Skip to content

کیمرہ ان ایکشن

عالمی افسانہ میلہ 2018

افسانہ نمبر : 54
کیمرہ ان ایکشن
ناصر صدیقی
میں ایک مجبور کیمرا ہوں کہ میری
focussingکچھ ٹھیک نہیں ہے۔خاص کر رتنا کے معاملے میں میری فوکسنگ سمجھ لو،zeroہے۔ البتہ میری آڈیو ریکارڈنگ بالکل صحیح ہے۔میری ایک خوبی یہ بھی ہے کہ میں لوگوں کے ذہنوں کو پڑھ اور دلوں میں جھانک بھی سکتا ہوں۔اور ہاں! عجیب بات تو یہ ہے کہ اس گھر کا مالک جس کا نام سریش ہے،اسے بھی اسکی بیوی ’’کیمرا‘‘کہتی ہے۔ اسی چیز کو لے کر سریش اور اسکی نو ، دس سالہ سالی رتنا کے درمیان ایک گرم سا مکالمہ بھی ہوا ہے۔اُس دن رتنا اپنے اسکول جانے لگی تھی۔برآمدے میں آئی تو دیکھا کہ سریش وہاں بیٹھ کر اپنے جوتوں کوپالش کرنے لگا ہے جو اب خوب چمک رہے تھے کہ سریش یہ کہہ کر اپنے جوتوں کو خود پالش کرتا ہے کہ اصل چمک کے لئے مردانہ زور چاہئے،عورت کمزور ہے۔جواباً اسکی بیوی اکثر مسکرا کر کہتی:’’چلو میری جان تو چھوٹی ورنہ تمہارے جوتے تو ہر روز خوب پالش کرنے ہوتے ہیں کہ تم پتہ نہیں کہاں کہاں جاتے ہو کہ جوتے تقریباً شہر کے ہر حصے کی گرد لئے ہوتے ہیں۔‘‘اس پر سریش مسکرا کر کہتا:’’عورت کمزور تو ہے لیکن باتیں خوب کرتی ہے‘‘____ تو ہاں! چلو آتے ہیں رتنا اور سریش کے ’’مکالمہ‘‘ کی طرف:
’’جیجا جی!میری دیدی آپکو کیمرا کیوں کہتی ہیں؟‘‘اور لہجہ میں مسکراتی شرارت تھی۔ممکن ہے یہی شرارت اُسکی آنکھوں میں بھی موجود تھی کہ میری
focussingتو اُسکی پیٹھ پر تھی جہاں اُسکی دو گندھی ہوئی چوٹیاں پتلی کمر،بلکہ اور نیچے تک چلی گئی تھیں۔
’’ہوں!‘‘سریش پالش کرنا چھوڑ کر مسکرایا،’’وہ اس لئے کہتی ہے کہ میری آنکھیں اکثر
focusکرتی ہیں۔‘‘
’’
focus!یعنی؟؟‘‘وہ اس انگلش لفظ سے ابھی ناآشنا تھی۔
’’جب تم چند سالوں میں بڑی ہوجاؤگی تو تمہیں خود معلوم ہوگا کہ
focusیاfocussingکیا ہے۔اگر ابھی سمجھنا چاہتی ہو تو اسکا مطلب یہ ہے کہ مرد کی آنکھیں عورت یا لڑکی کو اکثرfocusکرتی ہیںیعنی خاص دیکھتی ہیں۔کیمرا بھی یہی کام کرتا ہے۔فلموں،ڈراموں میں دیکھا ہوگا تم نے۔‘‘یہ کہہ کر سریش پھر سے جوتوں کو پالش کرنے کے کام میں مگن ہو گیا۔
جیجاجی نے شوہر کی جگہ مرد اور بیوی کی بجائے عورت کے الفاظ استعمال کیوں کیے؟حالانکہ میں تو اپنی دیدی کے حوالے سے پوچھ رہی تھی!یہ سوچ کر رتنا اپنے اسکول چلنے لگی۔۔۔
