Skip to content

ہم کہاں جائیں

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 145
ہم کہاں جائیں ….؟
ڈاکٹر اختر آزاد جمشید پور انڈیا

’’اب تم ہی بتاؤکہ عمر کے اس آخری حصّے میں جب ہمیں قبر کے لئے تھوڑی سی جگہ چاہئے تو تم کہتے ہو کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ کیا ہم یہاں کہ نہیں ہیں ، کہیں باہر سے آئے ہیں ؟‘‘
رام لال کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور ان آنکھوں میں ملک کے بنٹوارے کا وہ بھیانک منظر سمٹ آیا تھا جب سب کچھ گنوا کر وہ اس دھرتی کو اپنا سمجھ بیٹھا تھا ۔اس وقت اس کی جیب میں نہ پیسے تھے اور نہ ہی جسم پر صاف کپڑے ۔ کئی کئی دن تک فاقے سہنے پڑے تھے ۔ اس نے ہوٹلوں میں برتن دھوئے ، سیمنٹ کی بوری اُٹھائی ، قُلی کباڑی کا کام کیا ، فُٹ پاتھ پر نیند کی چادر بچھا کر سویا ۔ لیکن کبھی اندھیرے سے اپنے لہو کا سودا نہیں کیا ۔
ایمانداری کی سڑک پر محنت کی گاڑی پر سوار ، وہ مستقبل کاا سٹیر نگ تھامے ، پتلے ٹیڑھے میڑھے غلیظ راستوں سے گزر کر بڑی جدّوجہد اور مشقّت کے بعد صاف چکنی سڑک کی رواں دواں ہوا تھا کہ یکایک وقت کی شاہراہ پر ہوئے ایک حادثے نے رام لال کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ بنٹوارے میں ماں باپ ، بیوی اور بال بچّوں کو گنوانے کے بعد اُس نے سوچا تھا کہ وہ یہاں اپنے زخموں پر چین سے مرہم لگائے گا ۔لیکن یہاں بھی وہی سب تھا جو کچھ ہو چکا تھا اور جسے کبھی نہیں ہونا چاہئے تھا ۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مذہبی رہنُماؤں نے سارے شہر میں پٹرول کی ایسی برسات کی کہ آگ کی موٹی تہہ کے نیچے دبی فولادی زمین موم کی طرح پگھلنے لگی ۔
مکانات جلتے رہے ۔
راکھ فضاؤں میں بکھرتی رہی ۔
لاشیں سڑتی رہیں ۔
اور گدھ آسمان میں اُڑتے رہے۔
انہیں جلتی سڑتی لاشوں کے درمیان جب کرفیو میں پہلی بار دو گھنٹے کی رعایت دی گئی تو وہ کئی دنوں کی بھوک کو پیٹ میں دبائے ، دو دآلود آسمان کے گدلے سائے میں ، ڈرتے ڈرتے ، چھُپتے چھُپاتے خود کو اس امیّد پر کھولی سے ہوٹل کی طرف لے جا رہا تھا کہ اس کا موقع پرست مالک اپنی تو ند کو نوٹوں سے بھرنے کے لئے اس موقعے کو کیش کرائے گا تو اُے بھی جوٹھے برتنوں کی صفائی کے عوض پیٹ بھرنے کے لئے کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا ۔
گھر سے ہوٹل کے راستے میں چھوٹی ذات کے آٹھ دس کچّے مکانات تھے ، جو اب راکھ کے ڈھر میں تبدیل ہو کر قصّہ ء پارینہ بن چکے تھے۔ اُسی ڈھیر پر ایک ادھ ننگا بچّہ زخمی انگلیوں سے راکھ کرید رہا تھا ۔ شاید ماں باپ کے جلے ہوئے جسموں کو ڈھونڈ نے کی کوشش کر رہا تھا ۔ رام لال کی نظریں اس بچّے پر پڑیں تو یکایک اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا اکلوتا بیٹا چلا آیا ۔ لیکن اُسے تو اس کے سامنے ہی کاٹ کر کنویں میں ……..
