Skip to content

گمنام لفافہ

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 64
گمنام لفافہ
فرحین چودھری، اسلام آباد، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بےدھیانی میں کبھی کبھی پاس سے گزرنے والی کاروں کو یوں دیکھتا ہے جیسے کسی خوشیوں بھری گٹھری کا منتظر ہو۔۔۔۔ کو یی ایسی گٹھری جس میں کوئی اپنی ضرورت سے زاید خوشیاں باندھ کر پھینک جائے یونہی الله واسطے۔۔۔۔۔ !!! تاکہ انہیں وہ لوگ اٹھا لیں جن کی بوجھل گٹھڑیوں میں محرومیاں، تشنہ آرزویں اور بھوک کلبلا رہی ہے۔ ” کتنا پاگل ہوں میں۔۔۔۔ بھلا خوشیوں بھری گٹھڑی بھی کبھی کسی کو بھا ری لگی؟ جو یوں راستے میں پھینک جائے ؟ خوشیوں بھری گٹھڑیاں تو غبارے جیسی ہوتی ہیں جوں جوں پھولتی جاتی ہیں توں توں ہلکی ہوتی جاتی ہیں۔۔۔۔ اوپر ہی اوپر ہوایوں میں اڑاتی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ دور۔۔۔۔۔ جہاں سے ہر منظر بھلا لگتا ہے۔۔۔۔ بوجھل تو ہوتی ہیں غموں کی بوریاں جنہیں لادے لادے جسم جھکنے لگتے ہیں کمریں خمیدہ ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔۔ اور بلآخر زمین پر رینگنے والوں کو زمین نگل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس کا منہ کڑواہٹ سے بھر جاتا ہے۔۔۔۔۔ وہ چرس بھرے سگرٹ کا کش لگا کر ساری دنیا کو جیسے ایک گالی دیتا ہے۔۔۔۔ خود کو ہلکا پھلکا کر لیتا ہے۔۔۔۔۔ ابھی اس نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے؟ وقت نے اسے چھوٹی سی عمر میں ہی اتنا پکا کر دیا ہے کہ وہ ساٹھ سالہ بڈھے کی طرح سوچتا ہے۔۔۔۔۔ زندگی کی اوڑھنی کے سارے کچے رنگ ۔۔۔۔ تلخیوں کی دھوپ میں اڑتے چلے گئے۔۔۔۔۔ وہ جانتا ہے کہ یہ اوڑھنی اصل میں بھی بے رنگ و بے مایا ہے۔۔۔۔۔ یہ رنگ یہ لہریں اس کی۔۔۔۔۔ یہ چمک۔۔۔۔۔۔ سب کچھ لمحاتی ہے۔۔۔۔۔۔ سو وہ مطمین بھی ہے اور غیر مطمین بھی۔۔۔۔۔
مگر کچھ دیر کے لئے ہی سہی ، زندگی کی اوڑھنی کے کچھ رنگوں پر اس کا بھی کچھ تو حق بنتا ہے نا۔۔۔۔۔ سو وہ مضطرب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ سوچ کے جہنم سے بھاگنے کا ایک راستہ اس نے ڈھونڈ رکھا ہے۔۔۔۔۔ مگر ہر بار جب وہ پلٹ کر آتا ہے تو تپش دو چند ہونے لگتی ہے۔ وہ جلنے بجھنے لگتا ہے اپنے سگرٹ کی طرح۔
جانے کہاں سے ہوا کی لہروں پر ایک نسوانی آواز سنایی دیتی ہے۔۔۔۔ اسے احساس ہوتا ہے وہ کسی سے ٹکرایا ہے ۔۔۔۔۔۔ بس وہ جیسے اصل میں اندھا ہو جاتا ہے بس سماعت زندہ رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔ اس کی پور پور سننے لگتی ہے ساری دنیا پس منظر میں چلی جاتی ہے .. آواز کا شعلہ اسے خاکستر کئے دیتا ہے . . وہ آواز والی کے پیچھے چل پڑتا ہے۔۔۔۔۔ دن گذرتے ہیں یا سال؟ اسے کچھ یاد نہیں رہتا آواز کی انگلی تھامے وہ لور لور سڑکوں پر پھرتا ہے۔۔۔۔ آواز کے سحر نے اس کے پرانے درد جگا دیے ہیں۔۔۔۔۔ محرومیاں تشنگیاں کونوں کھدروں سے نکل کر ننھے منے بچوں کی طرح اس کے گرد گھیرا ڈال لیتی ہیں۔۔۔۔۔ جانے آواز والی کے وجود میں کیا کشش ہے کہ وہ سب کچھ بھولنے لگتا ہے۔
