Skip to content

کھوٹے سکے فسوں کار زارا مظہر

کھوٹے سِکّے ۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔۔۔ زارا مظہر ۔۔۔۔ میرے چند حسین ،ناقابلِ گرفت خواب ان کھوٹے پیسوں کی طرح ہیں جو خرچ نہیں کیئے جا سکتے بس پڑے ہی رہتے ہیں تا آ نکہ کسی کھرے کی کمی ہو جائے اور گنتی پوری کر لی جائے۔ عام طور پر گھروں میں ایک برتن مختص کر دیا جاتا ہے جو کسی کارنس ، شوکیس ، یا ذرا اونچی جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ کار آ مد الّم غلّم اشیاء اس میں ڈال دی جائیں اور بوقتِ اشد ضرورت اسے کھنگال کر کام کی چیز نکال لی جائے اب پیسے چونکہ پیسے ہیں پھینکے نہیں جاسکتے تو اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ بس میرے خوابوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ۔ لڑکیاں اوائل عمری سے ہی کالے مُشکی گھوڑے والے شہزادوں کے خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں ۔ اچھے گھروں،کوٹھیوں،بنگلوں اور اکثریت زیور لتّے کے ۔ مگر میرے خواب کچھ انوکھے رہے ۔ ہمیشہ ہی کسی کہانی کا پلاٹ ، لوکیشن، تانا بانا، حتیٰ کہ پورے پورے ڈائیلاگ تک وحی کی طرح اترتے گہری نیند میں بھی ایک ہوش مندی کی سی کیفیت رہتی کانوں میں نِدا آ تی رہتی اٹھو اور لکھ لو لکھ لو ۔ اگر تب ہمت کر لیتی تو یقینا آ ج کچھ شاہکار ناموری کا باعث ہوتے مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جوانی کی مست الست نیند ایسا گھیرتی کہ اٹھ کر کچھ قلم بند کرنے کی ہمت نہ پڑتی اور صبح جب آ نکھ کُھلتی تو مفلس کی محبوبہ کی طرح سب روٹھ چکا ہوتا ۔تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں کورس کے علاوہ کسی کتاب کو ہاتھ لگانا ناقابل معافی جرم ہوتا اور پکڑی جانے والی کتاب جو کسی دوست سے پڑھنے کے لئیے ادھار لی گئی ہوتی ناقابل بیان سرزنش کے ساتھ چار ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہتھیلی پر رکھ دی جاتی ۔ مگر پھر بھی اس دور میں اتنی کتب پڑھیں کہ اب حیرت ہوتی ہے چاند کی چاندنی میں چھت پر ناگن سپیروں کے ایسے ایسے قصے پڑھے کہ ڈر سے بستر سے پاؤں اتارنے کی ہمت نا ہوتی خوف سے حلق میں کانٹے پڑ جاتے چیخنے کی کوشش میں گلہ بند ہو جاتا مگر لت ایسی لگی تھی کہ عمروعیار کی زنبیل بھی اپنے شوق کے آ گے چھوٹی پڑ جاتی ٹارزن کی ساری سیریز پڑھ لیں ابنِ صفی کے ناول جولیا ،جوزف کے قِصے اور وہ اشتیاق احمد کی کہانیاں لگتا کہ اگر اسکا نیا آ نے والا ناول سب سے پہلے نہیں پڑھا تو ملک کو درپیش خطرات کا دفاع ہونے سے رہ جائے گا۔ خیر سلسلہ تو چلتا ہی رہا بڑے ہونے پر نوعیت ذرا بدل گئی سسپنس ڈائجسٹ میں چھپنے والے سلسلے دیوتا نے برسوں سحر میں جکڑے رکھا ۔ سب رنگ ڈائجسٹ اور خواتین کے سارے ماہنامے چھپ چھپا کر لازمی پڑھ لئیے جاتے ۔ کالج آ نے تک بڑے لکھاریوں پر نظر رہنے لگی جو کالج کی لائبریری سے پوری ہونے لگی نسیم حجازی کے سارے اسلامی اصلاحی ناول پہلے سال پڑھ ڈالے کیوں کہ فسٹ ائیر کو کسی اور قسم کی کتابیں ایشو نہیں کی جاتی تھیں لائبریرین نے شوق دیکھ کر آ فر کر دی کہ فارغ پیریڈ میں میرے ساتھ کتابوں کو ترتیب دے دیا کرو تو اپنی پسند کی کتاب پڑھنے کے لئیے لے سکتی ہو واہ جی پھر تو موج ہی لگ گئی کام کے دوران بڑے بڑے ناموں کی لسٹ نوٹ کر لی جاتی اور پھر دامے،ورمے،سخنے فائدہ اٹھا لیا جاتا مگر پیاس نا بجھتی ۔ ایک کزن بیچارے نے چھوٹا بھائی ہونے کا حق ادا کر دیا ۔ دلچسپی نا ہونے کے باوجود قائداعظم لائیبریری کی ممبر شپ لے رکھی تھی روزانہ شام کو ایک ناول ایشو کرواتا اور خاموشی سے ایک مخصوص ریک پر رکھ جاتا ، پہلے سے پڑھی ہوئی کتاب جاتے ہوئے وہیں سے اٹھا لیتا ۔ قراۃ العین حیدر ، ممتاز مفتی ، حاجرہ مسرور عبداللہ حسین اور انکے ہمعصروں کو اسی زمانے میں پڑھا اگرچہ ساتھ ساتھ رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمان کے رومانوی اور معاشرتی گھریلو ناول بھی چاٹ ڈالے ۔          شادی کے بعد کوئی پابندی تو نہیں تھی مگر گھریلو ذمہ داریوں نے ایسا جکڑا کہ وہی چھپ چھپا کر پڑھنے والی زندگی غنیمت لگتی مگر اوپر تلے بچوں کی آ مد نے ایسا بد حواس کیا کہ خواب آ نے ہی بند ہو گئے البتہ کتابوں کا ساتھ نہیں چھوٹ سکا جو بھی میّسر ہوئی اسے جانے نہیں دیا ٹرین کے دور دراز اسفار میں بچوں کے ضروری سامان کے ساتھ ساتھ کتاب بھی ہمسفر رہتی اکثر اوقات نان پکوڑے والا اخبار بھی جھاڑ جھپاڑ کر استفادہ حاصل کر لیتی ہانڈی چڑھاتے مصالحہ بھونتے کوئی کتاب یا رسالہ ساتھ کھلا رہتا ۔ بچوں کو فیڈر پلانے کے دوران بھی دوسرے ہاتھ میں کتاب ہوتی ۔ بستر پر آ نے کے بعد جو آ خری ضروری کام ہوتا وہ یہی ہوتا کہ آ ج فلاں کتاب ختم کر کے ہی سونا ہے ۔ خواتین کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز لوشنز ، خوب صورت ڈیکوریشن پیسز اور ٹیبل لیمپس سے مزّین ہوتی ہیں مگر ہماری ٹیبل ہر زیرِ مطالعہ کتابوں اور ڈائریوں کی بھر مار ہوتی تھی تب بھی اور آ ج بھی ۔ شاید اسی لیئے بہت سی کہانیوں کے تانے باتے سپنوں میں بنے جاتے ۔ اور عالمِ ہوش میں آ تے ہی بھک سے اُڑ جاتے ۔ کبھی کبھار کوئی بھولا بسرا خواب پلکوں پہ اٹکا رہ بھی جاتا تو بستر چھوڑنے سے پہلے یہ بات ذہن میں ہوتی کہ منّے یا منّی کو اٹھنے سے پہلے منہ میں فیڈر دینا ہے تاکہ وہ سوتی رہے اور پھر اسکول جانے والے بچوں کے کام ایک ترتیب سے دماغ کا احاطہ کیۓ رہتے ایک کی چوٹی ایک کی ٹائی باندھنے میں مدد ایک پیر کچن میں ایک لاؤنج میں ناشتے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لنچ باکس اور گھڑی کی ٹِک ٹِک کا ساتھ دیتے دیتے ہلکان ہو جاتی صاحب کی آ فس تیاری میں مدد کے ساتھ دماغ رات کے کسی سنہرے خواب کے تعاقب میں ہوتا ۔ میچنگ موزے رومال سامنے پڑے نظر نا آ تے ۔ سب کے سدھارنے کے بعد اپنے ناشتے کے دوران میڈ کی آ مد جو اتنی جلدی میں ہوتی کہ لگتا پوری کالونی کے گھروں کو اس نے ہی نمٹانا ہے یا اسکی ٹرین نِکل جائے گی اور جہاز تو ضرور ہی اڑ جاۓ گا اسکے ساتھ کھپتے کھپتے اگر رات کا دیکھا کوئی بھولا بِسرا خیال گرفت میں آ تا بھی تو فراغت تک اُڑن چھو ہو جاتا ۔خیال کی تتلیاں اور خواہشوں کے جگنو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ بس آ نکھ کُھلنے کے ، شور ، سے ہی اُڑ جاتے ہیں وہ کہاں انتظار کرتے ہیں کہ آ پ فارغ ہوں تو ہم بھی دستیاب ہوں خوابوں کو قلم کی گرفت میں لانے کے لئیے دِماغ کی یکسوئی اتنی ضروری ہے کہ فرشتوں کے پروں کی آ واز تک سنائی دیتی ہے اگر مطلوبہ یکسوئی نا مِلے تو چاہے آ پکے پاس ہزاروں الفاظ کا ذخیرہ ہو انوکھے ، اچھوتے ، رنگین ، سنگین کیسے ہی خیال ہوں خوبصورت کاغذ قلم ہوں کچھ نہیں لِکھا جا سکتا اور اگر آ پ کے گِرد ایک خوبصورت یکسو ماحول ہو ذہن اپنی سوچ میں آ زاد ہو سونے جاگنے پر کوئی پابندی نا ہو (مطلب آ پ جب مرضی اٹھ کر لِکھنا شروع کر دیں )تو ہی کچھ لکھنے کے خواب پایۂ تکمیل تک جاتے ہیں ایک خاص بات بھی ابھی کچھ عرصہ پہلے علم میں آ ئی کہ یہ سارے لِکھاری ، شعراء ،اور ادیب بڑھتی عمر کے ساتھ اتنے خوبصورت اور گریس فل کیسے ہو جاتے ہیں ؟ جب آ پ اچھوتے خیال خوبصورت الفاظ اور انوکھے رنگ لکھتے ہیں تو یہ ساری کیفیات طاری کرنی پڑتی ہیں اپنے مزاج کی ترتیب کو کہانی کے کرداروں کے تابع کرنا پڑتا ہے ۔ تب جاکر کوئی کردار یا ماحول تراشا جاتا ہے پھر دھیرے دھیرے یہ سارے رنگ ، لب و لہجہ اور ٹہراؤ ذات میں بھی جھلکنے لگتا ہے شاید اسی لیئے یہ ساری سوچیں انہیں بھی اتنا ہی حسین و رنگین بنا جاتی ہیں ۔ پہلے وہ اپنے اچھوتے خیال کو پہنیں گے الفاظ کو اوڑھیں گے انوکھے ، سنہرے رنگ میں ڈوبیں گے تو ہی کچھ ڈھالیں گے اور ڈھلنے تک یہ ساری خوبصورتیاں انکی شخصیت کا بھی حصہ بن جاتی ہیں    بات کر رہی تھی اپنے کھوٹے سِکّوں کی اور کہاں سے کہاں جا نکلی میرے چند ایسے ہی کھوٹے سِکے جو طاقِ نسیاں بن چکے تھے چل گئے ہیں اور مجھے وہی خوشی ملی ہے جو کھوٹا سِکّہ خرچ کرنے کے بعد ملتی ہے ۔ تھوڑی حوصلہ افزائی سی ہو گئی ہے ایسے سِکّوں کی ایک پوری بوری ہے جو میں پچھلے چند سالوں میں جمع کر چکی ہوں ۔ سوچتی ہوں کبھی کبھار داؤ لگا کر خرچ کر ہی لیا کروں گی جس سے دوکاندار کو شاید اتنا نقصان نہیں ہو گا البتّہ میرے حِصّے میں وہ خوشی ضرور آ ۓ گی جو کھّرےسَکّے کو خرچ کرنے کے بعد بھی نہیں ملتی ۔ ز ۔ م ستمبر 2016ء کھوٹے سِکّے ۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ زارا مظہر ۔۔۔۔
Published inفسوں کار