Skip to content

گشتی اور مامتا

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 24
گشتی اور مامتا
معظم شاہ، اٹک، پاکستان(ٹائٹل ۔ معظم شاہ)
مجھے اس تھانہ میں تعینات ہوئے تیسرا ماہ تھا۔ بطور سب انسپکٹر یہ میری دوسری تعیناتی تھی، میرے اکثر دوستوں کو یقین نہ آتا تھا کہ میں یعنی شیخ سعد حمید پولیس جیسے محکمہ میں کامیابی سے ملازمت کر رہا ہوں ، والد صاحب ریٹائرڈ کلرک تھے اور والدہ محلے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھیں۔ گھر کا ماحول اتنا مذہبی تھا کہ میری ضد پر ٹی وی گھر میں اس وقت آیا جب میں فرسٹ ایئر میں پہنچ چکا تھا اس پر بھی ابا کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ رات کو وہ وقت مسجد میں گزارتے، جس دوران ہم ڈرامہ دیکھا کرتے تھے، ایسے ماحول میں ، میں نے بی اے کیا اور اے ایس آئی کی سیٹ پر اپلائی کر دیا، اللہ نے کرم کیا اور بغیر کسی سفارش کے مجھے نوکری مل گئی، شروع میں ، میں نے سختی سے ایمانداری کو اپنایا لیکن جب دیکھا کہ ساری کی ساری تنخواہ ڈیوٹی پر لگ رہی ہے تو مجھے مجبوراََ ہاتھ کھولنا پڑے۔ اب میں رشوت بھی لیتا تھا اور کچھ رنگین مزاجی بھی طبیعت میں شامل ہو چکی تھی لیکن بے گناہ اور معصوم لوگوں سے آج بھی میں نہ تو رشوت لیتا تھا اور نہ ہی انہیں تنگ کرتا تھا۔
اس دن میں ڈیوٹی آفیسر تھا، رات 2 بجے ایک لڑائی جھگڑے کا کیس آ گیا جسے نبٹاتے نبٹاتے صبح کی اذانیں شروع ہو گئیں۔ میں نماز پڑ کر سویا تو آٹھ بجے سنتری نے جگایا، آدھے گھنٹے میں نہا دھو کر میں دوبارہ یونیفارم پہن چکا تھا۔ قریب نو بجے صبح وہ میرے کمرے میں داخل ہوئی، پانچ فٹ آٹھ انچ قد کے ساتھ قدرے بھرا بھرا بدن اور خوبصورت بیضوی چہرے پر موٹی موٹی کاجل بھری آنکھیں، اس کی آنکھوں کی سرخی بتاتی تھی کہ یا تو روئی ہوئی ہے یا پھر رات کو جاگتی رہی ہے۔
وہ آتے ہی میرے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی، بلا کا اعتماد تھا اس کے انداز میں، میں نے کہا؛
“جی بی بی کیسے آنا ہوا۔”
بولی؛ “ایک بے غیرت نے تنگ کر رکھا ہے، میں نے بہت کوشش کی کہ خود ہی مسئلہ حل کر لوں لیکن آج جب وہ حد سے گزر گیا تو مجھے آپ کے پاس آنا پڑا۔”
میں نے کہا؛ “کچھ وضاحت کرو مسئلہ کیا ہے۔”
بولی؛ “صاحب آپ سے کچھ چھپاؤں گی نہیں۔ میرا نام نجمہ ہے، میرے پاس کچھ لڑکیاں ہیں میں ان سے دھندا کرواتی ہوں، میں خود نہیں چلتی، بس انہیں محفوظ گاہکی دلواتی ہوں اور میری دال روٹی چلتی ہے، یہ ندیم بدبخت میرا پڑوسی ہے، اس نے ایک دن مجھے کہا کہ ساری دنیا کو موج کرواتی ہو ہمیں کبھی پوچھا بھی نہیں، میں بولی محلے والوں سے دھندا میرا اصول نہیں ہے۔ تو اس نے مجھے دھمکیاں دینی شروع کر دیں کہ میں اہل محلہ کو جمع کر کے تمہیں نکلوا دوں گا۔ اب صاحب آپ جانو، میرا چکلا تو ہے نہیں، لڑکیاں عزت سے میرے گھر آتی ہیں، میں ان کی بکنگ فون پر کرتی ہوں اور گاہک تک خود پہنچا کر آتی ہوں، واپس لینے بھی وقت پر جاتی ہوں اور لڑکیوں کو اپنے گھر لا کر ان کا حصہ دے کر انہیں رخصت کر دیتی ہوں، ابھی تو کچھ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لڑکیاں بھی میرے پاس ہیں، کچھ گاہک گپ شپ اور ادب آداب کے شوقین ہوتے ہیں تو وہ پڑھی لکھی لڑکیاں پسند کرتے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو، آج اُس حرامی نے میرے دروازے پر کھڑے ہو کر صبح ہی صبح شور مچانا شروع کر دیا، میں نے روکا تو میرے ساتھ ہاتھا پائی کی اور میرے کپڑے پھاڑ دیئے، یہ کہتے ہوے اس نے اپنے پرس سے پھٹی ہوئی قمیض نکال کر میرے سامنے رکھ دی۔
