Skip to content

گرہن

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 37

گرہن

فاطمہ عثمان ۔ راوالپنڈی ، پاکستان

وہ بے حد اعتماد سے اس کے سامنے بیٹھی کوفی کا کپ اپنی خوبصورت انگلیوں میں آہستہ آہستہ گھما رہی تھی ۔۔۔وہ جانتی تھی ، اس کی سفید خوبصورت انگلیوں پر لگی سرخ نیل پالش اور سجی انگوٹھیاں کیسے اپنا کام جماتی تھیں۔

وہ نظریں ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔،مکمل ہارا ہوا اس کے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔ اربوں کی جائیداد بھی اس حسن کے سامنے حقیر تھی۔۔

” تم کہہ رہے تھے ، میرے لئے کچھ بھی کر گزرو گے ؟”

“ہاں ۔ میں اپنی بات پر قائم ہوں اور رہوں گا “۔

” اچھا !! تو سنو ! غور سے ۔۔۔

بارش تھی۔۔ بہت تیز بارش ۔۔۔ وقت تو دوپہر کا تھا مگر رات سی گھٹا چھائی تھی۔ ۔ وہ چھوٹی سی گیلی چنری میں لپٹی خود کو محفوظ تصور کرتی چلی جا رہی تھی ۔۔ مگر کسی نے جھپٹا مار کر اس کا منہ دبایا اور اندھیرے گودام میں گھسیٹ لیا ۔۔۔ وہ چیخنا چاہتی تھی اور اسے موقع بھی ملا ۔۔۔مگر ایک زوردار جھانپڑ نے اس کا سانس توڑ دیا اور اتنی دیر کافی تھی۔۔۔ اس کے منہ میں رومال ٹھونس کر اس درندے نے بس چند منٹ میں اپنی پیاس بجھا لی۔۔ بچی کا بچپن چھین لیا ۔۔۔ اور برستی بارش میں غائب ہو گیا!!!”

وہ خاموش ہوگئی ۔۔

” کیا وہ بچی تم تھی؟ ؟”

آدمی نے ایک دم پوچھ لیا۔ ۔

” تمہیں لگتا ہے وہ میں تھی؟”

لڑکی کی آنکھوں میں دیکھنا ناممکن ہوگیا۔۔۔ سوال زبان پہ نہیں اس کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔۔۔ آنکھیں جو بے حد گہری تھیں۔ ۔

” میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا ۔۔بھلا تم کیسے ہو سکتی ہو۔۔ تم تو اتنی پر اعتماد ہو۔۔۔” آدمی قدرے گھبرا کر بولا اور لڑکی کی آنکھوں میں اطمینان چھا گیا ۔۔۔ہونٹوں پر مسکراہٹ اور بے تحاشا حسن لئے وہ پہلے جیسی دکھنے لگی۔ ۔۔

وہ بھی مسکرا کر مطمئن ہو گیا ۔۔۔ایک بار پھر وہ اس کے حسن کا جائزہ لیتے ہوئے کہنے لگا

” مجھے یقین نہیں ہوتا کہ تم مجھے مل گئی اور ۔۔۔۔” وہ اپنی بات ابھی مکمل نہیں کر پایا تھا کہ وہ بول پڑی۔۔ ” ابھی کہاں ملی ہوں” وہ ہنسنے لگی تھی اور وہ شخص اس کی ہنسی میں گم ہونے لگا ۔۔

“پہلے ایک اور بات سننی ہوگی مگر یہاں نہیں۔۔۔”

کچھ دیر بعد وہ دونوں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھے ڈرائیور اور پچھلی سیٹ کے درمیان کالا شیشہ حائل تھا ۔۔۔لڑکی کی خوشبو اور موٹی موٹی آنکھوں میں معنی خیز مسکراہٹ اس شخص کو مجبور کر رہی تھی کہ وہ اسے چھو لے ۔۔۔

اور لڑکی نے بات شروع کی ۔۔۔

” بارہ سالہ وہ بچی خود اعتمادی اور دنیاوی پیچیدگیوں کو الگ الگ کرنے کی جنگ میں لڑتے جھگڑتے اسکول کا ہوم ورک کر رہی تھی۔۔۔

اور کمرے میں کوئی داخل ہوا ۔۔۔بچی نے مڑ کر دیکھا اور بولی۔۔ آپ ؟ اور وہ سرخ آنکھیں اور ڈولتے قدموں سے آگے بڑھا اور بولا۔ ۔۔ شششششش !!”

وہ انگلی اپنے خوبصورت ہونٹوں پر رکھ کر بولی تھی۔ ۔۔ اور وہ آدمی اس کے حسن میں ایسے کھویا ہوا تھا جیسے نیلے گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی کوئی دنیا۔۔۔ اور اس میں زمین پر چلنے والا اتر گیا ہو۔۔۔۔

” کچھ بولو یا بس دیکھتے رہو گے؟”

” دیکھتا رہوں گا …ساری زندگی تمہاری آواز سنتا رہوں گا اور تمہارے حسن کے نشے میں ڈوبا رہوں گا … بس!.”

