Skip to content

رنگ محل

عالمی افسانہ میلہ “2021”
دوسری نشست
افسانہ نمبر” 24″
 افسانہ       رنگ محل 
شزا حسین . حیدرآباد, پاکستان

شام سمے جب نارنجی شعاعیں دریا کے درپن میں اپنا عکس دیکھتی ہیں تو کتنے حسین رنگ اور منظر نگاہوں میں سما جاتے ہیں…..یوں لگتا ہے جیسے دریا کی روانی کوئی کہانی سنا رہی ہے کوئی پرانی کہانی جسے بار بار سنایا جاتا ہے اور ہوا کے سنگ پانی کا یہ شور مختلف کرداروں کی آوازیں ہیں۔ پہلی بار یہ احساس میرے اندر تک اترتا چلا گیا۔ آج دریا کی روانی مجھے کہیں دور لے جا رہی تھی…
آج مجھے وہ شام یاد آئی جب چڑیاں چہچہاتی ہوئی گھروں کو لوٹ رہی تھیں اور میں کُونج کی طرح کُرلاتا, ڈار سے بچھڑ کر کسی جائے پناہ کی تلاش میں تھا,لیکن میرے لیے کہیں امان تھی نہ پناہ۔ وہ شام اتنی دلگیر تھی کہ میں جیون سے سانس کا بندھن تک توڑ دینے کو تیار ہو گیا تھا۔ گلے میں پھانس اور سینے میں کئی طوفان تھے۔ میں پُل سے چھلانگ لگانے ہی والا تھا کہ کسی مہربان نے مجھے تھام لیا۔
“کیا کر رہے ہو دوست؟ دریا میں نہانے کا اتنا شوق ہے تو آؤ میں کنارے پہ لیے چلتا ہوں اور اگر زندگی سے منہ موڑ رہے ہو تو ایسا نہ کرو۔ میرے ساتھ چلو”۔
پتا نہیں کیا تھا اس کے لہجے میں کہ بنا لب ہِلائے میں اس کے ساتھ چل دیا۔
جانے وہ مجھے کہاں لے آیا۔ وہ ایک کمرے کا مکان تھا۔ خستہ حالی اپنے ہی حال پر نوحہ کناں تھی ورنہ میں کسی رنگ کو کہاں دیکھ سکتا تھا؟
اگلے دن وہ میری کہانی سننے لگا۔ کہانی نئی تو نہ تھی مگر کردار ضرور نیا تھا۔ میں بولتا رہا اور وہ میرے کلیجے میں سُلگتے زخموں پر پھاہے رکھتا گیا۔
زندگی معمول پر آ گئی….ہاں زندگی! جو مجھے یہاں اس چھوٹے سے گھر میں محسوس ہوئی اور جو محمد فیض کے الفاظ میں سانس لیتی تھی,محسوس ہوتی تھی۔ مجھے لگتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا سکالر میرے ساتھ رہتا ہے جس نے کتابوں کی سیاحت میں زندگی گزاری ہو لیکن یہ سیاحی تو زندگی کے دشت کی تھی دوسری طرف میں تھا.. ایک مایوس انسان لیکن اس کے الفاظ نے مجھے جینا سکھا دیا۔ تین ماہ کیسے گزر گئے پتا ہی نہیں چلا۔
ایک دن حسبِ معمول محمد فیض اپنے کام پر جانے کو تیار ہوا۔
” کیا کرتے ہو بھائی؟ “۔ آج ہمت کر کے میں نے سوال کیا۔
“تجارت کرتا ہوں دوست! خواب بیچتا ہوں,رنگ بیچتا ہوں اور کبھی کبھی جذبات بھی بیچ لیتا ہوں”۔
فیض کی بات سن کر میں حیران ہوا۔ “یہ کیسا کام ہے یار ؟”۔
اُس نے جواب نہیں دیا بس مجھے ساتھ لے گیا۔ وہاں لوگوں کی بِھیڑ تھی, شور شرابا تھا۔ فیض مجھے کرسی پر بٹھا کر چلا گیا۔
پاس بیٹھے لڑکے نے بتایا کہ یہ سرکس ہال ہے اور ابھی رنگ محل سجنے والا ہے۔ میں خاموش سا سوچ میں پڑ گیا۔
پردہ ہٹا اور آواز سماعتوں سے ٹکرائی… میں چونک گیا۔
“معزز ناظرین اور پیارے سامعین ! آپ سب کو رنگ محل میں رنگیلے کا سلام۔”
“آواز تو محمد فیض کی تھی,تو کیا وہ مسخرہ تھا؟ ” میں سوچ میں پڑ گیا کہ آواز دوبارہ کانوں سے ٹکرائی۔