میں نے اس کی درخواست لکھ کر اس کے دستخظ کروائے اور اس کے ساتھ چل پڑا، سرکاری گاڑی کسی کام سے تھانہ آئی ہوئی تھی میں نے اسی گاڑی میں اسے بٹھایا اور اس کے پڑوس سے ندیم نامی بدمعاش کو اٹھا لایا۔ یہ لڑکا ابھی نئے نئے پَر پُرزے نکال رہا تھا، تھانے میں اس کے خلاف معمولی نوعیت کی کچھ درخواستیں پہلے بھی پہنچ چکی تھیں لیکن خشکہ ہونے کی وجہ سے دادرسی کی منزل نہ پا سکی تھیں۔ شروع میں تو اس نے تڑ بڑ کرنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی لائن پر آ گیا اور اعتراف کر لیا کہ اس نے واقعی یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا، میں نے درخواست پر استغاثہ مرتب کیا اور ندیم عرف دیمے کو پانجہ (پانچ لتر) لگا کر حوالات میں بند کر دیا (شروع کے دنوں میں ، میں چھترول وغیرہ کے سخت خلاف تھا لیکن جب محسوس ہوا کہ جرائم پیشہ لوگ اس مار کو اپنی خوراک سمجھتے ہیں اور اس تھانیدار کو انتہائی چبل ، جو اس قسم کی مار نہ دے سکے، تو میں نے بھی مار کٹائی کا سلسلہ شروع کر دیا تھا) ۔
شام کو میرے موبائل پر اس کی کال آ گئی، بولی ؛
“شیخ صاحب اگر کچھ دیر کے لیئے غریب خانے پر آ سکیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” لمبی “تو” کے بعد خاموشی تھی ، میں نے کہا؛ “ضروری ہے۔” ، وہ بولی؛ “نہیں ضروری تو نہیں آپ ابھی مصروف ہیں تو پھر کسی وقت رکھ لیتے ہیں میں تو آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی اور آپ کو ایک بات بھی بتانا تھی۔” میں نے کہا کہ آٹھ بجے میری ڈیوٹی آف ہو گی تو میں ساڑھے آٹھ تک تمہارے گھر پہنچ جاؤں گا۔
میں اس کے گھر سادہ لباس میں پہنچا تو اس نے گرما گرم بریانی تیار کر رکھی تھی، میں نے کھانے سے سختی سے انکار کر دیا، جس پر اس کا موڈ خراب ہوا لیکن پی گئی ہم نے باتیں شروع کیں۔ اس نے بتایا کہ ندیم کی گرفتاری کے بعد محلے میں گونجنے والی سرگوشیوں سے اسے پتا چلا کہ ندیم پرچون میں چرس بیچ رہا تھا اور اس کے پاس ایک ناجائز پستول بھی تھا۔ شیخ جی، اس کے گھر پر چھاپہ مارو چرس بھی ملے گی اور پستول بھی۔ میں نے پوچھا کہ اس کے گھر میں کون کون ہے۔ وہ مجھے اس کے گھر کے افراد کی تفصیل بتانے لگی۔ اس کا دوپٹہ ڈھلک گیا تھا اور گہرے گریبان سے جو کچھ نظر آ رہا تھا اسے دیکھنا بڑا صبر آزما کام تھا، میں نے کہا دوپٹہ ٹھیک کر لو، تو وہ ہنس کے بولی؛ “شیخ صاحب تھانیدار ہو کے بھی ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔” اس کا ادھورا جملہ اور پھر معنی خیز خاموشی کے ساتھ بولتی آنکھیں جو چیلنج دیتی محسوس ہوتی تھیں، میرے لیئے مزے کی چیز تھیں، اس نے چھاتی نہیں ڈھانپی تھی ، میں ابھی مناسب جواب سوچ رہا تھا کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے گال پر چٹکی کاٹی اور بولی اب اتنے پارسا ہونے کا بھی کیا فائدہ، میں کوئی نیک پاک بندہ تو تھا نہیں، عورت کا وجود میرے لئے کوئی نئی بات نہیں تھا۔ وہ اپنی خوشی سے گود میں گرنا چاہتی تھی، تو مجھے کیا پڑی تھی کہ روکتا پھرتا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچ لیا۔ اس کا آغاز ہی انوکھا تھا میرے اوپر گر سی پڑی اور میرا چہرہ اپنی چھاتی میں دبا لیا ، اس نے بہت پیاری پرفیوم لگا رکھی تھی، اس کے ہاتھ میری پیٹھ پر مچل رہے تھے اور میرا چہرہ اس کے جسم کی نرماہٹوں میں دبا جا رہا تھا، میں نے سر پیچھے ہٹایا تو اس نے تیزی سے اپنی قمیض اتار پھینکی اور ہر بندش سے خود کو آزاد کرکے پھر مجھے ویسے ہی دبوچ لیا، اس کی یہ جارحیت میرے لئے انوکھی بھی تھی اور مجھے ایک نئے سرور میں کھینچے چلی جا رہی تھی۔ فطری طور پر میں وہاں پہنچا جہاں اللہ نے معصوموں کا رزق رکھا تھا لیکن پکے گناہگار پہلا ڈاکہ وہیں پر ڈالتے تھے۔
اس دن مجھے اس نے جسمانی تعلق کے ایک نئے روپ سے آشنا کیا، مجھے ان جہانوں کی سیر کروائی جو آج تک میرے لیئے اجنبی تھے، میں سرور کی ان وادیوں سے گزرا جہاں سے پہلے میرا گزر نہیں ہوا تھا، لیکن اس رات کی صبح اس کے لئے بھی تحیر کا ایک نیا جہاں لئے اس کی منتظر تھی، جیسے ہی صبح کاذب کے آثار نمایاں ہوئے، میں نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا اور اسے پیٹنا شروع کر دیا تین چار چانٹے اور دو ایک ٹھوکریں لگانے کے بعد میں اس کے ننگے بدن پر تھوک کر اس کے گھر سے باہر نکل گیا۔ اس دن میں نے ندیم کے گھر پر چھاپہ مارا اور چرس اور پسٹل برآمد کر کے اس پر دو اور پرچے بھی دے دیئے۔
دو تین دن تک اس کا فون نہ آیا، میں بھی اپنے معمولات میں مصروف رہا، ایک شب رات ایک بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی، میں نے دیکھا تو اسی کا نمبر تھا، مجھے کچھ پشیمانی کا احساس تھا، میں نے کال اٹینڈ کی اور پوچھا کہ کیوں کال کی ہے، بولی؛ “جو کمینہ پن تم نے میرے ساتھ کیا تھا اس کا بہترین جواب میں تمہیں دے سکتی تھی لیکن ایک دنیا دیکھ چکی ہوں، جان گئی تھی کہ تم اس کتے پن پر مجبور ہو، بتاؤ کیوں ایسا کیا تھا، مجھے ایسے لگا جیسے میری استانی جی نے میری کوئی غلطی پکڑ لی ہے اور اب مجھے سچ بولنا ہی پڑے گا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اس کی وجہ نہیں جانتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں جس عورت سے ملتا ہوں اسے استعمال کرنے کے بعد بے اختیار اسے مارنے لگتا ہوں مجھے اس سے شدید نفرت محسوس ہوتی ہے، مجھے اس سے شدید گھن آتی ہے، لیکن یہ کیفیت کچھ دیر بعد خود بخود ختم بھی ہو جاتی ہے، ہاں ، دل کی بے چینی دو تین دن تک رہتی ہے ۔