’’بیٹا ، کیا نام ہے تمہارا ؟‘‘رام لال کی آواز میں اپنائیت کا لمس شامل تھا۔
راکھ کریدتے ہوئے اس بچّے نے ڈبڈبائی آنکھوں سے رام لال کی طرف دیکھا اور پیچھے ہٹتے ہوئے گھبرائی ہوئی آواز میں بولا ۔’’بابو‘‘
لیکن ’بابو‘تو میرے بچّے کا نام تھا ؟ اس کی صورت آنکھوں کے سامنے مچل گئی ۔ بے ساختہ بڑھ کر اس نے بابو کو اپنے گلے سے لگا لیا اور بار بار پیار کر کے بولا :
’’بابو ! تو میرا بابو ہے ۔تو مل گیا !‘‘ اسے چومتے چومتے وہ بے حال ہو رہا تھا۔ ’’تُو میرے جگر کا لال ہے ۔ آج سے میں تجھے ’بابو ‘نہیں ’بابولال‘ کہوں گا۔‘‘
رام لال اُسے سینے سے لگائے اپنی ٹوٹی پھوٹی سیلن زدہ کھولی میں لے آیا ۔ یہاں سے شروع ہوئی رام لال کی ایک نئی زندگی ۔ بنٹوارہ ، ماں ، باپ ، بیوی اور پہلوٹھی کے بیٹے کو کھونے کا سارا درد بابو لال کی آمد کے باعث اس کی زندگی سے زائل ہونے لگا تھا ۔
رام لال کی زندگی کا اب ایک ہی مقصد تھا ، بابو لال کو پڑھا لکھا کر اچھّا انسان بنانا ۔ وہ صبح سویرے اُسے اپنے ساتھ ہوٹل لے جاتا۔کھانے کے لئے اُسے جو کچھ ملتا پہلے وہ بابو لا کو دیتا ۔پھر وہ اسے اسکول لے جاتا ۔ جب تک بابو اسکول میں رہتا ، رام لال اسکول کے باہر نیم کے پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھاچھُٹّی کی گھنٹی کا انتظار کرتا ۔ رات کے وقت وہ ایک طرف ہوٹل کی پیالیاں صاف کرتا اور دوسری طرف بابو کو ہوم ورک بھی کرواتا رہتا ۔ بھیڑ بھاڑ کے وقت ، جب برتنوں کے صاف کرنے کا دباؤ کچھ بڑھ جاتا تو جلدبازی کے باعث کئی برتن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر چھن سے ہو جاتے۔ اس کا خمیازہ اُسے برتنوں کی قیمت تنخواہ سے کٹوا کر بھگتنا پڑتا ۔گالیاں سوغات میں الگ سے ملتیں ۔ لیکن جب ایک دن مالک نے غصّے میں اس سے کہا ۔
’’تمہاری اس ناجائز اولاد کی وجہ سے ہوٹل کا اب تک بہت نقصان ہو چکا ہے ۔ اگر ڈھنگ سے کام کرنا ہے تو کل سے اس منحوس کو لے کر یہاں مت آنا ۔‘‘
رام لال نے ماں کی گالی دیتے ہوئے کہا ۔ ’’ناجائز تو تم ہو سیٹھ اور تمہاری زندگی بھی ناجائز ہے ۔ یہ لو اپنا حساب کرو ۔ زیادہ بولو گے تو یہی چاقو تمہارے پیٹ میں گھسیڑ دوں گا ۔‘‘
پیٹ کی آگ مگر غصّے سے تو بجھتی نہیں۔ وہ تو روز بروز جوان ہوتی رہتی ہے لیکن تب بھی اس نے ہوٹل کی طرف نہیں دیکھا ۔ دیکھا ان لوگوں کو جو جنگلوں کے پُر خار راستوں سے گزر کر سر پرلکڑی کے گٹھّر لئے شہر کی طرف آتے ہیں اور شام ڈھلے تھوڑے بہت پیسے سمیٹ کر اسی راستے پر لوٹ جاتے ہیں ۔ تو میں بھی یہ کیوں نہیں کر سکتا ؟
اور پھر ایک دن وہ بابو لال کو کاندھے پر بٹھائے شام کے لمبے سائے کے ساتھ جنگل میں رہنے والو ں کے ساتھ جنگل کی پُر پیچ راہوں پر چل پڑا ۔