رتنا کو یہاں،اکثر بیمار رہنے والی اپنی دیدی رادھا کے گھر آنا پڑا ہے جوپچھلے ہفتے اتنی زیادہ بیمار ہوئی کہ مجبوراً سریش کو اپنی ساس کو بلانا پڑا کہ سریش کے اپنے گھروالے اور رشتے دار کسی اور شہر میں رہتے ہیں۔رادھا کی ماں آئی تو رتنا بھی ساتھ تھی کہ سارا کام رتنا ہی کرے کہ ماں کو تو خود ہی اپنی ایک شیرخوار بچّی کو بھی سنبھالنا تھاجس نے اپنے پتی کو بھی سریش کے کہنے پر،یہاں ٹھہرنے کو کہا تھا تو وہ یہ کہہ کر انکار کر گیا تھا کہ اپنے داماد پر بوجھ نہیں بنے گا۔لیکن اُسے اپنی جوانی کا بوجھ سنبھالنا مشکل پڑ گیا توچوتھے ہی دن اپنی تیز ہوس اور شہوت سے مجبور ہو کر اُس نے اپنی ’’پتنی‘‘ کویہ کہہ کر اپنے ’’پاس‘‘ بلایا کہ وہ تو ویسے بھی وہاں صرف ہدایتیں دینے کے لئے رہ گئی ہے،سا راکام تو رتنا کرتی ہے،تو رتنا بے شک وہاں رہے۔ پتنی اپنے پتی کو بلکہ اُس کی تجویز کو رد کر نہ سکی تھی کہ وہ سب کچھ سمجھ گئی تھی کہ پتی کی جوانی ہی اُسے بُلا رہی ہے جو اُس کے بغیر دو دن سے زیادہ رہ ہی نہیں سکتا۔
*****
لو،چند سال اور گزر گئے۔ رتنا اب جوان ہو چکی ہے۔لیکن اپنی خراب فوکسنگ کی وجہ سے اسکی شکل وصورت ابھی تک نہیں دیکھ سکا ہوں ۔اسکی بہن رادھا تو بہت خوبصورت ہے کہ اپنی ماں پہ گئی ہے۔شاید رتنا بھی ماں پر گئی ہے۔بے حد گوری ہے،اتنا تو ضرور جانتا ہوں۔اور ہاں! اسکا چہرہ نہیں دیکھا ہے تو کیا ہوا؟یہ تو سچ ہے کہ اسکی جوانی کے ٹکڑے،بلکہ لشکارے مختلف زاویوں سے دیکھ سکا ہوں۔ مثال نہیں دوں گا کہ کہیں الفاظ کی گرمی سے میری بیٹریاں(
cell)جل کرپگھل نہ جائیں۔خیر!جو بھی ہو میں اپنے کو بچا سکتا ہوں،حال تو شاید سریش کا بُرا ہوگا کہ آج کل وہ اپنی جوانی کو لے کر پریشان رہنے لگا ہے۔ جی ہاں!رادھا تو بیماری کو پورے داموں خرید چکی ہے۔سریش اچھا پتی ہے،ابھی تک پیار کرتا ہے اپنی پتنی سے جسکا جسم ہم بستری کے لئے اب وہ کم استعمال کرتا ہے کہ اس سے بیمار کو سکون کی بجائے تکلیف ملتی ہے۔ رتنا اب اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک الگ کرائے کی کوٹھی میں رہنے لگی ہے جو سریش کے گھر سے نتھی ہے۔ سمجھا جائے کہ اب سریش کا سارا گھر رتنا اور اسکی ماں کے حوالے ہے۔تو خیر! اب آگے چلتے ہیں کہ افسانہ آخر ختم کرنا ہی پڑتا ہے چاھے اسکا راوی ایک بے جان کیمرا کیوں نہ ہو۔