وہ بھی اپنے مزاج کی ایک الگ قسم کی ڈھیٹ واقع ہوئی تھی، بولی؛ “مجھے نہیں پتا، جو وضاحت کرنی ہے یہاں آ کر کرو، قصہ مختصر میں اس شب اس کے گھر گیا اور اس کے بعد تھانے میں میرا کمرہ، انتظار کرتا رہ گیا کہ میں وہاں بھی کبھی آرام کروں۔ اب میں وہاں صرف ڈیوٹی کے لیئے جاتا تھا، (میں نے اپنے آفس میں ہی ایک بیڈ بھی لگا رکھا تھا اور ڈیوٹی ختم کر کے وہیں سو جایا کرتا تھا)۔ میں ان دنوں اسی کے ساتھ مقیم تھا۔ اس دن میں جب اس کے گھر پہنچا تو اس نے اپنے دو بچوں سے مجھے ملوایا، اس کی بیٹی سمیرا چار سال کی تھی بیٹا اسامہ تین سال کا۔ سمیرا بالکل گڑیا جیسی تھی سرخ و سفید رنگت، سنہرے بال، سبز آنکھیں جنہیں پٹ پٹا کر جب وہ بات کرتی تو بے اختیار اسے چوم لینے کو جی چاہتا تھا، اسامہ اس سے بھی زیادہ پیارا تھا موٹا سا گول مٹول بچہ جسے موٹی موٹی بولتی آنکھیں گویا ماں کی جانب سے ملی تھیں۔ اسامہ نے بالکل اجنبیت نہیں برتی اور جھٹ سے میری گود میں آ گیا، مجھے ایسے لگا کہ جیسے وہ میرے ہی وجود کا حصہ ہو، میں نے اسے بے تحاشہ پیار کیا وہ اسی انداز سے مسکرا کر میری جانب دیکھتا رہا، وہ خاموش تھا لیکن اس کی آنکھیں بولتی تھیں، وہ کہتی تھیں کہ ہم پیار کے ترسے ہوئے ہیں، ہم باپ کی محبت سے نا آشنا ہیں، اور ان میں ایک سوال تھا، ہمیں چھوڑ تو نہیں جاؤ گے۔
نجمہ نے جانے میرے اوپر کیسا جادو کیا، وہ دن بھر میری خدمت کرتی، اس کے بچے میرے ساتھ کھیلتے رہتے، خاص طور پر اسامہ میرے بہت قریب ہو گیا تھا، مجھے بھی اس کے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ رات کو نجمہ انہیں دوسرے کمرے میں سلا کر میرے پاس آ جاتی، ہر رات اس کے انداز میں ایک نئی گرمجوشی ہوتی تھی، اور ہر صبح کی مار اور تذلیل بھی گویا اس نے ایک معمول کے طور پر قبول کر لی تھی، اس دوران نجمہ نے اپنے کام کے اوقات بھی بدل دیئے تھے، اب وہ صرف دن کے وقت دھندہ کرتی تھی جب میں تھانے میں ہوتا تھا رات کو اس کے دونوں موبائل آف ہو جاتے تھے۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا تھا کہ میں غلط کر رہا ہوں لیکن کبھی نجمہ کے جسم کا نشہ اور کبھی اسامہ کی محبت میرے پاؤں کی زنجیر بن جاتی۔ خاص طور پر اسامہ سے میں اتنا مانوس ہو چکا تھا کہ اس کے بغیر جینے کا تصور اب محال نظر آتا تھا۔
اس رات میری گشت تھی۔ رات دو بجے میں نے ڈرائیور کو نجمہ گی گلی کی جانب چلنے کو کہا اور علاقہ کے شروع کے ایک چوک میں گاڑی رکوا دی۔ ہوٹل والے کو اشارہ کیا کہ ڈرائیور کو چائے وغیرہ دے اور خود پیدل گھر کی جانب چل دیا، گھر کی ایک چابی میرے پاس ہوتی تھی، آج پہلا موقع تھا کہ میں ڈیوٹی کے دوران گھر جا رہا تھا۔ پتا نہیں کیا بات تھی لیکن مجھے نجمہ کا ایک ایک انگ یاد آ رہا تھا، میں نے سوچا ایک گھنٹے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی کال آئی تو ڈرائیور مجھے فون پر بتا دے گا۔ یہی سوچ کو میں مطمئن انداز میں گھر کی جانب بڑھتا جا رہا تھا، گلی میں تاریکی تھی، میں نے دروازے میں چابی گھمائی اور کھول کر بے آواز اندر چلا گیا، میں نے سوچا، شاید نجمہ نے بچوں کو اپنے پاس سلایا ہو، کہیں ان کی آنکھ نہ کھل جائے، میں نے کمرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے عادتاََ کھڑکی سے دیکھا تو مجھے بیڈ پر دو انسان نظر آئے، نجمہ ایسی حرکت کرے گی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ اتنی ہی گرم جوشی اور خلوص سے کسی غیر کے ساتھ مصروف تھی۔ میں نے زور سے دروازہ بجایا اور کمرے میں کھلبلی مچ گئی، کون ہے، نجمہ کی سخت آواز گونجی، گشتی دروازہ کھول، میں نے آواز دبا کر کہا ۔ دروازہ تو نہیں کھلے گا، جو کر سکتے ہو کر لو، نجمہ بھی کوئی معمولی شے نہ تھی، میرا جی چاہا کہ دروازہ توڑ دوں لیکن یک دم جیسے میں سوتے سے جاگ گیا ، شیخ جی کیا کر رہے ہو، تمہارا اس سے تعلق کیا ہے، دنیا والوں کو کیا بتاؤ گے کہ کیوں ایک غیر عورت کے گھر مار پیٹ کر رہے ہو، اگر یہ بندہ تمہارے ہاتھوں مارا گیا تو قتل تو گلے پڑے گا ہی محکمہ میں جو بدنامی ہو گی وہ الگ، بہتر ہے خاموشی سے نکل چلو، میں نے دماغ کی آواز پر کان دھرا اور نکل آیا۔ اس کے بعد صبح تک گشت میں نے صرف یہی سوچتے ہوئے کیا کہ مجھ سے اتنے دن تک کیا حماقت سرزد ہوتی رہی۔
یہ دوسرے دن کا ذکر ہے۔ میں کسی کام سے ایک ساتھی تھانیدار کے کمرے تک گیا ابھی دروازے سے کچھ دور تھا کہ اپنا نام سن کر وہیں رک گیا دونوں میرے دوست تھے ایک اے ایس آئی تھا اور دوسرا سب انسپکٹر، ایک کہ رہا تھا؛ “شیخ بھی عجیب آدمی ہے یار ، دلہ بن جائے گا ہم نے سوچا بھی نہ تھا۔” دوسرا بولا؛ “نجمہ گشتی کو کون نہیں جانتا یار، مجھے تو اب شیخ کو دوست کہتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے، ان سالیوں کو ایک رات سے زیادہ سر نہیں چڑھانا چاہیئے، یہ سالا تو اس کا خصم بن کر بیٹھ گیا، حد ہے یار ۔ ۔ ۔ ۔ ” میں الٹے قدموں واپس ہو گیا، میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اسی صبح میں نے ایس پی صاحب سے درخواست کر کے اپنا تبادلہ پولیس لائن میں کروا لیا، مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ فیلڈ میں نکل کر نوکری کر سکوں۔ دو تین ماہ لائن میں گزارے اور اس دوران اپنے شہر میں ٹرانسفر کی کوششیں کرتا رہا آخر ایک دن میری ٹرانسفر میرے آبائی ڈسٹرکٹ میں ہو گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس دوران نجمہ نے کئی بار کال کی لیکن میں نے اس کی آواز سنتے ہی کال کاٹ دی، اس نے منت بھی کی لیکن میں بھلا اس کی بات کیسے سن سکتا تھا، اس نے میسیج بھی کئے جن میں اس کا یہی کہنا تھا کہ وہ اس کا پرانا گاہک تھا اور ضد کر بیٹھا تھا کہ وہ نجمہ کے گھر ہی رات گزارے گا۔ مجھے اس کے ایس ایم ایس سے بھی گھن آ رہی تھی میں نے ڈیلیٹ کر دیا۔
تین سال گزر گئے۔ ایک دن میں کسی کام سے راولپنڈی گیا۔ ایک گلی میں مڑ رہا تھا کہ اچانک نجمہ سامنے آ گئی وہ مجھے دیکھ کر ٹھٹک کر رک گئی۔ میں نظر انداز کر کے آگے بڑھنے لگا تو اس نے بلند آواز سے پکارا؛ “شیخ جی میری بات سن لو۔” میں رک گیا، وہ پھر وہی وضاحت کر نے لگی کہ اس دن وہ مجبور ہو گئی تھی، اس کا کہنا تھا کہ وہ میری خاطر ہر غلط کام چھوڑنے پر تیار ہے، پتا نہیں میرے دماغ کو کون سی سنک چڑھی میں نے پوچھا، اسامہ کا کیا حال ہے، بولی شیخ جی، اسامہ تو مر گیا ۔ اس کی بات سن کر مجھے دھکا سا لگا، دل رک سا گیا، آنکھوں میں اس معصوم کا سراپا گھوم گیا، میری آنکھوں کی نمی بغاوت پر آمادہ تھی میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر غم کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس کی آنکھوں کا کاجل ویسا ہی تھا، وہ بڑے نارمل انداز میں بتا رہی تھی کہ ایک سال ہو گیا، اسے بخار ہوا تھا دو دن بیمار رہا اور تیسرے دن مر گیا، ایسے تو کوئی کسی پڑوسی کا ذکر بھی نہیں کرتا جیسے وہ اسامہ کا کر رہی تھی۔ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ارد گرد سے ہر چیز گویا غائب ہو چکی تھی مجھے صرف اس کی کاجل بھری آنکھیں نظر آ رہی تھیں جن میں شوخی تھی، شرارت تھی اور غم کی پرچھائیں تک نہ تھی، یہ آنکھیں پتا نہیں کیوں مجھے اٹھارہ سال پیچھے لے گئیں۔
