Skip to content

ہوس

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ ۔121
” ہوس ”
افسانہ نگار ۔۔ عیشا بابر( لاہور، پاکستان )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام کے سا ئے چاروں طرف پھیل رہے تھے۔اس نے کمرے کی بتی بجھا رکھی تھی اور آرام کرسی پر نیم دراز ادھ کھلی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔افق پر شفق کی سرخی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔سورج ڈوب رہا تھا۔پرندے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے۔چار سو خاموشی کا راج تھا۔کبھی کبھار سامنے والے کسی گھر سے کوئی آواز خاموشی کے اس حصارکو توڑنے کی کوشش کرتی مگر تھوڑی ہی دیر بعد خاموشی کی حکومت پھر سے قائم ہو جاتی۔
دروازے پر دستک کی آواز سنا ئی دی ۔اس نے اس پر ذرا دھیان نہ دیا۔دستک پھر سے ہوئی ۔اس کو اپنی تنہائی میں کسی کی دخل اندازی پسند نہ تھی۔وہ بے دلی سے بولی۔’’کون؟‘‘۔’’میں ہوں فریحہ با جی! فاطمہ۔دروا زہ کھولیں‘‘۔دروازے کی دوسرے جانب سے آواز آئی۔وہ کرسی سے اٹھی،بتی جلائی اور دروازے کی چٹخنی کھولی۔’’آجاؤ‘‘۔اس نے نہ چاہتے ہوئے کہا۔فاطمہ کمرے میں داخل ہوئی۔.اس نے سرد مہر نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا۔فاطمہ کچھ دیر توقف کے بعد جھجکتے جھجکتےبولی ’’باجی،وہ مجھے ایک مقابلے کا پتا چلا تھا ۔اردو افسانہ جات کا مقابلہ ہے ۔مجھے یاد ہے آپ کالج کے دنو ں میں لکھا کرتیں تھیں۔دوبارہ لکھنے کا سلسلہ شر وع ہو جائے تو آپ کا کچھ دھیان بٹ جا ئے گا‘‘۔فاطمہ نے یہ کہہ کر ہاتھ میں پکڑا ہوا پمفلٹ فریحہ کی جانب بڑھا دیا ۔فریحہ نے ایک لمحے کے لئے اس طرف دیکھا اور پھر کہا ’’ٹھیک ہے لا ؤ اب جا ؤ ‘‘ ۔اس نے فاطمہ کے ہاتھ سے پمفلٹ لےلیا تھا ۔اس کے رویے سے صاف ظاہر تھا کہ اس کو فاطمہ کی باتوں اور اس مقابلے دونوں میں کوئی دلچسبی نہیں تھی مگر وہ گفتگو کو طول نہیں دینا چاہتی تھی ۔وہ فقط جلد از جلد اپنی دنیا میں واپس لوٹ جانا چاہتی تھی ۔وہ دنیا جو اس نے گزشتہ چند سالوں سے ،تمام لوگوں سے دور اپنے کمرے میں بسا رکھی تھی ۔
فاطمہ کے جاتے ہی اس نے ایک بار پھر دروازے کو اندر سے بند کرلیا ۔ پمفلٹ کوبے دلی سے دروازے کے پاس موجود میز پر پھینک کر ایک بار پھر آرام کرسی پر نیم دراز ہو گئی۔
کچھ لمحے کرسی پر بیٹھنے کے بعد وہ کچھ سوچتے ہوئے اٹھی اور پمفلٹ اٹھا کر افسانے کے مو ضوعا ت دیکھنے لگی۔ایک مو ضوع پر آکر اس کی نگاہیں رک گئیں۔’’محبت؟‘‘۔اس نے خود سے استفسار کیا۔’’محبت!! ‘‘۔وہ پھر بولی اور واپس کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔وہ دورکسی گھر کی منڈیر پر بیٹھے پرندے کو دیکھتے ہوئے ما ضی کے جھروکوں میں جھانکنے لگی۔
وہ اس وقت لگ بھگ فاطمہ ہی عمر کی تھی۔یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔اسکالر شپ پہ پڑھنے والی ایک ہونہار لڑکی۔سہیلیوں کے جھرمٹ میں قہقہے لگانے والی گہری نیلی آنکھوں والی ہر وقت چہکنے والی لڑکی۔ ایک لڑکی جو جا گتے میں بھی خواب دیکھتی تھی۔بہترین مستقبل کے خواب۔امریکا میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواب۔آسمان کو چھونے کے خواب۔ اس وقت اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
مگر کچھ لمحوں بعد اس کے چہرے کے تاثرات ایک بار پھر بدلنے لگے۔وہ پہلی بار “اس ” سے اپنے بھا ئی کی شادی پہ ملی تھی۔بھائی کا دوست تھا،نام تھا آفتاب۔لمبا قد۔ستواں ناک۔گوری رنگت۔جو پہلی بار دیکھے وہ فو ر ا نظر نہ ہٹاسکے۔ اس نے پہلی بار کسی لڑکے سے خود بات کی تھی۔اس پہلی گفتگو کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ وہ خوش شکل ہی نہیں خوش گفتار بھی تھا۔اس کے دل میں پہلے ہی دن اس کے لئے ایک مخصوص جگہ بن گئی تھی۔وہ ایک بہت مختلف احساس تھا۔بہت مختلف۔