جسم کی اندرونی دیوار سے جب بھوک ٹکرائی تو کُلہاڑی خود بخود اس کے ہاتھوں میں چلی آئی ۔ اپنے ہم پیشہ لوگوں سے قربتیں بڑھیں تو دو چار تناور درختوں کا سایہ آشیانہ بن گیا اور جنگلستا ن میں جب اس نے علم کی جوت جگائی تو تعلیم سے نابلد جنگل باسی بھی اس کی اہمیت سے آگاہ ہوئے ۔ انہوں نے رام لال اور بابو لال کے رزق کا بوجھ اپنے کاندھے پر ڈال لیا ۔ فکرِ معاش سے آزاد ہوتے ہی رام لال صبح سے شام تک جنگل جنگل گھومتا رہتا۔ جنگل باسیوں کو قدم قدم پر زندگی جینے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ، انہیں زندگی کی نئی روشنی سے ہمکنار کرتا ۔
’’سب کو بھگوان نے پیدا کیا ہے یہاں سب برابر ہیں ۔ زمین ، آسمان ، چاند یہ سب کے لئے ہیں ۔ کوئی کسی کے حصّے کا سورج نہیں نگل سکتا ۔‘‘
’’لیکن اگر یہ سچ ہے گرو جی ! تو پھر ہمارے حصّے کی موٹی موٹی لکڑیاں وہ کیوں کاٹ لے جاتے ہیں ؟‘‘
’’ تاکہ کٹی چھنٹی سوکھی ٹہنیاں ہماری نسوں میں دوڑتے لہو کو تھوڑی سی گرماہٹ دے سکیں۔ یاد رکھو، ہم سب بہادر قوم ہیں ۔اگر چاہ لیں اور نا انصافی پر حقوق کو ترجیح دینے میں اپنی جان کی پرواہ نہیں کریں تو کل سے یہ سارا جنگل ہمارا ہو گا ۔‘‘
اس مہم کو تیز کرنے کے لئے انہوں نے پورے جنگلستان کا دورہ کیا ۔ ایک ایک پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھے ۔ لوگوں کی بھیڑ اکٹّھا کی ۔اُ ن کے ذہن ودماغ کو علم کی روشی سے منوّر کیا ۔ دلوں میں حوصلے کی آگ بھری اور ہاتھوں میں ہمّت کے تیر کمان تھمائے ۔ چند مہینوں کے اندر ہڑتال ، روڈ جام ، جلسہ جلوس ، ٹرین روکو تحریکات آہستہ آہستہ زور پکڑنے لگیں اور ساتھ ہی ساتھ بہارستان کے جیلوں کی بھی آبادی بڑھنے لگی ۔
رام لال بے حد خوش تھے کہ ان کی محنت کے باعث جنگلستانی باشندوں میں اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا شعور پیدا ہو چکا تھا ۔لیکن جب تک ہم لوگ سارے بہارستان سے الگ اپنا وجود نہیں منوا لیتے تب تک ہمارا خون اسی طرح چوسا جا تا رہے گا ، کوئی نہ کوئی نیا بہانہ دُنیا کو ملتا رہے گا ۔ اسی لئے رام لال ایک نئے منتر کے ساتھ جنگل میں کود پڑے ۔
’’خون ایسے بھی دے رہے ہیں ، خون ویسے بھی دیں گے ، تو پھر کیوں نہ تھوڑا خون اور دے کر جنگلستان کی آزادی آج ہی اپنے ہاتھوں لکھ دیں ۔‘‘
اور پھرجب اس منترکے بول کو گاتے ہوئے آزادی کے متوالوں نے جنگلستان کے تمام پیڑوں پر اپنے خون سے آزادی کے نعرے لکھنے شروع کئے تو حکومتِ بہارستان نے جنگلستانیوں کی دیوانگی کو دیکھ کر سمجھنے میں دیر نہیں لگائی کہ مستقبل قریب میں کیا گُل کھلنے والاہے ۔ پھر بھی اپنی طرف سے مراعات اور سہولتیں بڑھا کر ،لالچ کے تاروں سے اپنی ریاست کی مستحکم حد بندی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب اس میں بھی کامیابی نہیں ملی تو اپنی طاقت کے بل پر طوفانی ہوا کا رُخ جنگلستان کی طرف موڑ دیا ۔
