Skip to content

کھنڈر سے آتی آوازیں

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 152
کھنڈر سے آتی آوازیں
محمد حنیف خان۔علی گڑھ ۔انڈیا
کھنڈرات سے آتی ہوئی دلدوز آواز نے میری نیند کو بکھیر کر دیا۔آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں اور بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا مگر آواز ایسی تھی کہ کانوں سے چپک کر رہ گئی۔پہلے تو بستر پر ہی پڑا رہا اور پھرہاتھ سے چہرہ مل کر نیند دور کرنےکی ناکام کوشش کی، ہاں اس کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ بستر سے اٹھ کر کھڑکی تک جانے کے قابل ہو گیا۔رات ٹھٹھری ہوئی تھی اس لئے جوں ہی کھڑکی کھولی ایسا لگا کہ یخ بستہ ہواؤں نے میری ہڈیوں کو برمادیاہے،اس کے باوجود میں نے کھڑکی کھول کر سر باہر نکالا اورآواز کی سمت جاننےکی کوشش کی ۔یہ ایک نسوانی آواز تھی جس میں بین کا درد تھا،کبھی قدرے بلند ہوجاتی اور کبھی آہستہ۔میں جس طرف کان لگاتا،یہ آواز اسی طرف سے آتی ہوئی محسوس ہوتی، جس کی وجہ سے آواز میرے لئے معمہ بن گئی۔کافی دیر تک کو شش کی مگر کامیاب نہ ہو سکابالآخر میں نے کھٹاک کی آواز کے ساتھ کھڑکی بند کردی۔میں کوئی کمزور دل کا انسان نہیں ہوں ، مجھ میں جرات ہے اور اسی وجہ سے میں نے اس فلیٹ کو کرائے پرلیا جسے کوئی لینا پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ جس جگہ پر یہ فلیٹ ہے وہ بستی کا آخری کنارہ ہے۔ میرے فلیٹ کے بعد جنگلات کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔یہ فلیٹ بھی جنگل کاٹ کر تعمیر کیا گیاتھا۔آخری مکان ہونے کی وجہ سے کوئی اسے لے نہیں رہاتھا مگر میں نے لے لیا۔
آواز کی سوزش اور اس کی دردناکی نے مجھے اندر سے ہلاکر رکھ دیاتھا۔میں بستر پر لیٹا سوچ رہاتھاکہ رات کے سہ پہر یہ آواز کہاں سے آرہی ہے اور پھر آواز کسی ایک جانب سے کیوں نہیں آرہی ہے جس طرف کان لگاؤ، محسوس ہوتاہے ادھر سے ہی آرہی ہے ،جس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔مگرمیں نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ شاید یہ میرا وہم ہے اور ہوا کی وجہ سے ایسا ہو رہاہے۔ ہوا کا بہاؤجس طرف سےزیادہ ہوتاہوگاآواز ادھر سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اسی ہوا کے دباؤ سے ہی آوازکبھی تیز ہوجاتی ہے اور کبھی مدھم،اس لئے زیادہ سوچنے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ تو طے تھاکہ آواز کھنڈرات سے ہی آرہی ہے وہ بھی نسوانی آواز۔جیسے ہی یہ بات ذہن میں آئی ایک بار پھر طرح طرح کی باتیں سوچنے لگا اور نیند کوسوں دور بھاگ گئی۔