Skip to content

موت سے ہم نے سیکھی حیات آرائی

عالمی افسانہ میلہ 2021

تیسری نشست

افسانہ نمبر68

انجُم قدوائی

علی گڑھ انڈیا

موت سے ہم نے سیکھی حیات آرائی

وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اسکی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس کا اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔

اسُ دن پتہ نہیں کیسے اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ لرزے اور سامنے آتی ہوئی کار نگا ہوں سے اوجھل ہوگئی ایک زور دار دھماکے کی آواز پھر اندھیرا ۔۔۔گہرا اندھیرا چھاگیا ۔۔۔

پتہ نہیں کتنے گھنٹے یا کتنے دن بیت گئے ۔۔ہاسپٹل کے بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا نہ جانے کون کون سی نلکیاں بازوؤں اور چہرے پر لگی تھیں ۔۔کچھ غُنودگی کی سی کیفیت میں میری انگلیوں پر ایک نرم سا دوپٹہ سانس لینے لگا ۔۔اس دوپٹہ کی ایک آواز ، ایک بے بس اور بے حد بے چین آوازمیری سماعت کو تڑپانے لگی ۔

۔۔بیٹا ۔۔۔لوٹ آؤ میں نہ جی سکوں گی ۔۔۔نہ رہ سکوں گی تیرے بغیر ۔۔۔کیا ہوگا میرا ۔۔۔جب تک تو گھر نہیں لوٹ آتا ہے میرے گلے سے کھا نا نہیں اتر تا ۔۔اب کیا کروں گی ۔۔یہاں تو رکنے کی بھی اجازت نہیں میرے بچّے ہائے ۔۔تجھے کیا ہوگیا ۔۔۔”دوپٹے کا لمس کانپ رہا تھا ۔ ۔ دواؤں کی اتنی ساری بد بوؤں کے باوجود اس لمس کی خوشبو میرے ذہن کو معطر کر رہی تھی زندگی کی طرف بلاُ رہی تھی ۔۔۔امی کے نماز کے دوپٹے اتنے نرم ہوتے تھے کہ اکثر میں ان کی نماز کی چوکی پر لیٹ کر ان کی گود میں سر رکھ لیتا تھا ۔۔۔صرف نرمی اور لمس محسوس کر نے کے لئے ۔۔۔ایک عجیب سی خوشبو جس کو کسی اور خوشبو سے مثال دینا ناممکن ہے وہ امی کی خوشبو ہے صرف میری امی کی ۔

میری کلائی کو چھوتا ہوا وہ دوپٹہ دور جانے لگا اور۔۔ اور میں نے کو شش کی کہ ہاتھ بڑھا کر انھیں تھا م لوں مگر میں ایک انگلی بھی نہ ہلا سکا ۔

تکلیف و بے بسی سے دل پر گہرا ملال چھانے لگا میں پھر غنودگی کی کیفیت میں چلا گیا ۔۔۔بے خبر ہوگیا ۔۔

وہ شاید کوئی دوپہر تھی شاید بھیا آفس سے آئے ہونگے ۔۔ان کی مخصوص تیز خوشبو میں محسوس کر رہا تھا وہ بیڈ کے قریب تھے ان کی سخت آواز مجھے سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھنے کے لئے بہت کوشش کرنی پڑ رہی تھی وہ شاید ڈاکٹر سے مخاطب تھے کچھ پریشان لگ رہے تھے بیڈ کے قریب آگئے تھے ان کے کوٹ کا کونا میری انگلیوں میں لگا تو تو میں ڈر گیا بھیا غصّہ میں تھے ان کو گاڑی کے ٹوٹ جانے کا غصہ تھا وہ شینا سے یہی بات کر رہے تھے ۔ان کے لمس سے مجھے ان کے دل کی گہرایوں میں چھپی بات سمجھ میں آنے لگی ۔۔

اتنی منہگی گاڑی لے کر نکلنے کی کیا ضروروت تھی ۔۔اور تمہاری کار کہاں تھی انھوں نے شینا پر برستے ہوئے دوا کا نسخہ اسُ سے چھین لیا ۔۔۔