*****
آج صبح سے حبس تھا۔دوپہر کو اور بھی زیادہ بڑھ گیالیکن رتنا گھر کا کچھ زیادہ ہی کام کرنے لگی تھی،اتنا زیادہ کہ اس کے کپڑے بے حد میلے ہوگئے۔ادھر ’’بیمار رادھا‘‘جو آج کافی عرصے بعد کچھ بہتری محسوس کرتی تھی،رتنا کا یہ سارا کام بلکہ پیار دیکھ کر اتنی خوش ہوئی کہ اُسے باقی کام چھوڑ کر،جا کے نہانے کو کہا۔اتفاق سے رتنا کے سارے کپڑے میلے تھے،دھونے کے لئے رکھے تھے،تو رادھا ململ کا سفید کُرتا اور چوڈی دار پاجامہ ،جواس کے لئے سریش سات سال پہلے لایا تھا جسے اتفاق سے اب تک وہ ایک دو بار پہنی تھی، لا کر مسکراتے ہوئے رتنا سے بولی، ’’ لو ۔اسے پہن لو،میرا پسندیدہ لباس۔‘‘اس پر رتنا بے حد خوش ہوئی اور غسلخانے میں جا گھسی۔ لیکن ایک شکایت لے کر نکلی:
’’دیدی! کرتہ بہت تنگ پڑ گیا۔ ایک بٹن تو بند ہی نہیں ہوتا۔‘‘اور لہجہ میں شرماہٹ بھی تھی۔
میں نے رادھا میں جھانکا : تنگ کُرتے کو لے کراُس کے من اور ذہن میں جو ہلکے پھلکے خدشات پنپ رہے تھے تھے وہ رتنا کے سینے کی فراوانی کی وجہ سے پکے اور بھاری ہوگئے۔ مسکرا کر بولی،’’اسے اُتار،کوئی اور دوں گی۔‘‘
’’ نہیں دیدی، بڑی مشکل اور تکلیف سے پہنا ہے۔اب اتارنے میں زیادہ تکلیف دے گا۔اب پہننے دو نا؟‘‘اور منت میں جو انداز تھا، اس سے رادھا کو رام ہونا ہی پڑا چاھے کُرتے کی چُستی اور تنگی،جو رتنا کے سینے کی فراوانی کو ہیجان خیز بنا گئی ہوگی،کو لے کر اُس کے من میں کئی اور خدشے کیوں نہ اُٹھیں۔
’’تو ٹھیک ہے۔لیکن کل اسے ضرور نکالنا۔‘‘اور مسکراہٹ میں جیسے رتنا کی جوانی کو سونگھ کر اُسے کچھ سمجھانے کی ادا تھی۔وہ الگ بات کہ رتنا پتہ نہیں اسے سمجھ سکی تھی یا نہیں۔
اب رتناآئینے کے سامنے کھڑی ہوکر بالوں کو سنوارنے لگی تھی۔پھر چوٹی بناکر اسے اپنی پشت پہ پھینک کرجیسے میرے حوالے کر گئی۔ میں یہ دیکھ کر تھوڑا گرم سا بھی ہوا کہ چوٹی اُسکی کمر کے نیچے ٹھہر کر اُسکی پشت کو باوقار اور ہیجان انگیز بنا گئی ہے۔
پتہ نہیں کس نے اور کیوں یہ کہا ہے کہ جواں عورت یا لڑکی کُرتہ پاجامہ پہنے اوربالوں پہ کوئی پھول بھی اُڑس لے تو کیا کہنا!اسی چیز کو لے کررتنا اپنے کان کے قریب ایک گلاب کا پھول بھی لگانے لگی تومجھے پہلی بار سائیڈ سے اسکا یک رخی چہرہ نظر آیا۔رخسار بھرا بھرا اور سرخی مائل تھا اور ناک ستواں۔کاش!اسکا چہرہ سامنے سے دیکھتا!ھائے رے میری لاچار فوکسنگ!
