Skip to content

ہم نفس

ہم نفس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدف زبیری
آج سے ایک کم چالیس برس پہلے جب میں اُس کے سنگ رخصت ہو کر اس گھر میں آئی تھی تو وہ میرے لئے بالکل اجنبی تھااور پھر اگلے اٹھارہ برس وہ میرے لئے اجنبی ہی رہا۔ ہماری زندگی کا آغاز بالکل بھی عام لوگوں جیسا نہیں تھا۔ نہ شادی کے اوّلین دنوں والی شوخیاں ، نہ محبت بھری سرگوشیاں ، نہ روٹھنا نہ منانا ، ضرورت تک محدود یہ تعلق بہت عجیب سا تھا۔اسکے پتھریلے پہاڑ جیسے دل کو کھولنے والے کُھل جا سِم سِم کے منتر کو میں کبھی جان ہی نہ پائی۔شہر کی مضافاتی بستی کی جن تنگ گلیوں سے میں رخصت ہو کر آئی تھی انہی جیسی دوسری گلیوں میں آبسی ۔یہاں سب ریڑھی بان ، سبزی فروش یا نچلے درجہ کے ہنر مند لوگ تھے۔وہ بھی اپنا ٹھیلا لے کر صبح سویرے نکل جاتا اور دن ڈھلے باسی روٹی کے ٹکڑوں ، پلاسٹک کے ٹوٹے پھوٹے کھلونوں اور ردّی کاغذوں کے ساتھ داخل ہوتا، شروع دنوں میں مجھے ہمیشہ اُمید رہتی شاید اس کے ہاتھ میں میٹھا پان ، کانچ کی چوڑیاں یا دہی بھلوں کی تھیلی ہو مگر یہ ہمیشہ اُمید ہی رہی وہ باہر سے آتا اور اپنی ماں کے پاس بیٹھ جاتا۔ اسکی ماں ہمارے درمیان ہمیشہ موجود رہی، گھر کے دوسرے حصوں کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے چھوٹے سے کمرے میں جہیز کے پلنگ پر بھی ہمارے درمیان موجود ہوتی۔
امّاں سُن لے گی ۔۔۔۔
امّاں کو بُرا لگے گا ۔۔۔۔
امّاں کو یہ بات بالکل پسند نہیں ۔۔۔۔
یہ وہ چند جملے تھے جو ہمیشہ میرے اور اس کے درمیان موجود رہتے، بہت جلد اس سے اُکتا کر میں نے کاٹھ کباڑ کے کا م میں پناہ ڈھونڈ لی۔ہر روز میں گذشتہ دن کے کاٹھ کباڑ کو علیحدہ کرتی، اُنہیں مختلف بوریوں میں بھرتی ، روٹی کے باسی ٹکڑوں کو مزید سکھاتی۔ لوہے ، پلاسٹک اور ردی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے اسے اس کی ماں کے ساتھ چھوڑ کراپنی ٹوٹی کمر اور ازلی تنہائی کو لے کر پڑ جاتی ۔آٹھ سالوں میں اپنے تین پوتوں کا منہ دیکھ کر اس کی ماں جنت نصیب ہو گئی۔ شاید یہاں میرے اکیلے پن کا اختتام ہوہی جاتا اگر اُسے میں نظر آتی، مگر ہمارے درمیان وہی اجنبیت کا تعلق قائم رہا ، وہ صبح سویرے نکل جاتا اور شام کو خاموشی کے ساتھ اپنے بستر پر پڑا رہتا ، اسی طرح روکھے پھیکے اگلے چار سالوں میں اس کا باپ بھی رخصت ہوا ۔گیارہ سالوں میں دو بیٹیوں کا اضافہ اور ہوا اور اب میں پانچ بچوں کے ساتھااسّی گز کے اس پورے گھر کی مالک تھی۔ کاروبار بھی اب بہتر جا رہا تھا، گلی گلی ٹھیلا لے کر جانے کے بجائے اب اس نے گلی کے نُکڑ والا پلاٹ خرید لیا تھا،اب ہمارے اپنے چار ٹھیلے چل رہے تھے ، کئی کچرا چننے والے بچے بھی کام پر رکھ لئے تھے اور وہ خود اب باقاعدہ کباڑیا بن گیا تھا ، روٹی ، سبزی کے ساتھ اب ہفتے میں دو دن گوشت بھی پکنے لگا ، بچے سرکاری اسکولوں میں جانے لگے ، حالات میں بہتری آئی تو فاصلے بھی کم ہونے لگے۔ امّاں کے نکل جانے سے جو خالی جگہ پیدا ہو گئی تھی وہ آہستہ آہستہ بھرنے لگی، میں اسے گلی محلے کے قصے چٹخارے لے لے کر سُناتی ، رشتہ داروں کی کمینگی کو بڑھا چڑھا کر بتاتی۔ اپنی سلیقہ مندی اور بچوں کی بہترین تربیت کے گن گاتی، پتا نہیں کہ وہ سُنتاتھا کہ نہیں مگر غنیمت تھا کہ وہ چپ چاپ میرے پاس بیٹھا رہتا، یا پھر تھک کر اپنے داہنے بازو کو آنکھوں پر رکھ کر لیٹ جاتا۔میں کبھی اس کے دل کا حال جان ہی نہ پائی، کبھی میں شوخ ہو جاتی حسرت سے اس سے پوچھتی۔
سچ سچ بتاؤ کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو ۔۔۔۔۔ ؟
مگر اسکا ایک ہی جواب ہوتا
پاگل ہے کیا ۔۔۔۔ سونے دے۔۔
یوں ہمارے ازدواجی تعلق کو اٹھارہ سال بیت گئے اور ان اٹھارہ سالوں میں ایک دن پہلی بار اس نے مجھ سے پوچھا ۔۔۔
کچھ چاہیے تجھے ۔۔۔ بتا کیا لے گی ۔۔۔ ؟
وہ شاید خوشی یا حیرت کا ایک لمحہ تھا، مجھے کیا چاہیے تھا ؟ اتنے سالوں میں میری خواہشیں دھی بھلوں ، میٹھے پان اور کانچ کی چوڑیوں سے آگے کبھی گئی ہی نہیں تھیں اب جو اس نے پوچھا تو میں سوچ میں پڑ گئی ۔
کیا مانگوں ۔۔ سونے کی انگوٹھی ۔۔ جیسی بھائی جان نے بھابی کو اوپرتلے پانچ بیٹیاں پیدا کرنے کے بعد بیٹے کی پیدائش پر دی تھی ۔ مجھے تو گھر کے اتنے بہت سے کام کرنے ہوتے تھے زیور کیسے پہن سکتی تھی، ریشمی جوڑوں کی مجھے عادت نہیں تھی، اُس کے ساتھ باہر جا کر کھانا کھانے کی خواہش بھی اکثر دل میں اٹھتی مگر یہ وہ ماننے والا نہیں تھا ، ہماری برادری میں عورتوں کو باہر لے جانے کا رواج ہی نہیں ہے، میں ہمیشہ یہی سوچتی کہ وہ میری فرمائشیں پوری نہیں کرتا اور آج جب اس نے پوچھا تو مجھے خیال آیا کہ میری تو کوئی خواہش ہی نہیں ، اور میں اس موقع کو گنوانا بھی نہیں چاہتی تھی بالآخر بہت سوچ کر میں نے کہا کہ وہ مجھے اپنے بزنس میں شامل کر لے اب کی بار اس کی آنکھوں میں حیرت دیکھنے والی تھی۔
تو بجنس کرے گی ۔۔۔۔۔
وہ ہنسنے لگا ۔۔۔ اور یوں ہنستے ہوئے ، میرے قریب بیٹھے ہوئے، اس طرح مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کتنا خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔ اتنا خوبصورت ۔۔۔ اتنا اپنا سا کہ وہ اجنبیت جو اٹھارہ سالوں سے کسی عفریت کی طرح ہمارے درمیان موجود تھی جیسے یکدم ہی غائب ہو گئی
