواز معمول کا حصہ بن کر کب اور کدھر گم ہو جاتی ہے پتہ نہیں چلتا، وہ ہی حال اس کی کوفت اور بے چینی کا بھی ہوتا۔ پھر کہیں مولانا سمیع اللہ عرف حضرت جی کا ذکر نکلتا اور گم ہوئی بے چینی کو راستہ مل جاتا۔ اب بھی ان کا ذکر سنتے ہی اس کے اندر یہ مانوس کیفیت بیدار ہوئی تھی۔
وہ اسکول سے آئی تو خلاف معمول دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔
’’ ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ وہ ہال عبور کر کے اپنے کمرے میں جاتے ہوئے ساس کی آواز پر رک گئی۔
’’ اگلی بائیس تاریخ کو حضرت جی آئیں گے، اسی دن اس کے ابّا کو بلا کر ہم ان کے سامنے بات کریں گے۔ ‘‘
’’ امجد کو تو اس نے چپ کرادیا لیکن حضرت جی کے سامنے نہ امجد نہ اس کا باپ، کوئی منہ نہیں کھول سکے گا۔ ‘‘ یہ اس کی بڑی نند تھی جو آج کل اس کی نوکری چھڑانے کے در پہ تھی۔
تین بچوں کی پیدائش کے بعد جب اخراجات کے لیے امجد کی تنخواہ کی چادر چھوٹی پڑنے لگی تو اس نے شوہر کو راضی کیا کہ اسے ہاتھ بٹانے دیں۔ امجد بھی تنگ دستی سے تنگ تھا، ایسے میں اضافی آمدنی کا خیال بڑا خوش کن تھا۔ اس کی تعلیمی لیاقت کے بنا پر جلد ہی اسے لڑکیوں کے اسلامک اسکول میں نوکری مل گئی۔
کئی سال سب کچھ ٹھیک چلتا رہا۔ اتنے برسوں میں ہوئی امجد کی ترقیوں نے اس کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ کیا تھا اس لیے اب وہ اپنی اور بچوں کی ضرورتوں کے علاوہ ان کی خواہشوں پر بھی خرچ کرنے لگی تھی۔ اس کی یہ ہی ’ شاہ خرچیاں ‘ سب کو کھٹک رہی تھیں اور نکیل ڈالنے کی تیاری ہو رہی تھی۔ حالاں کہ اب بھی اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ وہ بچوں کی تعلیم کے لیے بچا رہی تھی۔ بات شروع یہاں سے ہوئی کہ وہ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ گھر میں دیا کرے۔ اس نے صاف انکار کر دیا کہ ’ میں گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے یہ مشقت اپنے بچوں کے لیے کر رہی ہوں اور گھر میں ایسی تنگی ہے بھی نہیں کہ میرا کا دینا لازمی ہو۔ ‘ سسر اور دیور دونوں برسرروزگار تھے۔

امجد کچھ کہتا اس سے پہلے ہی اس نے اگلے دس سالوں کا نقشہ کھینچ دیا۔ بڑا آئی ٹی فیلڈ میں اپنا مستقبل دیکھ رہا تھا، چھوٹا سول انجینئر بننا چاہتا تھا اور بیٹی کا پسندیدہ کھلونا ابھی سے اسٹیتھواسکوپ تھا۔ کالج تک پہنچنے سے پہلے ہی بچوں کی کوچنگ اور انٹرنس کی تیاری میں لاکھوں لگنے تھے۔
اپنے کمرے میں جانے کے لیے ساس کے کمرے کے آگے سے گزرنا پڑتا جس کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ دبے پاؤں پلٹ کر داخلی دروازے سے باہر نکلی اور اطلاعی گھنٹی بجا کر دوبارہ اندر داخل ہوئی۔
’’ سوری میں نے بیل بجانے کے بعد دیکھا، دروازہ لاک نہیں تھا۔ ‘‘ چند پل بعد ہی دروازہ کھولنے کے ارادے سے نند نمودار ہوئی تو اس نے کہا اور اپنے کمرے میں آگئی۔

اس نے زندگی میں اپنے ابّا سے زیادہ سادہ اور عملاً دین دار دوسرا بندہ نہیں دیکھا تھا۔ وہ سرکاری اسکول میں مدرس تھے۔ ان کا طرزِ زندگی بڑا سادہ تھا۔ بڑی فاطمہ کےچولہا سنبھالنے سے پہلے امّی کھانا بناتی تھیں اور اس میدان میں وہ اوسط سے بھی کم تھیں لیکن ابّا نے دسترخوان پر کبھی تکرار یا نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا، شکر کر کے سب کھا لیتے۔ یہ کتنی بڑی بات تھی اس کا احساس اسے سسرال آنے کے بعد ہوا تھا۔ رشتے دار اور پڑوسی تین بیٹیاں اور بیٹا نہ ہونے کا احساس دلاتے، افسوس جتاتے مگر اس پر بھی وہ اللہ کی رحمتیں حاصل ہونے کا شکر ادا کرتے۔
تینوں بیٹیوں کا بھی بہت خیال رکھتے۔ کوئی بات ناگوار گزرتی یا انھیں پسند نہ آتی تو نرمی سے بتا دیتے۔ ان کی در گزر اور صلہ رحمی کی عادت سے امّی تنگ تھیں کیوں کہ رشتے دار اور دوست و احباب یا تو اس کا غلط فائدہ اٹھاتے یا انھیں بے وقوف سمجھتے تھے۔ وہ صرف نماز روزے کی ہی پابندی نہیں کرتے تھے بلکہ چھوٹی اور معمولی باتوں میں بھی احکامِ دین کا خیال رکھتے۔ کپڑے، چپلیں، چشمہ اور دیگر چیزیں جب تک ناقابلِ استعمال نہیں ہوجاتیں، وہ نئی نہ لیتے۔ اپنے اوپر کم سے کم خرچ کرتے اور ضرورت مندوں کی مدد اپنی حیثیت سے بڑھ کر کرتے،
اس کے لیے اپنی ضروریات بھی ٹال دیتے۔ تینوں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور شادی کے وقت ان کی مرضی کو بھی اہمیت دی۔ رشتے طے کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی کیوں کہ ابّا کے مزاج اور گھر کے ماحول کی وجہ سے لوگوں کو لگتا تھا یہ ’ دبی ‘ ہوئی لڑکیاں ان کے گھر کے لیے موزوں ترین ہیں اور ابّا کی طرف سے مستقبل میں بھی کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہ سب سے چھوٹی تھی اور اسے ابّا سے محبت بھی سب سے زیادہ تھی۔ فارعہ کے سسرال کا کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن فاطمہ کے سسرالی اکثر اس کی شکایتیں لیے موجود ہوتے۔ ابّا سر جھکا کر ان کی بات سنتے اور بعد میں فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے:
’’ میں جانتا ہوں تمھاری کوئی غلطی نہیں۔ تم میری بہت سمجھدار اور صابر بیٹی ہو۔

