Skip to content

گجری

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 29۔
“گجری ”
مصنفہ۔ بین ہیش ۔اسلام آباد پاکستان
بھر سردیوں کے دن تھے ۔اور دو جڑواں بچے ۔یہ آسان نہ ہو گا ۔میری ماں بتاتی کہ میرا بھائ زیادہ نازک اور مشکل تھا ۔ اسے ماں کی مکمل توجہ کی ضرورت تھی ۔اور میرے لئے ایک مدد گار کی تلاش ہوئ ۔ گھر کے ساتھ کچھ فاصلے پرایک باڑے سے ایک لڑکی مل گئ ۔ شاداں یہ ایک دودھ بیچنے والوں کا ڈیرہ تھا ۔ اسے گجروں کا ڈیرہ کہا جاتا تھا ۔ شروع کی یادیں تو نہیں ،لیکن جہاں تک یاد پڑتا ہے ،شاداں ا نتہائ حسین لڑکی تھی ۔اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں عجیب سی حیرا نی تھی ۔کمان سے ا برو ،بھرے بھرے ہونٹ اور ہموار چمکیلے دانت ۔ ہنستی تو آنکھیں نم سی ہو جاتیں ۔اس کے ہاتھ نرم اور گداز تھے ۔گود گرم اور محبت بھری۔میں اس کی لوریاں سن کر بڑی ہوئ اور اسی کے کندھے سے لگ کر سونا جاگنا سیکھا ۔ میرں ماں اس پر بہت بھروسہ کرتیں ۔ میرا بھائ جو اکثر بیمار رہتا ،ماں کی گود میں رہتا اور میں شاداں کا کھلونا ۔ شاداں ۔مجھے ا نتہائ صاف ستھرا ، سجا سنوار کر رکھتی ۔ ایک گڑیا کی طرح مجھ سے کھیلتی رہتی ۔ کہانیاں سناتی ۔کبھی کبھی وہ مجھے اٹھائے اپنے ڈیرے پر لے جاتی جہاں اس کی ماں بھی ہوتی جو چھوٹے قد کی ایک سانولی سی عورت تھی جس کے منہ پر چیچک کے پرا نے داغ تھے ۔ شاداں اس کے سامنےکسی ریاست کی شہزادی لگتی ۔ وہاں بہت سی گائیں بھینسیں بندھی ہوتیں ۔زمین پر ہر طرف کیچڑ اور گو بر بکھرا ہوتا ۔کچھ مرد کرتے اور لنگیوں ۔یں کام کرتے دکھای دیتے شاداں دور سے ہی واپس لوٹ آتی ۔
کبھی کبھی وہ مجھے سیڑھیوں پر بٹھا کر گھنٹوں میرے سنہری بالوں سے کھیلتی رہتی ۔ کبھی جوٹیاں بناتی کبھی رنگ برنگے ربن باندھتی ۔ساتھ ساتھ وہ گنگناتی بھی جاتی ۔کیسی میٹھی اس کی آواز تھی ۔ أج برسوں بعد بھی جیسے رس گھول رہی ہو ۔
پیتا
ہائے اوئے میرے ویراں نے ڈولا ٹور کے اگاں نوں کیتا
مدھا نیاں
ہائے او میرے ڈاڈھیا ربا ۔کنہاں جمیاں کنہاں نے لے جانیاں
ہائے
اس کے ساتھ پیچھےسے سڑ سڑ کی آواز آتی ۔ میں پیھے مڑ کر دیکھتی تو اس کی بھنورا سی آنکھوں کے کثورے پانی سے بھرے ہوتے ۔مجھے متوجہ پا کر ہنس دیتی ۔کہتی ۔” منی یہ جو سرندر کور ہے نہ بس رلا دیتی ہے ۔
شب و روز کا سلسلہ چلتا رہا اور ہم جڑواں بچے پاؤں پاؤں چلنے لگے ۔اور پھر بستے لے کر سکول جا نے لگے نہ جانے کتنی رتیں بدلیں سب کچھ ہی بدل گیا جیسے ۔ ابا نے نیا گھر لے لیا جو کسی اور علاقے میں تھا ۔ وہاں جانا کچھ آسان نہ تھا ۔یادوں کا سارا خزانہ جھوڑ کر جانا ہر گز آسان نہ تھا ۔ ماں نے اپنی گرہستی کا سفر اسی گھر سے شروع کیا تھا ۔ نیا نیا پاکسان بننے کا زمانہ تھا ۔ماں بتاتی تھی کس طرح ہر روز لٹے پٹے قافلے آتے ۔ بڑا خون خرابہ ہوا ۔ہزاروں گھر اجڑے اور برباد ہوئے ۔آج کی نسل تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔شاداں جو گجری تھی میرے لئے تو سب کچھ تھی ۔ماں بھی اور سہیلی بھی ۔بچھڑنا ہمیشہ ہی عذاب ہوتا ہے لیکن ہم اسی شہر میں ہوں گے ،ملتے رہیں گے ۔ اس وعدے پر جدا ہوئے ۔شاداں ۔مجھے سینے سے لگائے گم سم سی کھڑی رہی ۔ جیسے کہیں کھو گئی ہو ۔ موٹر سے میں نے مڑ کر دیکھا وہ کسی پتھر کی مورتی کی طرح کھڑی تھی ۔ اس کا چندن سا چہرا تصویر دکھائ دیا ۔
شروع شروع میں وہ ماں بیٹیاں ملنے آتی رہیں۔ پھر شاداں کی شادی اسی ڈیرے پر کسی سے ہو گئ ۔گزرتے ماہ و سال نے سب یادوںپ پر وقت کی دبیز دھول جما دی ۔ میری شادی ہو گئ اور میں لندن چلی گئ ۔
شائید یہ سب دل کے کسی نہاں خانے میں دفن ہی رہتا ۔برسوں بعد ایسا ہوا کہ یوم آزادی کے سلسلے میں ایک نمائیش میں جانا ہوا ۔ وہاں نادر ،نایاب تصاویر جمع کی گئ تھیں اس دور کی خو نچکاں داستانوں کی ۔لاشوں سے اٹی ریل گاڑیاں،لٹے پٹے قافلے اور پھر جیسے زمین نے میرے پیر پکڑ لئے ۔ جکڑ لیا مجھے ۔وہ چہرا میں کیسے بھول سکتی تھی ۔وہی تھی ۔بھنورا سی آنکھیں ،وہی کمان ابرو،وہی بھرے بھرے ہونٹ ۔ ممیرا دل جیسے میرے سینے سے ۔نکنے کو بے تاب ۔ میں نے قریب ہو کر دیکھا ۔لکھا تھا ۔
سریندر کور
کنئیرڈ کالج کی سال دوم کی طالبہ جو فسادات میں بچھڑ گئ تھی ۔ کسی کو اس کے بارے می علم ہو تو رابطہ کرے ۔ اس کے خاندان کی طرف سے اپیل کی گئ تھی ۔
میرے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ۔شاداں ۔۔ہاں میں اسے خوب جا نتی تھی ۔جس ے
نے اس کی نرم اور گرم آغوش ۔میں پرورش پائ تھی ۔شائید اسے رب نے صرف میرے لئے بنایا تھا ۔ ایک تتڑی ماں نہ جانے کب تک اس کی راہ تکتی رہی ہو گی ۔ میرے کان میں اس کی درد بھری آواز گونجی
مدھانیاں
ہائے او میرے ڈاڈھیا ربا کنہاں جمیاں کنہاں نے لے جانیاں
ہائے.

Published inافسانچہبین ہیشعالمی افسانہ فورم