Skip to content

ہپو جگر اے

ہپو جگر اے
معظم شاہ : اٹک شہر (کیمبلپور)
ہپو ہمارے گروپ میں چھے سات ماہ پہلے شامل ہوا تھا ، ارررے آپ گروپ کے نام پر پریشان مت ہوں یہ کوئی ڈاکوؤں یا چوروں کا گروپ نہیں تھا بلکہ ہم چند سند یافتہ بے فکرے شرفاء کا ٹولہ تھا جو کچھ بے روزگار اور کچھ صاحب روزگار دوستوں پر مشتمل تھا ہم لوگ روزانہ کسی ایک جگہ جمع ہو کر ہنس کھیل کر وقت گزارا کرتے تھے ، ان دنوں پورا پنڈی ہمارے قدموں تلے ہوتا تھا ، کبھی آر اے بازار سے ہوتے ہوے ٹینچ ، تو کبھی پرانے قلعہ سے ہوتے ہوے راجہ بازار اور موتی بازار کی رونق بڑھا رہے ہوتے ۔ ہمارے گروپ میں عامر چھرا ، عامر کیپسٹن ، بھائی ادریس ، بابو کلرک اور یہ خاکسار مستقل ممبر تھے ، ہاں تو بات ہو رہی تھی ہپو کی جو آج تک ہم میں سے کسی کو کہیں بھی دیکھ لے ، اس وقت تک گالیوں کا آموختہ دہراتا چلا جاتا ہے جب تک ہم اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
لیکن اس طرح بات آپ کو سمجھ کہاں آئے گی ، ہپو کی ہم سب سے اس قدر شدید محبت کے پیچھے ایک واقعہ ہے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہپو کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ہپو نے اپنے گھر والوں سے الگ پڑوس کے ایک چوبارے میں رہائش اختیار کی تھی ۔ ایک دن میں شام کو ہپو کی طرف گیا ، مقصد اسے شادی کی مبارکباد دینا اور شرمندہ کرنا تھا کیوں کہ اس نے اپنی شادی میں ہم میں سے کسی کو نہیں بلایا تھا ۔ میں جب ہپو کے گھر کے سامنے پہنچا تو تمام گروپ نیچے کھڑا تھا ۔ ہپو کا پوچھا تو تمام دوست ہنس پڑے پوچھا کہا آئے ہو ؟میں نے کہا کہ ہپو کو مبارکباد دینے آیا ہوں ، کہنے لگے ، ہپو کے قریب بھی مت جانا ، پوچھا ، کیوں ؟ زاہد بولا “مارے گا ” ۔ اب یہ مارے گا اسی قسم کا تھا جیسے ملک فتح محمد پٹواری ہر عید قربان پر گدھے جتنا بکرا اپنی نیک کمائی سے خرید لاتے تھے اور ہر آنے جانے والے کو دکھاتے ہوے خبر دار کرتے تھے ” زیادہ قریب مت جانا ٹکر مارے گا ” ۔ میں نے کہا ، مانا کہ ہپو کا چھے فٹ قد کے ساتھ 160 کلو وزن ہے اور چندیا کے بال بھی اڑے ہوے ہیں لیکن یار میں اسے ابھی تک انسانوں میں شمار کرتا ہوں ، وہ ہپو ہے یار ملکو کا بکرا نہیں جو کہ ٹکر مارے گا ۔ اس پر ایک فرمائشی قہقحہ بلند ہوا اور عامر چھرا بولا ، میں بتاتا ہوں ، ہم سب بھی ہپو کو مبارکباد دینے آئے تھے ہم نے ہپو کو نیچے بلایا ، ہپو کے آنے سے پہلے ادریس بھائی ہمیں بتا چکے تھے کہ روزانہ رات بارہ ، ایک بجے کے بعد ہپو کے چوبارے سے زنانہ چیخوں کی آوازیں آتی ہیں (ادریس بھائی کا مکان ہپو کے چوبارے سے متصل واقع ہوا تھا ) ہپو نیچے آیا تو میں نے اس سے کہا ، ہپو بچے صبر سے کام لے کر دھیرے دھیرے آرام سے چلنا ، مشہور مرغے سین والا کام مت کرنا ، اس پر معہ ہپو ان سب نے اسرار کیا کہ ہمیں سین والا واقعہ سنایا جائے ۔ میں نے کہا ، ایک برہمچاری پہلوان تھا جس نے گھر میں بہت سے پرندے اور جانور پالے ہوے تھے ، جن میں سب سے چہیتا اس کا ایک مرغ تھا جس کا نام اس نے پیار سے سین رکھا تھا ، پہلوان نے دو بہت خوبصورت مرغیاں بھی رکھی ہوئی تھیں جنہیں وہ ہمیشہ سین کے پنجرے کے سامنے والے پنجرے میں بند رکھتا ۔ اب سین کو کھانے کو تو روزانہ کشتے اور مربے ملتے تھے لیکن مالک اس پر کڑی نظر رکھتا اور اسے مرغیوں کے قریب نہ جانے دیتا ، ساتھ ہی ساتھ اسے روز لیکچر دیتا ۔ دیکھو سین پتر ان مرغیوں کے قریب کبھی مت جانا یہ مرغیاں ہوں یا لڑکیاں ، نری تباہی ہیں تباہی ، مرد بچے کو یوں کر دیتی ہیں جیسے مشین سے نکلا ہوا گنا ۔ ۔ ۔ ۔