ایسے وقت میں امّی بڑی اداس ہوتیں کہ کوئی بیٹا ہوتا تو لوگوں کی اتنی ہمت نہ ہوتی کہ بلا وجہ باتیں سنا کر انھیں سر جھکانے پر مجبور کرتے۔ تبھی اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی وجہ سے کبھی ابّا کا سر جھکنے نہیں دے گی۔
اس کے لیے آئے امجد کے رشتے کی شہ سرخی ’’ دین دار گھرانہ‘‘ تھی۔ شادی کے بعد اس نے پورا مضمون پڑھا تب جانا کہ بڑی گمراہ کن شہ سرخی تھی۔ ساری دین داری مشہور عالم دین مولانا سمیع اللہ یعنی حضرت جی سے جڑے رہنا تھی۔ ان کے گھرانے سے اس کے سسرال کے پرانے تعلقات تھے۔ وہ اجتماع اور جماعت کے دیگر معاملات کی وجہ سے شہر شہر گھوما کرتے اور جب ان کے شہر میں ہوتے تو ان کے یہاں ضرور آتے۔ ان کی آمد پر خاص اہتمام ہوتا۔ یونہی نمازیں قضا کرنے والی اس کی ساس، نند، دیورانی ہال کی صفائی خود کرنا فرض سمجھتیں۔ بھلے ایک دن پہلے ہی بدلے ہوں تو بھی پردے، صوفے اور کشن کے کور تبدیل کرنا جیسے واجب ہو جاتا۔ حضرت جی کی پسند کا مینو ترتیب دیا جاتا۔ وہ کھانے کےمعاملے میں کتنے حساس ہیں، یہ ذکر بڑی محبت سے ہوتا تھا۔ انھیں جو اچھا نہیں لگتا اس کا اظہار وہ اپنے انداز میں کر دیا کرتے۔ اتنے پکوان عید بقرعید میں نہ بنتے جتنے ان کی آمد کے دن تیار ہوتے۔ پھر گھر کے سارے معاملات، مسائل ان کے گوش گزار کرائے جاتے اور ان کی بات بطور مشورہ یا صلاح نہیں لی جاتی بلکہ وہ فیصلہ ہوتا۔ شکن سے پاک ان کا کرتا پاجامہ جو کسی ڈیزائنر پوشاک سے کم نہ لگتا، سیاہ چکمتے جوتے، آئی فون، برانڈیڈ دستی گھڑی، ویسا ہی دھوپ کا چشمہ اور ان کی ایس یو وی، یہ سب ان کے صبر، قناعت، سادگی کے بیان سے میل نہ کھاتے جو وہ ہر دورے میں پردے کے دوسری طرف بیٹھی خواتین کے لیے دیتے تھے۔ وہ حیرت سے سب کی آنکھیں دیکھتی جنھیں یہ تضاد نظر نہیں آتا تھا۔
’’ کیوں حضرت جی کو اس گھرمیں اتنی اہمیت حاصل ہے؟ ‘‘ اس نے امجد سے پوچھا تھا۔
’’ یہ کیسا سوال ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔خوش نصیبی ہے یہ تو ہماری! ان سے بڑا عالم دین ہمارے علاقے میں کیا پورے ضلعے میں کوئی نہیں اور ۔۔۔۔۔۔ ‘‘ امجد نے اسے جس نظر سے دیکھ کر بات شروع کی تھی، اس نے اسے مزید سوال جواب سے روک دیا تھا۔
ایک دفعہ اتفاق سے حضرت جی کی موجودگی میں ابّا بھی آگئے اور اس نے پردے کی اوٹ سے ہال میں جھانک لیا۔ گردن اکڑا کر بیٹھے حضرت جی کے مقابلے میں ابّا کی عاجزی و انکساری اسے پہلی بار اچھی نہیں لگی تھی۔ یہ ہی منظر اس کے لیے خراب نلکے کی ٹپ ٹپ تھا۔ تب سے ابّا اور ان کا موازنہ اس کی عادت ہو گئی تھی اور گھٹتی بڑھتی بے چینی اور کوفت دائمی۔