دوپہر کو سریش آیا۔اپنی سالی کو بلکہ اُسکے تنگ کرتے کو دیکھا تو اُسے برسوں پہلے کے وہ یادگار اور رنگین لمحے یاد آگئے جب وہ اپنی بیوی بلکہ اس ’’کُرتے‘‘ کو لے لے کر،رات رات بھر خود بھی جاگتا ،رادھا کو بھی جگاتا اور ساتھ ساتھ دونوں کی جوانیاں بھی جاگتی رہتیں۔لیکن اب تو بیوی اتنی بیمار کہ ہم بستری اپنی جگہ ہلکی چھڑخانی کو بھی دل نہ چاہے۔خیر جو بھی ہو،وہ ایک وفادار شوہر ہے جسکی بیوی کا دل یہ ضرور چاہتا ہے کہ میاں کی جوانی کو کوئی’’عورت‘‘ ضرورملے لیکن اُسکی مرضی کی عورت، نہ کہ شوہر کی۔ چاھے کچھ بھی ہو۔
*****
’’جیجا جی!دیدی کہتی ہیں آپ بڑے شرارتی بھی ہیں،ہنسی مذاق زیادہ کرتے ہیں۔میں نے ابھی تک تو نہیں دیکھا۔کیا واقعی؟‘‘اور دھیمی دھیمی ہنسی میں شرارت سی تھی۔
سریش اپنا جوتا پالش کرنا بند کر کے مسکرانے لگا،’’ہاں!یہ تو ہے،لیکن آج کل__‘‘اور اداس ہوگیا۔
رتنا فوراً سمجھ گئی کہ دیدی کی بیماری نے سریش سے یہ سارا کچھ چھین لیا ہوگا۔اپنے طور پر سریش کو خوش کرنے کی خاطر بولی،’’دیدی جلدی اچھی ہوں گی۔آپ اپنی شرارتیں،ہنسی مذاق ختم نہ کریں جی۔‘‘اورمسکراتا لہجہ میں اطمینان اور دلاسہ دلانے کی ادا تھی تو ایک ہلکی سی اداسی بھی۔
سریش مسکرایا۔بہت خوش تھا اب وہ،’’شکریہ!تو پھر یہ شرارتیں کس کے ساتھ شروع کروں؟۔۔۔تمہاری’’ممّی‘‘ کے ساتھ؟ نہیں رادھا کے ساتھ کچھ شرارتیں کرتے ہیں۔تم بھی ساتھ دینا۔‘‘
’’جی بالکل ساتھ دوں گی___آپ میرے ساتھ بھی شرارت کر سکتے ہو۔‘‘اور یقیناًآنکھوں میں جوانی کی نہیں رشتے کی اپنایت بھری چمک ہوگی۔
’’اچھا!تو کروں ایک آدھ شرارت ابھی؟؟‘‘
’’ہاں کر لیجئے!لیکن میں ڈر تو نہیں جاؤں گی نا؟‘‘
’’نہیں،نہیں!میں عمروں کے حساب سے شرارتیں کرتا ہوں۔‘‘
’’میری عمر تو سولہ،سترہ ہے،تو___کیسی ہوگی یہ شرارت آخر۔۔؟‘‘اب وہ دلچسپی لینے لگی تھی۔
’’لو جی شروع کرتا ہوں،وہ۔۔وہ تمہاری دیدی کہتی ہے کہ آج کل تمہارا درزی بہت پریشان ہے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’سمجھاتا ہوں۔درزی کہتا ہے کہ اب رتنا کے لباس کی سلائی کرنے میں سوئی کو بہت تیز کرنا پڑتا ہے البتہ قینچی بہت کم چلتی ہے۔‘‘
’’میں اب بھی سمجھی نہیں۔‘‘رتنا کیا واقعی سمجھ نہیں گئی تھی یا سمجھ کر شرارت کے آگے کا مزا اچھی طرح لینا چاہتی تھی؟اس بات کو جاننے کے لئے میں نے رتنا کے دل میں جھانکا نہیں۔
’’اب آخری بات۔سمجھو یا نہ سمجھو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب تمہارے کالج کی بس آتی ہوگی___تو ہاں!بات یہ ہے کہ اب تم بڑی ہو گئی ہو۔درزی کو تمہارے کپڑے کاٹنے میں ’’دقّت‘‘ ہوتی ہے۔وہ تویہ بھی کہتا ہے کہ سلائی کا ایک پیسہ بھی نہیں لے گا اگر رادھا کی بجائے
