Skip to content

جانی۔ قوس و قزح کا ریچھ

تیسری نشست

افسانہ نمبر 63

’’جانی۔ قوس و قزح کا ریچھ‘‘

نوٹ:یہ کہانی ہر عُمر کےبچوں کے لئے ہے

تحریر: بُش احمد، ایڈیلیڈ، ساؤتھ آسٹریلیا۲۰۲۱۰۸

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’آسٹریلیا میں کسی کو معلوم نہیں کہ جانی کہاں سے آیا تھا۔‘‘، باؔجی نے کہانی شروع کرتے کہا۔

رات کو سونے سے پہلے مجھ سے دو سال بڑا میرا بھائی مسعود اور میَں، ہمارے والد باؔجی کے ساتھ کہانی سُننے لیٹے ہوئے تھے۔ باؔجی کو معلوم تھا کہ اگر کہانی بور کرے گی تو ہم وہیں پر اُن کے ساتھ ہی چارپائی پر سو جائیں گے اور پھر ہمیں اُٹھا کر اپنے اپنے بستر پر لے جانا پڑے گا۔ کہانی سناتے سناتے باؔجی ہماری زبان سے ہُوں ہاں، ٹھیک ہے، وغیرہ یعنی ہمارے جاگتے رہنے کا اِقرار کرواتے جاتے تھے۔ ہر رات وہ ایک ایسے جُملے سے کہانی شروع کرتے تھے کہ ہماری بوجھل آنکھیں اور تھکے ذہن کی کھڑکیاں بند ہوتے ہوتے ایکدم دھڑام سے کُھل جاتی تھیں۔ میرزا ادیب کی کتاب صحرا نورد کے خطوط کی طرح ’’پھر آگے کیا ہوا؟‘‘ کا شوق ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ پھر نیند کس کمبخت کو آنی ہے!

’’جیسا کہ تمہیں معلوم ہے، دوسری عالمی جنگ کے دوران میَں برٹش انڈین آرمی میں تھا۔ میری پوسٹنگ مشرق وسطیٰ میں تھی، ہمارے کیمپ میں انگریزوں ، انڈین عربی مصری حبشی فوجیوں کے علاوہ آسٹریلیا سے آئے ہوئے فوجیوں میں وہاں کے قدیم یعنی ایبوریجنل (Aboriginal) باشندوں میں سے نارِن یاری (Ngarrindjeri) قبیلے کا ایک کالا خوب صورت اور صحت مند نوجوان ’’جان‘‘ بھی تھا۔اُس سے میری دوستی ہو گئی تھی۔ آسٹریلیا کے بارے میں بہت کچھ بتانے کے دوران جب اُسے معلوم ہوا کہ میں پنجاب سے تعلق رکھتا ہوں تو اُسکا موتیوں جیسے دانتوں والا مُنہ خوشی سے کُھل گیا تھا اور آنکھوں میں ایک خاص چمک آ گئی تھی۔پھر اُس نے مجھے یہ کہانی سُنائی تھی۔ اسلئے تمہیں سنانے کے لئے کہانی کے مرکزی کردار کا نام میَں نے اُسی نوجوان کے نام پر ’’جانی‘‘ رکھا ہے۔

جتنے راوی ہیں اُتنی ہی جانی کی داستانیں ہیں۔ آسٹریلیا کے سب سے بڑے دریا کا نام مَرّے (Murray) ہے۔ آسٹریلیا کی دو ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز اور وِکٹوریہ کی سرحد پر واقع آسٹریلین ایلپس (Alps) سلسلہ ہائے کوہ کی برفانی چوٹیوں کی مغربی ڈھلوانوں پرپگھلتی برف کی سینکڑوں ندیوں نالوں میں پِنہاں منبع سے شروع ہوتا ہے۔ ڈارلنگ اور مَرّمْ بیِجی جیسے بڑے دریاؤں کو ساتھ ملاتا، شہ زور مائیٹی (Mighty) مَرّے دریا ایک مائیٹی اژدہے ہی کی طرح بَل کھاتا، راستے میں دونوں اطراف واقع ہزارہا ایکڑ پر مشتمل خوبانی، آڑو، آلو بخارے، بادام، پستہ، مالٹے،لیموں، انگوروں اور کھجوروں کے باغات اور مکئی، چاول، کپاس، گندم، لوبیا، اور آلوؤں کے کھیتوں کی آبیاری کرتا، پندرہ سو میل کا سفر طَے کر کے ساؤتھ آسٹریلیا کی الیگزینڈرینہ اور البرٹ جھیلوں کو سَیراب کرتا، کُورونگ (Coorong) نیشنل پارک کے ریتلے ٹیلوں کے نشیب و فراز کے درمیان اٹکھیلیاں کرتا کبھی بند کبھی کُھلے ’’مَرّے ماؤتھ‘‘(Murray Mouth) کے ریتلے کُھردرے لبوں کو میٹھے پانی کا بوسہ دیتی نازک اندام ندیا بن کر چُلّو بھر پانی میں شرم سے رُک جاتا ہے۔

سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی

ساحل نے ہے ندی کو مقید کیا ہوا

لیکن بھلا ہو خطِ استوا پرایک ہزار میل فی گھنٹہ رفتار پر اپنے ہی گِرد کُرّۂ ارض کی گردش کا جس سے دُوراُفتادہ قُطبِ جنوبی کے برفانی بَرِّاعظم انٹارکٹیکا سے یخ بستہ موسمیاتی فرنٹ کی مہمیز سے الف ہو کر اُچھلتے روڈیو (Rodeo) سواری کرتے تیز جھکڑوں کے ہوائی گھوڑے، مشرق میں بحرالکاہل اورمغرب میں بحرِ ہِند سے ہم نوالہ، ہم پیالہ کرتے بحرالجنوبی (Southern Ocean) کے چاند کے قُرب سے بے قرار مگر خراماں خراماں مدّوجزر پر ٹاپیں مارتے، کُورونگ کے ریتلے ساحل پر آ اُترتے ہیں۔ اُنکی لپیٹ میں آئی طوفانی لہروں کی سَرد مہر آغوش کے تھپیڑوں میں بالآخر مَرّے دریا ریت کے ذرّے ذرّے کی ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے کے بعدتھک ہار کر دھیرے سے لیٹ جاتا ہے۔ اُسکاآخری بوسہ انسانی جونک چِمٹی زمین کے دیدۂِ تَر میں آنسوؤں کی کڑواہٹ چکھتا ہے۔

اِس دریا کے دونوں کناروں پر اور آسٹریلیا کے بیابانوں میں دنیا کی قدیم ترین تہذیب کی زنجیر میں کڑی در کڑی زندہ رہتی ایبوریجنل (Aboriginal) قوم بستی ہے۔ پچھتر ہزار سالوں سے بھی پرانی مسلسل قائم و دوام ایبَورِیجنل قوم کےبڑے بوڑھے بزرگ ابتدائے آفرنیش کے خوابناک وقت (Dreamtime) کی کہانیاں سناتے ہیں۔ آج بھی اگر اِس دریا کے ساتھ ساتھ چلیں تو ہم میں گہری نگاہ رکھنے والے لوگ اُن درختوں کو دیکھ سکتے ہیں جن کی چھال اور لچکدار ٹہنیوں سے پرانے زمانے کے ایبوریجنل اپنی ہلکی پھلکی ناؤ بناتے تھے۔ دریا کے ساحل کے قریب، ہزاروں سالوں کے سیلابوں کی لائی جمع شدہ مٹی کی عمودی ڈھلانوں کی تہوں میں ترک شدہ سیپی اور جانوروں کی ہڈیوں کے ٹکڑے، مچھلیاں پکڑنے کے قدیم پھندے اور قبیلوں کی حدبندی کے پتھریلے آثار ملتے ہیں۔ میَں نے ایبوریجنی لوگوں کو اپنے اپنے علاقے کی کہانیاں سناتے وقت جانی کا ذکر کرتے سُنا ہے۔ انہی علاقوں میں ڈیڑھ سو سالوں سے نوآباد کاشتکار فرنگی لوگوں کی جانی کے بارے میں مجھے بتائی گئی کہانیاں بھی ایکدوسرے سےمختلف ہیں۔ لیکن اُن سب کہانیوں میں تین چار باتیں مشترک ہیں۔ جانی ایک ریچھ جیسی مخلوق تھا۔ جانی کوئی معمولی ریچھ نہیں تھا۔اسکا رویۂ انسانوں کے ساتھ عام طور پر دوستانہ تھا۔ چھوٹے بچوں پر جانی خاص طور پر مہربان تھا۔ آسٹریلیا میں اُسکی قسم کا کوئی اور ریچھ نہیں تھا۔ کوئی نہیں جانتا جانی کہاں سے آیا تھا۔