” کیا کوئی معجزہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ تم اپنے مدار سے نکل آیو یا میں اپنے مدار سے ٹوٹ کر گھومتا ہوا تمھارے مدار میں داخل ہو جایوں ؟ ”
”ہم جیسے لوگوں کے ساتھ معجزے نہیں ہوا کرتے ہم تو خود معجزہ ہیں۔ ” وہ مسکراتی ہے۔ ” معجزے ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو عقل اور شعورکی بجایے شعبدہ بازی کے زور پر تسلیم کے عادی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ لوگ خوف کی پیداوار ہوتے ہیں اور خوف ہی میں زندہ رہتے ہیں۔۔۔۔۔ سو ایسے ذی روح ان دیکھی پر اسرار پر ہیبت چیزوں کو ما نتے ہیں۔ ”
وہ اپنی سحر انگیز گفتگو سے اسے حیرانی کے صحرا میں بوند بوند پانی کے لئے بھگاتی ہے۔
” میرا جی چاہتا ہے تمہاری گود میں سر رکھ کر سو جایوں . ایسی نیند جو سمندر جیسی ہو۔۔۔۔۔ گہری پرسکون اور شاید کبھی نہ ختم ہونے والی۔ ”
وہ بچوں کی طرح مچل جاتا ہے۔
” تمھیں ابھی بہت دور جانا ہے سو جایو گے تو مسافت کی کڑی دھوپ کا سامنا نہیں کر پایو گے۔۔۔۔۔۔ تمہارا بدن لجلجا ہو جائے گا۔۔۔۔۔ پایوں کے تلوے نرم و نازک ہو جاییں گے۔۔۔۔۔ اپنی تلاش کا سفر بہت کٹھن ہے۔۔۔۔۔۔زخمی تلووں کی خبر لینے دیتا ہے نہ دراڑوں سے اٹے بدن کی۔۔۔۔۔ ”
وہ اپنی ذات کے دشت سے ابھر کر اسے سمجھاتی ہے۔
” مگر روح کی تھکن کا کیا کروں؟ ”
وہ جھنجھلا جاتا ہے۔
”تمہاری روح اس لئے نڈھال ہے کہ خود آگہی کے سفر سے ڈرتی ہے۔۔۔۔۔ یہی تو اس سفر کا مزہ ہے جرات کے سفر کا آغاز کرو روح ترو تازہ ہو جائے گی۔۔۔۔۔ اندر کا بھید عیاں ہوتے چلے جاییں گے یہ جسم تو ایک میڈیم ہے۔”
اس کی چمکتی شعاعیں منعکس کرتی نظروں کی وہ تاب نہیں لا سکتا۔
وہ اسے اپنے سحر کا اسیر کر کے چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ اسے آواز والی پر غصّہ آتا ہے بے تحاشا۔۔۔۔۔۔ جی چاہتا ہے اسے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالے۔ اس کے بدن پر اپنی شدتوں کے نشان ثبت کر ڈالے۔۔۔۔۔ اور چیخ چیخ کر کہے۔
” میں نہیں مانتا تمہارے ان بوگس روحانی فلسفوں کو۔۔۔۔۔۔ سب بکواس مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔ تمہارے وجود کی ضرورت ہے۔ ”
وہ خود میں جلتا بجھتا رہتا ہے۔۔۔۔۔ بھڑکتا رہتا ہے۔۔۔۔۔ مگر جونہی اس کی آواز سنتا ہے، ٹھنڈا ٹھار سا ہو کر اس کی انگلی تھامے انجانی گھاٹیوں ، پراسرار رستوں اور ٹمٹماتی روشنیوں کی جانب چل پڑتا ہے۔
حتیٰ کہ وہ چلی جاتی ہے اسے ہر بار نیے سوالوں کے جہنم میں چھوڑ کر۔
وہ اپنی بزدلی پر روتا ہے، چلا تا ہے۔۔۔۔۔ خود کو اذیت دیتا ہے۔۔۔۔۔ مگر ایسا کیوں ہوتا ہے ہر بار؟ وہ سوچتا ہے۔
آواز والی کی شبیہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔۔ مگر دھند ہے۔۔۔۔۔
” یہ کیسا عذاب ہے۔۔۔۔ میرا ذہین اس کے وجود کا احاطہ کیوں نہیں کر پاتا؟ شاید اس کی آنکھوں سے پھوٹنے والی روشنی اتنی تیز ہے کہ اس کا وجود دھندلا جاتا ہے۔۔۔۔۔ جسم کی نفی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ وہ اوجھل ہو جاتی ہے۔ ”
وہ سر تھام لیتا ہے۔۔۔۔۔ اس کا دوست حیرت سے پوچھتا ہے۔
”تم اس کے لئے پاگل ہوئے جا رھے ہو اور اس کی شکل تک یاد نہیں؟”
دوست کی آنکھوں میں شک کروٹیں لے رہا ہے۔