اب کار کی مرمت کرواؤں گا یا پھر اتنی منہگی دوائیں ۔۔۔

وہ کچھ بول نہیں رہے تھے مگر کوٹ کا لمس یہی کہہ رہا تھا ۔اور میں شرمندگی کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا

۔کیوں چلائی بھیا کی گاڑی ۔۔کاش دن واپس آجاتا کاش ۔۔پھر وہی اندھیرا وہی سننا ٹا سائیں سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے میں امی سے کس طرح لاڈ اٹھواتا تھا ۔۔ان کی نماز کی چوکی میری پسندیدہ جگہ تھی ان کے پاس گھس کر سو جانا ۔

بٹو میری ہتھیلی کا چھالا تھی کسی بھی بات سے اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آجائیں یہ سو چ کرمیرے شب و روز گزرتے تھے مگر یہ سب باتیں شینا کے میری زندگی میں آنے سے پہلے کی باتیں تھیں ۔

جب سے وہ آئی تھی میرا امی کے پاس بیٹھنا بھی گراں گزرتا تھا اسے میں غیر محسوس طریقے سے بہت دور ہوتا چلا گیا ۔۔۔بھولنے لگا تھا سب کو اور میرے منھ پر زور دار چانٹا یہ میری اذیت تھی

بِّٹو کے ہاتھ میں پھول تھے شاید ۔۔مگر اسے آئی سی یو۔ میں رکھنے کی اجازت نہ تھی پھول کی ایک پنکھڑی میری کلائی پر چھوٹی سی بات چھوڑ گئی ۔

۔بھیا خدا کے لئے اچھے ہوجاؤ مجھے چھوڑ کے مت جا نا میرا کوئی نہیں ہے ۔اس کے آنسوؤں کی نمی میری کلائی سے ہوتی ہوئی میرے دل میں اتر رہی تھی ۔۔

وہ میری بہن ہی نہیں میری سکھی سہیلی تھی وہ میری پہلی محبت تھی جب وہ امی کی گو دمیں آئی تو میں آٹھ برس کا تھا ۔۔۔وہ میری سب سے پہلی دوست سب سے پہلا پیار اور سب سے پہلی تسکین تھی۔

امی کے ایک طرف میں دوسری طرف وہ ہوتی تو میں امی کےنرم نرم پیٹ پر سے ہوتا ہوا بس اسی کو دیکھا کر تا ننھی سی گلابی گلابی گڑیا میرے دل کے بے حد قریب تھی ۔

۔اپنی شادی کے بعد میں نے اس کو اکیلا کر دیا تھا مگر وہ اب بھی میرے ساتھ تھی ہر لمحہ ۔مجھے جینا ہے مجھے ان سب کی طرف لوٹنا ہے ۔۔میں اپنے حوصلوں کو مضبوط کر رہا تھا میں اپنی ہمّت کو ان سب آوازوں سے سہارا دے رہا تھا ۔۔

رات کا کوئی پہر تھا شاید جب شینا مجھے دیکھنے مجھ پر جھکی ہوگی اس کی ساری کا آنچل میرے بازو پر ہلکا سا لہرایا ۔۔

میں تو پہلے ہی کہتی تھی اگر ڈیڈی کے پاس کینڈا چلے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔یہاں کیا رکھا ہے ۔۔اور تمہارے گھر والے ؟ یہ بھیا تمہارے کتنا غرور ہے ان کو اپنی پوزیشن کا ۔۔۔تم کینڈا جاکر ان سے دُ گنا زیادہ کما سکتے ہو ۔۔مگر سنو گے تھوڑی ۔۔۔میں تو ہار گئی کہہ کہہ کر ۔۔۔

بٹو کی شادی کی فکر میں تم اکیلے ہی گھلُ رہے ہوتمہارے بھیا کو تو پرواہ بھی نہیں ۔چلو یار یہاں سے ۔سب ٹھیک ہوجائے گا ۔

آج کل پیسہ ہی ہر مشکل کا حل ہے ۔۔۔اب کیسے کہوں تم تو ایسی حالت میں سن بھی نہیں سکو گے ۔