جانی میں دُنیا کے سب ریچھوں کی نسبت، یکتا منفرد انوکھی اور سحر انگیز خاصیت اُس کی سُرمئی مائل بھوری کھال پر اُگے ہوئے لمبے گھنے مگر ریشم کی طرح نرم ملائم اور چمکتے بالوں کے رنگ کی تھی۔ کیا وہ ہمالیہ کا سفید چھاتی والا کالا ریچھ تھا؟ کیا وہ قطب شمالی کے پولر ریچھ کی طرح برف جیسا سفید تھا؟ کیا وہ امریکہ اور کینیڈا کے کالے اور بھورے ریچھوں کی طرح تھا؟ یا چینی پانڈا کی طرح وہ کالا اور سفید تھا؟ جانی کا جادوئی عجیب و غریب رنگ صورتِ حال سے وابستہ تھا۔ دِن کا کونسا وقت تھا، سورج کا زاویہ کیا تھا، اگر چاندنی رات تھی تو چاند کتنے دن کا تھا،مہینہ کونسا تھا، موسم کونسا تھا، آسمان اور بادلوں کا رنگ کیسا تھا، دیکھنے والا کون ہے، کس طرف کھڑا ہے، جانی سے کتنی دور ہے، کیسے کھڑا ہے کیا سوچ رہاہے، ہشاش بشاش ہے یا غمگین، پُرسکون ہے یا برانگیختہ، لاپروا ہے یا فکرمند، مصروف ہے یا فارغ۔ جوش و خروش سے بھرپُور ہے یا تھکاماندہ،سیَر شُدہ ہے یا بھوکا، صحت مند ہے یا بیمار، بچہ ہے، نوجوان ہے یا بوڑھا، مرد ہے یا عورت، جاہل ہے یا عالم، اور جانی کے لئے کونسا رنگ اسکے مزاج، طبیعت اور جمالیاتی حِسّ کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے، اسکی رُوح کی مضراب کی تاروں کے ساتھ تال میل کرتا ہے۔

جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے کچھ انسانی آنکھیں چیزوں کے عکس میں سورج کی روشنی کے پوشیدہ ساتوں رنگ دیکھ سکتی ہیں۔ نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ انتہائی ذہین انسان اپنے ذہن میں بیک وقت ایک سے زیادہ مختلف متنوع باہمی متضاد خیالات، سوچ اورآرأ بغیر کسی اُلجھن کے رکھ سکتے ہیں۔ کچھ انسانی آنکھیں صرف ایک، دو، تین، چار یا پانچ رنگ دیکھ سکتی ہیں، کچھ لوگوں کو بالکل کوئی رنگ نظر نہیں آتا ۔اسے رنگوں کا اندھاپن سمجھ لو۔ یعنی کچھ لوگوں کو کچھ رنگ تو واقعی نظر نہیں آتے اور کچھ رنگ شاید وہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ اسلئے دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر دیکھنے والے کو جانی مختلف رنگ کا ریچھ نظر آتا تھا۔ ایک شخص کہتا تھا ’’جانی سفید اور کالا ہے‘‘۔ دوسرا شخص کہتا تھا، ’’نہیں! جانی پیلا اور سبز ہے‘‘۔ کوئی اور کہتا تھا، ’’جانی گلابی اور نیلا ہے‘‘۔ اور کوئی صرف ایک ہی رنگ پر اڑا رہتا تھا۔اسکا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ لوگوں کا اکثر اوقات آپس میں جھگڑا ہو جاتا تھا کہ جانی کا حقیقی رنگ کیا تھا۔ عجیب بات یہ بھی تھی کہ چھ سات سال کی عمر تک کے اکثر چھوٹے بچوں کو جانی میں بیک وقت ساتوں رنگ نظر آتے تھے اسلئے اُن کی باہمی لڑائی کم ہی ہوتی تھی۔ ایک اور عجیب بات بھی تھی۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں جانی بالکل نظر نہیں آتا تھا۔ وہ ناک اُونچی کر کے چلتے تھے اور باقی لوگوں کو بے وقوف اور فریبِ نظر کا شکار سمجھتے تھے۔

ایک لمبے عرصے تک لوگوں کا جانی ریچھ کے لئے کسی ایک خاص نام پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔ کیا بوڑھے، کیا نوجوان کیا بچگان سبھی اُسے بس ’’جادو کا ریچھ‘‘ (Magic Bear) کہہ کر پکارتے تھے۔ جب کبھی کسی گاؤں میں شور مچتا تھا کہ قریب ہی کسی پہاڑی پر جانی نظر آیا ہے سب لوگ اپنا اپنا کام چھوڑ چھاڑ کر بچوں کو ساتھ لے کر جانی کو دیکھنے روانہ ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ جلدی جلدی کچھ نہ کچھ پکا کر پکنک منانے ساتھ لے جاتے تھے۔ کچھ لوگ جانی کے لئے اپنے باغوں سے پھل اور کچھ لوگ اپنے اپنے گھریلو شہد کی مکھیوں کے چھتوں سے نکالا ہوا شہد لے جاتے تھے اور اچھا خاصہ میلہ سا لگ جاتا تھا۔

