Skip to content

گمشدہ خدا

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر101
“گمشدہ خدا”
ابن عبداللہ ۔۔ ہزارہ پاکستان

اسے اچانک احساس ہوا کہ اس کا خدا گمشدہ ھے۔
اس نے یاداشت پر زور دیکر یاد کرنے کی کوشش کی پر اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے آخری بار خدا کو کب اور کہاں دیکھا تھا؟
وہ گھبرایا سا بیوی کے پاس پہنچا اور اس سے استفسارکیا کہ کیا اس نے اس کا خدا دیکھا ھے؟
آپ دیوانے ہو گئے ہیں کیا۔۔؟
بیوی نے برتن دھوتے ہوئے منہ بنا کر کہا۔
پر میرا خدا تو واقعی گمشدہ ہے۔۔بڑ بڑاتا ہوا وہ واپس پلٹا تھا
سارا دن دفتر میں فائلیں ادھر اُدھر کرتے ہوئے بھی اس کا دماغ اسی مسئلے میں الجھا ہوا تھا۔
کیا تم نے خدا دیکھا ھے کہیں۔۔۔.؟
سیکرٹری سے پوچھتے ہوئے وہ سوچنے لگا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ۔
سیکرٹری نے اس کی آواز سنی تھی یا سن کر انجان بن گئی تھی وہ سمجھا نہیں تھا۔۔
دفتر سے واپسی پر بھی گلیوں چوراہوں، اور کھڑکیوں میں جھانکتا رہا اس امید کے ساتھ کہ شاید کہیں اسے خدا دکھائی دے پر اس کی آنکھیں ہر جگہ سے مایوس لوٹ آئیں ۔
یہاں تک کچرے سے پرانا کھانا چننے والی آٹھ سالہ لڑکی کی آنکھوں میں بھی اسے خدا دکھائی نہیں دیا تھا ۔
شام کے کھانے پر اس نے اپنے بچوں سے بھی خدا کے بارے میں پوچھا ۔
جواب میں اسے وہ عجیب نظروں سے دیکھنے لگے جیسے وہ سٹھیا گیا ہو۔
شام کی اخبار کی بے مزہ سرخیوں کر چباتے ہوئے بھی اس کا دماغ مسلسل ایک ہی بات سوچے جا رہا تھا کہ اس کا خدا کہاں ھے؟
ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے نطشے کی بات پر یقین کر لیا تھا کہ خدا اب نہیں رہا۔
اور نہ ہی اس نے فرائڈ یا اس جیسے کسی انسان کے نظریات پڑھے تھے کہ اس کے دماغ سے خدا کے تصور کی جمی برف پگھل جاتی۔
یار میرا خدا گم ہوگیا ہے۔۔؟
اس نے ایک دوست کو کال کی تو جواب میں اس کا قہقہ سنائی دیا اور پھر آواز آئی۔
تیار رہو میں تمہیں لینے آرہا ہوں ۔
اس کا دوست اسے لیکر جسم فروشوں کی بستی میں جا پہنچا تھا ۔
میک اپ سے لتھڑے عورتوں کے چہرے اور خباثت بھری دلالوں کی آنکھوں میں بھی اسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔
تکیہ سے ٹیک لگائے خالی آنکھوں سے ناچتی ہوئی طوائف کو دیکھتے ہوئے اس کی نظر بھٹک کر اردگرد بیٹھے چہروں پر گئیں جن کے چہرے پر نفس کی آگ صاف دکھائی دے رہی تھی۔
ضمیر فروش لوگ۔
وہ بڑ بڑایا۔
تھرکتے ہوئے پیروں میں نگاہیں جمائے ہوئے اس کے دماغ کی سوئی وہی جا اٹکی تھی ۔
اسے لگا جیسا طوائف کے پاؤں سے بندھے گھنگھرو نے اس کی سوچ پڑھ کر قہقہ لگایا ہو ۔
رقص و سرور کی اس محفل میں سارے ہوس کے کشکول لئیے بیٹھے تھے ۔
یہاں اسے خاک خدا ملنا تھا ۔
راستے پر اس کا دوست رقاصہ کے جسم کے نشیب وفراز کی باتیں کرتا رہا اور وہ خاموشی سے سڑک کے ساتھ جا بجا لیٹے ہوئے مفلسوں کو سوتے ہوئے اس گمان کے ساتھ دیکھتا رہا کہ شاید کہیں کسی جگہ کسی پٹھی پرانی چادر میں اسے اپنا خدا دکھائی دے۔