میں سونے کی مسلسل کوشش کر رہاتھا مگر کامیابی نہیں مل رہی تھی پھر ایک دم سے لگا کہ کوئی میرے بہت قریب رو رہاہے بلکہ میرے دروازے کے پاس،میں تیزی سے اٹھا اور دروازے کی طرف لپکا لیکن وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی میرے شعور نے مجھے روک دیا اور اب میں بستر اور دروازے سے تقریبا برابر کی دوری پر کھڑا تھا اور سوچ رہاتھا کہ دروازہ کھولوں یا نہ کھولوں۔آواز مسلسل آرہی تھی،میرے اندر کھلبلی مچی ہوئی تھی،ذہن کام نہیں کر رہاتھا اور دل بہت تیزی سے دھڑک رہاتھا۔پھر ایک دم سے آواز بند ہوگئی۔میں نے کان لگا کر اسے سننے کی کوشش کی مگر نہیں سن سکا تو یقین ہوگیا کہ اب آواز نہیں آرہی ہے۔
میں کمبل ڈالے بستر پر بیٹھا ہوا تھا مگر اب ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ دروازہ کھولوں حالانکہ اندر سے بےچین بھی تھا کہ باہر جھانک کر دیکھوں،بڑی محنت سے ہمت مجتمع کی اور اٹھ کر دروازے تک گیا،چٹخنی پر ہاتھ رکھا اور اسے دبانے ہی والا تھا کہ ہاتھ خود بخود رک گئے۔اب ایک بار پھر پس وپیش میں پڑ گیا۔اسی درمیان دور سے آذان کی آواز آتی ہوئی سنائی دی جس سے ہمت بندھی اور میں نے ایک جھٹکے میں دروازہ کھول دیا۔سر باہر نکال کر ادھر ادھر جھانکا، کہیں کچھ نہیں تھا،اس لئے دوبارہ آکر بستر پر لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگامگر نیند نہیں آرہی تھی پھر اچانک کب نیند آگئی اور میں محو خواب ہو گیا کچھ نہیں پتہ۔میری آنکھ تقریبا 11 بجے کھلی اور گھڑی دیکھ کر گھبراگیا کیونکہ آج میں آفس نہیں جا سکا تھا اور اب اتنی تاخیرہو چکی تھی کہ جانا مناسب نہیں تھا۔
پورا دن یوں ہی گذر گیا،بستی میں کوئی ایسا بھی نہ تھا کہ جس سے میں اس بابت کوئی گفتگو کر سکتا اس لئے سب کچھ میرے اندرہی چلتا رہا۔البتہ شام ہوتے ہوتے میں نےاس کوذہن سےجھٹک دیا۔ ٹہلنے اور رات کا کھانا کھانے باہر نکل گیا کیونکہ میں تنہا رہتا تھا اورمیرااپناگھر شہرسےکافی دورتھا۔رات میں ذرا تاخیر سے میں واپس آیا لیکن واپسی میں بہت تھک چکا تھا اس لئے ٹی وی بھی نہیں آن کیااور نہ ہی لیپ ٹاپ کھولا،کپڑے تبدیل کئے اور سیدھےبستر پر دراز ہوگیا۔
میں سورہاتھااورکوئی آواز بہت دور سےآہستہ آہستہ مجھے جگا رہی تھی۔آواز ایسی تھی جس سےبیدار نہیں ہوا جاتا ہے بلکہ غنودگی آتی ہے۔بارش کےقطروں کی طرح آواز کان میں ٹپ ٹپ ٹپا ٹپ ٹپک رہی تھی۔میں نے کروٹ بدلی اور پھر سوگیا مگر میرا لا شعور بیدارہوچکا تھا اس لئے اس آواز کے رسیلے پن کو محسوس کر رہاتھا اور میرےکان محظوظ ہو رہے تھےجبکہ میں غنودگی کے عالم میں تھا جہاں میں نہ سو رہاتھا اور نہ جاگ رہاتھا بس وہ ایک کیفیت تھی جس میں بڑاسکون مل رہاتھا۔دھیرے دھیرے شعور بیدار ہوا اور میری آنکھ ٹپ سے کھل گئی۔