ایک دن اِسی طرح کا میلہ لگا ہوا تھا۔بہار کی آمد آمد تھی لیکن ہوا سَرد تھی۔موسلا دھار بارش ابھی کچھ دیر پہلے ہو کر رُکی تھی۔ بادل پھٹ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی پھوار کبھی کبھی گِر رہی تھی۔ مَرّے دریا کے کنارے ، ایک بستی کے باہر, کھیتوں سے پَرے, شمال مشرق کی طرف ایک اُونچے ٹیلے پر جانی اپنے پچھلے دونوں پاؤں پر سیدھا کھڑا آسمان کی طرف تھوتھنی اُٹھا کر نتھنوں سے کُچھ سونگھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حسبِ معمول، جانی کو دیکھ کر اُسکے رنگ پر تبصرہ کرتے لوگوں کی باہمی چپقلش جاری تھی۔ بارش سے شرابور، ٹھنڈ اور بھوک سےبے چَین بچوں کو سنبھالتے جھگڑتے تھکے چِڑچِڑے لوگوں کے پیچھے سورج بادلوں سے آنکھ مچولی کھیلتا جنوب مغرب کی طرف جھک رہا تھا۔سائے لمبے ہو رہے تھے۔ اچانک جانی کے سَر کے اوپر آسمان پر بادلوں سے جھلکتی، جانی کے پیچھے اُفق پر زمین کو چُومتی، ایک خوبصورت بل کھاتی سیڑھی نما قوس و قزح نمودار ہوئی جس کے رنگوں کا عکس جانی کی ریشمی چمکتی کھال میں نُمایاں ہوا۔ خوشی سے تالیاں بجاتی سُرخ گھنگریالے بالوں اور سُنہری رنگت والی ایک چھ سات سال کی بچی نے کہا، ’’قوس و قزح کا ریچھ سیڑھی سے اُتر کر آیا ہے‘‘ تو بالآخر ست رنگی آنکھ رکھنے والوں کا اتفاق ہو گیا، کہ اُس دن کے بعد سے جانی کو ’’قوس و قزح کا ریچھ‘‘ (Rainbow Bear) کہا جائے گا۔ اور یہی ہوا بھی۔ لیکن جیسا کہ دنیا میں اکثر ہوتا ہے یک رنگی سوچ رکھنے والے کچھ لوگ پھر بھی نہ مانے۔ ان کا ست رنگی لوگوں سے اختلاف چلتا رہا۔

سُرخ گھنگریالے بالوں اور سُنہری رنگت والی اُس بچی کا نام اُمائچی کومبو (Ummaiche Kombo) تھا۔ مقامی نارِن یاری زبان میں اسکا مطلب ہے ’’قوس و قزح‘‘۔ اُسکی ایبورِجنل ماں کا نام ڈاکُو تھا۔ ڈیاری زبان میں ڈاکُو کا مطلب ہے ریت کا ٹیلہ۔ ڈیاری قبیلہ برِّ اعظم آسٹریلیا کے وسطی صحرائی بیابان میں واقع ایک خشک نمکین جھیل کے کناروں پر بستا ہے۔ اُمائچی کومبو کےسُرخ بالوں والے گورے چِٹّے باپ کا نام اکبر خاں تھا۔ اوراُس کا تعلق پنجاب اور کشمیر کے درمیان کے علاقے پُونچھ سے تھا۔

آسٹریلیا تقریباّ چار ہزار کلومیٹر لمبا اور اتنا ہی چوڑا ہے ۔ دُنیا کے سب آباد بَرِّاعظموں میں آسٹریلیا سب سے خشک آب و ہوا والا بَرِاعظم ہے جس کا سَتر فیصد علاقہ نمی سے محروم ہونے کی وجہ سےبنجر اور ویران ہے۔اسکے سب بڑے شہر سمندر کے پاس واقع ہیں۔ اندرونی علاقہ انتہائی خُشک صحرائی بیابان پرمُشتمل ہے۔دور دراز علاقوں کی بستیوں اور لاکھوں بھیڑیں پالنے والی بڑی بڑی اراضیات پرمشتمل (Sheep stations) فارمز کو آپس میں منسلک کرنے کے لئے اُنیسویں صدی کے دوسرے نِصف میں آسٹریلین حکومت نے ٹیلی گراف کی تاروں اور کھمبوں کا نیٹ ورک قائم کرنا اور ریلوے ٹرین کی پٹریاں بچھانی شروع کر دیں۔ اُن دِنوں موٹر گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ صحرا اور بیابان میں گھوڑوں پر سفر بہت مُشکل تھا۔ سن اٹھارہ سو ساٹھ (1860) سے شروع ہو کر، برٹش انڈیا کے مغربی علاقوں پنجاب، کشمیر، راجستھان، سِندھ اور بلوچستان سے سینکڑوں اُونٹ اور اُونٹوں کی تربیت میں ماہر اُنہی علاقوں کے آدمیوں کو بھرتی کیا گیا۔ بلوچستان میں اُونٹ چَراتے افغان بھی رہتے تھے ،وہ بھی چلے آئے۔ تاروں، کھمبوں اور دیگر سامان و خورد و نوش سے لدے (Camel Train) اُونٹ گاڑیوں کے قافلے ستر سال یہی کام کرتے رہے جب تک موٹر گاڑیوں کا رواج نہیں ہو گیا۔ اُونٹوں کو ہانکنے، اُن کی مہار تھامنے، ڈاچی والوں اُونٹ بانوں کو اُس زمانے سے آسٹریلیا میں افغان کیَمل ڈرائیورز کہا جاتا ہے۔