بڑی دیر تک سوچنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ جو اس کی ساس اور نند سوچ رہی تھیں، یہی اس کے لیے موقع ہے کہ وہ ابّا کو ان کے مقابل سب سے بلند قامت ثابت کر دے۔ وہ جانتی تھی حضرت جی سے بات کس انداز میں کی جائے گی اور ان کا فیصلہ کیا ہوگا۔ لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہی ہے۔ شوہر کی اجازت تھی، پردے کا اہتمام کرتی تھی، ساس کے سونپے گئے کام بھی، اسکول میں کوئی مرد اسٹاف نہیں تھا، سوائے چوکیدار کے۔ اسے یہی ثابت کرنا تھا کہ حضرت جی سے زیادہ سچے پکے اور عملاً مسلمان اس کے ابّا ہیں اور ان کا دیا علم اور تربیت ہی ہے جو اس نے اپنے دلائل سے انھیں لاجواب کر دیا ہے۔ اس کی بے چینی کو قرار اسی سے ملنا تھا۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا اگر مگر کی گنجائش رکھے بنا کام یابی سے کیسے یہ معرکہ سر ہوگا؟ مسلسل سوچتے ہوئے بھی اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
اگلے دن اس نے اسکول میں سب سے ذہین مانی جانے والی اپنی کولیگ کو یہ منصوبہ اور پریشانی بتائی۔ خوش قسمتی سے اس نے فوراً ہی اس کا حل بتا دیا۔ وہ جوش اور جذبات میں یہ بھی فراموش کر بیٹھی تھی کہ اگر حضرت جی قائل نہ ہوئے، ناراض ہوگئے تو اس بات پر امجد بھی اس کا ساتھ نہیں دے گا۔ گھر والوں کے خلاف جانے اور حضرت جی کے خلاف جانے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی اولاد کی محبت ہو یا پیسے کی، اندھی عقیدت سے جیت نہیں سکتی۔
بائیس تاریخ آگئی اور حضرت جی بھی آگئے۔ نند بھی موجود تھی۔ اپنے تئیں گھر والوں نے اسے اور امجد کو بے خبر رکھ کر ابّا کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چاہتی تھی جلد سے جلد اسے بولنے کا موقع دیا جائے۔ پرتکلف طعام کے بعد ساس صاحبہ نے بہو کا مسئلہ اس طرح بیان کیا مانو انھیں علم ہو کہ یہ باتیں سن کر انھوں نے اسے نوکری چھوڑنے کا حکم ہی دینا ہے اور یہ ہی ہوا۔ اسے ہال میں بلایا گیا۔ مولانا نےبڑوں کی فرمانبرداری کا ثواب، عورت کی گھر میں رہ کر کمائی جانے والی نیکیاں، بچوں کی تربیت میں ماں کی ذمہ داریاں اور بلا وجہ گھر سے باہر جانے والی عورت کس طرح گناہ کی مرتکب ہوتی ہے اور اس پر بھیجی گئی لعنتوں پر مختصر سا وعظ دیا۔ اب اس کا متوقع کام سر جھکا کر ان کی بات درست ہونے کا اقرار کرنا تھا یا پھر خود ہی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نوکری چھوڑنے کا اعلان۔ کوئی مزید کچھ کہتا اس سے قبل ہی اس نے گلا صاف کر کے کہنا شروع کیا۔
’’ میں نے اپنی نوکری اور تنخواہ کا مسئلہ پوری تفصیل سے مفتی صاحب کو لکھا تھا، انہوں نے جواب دیا ہے کہ شوہر نے نوکری کی اجازت دی ہے، مقصد بچوں کی تعلیم کے لیے پیسوں کا انتظام ہے، کام کی جگہ کوئی نا محرم نہیں، پردے کا اہتمام بھی ہے تو یہ نوکری جائز ہے اور تنخواہ گھر میں دینا نہ دینا میری مرضی پر منحصر ہے۔ ‘‘ اس نے دوپٹے کے نیچے سے ہاتھ نکال کر آن لائن دار الفتاویٰ کے ای میل کا پرنٹ آؤٹ تپائی پر رکھا۔
’’ اس میں پوری تفصیل ہے۔ یہ اسی دارالعلوم کے دارلافتاویٰ کے مفتی صاحب ہیں جہاں سے حضرت جی فارغ ہیں۔ ‘‘ وہ سر جھکائے اپنی بات کہہ رہی تھی پھر بھی اسے سب چہروں کے تاثرات سمجھ آرہے تھے۔
’’ یہ۔۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ تم نے۔۔۔۔۔۔ کب کیا؟ ‘‘ امجد کی بوکھلائی اور بے یقین سی آواز ابھری۔

وہ چپ رہی۔ اسے بس اپنے ابّا کا فخر سے اونچا سر دیکھنا تھا۔ اس نے جھجھکتے ہوئے سر اٹھا کر ابّا کی سمت دیکھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری کوفت اور بے چینی اڑن چھو ہوگئی۔ اس کی جگہ خاموشی تھی، دور تک پھیلی، درد سے بھری، ناقابل یقین خاموشی۔ شرمندگی اور تاسف بھری نظر بیٹی سے ہٹا کر ابّا اپنی جگہ سے اٹھ کر سر جھکائے حضرت جی کی جانب بڑھ رہے تھے اور وہ اس نظر سے اندازہ لگا چکی تھی کہ کمرے میں حضرت جی کا سب سے بڑا مُعتقِد کون ہے۔