ان دنوں میں میٹرک کا امتحان دے چکا تھا۔ شیخ احمد ماموں ہماری امی کے کزن تھے، اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے، میری امی ان سے بہت بے تکلف تھیں، ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی سہیلیوں میں لے جاتیں اور کہتیں؛ یہ ہے میرا بھائی شیخ احمد ، ہم انہیں شیخ ماموں کہا کرتے تھے، میں نے کبھی ان کے بارے میں تجسس سے نہیں سوچا، مجھے وہ امی کے سگے بھائی لگتے تھے۔ ان دنوں میں نے گھر والوں سے چھپ کر ایک موٹر مکینک کے پاس بیٹھنا شروع کیا تھا، مقصد یہ تھا کہ ریزلٹ آنے تک کم از کم گاڑی کی دیکھ بھال ہی سیکھ لوں۔ ایک دن ورکشاپ میں دل گھبرا سا گیا، پتا نہیں کیوں ایک عجیب سی بے چینی نے ایسے آن گھیرا کہ میں استاد کو بتا کر گھر کی جانب چل پڑا، ابو اپنے دفتر میں تھے اور بہن بھائی سکول گئے ہوے تھے، گھر میں صرف ایک نوکرانی تھی جو کچن میں کام کر رہی تھی، میں گھر میں داخل ہوا اور امی کو آوازیں دینے لگا۔ میرا ایمان تھا کہ وہ آیاتِ قرآنی پڑھ کر پھونکتی ہیں اور میرے دل کو سکون مل جاتا ہے۔ امی نے جواب نہ دیا ایک کمرے کا دروازہ بند تھا، میں نے بجایا تو نوکرانی بے چین سی ہو گئی اور بولی؛ “صاحب آپ اپنے کمرے میں جاؤ بیگم صاحبہ آتی ہیں۔” میں وہیں کھڑا ہو گیا کہ بات کیا ہے، اتنے میں امی کمرے سے باہر نکلیں ان کے بال بکھرے ہوے تھے اور چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے بولیں؛ “تمہارے شیخ احمد ماموں کو مجھ سے کوئی مشورہ کرنا تھا اسی لئے اس کمرے میں بات کرنے آ گئے تھے۔ آؤ اپنے ماموں سے ملو۔ میں خاموشی سے اندر داخل ہوا تو شیخ احمد ماموں خجل سے بیٹھے تھے۔ میں نے بھی اکھڑی اکھڑی سی ایک آدھ بات کی اور انہوں نے امی کو اونچی آواز میں بتایا کہ اچھا بھئی میں چلتا ہوں، اس دن سے میں نے ان کے تعلق کو ایک نئے زاویئے سے دیکھنا شروع کیا مجھے یقین ہو گیا تھا کہ دال ساری کی ساری کالی ہو چکی ہے، اور پھر ایک دن میں نے اپنی سگی ماں کے منہ سے وہ سنا جس کا میں کبھی مر کر بھی یقین نہیں کر سکتا تھا۔
دوپہر تھی، میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ شیخ احمد ہمارے گھر کب آیا، میں تو کچن میں رکھی فریج سے پانی پینے آیا تھا۔ ہمارا کچن ایسے بنا ہوا تھا کہ باہر سے پتا نہیں چلتا تھا کہ اندر کوئی ہے یا نہیں مجھے ملحقہ کمرے سے امی اور شیخ احمد نکلتے نظر آئے، وہ امی سے کہ رہا تھا، تم مانو یا نہ مانو مجھے لگتا ہے سعدی کو شک ہو گیا ہے۔ امی بولیں؛ “دیکھو میں اسے سمجھانے کی کوشش کروں گی اگر بات بن گئی تو ٹھیک ورنہ اپنے کسی کارندے سے ایک گولی چلوا دینا، تمہارے لئے کون سی نئی بات ہے۔ میرے کانوں میں جیسے پگھلتا ہوا سیسہ اتر گیا، یہ کیا کہ رہی ہیں ، ایک ہفتے بعد ہی شیخ احمد ہمارے گھر سے واپس جاتے ہوے گاڑی کی بریکیں فیل ہونے پر سٹئیرنگ پر قابو نہ رکھ سکا اور ایک گہری کھائی میں گر کر بری حالت میں مردار ہوا۔ کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ گاڑی کی بریک فیل ہونا حادثہ نہیں ہے۔ میں امی کے ساتھ اس کے جنازے پر بھی گیا، کئی ماہ تک امی کی حالت نہیں سنبھل سکی، میں آج بھی ان کے ساتھ ایسا رویہ رکھتا تھا کہ انہیں کبھی معمولی سا شک بھی نہیں ہوا کہ شیخ احمد کے قتل میں میرا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ میں بچہ نہیں تھا، میری غیرت کبھی گوارہ نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی میری اور میرے باپ کی عزت سے کھیلتا پھرے، میں اسے قتل کرنے کا منصوبہ تو بنا ہی چکا تھا، بریکس کو ایسے خراب کرنا کہ گاڑی کچھ کلو میٹر چلنے کے بعد خراب ہو، میرے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔
میں نے کبھی امی کو شک نہیں ہونے دیا، وہ ہمیشہ کی طرح میرے اوپر قرآنی آیات پڑھ کو پھونکتیں، مجھے دعائیں دیتیں لیکن مجھے یہ سب کچھ بناوٹ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، یہ سب گزر گیا لیکن میرے دماغ میں ایک سوال کا کالا ناگ بٹھا گیا جو ہر پل میری سوچوں کو ڈستا رہتا تھا، کیا کوئی عورت خود اپنے بچے کو مروانے کی بات کر سکتی ہے، کیا اس کے دل میں مامتا کی ایک رمق بھی نہیں تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ماں کے دل سے مامتا ختم ہو جائے؟
“شیخ جی، شیخ جی” نجمہ کی آواز مجھے ماضی کے دھندلکوں سے حال کی تلخ دنیا میں واپس کھینچ لائی، ہاں ، میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا، اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی چمک تھی، وہی کاجل کی مستی، وہی شرارت، وہی شوخی، کیا یہ ایک ایسی ماں کی آنکھیں تھیں جس کا بچہ منوں مٹی کے نیچے جا سویا تھا؟ مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ ایک بدکار عورت، ایک بدکردار عورت کیسے ماں بن سکتی ہے، اس کے وجود سے نئی زندگی تو تشکیل پاتی ہے لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ اسے وہ رتبہ بھی دے دے جو اس نے ایک ماں کو دینے کا وعدہ کیا ہے۔ میرا اللہ بہت بڑا احسان کرنے والا ہے وہ اپنے وعدے کی پابندی نہیں کرے گا تو بھلا کون کرے گا ۔ اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دیتا ہے ، جس ہستی کے پیروں میں جنت ہو، بھلا کون ہو گا جو اسے اس میں داخل ہونے سے روکے، گویا ماں ہونا اتنی بڑی نعمت ہے جسے کسی گناہگار کو دیئے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس لئے اللہ ہر بدکردار عورت سے اس کا ماں پنا چھین لیتا ہے اس کے دل سے اپنی اولاد کی محبت نکال دیتا ہے، وہ اس انعام کی حقدار نہیں رہتی جس کا اللہ نے ہر ماں سے وعدہ کیا ہے ۔ گشتی کسی کی ماں نہیں ہوتی۔ گشتی میں مامتا کہاں۔ میری آنکھوں سے بے تہاشہ آنسو بہنے لگے، میں پلٹ کر بھاگا۔ “شیخ جی ۔۔۔۔ شیخ جی ۔۔۔۔” نجمہ کی آوازیں دیر تک میرا پیچھا کرتی رہیں

Published inعالمی افسانہ فورممعظم شاہ