گذرتے وقت کے ساتھ ا ن کی دوستی گہری ہو تی گئی۔ اور پھر ایک دن۔اس نے فریحہ کو فون کیا اور بولا۔’’تمہیں پتا ہے میری منگنی کی تاریخ طے ہو گئی ہے‘‘۔وہ اس کی پرجوش آواز ابھی تک سن سکتی تھی۔کتنا خوش لگ رہا تھا وہ ۔’’مگر!‘‘۔فریحہ حیران تھی۔’’یہ کب اور کیسے ہو گیا؟‘‘۔وہ بولی۔’’ میری بات تو تمھارے بھائی کی شادی سے بھی پہلے کی چل رہی تھی۔اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ پہلے ڈگری مکمل کر لو پھر منگنی اب ڈگری مکمل ہو گئی تو ہو گئی منگنی۔اچھا!! اس بات کو چھوڑو یہ بتاؤ تم آرہی ہونا‘‘۔اس کے الفاظ فریحہ کے دل پر تیر کی طرح برسے۔’’اور میں؟‘‘۔فریحہ نے سوچا۔’’تمہیں معلوم ہے میں کتنا خوش ہوں‘‘۔وہ بولتا جا رہا تھا اور فریحہ روتی جا رہی تھی۔اس دن سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ اس نے کسی چیز کی خو اہش کی ہو اور وہ اسے نہ ملے۔وہ ہمیشہ جیتی تھی اس نے کبھی ہار کا ذائقہ چکھا ہی نہیں تھا۔اس نے ہمیشہ اپنی محبت کو حاصل کیا تھا اس سے کبھی یہ برداشت نہ ہوتاتھا کہ کوئی اس سے اس کی کوئی چیز چھین لے اور وہ تو اس کی زندگی کی سب سے قیمتی چیز تھا۔اس کی محبت۔اس کی پہلی محبت!۔وہ اٹھی اور اس نے کھڑکی بند کردی اور وہیں کھڑے ہو کر خالی خالی نگاہوں سے سامنے والی دیوار کو دیکھنے لگی۔
رات تک، اپنی محبت کے کسی اور کے ہو جانے کے احساس نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔اس کے پورا وجود غم ؤ غصے کے شدید احساس کا شکار ہو چکا تھا۔وہ اسے حاصل کرنا چاہتی تھی۔ہر قیمت پر۔کسی بھی حالت میں۔ہاں!!! کچھ بھی کر کے۔
اور پھر فریحہ نے ایک ترکیب سوچی۔جس دن آفتاب کی منگنی تھی فریحہ نے رسم کی ادا ئیگی سے کچھ دیر پہلے آفتاب کو فون کیا اور کہا۔’’اگر تم ابھی،اسی وقت میرے گھر نہ آئے تو میں اپنی نس کاٹ کر خودکشی کر لوں گی‘‘۔’’مگر!!،فریحہ میری بات سنو‘‘۔وہ بولا۔’’ٹھیک ہے نہ آؤ،تم میرے نہیں ہو سکتے تو میرے جینے کافائدہ ‘‘۔فریحہ نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔’’فریحہ!‘‘۔وہ کچھ کہنا چاہتا ہی تھا کہ فریحہ نے فون کاٹ دیا۔اس کی تدبیرکا ر گر ثابت ہوئی۔وہ اپنی منگنی چھوڑ کر آنا تو نہ چاہتا تھا مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی انسان اس کی وجہ سے اپنی جان لے لے۔جب دلہن کے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ منگنی والے دن دولہا عین رسم سے پہلے کسی اور لڑکی کے گھر پر موجود ہے انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا۔یہ با ت اس کی خو اہش کے عین مطابق تھی۔ا س واقعہ کے ایک مہینے میں اس لڑکی کی منگنی کہیں اور کر دی گئی۔وہ خوش تھی۔بہت خوش تھی کہ اس کے سر سے بلا ٹلی۔اب فریحہ اور اس کی محبت کے درمیان اور کوئی نہیں تھا۔.وہ جیت گئی تھی۔اس نے آفتاب کوحاصل کر لیا تھا۔آخر کار۔اس کا خواب پورا ہو گیا تھا۔اس نے چھین لیا تھا اس کو اس لڑکی سے۔
حاصل کر لیا تھا اپنی محبت کو۔ہاں!حاصل کر لیا تھا۔اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
مگر………جس رات اس لڑکی کی ڈولی اٹھی اسی رات آفتاب نے اپنی نس کاٹ کر خودکشی کر لی۔ا سکے چہرے پر درد کے تاثرات ابھرے ۔
اور جس سے وہ محبت کرتی تھی وہ اس کی ہوس کا شکار ہو گیا۔وہ اس کو حاصل کرنے کی لا لچ میں اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ کبھی اس کا درد سمجھ ہی نہ سکی۔.وہ کبھی اس بات کو سمجھ ہی نہ سکی کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا۔آفتاب اس کی حرص کا شکار ہو گیا۔اس کی ہوس نے دو محبت کرنے والو ں کو جدا کرکے ایک کی جان لے لی تھی۔لوگ آفتاب کی موت کو خودکشی کہتے ہیں ۔’’پر نہیں!!.وہ قتل تھا،قتل تھا،قتل تھا اور میں ہوں اس کی قاتلہ میں۔میں ‘‘۔وہ چیخی۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔
آہستگی سے چلتے ہوئے میز کے پاس پہنچی۔آنسو صاف کئے اور کرسی پر بیٹھ کر کچھ لکھنے لگی۔
محبت۔۔۔محبت ایک روحانی کیفیت کا نام ہے، ہوس سے پاک روحانی جذبہ۔۔” وہ ابھی یہی لکھ پائی تھی کہ دو موٹے موٹے آنسو صبر و خامشی سے بغاوت پہ اتر آئے اور گہری نیلی آنکھوں کی حدیں پار کر تے ہوئے کاغذ کی خشک سرزمیں میں جذب ہو گئے۔

Published inعالمی افسانہ فورمعیشا بابر