اکبر خاں بھی ایسا ہی ایک کیمل ڈرائیور یعنی ڈاچی والا تھا۔ ایک قافلے کے ساتھ، وسطی آسٹریلیا کے بیابان میں ڈیاری قبیلے کے علاقے سے گُزرتے ایک پہاڑی چٹان کے نیچے سے پُھوٹتے چشمے کے تالاب کے قریب پڑاؤ کرتے اُسکی ملاقات ایبوریجنل لڑکی ڈاکُو سے ہو گئی۔ نوجوانی کے شباب کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں عِشق نہ پُچھے ذات! بقیہ ساری عُمر وہ یہی کہتا رہا کہ ڈاکُو نے اُسکے دِل پر ایسا ڈاکہ ڈالا کہ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔ اُنہی دِنوں آہستہ آہستہ آسٹریلیا میں موٹر گاڑیوں کا رواج بڑھتا جا رہا تھا۔ اُونٹوں، اُونٹ بانوں کی ضرورت اب کم ہی پڑتی تھی۔ صحرا کی مشکلات جھیلتے اکبر اور ڈاکُو نے فیصلہ کیا کہ مَرّے دریا کے قریب زرعی زمین کے ایک ٹُکڑے پر گھر بسایا جائے اور دونوں جنوبی آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہو گئے جہاں اُن کی ایک بیٹی ہوئی۔ باپ جیسے سُرخ گھنگریالے بال، ناک اور گالوں پر دُھوپ میں نمایاں ہو جانے والے باریک باریک سُرمئی مائل گلابی تِل، ماں جیسی بادامی آنکھیں اور سُنہری رنگت کی وجہ سے بیٹی کا نام اُنہوں نے مقامی نارن یاری قبیلے کی زبان میں اُمائچی کومبو یعنی دھنک رکھا۔

بارش کے بعد قوس و قزح والے اُس دِن سے جانی ریچھ اور اُمائچی کومبو کی گہری دوستی ہو گئی۔ اگلے کئی سالوں میں مَرّے دریا کے دونوں کناروں پر پھرتے پھراتے جب کبھی جانی کا اُسی علاقے میں جانا ہوتا تھا تو وہ اُمائچی کومبو کو اپنے کندھے پر سوار کر کے اکبر اور ڈاکو کے ساتھ پِکنک منانے ایک نزدیکی پہاڑی کی چوٹی پر لے جاتا تھا۔ ڈھلان کی طرف میدان میں رکھی گئی بھیڑوں کے پینے کے لئے بارش کا پانی اکٹھا کرنے کے لئے بند بنا کر ایک تالاب بنایا گیا تھا۔ چوٹی کے آس پاس بے شمار گول چھوٹے موٹے پتھر بکھرے ہوتے تھے۔ بچی کے کہنے پر جانی بڑے سے بڑا گول پتھر اُٹھا کر تالاب کی طرف لُڑھکا دیتا تھا جو دھڑام سے پانی میں گِرتا تھا اور بچی خوشی سے تالیاں بجاتی تھی۔ چاروں مِل کر پِکنک مناتے تھے اور خوشی سے گھر واپس آتے تھے۔ کئی سال ایسا ہی ہوتا رہا اور اُمائچی کومبو گیارہ بارہ سال کی ہو گئی۔لیکن جیسا کہ آنیس نِین نے لکھا ہے، ہمارا ہر نیا ساتھی ہمارے لئے ایک نئی دُنیا وجود میں لئے آتا ہے۔ زندگی ہماری ہمت کے مطابق پھیلتی یا سُکڑتی ہے۔ جانی کی یہ نئی دُنیا بھی بدلنے کو پر تول رہی تھی۔