طوفان کے تیز جھکڑ، جنگل کی اونچی اونچی درختوں کی لمبی لمبی شاخیں سر پٹکتی ضدی ہوا کی زد میں آتے ہی آپس میں ٹکرانے لگیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ کی لپٹیں آسمان کو چھونے لگیں ۔ آگ کے اس کھیل میں بھی جنگل باسیوں نے جنگلستان کی آزادی کا خواب نہیں چھوڑا ۔ وہ خون دیتے اور لیتے رہے ۔ آخر کار ایک دن اعلیٰ کمان نے کرسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہارستان کو آگ کی لپٹوں سے بچانے اور اپنی حکومت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی چاہ میں جنگلستان کی آزادی کا پروانہ راتوں رات جنگل باسیوں کو سونپ دیا ۔
جنگلستانی آزادی کا سبز پرچم ہواؤں میں لہراتے ہی ہر طرف فضاؤں میں’’ رام لال زندہ باد ‘‘ کے نعرے گونجنے لگے ۔ مشترکہ فیصلے کے مطابق رام لال کو ہی جنگلستان کی گدّی پر براجمان ہونا تھا ۔ لیکن رام لال نے تخت کی بساط پراپنی باتوں کے سب کے اہم مہرے کو انسانیت کے اس سفید خانے میں لا کر رکھ دیا جہاں سب کو یہ ماننا پڑاکہ’’تخت پر اُسے ہی بیٹھنا چاہئے جس نے اپنی آنکھیں جنگلستان میں کھولی ہوں ۔‘‘اس طرح بغیر کسی ردوکد کے تمام لوگوں نے بابو لال کو جنگلستان کا پہلا حاکم اعلیٰ تسلیم کر لیا ۔
اس وقت تک رام لال بوڑھے ہو چکے تھے ۔ انہوں نے جو چاہا تھا وہ پا لیا تھا ۔ انہیں اپنے بابو لال پر پورا بھروسہ تھا کہ اس کے راج میں جنگلستان کے سب دُکھ دور ہو جائیں گے اور خوشحال ریاست کی فہرست میں اس کا بھی شمار ہونے لگے گا ۔ اب رام لال سیاست سے بے فکر ہو کرعمر کے اس حصّے میں موت کے بعد کا سامان جُٹا لینا چاہتے تھے ۔اس لئے وہ جنگلستان کے ایک اونچے پہاڑی دامن میں کُٹیا بنا کر رہنے چلے گئے۔
جنگلستان ریاست کی تشکیل کی پہلی سالگرہ کے موقع پر حاکم اعلیٰ کا روزگار کے متعلق پہلا فرمان جاری ہوا :
’’اب جنگلستان میں کوئی نوجوان بے روز نہیں رہے گا ۔‘‘
اس خبر کے نشر ہوتے ہی رام لال کا چہرہ خوشیوں سے دمک اُٹھا۔ اس وقت اُسے بابولال پر اور بھی فخر محسوس ہو نے لگا تھا ۔میڈیا نے بھی اس خبر کو کافی اُچھالاتھا ۔جس کے نتیجے میں سبھی جماعت کے نوجوانوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر خوشیوں کی لالی دوڑ گئی ۔ہر طرف شادیانے بجنے لگے ۔ ان کے شانوں پر بڑے بڑے پنکھ اُگ آئے ۔ لیکن جب اعلان پر عمل در آمد شروع ہوا تو آدھے سے بھی زیادہ نوجوان جنہوں نے جنگلستان کی آزادی میں اپنا لہو بہایاتھا،حیران وششدر رہ گئے ۔ قانون کے اعتبار سے جنگلستان کے اصلی باشندے وہ قرار پائے تھے جن کے پاس آزادی سے کم از کم پندرہ سال قبل کے زمینی قبالے تھے۔اس طرح چشم زدن میں سارا جنگلستان دو حصّوں میں منقسم ہو گیا ۔ وہ لوگ جن کے پاس پُرانے قبالے نہ تھے انہیں اپنی ریاستی شہریت خطرے میں نظر آئی ۔حکومت کے اس غیر ذمہ دانہ فیصلے سے وہ سب آگ بگولہ ہو گئے۔ اپنے تحفُّظ اور بقا کی خاطر وہ ڈومیسائل قانون کے خلاف سڑکوں پر اُتر آئے۔
