Skip to content

ہندو کا گھر

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 36

ہندو کا گھر

ناصر صدیقی، کراچی، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک ہندو کا گھر تھا جسے میرے دادا مرحوم نے خریدا تھا۔

یہ گھر بستی کے ایک پرانے محلہ میں تھا جہاں پہلے ہندوؤں کے بھی گھر تھے جو اب سب کے سب ہمارے(اقلیتی) فرقے کے لوگوں نے خرید رکھے تھے اور ہاں! اس گھرکے سابقہ مکینوں پر ایک بڑا سانحہ بھی پیش آیا تھا: کل چار افراد تھے،پتی،پتنی اور اُن کی دو اولادیں۔ بڑی اولاد ایک جواں لڑکی تھی جو ایک دن اچانک غائب ہوگئی تھی۔ بہت تلاش کیا گیا لیکن نہیں ملی۔ بات بدنامی کی حد تک بھی پہنچ گئی کہ ضرور اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔ اصل بات کا کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ ماں ،بیٹی کی جدائی کے صدمے میں چل بسی تو باپ پاگل سا ہو گیاجو میرے دادا کو یہ گھر فروخت کرکے اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ نہ جانے کہاں چلا گیا۔ کافی بڑا گھر تھا، وسیع و عریض اور دو منزلہ۔ اوپر کے اکثر کمرے اب بھی نہ جانے کب سے بند پڑے تھے، صرف نچلی منزل ہمارے زیر استعمال تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اب پچیس سال کا ہو گیا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے کراچی میں پڑھ رہا تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر میں اپنے شہر اور اپنے’گھر‘ آیا تو گھر ویسے کا ویسا تھا جو میں چھوڑ گیا تھا۔ ہر چیز اپنی اصل جگہ پہ تھی تو وجہ صرف یہ تھی کہ گھر میں صرف میری ماں او ر شہر کے اکلوتے اور نو تعمیر کالج میں پڑھ رہی میری چھوٹی بہن غزالہ تھی جس کی عمر اٹھارہ، بیس کی تھی جو ماشا اللہ اتنی خوبصورت کہ مجھے اس کی شادی کی ہی فکر کرنی تھی۔

اب یہاں واپس آئے ہوئے مجھے ایک دو ہفتے ہو گئے تھے۔ یہ کوئی ایک دوپہر کا واقعہ ہے جب دستک دینے پر ماں نے گھر کا دروازہ کھولا تو میں سیدھا اپنے کمرے میں آیا۔ بجلی نہیں تھی۔ بجلی نہ ہو تو میرا کمرا اندھیرے میں رہتا اور گرمیوں میں خاصا گرم۔ موسم اب گرمی کی طرف رواں دواں تھا۔ مجھے کچھ گرمی محسوس ہوئی تو چھت پر جانے کا سوچا کہ آتے ہوئے میں یہ دیکھ گیا تھا کہ آج آسمان پر پتنگیں اڑ رہی تھیں کہ ہوا تیز ہے۔ میں اٹھ کر ہال میں آیا۔ غزالہ اپنے کمرے میں تھی اور ماں کچن میں۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر گیا تو فوراً واپس اترنے لگا۔ وہاں ایک کم سن لڑکا پتنگ اڑا رہا تھا اور پاس ہی اسکے، بظاہر ایک جواں لڑکی کھڑی تھی جو اڑتی پتنگ کا نظارہ کرنے لگی تھی۔ بدن پہ تنگ تنگ سی لپٹی نیلی ساڑی ، بیک لیس(backless) سرخ بلاؤز، سورج کی تیز روشنی سے چمک رہی بے حد گوری پیٹھ اور دلکش بھرے بھرے کولہے؛ یہ سب کچھ ایک ہی نظر میں فلیش ہو گئے تھے اور اسی دید پر اسے جواں سمجھ لیا اور خوبصورت بھی ورنہ چہرے کی بجائے اس کی ’پیٹھ‘ ہی میری طرف تھی۔

میں سیدھا غزالہ کے پاس چلا آیا جو اپنا سبق کی بجائے کسی ناول پہ لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مجھے اچانک دیکھ کر وہ پریشان سی ہو گئی پھر ایسے مسکرانے لگی کہ جیسے میں کوئی خاص چیز پوچھنے آیا ہوں۔ ویسے میں عموماً اس کے کمرے میں جاتا نہیں تھا، کوئی کام ہوتا تو اسے آواز دے کر اپنے پاس بلاتا، وہ خود بھی کھانا دینے یا کسی کام کے واسطے میرے کمرے میں آتی تھی۔

’’جی بھائی جان! خیر تو ہے نا؟‘‘

’’تم عجیب میزبان ہو! اپنی سہیلی کو چھوڑ کر، خود یہاں مزے سے سے بیٹھ کر غالباً کوئی ’’چٹخارہ سا‘‘ ناول پڑھ رہی ہو۔ اپنی مہمانوں کا تم اس طرح خیال کرتی ہو؟‘‘ اور میں مسکرایا بھی۔

’’مہمان؟! سہیلی؟!‘‘ وہ حیران ہوئی ،’’میری اکلوتی سہیلی شکیلہ آج تو نہیں آئی ہے!‘‘

’’تو تمہاری سہیلی کا نام شکیلہ ہے؟ وہ محترمہ چھت پر ہے دوسرا شائد اس کا بھائی ہے جو پتنگ اڑا رہا ہے۔‘‘

بھیّا! آپ بھی مذاق کر رہے ہیں؟‘‘وہ پھر مسکرانے لگی۔

لیکن مجھے غصّہ آگیا،’’جی،میں مذاق ہی کرتا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر میں اپنے کمرے کی طرف آنے لگا۔۔۔ایک چیز کا خیال آیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ میں بہن کی بجائے واپس چھت پر گیا۔ اب وہاں کوئی بھی نہیں تھا،’شأید چلے گئے ہیں لیکن غزالہ سے ملے بغیر!‘ اس حیرانی کو لئے میں واپس اپنے کمرے میں آیا۔

سرخ اور نیلا رنگ مجھے ہر وقت بھاتا تھا۔ انہی رنگ کے کپڑے کسی جوان عورت کو پہنتا دیکھتا تو اچھا خاصا گرم ہوتا۔ اور آج چھت پر یہی دیکھ گیا تھا، اوپر سے ننگی ،چمکیلی پیٹھ اور بھرے بھرے کولہے۔ سچ یہ ہے کہ میری جوانی، جسے میں سلانے اور رام کرنے میں اکثر ناکام ہوتا رہا تھا، یہ سب دیکھ کر آج کچھ اس طرح جاگ گئی تھی کہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں؟ بڑی مشکل سے ذہن کو بہلایا تھا۔

