Skip to content

قیمت

عالمی افسانہ میلہ “2021”
پہلی نشست”
افسانہ نمبر “19”
“قیمت “
افسانہ نگار..سلمان حمید(میونخ،جرمنی)

آپ کی بیٹی نے قے کر دی ہے”، جرمن لب و لہجے میں کہے گئے اس فقرےکو سن کر رمیض کے چلتے ہوئے قدم ٹھہر گئے. پیچھے کھڑی اس گوری رنگت اور سنہرے بالوں والی جرمن لڑکی نے رمیض کو اس کی بیٹی کی اس حرکت سے خبردار کرتے ہی اپنے بیگ سے کچھ ٹشوز نکال لیے تھے.
اس نے بہت احتیاط کے ساتھ اپنے کندھے سے لگی گیارہ ماہ کی سوئی ہوئی فجر کو اپنے بازوؤں میں سیدھا کر کے اس کی پرام میں لٹایا اور اپنی جیکٹ اتارنے لگا. وہ جرمن لڑکی ابھی بھی ٹشوز ہاتھ میں تھامے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے وہیں کھڑی تھی.
یہ کرسٹین سے اس کی پہلی ملاقات تھی.
اونچی لمبی، چست جینز اور ٹی شرٹ کے اوپر کالے رنگ کی لیدر جیکٹ پہنے اور کمر تک لمبے سنہرے بالوں کو سلیقے سے باندھے وہ اپنے بیٹے مارکس کو اسکول سے لینے آئی تھی. ستائیس سالہ کرسٹین اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ اسکول سے دو گلیاں چھوڑ کر دو کمروں کے فلیٹ میں رہتی تھی.
جتنی دیر میں رمیض کی بڑی بیٹی انایہ اسکول سے باہر نکلی، رمیض نے جیکٹ صاف کر کے دوبارہ پہن لی. اسی دوران وہ کرسٹین کا شکریہ ادا کر کے چند باتوں کے دوران کچھ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی کر چکا تھا. رمیض اور کرسٹین کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ انایہ اور مارکس ہم جماعت ہیں.
جرمنی میں رہتے ہوئے رمیض کو گیارہ سال ہو چکے تھے. وہ پڑھنے کی غرض سے یہاں پہنچا تھا اور بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ اس نے یہ فقرہ پاکستان میں تقریباً سبھی دوستوں اور رشتہ داروں سے سنا تھا کہ جرمن لڑکیاں بہت پیاری، اونچی لمبی اور وفادار ہوتی ہیں. خوبصورتی اور قد کاٹھ کی حد تک تو اس بات میں کافی صداقت تھی لیکن وفاداری کو پرکھنے کا اس کا کبھی کوئی ارادہ نہیں رہا کیونکہ تعلیم مکمل ہوتے ہی اسے جب یہیں نوکری مل گئی تو والدین نے اس کی رضامندی سے اس کی شادی پاکستان میں اس کی یونیورسٹی کی ہم جماعت ماہم سے شادی کر دی جس سے رمیض نے جرمنی آ کر بھی رابطہ منقطع نہیں ہونے دیا تھا. ماہم ہی وہ وجہ تھی جس نے اسے جرمنی میں گزشتہ دو سالوں میں ہر قسم کی خرافات سے دور رکھا اور نوکری ملتے ہی وہ پہلی فرصت میں ہی اپنی محبت کو جرمنی بیاہ لایا.
ان دونوں کی زندگی میں انایہ کا آنا تھا کہ رمیض نے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر اپنی بیٹی کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا. بیوی تو اس کی محبت کا مرکز تھی ہی. کام سے گھر آ جانے کے بعد انایہ کو گھنٹوں گود میں لیے گھومتے رہنا، اس کے ساتھ کھیلنا اور اپنے سینے پر سلا لینا اس کی مصروفیات تھیں. اور پھر ان کی زندگیوں میں فجر نے شامل ہو کر ان کو مکمل کر دیا تھا.