منافق

عالمی افسانہ میلہ”2021
تیسری نشست
افسانہ نمبر 53
منافق
راجہ یوسف۔ کشمیر
خواجہ صاحب ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر تھا۔ وہ شہر کے بڑے ہوٹل کے ریسٹورانٹ میں داخل ہوا تو منیجر خود اس کے استقبال کے لئے کھڑا ہوا۔ وہ اسے ایک مخصوص کیبن میں لیکر آیا۔ اس کے کئی دوست وہاں موجود تھے۔ بھاپ اٹھ رہی چائے کی خوشبو کیبن میں پھیلی ہوئی تھی لیکن آج کسی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ نظر نہیں آ رہی تھی ۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے ۔آج اسے دیکھ کر کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ کسی نے اسے خوش آمدید بھی نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے کرسی نکال کر بیٹھ گیا۔ سبھی اس کی طرف مایوس نگاہوں سے دیکھ رہے تھے لیکن کوئی کچھ بولانہیں ۔ مولانانے چائے کی کیتلی اس کی طرف بڑھائی۔ جاوید احمد نے کیتلی اٹھا کر اس کے لئے چائے بنائی۔ خواجہ صاحب نے جیب سے شوگر فری ٹکی نکالی اور اپنے کپ میں ڈال دی۔ سبھی سر جھکائےخاموش تھے۔ کوئی آہستہ آہستہ چائے کی چسکی لے رہاتھا تو کوئی کپ پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا۔ آخر خواجہ صاحب نے کھنکار کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ سبھی دوست حیرانی سے اس کے چہرے کو تکنے لگے۔ لیکن سبھی کے چہروں پر تشویش ابھی بھی موجود تھی۔۔۔
”ایسا بھی کیا۔ اتنی خاموشی۔“
”کچھ بولنے کے لئے کیاہے ہمارے پاس۔۔۔ تمہارے پاس یا کسی اورکے پاس“ سیول سوسائٹی کے صدر اشرف خان نے پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
” لیکن یار۔۔۔۔“
”کیا تمیں یہ کوئی سانحہ ہی نہیں لگتا ۔ اتنا بڑاواقعہ۔۔۔“ مولانا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ پھر خود ہی سر ہلاکر رہ گیا اور چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا۔
”ایسی کیا بات ہے یار۔ میں بھی اتنے بڑے حادثے سے کہاں بچا۔اُس پار میرے دور کے چاچا کی بیٹی بھی ان کی شکار بنی اور پھر ماری گئی۔ ہمارے گھر میں بھی دو دن سوگ رہا۔“
”یہ کوئی حادثہ تھوڑی ہے۔ سرکاری دہشت گردی ہے۔ اتنا بڑا سانحہ۔ ایک ساتھ کتنی خواتین کی زندگی برباد کرلی ۔ کتنے جوان اور بزرگ لوگ شہید کر دیئے گئے۔ لاشیں بھی واپس نہیں کردیں۔ جانے کتنے نوجوان لاپتہ کر دیئے گئے۔ جوا ٓگ لگا دی اس میں نقصان کتنا ہوگیا۔ کبھی اس کا تخمینہ بھی نہیں لگایا جائے گا۔ ظلم کی انتہا “ مولانا غصے میں بول رہا تھا۔
”اتنا بڑا دہشت گردانہ واقعہ وہاں پہلی بار تو نہیں ہوا ۔ بے چارے۔ ہماری قوم کے نہتے لوگ۔ جس میں زیادہ تعداد بزرگ خواتین کی تھی۔ چھوٹی بچیوں تک کو بھی نہیں بخشا درندوں نے۔۔۔ اشرف خان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”ہمیں اس کے خلاف بولنا ہوگا۔ سارا پریس جمع کرنا ہوگا۔
”ان بد بختوں نے جو انسان سوز حرکت کی ہے۔ اس کا مجھے بھی بہت دکھ ہے۔ پر۔۔۔“
”پر۔۔۔۔ پر کیا؟ جو وہاں مارے گئے وہ ہمارے لوگ نہیں تھے کیا۔؟جن ماں بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ ہماری کچھ نہیں لگتی کیا؟؟ کیا وہ ہماری قوم کے لوگ نہیں ہیں؟؟؟“ سیول سوسائٹی کا اشرف خان اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن خواجہ صاحب نے اس کی بات آدھے سے ہی چھین لی ۔
”میرا مطلب ہے۔ یہ سب تو ساری دنیا میں روز ہورہا ہے۔ پھر کیا دنیا نہیں چلتی۔ زندگی رک جاتی ہے کیا۔ ویسے بھی وہ ہمارا حصہ کہاں ہے۔ دشمن ہے قابض وہاں۔ وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم کب تک سوگ مناتے بیٹھیں گے۔“
”کیا مطلب ہے تمہارا۔ کیا ہم اپنے دکھ کا اظہار بھی نہیں کرسکتے۔“ سماجی کارکن رفیق الزمان نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔ جو بڑی دیر سے خاموشی کے ساتھ اپنے چائے کے کپ پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا جیسے چائے کے کپ سے جہاز ابھر کر آنے والا ہو۔۔۔
”اور کیا۔ میں کہتا ہوں پریس اور میڈیا کو کال کرو۔ کم از کم ہم ٹی وی پر بیان تو دے ہی سکتے ہیں۔ اس بات پر احتجاج تو کر سکتے ہیں کہ ہماری قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ وہاں کے لوگوں پر جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔ کیا ان کے دکھ پر اظہار خیال کرنا یا بات کرنے کا ہمارا کوئی حق نہیں۔“ سماجی کارکن رفیق الزمان جذباتی ہوگیا۔
”دکھ کا اظہار کرنا الگ بات ہے اور دکھ منانا الگ بات۔۔۔“
”کیا فلسفہ مارا ہے۔۔۔ دکھ کا اظہار کرنا الگ بات ہے اور دکھ منانا الگ بات۔ اس کا مطلب بھی بتا دیں گے آپ خواجہ صاحب‘ مولانا نے طنز سے اور کچھ کچھ برہمی سے کہا۔ باقی لوگ بھی جواب طلب نظروں سے خواجہ صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے۔
”مطلب۔۔۔۔ مطلب تو کوئی بھی نہیں میری بات کا۔ بس ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ شئیر کرتے ہیں یا دوستوں کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں وہ الگ ہوتا ہے۔ مطلب پریس، ٹی وی یا ریڈیو پر کہنے کی باتیں الگ ہوتی ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں اسے کہنے کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی ی ی۔۔۔ یہ کہو کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے “ خواجہ صاحب کہتے کہتے خودبھی الجھ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔
”جیسے۔۔۔“ اشرف خان نے تکا مارا۔
”ہاااااں ۔۔۔ جیسے تم۔۔۔ خیر۔۔۔ تم بتاؤ جاوید۔ کل تم نہیں ملے۔ کیا کررہے تھے ۔
”کل ہڑتال ہوگئی تھی۔ سمجھو دفتر کی چھٹی۔ مجھے لاسٹ سنڈے کو بیٹے کا یونیفارم لینا مس ہوگیاتھا۔ کل یوں تو مارکیٹ بند تھی لیکن ہم دونوں میاں بیوی بیک ڈور سے ایک چھوٹے سے مال میں گھس گئے اوربیٹے کے لئے یونیفارم ۔۔۔ “
”لنچ کہاں کیا۔۔۔“ خواجہ نے جاوید احمد کی بات کو کاٹ کر کہا
”لنچ ہم نے پراڈائز ریسٹورانٹ میں کیا۔ دراصل بہت دنوں سے ہمیں باہر کھانا کھانے کا موقعہ نہیں ملا تھا تو کل وہ بھی ہوگیا۔“
” اشرف خان۔ تم بھی تو نہیں ملے کل۔ کہاں گئے تھے تم ۔“
”وہ کل۔۔۔ وہ کیا کہ میری۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ وہ میرا ایک خاص دوست ہے۔ اس کے ساتھ۔۔۔“
” سیدھے بتا دو نا یار۔۔۔ بیوی سے چھپا کر گرل فرنڈ سے فکس تھا۔ وہ تم مس تو نہیں کر سکتے تھے ۔ کل تو پورا دن انجیوائے کیا ہے تم نے۔ کیوں میاں “
”سچ کہوں خواجہ صاحب۔۔۔ تم بڑے شیطان ہو۔ سب کی خبر رکھتے ہو۔“ مولانا نے چوٹ کی
” اور مولانا۔ تم۔۔ تم کہاں تھے“
” یار۔۔۔ میں اس حادثے سے پہلے ہی بیگم کے ساتھ فارم ہاوس چلاگیا تھا۔ دراصل جب ہمارے بچے گھر آجاتے ہیں تو۔۔۔ یو نووو۔۔۔ گھر میں۔۔۔۔ تم سمجھ گئے نا میری بات۔ تو ہم میاں بیوی فارم ہاوس چلے جاتے ہیں۔۔۔“ مولانانے مسکرا کر اور آنکھ دباکر کہا۔ سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”اچھا جس دن یہ خوفناک سانحہ ہوا۔ اس رات تم نے کتنی بار پیار کیا۔“
”ارے وہ پوچھو ہی مت۔ فارم ہاوس جانے کا مطلب ہی ہوتا ہے۔ پیار ہی پیار۔۔۔ مزا آجاتا ہے یار۔۔۔“ مولانا مزہ لے لے کر اپنی کہانی سنانے لگا۔ اور وہ سبھی لوگ مزہ لے لے کر سن بھی رہے تھے۔
”اچھا پتا ہے۔ میں اپنی بات بتاتا ہوں۔ جب کبھی کوئی خوف یا ڈر مجھ پر حملہ آور ہو جاتا ہے تو میرا شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ مجھے بار بار باتھ روم جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔“ خواجہ صاحب نے بڑی معصومیت سے کہا۔ اور سبھی لوگ زور زور سے ہنسنے لگے۔
”اور مجھے بیگم کی۔“ مولانا نے زور دار قہقہہ مارا اور سبھی لوگ اس کی ہنسی میں شامل ہوگئے۔ سب قہقہے پر قہقہے مارے جا رہے تھے۔
پھر چائے کے کئی دور چلے۔ مخدوش حالات سے فرار اور رلیکس ہونے کے لئے کسی صحت افزا مقام پر جانے کا پروگرام بنا۔ وہاں پر ہی کسی اچھے ریسٹورانٹ میں لنچ اور پھر ڈنر کا بھی بندوبست کرایا گیا۔۔۔
اور جلدی جلدی اخبارات کے لئے مشترکہ پریس ریلز بھیجنے کے بعد وہ زور و شور سے آوٹنگ کی تیاری میں جُٹ گئے

