Skip to content

ہجر و وصال

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر: 43

ہجر و وصال

کوثر بیگ (مقیم جدہ ) حیدرآباد دکن

انتظار کرتے کرتے ایک اور رات بیت جائے گی

پتہ ہے تم نہیں آؤگے اور یہ تنہائی جیت جائے گی

دیکھو ایک دن اور تم بن بیت گیا ۔ پھر شب کی تنہائی سر پر آن کھڑی ہے ۔رات کاٹے نہیں کٹتی ایک کرب کے عالم میں بسر ہوتی ہے

تم سے بچھڑ نے کے بعد وقت تھم سا گیا ہے ۔خواہشات جذبات سب مٹ گئے ہیں ۔ زندگی گزار نہیں رہی ہے بلکہ گزارنی پڑتی ہے” ۔۔۔۔۔۔

دور سے امی کی آواز پر ڈائری سے خود کو کسی طرح بچاتے ہوئے ہوش کے دامن کو سنبھالا۔ امی کمرے میں داخل ہوتے ہی کہنے لگی۔

“نادیہ ! اللہ خیر کرے اب تک تم جاگ رہی ہو ؟ بیٹا جو لکھنا ہے صبح اٹھ کر لکھ لینا چلو اب جلدی سے سو جاؤ صبح آفس بھی تو جانا ہے “۔۔۔

“جی اچھا اماں “

نادیہ جلدی سے ڈائری تکیہ کے نیچے سرکاتے ہوئے سوچنے لگی ۔ اماں کو بھی بالکل تمہارے طرح ڈائری لکھتے دیکھ الجھن ہوتی ہے ۔ شکر ہے یہ تم جیسا پڑھنے کی ضد نہیں کرتیں ۔ لو آنکھیں موند لیں پر اس بیدار دل کا کوئی کیا کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نادیہ ناشتہ کے انتظار میں میز پر بیٹھی ڈائری کے صفحے سمیٹے کچھ سوچا اور پھر لکھنے میں محو ہوگئی ۔

“آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سنو ابھی ابھی تمہاری آہٹ مجھے محسوس ہوئی ہے۔ مجھے پتہ ہے ! تم یہیں ہو ، یہیں کہیں ہو ۔ کیوں ستاتے ہو مجھے ؟پرسوں بھی کچن میں ایسے ہی کھڑی تھی اور تم ہمیشہ کی طرح دبے پاؤں چلے آ رہے تھے ، مجھے لگا کہ تم ہو لیکن میں خاموش رہی۔ میں محسوس کرکےبھی چپ تھی ۔ کچھ دیر میں انجان بنی انتظار کرتی رہی بہت دیر ہوگئی تم نہ آئے ۔میں سمجھ گئی جیسے آئے تھے تم بنا ملے، ویسے ہی لوٹ گئے مگر تمہاری خوشبوئیں چاروں سمت بکھری ہوئی تھیں ۔ میں تمہیں پکارتی رہی پکارتی رہی ۔۔ جب دوسری جانب سے کسی کی آواز آئی تب جیسے میرے حواس واپس آئے ۔ اوہ ,کہیں کوئی یوں مجھے آواز دیتے دیکھ نہ لیں ۔دیوانہ نہ سمجھ لے ۔ تم مجھ سے ناراض ہو تو اب تھوک بھی دو غصہ ، تمہیں پتہ ہے میں زیادہ دیر تک منھ پُھلائے نہیں رہ سکتی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمہیں کو مجھے منانا ہوگا ۔ صرف ایک اور بار میرا بھرم رکھ لو ۔ چلے آؤ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازیہ کی آواز پر چونک کر دیکھا تو وہ ناشتہ لے آئی تھی ۔ نادیہ نے ڈائری بند کرکے پرس میں رکھی اور ناشتہ کرنے لگی۔

“شازیہ امی کو بتادیں میں آفس کےلئےنکل رہی ہوں “۔

ناشتہ کا آخری نوالہ منھ میں ڈالتے ہوئے نادیہ نے کہا

“باجی وہ اماں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں انہوں نے آپ کو رُکنے کے لئے کہا ہے۔“۔ شازیہ نے بڑی سرعت سےجواب کے ساتھ آتی ہوئی اماں کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے کہا ۔