آسٹریلیا میں انگریزوں کی حکومت نے سن اُنیس سو دس (1910) میں ایک نیا قانون بنایا جس کی رُو سے ہر وہ بچہ مخلوط نسل ٹھہرایا گیا جس کے ماں اور باپ میں سے ایک ایبوریجنل یعنی کالا تھا۔ اُن دِنوں عُرفِ عام میں ایسی نسل کو نیم ذات (Half-Caste) سمجھا اور کہا جاتا تھا جو ایبوریجنل لوگوں کو پسند نہیں آتا تھا۔ ایسےبچوں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور مسیحی تبلیغی مِشنوں نے اپنی تحویل میں لینےکا فیصلہ کیا۔ (اگلے ساٹھ سالوں میں ان دوغلے بچوں کی دو نسلیں اُنکے ماں باپ سے زبردستی چھین لی جائیں گی اور ’’چھینی گئی نسلیں‘‘ کہلائیں گی)۔ اِس قانون کی منطق کے پیچھے گوری رنگت کی چمڑی اور مغربی تہذیب کااحاسِ برتری تھا، نسلی تعصب، تکبر اور یہ مفروضہ تھا کہ سُنہری براؤن رنگت رکھنے والے دوغلوں کو علیحدہ کر کے اُنکی مناسب تہذیب و تربیت کر کے سفید معاشرے میں مدغم کر کے مفید اور کارآمد حصہ بنا دیا جائے تو جنگلوں بیابانوں میں بسنے والی اصلی نسل کی ایبوریجنل قوم خود ہی ناپید ہو جائے گی۔ اِن بچوں کو سفید معاشرے کا فعال رُکن بننے پر مجبورکیا گیا ۔ اُنہیں اپنی قبائلی زبان بولنے یا اپنے والدین کے دئیے گئے ایبوریجنل ناموں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اکثر بچوں کو سرکاری یتیم خانوں میں رکھا گیا جہاں اُنہیں ناجائز طریقوں سے تسلط، تحقیر، غفلت، زیادتی، بے عِزتی اور نامناسب سلوک کا نشانہ بنانا عام دستور تھا۔ کچھ چھوٹے بچوں کو بے اولاد آسٹریلین جوڑوں نے گود لے لیا۔ بڑی عُمر کے اکثر بچے انتظامیہ کے گھروں میں ملازموں کی مانند ہی رکھے گئے۔ ان بچوں اور اُنکے ایبوریجنل والدین پر اس خوفناک تصادم کا اثر بقیہ تُمام عُمر باقی رہے گا اور یہ صدمہ اگلی نسلوں میں بھی چلے گا۔ ہزاروں سالوں سے مقامی زبانیں، آباؤاجداد کے قصے، روایتیں اور رسومات، درختوں کے ٹہنوں کو آگ سے کھوکھلا کر کے ڈِجری ڈُو (Didgeridoo) کا باجا بنانے اور بجانے، نوکیلےپتھر کی چونچ لئےنیزے اور پھینک کر گُھومتے جانے اور گُھومتے ہی واپس آنے والے ایرو ڈائنامِک بُومے ریَنگ (Boomerang) سے شکارکرنے اور خُشک بیابان میں چشموں اور نخلستان کو ڈھونڈ کر زندہ رہنے کے ہُنر و مہارت، آسٹریلین جنگلی جڑی بُوٹیوں کا عِلم اور معاشرتی دانشمندی وغیرہ اگلی نسل میں منتقل ہوتے آئے تھے۔ لیکن اب دُنیا کی قدیم ترین تہذیب کی زنجیر کی کڑیاں ایک ایک کر کے تیزی سے ٹُوٹ رہی تھیں۔

جس دِن پولیس کے ہمراہ حکومتی کارندے جنوب کی سمت سے ایک ٹرک میں دوسرے دوغلے بچوں کواُٹھاتے، اُمائچی کومبو کو بھی تحویل میں لینے آئے وہ اکبر خاں، ڈاکو اور جانی کے ہمراہ پکنک منانے گئی ہوئی تھی۔ گھر واپس آئے تو بستی کے اور لوگوں کے ہمراہ انتظامیہ کو مُنتظر پایا۔ روتی چیختی چلّاتی اُمائچی کومبو کو کھینچ کر اُسکے ماں باپ کی گرفت سے زبردستی علیحدہ کر کے، ٹرک میں ڈال کر آگے شمال کی جانب چلے۔ جانی کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ انتظامیہ کے لوگوں کو جانی نظر نہیں آتا۔ چلتے ٹرک سے اُمائچی کومبو نے چیخ کر جانی کو کہا، ’’ مُجھے نہ بُھولنا۔ میں واپس آؤنگی۔ تُم اُسی چوٹی پر میرا انتظار کرنا! تُم ضرور مُجھے دیکھو گے اور بار بار دیکھو گے۔‘‘