’’آج نوکری سے الگ کر رہے ہیں ، کل ریاست بدر کرنے کی بات کریں گے ۔‘‘
جس کے نتیجے میں جلد ہی ٹکراؤ ، مار پیٹ ، خون خرابہ شروع ہو گیا ۔ شروع میں تو دونوں فریقین کو زبر دست جان ومال کا نقصان اُٹھانا پڑا ، لیکن جیسے جیسے یہ لڑائی بڑھتی گئی ، پرانے قبالے والوں کو حکومت کی شہ ملنے لگی اور اُن کا پلّہ بھاری پڑنے لگا ۔ اس اثنا ’’سمپورن جنگلستان‘‘ کی قرار داد چند ووٹوں کی اکثریت سے مجلسِ قانون ساز میں منظور کر لی گئی ۔ جن لوگوں کے پاس کم از کم پندرہ سال قبل کے زمینی قبالے نہیں تھے ان کے بارے میں فیصلہ کر لیا گیاکہ وہ جنگلستان کے اصلی باشندے نہیں ہیں، باہر سے آئے ہیں ، اس لئے انہیں مقرّرہ مدّت کے اندر جنگلستان چھوڑ دینا ہے۔
پھر ریاستی سطح پر زمینی دستاویز کی بنیاد پر اصلی اورنقلی باشندوں کی فہرست تیّار کی گئی۔ لیکن جب وہ لوگ کسی بھی قیمت پر جنگلستان چھوڑنے کے لئے تیّار نہیں ہوئے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ۔کریمنل ایکٹ کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا ۔۔ نسلی تطہیر کے نام پر لڑکیوں اور بچّوں کو اغوا کیا گیا ۔ دیہاتوں میں حّقہ پانی بند ہوا اور شہروں میں سرچھپانے کی جگہ سے انہیں محروم رکھا گیا ۔ ملازموں کو نوکری سے برطرف کیا گیا ۔ تاجروں کی دکانیں جلا دی گئیں کہ اقتصادی کمر ٹوٹتے ہی وہ سب یہاں سے چلے جائیں گے۔
اور ہوا بھی یہی …….
اقتصادی کمر ٹوٹتے ہی بہت سارے بے روزگار رو دھو کر آہستہ آہستہ بہارستان کا رُخ کئے ۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگ ایسے تھے جو یہیں پیدا ہوئے تھے ، باپ دادا کے زمانے سے ان کی یہاں زمینیں تھیں ، گھر بار تھا ، سب کچھ تھا ۔ نہیں تھی تو صرف وہ سند ۔ وہ آخر کہاں جاتے ؟
ؑ ؒ علاقائی فہرستیں ہر روز بنتی رہیں ۔ ہر روز ایک نیا جلوس نئے جوش و خروش کے ساتھ ایک نئے علاقے میں پہنچتا رہا اور فہرست کے مطابق غیر جنگلستانی باشندوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر بسوں میں بھرا جاتا رہا ۔جو جانے کے لئے تیّار نہیں ہوتے ان کے سینے میں تیر اُتار دیئے جاتے۔ان کی جائداد پر قبضہ کر لیتے۔سرکاری تحویل میں ڈال دیتے۔اور کبھی کبھی ان کی ملکیت کو آپس میں شیرینی کی طرح بانٹ لیتے جیسے اس مخصوص کام کے لئے ہی انہیں اس دھرتی پر اتارا گیا ہے ۔
پھر اس کے بعد ہر روز فہرست لئے لوگ کسی نہ کسی علاقے میں پہنچ جاتے اور ہر روز وہی کام دہرایا جاتا……. اس طرح لوگوں کے لہو سے جنگلستان کی سرزمین سرخ ہو اُٹھی۔ ہر طرف سروں کی کھیتیاں ہونے لگیں ۔ فصل کاٹنے والے جنگلستانی کسان بھی ان دنوں اپنی قسمت پر نازاں تھے ۔ سروں کی فصل بونے اور کاٹنے کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری تھا……..