شام کو جب غزالہ نے میرا موڈ دیکھ کر قسم کھائی کہ آ ج واقعی اسکی سہیلی نہیں آئی تھی تو اسے سچا جان کر میں شدید حیرا ن رہ گیا۔ اب میری سوچ صرف اس چیز میں گھوم رہی تھی کہ یا تو میری آنکھوں نے وہم کے سہارے دھوکہ کھایا تھا یا پھر جو بھی بات ہوگی، پراسرار ہی ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے بڑی بھوک ستا رہی تھی اور غزالہ موجود نہیں تھی ورنہ اسے آواز دے کر کھانا اپنے کمرے میں منگواتا اور ماں کو آواز دینا مجھے ابھی تک یاد نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ماں خود ہی میرے لئے کھانا لاتی لیکن آج کھانا بھی جیسے پکنے میں دیر لگا رہا تھا۔ بھوک اور برداشت ہو نہ سکی اور میں اٹھ کر کچن میں آیا کہ دیکھوں کہ کھانا کس مرحلے میں ہے ؟ تو وہاں جو کچھ دیکھا، اس پر میں اتنا خوفزدہ تو نہیں ہوا لیکن ایک حیرت لئے مجھے اس چیز کا یقین ضرور تھا کہ اُس دن چھت پر بھی میں نے اسی لڑکی کو دیکھا ہے۔ جی ہاں! آج وہ چولہے کے سامنے بیٹھ، دیگچی چڑھائے، دھواں دیتی لکڑیوں کو پھونک مار رہی تھی کہ وہ آگ پکڑ لیں۔ سارا کچن دھوئں سے بھر گیا تھا جس سے ہر چیز دھندلی سی نظر آ رہی تھی۔ میں فورا ماں کے پاس آیا جو اپنے کمرے کی الماری میں کسی چیز کی تلاش میں مصروف تھیں۔ جب میں نے ماں سے پوچھا کہ کچن میں کون ہے جو کھانا بنا رہی ہے؟ تو ماں حیرت سے میری طرف دیکھ کر بولیں؛

’’کوئی بھی تو نہیں ہے! میں نے تو ابھی جا کر کھانا بنانا ہے۔‘‘

’’وہاں کوئی ہے، میں ابھی وہاں سے آ رہا ہوں۔‘‘

’’اچھّا!‘‘ ماں جیسے کچھ گھبرا سی گئیں،’’تو چل کر دیکھتے ہیں۔‘‘

ہم کچن میں چلے آئے تو وہاں کوئی نہیں تھا لیکن جلتے چولہے پر دیگچی موجود تھی۔’’ارے یہ دیگچی!چولہا بھی جل رہا ہے!‘‘ ماں نے حیرت بھرے لہجہ میں کہا لیکن آگے بڑھ نہ سکیں۔

میں نے ہمت کی، آگے بڑھ کر دیگچی کا ڈھکنا اُٹھایا___گرم بریانی کی اشتہاء انگیز خوشبو نے میری حیرت کی بجائے بھوک ہی بڑھا دی۔ ماں بھی میرے پاس آئیں۔ میں نے کفگیر، بریانی سے بھر لی___اور ایک نوالہ کھا لیا___گرم اور لذیذ___پھر ایک اور نوالہ___ماں نے بھی ایک لقمہ کھایا__ ’’اتنی لذیذ اور اچھی بریانی میں نے اپنی پوری زندگی میں نہ دیکھی نہ کھائی۔ کون تھی وہ؟ کوئی جن، آسیب ہی ہوگا۔ک یا اس کا کھانا ہم کھا سکتے ہیں؟‘‘

’’ظاہر ہے اماں! یہ کھانا ہمارے لئے ہی بنایا گیا ہے ورنہ وہ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔‘‘ میں مسکرایا تو ماں بھی مسکرائیں۔ اور سچ یہ ہے کہ ہم نے خوب جم کے یہ کھانا کھایا۔ کچھ غزالہ کے لئے بھی رکھا لیکن ماں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں غزالہ کو آج کا واقعہ نہ سناؤں۔ پھر میں نے چھت والا واقعہ بھی ماں کو بتایا۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ وہ جو کچھ بھی ہے، ہمارا دشمن نہیں دوست ہے اور شأید ہم سے اپنا کوئی’کام‘ کرانے کے چکر میں ہے یا پھر جو بھی ہو، ہمیں نقصان ہونے والا نہیں، البتہ ڈر اور حیرت سے چھٹکارہ پانا اتنا آسان نہیں ہو گا اور ہم مسکرا بھی اٹھے تھے ۔

کھانا کھانے سے لے کر رات گئے تک کوئی خاص بات نہیں ہوئی حتٰی کہ صبح ہوئی اور ہر چیز اپنے معمول پر تھی۔ رات آئی تو بجلی کے چلے جانے پر میرا موڈ خراب ہوا۔ اوپر سے گرمی۔ کچھ سکون حاصل کرنے، میں اٹھ کر چھت پر آیا تو ایک حیرانی نے مجھے دبوچ لیا؛ چھت کی منڈیر پر چاروں طرف چھوٹے چھوٹے دیئے جل رہے تھے۔ یہ سچ ہے کہ میں اتنا ڈرا نہیں جتنا ڈرنا چاہئے تھا یہ سوچ کر کہ جو بھی ہو، ’روشنی‘ ہی تو مل رہی ہے اگرچہ دیئے جلانے والی ذات غائب ہے اور خدا جانے کونسی ذات ہے؟

میں روشن دیئے دیکھتا رہا۔ پھر ایسا لگا کہ کسی پرسکوں خواب میں داخل ہو گیا ہوں۔ اسی لے کو لئے میں واپس اپنے کمرے میں آیا اور بستر پر لیٹ گیا۔ یقین مانیں! میں فوراً سو گیا۔ گرمی نے تنگ کیا نہ ہی مچھروں نے بلکہ مجھے تو ایسا لگا کہ میں کسی اور کمرے کے ’بستر‘ میں سو رہا تھا۔ یہ کیفیت صبح تک رہی جب تک آنکھ نہ کھلی تھی۔ ناشتہ کرکے میں باہر جانے والا کہ چل کر میرے پاس ماں آئیں:

شہاب بیٹے! نہ جانے کیوں اور کون مجھے زور دے رہا ہے، میں کہوں کہ، کل رات دیوالی تھی۔‘‘

’’مجھے دیوالی کا پتہ تھا۔‘‘

’’تمہیں خود معلوم تھا؟‘‘ ماں نے مسکرا کر پوچھا۔

’’نہیں! مجھے میرے آفس کے کسی ساتھی نے بتایا تھا۔‘‘ میں نے جھوٹ بولا۔ دراصل میں ابھی ماں کی زبانی سن کر یہ جان گیا تھا کہ کل دیوالی تھی،حیرانی صرف یہ تھی کہ اب وہ ذات غالبا! ماں کے پیچھے بھی لگی ہوئی ہے۔ یہ سب آخر کیا ہے؟ اس کا سرا کہاں جا کر ختم ہو گا؟ یہ سوال اب اٹھنے ہی تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب میں غزالہ کی ہم عمر سہیلی شکیلہ کو بھی دیکھ گیا تھا جو کھبی کھبار ہمارے گھر آتی تھی لیکن اس سچائی کے ساتھ کہ وہ مجھے کچھ خاص دیکھتی بھی تھی۔ یہ سچ ہے کہ اگر مجھے غزالہ کا خیال نہ ہوتا تو میں اپنی جوانی سے ھار کر یا اسکی فطری بات مان کر شکیلہ کو استعمال کر سکتا تھا۔ یہ الگ بات کہ آگے چل کر اس سے چھٹکارہ پانا مشکل ہو جاتا کہ کہ وہ انسان ہے پتھر نہیں کہ مطلب کی چیز دینے یا پانے کے بعد کوئی تعلق نہ رہتا۔

یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ ایک صبح ایک اور عجیب بات ہوئی؛ میں ناشتہ کے لئے ماں کے پاس کچن میں تھا کہ غزالہ ہمارے پاس آئی جو سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔

’’امّی! میرے سارے کپڑے___‘‘

’’آگ لگا دی کپڑوں کو؟‘‘میں نے بیچ میں ٹانگ اڑا کر مذاقیہ لہجہ میں پوچھا۔

’’ بھیا، مذاق نہیں! میرے سارے کپڑے بدل گئے ہیں۔ کس نے کیا ہوگا یہ!؟‘‘

اس پر میں نے خاموش رہ کر ماں کی طرف دیکھا جو میری طرح اب مسکرانا بند کرکے سنجیدہ تھیں۔

پھر ہم تینوں چل کر غزالہ کے کمرے میں گئے؛ الماری کھلی ہوئی تھی۔ میں آگے بڑھا اور سب کپڑوں کو الٹ پلٹ کرے لگا کہ شاید کوئی اور چیز بھی ہاتھ لگے لیکن کچھ اور نہ ملا۔ صرف یہ دیکھ سکا کہ اکثر استعمال شدہ ساڑھیاں ہیں۔ ان میں وہی نیلی ساڑی اور سرخ بلاوز بھی شامل تھا۔ میں نے ماں کی طرف دیکھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھیں۔ پھر وہ، شائد غزالہ کا ممکنہ ڈر ختم کرنے،مسکرا اٹھیں اوراس کی طرف پورا منہ کر کے بولیں؛

’’شائد کسی کی شرارت ہو گی۔جب تک نئے کپڑوں کا بندوبست نہ ہو جائے اب تو تمہیں ان ہی کو پہننا پڑے گا۔ میرے کپڑے تو تم پر تنگ ہوں گے۔‘‘ اس پر میں نے دیکھا کہ میری بہن تھوڑی شرما گئی۔

’’لیکن امّی! مجھے ساڑھی پہننی نہیں آتی اور پھر ایسی شرارت کون کر سکتا ہے؟ یہ ضرور کسی جن، بھوت وغیرہ کے ہی کپڑے ہوں گے۔ میں نہیں پہنوں گی۔ مجھ ڈر لگتا ہے۔‘‘

اس پر میری ’غریب ماں‘ کچھ سوچنے لگیں، پھر بولیں؛

’’مجھے خدا پر پورا بھروسہ ہے، یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے کسی اچھائی کے لئے ہے۔ شہاب کے ساتھ بھی ایک دو واقعات ہوئے ہیں۔ لگتا ہے ہمیں کسی کی ’مدد‘ کرنے کا وسیلا بنایا جا رہا ہے۔ مولا رحم کرے گا۔ اور ہاں! میں نے برسوں پہلے ساڑھیاں پہنی تھیں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر ماں چلنے لگیں تو میں ان کے پیچھے ہو لیا کہ ناشتہ دیں گی۔ میں اب دل میں بہت کچھ سوچنے لگا تھا۔

دوپہرکو واپس گھر آیا تو ___ یہ دیکھ کر کچھ حیرانی ہوئی کہ غزالہ اتنے سارے کپڑوں میں وہی نیلی ساڑھی اور سرخ بلاوؤز پہن گئی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی جب وہ پردہ کے لئے، ساڑھی کا پلو اپنے سر اور سینے پر اچھی طرح جما گئی تو میں یہ سوچ کر حیران رہ گیا کہ پہلے مجھ سے پردہ تو کیا، میرے سامنے کھلے گریبان کی قمیص پہن کر بھی دوپٹہ سے لاپروائی برتی تھی بلکہ کھبی کھبی تو مجھ سے ایسی شرارتیں کرتی تھی کہ میں شرمندہ سا ہو جاتا تھا۔ میرے جلدی سے شادی ہونے کی فکر کو لے کر اکثر مجھے چھیڑتی تھی کہ،’’ شادی ہوگی تو تم بھابی جان کو لے کراسے کمرے میں کئی روز تک قید کر رکھو گے، مسلسل ان کا دیدار کرتے رہو گے۔‘‘ اس پر میں جواب دیتا تھا؛ ’’کیا میں ایسا بھوکا پیاسا ہوں کہ کئی روز تک تمہاری بھابی جان کے دیدار کی شربت پیتا رہوں گا؟؟‘‘ اس پر وہ کچھ شرما جاتی تھی اور پھر یہ کہ کر بھاگ جاتی تھی کہ’’ہاں! تم ایسے ہی بھوکے پیاسے ہو۔‘‘ اور میں صرف مسکرا جاتا تھا۔ اور کھبی کھبی اس کی بات کو لے کر میری جوانی یہ مانتی بھی تھی کہ غزالہ صحیح کہہ رہی ہے۔ تم واقعی بھوکے پیاسے ہو، اب جلدی شادی کا بندوبست کر لو۔ گرمیوں میں آموں کو لے کر وہ مجھے ستاتی تھی۔ میں آموں کا بڑا رسیّا ہوں، آم ملتے ہی اس پر ٹوٹ پڑتا ہوں، میری اس طرح کی بے صبری دیکھ وہ اکثر یہ فقرہ کستی تھی کہ،’’تھوڑا تھوڑا چکھ لے، بڑا مزا آئے گا۔‘‘ تو میں جواباً کہتاتھا؛ ’’وہ کوئی اور لوگ ہوں گے۔ مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔‘‘ اور ماں اگر موجود ہوتیں تو مسکرا دیتی تھیں اور کھبی کھبی کچھ اس طرح کی سوچ میں پڑ جاتی تھیں جیسے انھیں ہمارا اس طرح کا مکالمہ پسند نہیں۔ اور آج یہی غزالہ مجھ سے پردہ کر گئی تھی!