تمہاری ناپ وہ خود لے لے۔رادھا انکاری ہے۔مگر ماننا پڑے گا کہ درزی ہے بڑا ہوشیار،اپنی طرف سے ایک دو انچ بڑھاتا ہے کہ گھر کا آدمی ہے،اُسے معلوم ہے کہ ہفتے مہینوں میں کپڑے تنگ ہوں گے اگر وہ ایک دو انچ پہلے سے نہ بڑھائے تو___اب تم جاؤ !‘‘
اس پر رتنا ایک شرمیلی سی ادالئے فوراًباہر کی طرف چلنے لگی۔شاید اُسکی آنکھوں میں اب جوانی کی چمک سی بھی ہوگی___لیکن یہ سچ ہے کہ اب سریش اداس تھا ۔جوتوں کو پالش کرنے کو اُس کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔
*****
’’رپورٹ میں کیا تھا؟ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟‘‘رادھا نے تھکے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔
’’کوئی خاص بیماری نہیں ہے۔‘‘سریش نے ڈاکٹر اور رپورٹ کی باتیں چھپا کر کہالیکن اُسکا فکرمند اور اداس چہرہ رادھا سے چھپ نہیں سکتا تھا۔
’’میں جانتی ہوں کہ اب میں نہیں بچوں گی۔‘‘اور بے بسی سے مسکرائی بھی۔
’’نہیں!تمہیں میری عمر بھی لگ جائے۔‘‘یہ کہہ کر سریش اپنی پیاری’’پتنی‘‘ رادھا سے لپٹ گیاجسکی آنکھیں اب آنسوؤں سے پُر تھیں۔
’’سریش!میرے بعد اپنا خیال رکھنا۔‘‘گلا رندھ گیا۔
’’ایسی باتیں نہ کرو رادھا۔‘‘اور اپنے آنسوؤں کو پونچھنے لگا۔
’’میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسا پتی ملا۔ایسا پتی تو خوش نصیبوں کو ہی ملتا ہے۔کاش!میں دیر تک آپکا ساتھ دیتی۔‘‘یہ کہہ کر رادھا رلاہٹ میں گھل گئی۔
ٍٍٍ ’’ہمارا ساتھ ہر جنم میں رہے گا۔‘‘یہ کہہ کر وہ رادھا کو زور سے بھینچنے لگا کہ اُسے تسلّی،خلوص اور پیار کا معراج دے۔
اُدھررتنا،جوچپکے سے یہ سب دیکھ اور سُن رہی تھی،دل میں رونے لگی۔ واپس اپنے کمرے میں آکر اپنی عمر،ذہانت اور تجربے کی نسبت آخری درجے کی باتیں سوچنے لگی۔ اپنی دیدی کی بہت عزت کرتی تھی،بے حد پیار بھی،بلکہ اُسکی ہر بات ماننے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتی تھی ۔اس موقع کی تلاش میں تھی کہ کسی دن رادھا،’’رتنا‘‘ کی جان بھی مانگ لے تو اسے فوراً پیش کر کے اپنی دیدی کو اتنا خوش کر دے کہ اُسکی ہر بیماری فٹافٹ بھاگ جائے۔
*****
آج رتنا پھر ڈھیر سارے کام کر گئی تھی۔شام ہوئی تو وہ تھک کر سو گئی۔عموماً شام کو اپنی کوٹھی پر چلی جاتی۔ماں اُسے اُٹھانے لگی تو رادھا بولی،’’سونے دو بے چاری کو،میری مانو،کل صبح کوآجائے گی،آج میرے گھر سوئے گی۔‘‘