اس کی جھنجھلاہٹ میں صاف محسوس کر رہا تھا ۔۔جھڑکنے کا سا انداز میرے اندر آگ سی لگا رہا تھا ۔کیا اب مجھے ایسے ہی جینا ہوگا ۔۔۔کیا یہی زندگی ہوگی ۔۔یا موت ؟

رفتہ رفتہ سب کا میرے پاس آنا کم ہوتا جارہا تھا بھیاّ بھی کئی کئی دن نہ آتے۔

شینا ایک دن خوب خوشبوؤں میں نہائی ہوئی آئی اور ڈاکٹر جو میرے اوپر جھکا تھا پوچھنے لگی ۔۔

۔کوئی امید ہے کیا ؟

ڈاکٹر کی انگلیاں میرے ماتھے پر تھیں وہ خاموش تھا مگر مجھے سنائی دے رہا تھا 

۔کوما میں ہے کیا پتہ بچ ہی جائے یا پھر چل پڑے اور بچ بھی گیا تو کیا ۔کمر کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اٹھنا بیٹھنا تو ناممکن ہے ۔۔شاید بس سانسیں بغیر مشین کے لے لے اور پھر مڑ کر شینا سے بولا ۔

ہم امید پر قائم رہتے ہیں ۔

شینا اٹھلا کر میرے قریب سے نکلتی چلی گئی ۔

دروازے کے باہر سے ا س کا ہلکا سا قہقہ میں نے صاف پہچان لیا تھا ۔اف ۔۔۔

دھیرے دھیرے میں اس زندگی کا عادی ہوگیا تھا ۔۔پہلے بھیا روز آتے تھے مگر اب وہ بہت مصروف ہوگئے تھے۔امیّ روز آتی مگر اندر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر باہر بیٹھی رہتیں ۔جس وقت اندر آتیں ان کا لمس مجھ سے ہزاروں باتیں کر تا وہ استھما کی مریض تھیں مرض بڑھ رہا تھا ۔۔وہ اپنی فکر بالکل نہیں کر تی تھیں ۔

۔شینا کی بے وفائی ،امی کے مجھے لپٹا کر پیار کرنے سے واضع سنائی دی تھی ۔وہ اب کینڈا جارہی تھی اس نے کمرے میں آکر میری پیشانی پر اپنا کیوٹکس بھرا ہاتھ رکھ کر بڑے ناز سے کہا ۔

یا مجھے سنائی دیا ۔

اب نہیں گزر سکے گی تمہارے ساتھ ۔یہ بھی کوئی زندگی ہے ۔اور اب تو ڈاکٹر بھی مایوس ہوچکے ہیں ۔۔میں کب تک انتظار کروں ۔

ایک دن جب بٹو میرے بال سہلا رہی تھی تو اس کے لمس میں تھرتھرا ہٹ تھی اور امی کے چلے جانے کی خبر بھی تھی ۔میری زبان اکڑ گئی تھی ہونٹ سوکھ رہے تھے ۔دل میں تلا طم بر پا تھا ۔کلائی پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ایک ایک قطرہ میری نسوں میں اتر رہا تھا ۔

میں پانی مانگنا چاہتا تھا مگر میرا جسم ساکت تھا ۔مجھے معلوم تھا امیّ چلی گئیں ورنہ بٹو اس طرح تڑپ کر نہ رو رہی ہوتی ۔

چار برس یوں ہی گزر گئے بِٹو مجھے گھر لے آئی تھی اسپتال کا خرچ بہت آرہا تھا ۔کوئی نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا ۔وہ مجھ کو کہانیاں سناتی مجھ سے باتیں کرتی ۔۔میری دواؤں کا خیال رکھتی ۔میں بے جان لاش کی طرح پڑا رہتا ۔میرے لئے جو میل نرس کا انتظام اس ُ نے کیا تھا اس کی بیزاری بھی مجھے صاف محسوس ہوتی مگر میں لا چار تھا ۔اپنے لئے خود دعا کرتا تھا ۔

وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اس کی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس کا اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔

اسُ دن۔اچانک میری آنکھ کے گوشے سے آنسو کا ایک قطرہ آہستہ آہستہ چلا اور بٹو کی ہتھیلی بھگو گیا ۔۔

Published inانجم قدوائیعالمی افسانہ فورم
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x