عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 99
تشنگی
کوثر بیگ، جدہ، سعودی عرب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گہری ہو چلی تھی حویلی کی رنگینیوں نے اپنے لئے کہیں اور جگہ ڈھونڈ لی تھی۔ سب ملازم اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے تھے۔ شہزادی بیگم صاحبہ اپنی تسلی کے لئے وسیع و عریض عمارت پہ مشتمل حویلی میں موجود کمروں کے دروازوں پہ لگے تالوں کا معائنہ کرتی ہوئی راہ داری میں جب داخل ہوئیں تو بہو رانی کو بیگم صاحبہ نے اپنی آرام گاہ کی طرف جاتے دیکھا تو آواز دی؛
“بہو! ” ، ”جی، امی جان۔”، ” آپ ابھی تک نہیں سوئیں۔” شہزادی بیگم نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔ ” جی میں پانی لینے آئی تھی۔ ” سوکھے حلق سے تھوک نگلتے ہوۓ بہو رانی نے جواب دیا۔”کل سے خادمہ کو کہہ کر اپنے کمرے میں پانی کا بندوبست مغرب سے پہلے کر لیا کریں۔” ، ” جی بہتر” وہ اتنا کہہ کر تیزی سے اپنی خوابگاہ کو ہو لی۔
شہزادی بیگم نے چند قدم آگے بڑھائے تھے کہ انہیں لگا جیسے بائیں طرف کھڑکی پر پڑا پردہ ہلنے لگا ہے۔ جب رک کر دیکھا تو پردہ ساکت تھا پھر وہ پردے کے قریب آئیں اور پردے کو اٹھانے لگی تو پردے کے پیچھے سے بوا نصیبن نکلی۔
بوا کی تین پشتیں اس حویلی میں کام کرتی چلی آ رہیں تھیں۔ چھوٹے نواب انہیں کے گود میں کھیل کر جوان ہوئے تھے ۔ “یہ کیا ہے، آپ یہاں کیوں ہیں، عیجب حرکتیں کرتی ہیں آپ ! ہماری تو جان ہی نکلے جا رہی تھی۔”
“تکلیف کے معذرت شہزادی بیگم صاحبہ، مجھے آپ کو ایک خاص بات بتانی ہے آپ میرے کمرہ میں چلیں، بتاتی ہوں۔” “ہم آپ کے کمرے میں چلیں گے ہوش تو ہے آپ کو۔ ” شہزادی بیگم نے رعب کے ساتھ متکبرانہ لہجے میں بوا سے کہا۔ “جی بیگم صاحبہ معافی چاھتی ہوں۔” بیگم صاحبہ نے تنبیع کرتے ھوۓ نصیبین سے کہا۔
” اچھا ٹھیک ھے آئندہ اپنی حیثیت مت بھولا کریں۔ حویلی کے مہمان خانے میں چلو اسے رات میں بھی کھلا رکھا جاتا ہے۔ “
نصیبین آگے آگے ہو لی۔ راستے میں پڑنے والے مد ھم روشنی کی جگہ تیر روشنی کے سبھی بند بلبوں کے بٹن کھولتی جاتی۔ شہزادی بیگم نصیبن کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی مہمان خانے تک پہنچی۔ مخملی ریشم سے ملبوس تخت و تاج جیسی معلوم ہوتیں کرسیاں ترتیب سے رکھی گئیں تھیں۔ دیوار میں نصب قدِآدم بڑے نواب صاحب کی تصویر پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک کرسی کو شہزادی بیگم نے اپنی طرف موڑ کر بر اجمان ہوتے ہوۓ بوا کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا، “ہاں بولو نصیبین۔۔۔ ” بوا قریب آ کر دھیمی سی آواز میں شہزادی بیگم سے کہنے لگی۔
” اللہ اپ کے گھر کو ہمیشہ رونق بخشے، میں کہوں تو چھوٹا منہ بڑی بات ہو گی، آپ سے پہلے معذرت کی درخواست ہے۔” تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد شہزادی بیگم حیرانگی اور غصے کے لہجے میں بولی۔ ” کچھ بولو گی ؟ آپ تو ہمارے گھر پیدا ہوئیں، امی حضور کے زیر سایہ بڑی ہوئی ہیں۔۔۔۔ پھر کہنے میں جھجک کیسی۔ ” بوا نے خوشامدی لہجے میں بیگم صاحبہ سے کہا؛ ” بات یہ ہے بیگم صاحبہ ابھی بہو رانی کو حویلی میں بیاہ کر آۓ صرف دس مہنے ہوۓ ہیں روز چھوٹے نواب صاحب رات میں باہر جانے لگتے ہیں تو وہ ہر دن سینہ سپرہو کر روکنے کھڑی ہو جاتی ھے۔ طرح طرح سے منتیں کرتی ہیں دہائیاں دیتی ہیں۔ میں ہر روز چپ چاپ یہ معاملہ دیکھتی رہتی ہوں اور چھوٹےنواب صاحب ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ کئی بار آپ سے کہنے کا ارادہ بھی کیا مگر آپ کے رعب و دبدبے نے ہمت پست کردی۔ “