“یہاں آج رنگ محل کا آخری پڑاؤ ہے اور آج میں رنگ بیچنے آیا ہوں….میرے پاس وہ رنگ ہیں جو بہت جلد چڑھتے ہیں اور بڑی جلدی اتر بھی جاتے ہیں۔ یہ کچے رنگ ہیں۔ ان کی اپنی کوئی ساکھ کوئی پہچان نہیں۔ یہ بس اصلیت چھپانے کا کام کرتے ہیں اور ایک رویے کی مار ہیں۔”
رنگیلا کے لہجے میں جوش تھا۔ میں رنگوں کو آنکھوں میں سمانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
” میرے پاس وہ رنگ بھی ہے جس سے کسی چُنر کو رنگ دیا جاتا ہے یا کسی کی مانگ کو سجایا جاتا ہے۔ وہ رنگ بھی جو رگوں میں روگ بن کے دوڑنے لگتا ہے اور پھر سہانے سپنوں کو بے رنگ کر دیتا ہے… یہ رنگ خریدو گے؟”
“ارے خریدنے والے کیا کیا نہیں خریدتے؟ آؤ اِس رنگ کو دیکھو۔ یہ سیاہ ہے…..جو خود غرضی اور بے حسی پر ماتم کرتا ہے۔ جس میں رشتوں کی بے ثباتی کی ایسی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں کہ سیاہی بھی رو پڑتی ہے”۔
اُس کی آواز ایک پل کو لرزنے لگی اور مجھے وہ رنگ یاد آیا جو مجھ نا بینا کی ماں کے مرنے کے بعد بھائی اور بھابھی کے خون پر حاوی ہو گیا تھا۔
فیض کی آواز پھر اُبھری….
“مہربان لوگو ! کبھی اُن رنگوں کو دیکھا ہے جو احساس کی قوس قزح بناتے ہیں اور جو ہمدردی کی قُبا پہنے کسی بے سہارا اور کمزور کی ہمت بنتے ہیں…. یہ رنگ جینے کی اُمنگ پیدا کرتے ہیں۔ یہ دنیا رنگوں کا میلہ ہے دوستو…بات صرف سمجھنے کی ہے”۔
پتا نہیں رنگیلا کیا کیا بول رہا تھا اور پورا مجمع واہ واہ کہتے نہیں تھک رہا تھا۔
تماشا ختم ہوا۔ ہم گھر کو لوٹ آئے۔
وہ رات بڑی خاموش تھی…محسوس ہوتا تھا کہ آج چاندنی بھی اُداس ہے اور ہوا بانسری بجا رہی ہے جس کی دُھن پر درد محوِ رقص ہیں۔ ہم دونوں کُھلے آسمان تلے اپنی اپنی چارپائی پہ کروٹیں بدل رہے تھے۔
” جاگ رہے ہو فیض ؟” میری آواز نے درد کے رقص میں خلل ڈال دیا۔
“احمد! میں فیض نہیں, بے فیض ہوں جسے کسی نے اپنایا نہیں , جس کی کسی کو چاہ نہ تھی سوائے ابا کے”۔
فیض کی آواز بھیگی ہوئی محسوس ہوئی…. میرا روم روم سماعت بن گیا۔
“جانتے ہو میں کون ہوں؟ مجھے بھی کہاں معلوم تھا, لوگوں نے بتایا۔
سامنے جو کچرے کا ڈھیر ہے نا ! ابا نے یہیں سے ایک روتا کُرلاتا بچہ اٹھایا تھا۔ بقول ابا وہ بچہ نہیں سفید نور میں لپٹا ہوا فرشتہ تھا جسے ابا نے اپنے سینے میں چھپا لیا اور آج وہ فرشتہ رنگیلا بن چکا ہے۔
ابا مزدور تھا, بے اولاد تھا اور اس کی بیوی مر چکی تھی۔
مجھے برابر والی خالہ صفیہ کے پاس چھوڑ جاتا اور خود سارا دن وزن ڈھوتا, لیکن شاید زندگی کے کندھوں پر درد ڈھوتا تھا۔
بہت صابر تھا, کبھی اپنے رب سے شکوہ کرتے نہیں دیکھا میں نے ابا کو۔ ہم دونوں کا دنیا میں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ پھر ابا مجھے آٹھ جماعتیں پڑھا کے رب سے جا ملا اور خالہ صفیہ کا گھرانہ بھی بیٹی کی شادی کے بعد یہاں سے ہجرت کر گیا “۔
رنگیلا کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔
“ابا کہتا تھا تُو بڑا ذہین ہے پُتر۔ تجھے بڑا آدمی بناؤں گا,لیکن میں رنگیلا بن گیا ۔”
وہ بولتا رہا, میں سنتا رہا…ہم کبھی رونے لگتے کبھی مسکرا دیتے۔