یہ سچ ہے کہ مجھ سے غزالہ کا یہ پردہ کرنے کا عمل، اکثر مجھے بے قابو کرنے والی میری جوانی کو بھی جگا گیا تھا جس کی وجہ سے رات گئے تک میرے دل میں بار بار یہ آتا رہا کہ غزالہ کی سہیلی شکیلہ سے’’گرم تعلقات‘‘ کا لاپروہ عشق یا بے خلوص محبت بلکہ ہوس کا کھیل کھیلوں لیکن خود کو کسی نہ کسی طرح کنٹرول کیا۔

دوسرے دن تو ایک اور بھی انوکھی بات ہوئی؛ ہمارے گھر میں ایک بلی تھی جسے غزالہ کی بلّی کہا جاتا کہ وہ اس سے بے حد مانوس تھی لیکن آج ماں نے آ کر مجھ سے ایک عجیب بات کہہ ڈالی؛

’’آج غزالہ بلی کو دیکھ کر ڈر گئی تھی جیسے وہ خود یا بلی بدل گئی ہے۔‘‘

’’اچھّا!‘‘ میں حیران رہ گیا بلکہ یقین نہ ہوا۔ چل کر غزالہ کے پاس اس کے کمرے میں آیا تو اسے دیکھ کر حیرانی اور بھی زیادہ بڑھ گئی؛ گھٹنے اٹھا کر وہ پلنگ پر کھوئی کھوئی سی بیٹھی ہوئی تھی۔ پہلے تو میں اسے ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف دیکھتا رہا تھا، یا تو اپنا سبق یاد کر رہی یا کوئی ناول پڑھ رہی ہے، یا پھر ماں سے بات کر رہی یا انھیں لطیفہ سنا کر ہنسا رہی اور خود بھی خوب ہنس رہی ہے۔

’’کیا بات ہے غزالہ! تم اداس اور اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ میری اس بات پر وہ کچھ اس طرح چونک گئی گویا میں نے اسے نیند سے جگا دیا۔

’’کوئی خاص نہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ لہجہ اور آواز بدل سی گئی تھی۔

’’تم بلّی سے ڈر گئی تھی؟‘‘

’’ہاں!‘‘ اس نے مدھم لہجہ میں جواب دیا۔

’’ کیوں___؟‘‘

’’ مجھے۔۔۔اسکی آنکھوں سے خوف آیا تھا۔ جیسے وہ مجھے نوچنا چاہتی تھی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خوفزدہ سی ہو گئی۔

میں اس تبدیلی سے کافی حیران و پریشان ہوا اور چل کر ماں کے پاس یہ تصدیق کرنے آیا کہ آج واقعی غزالہ بدل گئی ہے۔

کچھ دن یونہی گزر گئے ___ ایک شام جب میں گھر آیا تو دیکھا کہ ماں اور غزالہ برآمدے میں بیٹھی ہیں۔ غزالہ کی ساڑھی سینے پر کچھ ہٹ سی گئی تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ مجھے دیکھتے ہی وہ فوراً پردہ کرے گی لیکن یہ کیا! پردہ کر نا تو درکنار الٹا ایسی ترغیب انگیز نظروں سے مجھے دیکھنے لگی جو مجھے شرمندہ ہی کر سکتی تھی کہ وہ نظریں غزالہ کی نہیں کسی اور کی نظر آتی تھیں۔ اور یہ سب دیکھ کر ماں کتنی پرشان ہو گئی تھیں۔ میں تو فوراً اپنے کمرے میں آ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’کل ہولی ہے!‘‘یہ بات آج ماں نے مجھے بتائی بلکہ جیسے انہیں بتانا پڑ رہا تھا۔

’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘مجھے بھی جیسے پوچھنا پڑا۔

’’اس محلہ میں آخری بار ہولی۲۰،۲۲ سال پہلے منائی گئی۔ میں اس وقت کافی جوان تھی۔ یاد اس لئے ہے کہ تمہارے ابّا کے کپڑے اس دن ہولی کے سارے رنگ سے رنگے جاتے تھے کہ ان کے بہت سے ہندو دوست بھی تھے ___ کچھ رنگ میں بھی چرا لیتی تھی۔‘‘ اور شرما گئیں۔ میں صرف مسکرا اٹھا۔ یہ سچ ہے کہ ایسا ضرور لگا کہ میری ماں اب بھی جواں ہیں، ابّا بہت جلدی اٹھ گئے۔

رات آئی تو میں اپنی بہن کو لے کر دیر تک سو نہ سکا۔ بڑی مشکل سے صبح ہوگئی۔ ادھر غزالہ نیند سے اٹھ کر، کمرے سے باہر آئی تو اسے دیکھ کر میں اور ماں حیران رہ گئے۔ وہ سفید کرتی پہنی ہوئی تھی جس پر ہولی کے سارے رنگ پڑ گئے تھے اور آج ہولی تھی۔

’’یہ تمہارے لباس پہ ر نگ کس طرح پڑ گئے؟!‘‘ ماں نے پوچھا۔

’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘ وہ مدہم لہجہ میں بولی،’’صبح اٹھی تو یہ’حال‘ تھا۔‘‘ اور پھر ماں کی موجودگی کے باوجود پیار بھری لیکن اُداس نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے غسل خانے کی طرف چلنے لگی۔

’’تو یہ بھی اسی غیبی چیز کی کارستانی ہو گی۔‘‘ مجھے یہی سوچنا پڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب غزالہ مسلسل کھوئی کھوئی اور خاموش رہتی تھی۔ اس کا یہ ’حال‘ دیکھ کر ہم ماں، بیٹے نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کالج نہیں جائے گی بلکہ اسے تو خود بھی کسی چیز کا ہوش نہیں تھا اور نہ کوئی کام۔ کام تھا تو صرف یہ کہ میری موجودگی پر مسلسل مجھے دیکھتی رہے۔ ماں، جو میرے لئے غزالہ کی ’یہ نظریں‘ اور میری اَن کہی الجھنیں اور پریشانیاں دیکھ اور جان کر بے حد پریشان اور غمگیں رہتی تھیں، اب باہر جانا تقریباً چھوڑ چکی تھیں۔ ہمارے گھر آ کر کوئی ان سے باہر نہ جانے کی وجہ پوچھتا یا غزالہ کے ’حال‘ کو دیکھ کر کوئی سوال کرتا تو ماں کوئی نہ کوئی معقول بہانہ بناتیں اور کوئی مناسب سبب بتاتیں۔ سچ بات ہم دونوں کسی کو کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ میرا حال تو ماں سے بھی برا تھا کہ میں غزالہ کی آنکھوں کی بولیوں سے بچ نہیں سکتا تھا۔ کچھ نہ بنتا تو بھاگ کر گھر کے باہر یا اپنے کمرے میں جا کر ’پناہ‘ لیتا لیکن مجھے پھر بھی پناہ نہ ملتی کہ وہ نظریں، اوپر سے نیلی ساڑھی، سرخ بلاؤز اور وہ سارے واقعات مجھے اپنے حصار میں لے کر پتہ نہیں کیسے کیسے جذبات و احساسات، ہلچل اور ہیجان اٹھا دینے کی لہریں لے آتے اور میری ذات شرم، مذہب، رشتے اور نہ جانے کن کن چیزوں کا ایک ملغوبہ بن جاتی اور پھر سارا دن اپنے کمرے میں قید نہیں رہ سکتا تھا، گھر کے باہر، کتنا وقت گزار سکتاتھا؟ یہ سچ ہے کہ غزالہ کہ یہ ’بولتی آنکھیں‘ دیکھ کر صرف میری سرکش جوانی ہی خوش ہو سکتی تھی اگر بیچ میں آ کر میں اس جوانی کو یہ کہہ کر ڈانٹ نہ دیتا کہ اگرچہ ،ممکنہ طور پر، مجھے نہ جانے کیوں چاہنے والی کسی ہندو عورت کے سایہ، بھوت، آتما، یا پھر کسی جن آسیب وغیرہ نے غزالہ کو اپنے قبضہ میں لے کر اسے ذہنی طور پر بدل تو دیا ہے لیکن جسمانی طور پر وہ میری بہن بھی ہے۔ اگر وہ غیبی چیز میری بہن کے ذریعے اپنی کوئی ’تسکین‘ چاہتی ہے تو، میرا ایسا کرنا ناممکن ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کا دن میرے لئے بلکہ میری جوانی کے لئے صحیح معنوں میں ایک امتحان تھا جو میری الجھنوں اور پریشانیوں کو اور بھی بڑھا گیا۔