ماں،رادھا کو کیسے منع کرسکتی تھی،’’اچھا ٹھیک ہے۔تمہارے ابّا کے لئے آج میں خود کھانا پکاؤں گی۔‘‘اور مسکرا کر چلنے لگی۔
رادھا یہ سوچ کر پریشان ہوئی کہ رتنا کو بہت سارے کام کرنے پڑتے ہیں،یہاں کے بھی اور اپنے گھر کے بھی۔کل اسکی شادی ہوگئی تو___؟پھر وہ کچھ اور چیزیں بھی سوچنے لگی۔۔۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ رادھا ،رتنا کے پاس آئی اور اُسے نیند سے اُٹھایا۔رتنا کو رادھا کا اس وقت اس کے کمرے میں آنا عجیب لگا۔’’جی دیدی!خیر تو ہے نا؟‘‘
رادھا کچھ سوچنے لگی،پھر اداس ہو کر بولی،’’جی وہ تمہارے جیجاجی ۔۔۔۔کبھی کبھی ان پرڈرنے کا دورہ پڑتا ہے۔‘‘
’’توآپ انھیں چھوڑ کر یہاں___ !؟‘‘رتنا اور زیادہ حیران ہوئی۔
’’میں۔۔۔‘‘جیسے الفاظوں کو نگلنا پڑرہا۔’’میں اُنکا ڈر مٹا نہیں سکتی۔۔۔تم وہاں اُنکے پاس جا کر اُنھیں دیکھو پلیز!۔۔اگر نیند آجائے تو چاھے۔۔سولو وہاں۔۔یا ۔۔ جب اُنکا ڈر ختم ہوجائے تو آکر اپنے بستر پر سونا۔ میں واپس اُنکے پاس جاؤں گی۔‘‘یہ کہہ کر رادھا،رتنا سے جیسے نظریں چرا کر اُسکے بستر پہ آکے بیٹھ گئی۔
رتنا ایک سوچ میں پڑ گئی۔وہ اتنی ہوشیار بہرحال تھی کہ اپنی دیدی کی ’’باتیں‘‘ اور بے بسی کو سمجھ سکے۔بلا چون و چرا کیے وہ بستر سے اُٹھی اور اپنی دیدی کے ’’جواں پتی‘‘کے کمرے کی طرف چلنے لگی۔اُسکے دل میں اپنی دیدی کے لئے چاہت اور اس کے لئے اپنی جاں تک دینے کا جذبہ بھرا ہوا تھا۔
’’سنو!۔۔۔خبردار جو اُنکی طبیعت ٹھیک کیئے بغیر میرے پاس آؤ،ٹھیک ہے نا؟‘‘اور کھانسنے لگی۔ سپاٹ لہجہ میں ’’جی بہتر!‘‘کہہ کر رتنا نظروں سے اُوجھل ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ اب رادھا کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔میں نے اُسکے دل میں جھانکا،ذہن کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اب اُسے اپنی قسمت اور اپنے خدا(بھگوان) کے سوا کسی اور سے کوئی بھی شکایت نہیں تھی۔
ادھر صرف رتنا کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر سریش حیران سا ہوا:
’’تمہاری دیدی کہاں ہے؟وہ تمہارے پاس کمرے میں نہیں آئی تھی ؟ ‘‘
’’مجھے دیدی نے ہی آپ کے پاس بھیجا ہے۔کہتی ہیں کہ آپ کی طبیعت کچھ کرخراب ہے۔‘‘
’’میری طبیعت! خیر!پہلے خراب تھی،اب ٹھیک ہے۔تم جاؤ،اپنی دیدی کو میرے پاس بھیج دو__!‘‘
’’نہیں! دیدی مجھے ڈانٹ دیں گی۔اُنھوں نے مجھے سختی سے کہا ہے کہ جب تک جیجاجی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوگی مجھے اُنکے پاس ہرگز
آنا نہیں ہے۔‘‘