یہ پچھلے سال اپریل کی ڈھلتی ہوئی ہفتے کی شام تھی جب ماہم اپنے معمول کا لباس (جینز کے اوپر پاکستان سے لائی گئی قمیض) پہنے اور سر پر اسکارف لیے چند ہفتوں کی فجر کو پرام میں لٹائے ٹرین اسٹیشن پر کھڑی تھی. رمیض نے گھر میں انایہ کے ساتھ کارٹون دیکھتے ہوئے اسے فون کیا تو ماہم نے شرارت سے کہا، “اگر آج میں اکیلے خریداری کرنے چلی ہی گئی ہوں تو صبح سے بیس بار فون کر چکے ہیں، صبر کریں آ جاتی ہوں”، اور یہ سنتے ہی وہ کھلکھلا کر ہنس دیا تھا.
تھوڑی دیر بعد رمیض کا فون بجا تو اسے یاد نہیں کہ کب اس کے ہاتھ سے فون گرا اور انایہ اسے کب سےجھنجھوڑ رہی تھی. اسے بس اتنا یاد تھا کہ اسے ہسپتال آنے کا کہا جا رہا تھا کیونکہ کہ کسی مقامی شخص نے ماہم کو پلیٹ فارم پر تیزی سے آتی ہوئی ٹرین کے آگے دھکا دے دیا تھا.
جرمنی کی حکومت کا پناہ گزینوں کو بلا تفریق و امتیاز داخلے کی اجازت دے دینے اور ان کی اس ملک میں بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف مقامی لوگوں میں دبی ہوئی انتہا پسندی پچھلے کچھ مہینوں سے سر اٹھا رہی تھی. ان بڑھتے ہوئے نسل پرستی اور دہشتگردی کے واقعات کا شکار ہونے والی ماہم کو کھو دینے کے بعد اگلے کچھ دن تک تو وہ دوستوں، پولیس اور میڈیا والوں کے درمیان گھرا رہا. پھر وہ ماہم کو ایک تابوت میں ڈال کر دونوں بچیوں کو ساتھ لے کر پاکستان چلا گیا. یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس کی وحشت اور ہولناکی نے اس کا پیچھا وہاں بھی نہ چھوڑا اور وہ کئی ہفتوں بعد بھی اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کے سامنے انایہ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا.
واپس جرمنی آنے کا فیصلہ ٹھیک تھا یا غلط یہ وہ ابھی تک نہیں سمجھ پایا تھا لیکن اس کے لیے اکیلا باپ بن کر یہاں بچوں کو پالنا نسبتاً آسان تھا اور اس ملک میں وہ اپنے بچوں کو نسبتاً زیادہ سہولیات اور وقت دے سکتا تھا.
جرمنی واپس آتے ہی اس نے انایہ کو اسکول اور فجر کو ڈے کئیر میں داخل کروا دیا اور اپنی کمپنی والوں سے بات کر کے دفتر سے جلدی نکلنے لگا تاکہ بچوں کو مقررہ وقت پر لے کر گھر چلا جایا کرے اور ان کو کھانا کھلا کر کھلونوں میں مگن کر کے خود وقفے وقفے سے رات تک گھر سے دفتر کا کام کر سکے. اس معمول کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے تھے اور آج کرسٹین سے وہ پہلی بار ملا تھا. یہ چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں اب تقریباً روز ہونے لگی تھیں. بچوں کے اسکول سے باہر نکلنے تک کے کچھ لمحوں کی گفتگو سے انہوں نے ایک دوسرے کے بارے میں کافی کچھ جان لیا تھا اور بات چیت میں کچھ حد تک بے تکلفی بھی آچکی تھی.
کرسٹین کا پہلا بوائے فرینڈ اس کے حاملہ ہونے کی خبر سن کر گھبرا کر اسے حمل گرانے کے لیے مجبور کرنے لگا تھا جس کی وجہ سے کرسٹین کے ساتھ اس کی اکثر لڑائی رہنے لگی اور وہ دونوں مارکس کی پیدائش سے پہلے الگ ہو گئے تھے.