“واقعی؟۔۔۔۔ اچھا پھر ایک اور بات سن لو”

” اب میں سننا نہیں چاہتا ۔۔۔میں سمجھ گیا ہوں تمہارا نقطہ، تم خود پر میرا اعتبار آزما رہی ہو۔۔۔۔میں ہر حال میں تمہاری مدد کروں گا۔۔ ایسی بچیوں کو انصاف دلانے کے لیے، کیا یہ دونوں بچیاں تمہاری جاننے والی تھیں یا ۔۔۔۔،۔”

اس بار بھی اس کی بات دور بہتے کسی جھرنے کی آواز نے کاٹ دی۔۔۔۔ وہ ہنستی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں سے نکلتا پانی پونچھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ جب جب اپنا ہاتھ سفید گالوں پر پھیرتی تو سرخ ریشے خوب نمایاں ہوجاتے اور وہ اس پر مر مٹ جاتا ۔۔۔۔”۔بس آخری بات۔۔۔” وہ مشکل سے ہنسی روک کر بولی۔۔

” ایک لڑکی تھی ۔۔جو انتہائی غربت میں جوان ہوئی ۔۔۔16سالہ عمر میں وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ جی چکی تھی ۔۔لوگ کہتے تھے وہ خوبصورت تھی۔۔۔ پیوند لگے کپڑوں میں بھی وہ شہزادی لگتی تھی۔۔۔ایک بار گھر پر فاقہ پڑ گیا ۔۔۔ تین دن طویل ۔۔۔بھوک سے سب نڈھال تھے۔۔۔ اس کے پاس ایک عورت آئی ،کان میں کچھ کہا اور لڑکی اسکے ساتھ چل پڑی۔۔۔ مٹی سے اٹی گلیاں اور نجانے کتنے موڑ کاٹ کر دونوں ایک دروازے پر پہنچی۔۔ اندر سے کسی نے کچا سودا اور چند ہزار عورت کے ہاتھ میں تھما دیے۔۔۔ عورت بولی۔ ۔ تو اندر جا۔ ۔۔ میں گھر سودا دے کر آتی ہوں۔۔اور لڑکی دھوپ سے گہرے اندھیرے میں داخل ہوگئی۔۔۔۔

چند ہی گھنٹے بعد وہ عورت اسے گھر لے آئی۔۔ اس کے منہ میں روٹی کا نوالہ ڈالا اور بولی ۔۔۔تمہاری قربانی نے آج گھر والوں کو مرنے سے بچالیا۔۔۔اور پھر ،

جس بھوک کی طاقت اسے چلا کر کسی کے دروازے تک لے گئی تھی ، اسی بھوک کی کمزوری نے روز اسے اپنے گھر والوں کے لئے قربان ہونا سکھا دیا ۔۔۔۔اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے حسن کی طاقت نے اسے ہرفن سکھا دیا۔۔۔”

اب وہ خاموش ہو گئ۔ ۔۔اس کی ذات میں ایک عجیب سا ٹھہرائو تھا۔۔۔ وہ آدمی اب اس کے بال چھونا چاہتا تھا ۔۔۔وہ کہنے لگی

” ہاں تو تم کیا کہہ رہے تھے؟”

” یہی کہ میں تمہیں دل و جان سے چاہتا ہوں “

اب وہ کچھ سننا نہیں چاہتا تھا۔ ۔۔۔بس چھو لینا چاہتا تھا ۔۔ ۔۔

” بہت چاہتے ہو؟” وہ جیسے قسم اٹھوا رہی تھی۔ ۔۔

” ہاں ۔۔۔اتنا چاہتا ہوں۔۔ اتنا چاہتا ہوں۔۔ کہ۔۔۔۔۔”

وہ بے حد کی حد سوچ رہا تھا اور وہ آرام سے بولی۔ ۔۔

” چھ سال کی عمر میں بچپن چھیننے والا محلے کا بوڑھا چچا تھا ۔۔۔بارہ سال کی عمر میں اعتماد توڑنے والا بڑے بھائی کا دوست۔

اور روٹی کے لئے بیچنے والی سگی ماں تھی۔ ۔۔”۔

وہ بت بنا اسے تکنے لگا۔ ۔۔۔

” اب بتاؤ۔۔۔ کتنا چاہتے ہو مجھے؟؟”

شام ڈھل گئی تھی۔۔۔ چاند پر گرہن کیا لگا ، جو اس کے حسن پر بھی چھاتا گیا۔

Published inافسانچہخواتین افسانہ نگارعالمی افسانہ فورمفاطمہ عثمان