اُس دِن سے جانی کی آوارہ گردی بند ہو گئی۔ اب وہ ہر روز صبح سویرے اُسی چوٹی پر جا کر ایک بڑے پتھر پر بیٹھ کر شمال کی طرف رُخ کر کے اُمائچی کومبو کا انتظار کرتا، شام کو اکبر اور ڈاکو کے گھر چلا جاتا جہاں اُمائچی کومبو کے بارے میں باتیں سُنتے سُنتے اُداسی سے روتے روتے سو جاتا۔ کئی سال گُزر گئے۔ اُمائچی کومبو بھی اُن گُمشدہ لوگوں میں شامل ہوگئی جنہیں نامعلوم افراد ٹرک میں ڈال کر لے جاتے ہیں اور انکے پیارے اُنکی شکل دیکھنے کو ترستے تڑپتے یکے بعد دیگرے مر جاتے ہیں۔ پہلے ڈاکو، پھر اکبر خاں کے مرنے کے بعد جانی نے جا کرپہاڑی کی چوٹی پر اُسی چٹان پر مُستقل دھرناجما لیا۔

کہیں ایسا نہ ہو بن جائے پتھر

کہ ہنستا ہے نہ پاگل رو رہا ہے

وہاں بیٹھے بیٹھے جانی کو عرصہ ہو گیا ہے۔ گرمیوں کے تپتے سُورج، تیز ہواؤں کے تھپیڑے، گرج چمک کے اولوں کی بارش، سخت سردیوں اور طوفانوں نے جانی کے ساتھ بُہت نامہربانی کا سلوک کیا ہے۔بدلتے موسموں کی وحشت سے اُسکی کھال پر اُگی ملائم ریشمی چمکدار گنجان بالوں کی تہہ درتہہ سموری جاددئی ست رنگی پوستین آہستہ آہستہ فرسودگی اور بوسیدگی کی نذرہوتے ہوتے غائب ہو گئی ہے۔اُمائچی کومبو کا رستہ تکتے تکتے اُسکا بقیہ جسم پتھرا گیا ہے۔

کہ اب تو دیکھنے میں بھی ہیں کچھ محویتیں ایسی

کہیں پتھر نہ کر ڈالے یہ میرا دیکھتے رہنا

اس پہاڑی چوٹی کے قریب گُھومتی گھماتی سڑک پر موٹر گاڑیوں میں گزرتے، چُھٹی والے دِن اپنے بچوں کے ساتھ سیَر سپاٹے کرتے ’’کَرِنگ کاری‘‘ (Kringkari سفید فرنگی) جانی کی طرف اشارہ کرتے اپنی اپنی مرضی کی کہانی سُناتے ہیں۔ کبھی کبھار سڑک کے کنارے رُک کر، گاڑی سے اُتر کر وہ بچوں کے ساتھ کچے راستے پر چل کر وہاں پہنچتے ہیں جہاں جانی چٹان پر بیٹھا ہے اور کیمرے سے جانی کے ساتھ اپنی تصویریں بنواتے ہیں۔

مَرّے دریا کے دونوں کناروں پر بسنے والے لوگ ابھی بھی جانی کو اور اُس کی جاددئی رنگ پوستین کو یاد کرتے ہیں۔ وہ ابھی بھی جھگڑا کرتے ہیں کہ جانی کا رنگ کیا تھا۔ کبھی کبھی اُن میں سے کوئی مَنچلا بُوڑھا یا جوان اپنے ساتھ رنگین پینٹ کی ایک بالٹی اور برش لے آتا ہے۔ اور جانی کے اُوپر چاروں اطراف بہت پیارسے وہی رنگ کر دیتا ہے جو اُسے اپنے بچپن میں اُسکے دادا نانا نے جانی کی کہانی سُناتے بتایا تھا کہ اُسکی آنکھ میں، دِل میں جانی کا کون سا رنگ بھایا تھا۔ اور جیسا کہ ہم فانی انسانوں کا شیوہ ہے، یہ جھگڑا چلتا رہتا ہے۔کیوں کہ آج کے زمانے میں جب ہم خود اپنی گاڑی میں اس سڑک سے گزرتے ہیں تو ہر دفعہ جانی کو ایک مختلف رنگ میں چمکتا پاتے ہیں۔

جانی آج بھی اُمائچی کومبو کا انتظارکر رہا ہے۔ جانی انتظارکے خاموش سکوت میں ہے۔ وہ اتنا پُرسکون اور پتھر کے بے حرکت بُت کی مانند ساکن ہے کہ بُدھو کَرِنگ کاری اُسے صرف ایک ریچھ نما سنگوارہ پتھر سمجھتے ہیں۔ اور اُسے پتھرکا ریچھ (Bear Rock) کہتے ہیں۔