ہاں تو تم گھر میں جو کام مجھے لا کر دیتے ہواسمیں سے بھوسی ٹکڑے مجھے دے دو
وہ اور زیادہ حیران ہوا ، بھوسی ٹکڑوں کا کیا کرے گی تو ؟
میں جو بھی کروں ، رکھوں یا بیچوں وہ میرے ہوئے
یہ ایک قیمتی موقع تھا میں کیسے گنوا دیتی ، وہ مان گیا ۔یوں میں اسکے بزنس میں بھوسی ٹکڑوں کی ساجھے دار بن گئی، جوں جوں اس کا کام بڑھتا گیا بھوسی ٹکڑے بھی بڑھتے گئے، پہلے میں نے یونہی بلا سوچے سمجھے ایک بات کہی تھی میں ان ٹکڑوں کو بکریوں کو ڈال دیتی یا نرم کر کے پانی میں بھگو کر چھت پر مٹی کے کونڈے میں رکھ آتی پرندوں کے لئے مگر جب ان کی تعداد بڑھنے لگی تو میں نے انہیں بیچنا شروع کر دیا، ابتداء میں ایک ہفتے میں چار پانچ روپے تک جمع ہو جاتے، پھر آہستہ آہستہ رقم بڑھنے لگی ، وہ اتنا مہنگائی کا زمانہ نہیں تھا ،مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں اس رقم کا کیا کروں پھر ایک دن پڑوس کی فریدہ اپنا ٹوٹا ہوا سونے کا چھلابیچنے لگی اسے پیسوں کی ضرورت تھی اور سُنار بہت کم رقم دے رہا تھا، ذرا سی زائد رقم دے کر فریدہ سے وہ چھلا میں نے خرید لیا۔اور اسے جہیز کی اس بالشت بھر کی اس صندوقچی میں رکھ دیاجو ماں نے میری شادی پر خاص طور سے بنوا کردی تھی کہ اس میں بُرے وقت کے لئے کچھ بچا کر رکھوں ، پھر جیسے مجھے اس صندوقچی کو بھرنے میں مزہ آنے لگا، جب میرے پاس کچھ رقم جمع ہو جاتی میں کوئی نہ کوئی پرانا زیورخرید کر اسمیں بُرے وقت کیلئے ڈال دیتی۔
یوں ایک کم چالیس سال گذر گئے ، میرے اور اس کے بیچ کی اجنبیت تقریباً ختم ہو چکی تھی، بیٹیاں بیاہی گئیں اور بہوئیں آگئیں۔ پوتی پوتے انگلش اسکولوں میں پڑھنے لگے، محلہ وہی پُرانا تھا اور وہ اس محلے کا سب سے پُرانا کباڑی تھا، حالات بدل گئے تھے مگر اب اسے شناخت بدلنے کی لگ گئی تھی۔
جسے دیکھو کباڑیا کباڑیا نفرت ہو گئی ہے مجھے اس لفظ سے وہ غصے میں چلاتا ، حالانکہ اس میں کوئی حرج نہیں تھا ،ہم نے عزت کی زندگی گذاری تھی ، بہت ساروں سے بہت بہتر ، کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی نسلیں کباڑیے کے نام سے مشہور ہوں مگر اس کے سوا وہ کیا کر سکتا تھا ؟
میں پرانے فرنیچر کا کام کروں گا ۔ اب میں کباڑ کی جگہ پُرانا فرنیچر خریدوں گا ، اور اُسے نیا کر کے کم داموں میں بیچ دیا کروں گا، تاکہ یہ منحوس کباڑیے کا لفظ ہمارے نام کے آگے سے ہٹ سکے،اس نے ارادہ کر لیا تھا اور میں اور میرے بیٹے اس کے ساتھ تھے ہمیشہ کی طرح۔۔۔
