Skip to content

ایک معصوم سی خواہش

عالمی افسانہ میلہ “2021”

تیسری نشست

افسانہ نمبر67

ایک معصوم خواہش

کوثر بیگ

جدہ سعودی عرب

زمانہ اپنی بساط پر ہر انسان کے لئے حالات کے الگ الگ مہرے چلتاہے ۔ہہلے میں جب گھر آتا تو گھر کاٹنے کو دوڑتا تھا تنہائی کا احساس دل میں کانٹے چبھوتا رہتا ۔ گھر سے باہر رہنے کی ترجیح میں ہی قرار رہتا۔اب حالات یکسر بدل گئے ہیں ۔حالات کی بساط پر مہرے گھر آنےکے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

گھر میں داخل ہوتے ہی حالات اپنی مسرت کی پوٹلی کھول دیتا ہے۔ بیوی کا مسکراتا ہوا چہرا ، بچوں کی معصومانہ پکار “بابا آئے

بابا أگئے!

یہ سنکر دن بھر کی تکان اتر جاتی۔

شہناز کا میری زندگی میں آتے ہی یہ راز کھلا کہ گھر کیا ہوتا ہے اور سکون کسے کہتے ہیں ۔ صاف ستھرا گھر ، بچوں کی شرارتیں ،معصوم سوالیں ، مہمانوں کا آنا، گھومنا پھرنا ۔ زندگی کی بسا ط پر خوشیوں کے گھوڑے کی ڈھائی چال نے میری زندگی کی کا یا ہی پلٹ دی ۔

یہ سب اللہ کا کرم ہی تو ہے۔

میں بستر پر لیٹا زندگی میں در آئی نئی خو شبوؤں سے معطر زندگی سے لپٹی خوشی اور سکون کے منبہ شہناز کامنتظر ہوں۔

میں نے أواز لگائی

شہناز ، شہنار !

اللہ جانے میری آواز وہ سن بھی پارہی ہے ۔ افف!

تمام کام نپٹا کر کب آئیگی۔

مجھے تو اب نیند آنے لگی ہے ۔

اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں ۔بچوں کو سلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ آہستہ سے دروازہ بند کرکے پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ شہناز نے کہا ۔

شکر ہے تم آگئی ۔ کل سے مجھے اسکول کے بچوں کا جو نیا کام ملا ہے اس کےلئے صبح جلد اٹھنا ہوگا ۔ کل سے سب کام تم جلدی کرلیا کرو۔

تو آپ سوجاتے ۔شہناز نے تیکھے نظروں سے گھورتے ہوۓکہا

“جب تک تم نہ سلاؤ ہم کہاں سونے والے ہیں” ۔میرے خمار بھرے نظر و انداز کلام کے جواب میں شہناز بے اختیار مسکرا کر نظریں چرانے لگی۔

“شہناز وہ عطر کی شیشی کہاں ہے” ؟

میں نے استفسار کیا

“صبو وہ تم میرے لئے لائے ہونا تو میں چاہتی ہوں وہ میں اپنی سکھی سہیلیوں سے ملنے جاؤں تب استعمال کروں ۔ اسے میں نے تم سےچھپا کر رکھ لیا ہے”۔

شہناز وہ عطر میں نے تمہاری سہیلیوں کےلئے نہیں بلکہ میں چاہتا ہوں تم میرے لئے اسے استعمال کرو ۔

پروفیسر صاحب کی بہو جب بھی اس مخصوص خوشبو کا استعما ل کرتی ہیں توسوچتا ہوں کہ تم بھی ایسی ہی خوشبو لگا کرمیرے لئے مہکا کرو۔زندگی میں پہلی بار اتنی قیمتی چیز اسی شوق کے لئے خریدی ہے ۔ دو ماہ کی آمدنی کے برابر رقم خرچ کی ہے تب جاکر خرید سکا ہوں ۔ابھی تک اس کے لئے اڈوانس لیے پیسے ادا نہیں ہوئے ۔ بتاؤ شہناز کہاں رکھا ہے ۔ میں نے زور دیکر پوچھا۔

صبو آپ یوں سارا سامان کپڑے یوں اتھل پتھل نہ کریں میں دیتی ہوں ۔

رکیں ، ذرا ٹہریں ۔۔

کپڑے کو الٹ پلٹ کرتے عطر کی شیشی چٹاک سے میرے سامنے ٹوٹ کر بکھر گئ ۔میں بے اختیار پیشانی پر ہاتھ مار کر تاسف سے شہناز کی آواز پر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا ۔