ماں غسل خانے میں تھیں کہ آج جمعہ مبارک تھا ،اور میں اپنے کمرے میں، الماری کھول کر کسی پرانی چیز کی تلاش میں تھا کہ اپنے پیچھے کسی کی آہٹ سنی۔ میں نے مڑ کر دیکھا غزالہ تھی جو اندھیرے میں گھری دہلیز پہ کھڑی تھی جس کی وجہ سے وہ صاف دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ سچ ہے کہ اب میں غزالہ کو غزالہ اور کھبی وہی غیبی طاقت سمجھتا تھا جو اسے قابو میں کر گئی تھی۔

’’جی بولیے!‘‘ کہہ کر میں پھر اپنی چیز کی تلاش میں مگن رہا۔

’’ بلّی۔۔۔۔میرا دودھ پینا چاہتی ہے۔میں نے دودھ کو بہت سنبھال کر رکھا ہے۔ چھپایا بھی ہے۔کیا کروں؟ تم اسے مار سکتے ہو؟ یا بلّی کو اپنا دودھ پینے دوں؟؟‘‘ لہجہ سپاٹ لیکن بدلا ہوا تھا۔

یہ سن کر میں اسکی طرف گھوم گیا۔ اب وہ روشن کمرے کے اندر آ چکی تھی۔ بناؤ سنگھار کر کے نئی ساڑھی پہنی ہوئی تھی لیکن پہلی بار بندیا بھی لگا گئی تھی اور مانگ ایسی جو میں نے ابھی تک دیکھی نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں بھی آج جیسے کچھ زیادہ مجھے دیکھنے لگی تھیں جو مجھے زیادہ ہی شرمندہ کر سکتی تھیں پھر۔ دراصل میں اب ایک سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا جواب دوں اس عجیب بات کا؟

’’تم خاموش ہو۔ تو کیا بلّی کو دودھ پینے دوں؟؟‘‘

’’میں کوشش کروں گا کہ بلّی کو یہاں سے بھگا دوں۔ یہ ٹھیک رہے گا ناں؟‘‘میں نے آخرکار جواب دیا۔

’’ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ بھگا دو منحوس بلّی کو ___ اور ہاں! اگر وہ واپس آ گئی تو تم کیا کرو گے؟؟‘‘

’’واپس؟۔۔۔۔ایسا ہے تو ۔۔۔ اسے پکڑ کر،جا کے پہاڑی پر چھوڑ دوں گا،شأید دوبارہ آ نہ سکے۔‘‘

’’یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ کہہ کر وہ اُداس سی ہوئی اور پھر اس کی آنکھیں یکلخت مستانی ہو گئیں،

’’اگر تم بلّی کو دور لے جانے یا ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو گئے تو سارا دودھ انعام کے طور پر تمہیں دوں گی۔ تم میرا دودھ پیو گے نا؟؟‘ اورساتھ ہی ایک پراسرار سی ہوا کا جھونکا آیا جو میکانکی طور سے اس کی ساڑھی سینے پر سے ہٹا گیا۔ سینہ گیلا تھا۔ شأید لاپروائی سے پانی پی گئی تھی یا پھر۔۔۔۔۔۔۔

اب میرے جواں اور گرم ذہن میں دودھ کا معنی اور مفہوم مکمل بدل گیا تھا اور میری جوانی یہ سب دیکھ اندر سے لرز بھی رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ میرے سامنے غزالہ نہیں، مکمل طور پر وہی ذات کھڑی ہے۔

’’ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے۔ بس میں چلی، اب تم جانو اور بلّی۔۔۔۔ اور میں اپنا دودھ حفاظت سے رکھوں گی کہ شاید تم مانگ سکو۔‘‘ یہ کہہ کروہ چلی گئی تو میں اپنے بستر پہ ڈھیر ہو کر کئی سوچوں میں پڑ گیا۔ اب جیسے بلّی کا کچھ نہ کچھ کرنا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔

’ بلّی کا کام تمام کرانے کے بعد اس غیبی چیز کا رویّہ کیا ہوگا؟ لگتا ہے اسے اپنی ہر چیز اور تیر کا پتہ ہے اور آسانی اور معصومیت کے ساتھ اپنا کھیل کھیلتی ہے۔ مولا میری بہن غزالہ کو بچائے اس غیبی چیز بلکہ آفت سے۔‘ یہ سوچ جیسے مجھے اور بھی بے بس کر گئی۔

دوسرے دن جیسے نہ چاہتے ہوئے بھی میں بلّی کی طرف متوجہ ہو گیا۔ پہلے اسے اکثر غزالہ کے کمرے میں یا دہلیز کے سامنے دیکھتا تھا لیکن آج کل غزالہ کے رویے یا اپنی تبدیلی کی وجہ سے کچن میں یا ہال کے کسی کونے میں پڑی رہتی تھی۔ مجھے کچن میں ملی تو ایک موٹا ڈنڈا لے کر گھر سے نکالنے کی نیت سے اسے ڈرانے لگا۔ ڈنڈا دیکھ کر وہ بھاگنے لگی تو میں بھی اس کے پیچھے ہی لگا رہا۔ وہ چھت پر گئی تو میں بھی اس کے پیچھے ہی تھا۔ اسی لے کو لے کر وہ نیچے اتری تو میں بھی، جس کی وجہ سے سیڑھیوں سے گرتے گرتے بچا۔ ماں یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ شأید وہ چاہتی تھیں کہ غزالہ کہ بہتری کے لئے بلّی کا قصّہ تمام ہو جائے۔ غرض، بلی سارا گھر دندناتی رہی لیکن گھر سے باہر نہ نکلی۔ اب میں پسینے سے شرابور تھا اور تھکا ہوا بھی مگر میں اسے چھوڑنے والا نہیں تھا ۔۔۔۔ اچانک جیسے میں اپنے آپے میں آ گیا یہ سوچ کر کہ یہ اس طرح کا جنونی بھاگ دوڑ کیوں؟ انعام کے ’دودھ‘ کا لالچ تو نہیں___؟؟

شرمندہ سا ،میں بلی کو چھوڑ کر واپس اپنے کمرے میں آیا۔ جو شش و پنج جاری تھی، ب اس سے میں خود کو ایک حد تک نکال چکا تھا، سنبھل گیا تھا۔ دوپہر کو مجھے جیسے پھر دورہ پڑا اور میں ڈنڈا لے کر بلّی کے پیچھے پڑا لیکن اب کی بار ماں نے مجھے روکا؛