انہی دنوں پتا چلا کہ علاقے کی سب سے بڑی پرانے فرنیچر کی دکان کا مالک اپنے بیٹوں کے پاس باہر ملک شفٹ ہو رہا ہے، اور دُکان کو فوری طور پر فروخت کر رہا ہے،قیمت بھی مناسب مانگ رہا تھا ، لیکن یہ مناسب قیمت بھی ہماری پہنچ سے باہر تھی ، ہم بہت عرصے سے اپنا کام کر رہے تھے مگر تھے تو کباڑیے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کیسے کر سکتے تھے مگر یہ بات اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ اس پر جیسے کوئی نشہ سوار تھا ، عمر کے آخری حصے میں اسے یہ کام کرنا ہی تھا ، وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھا ، زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگانے پر تُلا ہوا تھا ، اور اس سب کے بعد بھی قیمت ہماری پہنچ سے باہر تھی ، پھر کچھ دن کی خاموشی کے
بعد اس نے بتایا کہ وہ بیعانہ ادا کر چکا ہے ، اور اب دو دن کے بعد اسے ہر حال میں پوری رقم کی ادائیگی کرنی ہے ، سارا انتطام وہ کر چکا تھا اب صرف پانچ لاکھ روپے کم تھے
مگر ابّا ہم پانچ لاکھ کہاں سے لائیں گے اور اتنی رقم تو کوئی اُدھار بھی نہیں دے گا
یہ میرا منجھلابیٹا تھا ، مگر اس نے سُنا ہی نہیں ، وہ سنتا کب تھا، وہ سب کچھ پہلے ہی سوچ چکا تھا ،پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا ،
لا مجھے پانچ لاکھ لا کر دے
میں ؟ مگر کیسے میرے پاس اتنے روپے نہیں ہیں ، ۔۔۔ میں نے بتانے کی کوشش کی مگر وہ تو جیسے پاگل ہو گیا،
تیرے پاس نہیں تو کس کے پاس ہیں بیس سال سے جو بجنس کر رہی تھی ، میرا دیا کھا رہی تھی وہ اپنے یار پر لُٹا بیٹھی ہے۔
میں اس کے منہ سے یہ الفاظ پہلی بار سُن رہی تھی اور جیسے حق دق بیٹھی تھی اسکی آنکھیں ، اسکا لہجہ ، آواز سب کچھ بدل چکے تھے،وہ ۔۔ وہ نہیں تھا جس کے ساتھ میں پچھلے بیس سال سے رہ رہی تھی وہ ۔۔۔ وہ تھا جس کے ساتھ میں ایک کم چالیس برس پہلے بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی
کوئی اجنبی ۔۔۔۔ نہیں وہ اجنبی تو خاموش رہتا تھا ،جبکہ اس کی زبان زہر اُگل رہی تھی ، لفظوں کے ناگ مجھے ڈس رہے تھے ۔میں نے بولنا چاہا مگر حلق خشک ہو چکا تھا ، وہ چلاّ رہا تھا ۔ مسلسل بے تکان ۔ میں جیسے کھلے آسمان تلے کھڑی تھی اور جاڑے کی سرد رات میں میرے سر اولے پڑ رہے تھے ۔ سُن ہوتی سماعتوں نے کچھ سُنا ۔ہاں شاید نہیں یقیناًوہ یہی بول رہا تھا
اب تو یہاں کیا کر رہی ہے ، تو بھی وہاں جا جہاں اپنا مال پہنچایا ہے ، مکار عورت جا تین طلاقیں ہیں تجھے ، کوئی تعلق نہیں تیرا میرا