اماں آتے ہی وقت لگائے بغیر مدعا بیان کرنے لگی ۔”نادیہ اگر ہوسکے تو تم آفس سے جلدی آجاؤ کیونکہ فوزیہ کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں” ۔

“اماں مجھے خوشی ہے کہ ہماری فوزیہ کی نسبت طے پارہی ہے مگر انہیں گھر پر بلانے سے پہلے ٹھیک سے تحقیقات کروا لیجئے۔”

“بیٹا ،شریفہ بی یہ نسبت لگارہی ہیں”۔

“شریف نام رہنے سے کوئی شریف نہیں ہوجاتا اماں”

“ارے نادیہ وہ ہمارے پرکھوں تک کو جانتی ہیں پھر ہمارے گھر برسوں سے رات دن کا آنا جانا ہے وہ ہمارا برا کیوں چاہے گی بھلا”۔

“ایسا بار بار خواتین کے آ کر دیکھنے سے فوزیہ کہیں مایوس نہ ہوجائے۔ وہ جیتی جاگتی انسان ہے ،کوئی کافور کی گڑیا تو نہیں“۔

“نہیں بیٹا میرا دل کہتا ہے اب کی بار پھر ویسا نہیں ہوگا “۔

اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ ٹھیک ہے آپ جو مناسب سمجھیں ۔ میں جلدی آنے کی کوشش کرونگی ۔ وہ پرس سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی اور ماں دُعاؤں دینے لگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس سے واپسی کچھ جلدی ہوئی اور پھر وہ اور اس کی ڈاٹری کے رازونیاز کا آغاز ہونے لگا۔۔

“تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

تمہیں پتہ ہے الماری کھولتی ہوں تو تمہاری پسند کے اتنے سارے ملبوسات بھرے پڑے نظر آتے ہیں جو پہلے مجھے بہت کم دکھائی دیتے تھے ،اب بہت لگتےہیں ۔ان سب سے چڑ آتی ہے۔ ہر سوٹ کی خریدی اور پھر اسے پہنتا دیکھنے کی تمہاری تمنا ،زیب تن کرنےکے بعد وہ ستائیشی جملے کیا کچھ ان کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں اور یہ زیورات اب انکی قدر و قیمت میرے پاس کچھ بھی نہیں رہی ۔ بس انکی وقعت ایک دھات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔اتنا اچھا وقت ہم نے ایک ساتھ گزارا تھا ! پھر تم مجھے کیسے اکیلے رکھ کر جاسکتے ہو ؟

تم کس موضوع پر کیا بولوگے۔کونسے وقت آ ؤگے ،کب کہاں جاؤگے ۔ کیا کھاؤ گے ،کیا پہنو گے ۔تمہارے بیزارگی کے اسباب ، غصہ کی وجوہات ،محبت کے انداز ، دکھ کی کیفیات، خوشی کے لمحات، چہرے کے تاثرات ، پسند اور ناپسند ۔کون دوست ہیں تمہارے اور کون دشمن ۔ کس نے تمہیں ستایا، کس نے کتنا احسان کیا ۔ ماضی کی یادیں، حال کی باتیں ،مستقبل کے خواب تم نے مجھ سے سب بانٹےتھے ۔ اتنا قریب آکر پھر مجھے تنہا کیسے چھوڑ گئے تم “۔

اماں کی آواز پر یک لخت اس نے سر اٹھایا۔

“افف فوہ نادیہ ! یہ کیا فوزیہ کے تیار کئے گئے کپڑے میں تمہیں بتارہی ہوں اور تم ہو کہ اس کتاب میں چھپی بیٹھی ہو ۔ حد ہوتی ہے ہر بات کی “۔

“اچھا اچھا اماں ناراض کیوں ہوتی ہو ڈائری کو ادھر رکھ دیتی ہوں ۔ چلیں بتائیں آپ کیا دکھانا چاہتی ہیں ۔”

