Skip to content

کھیتی

عالمی افسانہ میلہ 2017
افسانہ نمبر 117
کھیتی
نعیم سلیم ،مالیگاؤں ، مہا راشٹریہ

میں اب میں سسرال نہیں جاؤنگی’میری تکلیف اور پریشانی کو سمجھو نہیں تو میں مر جاؤنگی،شمع نے روتے ہؤے کہا.پاس ہی اس کے والد عابد سیٹھ سرجھکاۓ خاموش بیٹھے ہؤے تھے.والدہ اوربہنیں دلاسہ دے رہی تھیں.گھر میں چھائی اداسی سے معلوم ہوتا تھاگویا میت ہوگئی ہو.بھلے سے کوئی مرا نہیں تھالیکن پل پل گھٹ گھٹ کرکتنی ہی آرزوئیں اور ارمان اس گھر میں دم توڑ چکے تھے….. ….عابد سیٹھ برسوں پہلے کی ان یادوں میں کھوگئے جب وہ صوفے پر دراز ایک ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ دوسرے ہاتھ میں سگریٹ سلگاۓفکر دنیا سے بے نیاز فلم سے لطف اندوز ہورہے تھے.فیکٹری مینیجر کے بھروسے چل رہی تھی.زندگی عیش آرام سے کٹ رہی تھی.بچے شہزادی شہزادوں کی طرح پرورش پارہے تھے.عابد سیٹھ بھی کسی نواب سے کم نہیں تھے.اپنی عیاش طبیعیت سےمجبور یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں اور معمولی باتوں پر طلاق دیدی.فی الحال چوتھی بیوی ساتھ میں تھی.آوازوں کا شور بڑھا توعابد سیٹھ چونکے ‘ ہاں ہاں میں بات کرتا ہوں زینو سردار سےوہ ضرور اس مسئلے کو سلجھا دینگے’ہاں وہ تو ہۓ……..مگر شمع بیٹی رکنے کیلئے کہہ رہی ہۓ اس تعلق سے کیا کہتے ہو؟؟ عا بد سیٹھ پھر کھو گۓ …..غفارچاچا میں نے کہہ دیا تین مرتبہ تو پھر کیا رہ جاتا ہۓ؟عدت مہر کی جتنی رقم تم لوگوں نے طۓکی میں نے دیدی اب معاملہ ختم کرو.مگر بیٹا تم کب تک…..درمیان میں ہی عابد سیٹھ تیز آواز میں بولے،’مجھے نصیحت مت کرومجھے جو کرنا تھا کیا تمہیں جو کرنا تھا تم نے کیا.غفار چچا نے بھی پلٹ کر گرجدار آواز میں کہا’عابد اپنی دولت کے غرور میں یہ نہ سمجھو کہ تم ھمیں دبا لوگے یہ تمہارا تیسرا معاملہ ہۓ طلاق کا،وہ تو خیر مناؤہر بارتمہارا پالا اچھے اور غریب لوگوں سے پڑاہۓ..ورنہ..کورٹ میں گھسیٹےجاؤگے تو ساری عیاشی اور چربی نکل جاۓ گی.اور پھر غفار چچا نے متعلقین کوآگاہ کردیا کہ خبر دار اب کوئی مجبورومظلوم، عابد کےچنگل میں نہ پھنسنے پاۓ .چھ ماہ تک.بہت کوشش کے بعد بھی کوئی رشتہ نہ ملا تو عابد سیٹھ بیرون شھر سے چوتھی بیوی نکاح کرکے لے آۓ.اور اس کے بعد ہی سارا کاروبار چوپٹ ہونا شروع ہوگیا.اچھے دنوں میں تین بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی تھیں اسلۓ وہ کھاتے پیتے گھرانوں میں گئیں.جبکہ دو بیٹیوں کی شادی تک پورا کاروبارختم ہوگیا.شھر کا گھر فروخت کرکے مضافات میں چھوٹا ساگھر لیا اور کسی طرح ان دو بیٹیوں کے بھی ہاتھ پیلے ہوگۓ…………
ھمیں مھیلا منڈل جانا چاھئے .ان کمینوں پر کیس کرنا چاہئے……….ارے ہمارے دو نکمے بھائی اور انکے دوست کم ہیں کیا؟انکی جم کر ٹھکائی کروادینی چاہئے …..بہنیں مشورے دے رہی تھیں.مگر عابد سیٹھ اب بھی اپنی سوچوں میں گم تھے..دو جوان بیٹے وہ بھی باپ کے نقش قدم پر چل رہے تھے.جو کچھ کماتے تھوڑابہت گھر خرچ کیلۓ دیتے باقی اپنے شوق اور عیاشی،عابد سیٹھ اب نہ سیٹھ تھےاور نہ ہی جوان کہ بچوں کو روکتے،روکیں بھی تو کس منہ سے؟نام کے ساتھ سیٹھ کا لاحقہ جوانی سے جڑا تھا جوآج بھی بطور پہچان اور یادگار قائم تھا.ہم کچھ کہہ رہے ہیں…کیا کرنا چاہئے ھمیں؟عابد سیٹھ نے چشمہ اتاراآنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھا انکی بیوی تین بیٹیاں اور سب سے چھوٹی بیٹی شمع سب حیرت وتجسس سے انہیں تک رہے تھے.شمع شادی کے چند مہینے بعد سے ہی سسرال کے ظلم و تشدد کا شکار تھی .معاملہ ناقابل برداشت ہوا تو شمع نے فیصلہ کیا کہ اب وہ نہیں جائگی اور آج وہ چاہتی تھی کہ وہ معاملات کے مستقل حل تک اپنے مائکے میں رہے.اس سے پھلے بھی دو مرتبہ اس تعلق سے پنچ حضرات افہام وتفہیم کیلۓ بیٹھے ،لیکن چند دنوں بعد پھر وہی پرانا رویہ…جبکہ عابد سیٹھ کو یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ بچی کو بٹھالیں تو کہیں اسکی سسرال والے ھمیشہ کیلئے نہ….رشتہ ہی بڑی مشکل سے ہوا تھا..عابد سیٹھ بجاۓ کچھ کہنے کے رونے لگے سسکیوں کے ساتھ روتے جاتے اور کہتے میری بچیوں میں تمہارا گنہگار ہوں،میرے کرتوت کی سزا تمہیں بھگتنی پڑ رہی ہۓ.میرے بچوں مجھے معاف کردو.اور بے اختیار انہوں نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دئے میرے پروردگار میں تیرا گناھگار خطاکار بندہ،میں نےدوسروں کی بچیوں پر بہت ظلم کئےیاﷲ جو چاہے مجھے سزا دے مگر میرے بچو پر رحم کر مولی.انکی سسرال والوں کے دلوں میں رحم و محبت ڈال دے میں انہیں بد دعا نہیں دیتا،تو انہیں حسن سلوک کی توفیق بخش..وہ گڑ گڑا رہے تھےاور گھر کے سبھی افراد کے ساتھ خود شمع بھی اپنےغم بھلا کر اپنے مجبور باپ کی بےبسی پر دھاڑیں مار کر رونے لگی….

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمنعیم سلیم