” یقین کرو وہ موجود ہے اس کی خوشبو مجھے گھیرے رہتی ہے۔۔۔۔ مگر وہ کیسی ہے میں نہیں جانتا۔ ”
وہ بےبس ہو کر گھٹنوں میں سر دے لیتا ہے۔
” کہیں میں آسیب زدہ تو نہیں ہو گیا؟ کہیں میری محرومیوں نے کوئی نیا پاکھنڈ تو نہیں رچا لیا ؟ ”
وہ خود اپنے بارے میں مشکوک ہونے لگتا ہے۔ اب وہ ڈوری کے ایک سرے پر بیٹھا دوسرے سرے کو ڈھونڈتا رہتا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا بدن ٹوٹ رہا ہے اسے چرس کے کش کی طلب ہے۔۔۔۔۔ اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ محبت تو ضرورت بن سکتی ہے مگر ضرورت کبھی محبت کا روپ نہیں دھار سکتی۔۔۔۔۔
وہ پھر آ جاتی ہے نتھری نتھری۔۔۔۔۔ اجلی اجلی۔۔۔۔۔ لہجے کا شہد ٹپکاتی
وہ کسی ندیدے بچے کی مانند اس کی انگلی سے ٹپکتا قطرہ قطرہ شہد چاٹتا اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔
وہ چاہتی ہے وہ دنیا کے چمکیلے رنگ بھی دیکھے محض اندھیروں ہی میں نہ ڈوبا رھے۔۔۔۔۔ مگر وہ تو اس کی نظروں کی شعاعوں کے پار اترنا چاہتا ہے۔
وہ اسے ان سنے بین ، کھنکتی ہنسی کی جھنکار۔۔۔۔۔۔ تڑختے نقابوں کے پیچھے چھپے مکروہ چہرے دکھانے پر بھی آمادہ ہے۔
” خالی کھوکھلے الفاظ جو تمھارے گردا گرد بد روحوں جیسے گھیرا ڈالے ناچتے ہیں ، میں تمھیں ان کے حصار سے نکالنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ میرے ساتھ چلو عمل کے خارزاروں میں۔۔۔۔۔ یقین مانو دور کہیں ایک بے حد خوبصورت دنیا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔۔۔۔۔”
آواز والی کی سرگوشیاں اس کے دکھتے بدن کو تھپکنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔ مگر دوسری جانب خالی ڈھول سے الفاظ بجنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ شور کرتے ہیں اس کے آعصاب چٹخنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ چلاتا ہے۔۔۔۔۔ چیختے چیختے آواز اس کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔ آنسو خشک ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ وہ کسی ٹنڈ منڈ جھاڑی کی طرح خود کو آندھیوں کے بعد کے اتھاہ سکوت کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔۔۔ پھر وہ چھا جاتی ہے جس کی سرگوشیاں پھول بن کر چٹکتی ہیں۔۔۔۔۔ اس کا بنجر جسم پھولوں سے ڈھک جاتا ہے۔۔۔۔ زرخیز ہونے لگتا ہے اور وہ خوشبو اوڑھ کر سو جاتا ہے۔
اب کچھ عرصہ سے اسے آتی جاتی کاروں سے جھانکتے چہروں سے نفرت محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ اسے اب خوشیوں سے بھری کسی گٹھڑی کا انتظار نہیں رہتا۔۔۔۔۔ وہ بھول گیا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری اور پایوں میں پھٹے چپل ہیں۔۔۔۔۔ اسے ان تلخ تھپڑوں کا ذایقہ بھی بھول چکا ہے جو اس کے باپ نے نیی شادی کے نشے میں چور ہو کر اس کی ماں اور اس کے منہ پر مارے تھے۔۔۔۔۔۔ اسے وہ سارے دن رات بھی یاد نہ رھے جب وہ ٹھٹھرتی راتوں میں بغیر چھت اور لمبی گرم دوپہروں میں بھوکا پیاسا سوتا تھا۔۔۔۔۔ وہ تو یہ بھی فراموش کر بیٹھا کہ اس کے جسم کی سوییاں چنتے چنتے سولی پر لٹکی رہنے والی ماں جب ہسپتال کے یخ بستہ برآمدے میں پڑی تھی تو اس کے بے جان جسم پر ایک میلی سی چادر تھی بس۔۔۔۔۔ اور تو اور اسے وہ قسم بھی یاد نہ رہی کہ وہ انتقام لے گا زمانے سے اپنے ایک ایک سسکتے لمحے کا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ بھی نہ کر سکا سوایے خود کو جلانے کے۔۔۔۔۔۔ چرس کے دھوییں میں اپنے وجود کی نفی کرنے کے۔۔۔۔۔ اب یہ آ گیی ہے آواز والی . .محرومیوں کو دوچند کرنے۔۔۔۔۔۔