کہانی کے اس پار

عالمی افسانہ فورم 2021″
تیسری نشست”
افسانہ نمبر “52”
“کہانی کے اس پار”
افسانہ نگار .زویا حسن (سیالکوٹ،پاکستان)

میرے چہرے پر یہ لکیریں جو زاویے بناتی ہیں ، یہ زاویے پچھلے برسوں میں ہرگز ایسے نہیں تھے ۔ ان لکیروں میں وقت بہا ہے تو انہوں نے اپنے رخ بدل لیے ہیں ۔ یہ آنکھیں جو تم دیکھتے ہو ان میں پہلے تجسس کے رنگ سب سے زیادہ نمایاں تھے ۔ اب دیکھو نہ تجسس رہا نہ حیرت! سب دیکھ جو لیا انہوں نے، اس لیے اب یہ چونکتی نہیں ہیں ۔ اسی لیے عرصے سے ان میں مُردنی کا ایک رنگ ٹھہر سا گیا ہے ۔ اب چونکنے کی باری لوگوں کی ہے ۔ ہاہاہا ۔ ۔ ۔

میں محسن نقوی کا کلام پڑھنے لگتا ہوں :

” ٹھہر جاؤ کہ حیرانی تو جائے۔ ۔ ۔
تمہاری شکل پہچانی تو جائے۔ ۔ ۔
تمہاری شکل پہچانی تو جائے۔ ۔ ۔”

اور پھر میں گنگناتے گنگناتے ، طویل سڑک پہ ، دور نظریں مرکوز کرتے ہوئے رک جاتا ہوں اور وہ مجھے اکتاہٹ سے دیکھنے لگتا ہے اور کہتا ہے ؛