بچوں کے ہوم ورک اور اسکول کی دوسری معلومات کے بارے میں بات چیت کے لیے دونوں نے فون پر بات کرنا اور کبھی کبھی ایک دوسرے کے گھر ملنا بھی شروع کر دیا تاکہ بچے آپس میں بیٹھ کر اسکول کا کام کر سکیں. کبھی رمیض کو دفتر میں دیر تک رکنا ہوتا تو کرسٹین اس کے بچوں کو لے کر اپنے گھر چلی جاتی یا وہ کرسٹین کی غیر موجودگی میں مارکس کو اپنے ساتھ گھر لے جاتا اور وہ بعد میں آ کر اسے لے جاتی. جو من کرے
اس دن جمعہ کو کرسٹین نے دفتر کے سالانہ ڈنر کی وجہ سے دیر تک باہر رکنا تھا. مارکس ان کے گھر آتے ہی کہنے لگا کہ وہ رات ان کی طرف سونا چاہتا ہے کیونکہ اسے رات دیر تک انایہ کے ساتھ کھیلنا تھا. رمیض نے ہنس کر اسے ٹالنے کی کوشش کی لیکن انایہ بھی مارکس کا ہاتھ پکڑے بضد تھی. رمیض نے مذاق میں کرسٹین کو موبائل پر پیغام لکھ بھیجا کہ بچے آج اس کی بات نہیں مان رہے تو وہ بے شک ریستوران سے سیدھی اپنے گھر چلی جائے. کرسٹین نے ہنس کر منع کر دیا اور کہنے لگی کہ وہ فارغ ہوتے ہی مارکس کو لینے آئے گی اور سمجھا بجھا کر گھر لے جائے گی. بچوں کو رات کا کھانا کھلا چکنے کے بعد رمیض نے فجر کو اپنے کمرے میں سلا دیا کیونکہ مارکس اور انایہ بچوں کے کمرے میں کھیل رہے تھے. رمیض پرسکون سوئی ہوئی فجر کے ساتھ بستر پر بیٹھا دفتر کا کام کر رہا تھا کہ کرسٹین نے اپنے دروازے پر آنے کی اطلاع موبائل پر بذریعہ میسیج دی. وہ آتے ہی بچوں کے کمرے کی طرف بڑھی تو کھلکھلا کے ہنسنے لگی کیونکہ دونوں بچے انایہ کے بستر میں آڑھے ترچھے لیٹے سو رہے تھے. رمیض اسوقت کچن میں اپنے لیے چائے رکھنے لگا تھا تو اس نے بچوں کو سوئے دیکھ کر کرسٹین کو چائے کی دعوت دے دی جو کرسٹین نے یہ سوچ کر قبول کر لی کہ تھوڑی دیر مارکس کو سو لینے دیا جائے اور پھر وہ اسے جگا کر لے جائے گی.
وہ دونوں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے جب کرسٹین نے اس سے ایک عجیب سا سوال پوچھا. رمیض کی کرسٹین سے بے تکلفی تو تھی لیکن اس حد تک نہیں کہ وہ اس سے ماہم کے جانے کے بعد کسی اور سے جسمانی تعلقات کی بابت پوچھ لیتی. کرسٹین کو تجسس تھا کہ اپنی ہر ملاقات میں اپنی مری ہوئی بیوی کی باتیں کرنے اور بچوں پر جان چھڑکنے والا یہ بتیس تینتیس سالہ اونچا لمبا گندمی رنگت والا پرکشش نوجوان اپنے اوپر کیسے قابو رکھ پاتا ہے. رمیض کو ہکلاتا دیکھ کر وہ ہنسنے لگی اور اپنے بارے میں بتانے لگی کہ کس طرح اس نے آغاز کے کچھ مہینے مارکس کو اکیلے محنت کر کے پالا اور پھر اس کی زندگی میں دو سے تین مرد آئے جو ایک بچہ ہونے کی وجہ سے اس کی زندگی میں زیادہ عرصہ نہیں رکے. کرسٹین شادی وغیرہ کے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتی تھی. وہ جانتی تھی کہ کوئی مرد اس کے بچے کو شادی کے بعد باپ کی محبت نہیں دے پائے گا اور وہ بھی شادی کی جھنجھٹ میں اپنے بچے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتی تھی.
وہ پچھلے کچھ مہینوں سے کسی بھی مرد کے لمس سے بالکل آزاد تھی. شاید اسی لیے وہ باتیں کرتے کرتے رمیض کے بالکل پاس آ گئی اور اس کو ہلکا سا دھکہ دے کر صوفے پر گرا لیا.
چائے کے کپ سامنے پڑی تپائی پر دھرے تھے، ٹی وی ہلکی سی آواز کے ساتھ چل رہا تھا اور کرسٹین اپنے پورے وجود کے ساتھ رمیض کے اوپر لیٹی تھی.