آنکھ کا کھلنا تھا کہ میرا ذہن آج کے بجائے پہلے کل رات کے واقعے کی طرف چلا گیا۔اب میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ایک طرف آج کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی اور دوسری طرف میرا ذہن کل کی گتھیوں میں الجھا ہواتھا،اس لئے جس طرح نیند کی حالت میں اس مترنم آواز سے محظوظ ہو رہاتھا اب نہیں ہو رہاتھا ہاں یہ محسوس کر رہاتھا کہ اس سے پہلے اس سے میں محظوظ ہو رہاتھا۔آواز کیاتھی،جادو۔جو انسان کے پورے وجود کو اپنے طلسم میں لے لے،آواز کی دوشیزگی سے اندازہ ہو رہاتھا کہ یہ آواز کسی پکی عمر کی عورت کی نہیں ہے۔اس کی کھنک اور سریلا پن خود میں محویت لئے ہوئے تھی۔اس لئے کل رات کی باتیں بہت جلد ذہن سے کافور ہوگئیں اور میں اس کے سحر میں کھو گیا۔
ہاں یہ تو بتایاہی نہیں کہ آواز کو کن لفظیات کا پیرہن ملا ہواتھا۔بات در اصل یہ تھی کہ آواز دور سے آ رہی تھی اس لئے کیا لفظیات تھیں ان کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا البتہ اس کی لہک ایسی تھی کہ کوئی بھی شخص سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجائے۔
میں نے بستر سے اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔آج کوئی ڈر بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔میں ہمہ تن گوش آواز کی طرف متوجہ ہوگیا جس کی ہر لہک اور چہک میری رگ رگ میں اترتی جا رہی تھی۔پتہ نہیں کیوں آج میں نے باہر جھانکنے کی بھی کوشش نہیں کی ۔شاید لاشعورمیں خوف رہاہو لیکن یہ سچ ہے کہ آج میں بے خوف تھا۔کافی دیر تک ہوا کے دوش پر اس نادیدہ دوشیزہ کی آواز اپنے سحر میں مجھے لئے رہی اور پھر دھیرے دھیرے آواز مدھم ہوتی چلی گئی۔جب آواز آنا بند ہو گئی تو میں بستر سے اٹھااور کھڑکی پر جا کر کھڑا ہو گیااور اس کو سننے کی کو شش کرنے لگا کہ شاید کسی طرف سے آرہی ہو مگر ایسا نہیں تھا اور میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
آواز کا جادو مجھ پر ایسا ہوا کہ میں بستر پر آکر لیٹ گیااور اس سے محظوظ ہونے لگا،جتنا میں اس آواز کے بارے میں سوچتا اتنا ہی مجھے وہ قریب محسوس ہوتی۔میں سوچ رہاتھا خدایا یہ کیا مسئلہ ہے ،کل ایسی دلدوز آواز تھی کہ جگر پھٹ جائے اور آج ایسی آواز کی دل و جان لٹ جائے۔میں کل اور آج رات کی دونوں آوازوں کے بارے میں سوچ رہاتھا۔مجھے یہاں شفٹ ہوئے دس دن سے زیادہ نہیں ہوئے تھے،اس سے قبل کبھی کوئی آواز سنی نہیں تھی لیکن آج یہ مسلسل دوسرا دن تھا۔ میرا ذہن ادھر ادھربھٹک رہاتھا مگر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا۔