لیکن ہم اور آپ کُچھ اور ہی جانتے ہیں نا!؟۔۔۔کہانی ختم‘‘ ۔۔۔بآجی بولے۔

اختتامیہ:۔نائیجیریا کے ایک اسکول میں فزکس پڑھاتے ، بچیوں کو کہانیاں سُناتےجب میَں نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے سمُندر پار عرضیاں بھیجنی شروع کیں تو سب سے پہلے جنوبی آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی نے مجھے سکالرشپ کی آفر کی۔آسٹریلیا کی تحقیق کرتے مجھے بچپن کی بُھولی بسری کہانی یاد آئی۔ فوراً آفر قبول کر لی۔ یہاں پہنچا۔ پی ایچ ڈی شروع ہو گئی۔ میرے کام میں ریڈیو ٹرانسمیٹر اور ریسیور بنانے بھی شامل تھے۔ ایڈیلیڈ کے شمال، جنوب اور مشرق میں میَں نے تین ریڈیو اسٹیشنوں کی تکون ایک دوسرے سے اَسّی کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کی۔ ہر ہفتے میَں فزکس ڈیپارٹمنٹ کی گاڑی میں ان تینوں اسٹیشنوں کا چکر لگاتا تھا اور اپنا ڈیٹا جمع کرتا جاتا تھا۔ پہلی دفعہ میَں ایک کَرِنگ کاری ٹیکنیشن کے ساتھ اس بل کھاتی پہاڑی سڑک سے گزرا جس کے قریب جانی بیٹھا ہے تو ٹیکنیشن نے اشارے سے چٹان پر بیٹھا پتھر کا ریچھ دکھایا۔ ہر ہفتے وہاں سے گزرتے باقی کہانی بھی اُتر آئی جسے سُنتے سُنتے میرے اپنے بچے بڑے ہو گئے۔ اب اُردو میں قلمبند کرنے کی توفیق مِلی۔جب کبھی آپ آسٹریلیا آئیں تو میَں آپ کو جانی سے ملانے لے چلونگا (اب تو آپ گُوگل کے نقشے پر بھی دیکھ سکتے ہیں (Australia Bear Rock) لکھ کر تلاش کیجئے۔ گُوگل میں ہی دوسرے سیَر سپاٹے کرنے والے لوگوں کی لی ہوئی تصویریں بھی مل جائیں گی)۔

نقشے کی مدد سے آپ خود بھی وہاں جا سکتے ہیں اور جانی، قوس و قزح کا ریچھ دیکھ سکتے ہیں۔

جانی کو دیکھنے کا مناسب ترین وقت جاننے کے لئے مقامی موسمیاتی پیشگوئی چیک کیجئے۔ جس دِن بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے سورج اور ہلکی ہلکی پھوار نما بارش کا امکان ہو، اُس دِن سہ پہر کے وقت وہاں پہنچئے جب آپ کے پیچھے سورج جنوب مغرب کی طرف جُھک رہا ہو اور بادلوں میں چُھپتا نکلتا ہو۔ اب سڑک پر کھڑے ہو کر جانی کی جانب دیکھئے۔ اگر آپ واقعی خوش قسمت ہیں تو آپ ایک خوبصورت قوس و قزح دیکھیں گے جو جانی کے اوپر آسمان پر چھائی ہو گی۔ نیچے کی تصویر میں نے بیس سال پہلے لی تھی۔ اگر زُوم کر کے غور سے دیکھئے تو آپ کو مدھم سی قوس و قزح بھی دکھائی دے گی جو جانی کے اُوپر چھائی ہوئی ہے اور اُسکے بائیں طرف اُفق پر زمین کو چُوم رہی ہے۔ مُجھے یقین ہے اُمائچی کومبو جانی کو مِلنے آئی ہے۔

دُنیا میں خواہ کیسا اور کتنا بھی بُرا کیوں نہ ہو رہا ہو، ہماری گُمشدہ اُمائچی کومبو، اکثر ہماری نظروں سے اوجھل مگر کبھی کبھار صحیح موسم میں بادلوں سے لٹکتی جھلکتی چمکتی خوشی کی قوس و قزح اپنے پرانے دوست یار جانی کا خیال رکھنے، مِلنے ضرور آتی ہے۔ اپنا وعدہ پُورا کرتی ہے، باربار آتی ہے۔ جانی، جادو کا ریچھ، قوس و قزح کا ریچھ، پتھر کا ریچھ، ریچھ نما پتھر جو بھی اب اسے بُدھو کَرِنگ کاری فرنگی لوگ کہیں لیکن ہم اور آپ کُچھ اور ہی جانتے ہیں نا!؟

Published inبش احمدعالمی افسانہ فورم
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x