” بابا لوک چلو رک کیوں گئے ۔ ابھی نہ تم خود کو پا سکے ہو نہ میں خود کو۔ تو رکنے کا جواز نہیں۔ میں تو اس ارادے سے آیا تھا کہ تم سے سیکھ لوں کہ خود کو کیسے ڈھونڈتے ہیں ۔ لیکن تم تو خود میں مزید گم ہوتے جا رہے ہو اور اب رک بھی گئے ہو ۔ چلو ابھی رکنے کا جواز نہیں ۔ “

میں مفلر کو کانوں کے گرد لپیٹتے ہوئے اپنا چشمہ درست کرتا ہوں اور سرد ہوتے ہاتھوں کو کوٹ کی جیب میں ٹھونستے ہوئے مٹھیاں بھینچ لیتا ہوں ۔ گہری ہوتی دھند قدرت کی سازش جیسی لگتی ہے جیسے وہ چھپ کر کوئی کھیل کھیلنا چاہتی ہو ۔ ایک ایسا کھیل جس میں دھند کے پار جانے والے کو خود کے سوا اور کچھ بھی نہ ملے ۔ وہ میرے ساتھ پھر سے چلنے لگتا ہے ۔

”مجھے پانے سے پہلے یہ زہن میں رکھ لو میرے دوست کہ میں ایک کہانی کار ہوں اور کہانیاں لکھنے سے پہلے میری ذاتی کہانی میں مجھے دوسرے کردار مار دیتے ہیں ان کرداروں کے معیار ہم کہانی کاروں کو اپنے مخصوص سانچے میں ڈال کر کسی من چاہی صورت میں ڈھالنے تک ہم پر کام کرتے ہیں میری کہانی بھی کچھ ایسی ہے ۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا یہ جو تم زاویے دیکھتے ہو یہ پہلے پہل ایسے نہیں تھے ۔ پہلے پہل سے میرا مطلب ہے جب میں پیدا ہوا تھا ۔ تب میرے زاویے ویسے تھے جیسے ہونے چاہیں مطلب مکمل ۔ مجھے مکمل بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ ۔ ۔ اے میرے دوست مکمل ۔ ۔ ۔ میں خدا کا حرف آخر تھا ۔ پھر کچھ لوگ جو آدم خور تھے اور انسان کے شکار پہ نکلے ہوئے تھے ، انہوں نے اپنے نظریات اور عقائد کا تھری پیس سوٹ پہنا کر میرا شکار کیا ۔ میری اصل نظر کھرونچ کر ان میں نفرت، حسد، لالچ اور بد امنی کو شامل کر دیا اور پھر مجھے سکھایا کہ ان کی سوسائٹی میں چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے کے کیا طور طریقے تھے ۔ کیا کھانا ہے کب کھانا ہے، کیسے اٹھنا ہے کیسے بیٹھنا ہے کہاں جانا ہے اور کہاں قدم تک نہیں رکھنا ۔”

وہاں لمحہ با لمحہ دھند کی پھوار سےگیلی ہوتی سڑک پہ، گل چین کے پھول بکھرے تھے جو ماحول کو مانوس سا بناتے تھے ۔ مجھے اپنا بھکڑ یاد آیا جہاں ایسے ہی گل چین کے پھول تھے اور جس کی سڑکوں نے میرے جوان ہوتے قدموں کی تھاپ سُنی تھی اور جن کےخوابوں کا بوجھ اس کی کوکھ نے برداشت کیا تھا، مگر جب وہ خواب زندگی ہوئے تو انہوں نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔

“بھکڑ ایسا نہیں تھا میرے دوست کے چھوڑا جاتا ۔ مگر میں نے چھوڑ دیا ۔ رزق اور پہچان کے خدا نے مجھے آواز دی تھی تو میں نے گل چین کے پھولوں سے مہکتا بھکڑ چھوڑ دیا۔ لوگ میرے باپ کو شیدا نائی کہتے تھے۔صبح صادق ہی سورج کی پہلی حرارت، جب کسی اوس کے قطرے پہ پڑتی ہے اور وہ چمکنے لگتا ہے، کسی کے دھیان کی لو سے، جیسے کوئی ناری شعلہ جوالہ بن جاتی ہے ناں، ویسے وہ چمکتا تھا تب اپنے سرہانے پڑی اپنی غریب سی عزت والی پگڑی سر پہ باندھتا، ہاتھ میں ایک صندوقچی پکڑ کر جس میں استرا، قینچیاں، بلیڈ، نشستر، سینگیں اور جی حضوری کے اوزار ہوتے، وہ چوہدریوں کے گھر کی راہ لیتا۔ چوہدری اور اس کے بیٹے بیٹیاں، سب ابا سے بال ترشواتےتھے اور بدلے میں جھولی بھر آٹا یا چاول مل جاتے۔ جس نےسالہا سال میرے اور میرے بہن بھائیوں کے شکم پُر رکھے۔ابا گاوں کی ہر شادی پہ ہر ہر گھر شادی کا پیغام پہنچانے میں اپنا کھانا پینا بھی بھول جاتا تھا۔دیگیں اور دیگچے پکاتا،اور پھر میلے کچیلے کپڑوں میں ایک کونے میں بیٹھ کر سب کو کھاتا دیکھتا جاتا اورخدا کا شکر ادا کرتا جاتا، وہ گھوڑے یا خچر کا مہار پکڑکر نائیک کی زنانی کو میکے سے صحیح سالم گھر پہنچانے کا کام بھی کرتا تھا اور خیرات، شادی اور ختنہ وغیرہ میں چاول پکاتا تھا۔ بعض موقعوں پر ابا اور ہمارے وارے نیارے ہوجاتے تھے جب وہ زیرے، سنڈے( بچوں کے سر کے بال لینے )، لوگے کول (دونی دینے )اور معاوضہ مہار لینے (جلب) کی رقم گھر لاتا تو اس دن ہمارے گھر مرغی کا سالن بنتا تھا۔اماں اس دن ابا کی پگڑی اپنے سر پہ باندھ کر، جھومڑ گاتی اور ناچتی تھی ۔مگر ابا کی پگڑی کبھی بھی چوہدریوں کی پگڑی کے برابر نہ ہوسکی ۔ وہ اسے شیدا نائی کہہ کر پکارتے اور مجھے شیدا نائی کا پلہ۔ پھر مجھے شہر کے نجی سکول میں داخل کروانے کے لیے بھی، اسے چوہدری سلامت حسین سے ادھار مانگنا پڑا تھا اور جب میں نے ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا ناں، میرے دوست! اس دن میرا ابا چوپال میں بھنگڑے ڈالتا تھاتو چوہدریوں کے بیٹے ابا اور مجھ پہ ویل کراتے کہتے تھے;

