Skip to content

کہ پتھر نہیں ہوں میں

عالمی افسانہ میلہ “2019”

افسانہ نمبر : 44

کہ پتھر نہیں ہوں میں

افسانہ نگار ۔۔ فیضان الحق ۔ دہلی ۔ انڈیا

”آپ پتھر کی شکتی پراتنا یقین کیوں کرتے ہیں!؟“

”ہاں ! مجھے ہے یقین۔کیونکہ میں پتھر کو سب سے زیادہ طاقت ور سمجھتا ہوں۔پھول اورپتی،نقش و نگار،بڑی بڑی عمارتیں یہاں تک کہ بھگوان بھی پتھروں میں دکھائی دیتا ہے۔اور جس چیز میں بھگوان دکھائی دینے لگے اس کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔“

”وہ تو ٹھیک ہے بابو جی،لیکن پتھروں میں بھگوان کیسے دکھائی دیتا ہے؟“

”بھئی کمال کرتے ہو تم بھی ۔ابھی ابھی ماں سرسوتی کی مندر میں سیش نوا کر لوٹے ہو اور ابھی بھٹک گئے! “

”گوپی بابو! میں مانتا ہوں کہ ابھی ابھی سرسوتی ماتا کے چرنوں میں سیش نوا کر لوٹ رہا ہوں۔لیکن اس سے یہ کہاں سدھ ہو گیا کہ بھگوان اسی مورت میں موجود تھے؟کیا بڑی نیم کے نیچے والی مندر میں جو ہنومان جی اپنا گدا اٹھائے کھڑے ہیں ان میں بھگوان نہیں ہے؟ یا پھر وہ تلسی دادا کی دوکان کے بغل میں جو گنیش جی ہاتھ میں مکھن لئے بیٹھے ہیں بھگوان وہاں نہیں جا سکتا؟

”دیکھو بیرو تم بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہو۔ بھگوان ان سب میں موجود ہو سکتا ہے۔اور میں نے اس سے کب انکار کیا! میرے کہنے کا ادّیش بس اتنا ہے کہ بھگوان بننے کے لئے بھی پتھر بننا پڑتا ہے۔“

”واہ بھائی واہ! یہ خوب کہی تم نے۔یعنی اب پتھر بھگوان سے بھی بڑا اور بلوان ہو گیا۔“( بیرو نے یہ بات کچھ اس انداز میں کہی جیسے وہ گوپی! کا مزاق اڑاناچاہتا ہو)

گوپی کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔اسے بیرو کی بے وقت کی ہنسی پر نہ ہی کوئی تعجب ہوا اور نہ ہی ا فسوس۔کیونکہ وہ اس کے علاوہ بیرو سے اور کوئی امید کر بھی نہیں سکتا تھا۔اور پھر اس نے آہستہ سے بس اتنا کہا:” بلکہ انسان بننے کے لئے بھی پتھر بننا پڑتا ہے۔“

پکی سڑک پر دونوں ساتھی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلتے چلے جا رہے تھے۔بیرو کو کہاں جانا تھا یہ خود اسے بھی نہیں معلوم تھا۔صبح سے شام تک وہ اسی طرح سڑکوں پر چکر کاٹتا رہتا تھا اور اگر کوئی مزدوری کا کام مل جاتا تو کھانے بھر کے پیسے کما لیتا تھا۔اس کا معمول تھا کہ کسی بھی راستے سے گزرتے ہوئے جو بھی مندر پڑتا وہ اس کے آگے کچھ لمحے کے لئے ہاتھ جوڑ کر اور سیش جھکا کر کھڑا ہو جاتا۔بیرو کسی خاص بھگوان کا پجاری نہیں تھا۔اور نہ ہی کسی خاص مندر کا بھکت۔اسے یا تو تمام مندروں سے یکساں عقیدت تھی یا وہ ان میں سے ہر ایک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔اس کا ماننا تھا کہ بھگوان کسی بھی مندر میں ہو سکتے ہیں اور کوئی بھی مندر بھگوان سے خالی ہو سکتا ہے۔اس لئے وہ تمام مندروں کے آگے یکساں سر جھکاتا تھا۔

بیرو کو مشکل ہی سے کھانے بھر کا پیسہ مل پاتا تھا۔بڑھتی عمر اور کمزور ہوتے بدن نے اس کی خوراک بھی کم کرنی شروع کر دی تھی۔اس نے ایک مدت سے اپنے گھر کا منھ نہیں دیکھا تھا۔بیوی کی وفات کے بعد سے وہ اسی طرح سڑکوں پر پھرتا اور اپنے پیٹ بھر کی روزی کما کر کسی دوکان کے چبوترے پر سو جاتا۔جس دن اس کا پیٹ نہیں بھرتا وہ سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر گوپی کا انتظار کیا کرتا۔گوپی جو کہ سرسوتی مندر کا پجاری تھا۔وہ رات میں سڑک کے دائیں بائیں کھڑے غریبوں اور محتاجوں کی چپکے سے مدد کر دیا کرتا تھا۔بیرو کو اس کی خاص ہمدردی حاصل تھی۔ گوپی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بیرو اس طرح سڑکوں پر بھٹکنے والا آدمی نہیں ہے۔بلکہ وہ ایک طویل مدت تک بڑی محنت سے کماتا رہا ہے اور اپنی بیمار بیوی کے علاج کے ساتھ ساتھ دونوں کا پیٹ پالتا رہا ہے۔اسی دوران ہی اس سے اوربیرو سے دوستی ہو گئی تھی۔لیکن اچانک بیوی کے زیادہ بیمار ہو جانے سے یرو کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور اس نے کام کاج کرنا بند کر دیا۔