اب تو چرس ادھار بھی نہیں ملتی سو چپ چاپ بدن کے درد سہتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ یا پھر آواز والی آن کر سرزنش کرتی ہے تو رو پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا ملا کچلا کمرہ مزید گندہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ وہ آتی ہے اسے خوب سناتی ہے کمرہ سیٹ کرتی ہے۔۔۔۔۔ کپڑے بدلنے پر اصرار کرتی ہے۔۔۔۔۔ کھانا بناتے بڑبڑاتی جائی ہے۔۔۔۔۔ دوا پھل کہلاتی باتیں کرتی اور پھر چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ چاہتا ہے اسے روک لے ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔ مگر نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔۔
اس کی عدم موجودگی میں وہ سب کچھ پھر الٹ پلٹ کر دیتا ہے جان بوجھ کر۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تو اس کا جی چاہتا ہے وہ آواز والی کو توڑ پھوڑ دے۔۔۔۔۔۔ ایسے کھلونے جیسی ہے جو اس کی دسترس سے باہر خوبصورت شو کیس میں سجا اس کا مذاق اڑا رہا ہو۔۔۔۔۔۔ اکیلے میں وہ بہت خوفناک منصوبے بناتا ہے اسے زیر کرنے کے۔۔۔۔۔ اپنی جبلت کی تسکین کے۔۔۔۔۔ مگر جونہی وہ آتی ہے نڈھال سا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ شل سا ہو جاتا ہے اپنی آوارہ سوچوں کے آگے بند باندھتے باندھتے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلکا ہلکا سا تعفن کہیں سے ابھر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ارد گرد پھیلی سرانڈ کے باعث قوت شامعہ کمزور ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ مگر پ۔۔۔۔ ھر بھی کہیں کچھ بو محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ کہاں ہے ؟ کیا ہے ؟ سوال ابھر رھے ہیں۔۔۔۔۔ دوسروں کی ” بو ” جلد پا لینے والے آخر کوارٹر 4 تک پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔۔ متعبر افراد کی موجودگی میں دروازہ توڑا جاتا ہے۔۔۔۔۔ ایک سکڑا سمٹا ممیلا کچلا جسم ان کا استقبال کرتا ہے۔۔۔۔۔ قوہ اپنی افلاس کی گود میں یوں پڑا ہے جیسے یہی حاصل زیست ہو۔۔۔۔۔ دیکھنے والوں کو عجیب سا لگا کہ مرنے والے نے بہت مضبوطی کے ساتھ تکیۓ کو دونوں بازویوں میں جکڑ رکھا تھا ، جو جگہ جگہ سے یوں پھٹ ہوا تھا جیسے کسی جانور نے ادھیڑا ہو۔۔۔۔۔۔ پنجوں سے خوب نوچا ہو۔۔۔۔۔۔ مرنے والے کی ناک سے بہتی ہوئی پتلی سی سرخ لکیر نے اس کے ہلکے سے تمسخرانہ انداز میں پھیلے ہونٹوں پر ایک سرخ مہر لگا دی تھی۔۔۔۔۔۔ اس گمنام لفافے کی مانند جسے ڈاکیہ بہت سے در کھٹکھٹانے کے بعد واپس gpo میں جمع کروا آیا ہو

Published inخواتین افسانہ نگارعالمی افسانہ فورمفرحین چوہدری