”پنج روپے دی ویل شیدے نائی تے شیدے دے ایم اے پاس پلے دی، پنج روپے دی ویل ”

” پنج روپے دی ویل، پنڈ دے اگلے ویلیاں دے ایم اے پاس نائی دی، پنج روپے دی ویل۔ ”
ابا کو قرض اسی شرط پر تو ملا تھا کہ میں ایم اے کرنے کے بعد دس سال تک وہیں گاوں میں چوہدریوں کے بچوں کے بال تراشوں گا۔

تویہ پہچان اور رزق کی چاہ تھی اور میری انا تھی اور وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھ سے میرا اصل چھینا اور اپنے بنائے عزتوں کے معیار مجھ پہ تھوپے جو مجھے اپنے بھکڑ سے دور لے آئے ۔لاہور گو کہ میرے جیسے خواب پالنے والوں کی زمین ہے اور اس کے پانی امیر غریب کی تفریق کیے بغیر ہر ایک کو خود میں جگہ دیتے ہیں، مگر میرے بھکڑ کے گل چین زیادہ خوشبو دیتے تھے میرے دوست، زیادہ خوشبو دیتے تھے۔”
میں کچھ پھول اکٹھے کرتا ہوں اور ان کو دیر تک اپنے نتھنوں سے لگا کر ان میں اپنے بھکڑ کی خوشبو ڈھونڈتا ہوں۔ مگر ۔۔۔

“مگر رہنے دیں ۔”

میں گل چین کے کچھ پھول اسکے ہاتھوں میں دیتا ہوں اور اسے لاہور کے کسی ویرانے میں دفنانے کی التجا کرتا ہوں۔ تاکہ ‘بھکڑ’ کے باسی کی آنکھوں سے نکلے آنسو جو ان پھولوں پہ پڑے تھے لاہور کی کوکھ میں نمو پاکر جنم لے سکیں کہ یہ اس پردیسی کا لاہور شہر پہ حق تھا کہ اس کے آنسو وہ سنبھال کر رکھے اور آئندہ کبھی کوئی آنکھوں میں خواب لئےاس کے پانیوں میں جگہ بنائے تو وہ اپنی وراثت میں ان پھولوں کو بھی دکھا سکے جن میں ‘بھکڑ’ کے پھولوں کی مہک آتی ہو ۔

“اچھا سنو یہ بات مجھے سمجھنے میں بہت وقت لگ گیا کہ ہر شے، ہر ایک کے سمجھنے کی نہیں ہوتی۔ ہر تحریر کا ابلاغ، ہر کسی پہ الگ ہوتا ہے۔ خدا بھی تو ہر ایک کو، اس کے گماں کے مطابق ملتا ہے تو انسان کیوں نہیں ۔میں نے بڑا وقت ضائع کیا، ہر ایک کو اپنا آپ سمجھانے میں ۔وہ کہتے تھےتم نے ایسا کیوں کیا، تو میں ویسا کر کے دکھا نے لگتا، جب ویسا کرنے پہ انگلیاں اٹھیں تو میں ایسا کرکے دکھانے لگتا ۔میں نے ساری زندگی لوگوں کے معیار کے لیے ترازو کی اور پھر زندگی ہی میرے لیے ترازو ہو گئی۔میں ہر جگہ پر اپنا اصل ان لوگوں کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑتا چلا گیا ۔”

وہ شدید سردی کی وجہ سے ہانپنے لگا تھا اورمیرے الفاظ کی کڑواہٹ اس کے گلے کی پھانس بن گئی تھی تو وہ دوہرا ہوتا کھانسنے لگا تھا ۔ میں نے اس کی پیٹھ پہ دھپ لگاتے اسے اپنے وجود کا سہارا دیا۔ ابھی مجھے اس کی ضرورت تھی۔ میری آواز کو کوئی سننے والا چاہیے تھا تو میں نے دھند میں لپٹی خود کی کہانی کو، اپنے کُن سے رونما کردیا تھا۔ اب وہاں وہ ہی تو تھا جو میری کہانی سن سکتا تھا۔ مگروہ اب ہانپنے لگا تھا اس لیے سڑک کے بیچوں بیچ ہی میں نے آلتی پالتی مارتے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا تھا۔

اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے میں گنگنانے لگا تھا ۔

”آو گے جب تم او ساجنا۔۔۔

انگنا پھول کھلیں گے۔۔۔” دوبار دہراتا ہوں

وہ ساون کی طرح برسنے لگا تھا اور میں اسے چپ کراتے خود بھی رونے لگا ۔طویل سڑک کے گرد کھڑے درختوں نے، سر اونچے کرکے ہمیں دیکھا تھا اور اندھیرے نے اپنی آنکھیں کھول کھول خود کو روشن کرنا چاہا تھا کہ دیکھ سکے کہ اب کی بار رونے کی باری کس کی ہے۔ مگر اندھیرے کے نصیب میں کچھ راز تھے جن کو چھپانے کے لیے اسے روشنی سے محروم رکھا گیا تھا سو وہ نہ دیکھ سکی۔