اورپھر ایک دن صبح سویرے لوگوں کی ایک بھیڑ نے حاکمِ اعلیٰ کی سرکاری قیام گاہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ لوگوں کے ہنگامے اور نعرہ بازی کی وجہ سے حاکم اعلیٰ کی آنکھ کھُل گئی ۔ اس دن بوڑھے رام لال بھی ان سے ملنے آئے ہوئے تھے ، ان کو نیند یوں ہی کم آتی تھی ، وہ پہلے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے ۔
’’ یہ کیا بد تمیزی ہے ؟‘‘ حاکم اعلیٰ کی گرج دار آواز گونجی ۔
’’بد تمیزی نہیں سر، یہ تو وہی فہرست ہے جسے کل شام آپ نے اپنے دستخط کے بعد اپنے پی اے کے ذریعہ ہمیں بھیجوایا تھا ۔ بس آپ کے ہی حکم کی تعمیل کررہا ہوں سر۔‘‘پولس کے اعلی افسر نے پُر سکون لہجے میں اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔
’’کیا بکواس کرتے ہو ؟دکھاؤ کیا چیز ہے؟‘‘ یہ کہتے ہوئے حاکم اعلیٰ نے پولس افسر کے ہاتھوں سے فہرست چھین لی ۔ لیکن کاغذ پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی ۔
’’خارج کئے جانے والوں کی فہرست میں میرے بابا کا نام ؟ نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ تم انہیں نہیں لے جا سکتے ۔یہ میرا حکم ہے ۔ ‘‘
’’سرکاری حکم نامے کے تحت کسی بھی غیر جنگلستانی کو اس دھرتی پر رہنے کا ادھیکار نہیں ہے ۔ رام لال غیر ملکی ہے، اسے جانا پڑے گا ۔‘‘پولس افسر نے اپنی لاچاری کا اِظہار کیا ۔
’’لیکن میں حکم دیتا ہوں ۔اس فہرست کو منسوخ کرو۔‘‘
’’سر مجلسِ قانون ساز کے منظور کئے ہوئے ایکٹ کو آپ منسوخ نہیں کر سکتے۔’’I am sorry, please try to understand, sir‘‘
ایک لمحہ ٹھہر کر پولس والا پھر بولا :
’’سر، اگر آپ نے انہیں روکنے کی غلطی کی تو بھیڑ اندر چلی آئے گی ۔پھر کس کے ساتھ کیا ہو گا ، یہ میں نہیں جانتا ۔ میں فورس کے لئے وائرلیس کرتا ہوں لیکن آج ہر طرف بلوے ہیں ، فورس کم پڑ گئی ہے۔ آنے میں دیر لگ سکتی ہے ۔‘‘
’’تو یہ ہتّیا میرے ہی ہاتھوں سے ہو گی ۔ ؟‘‘ اپنے بالوں کو پاگلوں کی طرح نوچتے ہوئے بابو لال چیخا ۔’’دستخط کرنے سے پہلے میرے ہاتھ کیوں نہیں کٹ گئے ؟ ‘‘
پولس افسر نے آگے بڑھ کر رام لال کا بازو تھاما اور کہا ۔’’ چلئے ، اب دیر نہ کیجئے ۔‘‘
بابو لال جیسے بُت بنا کھڑا رہ گیا ۔ ’’بابا مجھے معاف کر دینا ۔‘‘
بابا نے کوئی جواب نہیں دیا ، اس نے اپنا دایاں ہاتھ بابو کے سر پر رکھا ۔ پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا سیڑھیاں اُتر گیا ۔

Published inڈاکٹر اختر آزادعالمی افسانہ فورم