’’تم تو بلّی کے پیچھے بالکل پاگل ہو گئے ہو۔ بلّی سے تم ڈرتے ہو یا غزالہ؟؟ وہ تو اب بلّی کا نام نہیں لے رہی ہے اور بلّی بھی اب اپنے مگن میں ،کچن اور ہال میں پڑی رہتی ہے۔ میرے خیال میں اس کو اس کے حال میں چھوڑ دو۔‘‘ اور ماں کی اتنی سنجیدگی دیکھ کر میں اپنے اندر پھر شرمندہ سا ہو گیا۔

’’جیسا آپ فرماتی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں آیا تو ڈنڈا اب بھی میرے پاس تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں اب جیسے مایوس سا ہو گیا تھا۔ پھر مجھے لگا کہ ماں نے مجھے روک کر بہت اچھا کیا ہے ورنہ پتہ نہیں آگے کیا ہوجاتا؟ یہ سچ ہے کہ لفظ ’آگے‘ کی گرمی سے ایک دبیز شرمندگی پھر اٹھ آئی تھی۔ غزالہ پر نظر پڑی تو مجھے لگا کہ وہ مجھے’بزدل‘ کہہ رہی تھی کہ ایک معمولی کام بھی کر نہ سکا، ’بڑے بڑے کام‘ تو اب بھی پڑے ہیں۔ لیکن میں اب صرف اپنے ضمیر سے ڈر رہا تھا، شأید کسی اور سے نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے گھر کے صدر دروازے پہ دستک ہوئی۔ دوسری دستک پہ میں نے جا کر دروازہ کھولا ___ ہماری عبادت گاہ کے بڑے پیشوا کے ساتھ دو اجنبی کھڑے تھے۔ ایک تو قدرے بوڑھا اور دوسرا جواں ۔

’’ جی فرماےئے!‘‘میں نے مودب انداز اپنا کر پیشوا صاحب سے کہا۔

’’شہاب بیٹے! یہ کراچی سے آئے ہیں، پہلے یہ گھر ان کا تھا۔ اگر اجازت ہے تو یہ صر ف اپنی یادوں کو تازہ کرنے، اس گھر کے اندر چند لمحے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

میں کچھ سوچنے لگا۔ پھر دل میں اپنی امی کو اعتماد میں لے کر میں نے کہا، ’’ایک شرط ہے! مہمان رات کو بھی یہاں ٹھہریں گے تو اور بھی زیادہ خوشی ہوگی۔‘‘ اس پر پیشوا صاحب کے ساتھ ساتھ دونوں اجنبیوں کے چہرے بھی خوشی سے روشن ہو گئے۔

’’یہ تو بڑی مہربانی ہو گی۔‘‘جواں شخص نے کہا۔ پھر میں نے دونوں کو اندر آنے کے لئے کہا۔ پیشوا صاحب تو چلے گئے تھے۔

اندر آ کر بوڑھا شخص جیسے جوان ہو گیا۔ وہ حسرت، پیار اور نہ جانے کن کن جذبات سے مغلوب ہو کر گھر کے در و دیواروں کو دیکھنے لگا اور ساتھ ساتھ جواں شخص کو اپنی یادوں کے متعلق بھی بتانے لگا۔ جواں شخص اس کا بیٹا تھا۔ اسی دوران میں نے جا کر ماں کو سارا قصّہ بتا دیا تھا جو بہن کے کمرے میں تھیں۔ پھر دوونوں اجنبی میرے ساتھ دوسری منزل پہ آئے اور کمروں کو دیکھنے لگے۔ ایک دو کمرے بند تھے۔ میں نے تالے توڑنے کو کہا تو دونوں نے منع کر دیا۔ دل نے چاہا کہ گھر کے ماضی یا اس کی گم شدہ بیٹی کے متعلق پوچھوں لیکن ایسا مناسب نہیں سمجھا۔ دوپہر کا کھانا کھا کر، آرام کے غرض سے، دونوں اوپر کے کسی کمرے میں سو گئے بلکہ لیٹ گئے جسے جھاڑ پونچھ کر ماں رہنے کے قابل بنا گئی تھیں کہ دونوں رات کو اوپر کے کسی کمرے میں رہنا چاہتے تھے۔

دوسرے دن میں اپنی ڈیوٹی پر نہیں گیا اور مہمانوں کی ہر طرح کی خاطر مدارت کی۔ ایک مرحلے پر، جب میری بہن کی نظر پہلی بار بوڑھے شخص پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ غزالہ کی آنکھیں غصہ سے بھر گئیں۔ مجھے لگا، ہو نہ ہو غزالہ میں بسا سایہ ،آسیب وغیرہ کا اس بوڑھے شخص سے کوئی تعلق ہو گا، ممکن ہے اس کی گم شدہ بیٹی کی روح یا بھوت ہو جس کا میں نے اب تک سوچا نہیں تھا۔

دوپہر کو ماں نے اپنی ایک ایسی سہیلی کو بلایا جو ہندو کھانا بنانا جانتی تھی۔دونوں نے مل کر مہمانوں کے لئے اتنا اچھا اور بڑھیا کھانا بنایا کہ بوڑھا شخص یہ اپنایت اور خلوص دیکھ کر آنسو بہانے پر مجبور ہوا۔ آج موسم بھی خوشگوار تھا۔ بادلوں سے شہر کا آسمان ڈھکا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد شہر کا ممکنہ طور پر آخری نظارہ کرنے مہمان چھت پر آگئے تو ان کے احترام میں ہم سب بھی ان کے ساتھ چلے آئے تھے۔ بوڑھا اب مسلسل کھویا کھویا سا تھا۔ پتہ نہیں اسے کیا کیا اور کون کون یاد آ رہا تھا کہ ایک ایسی چیز ہو گئی کہ ہم حیران وپریشان ہو گئے اور خوفزدہ بھی۔ غزالہ نے اچانک دھکا دے کر بوڑھے کو چھت سے نیچے گرا دیا تھا! میں اور اس کا بیٹا بھاگم بھاگ، سیڑھیاں اتر کر، گھر کے باہر، بوڑھے کے پاس پہنچے تو وہ اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ وہ ہچکیوں کے درمیاں بتانے لگا کہ غزالہ بے قصور ہے،اس پر اس کی گمشدہ بیٹی کا سایہ ہے جسے وہ دیکھ رہا ہے اور اس نے اپنا انتقام اس سے لے لیا ہے۔ میں نے اوپر دیکھا، غزالہ نیچے پڑ ے بوڑھے کوغصے سے بھری، ابلتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ جب بوڑھا مر گیا تو غزالہ خوشی سے سرشار ہو گئی۔ ہم بوڑھے کی لاش لے کر واپس گھر آئے۔ غزالہ ماں کے ساتھ اپنے کمرے میں تھی۔ اب سارا ماحول سوگوار اور عجیب تھا۔ میرے مشورے پر ہم پیشوا صاحب کے پاس گئے اور انھیں سارا قصہ بیان کیا۔ اس واقعہ کو ایک حادثہ سمجھ کر ہم نے خاموشی سے بوڑھے شخص کی آخری رسمیں ادا کیں، کریا کرم کیا۔ پھر اسی شام اس کا بیٹا کراچی چلا گیا۔ ہم نے روکنے کی بہت کوشش کی تھی کہ وہ چند دن اور یہاں رہے لیکن وہ راضی نہ ہوا البتہ کراچی کا پتہ اور فون نمبر یہ کہہ کر وہ دے گیا تھا کہ وہاں آنے پر ہم کم سے کم ایک بار اس سے ضرور ملیں، اسے بڑی خوشی ہو گی اور ہم چاہے تو اس کے گھر ٹھہر بھی سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج دوسرا دن تھا کہ بخار کی وجہ سے میں ڈیوٹی پر نہیں جا رہا تھا۔ دن کچھ چڑھا تو کسی نے آ کر ماں کو بتایا کہ ہمارے پڑوس میں کسی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب ماں کا وہاں جانا بہت ضروری تھا۔ اتفاق سے غزالہ اپنے کمرے میں ابھی تک سو رہی تھی۔ ماں مجھے کچھ ہدایتیں دے کر چلی گئیں کہ بہت جلد واپس آ جائیں گی۔