ایک دن مالک صبح کا گیا شام کو گھر آیا تو دیکھا کہ سبھی پنجروں کے دروازے کھلے ہوے ہیں اور تمام پرندے ، مرغیاں ، طوطے کبوتر ، یہاں تک کہ بلی اور خرگوشنی بھی اپنے اپنے پنجروں میں مرے پڑے ہیں ، اور سب پنجروں کے درمیان سین مرا پڑا ہے پہلوان سین کے پاس اکڑوں بیٹھ گیا اور بڑے افسوس سے بولا ” سین پتر ، میں تجھے سمجھاتا تھا لیکن تو نہ مانا ، اب دیکھ اپنی جان سے بھی گیا ان سب پر لعنت پڑے ، مجھے ان کی فکر نہیں لیکن تمہارے مرنے کا مجھے ساری عمر افسوس رہے گا ۔ سین سے مالک کی اداسی دیکھی نہ گئی ، مالک کو آنکھ مار کر پنجہ اپنی چونچ پر رکھ کر ششش کی آواز نکالی اور پنجے سے اوپر کی طرف اشارہ کیا ۔ مالک نے اوپر دیکھا تو آسمان پر ایک چیل اڑ رہی تھی ۔
اس پر بھائی ادریس بولا ، اس لعنتی نے جیسے ہی لطیفے کے آخر میں ہونٹوں پر انگلی رکھ کر شش کی آواز کے ساتھ اوپر کی طرف انگلی اٹھائی ، ہم سب نے اوپر دیکھا تو ہپو کی بیوی کھڑکی سے آدھی باہر لٹکی نیچے دیکھ رہی تھی ، ہم سب ہنس پڑے تو ہپو شدید غصے میں ہمیں گالیاں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا اوپر چلا گیا ، اس پر عامر کیپسٹن بولا ، کمپلیکس کا شکار ہے ہپو اس جیسے بندے کو زیادہ خوبصورت بیوی مل جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اس پر بابو کلرک عرف بابو حرامی اپنے مخصوص لوفرانہ انداز میں بولا ، ویسے ظالم نے دانہ اچھا مارا ہے ، پورے پنڈی میں ایسی لشپشی لڑکی ایک بھی نہیں ملے گی ۔ اس پر عامر چھرا بولا ، یار و باتوں کو چھوڑو ، ہپو کی لاؤڈ سپیکر جیسی آواز میں گالیاں پورے محلے نے سنی ہیں ، الو کے پٹھے نے حرامی پن کی انتہا کر دی ہے یار ، ہم نے آپس میں کچھ صلاح مشورہ کیا اور بھائی ادریس بولا مجھے تو معاف رکھو بھائی ، میرا محلہ ہے ، اگر بات نکل گئی تو میں تو یہاں رہنے جوگا نہیں رہوں گا ۔
اسی رات تقریباََ پونے ایک بجے کی بات ہے شیطان گروپ ہپو کے گھر کے نیچے کھڑا تھا ۔ جیسے ہی زنانہ چیخوں کی آواز آنی شروع ہوئی بھانت بھانت کی آوازوں میں
ہپو ویل ڈن
ہپو چھک رکھ
ہپو کیپ اٹ اپ ، کے نعرے لگنے لگے درمیان میں مشترکہ آواز میں ہپو جگے اے کا ٹیپ کا مصرع بھی سنائی دے جاتا ۔ اب محلے کے لوگ ، جو روزانہ مروت کے مارے ہیجان خیز چیخوں کی آوازیں سن کر صبر کرتے تھے ، ان کے لیئے تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا ، کھڑکیاں کھول کھول کر کھنکھارنے لگے ، دفعتاََ ہپو کے چوبارے کی کھڑکی کھلی اور اس نے اپنی لاؤڈ سپیکر جیسی آواز میں انتہائی ناگفتہ الفاظ کا سہارا لیتے ہوے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیئے ۔ شیطان گروپ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا ۔
صبح ساڑھے آٹھ بجے جب ہپو ناشتے کے لیئے ڈبل روٹی لینے نیچے اترا تو دروازے پر سرخ رنگ سے موٹا موٹا لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ہپو جگر اے۔۔۔۔۔۔ شنیدنی ہے کہ ہپو نے ایک بار پھر محیر العقول دشنام طرازی کا مظاہرہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اس دن سے آج تک ، ہم سب کو ہپو کہیں بھی نظر آجائے ۔ ۔ ۔ ۔۔ بے اختیار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ہپو جگر اے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کا نعرہ مستانہ بلند ہوتا ہے اور پھر حد سماعت تک ہپو کے دہن شیریں سے پھول جھڑنے کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں ۔

Published inعالمی افسانہ فورممعظم شاہ