میں کہہ رہی تھی نا ٹہرنے کے لئے تم نےکپڑوں کے ساتھ نیچے رکھی شیشی توڑ دی .صبو ! آہ یہ کیا کردیا ؟

میری وجہ سے نہیں تمہارے چھپانے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔ ارے واہ یہ سینہ زوری بھی خوب ہے۔

اگر تمہیں ایک وقت میں میری بات سمجھ نہیں آتی تو تم جاسکتی ہو ۔

وہ میری بات سنکر بھل بھل رونے لگی ۔

اب اگر ذرا بھی رونے کا ڈرامہ کیا تو ابھی تمہیں میکے چھوڑ آؤں گا ۔میں نے غصیلے لہجے میں روکھائی سے جواب دیا۔

“چلو ہٹو مجھے مت چھوؤ ۔ مجھے نیند آرہی ہے” ۔

دن بھر کی تکان اور نرم لحاف کے گداز پن نے مجھ پر غنودگی طاری کردی ۔کب نیند کی آغوش میں چلا گیا خبر ہی نہ ہوئی ۔ صبح ناشتہ تیار تھا ۔ آنکھوں کے کٹورے میں سرخ ڈوروں کے ساتھ قریب ہی شہناز بیٹھی تھی مگر میں بنا ناشتہ کئے چپ چاپ کام پر نکل گیا۔

میری تمام محرومیاں ، جھڑکیاں ، میری آنکھوں کے راستہ رواں تھے ۔

آج اماں مجھے بہت یاد آرہی تھی۔ اس وسیع و عریض دنیا میں انکے سوا میرا کوئی نہیں تھا۔ پوچھنے پر بھی اماں نے کسی کے بارے میں نہیں بتایا بس اتنا کہتی تھی کہ تیرا باپ اچھا آدمی تھا جوانی میں حادثہ کا شکار ہوگیا سوائے دو کمروں والےگھر کے اس نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا میں آج بھی اسی گھر میں رہتا ہوں اماں کے دنیا سے رخصت ہونے والا دن قیامت سے کم نہ تھا۔ اماں کی یاد کے ساتھ ہی اس دن کا درد تازہ ہوجاتا ہے ۔ اماں ہی نے مجھے پنچر کی دکان پر رکھوایا تھا اور خود برسوں سے مولوی صاحب کے گھر کام کرنے جاتی تھی انکی بیگم صاحبہ سے منت سماجت کرکے مجھے قرآن مجید اور پانچویں جماعت تک پڑھوایا تھا ۔اماں نے جانے سے پہلے بیگم صاحبہ سے میرا خیال رکھنے کا وعدہ لے گئی تھی ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو آج میں نہ جانے کہاں کی خاک چھان رہا ہوتا ۔وہ میرے لئے سیسہ پلائی دیوار بنی رہیں ۔ اماں کے بعد میں ہر ماہ کی تنخواہ اور آتے جاتے پنچر لگوانے والے لوگوں کی ٹپ اماں کی طرح بیگم صاحبہ کو دے دیتا وہ روز مجھے دونوں وقت کھانا کھلا دیتی ۔ پنچر کی دوکان کے مالک رفیق سیٹھ مجھے سارے پیسے دینے سے منع کرتے مگر میں تو پہلے بھی اماں کو ایسا ہی دیا کرتا تھا ۔اماں مجھے اکثر تاکید کرتی رہتی “صبو تو باہر نہ جانے کیسے لوگوں سے ملتا رہتا ہوگا تجھے میری قسم کوئی بری لت نہ لگا لینا کبھی چائے ،پان ،سگریٹ نہیں پینا ، کبھی گالی نہیں دینا ۔تیرا باپ بہت شریف آدمی تھا۔ بہت زیادہ بھوک لگے تو باہرسے سموسہ وغیرہ کھالیا کر” پر میں وہ بھی نہیں کھاتا سارے پیسے اماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا ۔ پیسے لیتے وقت ان کی آنکھوں میں خلوص سے مہک اٹھتیں جو مجھے بھوک پیاس سے زیادہ عزیز تھی میں اس کی خوشی کےلئے خوب محنت کرتا ۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ ان پیسوں میں وہ میرا بہتر مستقبل دیکھ رہی تھی ۔ بچپن سے مولوی صاحب کے گھر اماں کے ساتھ جایا کرتا تو قریب کی دکان سے چھوٹی موٹی چیزیں خرید لانے کہتے آج بھی بیگم صاحبہ کچھ منگوانا ہوتا تو فون پر کہدیتی ہیں ۔ سودہ سلف لا کر میں ملازمہ کے ہاتھ بھیج دیتا اور اپنی آمدنی کے پیسے مولوی صاحب کے ذریعہ بھیجوا دیتا کیونکہ میرے پندرہ سال مکمل ہونے کے بعد بیگم صاحبہ نے زنانہ خانہ کی طرف کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔اماں کے جانے کے کچھ عرصہ بعد پہلی بار مجھے بیگم صاحبہ نے گھر میں بلایا تھا وہ پردے کے پیچھے بیٹھی مجھ سے کہہ رہی تھیں ۔