زرا دیر رونے کے بعد، جیسے دل پھر سے کسی غم کو سہہ جانے کے لیے بہلنے لگا تھا۔ میں نے اسے اپنی بانہوں کا سہارا دے کر، اپنے قدموں پہ کھڑا کیا اور پھر سے قدم چلنے لگے ۔درختوں کے پتے کسی انہونی سے مایوس ہوتے پھر سے اونگنے لگے تھے۔

”شہر آ کر سرکار کی نوکری مقدر میں آئی تو جو تھوڑی بہت انابچی تھی اس کی چاکری بھی، دھیرے دھیرے خون سے نکلتی چلی گئی۔ آدھی عمر اسی کی چاکری کرتے کیا ملا تھا مجھے ۔گردش آیام مجھ پہ مسلط ہوئے۔ میں مزید کسی گرداب کا حصہ بننا نہیں چاہتا تھا، سو ہونٹ سی لیے اور وقت کے چرخے پہ، اپنا آپ نئے سرے سے بُننے لگا۔ جس میں اپنے سر کو، زمین کی طرف خمیدہ بُنا تھا میں نے۔ پھر قدرت کے بقائی پہیے کو دھکیلنے کے لیے میں بھی آگے بڑھا اور اپنے نصیب کے جوڑے سے، اپنے چار عکس نکالے اور تمہیں پتہ ہے اب کی بار میرا سر پاوں ہی دیکھتا تھا ۔میرے عکس مجھ سے آگےنکلنے کی چاہ میں تھے اور کئی بار اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے انہوں نے مجھے روندا بھی۔ مگر میرے لب نہ ہلے، میرا سر نہ اٹھا ۔ہاں قلم اٹھ گیا اور یوں ہی اکثر سر جھکتے جھکتے قلم اٹھ جایا کرتے ہیں، کبھی خود کا جھکا سر دیکھ کر تو کبھی دوسرے کا، کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ نیم مردہ خلیے پیدا ہوتے ہی ہم لکھنے والوں کے ساتھ پیدا ہوجاتے ہیں جو اپنا تنفس بحال رکھنے کی خاطر کوئی روزن تلاش کرتے ہیں، تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔بات بس یہ ہے میرے دوست کہ میں اپنی کھوج میں تھا تو میں اپنی ہڈ بیٹیاں، جگ بیتیوں میں لکھ کر بیچنے لگا تو یہ وقت تھا کہ میرا سر اٹھنے لگا تھا، مگر تم جانتے ہو پھر کیا ہوا”

میں جیسے اسے بالکل فراموش کرتےہوئے، خود سے ہی مخاطب تھا ۔ ایک بار پھر رک کر، اس کی طرف دیکھنے لگا تھا ۔

اس کے چہرے پہ مجھے کرب بہتا نظر آیا۔ میں نے اس کی کیفیت کو نظر انداز کرتے، بات جاری رکھی۔

“پھر یہ ہوا کہ ہم کہانیاں لکھنے والے کہانیاں لکھتے تھےمگر کوئی پڑھنے والا نہ رہا۔یہاں بھی مجھے دوسروں کے بنائے معیارات سے سامنا ہوا ۔ میں نے کئی سال کئی دروازوں پہ اپنی کہانی کی دستک دی، مگر دھتکارا گیا۔ وہ کہتے تھے، تم لوگ قدیم دور کے باسی ہو وہ لکھو جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں۔آہ میرے دوست میں تو وہ ہی لکھتا تھا جس کا زہر انہوں نے میری رگوں میں اتارا ۔کئی سال ایک لکھاری کسی نہ کسی چرخے پر اپنے آپ کو کاٹتا ہے ان کے معیاروں کو اپنے خون سے سینچتا ہے ۔قلم اٹھانے سے پہلے خود کو کئی بار مارتا ہے ۔۔۔
وہ کہتے تھےتمہارے لکھے میں جدیدیت نہیں.وہ مردے میں جدیدیت ڈھونڈتے تھے ۔ وہ روح کو چھوڑ کر جسم کی طرف لپکتے تھے اور ہر شے خرید لیتے تھے۔ہر شے میرے دوست ۔ہاں قلم بھی ۔۔آہ! اور جب انہوں نے میرے سانس لینے کے آخری راستے پر بھی قدغن لگائے اور وہاں بھی اپنے معیار مقرر کیے تو ایک دن میں اپنا آپ لے کر یوں ادھر نکل آیا۔ مگر تم شاید سن نہیں رہے، تمہیں مزید سننا ہو گا میرے دوست کہانی ابھی باقی ہے۔ “

مگروہ اب سنتا نہ تھااور مسلسل کھانستا ہی چلا جاتا تھا ۔میں نے اس کی اکھڑتی سانسوں کو، خود کے پھیپھڑوں سے سانس دینے کی بھی کوشش کی مگر وہ سنبھلتا نہ تھا۔ مجھے اپنی کہانی ادھوری رہ جانے کا احساس ہوا تو میں نے اسے اپنے گلے لگا لیا۔ اس کا سینہ میرے سینے میں پیوست تھا۔ میں نے ساری کہانی اس کے سینے میں منتقل کردی تو وہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اب وہ میری کہانی سنانے سڑکوں پہ گھومتا ہے مگر اسے وہ کہانی سنانے کے لیے خود کے سوا کوئی میسر نہیں۔میں دھند کے پار پہنچ گیا ہوں اور وہاں بھی صرف میں ہوں