اگلی صبح بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی.. جیسے گھنے بادلوں سے آسمان خالی ہو چکا تھا اور اوس کے موتی بھی چمک کر سبزہ نکھار چکے ہوں۔ فیض ناشتا بنانے میں مگن تھا اور مجھے ایک سوال چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
” فیضے, تُونے شادی کا نہیں سوچا کبھی؟”۔
” ہممم…. سوچا تھا.. بلکہ بہت محبت سے سوچا تھا”۔ فیض کا انداز کھویا کھویا سا تھا۔
” پھر ؟ “
“بچپن کی محبت تھی جو خالہ صفیہ کے کچے آنگن میں کھیلتے کھیلتے آکاس بیل کی طرح پروان چڑھی.. بانو تھی بھی بہت پیاری اور میرا بڑا خیال رکھا کرتی تھی۔
ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے پھر وہ پانچ جماعتیں پاس کر کے گھر داری سیکھنے میں لگ گئی, اسے پڑھنے کا بڑا شوق تھا پر گھر کے رسم و رواج آڑے آ گئے…
جانتے ہو احمد! ہم دونوں چاندنی راتوں میں ایک دوجے کے خط پڑھا کرتے تھے جس میں عمر بھر ساتھ رہنے کے سہانے سپنوں کی باتیں کرتے تھے….
یہ ساتھ والی دیوار ہے نا, یہاں سے وہ مجھے کھانا دے دیا کرتی۔ جب تک خالہ زندہ رہی میں ان کے گھر آتا جاتا رہا “۔
فیض اتنا بتا کر خاموش ہو گیا۔
” پھر کیا ہوا ” بتاؤ نا۔
” پھر یہ ہوا کہ اُس کا ابا میرے ابا جیسا نہیں تھا جسے میں کچرے کے ڈھیر سے ملا “فرشتہ” لگتا تھا… بانو کے ابا میرے لاوارث ہونے کا کہہ کر میرے مان اور محبت کو شرمندہ کر گئے, اُس کو دور کہیں بیاہ دیا اور خود بھی بیٹے کے ساتھ یہاں سے چلے گئے”…..فیض کے لہجے میں ہُوک تھی۔
“پھر”……میں بمشکل اتنا ہی کہہ سکا.
” پھر کیا…… اُس سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے” کہتا ہوا فیض اُٹھا اور مجھے اپنا خیال رکھنے کی ہدایت کرتا کام پر چلا گیا۔
اُسی روز اُس کی شام سے پہلے واپسی نے مجھے چونکا دیا “تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگتی بھائی ! کیا بات ہے؟” میرے لہجے میں فکر تھی۔ فیض کا سانس پھولا ہوا اور آواز میں تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔
” میرے ساتھ چل احمد ! جلدی کر میرے پاس وقت کم ہے۔”
پتا نہیں کیا کیا کہہ رہا تھا وہ۔ مجھے دکھائی نہیں دیتا تھا مگر آج سنائی بھی نہیں دے رہا تھا۔
اسپتال جا کر پتا چلا اسے کینسر تھا اور مجھے تین مہینوں میں پتا ہی نہ چلا۔ بے خبر شاید وہ بھی تھا۔ اسے اسپتال داخل کروا کے میں دعائیں قبول ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
……………. ……………. ……………..
“گجرے لے جاؤ صاب” اچانک کسی آواز نے مجھے یادوں کی روانی سے باہر کھینچا۔
یہ کوئی پانچ سات سال کا بچہ تھا… ہاتھ میں چند گجرے اور آنکھوں میں اُمید کے جگنو بھی تھے۔ میں نے اپنی شریکِ حیات کے لیے سارے گجرے خرید کر اُس کی آنکھوں کے جگنو مزید چمکا دیے۔
آج پُورے چھے ماہ دس دن بعد میں رنگ محل سے واپسی پر اُسی پُل پہ کھڑا ہوں, زندگی آج ہر سُو رنگ سجائے بیٹھی ہے اور بہ فیضانِ فیض میں ہر رنگ کو دیکھ سکتا ہوں۔ اُس رنگ کو بھی جو فیض مجھے اپنی آنکھیں تحفے میں دے کر میری روح پر ثبت کر گیا تھا۔

Published inافسانچہشزا حسینعالمی افسانہ فورم

Comments are closed.