“نصیبن بوا آپ نے تو ہمیں پریشان کر دیا، نوابوں کی زندگی میں یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے آپ کو نہیں معلوم کیا؟ ہمارے ساتھ بھی تو ایسا ہوتا رہا تھا۔ پھر ایک وقت کے بعد نواب صاحب کے دوستوں کی بیٹھک حویلی میں لگنے لگی۔۔۔۔ ایک وقت آیا سبھی دوست ایک ایک کرکے غیر حاضر ہونے لگ گئے، آہستہ آہستہ نواب صاحب کے دوستوں کی بیٹھک ختم ہو گئی۔ آپ دروازے اور لائیٹ بند کرکے آرام کر لیں۔ ” یہ کہہ کر شہزادی بیگم تیز تیز قدموں سے اپنی آرام گاہ کی طرف چل دیں۔ بہت ہی بڑا کمرہ جس کو بہت ماہرانہ انداز سے سجایا گیا تھا موتیا کے پھولوں کی مہک چاروں طرف بکھری تھی کمرے میں پڑی آرامدہ مسہری پر لیٹی بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں شہزادی بیگم سوچتی رہیں۔۔۔۔ کب نیند نے اپنے پر پھیلا کر آغوش میں لیا خبر بھی نہ ہوئی۔ صبح ہوتے ہی ناشتہ کرنے کے بعد شہزادی بیگم نے بوا کو بھیج کر بہو رانی کو بلوایا۔ بہو رانی حیرانی اور پریشانی کے عالم میں سوچتی رہی۔ ‘ آخرکار کیونکر مجھے بیگم صاحبہ نے بلوایا ھے۔ یوں اچانک آج کیسے ؟ اس سے پہلے تو مجھے کبھی نہ بلوایا، آخر کچھ نہ کچھ بات ضرور ہے۔ کہیں بیگم صاحبہ کو چھوٹے نواب کی خبر تو نہیں لگ گئی اور میرا روکنا ان کو ناگوار تو نہیں گزرا ہو گا. وہ ہیں ہی ایسی سخت مزاج۔۔۔۔ روایتی نواب زادی۔۔۔۔ کیا بات ہو گی۔ ‘ وہ سوچتی رہی۔۔۔۔ جبکہ دسترخوان پر مختلف انواع اقسام کے پکوان رکھے ہونے کے باوجود تھوڑا سا ے کر زہر مار کر لیا اور نعمت خانہ کی طرف چل دی۔
” آئیں یہاں تخت پر ہمارے قریب آ جائیں۔” یہ کہتے ہوئے کئی تختوں میں سے ایک تخت پر بیٹھی شہزادی بیگم نے گاوٗ تکیہ سے ٹیک لگاتے ہوۓ کہا۔ اس کشادہ اور خوبصورت نعمت خوانے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تخت بچھے تھے جن پہ مخملی سفید اور سرخ رنگ کی چادریں چڑھیں تھی۔۔۔۔ سب تختوں کے بیچ میں دبیزلال قالین ڈالی گئی تھی تختوں پر سرخ گاوٗ تکیے اور کشن سلیقے سے رکھے گئے تھے۔ دیواروں پر دیوارگری لگائی گئی تھی۔ دروازوں پر چھت سے لٹکتے ریشمی پردے جو فرش تک لٹک رہے تھے۔ چھوٹی بہو نے سارے کمرہ کا طائرنہ جائزہ لیا اور بیگم صاحبہ کے ساتھ والے تخت پر براجمان ہو گئی۔
” آپ گھبرا کیوں رہی ہیں آپ ہمارے اکلوتا بیٹے کی بیوی ہیں۔ اس گھر کی مالکہ ہونے کے ساتھ ہماری بیٹی جیسی ہیں۔ بہت امیدیں وابستہ ہیں ہمیں آپ سے۔۔۔۔۔”
بہو رانی نے بولنے کے لئے ابھی آدھا منہ ہی کھولا تھا کہ شہزادی بیگم نے ٹوکتے ہوۓ کہا۔