’’ارے!‘‘سریش حیران ہوا،فکرمند اور پریشان بھی۔کچھ سوچ کر، بلکہ سارا کچھ سمجھ کر بے بسی سے بولا،’’جیسی تمہاری مرضی!___ ویسے تم اپنی دیدی کی ہر بات مانتی ہو تو یہ تمہارا مسأہ ہے۔لیکن میرا مسأہ کچھ اور ہے جسے تم حل نہیں کر سکتی۔ بلکہ تمہیں حل کرنا بھی نہیں چاہیے‘‘
’’میں ہر چیز سمجھتی ہوں۔‘‘کہہ کر رتنا آکے بستر پر بیٹھ گئی ۔
سریش کو اب ہر چیز آسانی کے ساتھ مل سکتی تھی اور کسی کو اعتراض بھی نہیں،لیکن وہ اتنا خود غرض نہیں تھا۔
’’تمہارے خیال میں ،آگے کیا ہونے والا ہے؟؟‘‘سریش نے اُسے کُریدنا چاہا کہ دیکھے کہ رتنا سراسر اپنی دیدی سے مجبور ہے یا اسکی اپنی بھی کوئی مرضی اس چیز میں شامل ہے؟
’’وہی جو آپ ’’رادھا‘‘ کے ساتھ____‘‘اور شرم سے گردن اور بھی جھکائی جو پہلے سے ہی جھک گئی تھی۔
سریش بے بس تھا،مجبور بھی۔دراصل اب وہ انسان بھی تھا اور آدمی بھی۔
’’جو بھی ہے،ہر چیز ’’آپ‘‘اپنی دیدی کی مجبوری کو لے کر کر رہی ہیں۔تو مجھے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہئے نا؟‘‘
’’دیدی کو خوش کرنے کا یہی موقع ہے جسے میں کھونا نہیں چاہتی۔‘‘وہ جیسے ایک ایسی عورت بن گئی جو ہر چیز کو ناپ تول کر سمجھ سکتی ہے۔
’’بات پھر بھی دیدی پر آکر ٹھہری ہے۔آپ خود اس چیز میں کیا رائے رکھتی ہیں؟کس جواز کا کہہ سکتی ہیں؟‘‘
’’اگر میں کہوں کہ میری مرضی اور رضا میں دیدی کا پیار اور جذبہ موجود ہے تو؟‘‘وہ جیسے سوال کرنے میں بھی ہمت رکھتی ہے۔
سریش اس سوال سے خوش ساہوا لیکن اب بھی خود کوایک بڑی کشمکش میں پاتا تھا۔
’’میں آخری بات کہتا ہوں۔مجھے آپکا خلوص چا ہئے۔چند منٹ کے لئے ’’دیدی‘‘ کو ہٹائیے پھر اپنی کہیے جو کچھ دیں گی مجھے قبول ہوگا۔‘‘یہ کہہ کر سریش نے بسترپہ لیٹ کر اپنی آنکھیں موند لیں۔
رتنا کچھ سوچنے لگی۔۔۔اپنے تئیں سوچنے لگی،ورنہ دیدی کے لئے وہ تو اپنی جاں تک دے سکتی تھی۔پھر وہ بستر سے اُٹھی۔سریش نے کچھ محسوس کیا تو اپنی آنکھیں کھولیں۔رتنا کوجاتا دیکھ کر وہ مایوس سا ہوا کہ وہ ’’جواں‘‘ بھی تھا اور خوش بھی ہوا کہ وہ ایک’’ مجبوری کی خوشی‘‘ سے اب دور ہوگیا ہے جسے وہ یا اُسکا ضمیر قبول نہیں کرسکتا تھا۔
رتنا دروازے کے قریب آکر رک گئی___اور دروازے کی چٹخنی آہستگی سے گرا کر واپس پلٹ گئی تو دیکھا کہ سریش اوندھا ہو کر بستر پہ لیٹ گیا ہے کہ اُسکے حساب سے ’’رتنا‘‘جا چکی تھی صرف ’’دیدی‘‘آ سکتی تھی۔
’’___’’رتنا‘‘ آچکی ہے۔۔۔۔اور دیدی بھی۔‘‘یہ سوچ کر رتنا،سریش،بلکہ’’بستر‘‘کی طرف بڑھنے لگی۔۔(ختم شد)

Published inعالمی افسانہ فورمناصر صدیقی