اتنے سال جرمن حسیناؤں کے جھرمٹ میں خود کو بچا بچا کر رکھنے والے اور ماہم کے بعد ہر قسم کے دیسی و ولائتی نسوانی لمس سے دوری اختیار کیے ہوئے رمیض کے لیے یہ سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ اس کی سانسیں اوپر نیچے ہونے لگیں اور اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا.
اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی.
کرسٹین کو شاید معلوم تھا کہ مشرق سے آئے ہوئے اس شرمیلے سے لڑکے کو خود سپردگی کے عالم سے نکل کر مغربی معاشرے کی اس اکیلی رات میں پورے ہوش وہواس کے ساتھ رنگ بھرنے میں کچھ وقت درکار ہو گا اسی لیے سنہرے بالوں والی بے باک حسینہ نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر بے لباس ہونے میں پہل کی. اس نے رمیض کے ہونٹوں کو بے انتہا شدت سے چومتے ہوئے خود کو پورے وزن کے ساتھ اس کے اوپر تب تک گرائے رکھا جب تک رمیض کے نتھنوں میں اس غیر ملکی جواں سالہ حسینہ کے بدن سے اٹھنے والی خوشبو نے گھس کر دماغ کو بے قابو نہیں کر دیا. رمیض کے بے جان ہاتھوں میں حرکت ہوئی اور اگلے ہی لمحے انہوں نے کرسٹین کے بے داغ اور بھرپور جسم کو والہانہ انداز میں ہر اطراف سے ٹٹولنا شروع کر دیا تھا.
ابھی ان کو ایک دوسرے میں پیوست بوس و کنار کرتے ہوئے کچھ لمحے ہی گزرے تھے کہ کمرے کے باہر ہلکا سے کھٹکا ہوا اور کرسٹین بجلی کی سی تیزی سے رمیض سے الگ ہو گئی اور نیم وا دروازے کی جانب دیکھنے لگی.
“میرا خیال ہے کہ مارکس دروازے کے پیچھے سے ہمیں دیکھ رہا ہے”. کرسٹین نے رمیض کے کان کے پاس سرگوشی کی. کچھ دیر دونوں اپنی اپنی جگہ پر ساکت سانس روکے بیٹھے رہے. پھر کرسٹین چپکے سے اٹھی اور دبے قدموں دروازے تک گئی. یکدم دروازہ کھول کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا. اس نے مڑ کر رمیض کو دیکھ کر حیرانی میں کندھے اچکائے، کمرے کا دروازہ بند کیا اور کمرے میں جلتا ہوا اکلوتا بلب بجھا دیا.
اب کمرے میں ٹی وی کی اسکرین پر بدلتے مناظر کی وجہ سے ملگجا سا کم زیادہ ہوتا اندھیرا تھا اور چلتی ہوئی انگریزی فلم میں کبھی کبھی دن کا سین آنے پر کمرے میں اتنی روشنی ہو جاتی کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی شکلیں نظر آ سکیں.
کرسٹین صوفے پر آ کر بیٹھتے ہی رمیض کے ساتھ چپک گئی تھی. وہ اتنے عرصے کے بعد میسر آئے ان لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی. اس نے رمیض کی باہیں اٹھا کر اپنی کمر کے گرد حمائل کیں اور اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر کر چومنے لگی. جس وقت کرسٹین دنیا و مافیہا سے بے خبر رمیض کی شرٹ کے بٹن کھول رہی تھی، رمیض کا دھیان دروازے کی جانب تھا. اس نے اچانک کرسٹین کے ہاتھ پیچھے کیے اور اسے ہکی بکی وہیں چھوڑ کر تیزی سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا.
کرسٹین حیران پریشان اٹھی اور رمیض کے پیچھے چل دی.
رمیض بچوں کے کمرے کے کھلے دروازے میں کھڑا ہولے ہولے کانپ رہا تھا. اس کے چہرے پر موت کی سی سفیدی تھی اور آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں. انایہ بستر میں پاجامے کے بغیر مدہوش سوئی پڑی تھی اور مارکس اپنے کپڑے اتارے انایہ کے پاس بیٹھا اسے گھور رہا تھا…

Published inسلمان حمیدعالمی افسانہ فورم

Comments are closed.