آج رات اسے نیند نہیں آرہی تھی ۔
بیوی نے تیسری بار اسے بت بنے بیٹھے دیکھا تو ساتھ اٹھ بیٹھی۔
کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔؟
کچھ نہیں بس سخت الجھن میں گرفتار ہوں کہ میرا خدا گم ہوگیا ھے۔
بیوی کوئی بانو قدسیہ تو تھی نہیں ،اور وہ بھی تو کون سا اشفاق احمد تھا ۔
اس لئے زہنی سکون کی ایک گولی پانی کے ساتھ اسے دیکر وہ دوبارہ سونے لیٹ گئی تھی۔
دن پر دن گزرتے جا رہے تھے۔
اور اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
شہر کی ساری مسجدوں میں بھی وہ گیا تھا پر اسے کسی مسجد میں خدا نہیں ملا تھا۔
درگاہیں، مندر، ہر وہ جگہ جہاں کے بارے میں اس نے سنا کہ وہاں خدا ہوتا ھے وہاں وہ گیا پر لاحاصل۔
تھک کر اس نے اخبار میں گمشدہ خدا کا اشتہار دے دیا تھا ۔
پر آج تیسرا دن تھا اور کسی نے اشتہار کے جواب میں اسے سے رابطہ نہیں کیا تھا اور اب تو وہ مایوس ہو چکا تھا۔
آج صبح صبح اخبار پڑھتے ہوئے ایک اشتہار نے اسے چونکا دیا تھا
خدا برائے فروخت
اسے یوں لگا جیسے وہ اپنے خدا کو ڈھونڈنے کے بلکل قریب ہے۔
ناشتہ ادھورا چھوڑ کر وہ دیئے گئے پتے پر جا پہنچا ۔
ایک روشن بلند و بالا عمارت تھی جس کے اندر لوگ آ جا رہے تھے ۔
وہ بھی بھیڑ کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
پر یہ کیا۔
یہاں تو ضرورت زندگی کی ساری اشیاء تھیں۔
گاڑیاں، موبائلز، کمپیوٹرز، اشیاء خورنوش،
شاید وہ غلط پتے پر آگیا ہو۔
یہی سوچ کر اس نے پاس سے گزرتے ایک سیلز مین کو روک کر پوچھا ۔
جی آپ ٹھیک جگہ پر آئے ہیں سیلز مین نے خوش اخلاقی سے اسے جواب دیا اور پھر کاؤنٹر کے پیچھے بنے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں جائیں۔
وہ شکریہ ادا کر کے اس دروازے سے داخل ہوا ۔
اندر سامنے ہی ایک اسٹیج تھا جہاں ایک بندہ نیم تاریکی میں کھڑا لیکچر دے رہا تھا اور سامنے ہی کافی سارے لوگ بیٹھے اسے سن رہے تھے۔
وہ بھی خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ چکا تھا۔
لیکچر ختم ہونے کے قریب تھا۔
وہ بندہ کہہ رہا تھا۔
آج کے جدید خدا ہیں، اپنی ترجیحات ہیں، آپ اپنی پسند کا کوئی بھی خدا چن سکتے ہیں، جو آپ کی ترجیحات پر پورا اترے، جو آپ کے کام میں ٹانگ نہ اڑائے، جو آپ کے خواہش کے مطابق اپنے قانون بنائے، ا
اپنا اپنا خدا اپنا اپنا مذہب،
وہ مزید بھی کچھ کہتا رہا تھا۔
پر اچانک ہی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ چونکا تھا۔
اس کی جیب میں تو اس اس کا خدا پڑا ہوا تھا۔
جسے وہ کہی دن سے ڈھونڈ رہا تھا ۔
ایک اطمینان کی کیفیت میں وہ وہاں سے اٹھ رہا تھا جب اس بے وہاں موجود لوگوں کو ایسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اور پھر چونکتے ہوئے دیکھا ۔
اسے اندازہ ہوا کہ سب کی جیب میں اپنا اپنا خدا تھا۔۔۔!!

Published inابن عبداللہعالمی افسانہ فورم