ہماری پوری بات سن لیجیئے۔ آپ کی شادی ہوۓ سال ہونے کو ہے۔۔۔۔ ہمیں اپنی حویلی میں بچے کی گلکاریاں اور اٹھکھیلیاں دیکھنے کے لئے دل بےچینی سے منتظر ہے۔ بہو رانی کا چہرہ گلنار کی طرح سرخ ہو گیا جو اس کے دل کی آرزو خوشی بن کر چہرہ پر واضع نظر آ رہی تھی اور شرم و حیا کی لالی الگ تھی یا پھر کچھ اور۔۔۔۔۔ شہزادی بیگم کی بات پوری ہونے سے پہلے چھوٹی بہورانی ” امی جان ” کہہ کر لپٹ گئی۔ شہزادی بیگم نے پیار سے سر سہلایا پھر کہنے لگیں، ” میری اچھی بہو رانی مجھے سب معلوم ہے چھوٹے نواب روز باہر دوستوں کی محفل سجانے چلے جاتے ہیں، بس ہمارے نور نظر کو آ جانے دیں ہم ان کی خبر لیں گے آپ کو فکرمند ھونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ آپ کسی کچے دھاگے سے نہیں بندھیں۔ آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر لے آئے ہیں۔ ہم نے حویلی کا ملازم آپ کی والدہ کو بلوانے بھیج دیا ہے ۔ ان سے مل کر آپ کو یقینا مسرت ہو گی۔ ” شہزادی بیگم خود کو بہو رانی سے الگ کرتے ھوۓ نرمی سے بولیں، “آپ روز روز چھوٹے نواب کو تنگ نہ کیا کریں یہ حویلی آپ کی ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں اس حویلی میں آپ کی جگہ کوئی اور بہو نہیں آ سکتی۔ خوش رہیں اور اپنی والدہ کے آنے سے پہلے ملازموں سے کہہ کر دعوت کا پرتکلف اہتمام کروا لیجیۓ۔”
ماں کو دیکھ کر جیسے بہو رانی کے دل کو بہت عرصے بعد سکون ملا مایوس اور شکستہ دل کو تسلی ہوئی چہرے پہ رونق لوٹ آئی۔ جتنی دیر ماں رہی، بہو رانی کسی نہ کسی بہانہ سے مہمان خانہ میں رات کے وقت بھی چکر لگاتی رہتی۔ ایک دن اماں جی نے بہو رانی کو خانہ باغ چلنے کے لیۓ کہا۔ بہو رانی نے شہزادی بیگم سے اجازت چاہی کہ وہ امی جان کے ساتھ اپنے گھر کا باغ دیکھنے چلی جائیں آج کل وہاں بہت سارے رنگ برنگے پھول لگے ہیں عرصہ دراز سے باغیچے میں پھول کھلتے نہیں دیکھے، تازہ ہوا نہیں لی۔ انہیں دیکھ آئیں۔ “ہاں چلی جائیں مگر جلدی آئیے گا۔ “
اجازت ملتے ہی ماں بیٹی باغ کی طرف چل دیں جہاں نہ حویلی کے ملازم تھے نہ کوئی اور، وہاں پہنچ کر خوب دکھ سکھ بانٹے ، گھر کی بہنوں بھائیوں کی باتیں کرتی رہیں۔ اماں نے پوچھا کہ آپ تو بی بی خوش ہیں ناں ؟ اس سے پہلے کے بیٹی جواب دیتی ماں پھر بولی، ” اتنا اچھا سسرال تو قسمت والوں کوملتا ہے، نہ آگے کوئی نہ پیچھے کوئی حصہ دار۔”
” امی جان دھن دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی اگر میاں کی محبت نہ ملے تو یہ سب بیکار اور بے معنی ہے پھر ایسی جائیداد کا کرنا کیا ؟ “
اماں نے منہ پر حیرت سے ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ ” آپ ہماری بیٹی ہیں، لال حویلی کی غزالہ خانم کی، نواب سرفراز جنگ بہادرکی بیوی اور سر ہدایت اللہ خان کی بیٹی ہیں ہم! ہمیں سب بتا دیا گیا ہے چھوٹے نواب کی بے اعتنائی لاپرواہی کے متعلق، آپ کے والد نواب ہونے کے باوجود ہم سے رشتہ ازواج قائم ہونے کے بعد دوستوں کی محافل سے یوں دور ہوۓ کہ آج تک پلٹ کرادھر دیکھا تک نہیں۔ سنو بٹیا رانی آپ کو ایسے گر سکھاتی ہوں کہ جمائی راجہ مٹھی میں بند نظر آئیں گے۔ چوڑی ، کنگن ، مالے ، بالے لچھے ، جھمکے ، پازیب صرف پہنا نہیں جاتا۔ آوٗ میں آپ کو سکھاتی ہوں کہ کیسے پازیب پہن کر چھم چھم چلنا اور کھڑے ہو کر کب چھن چھن کی آواز نکلنی چاہئے۔ ترچھی نگاہوں کے تیر کب چلا کر مرٖغِ بسمل کی طرح تڑپایا جاۓ۔ چوڑیوں کی کھنک کیسے من کو بھاتی ہے۔ مہندی سولہ سنگھار کرنا کیوں سہاگن کو ضروری ہے۔ عطر و خوشبو کی دھونی سے کیسے مدہوش کیا جا سکتا ہے۔ باورچی سے من پسند چیزیں بنوا کر اپنے نام سے پیش کرکے نزاکت سے اپنے ہاتھوں کیسے نوالا دیا جاتا ہے۔ سنو اپنی عزت پہلے خود کرنا سیکھو۔ خود کو حقیر و ذلیل کبھی مت سمجھو۔ ایسا کرو گی تو دوسروں کو ذلیل کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ کبھی کمزور نہ ہونا۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیں۔ آپ بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ گوری ایسی کے ہاتھ لگانے سے میل لگے۔ اونچی ناک ،غلافی آنکھیں ،پتلے ہونٹ جاذب نظر سراپا ۔متانت سے بھرا لب و لہجہ۔ اس شہر کی سب سے بڑی حویلی کی مستقبل قریب میں اکلوتی مالکن ہو۔ “
آٹھ دن میں اماں جی صاحبہ نے اتنی باتیں سمجھائیں کہ بیٹی ماں کی زبان بولنے لگی۔ ماں چلی گئی لیکن بہو رانی نے ان نصیحتوں کو پلو سے باندھے عمل پیرا ہوتی رہیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں حویلی کا ماحول بدل گیا۔ اب دونوں ہنستے مسکراتے ساتھ ساتھ رہتے۔ انہیں دیکھ کر سب خاص و عام خوش ہوتے دعائیں دیتے مگر چھوٹے نواب دس سال بعد بھی محافل میں رونق افروز ہوتے رہے۔ بہو رانی کے دل میں کھٹک برقرار رہی۔ ویسے بھی صبر کرتے کرتے عادی ہو چکی تھیں۔ اس طویل عرصہ میں گھر کے چراغ کی امید کی جوت جگاۓ شہزادی بیگم نہیں تھکی تھیں۔ البتہ اس گھڑی کو کوستی جب بہو رانی کو وعدہ دے بیٹھیں تھی کہ کسی اور کو بہو بنا کر نہ لایا جاۓ گا۔
اچانک ایک دن بہو رانی کے پیٹ میں شدید تکلیف شروع ہو گئی لال حویلی سے اماں جی بھی آ گئیں۔ شہزادی بیگم اور انہوں نے مل کر بہو رانی سے کئی سوال کر ڈالے جب ان کو یقین ہو گیا تو پھولیں نہ سمائیں۔ دونوں نے مزید سات مہینوں کی مدت کا حساب لگایا۔ خواہشوں کی منڈیر پر تڑپتی مچلتی خوشی ایسی کہ اپنی مانی ہوئی منتیں مرادیں گننے لگیں، پھر ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھتیں گلے لگاتیں اور کہتیں سب ادا ہو جائیں گی۔۔۔۔ پہلے بہو بیگم کی تکلیف ختم ہونا ضروری ہے۔ ڈرئیوار سے کہہ کر گاڑی نکالی گئی سب گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال ہو لیئے۔
شہزادی بیگم نے پہنچنے سے پہلے لیڈی ڈاکٹر کو فون پہ اطلاع دے رکھی تھی۔ ڈاکٹر ایسی جس سے بات کرنے کے لیۓ بھی مہنوں پہلے وقت لینا پڑتا تھا عام شہریوں کو۔ ڈاکٹر کے روم میں پہنچے دو تین ٹیسٹ کروائے پھر وہ مریض کا چیک اپ کرنے لگی۔ ایک دو سوال کرکے پھر چیک کرنے لگی۔ بہو رانی کو بیڈ پر جا کے لیٹنے کو کہا۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد لیڈی ڈاکٹر اپنی میز پر آ کر بیٹھ گئی۔ مضطرب نظروں سے سب دیکھنے لگے۔ آپ دونوں میں ان کی ماں کون ہیں۔
“جی یہ” شہزادی بیگم نے اشارے سے بتایا۔ ان کی عمر کیا ہے؟ “
“جی بتیس سال۔” آپ لوگ عجیب ہوتے ہیں اتنا سارا پیسہ ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں کو گھر میں بوڑھی کر دیتے ہیں۔ “کیا؟ ” دونوں کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