ہفتے میں مسلسل دو راتیں یہ آوازیں آتی تھیں ایک رات دلدوز آواز اور دوسری رات بڑی مترنم اور لہک وچہک والی۔پہلے دن لگتا کہ کوئی سینہ فگار ہے جس کو دنیا کا سب سے بڑا درد ملا ہے جسے برداشت کرنے کی اس میں سکت نہیں ہے اور وہ اس غم کو زاروقطار اور دہاڑیں مارمارکر ،روروکر بہا دینا چاہتی ہے۔لیکن دوسرے دن ایسی آواز ہوتی کہ جیسے موسم بہار ہو اور نو خیز لڑکی ،گیت کے ذریعہ اپنے عنفوان شباب کے جذبات کا اظہار کر رہی ہو۔خیر دھیرے دھیرے یہ معمول بن گیا اور میں ان دونوں آوازوں کا نہ صرف عادی ہوگیابلکہ انتظار بھی رہتامگر پہلے دن کا نہیں، لیکن مشکل یہ تھی کہ پہلا دن گذرے بغیر دوسرا دن نہیں آتا اس لئے مجبورا اسی کا انتظار ہوتا۔
ہفتہ، دس دن میں دو راتیں میری ایسی گذرتی تھیں جب میری نیند نہیں پوری ہوپاتی۔ پہلی رات آواز کی ہولناکی اور خوف کی بنا پر اور دوسری رات اس کی خوبصورتی ، کھنک اور شوق سماعت کی وجہ سے۔ایک دن میں نے سوچاکیوں نہ ایسا کیا جائے کہ جس طرف سے آواز آرہی ہے جا کر دیکھا جائے تاکہ اس آواز کی حقیقت معلوم ہو کہ کہاں سے آرہی ہے اور اگر کوئی انسان ہے تو بھلا کیوں؟لیکن اس کے لئے میں نے دوسری رات کو منتخب کیاکیونکہ اس کی بات ہی کچھ اور تھی۔خوف سے بے نیاز ہو کر میں نے عزم مصمم کرلیاکہ اس بار بہر صورت مجھے جاناہے اور اس آواز کا پتہ لگاناہے۔اب ایک مسئلہ یہ تھا کہ تنہا جاؤں کیسے ؟مکان کے پیچھے کا جو علاقہ تھا وہ نہ صرف جنگل اور غیر مسطح تھا بلکہ تھوڑا زیادہ آگے جانے پر کھنڈرات تھے ۔میں نے آواز کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھااس لئے مجھے تنہا ہی جاناتھا۔جس رات رونے کی آواز آئی میں دوسرے دن ٹارچ خرید لایااس کے ساتھ ہی ایک رین کوٹ بھی خرید لیا تاکہ جھاڑیوں میں سے گذرنے میں زیادہ دشواری پیش نہ آئے۔اس سے قبل میں دن میں جنگل میں جا کر ایک بار ٹہل آیاتھا اور راستہ بھی دیکھ لیا تاکہ رات میں آسانی رہے۔
آج جلدی دفتر سے واپس آیا اور کھانا کھا کر تھوڑا آرام کرنے لگا تاکہ تازہ دم رہوں لیکن ڈر اس بات کا تھا کہ کہیں سو نہ جاؤں جو پھر ایک ہفتہ کا انتظار کرنا پڑے اس لئے ٹی وی آن کر دیا تاکہ اس کی آواز سے نیند غالب نہ ہو اور تھوڑی دیر بعد اٹھ جاؤں اور میں نے ایساہی کیا۔
اچھا خاصہ وقت گذرگیاتو ٹی بند کیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔دیکھ تو میں لیپ ٹاپ رہاتھامگر میرے کان آواز کی طرف لگے ہوئے تھے۔کافی دیر کے بعدایک آواز گونجی اور میں نے اچھل کر لیپ ٹاپ کو خود سے دور کردیا۔جلدی جلدی رین کوٹ پہنا،ہاتھ میں ٹارچ سنبھالی اور گھر سےباہر نکل گیا۔مجھے کوئی جلدی نہیں تھی، اس کے باوجود میں جلد بازی میں تھا۔جب تیزی سے دو تین زینہ اترا اور اس کی آواز گونجی تو میں نے خود پر قابو پایا اور اپنی چال کو متوازن کر لیا تاکہ گھر سے باہر خدانخواستہ اگر کسی کی نظر پڑ جائے تو اس کو کسی طرح کا کوئی شک نہ ہو۔میں دروازے سے نکلا اور عقبی حصے سے ہوتے ہوئے اس پگڈنڈی پر آگیاجو جنگل کے اندر جاتی تھی۔