بادل نخواستہ وہ کپڑے الٹ پلٹ کر باری باری دیکھنے لگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج فوزیہ رخصت ہوکر اپنے پیا گھر چلی گئی ۔ تھکے ماندے سبھی شادی خانے سے گھر واپس ہوئے ۔ سب ہی کے چہرے خوشی کے ساتھ مغموم بھی ہیں پر اماں کو سب سے زیادہ فوزیہ ہی کی کمی کا احساس تھا۔

شازیہ اماں کو سمجھانےلگی ۔۔۔۔اماں! سبھی رسومات بخیر و خوبی انجام پا گئے ۔الحمدللہ سب بہت ہی بہترین انداز سے ادائیگی ہو گئی اور دیکھو نا اماں آپ ہی تو رات دن فوزیہ دیدی کی شادی کی فکر میں لگی رہتی تھیں۔ ۔ہر ایک سے رشتہ کروانے کہتیں۔کتنے لوگوں نے آس دلا کر آپ سے پیسے مانگ لیے ۔ کتنی خواتین چائے سموسہ کھا کر چلی گئیں ۔ اب جب شادی ہوچکی تو آپ دُکھی ہورہی ہیں ۔ فوزیہ دیدی گئی ہیں تو کیا ؟ ہم دونوں بہنیں تو آپ کے پاس ہیں ناں ۔

“آپ دیکھ رہی ہو اماں شازیہ بھی کیسے سمجھ داری کی باتیں کرنے لگی ہے ۔اب اس کے لئے بھی بر کی تلاش شروع کردیں” فوزیہ ماحول میں خوشگواری لانے مسکرا کر کہنے لگی۔

یہ سنکر شازیہ شرما کر وہاں سے چلی گئی ۔

نادیہ اماں کو انکے کمرے تک لےآئی پلنگ پر لِٹا کر باربار اماں کو تسلی دیتی رہی کبھی دوڑ کر دودھ لے آتی وہ پینا نہ چاہے تو ان کے حکم پر پانی لا دیتی ۔ کبھی ان کے پاؤں دباتی کبھی سر سہلاتی بڑی مشکل سے انہیں سلا کر اپنے بستر پر آئی تو اسے نیند تو کیا آتی ۔نیند کو صدائیں دیتے وقت سرکتا گیا لیکن فراق کی سیج پر نیند کہاں ؟یادوں نے اسے ڈائری تھما دی ۔؟ سو پھر سے ڈائری کو زبان دینے لگی ۔

“ آگ سی جل رہی ہے سینے میں

اک تپش پل رہی ہے سینے میں

ہُو کا عالم ہے اور دبے پاﺅں

خامشی چل رہی ہے سینے میں

آج پھر تمہاری کمی شدت سے محسوس ہوئی ہے ۔ تنہائیوں کے اس دشت میں دل مجروح ہوا جا رہاہے ۔ کیوں چلے گئے تم ؟

ایسے ہی جانا تھا تو ، ساتھ لے جاتے اپنی یادیں ۔ ساتھ لے جاتے اپنی پرچھائی۔ ساتھ لے جاتے میری تنہائی۔۔ کیسے تم ہرجائی نکلے

میں تو تمہاری جان تھی نا ، مان تھی نا ۔ اپنی امانت اور ذمہ داری ماننے والے ۔ پھر کیوں مجھ سے روٹھ گئے تم ،مجھ سے ناطہ توڑ گئے تم ۔

ہم تھے پاگل تم ہوئے گھائل ۔ میں بنی سائل ۔ در تھا مقفل ۔۔ موت ہوئی حائل ۔ میں ہوئی بے کل ۔میرے دم تک ہیں یہ مسائل ۔ہم ہونگے ! ایک نیا جہاں ہوگا ! پھر ہوگا ہمارا ساتھ مکمل۔

ہاں ہاں دیکھنا! ایک دن ہم ساتھ ہوں گے! ایک نیا جہاں! ابدی زندگی، دیکھنا تم یہی ہوگا اور میں اس وقت تک منتظر رہوں گی” ۔

Published inعالمی افسانہ فورمکوثر بیگ