حیرت کی بات! جونہی ماں باہر چلی گئیں، جیسے غزالہ کو کسی نے جگا دیا۔ اٹھ کر وہ اپنے کمرے سے باہر آئی۔ میں چپکے سے اپنے کمرے کی کھڑکی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ پہلے وہ غسل خانے میں چلی گئی۔ وہاں سے نکل کر پھر وہ باورچی خانے میں گھس گئی۔ وہاں اس نے ناشتہ کیا یا نہیں؟ مجھے اس کا پتہ نہیں۔ وہاں سے نکل کر پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تو میرے کمرے کی طرف بھی ایک دو لمحے دیکھ کر جیسے کچھ سونگھنے کی کوشش کر گئی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے کمرے سے نکل کر، بظاہر میرے کمرے کی طرف آ رہی۔ میں گھبرا گیا۔ صرف ایک چیز کی سمجھ آ گئی تو جلدی جا کر اپنے بستر پہ لیٹ کے میں نے جھوٹ موٹ اپنی آنکھیں موند لیں تاکہ مجھے سوتا دیکھ کر وہ واپس چلی جائے۔ چند لمحوں بعد ایک آہٹ میری دہلیز پہ آ کر رک گئی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اب صرف مجھے ہی دیکھ رہی ہو گی۔

’’تم سو نہیں رہے ہو شہاب! مجھے معلوم ہے ناٹک کر رہے ہو۔‘‘ اس نے کہا تو لاچار ہو کر میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بستر پہ بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں آج زیادہ پیاسی اور اداس نظر آتی تھیں۔ یقیناً آج وہ غیبی طاقت مکمل طور پر غزالہ کو اپنے قابو میں کر گئی تھی ورنہ مجھے یاد نہیں کہ کھبی غزالہ نے میرا نام لیا ہو، ہمیشہ مجھے بھائی جان اور بھیا! کہتی آ رہی تھی۔

’’تم مجھے اس طرح کیوں دیکھتی رہتی ہو؟ مجھ سے کیا چاہتی ہو؟ اور کون ہو تم؟؟‘‘میں نے ایک ہمدردانہ لہجہ اپنا کر پوچھا۔

اس پر وہ چپ رہی، صرف مجھے دیکھتی رہی۔ پھر اس کے کچھ لب ہلے جیسے کچھ بولنا چاہتی ہو لیکن پھر نہ جانے کیا سوچ کر وہ بنا کچھ بولے، پلٹ کر واپس اپنے کمرے کی طرف چلنے لگی۔۔۔

’’دوبارہ آئے گی یا نہیں؟‘‘ اسی سوچ کو لئے میں بے چین رہا۔ جب ماں واپس آئیں تو سکوں کا سانس تو لیا ضرور لیکن مجھے ایسا بھی ضرور لگا کہ میں کسی ایسی چیز کا بھی منتظر تھا جو شاید ’میرے لئے‘ اچھی ہو سکتی تھی اور کافی بُری بھی۔

دوپہر کو بڑی گرمی آئی اور بجلی بھی نہیں تھی۔ ہم ماں بیٹے باہر، ہال میں بیٹھے ہوئے تھے کہ غزالہ اپنے کمرے سے نکل کر ہمارے پاس آئی تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارا عالم پسینہ پسینہ ہے لیکن وہ گرمی کا کوئی اثر نہیں لے رہی!

’’شہاب!‘‘ غزالہ جیسے اپنے اندر کی کسی بات یا خیال سے مسکرا کر بولی،’’گرمی ہے نا؟ اوپر کی منزل میں، جس کمرے کا تالا سب سے زیادہ زنگ آلودہ ہے،اس میں ہوا خوب آتی ہے۔ تمہارے لکھنے پڑھنے کے لئے کرسی میز بھی ہے وہاں۔‘‘ اور پھر مزید کچھ کہے بغیر وہ واپس اپنے کمرے کی طرف چلنے لگی جو ہمارے لئے بھٹّی بن سکتا تھا۔

میں نے ماں کی طرف دیکھا___اور پھر اوپر چلا آیا ۔بہت سارے کمرے تھے۔ ایک کونے والے کمرے کے دروازے پہ ایک بے حد زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا۔ میں نے کسی نہ کسی طرح تالا توڑ ڈالا کہ اسکی چابی اب نہ جانے کہاں تھی___واقعی! وہاں اندر خوب ہوا آ رہی تھی کہ کہ روشن دان کافی بڑا تھا اور کھڑکیاں ہوا کے رخ پر تھیں۔ بہت سکون ملا۔ جیسے غزالہ نے کہا، کمرے میں میز، کرسی تھی۔ ایک الماری بھی تھی لیکن سب گرد سے اٹی ہوئی۔ غزالہ کو کیسے معلوم کہ یہاں ہوا آتی ہے؟ یا میز کرسی ہے؟ یہ کمرہ تو کب سے بند پڑا ہے! آج ہی کھل گیا ہے! یہ باتیں اور سوال اب مجھے حیرت میں نہیں ڈال سکتے تھے۔ الماری نے متوجہ کیا تو میں اسکے پاس آیا۔ تالا لگا ہوا نہیں تھا۔ میں نے پٹ کھولے، خالی تھی۔ صرف ایک شیلف میں ایک پتنگ اور ڈور رکھا ہوا تھا۔ میں کچھ کچھ سمجھ گیا کہ الماری کے کپڑے کہاں گئے اور پتنگ کس کی ہو گی۔

پھر میں میز کے پاس آیا۔ میں نے دراز دیکھے تو سب کھلے ہوئے تھے اور خالی۔ صرف ایک ڈائری ملی جس کے پہلے صفحہ پر اظہار محبت کے لئے’دل‘ کی تصویر کے اندر’S‘ اور باہر، نیچے،’R‘ لکھا ہوا تھا لیکن آخری صفحہ نے مجھے چونکا دیا اور خوفزدہ سا بھی کر دیا۔ وہاں تازہ تازہ لکھا ہوا معلوم ہوتا تھا جب کہ کمرا برسوں سے بند پڑا تھا اور پھر وہ صفحہ بھی میرے نام پر ہی لکھا گیا تھا؛

شہاب!