گوپی سرسوتی ماتا کا بھکت ہونے کے ساتھ ساتھ سنسکرت ودّیا میں مہارت رکھتا تھا۔اس نے چاروں وید کے علاوہ تمام اہم پستکیں پڑھ رکھی تھیں۔ایک زمانہ تھا جب اس نے اپنے علم کے ذریعہ لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی اور انہیں ویدک گیان بانٹ کر سماج میں عزت کمانے کا خواب دیکھا تھا۔لیکن اس کا یہ خواب جلد ہی چکنا چور ہو گیا۔کیونکہ وہ اپنا گیان مفت میں بانٹتا پھرتا تھا اور لوگوں کو اس کے پاس بیٹھ کر اپنا وقت گنوانے کی فرصت نہیں تھی۔اس نے ہزار کوششیں کیں مگر اس کا گیان سیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہوا۔

اس زمانے میں بس ایک بیرو ہی تھا جو گوپی کے ساتھ بیٹھ کر اس کی باتیں دھیان سے سنتا تھا۔شام کو تھک ہار کر گھر جانے کے لئے جب بیرو سرسوتی مندر کے پاس بنی ایک جھوپڑی سے گزرتا تو تو گوپی کو کچھ عجیب سی باتیں کرتے ہوئے سنتا اور تھوڑی دیر کے لئے اس کے پاس آ کر بیٹھ جاتا۔بیرو کو گوپی کا گیان سیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔لیکن اس کی باتیں اس کے دل پر اثر کرتیں اور وہ ان باتوں سے اپنے اندر ایک نئی رمق محسوس کرتا۔گوپی کو بھی بیرو کی شکل میں ایک ششیہ مل گیا تھااور وہ اس کے آنے کاانتظار کیا کرتا۔

بیرو اکثر گوپی سے سوال کرتا :” لوگ آپ کی بات کیوں نہیں سننے آتے؟جبکہ آپ کے پاس اتنا گیان ہے اور آپ مفت میں بانٹنے کے لئے تیار ہیں!“

”بیرو !ابھی میں کچھ اور ہوں،انسان نہیں بنا ہوں۔ انسان بننے کے لئے بھی پتھر بننا پڑتا ہے۔اور وہ میں بننا نہیں چاہتا‘ ‘ ( گوپی نہایت مایوسی کے انداز میں جواب دیتا)

بیرو کو یہ بات سمجھ نہ آتی اور وہ پرنام کرکے اپنے گھر کی طرف چل دیتا۔

اچانک بیرو کی پتنی زیادہ بیمار پڑ گئی اور وہ اسے لے کر علاج کے لئے اپنی سسرال چلا گیا ۔ادھرگوپی کو تنہائی نے پریشان کرنا شروع کیا اور اس نے اپنا ٹھکانہ بغل والی سرسوتی مندر میںبنا لیا۔’سرسوتی‘ جسے گیان کی دیوی کہا جاتا ہے۔ وہ انہیں کے چرنوں میں پڑا رہتا اور اپنے گیان کا نذرانہ انہیں کی پوجا پاٹ سے وصول کرتا۔جو بھی پیسے ملتے اسے وہ غریبوں میں بانٹ دیتا اور پھر خاموشی سے اسی مندر میں پڑ رہتا۔لوگوں کو دھیرے دھیرے اس کے علم کا گیان ہوا۔اور اب لوگ اس کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوئے۔لیکن اس بار گوپی نے مفت گیان دینے سے صاف انکار کر دیا۔لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کہیں۔

”یہ پجاری نہیں بلکہ تاجر ہے“۔

”یہ یہاں پیسے کمانے آیا ہے۔“ ’’ٹھگ ہے ایک نمبر کا‘‘

لیکن گوپی پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بنا پیسے لئے اس نے کسی کو ایک شبد بھی بتانے سے انکار کر دیا۔گوپی نے محسوس کیا کہ اس کا انسانی جسم اب دھیرے دھیرے پتھر کا ہوتا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں کی مجبوری بن گیا ہے۔وہ دن کے اجالے میں ایک سنگ دل پجاری رہتا جو ڈانٹ ڈپٹ کر بات کرتا اور گیان دیتا اوررات کے سناٹے میں غریبوں اور مزدوروں کے سامنے موم کی طرح ملائم ہو جاتا۔اسے جو بھی پیسے ملتے وہ غریبوں کو بانٹ دیتا۔اور وہیں اپنی جیب خالی کر دیتا۔

ایک رات اچانک زوروں کی ہوا چلی ۔گھنگھور بارش ہوئی ،سڑکوں پر پانی بھر گیا۔اور اسی طوفان میں ایک دھڑام کی آواز کے ساتھ مندر کی چھت فرش سے آ لگی۔ گوپی جو اسی چھت کے نیچے سویا تھا ہمیشہ ہمیش کے لئے سو گیا۔

بی وی کی وفات کے کئی مہینوں بعد بیرو اس راستے پر پھر واپس آیا۔ وہ حسب عادت راستے میں پڑنے والی تمام مندروں کے آگے ہاتھ جوڑتے اور شیش نواتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی نگاہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔تبھی اس نے دیکھا سرسوتی مندر کے آگے پھٹے پرانے کپڑے پہنے کئی لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہے۔اور لوگ ایک مجسمے کی گل پوشی کے بعد اس کے نیچے سیش جھکائے کھڑے ہیں۔ان کی آنکھیں نم تھیں۔اور سب کے چہرروں پر اداسی صاف جھلک رہی تھی۔اس نے آگے بڑھ کر مجسمے کے چہرے پر نظر ڈالی۔

”گوپی بابو! “

اور اس کا سر دور ہی سے پتھر کے سامنے جھک گیا

Published inعالمی افسانہ فورمفیضان الحق