Skip to content

افسانہ لاعلاج پر تنقیدی آراء

[stextbox id=’custom’ caption=’رضوانہ سید علی’]؎ روح کی عزلت میں سنتا ہوں ڈوبتی سی اک چیخ کبھی
رات کی تاریکی میں جیسے دور کسی گھائل کی کراہ
ویسے تو ظلم جہاں کہیں بھی ہو ، دل تڑپا دیتا ہے لیکن کشمیر ہمارے لئے ایک ایسی دکھتی رگ ہے جس کا مداوا جانے کب ہو ۔ میں نقاد نہیں میں ہمیشہ ایک قاری کی حیثیت سے تحریر پڑھتی ہوں اور جو تاثر میرے ذہن میں بنے وہ لکھ دیتی ہوں ۔ کشمیر ایک حزن ہے ، سوز ہے ، ملال ہے ، دہکتا انگارہ ہے ، رقص شرر ہے ، جنون ہے ۔ یہاں کے باسی نہ کبھی دبے ہیں ، نہ جھکے ہیں ، سو دنیا کی کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی ۔ کشمیر کے لئے لکھا جانے والا ہر لفظ ایک حساس دل کی ترجمانی کرتا ہے ۔
لیکن میں تھوڑی الجھ گئی ہوں ۔ کیا پونچھ آزاد کشمیر کا علاقہ نہیں ہے ؟
معظم شاہ کے لئے بہت سی داد[/stextbox]
[stextbox id=’custom’ caption=’ارشد عبدالحمید’]معظم بھائی میرے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں سو ان کے افسانے بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔ اس افسانے میں ایک ماں کے جس درد کو انھوں نے موضوع بنایا ہے وہ آنکھیں بھگونے کے لیے کافی ہے۔ سیاسی حالات کو ہر شخص اپنے نقطئہ نظر سے دیکھتا ہے اس لیے ہر ایک کا زاویہ الگ ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک ایک ماں کا سوال ہے۔ وقت , مقام اور وجہ کی تخصیص نہیں , اولاد کے لیے ہر ماں کی تڑپ ہر حال میں وہی رہتی ہے جو روح کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ایک ماں کی اس تڑپ کے اعتبار سے یہ ایک کامیاب افسانہ ہے لیکن میرا ایک سوال بھی ہے ۔ ۔ ۔ کیا یہ افسانہ دو لخت نہیں ہو گیا ہے ؟ ایک بیانیہ وہ ہے جو این۔جی۔او سے وابستہ ماہر نفسیات کی چھان بین اور نفسیاتی امداد پر مبنی ہے اور دوسرا بیانیہ وہ جو ایک ماں کی اصل کہانی ہے۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو اصل کہانی میں جو تڑپ ہے , وہ ماہر نفسیات والے حصے میں نہیں ہے , آ بھی نہیں سکتی ۔ ۔ ۔ کہ جب تک کوئی کردار اصل واقعے سے جذباتی سطح پر وابستہ نہ ہو تب تک وہ اس تڑپ کا حصہ نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔ تو میری ناقص رائے میں ماہر نفسیات کو میکانکی طور پر involve کرنے اور طریقئہ علاج کی روداد پیش کرنے کی جگہ اسے کسی واقعے کے ذریعے جذباتی سطح پر involve کرنا تھا۔ میں افسانہ نگار نہیں لہٰذا ایک کلیشے ہی سہی ۔ ۔ ۔ اپنی جانب سے ایک ٹوٹی پھوٹی مثال پیش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ حواس باختہ بڑھیا سڑک پر جا رہی ہے۔ نزدیک ہی ایک اسکول کی چھٹی ہوئی ہے۔ ماہر نفسیات اپنے بیٹے کو لینے آئی ہے۔ اس کا بیٹا اسکول کے گیٹ سے نکل کر ماں کی طرف بڑھتا ہے تبھی ایک تیز رفتار کار گزرتی ہے اور قریب ہے کہ ماہر نفسیات کا بچہ کچل جائے , حواس باختہ ماں چھلانگ لگا کر بچے کو بچا لیتی ہے اور خود زخمی ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ بڑھیا کی تیمار داری کے دوران ماہر نفسیات پر کھلتا ہے کہ معاملہ کیا ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ افسانہ نگار اس سے بہت بہتر واقعہ تخلیق کرنے پر قادر ہیں۔ میرا عرض کرنا صرف یہ ہے کہ اس طرح ماہر نفسیات کا کردار افسانے کی اصل تھیم سے جذباتی سطح پر وابستہ کیا جا سکتا ہے یا پھر ماہر نفسیات کو ملوث ہی نہ کیا جائے اور سیدھے بڑھیا کی کہانی سنا دی جائے۔
بہر حال ایک ماں کی تڑپ پیش کرنے کے لیے معظم بھائی کو بہت مبارک باد۔[/stextbox]
[stextbox id=’custom’ caption=’راؤ طاہر’]طاہرہ، ماہر نفسیات، مکمل طور پر اس بوڑھی ماں (فاطمہ) کے دکھ درد میں شامل ہے کہ اس کے آنسو اس کی گواہی دیتے ییں، اور احساس کی یہی تپش اسے آمادہ کرتی ہے کہ وہ اس بے حال دکھیاری ماں کو اپنے گھر لے آئے۔۔۔
اور علاج نہ کرنے کا ارادہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس زندہ لاش کے زخموں کو دوبارہ ہرا نہیں کرنا چاہتی۔۔۔[/stextbox]
[stextbox id=’alert’ caption=’گل ارباب’]معظم لالہ کا افسانہ دل سے لکھا ہوتا ہے اور میں دل سے پڑھتی ہوں ۔۔۔ماں ہوں اور حساس انسان بھی اس افسانے نے رلا دیا ہے ۔۔۔صبح صبح اتنا اداس کر دینے کے لیے تو شکریہ نہیں بنتا ۔۔۔لیکن ایک خوبصورت تخلیق کے لیے بہت شکریہ ۔۔۔اپ بہت کم لکھتے ہیں لیکن جو بھی لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں ڈھیروں نیک خواہشات اور محبتیں[/stextbox]
[stextbox id=’alert’ caption=’احسان بن مجید’ bgcolor=’e0db34′ bgcolorto=’8ce841′]کیمپبل پور کی سر زمین اردو ادب “نظم و نثر” کے حوالے سے ہمیشہ ذرخیز رہی ہے، اسی دھرتی محترم وقار بن الٰہی، محترم ڈاکٹر مرزا حامد بیگ، محترم پروفیسر انور جلال اور بہت سارے دوسرے ادبی آفتاب و مہتاب نے جنم لیا، عصرِ حاضر میں پروفیسر نصرت بخاری، معظم شاہ صاحب اور راقم (احسان بن مجید) افسانہ لکھ رہے ہیں۔ “لا علاج” معظم شاہ نے افسانہ میلہ 2019 کے لئے تحریر کیا، افسانہ کیا ہے، ایک چیخ ہے جو ہر سال، چھ ماہ بعد ابھر کر معدوم ہو جاتی ہے، انسانیت کچھ دن ایک شرابہ برپا کرتے ہُوئے خواب آور گولیاں نگل کر سو جاتی ہے، لیکن، معظم شاہ جاگ رہا ہے، رتجگے کی حالت میں ہے، کشمیر کا دکھ اسے سونے نہیں دیتا، بے چین رکھتا ہے یوں “لا علاج” کے الفاظ اس کے شعور پر اترتے ہیں، افسانہ ایک نشست میں پڑھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ جناب معظم شاہ کے لئے کلمہء تحسین اور نیک جذبات کا تحفہ۔۔۔[/stextbox]
Published inتنقیدی آراء