دیکھو بیٹا صبور تمہاری ماں کی خواہش تھی کہ وہ تمہیں ایک آٹو رکشہ خرید کر چلانے دیں وہ ایک ایک پیسہ میرے پاس جمع کرتی رہیں ہیں۔ مجھے معلوم ہے اسی نے تمہیں بھی اپنی تنخواہ سونپنےکو کہا ہوگا اسی لئے تم مجھے اپنے پیسے دیتے ہو اور اب وقت آگیا ہے اچھے خاصے پیسے جمع ہوگئے ہیں ۔ میں امام صاحب کو آٹو کی خریداری کےلئے کہہ چکی ہوں ۔ تم اپنا لائسنس بنانے کی تیاری کرو ابھی ستر ہزار کی کمی ہے میں اپنے جاننے والے ایک پروفیسر میاں بیوی سے بات کرلی ہے وہ قرض دینے کو تیار ہیں بشرط کہ انہیں تم روز یونیورسیٹی لے جاکر چھوڑنے کے بعد تمہیں گاڑی گھر پر پہنچانی ہوگی تاکہ انکی ڈاکٹر بہو ہاسپتل جاسکے پھر تمہیں واپسی پر اسپتال سے گاڑی لیکر یونیورسٹی جانا ہوگا ۔ پروفیسر صاحب کو گھر پہنچا کر گاڑی ہاسپٹل میں پارک کرنی ہوگی وہ معقول تنخواہ سے قرض کے پیسوں کی کٹوتی کردیا کرینگے ۔باقی وقت میں کمائے ہوئےآٹو رکشہ کے پیسے بھی ہم قرض میں منہا کرتے جائنگے قرض کی ادائیگی ہوتے ہی تمہیں اختیار ہوگا تم پروفیسر صاحب کی ملازمت کرو یا نہ کرو ۔ اماں کےعلاوہ میں کسی بھی رشتہ سے ناواقف تھا ۔ سیٹھ سے رات دن واسطہ رہتا مگر اس نے کبھی مجھے ایک ملازم سے بڑھکر نہ سمجھا ۔ صبو چار نمبر کا پانا دینا ۔ صبو وہ پیچ والا اسکریو لادے ۔ کبھی بڑا تو کبھی چھوٹا اسکریو ڈرائیور بھاگ کر لا نے کہتے ، دیکھ ہوا بھروانےگاڑی آئی ہے جاکرپائپ لگا ، اسٹبنی اٹھا کر لا ،گاڑی کو سائیٹ بتا ۔بس انہیں میرے کام سے کام رہا- میں بھی اس بھاگ دوڑ سے تھک چکا تھا ۔پھر اماں کی خواہش کو میں کیسے رد کرتا ۔ بیگم صاحبہ کا مشورہ قبول کرلیا ۔ایک سال کے اندر آٹو رکشہ کا قرض ادا ہوگیا ۔ پروفیسر صاحب کے خلوص اور مہینے کو لگی بندھی آمدنی کی وجہ سے آج تک انکی ڈیوٹی بجا لا رہا ہوں ۔

پھر ایک دن مولوی صاحب کے پاس پیسے رکھوانے گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ صبور بیٹا تمہاری بیگم صاحبہ نے کہلا بھیجا ہے کہ “تم کو اب شادی کرلینا چائیے اگر تم کو کوئی لڑکی پسند ہوتو بتائیں ہم بات کر آتے ہیں ،نہیں تو تم کہو تو وہ خود تلاش کرینگی ”

مولوی صاحب آپ کو معلوم ہے میرا اس دنیا میں کوئی رشتہ دار نہیں ، کام کے سوا کبھی کچھ سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔

مولوی صاحب فرمانے لگے اجی میاں خاندان بنانے کی پہلی سیڑھی شادی ہوتی ہے ۔ یہ ہی دنیا کا پہلا رشتہ ہے ۔ ایسے ہی خاندان بنتے ہیں پھر قبیلہ وجود میں آتا ہے معاشرہ ایسے ہی تو تشکیل پاتا ہے ۔ تم شادی کاارادہ تو کرو ،اللہ برکت ڈالے گا۔ پھر ایک دن تمہارا بھی خاندان بنے گا ان شاءاللہ میری دعا ہے تم خوب پروان چڑھو ۔

اس طرح شہناز میری زندگی میں آئی مولوی صاحب کی دعا قبول ہوئی ۔ہمیں اللہ نے دو پیارے بچوں سے نوازا۔

گرد و نواح سے بے خبر ذہن ماضی کے ادھیڑ بن میں گم آٹو کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک پاؤں آٹو رکشہ میں تو دوسرا باہر لٹک رہا تھا ۔فون کی گھنٹی سے میری محویت ٹوٹی۔ مولوی صاحب کو یاد کیا اور انہوں نے فون کرکے مجھے بلا لیا ۔ چل صبو اماں کے بعد ایک وہی تو میرے خیر خواہ ہیں شاید ان سے مل کر دل کو سکون ملے ۔یہ سوچ کر میں ملاقات کےلئے نکل پڑا۔

سلام کرکے بہت دیر سے مولوی صاحب کے سامنے بیٹھا ہوں مگر دل کی بے چینی لب تک نہ آسکی ۔

مولوی صاحب خود چھیڑ کر میری خیریت دریافت کرنے لگے ۔

جی سب بہتر ہے ۔

آج بڑے خاموش ہو میاں کیا بات ہے؟۔ تمہارا کام کیسے چل رہا ہے ؟

الحمدللہ ایک اسکول کے چار بچوں کی راتب ملی ہے ۔سوچ رہا ہوں کچھ پیسے جمع ہوجائیں تو آٹو رکشہ بیچ کر ٹیکسی خرید لوں ۔

اللہ بہتری عطا کرے ۔ مولوی صاحب کی دعا سے قدرے بے چین دل کو قرار آیا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مولوی صاحب حسبِ عادت نصیحت فرمانے لگے ۔ صبور بیٹے ازواجی زندگی کے لئے میری یہ دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنا ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی فطری جذبات و ضروریات کا خیال رکھنا اور ایک دوسروں کے غلطیوں کو نظر انداز کردینا،دل سے معاف کردینا ۔ ایسا کرنے سے رشتہ برقرار رہتا ہے ۔ لہذا خاندان کو مضبوط کرنے کا یہ بہت اہم طریقہ ہے ۔

مولوی صاحب اپنے جیب سے لفافہ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگے یہ تمہاری بیگم صاحبہ نے کچھ پیسے دیے ہیں ۔ میں لینے سے انکار کرنے لگا بیگم صاحبہ کے کہنے پر میں بنک اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے لگا ہوں ۔

مولوی صاحب ناراضگی و اپنایت کے ملے لہجہ میں کہنے لگے تمہیں نہیں چاہیے تو نہ لو ،ان پیسوں سے اپنی

بیوی کے لئے کوئی تحفہ خرید لینا ۔۔۔

میں اجازت کے بعد وہاں سے رخصت ہوا ۔

گھر کی دہلیز پر دستک دینے پر شہناز کو بجھے بجھے چہرے کمہلاۓ ہوۓ گلاب پر شبنم شرمندگی کے قطروں کے ساتھ اپنے سامنے پایا۔ میں نے مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا دئیے ،میرے سیدھے ہاتھ میں اپنی پسند کی برانڈ اور دوسرے ہاتھ میں کچھ سستی عطر کی بوتل تھی جو شہناز کے لئے الگ سے خریدی تھی ۔

شہناز تم اس گھر کی رونق ہو دیکھو تو میں تمہارے لئے ایک کی جگہ دو دو بوتلیں لے آیا ہوں ۔ اب تم مسکرا بھی دو

غلطی تو میری ہی تھی میں مرکر بھی تم سے خفا نہیں ہوسکتی ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں وہ مسکرا کر کہنے لگی۔

اس کی مسکراہٹ سے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے من آنگن میں چار سو بہار ہی بہار چھا گئی ہو۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمکوثر بیگ
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x