میرا نام رتنا ہے۔میرے باپ نے پہلے میری عزت لوٹ لی اور پھر قتل کیا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ میں اپنے باپ کے ناکام عشق سے جڑی عورت کی ہم شکل تھی۔ میں نے باپ سے اپنا انتقام تو لے لیا ہے لیکن ظالم نے مجھے آپ کے گھر کے تہہ خانہ میں دفن کیا ہے۔ میں ہندو ہوں، جب تک میری لاش یا ہڈیوں کو چتا میں نہ جلایا جائے مجھے سکون اور مُکتی نہیں ملنے والی۔ آپ کی مہربانی ہو گی اگر یہ کام کر کے مجھ پر احسان فرمائیں۔

فقط

بچاری رتنا۔

میں ایک گہری سوچ میں پڑ گیاپھر نیچے آ کر ماں کو سارا کچھ بتا دیا۔ اس پر ماں پہلے گھبرا گئیں، پھربولیں؛

’’اگر واقعی یہی کام ہے تو فوراً کر ڈال تاکہ یہ گھر ہر چیز سے صاف رہے اور غزالہ بھی ۔۔۔۔‘‘

دوسرے دن میں ضروری آوزار لے کر اپنے گھر کے تہہ خانہ میں اترا۔ فرش پہ ایک جگہ نئی مرمت کے آثار دیکھ کر میں نے وہاں سے کھودنا شروع کیا۔ جلد ہی فرش اکھڑ گیا تو نرم مٹی نظر آئی جس کے نیچے انسانی ڈھانچہ اور ہڈیاں ملیں۔ میں نے انھیں ایک بوری میں ڈال دیا اور شمشان گھاٹ میں آ کے اس کے رکھوالے کو سارا قصہ بتا کر بوری اسکے حوالے کی۔ میرے سامنے انہیں چتا پر رکھ کر جلا گیا۔ اب میں بہت خوش تھا۔ گھر آیا تو یہ خو شخبری ملی کہ غزالہ پہلے والی غزالہ بن گئی ہے۔ میں اس کے کمرے میں گیا۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی تو میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ یہ وہی میری اپنی غزالہ والی مسکراہٹ ہے۔ وہ ساڑھی کی بجائے اپنے مقامی لباس میں بھی تھی اور اسے ماضی قریب کی کوئی بھی بات،قصہ یاد نہیں تھا۔ اس کے مطابق جیسے برسوں بعد وہ آج ہی نیند سے اٹھی تھی۔

شام کو ماں نے کچھ کھانے کی چیزیں منگوا کر خدا کے نام پر بانٹ دیں اور پھر ہمسایوں سے، نہ جانے کتنے وقتوں بعد، ملنے ان کے گھروں میں چلی گئیں۔ میں بھی پر سکون ہو کر اپنی پرانی چیزوں کی طرف راغب ہوا جنہیں میں کافی عرصہ ہوا چھوڑ چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ گھر میں ہر طرف ایک پرسکون خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ غزالہ، جسے میں رتنا والا سارا قصہ بتا چکا تھا، اب کالج جانے لگی تھی اور رتنا کو بھی مُکتی مل گئی تھی کہ اب اس کا کوئی بھی آثار نہیں ملتا تھا لیکن میں مسلسل بے چین تھا جیسے اب رتنا کے بغیر نامکمل ہوں۔ ’شاید رتنا میرا یہ حال اور بے بسی دیکھ رہی ہے اور مجھ پر رحم کرے۔‘ میں اکثر اسی سوچ کو لئے دن گزارتا تھا۔ اور کبھی کبھی غزالہ کی طرف بھی دیکھتا تھا کہ شاید رتنا ۔۔۔۔ لیکن صرف مایوسی ہی ہوتی۔ ایک دن تو میں خود چل کر غزالہ کے پاس گیا۔

’’خیر تو ہے نا بھیا؟” اس نے مسکرا کر پوچھا۔

’’خیر تو ہے۔۔۔میں۔۔۔بات یہ ہے کہ۔۔۔وہ۔۔۔تمیں خواب میں رتنا دکھائی دیتی ہے؟‘‘ دراصل میں کچھ اور کہنے کی ہمت نہیں پا رہا تھا۔

’’نہیں تو؟‘‘ اب جیسے میری بے بسی پہ مسکرانے لگی ہو ،پھر یکایک سنجیدہ ہو کر بولی،’’ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں پھر سے ’’بیمار‘‘ ہو جاؤں؟‘‘ اور آنکھیں جیسے پہلے کی طرح رتنا جیسی ہو گئی تھیں جس سے میں ڈر سا گیا بلکہ شرمندہ سا ہو گیا۔

’’نہیں،نہیں! میں بھلا یہ کیوں چاہنے لگا۔ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رتنا کو واقعی پوری طرح مُکتی مل گئی ہے یا اس کا کچھ اثر اب بھی اس گھر میں باقی ہے؟‘‘

اس پر وہ کچھ ایسا خاموش رہی کہ میں کچھ زیادہ ڈر گیا اور بنا کچھ بولے واپس اپنے کمرے میں آیا۔ جاتے ہوئے میں صرف اتنا دیکھ سکا تھا کہ اس کے پاس بستر پر ایک چٹخارہ زدہ ناول اوندھا پڑا تھا جس کے بیچوں بیچ ایک قلم رکھا ہو تھا۔

ایک دوپہر جب میری بے چینی انتہا کو پہنچ گئی تھی جس کا سبب میں جانتا تھا کہ میری سرکش جوانی ہی تھی، تو ماں گھبرائی ہوئی میرے پاس آئیں۔

’’شہاب بیٹے! غزالہ پر پھر دورہ پڑا ہے۔ لگتا ہے وہ منحوس دوبارہ غزالہ پر قبضہ کر بیٹھی ہے۔‘‘

یہ سن کر میں بے ساختہ اپنے بستر سے اٹھا اور سیدھا غزالہ کے کمرے کی طرف چلنے لگا اور ماں وہیں کھڑی رہیں جو اب روہانسی ہونے لگی تھیں۔ (ختم؟)

دوستو! اگر میری یہی کہانی میں افسانے کے بجائے کسی ناول میں لکھتا تو اس کا خاتمہ یہ ہوتا کہ؛

میں اب ستاون سال کا ہو چکا ہوں۔ میری ماں تو بے حد بوڑھی ہو چلی ہے لیکن میری غزالہ مر گئی ہے۔ گویا میری رتنا پھر سے مجھ سے دور ہو گئی ہے اور نہ جانے اب دوبارہ آئے گی یا نہیں؟ اور کس روپ میں؟؟؟

Published inعالمی افسانہ فورمناصر صدیقی