یہ الفاظ تھے ۔۔۔ نہیں کوڑے تھے ۔۔۔ میں بولنا چاہتی تھی ۔۔ بتانا چاہتی تھی ۔۔۔ میرے پاس روپے نہیں ۔۔۔ پُرانا زیور ہے جو میں پہلے ہی جہیز کی صندوقچی میں اسکے کپڑوں کی الماری میں رکھ چکی ہوں ،میں بتانا چاہتی تھی کہ یہ میں نے بُرے وقت کے لئے رکھا تھا ، اور اس سے برا وقت کیا ہو سکتا تھا ،کہ اس کی سب سے بڑی خواہش پوری نہ ہو سکے ۔۔۔ میں اسے بتانا چاہتی تھی کہ اس کے کہے بغیر ہی اس کی خواہش جان چکی ہوں ، مگر وہ سنتا ہی کب تھا، میں اس کے لئے ایک اجنبی ہی رہی ، اس نے میرے الفاظ کبھی نہیں سننے تو خاموشی کیسے سنتا ، برسوں کا ساتھ تھا گھنٹہ بھی نہیں لگا ختم ہونے میں۔
ایمبولینس بھی آئی ، میں ہسپتال بھی گئی ، سفید کفن میں لپٹا بھی دی گئی ،اور خاموشی سے سنتی رہی آس پاس والی عورتیں مجھے بتا رہی تھیں کہ میں خوش قسمت ہوں کہ میری مِٹی خراب ہونے سے بچ گئی ،ورنہ اس عمر میں طلاق کے بعد کہاں جاتی ، میں مر گئی یہ میرے حق میں بہتر ہوا ، میں مٹی کی امانت تھی اور اسکے سپرد ہوئی ، یوں میری کہانی ختم ہو گئی ۔
لیکن کیا واقعی ؟
وہ تیسرا دن تھا جب وہ میری قبر پر پہلی بار آیا ، اسے میرے جہیز کی صندوقچی مل گئی تھی اور زیوارت بھی ۔۔۔۔
وہ جان گیا تھا ، کڑی سے کڑی ملتی چلی گئی ، اب وہ روز میری قبر پر آتا ہے ، اس کا ماس تیزی سے ہڈیوں کو چھوڑہا ہے ، وہ ہر روز پہلے سے زیادہ بوڑھا ہو رہا ہے ، وہ جس نے کبھی مجھ سے ڈھنگ سے بات نہیں کی تھی وہ اب گھنٹوں مجھ سے باتیں کرتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں اس کی ہڈیوں میں بیٹھ گئی ہوں ، اسے وہ ایک کم چالیس سال بھول گئے ہیں ہمارے بچے ، رفاقتوں کے لمحے ، میری بے سروپا باتیں بھی بھول گئی ہیں حد تو یہ ہے وہ ” بجنس ” بھی بھول گیا ہے جو اس سارے فساد کی جڑ بنا ۔ اپنی شناخت، نیچ ذات اور معاشرے میں بلند مقام تک بھول گیا ہے بس یاد رہ گئی تو وہ میرے جہیز کی چھوٹی سی صندوقچی اور اس میں جمع شدہ کچھ پرانا ٹوٹا پھوٹا زیور ۔ وہ بار بار یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کب کب میں نے اسے اس جمع پونجی کے بارے میں بتانے کی کوشش کی تھی ۔ مگر اس نے سنا نہیں تھا پھر وہ مجھ سے محبت کے وہ سارے الفاظ کہتا ہے جو اب اپنی وقعت کھو چکے ہیں وہ روتا رہتا ہے اور پوچھتا رہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت کب ہوئی ۔۔۔ اس نے کبھی مجھے سننا ہی نہیں چاہا ۔۔۔ اور وہ آج بھی نہیں سننتا حالانکہ میں اسے بتاتی ہوں کہ
” میرے سوئم والے دن جب تمہیں الماری میں میرے جہیز کی صندوقچی ملی تھی تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی تھی “

Published inصدف زبیریعالمی افسانہ فورم