میں دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہاتھامگر جوں جوں میرے قدم آگے بڑھ رہے تھے اس میں لرزش پیداہورہی تھی۔میں سوچ رہاتھا کہ ایسا کیوں ہے۔میں آگے بڑھ رہاتھامگرآواز قریب نہیں آرہی تھی بلکہ وہ جتنے پر تھی اسی جگہ رکی ہوئی تھی۔جب تقریبا ایک کلو میٹر سے کچھ کم فاصلہ جنگل میں طےکر چکا تو آواز پہلے کے مقابلے تھوڑی دور محسوس ہونے لگی۔اب ایک بار پھر ذہن میں سوال کلبلایا کہ اسے تو قریب ہونا چاہئے لیکن یہ قریب ہونے کے بجائے مزید دور ہو رہی ہے اور قدم رک گئے۔میں سوچنے لگا کہ اب کیا ہوناچاہئےپھر میرے ذہن میں خیال آیاکہ کم از کم ان کھنڈرات تک تو جاناہی چاہئےکیونکہ غالب امکان یہی تھا کہ آواز وہیں سے آرہی ہوگی مگر سمت کا تعین آواز سے نہیں ہو رہاتھا اس لئے میں نے پہلے ہی کھنڈرات کی طرف جانے کا فیصلہ کرلیاتھا اس میں تزلزل اس لئے آیاکیونکہ آواز قریب ہونے کے بجائے دور ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔میں افتاں و خیزاں کھنڈرات تک پہنچ گیالیکن میرے دل کی دھڑکن بہت تیز چل رہی تھی حالانکہ جب یہاں پہنچاتب بھی آواز کی دوری اتنی ہی محسوس ہوئی مگر طرفہ تماشہ یہ کہ میرے یہاں پہنچنے کے چند منٹ بعد آواز بند ہو گئی۔اب ایک بار پھر میں سوچ میں پڑگیا۔اب اگر آگے جانا بھی چاہتاتو اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے لاچار وناچار واپس آناپڑا۔
واپسی کے دوران سردی ہونے کے باوجود میں پسینے میں شرابور تھا۔ایک طرف میرا مقصد نہیں حاصل ہوا تھاتو دوسری طرف آواز بھی بند ہو گئی تھی۔اس لئے میں سوچ میں غرق تھا اور آئندہ کے بارے میں سوچ رہاتھا کہ اب کی بار کیا کروں جو اس آواز کا راز پالوں۔
یہ آواز میرے لئے ایک راز تھی،کسی دوسرے نے کبھی اسے سنا یا نہیں مجھے نہیں معلوم مگر میں اسے سن رہاتھا اور مسلسل سن رہاتھا مگر اس کی حقیقت سے نا آشناتھا۔مجھ پر ایک جنون سا سوار تھا کہ بہر صورت اس آواز کے راز کو جانناہے لیکن ہر چیز اپنی قدرت اور اپنے بس میں تو ہوتی نہیں ہے۔کسی طرح اگر پہنچ بھی گیاتو آواز ہی بند ہوگئی۔اس لئے راستے میں ہی سوچ لیاتھا کہ اگلی بار آواز آنے کا اندازہ لگا کر اس سے پندرہ ،بیس منٹ پہلے ہی گھر سے نکل لوں گاتاکہ آواز کے شروع ہونے سے قبل میں ان کھنڈرات تک پہنچ جاؤں اور پھر آگے کا راستہ طے کروں۔یہی سب سوچتے ہوئے میں گھر پہنچ گیا۔ اجالا اپنے وجود کا احساس کرانے لگا تھا اور پو پھوٹنے ہی والی تھی۔
ایک ہفتہ تک معمول کے مطابق زندگی گذرتی رہی،پہلی رات بین کی آواز سنائی دی اور دوسری رات کے لئے میں تیارپہلے سے ہی بیٹھاتھا۔میں نے اتنےدنوں میں اندازہ لگالیا تھا کہ آواز کب آنی شروع ہوتی ہے اس لئے اس سے تقریبا پندرہ بیس منٹ پہلے ہی نکل لیا۔تعجب کی بات یہ تھی کہ میں کھنڈرات تک پہنچااورکافی دیر تک بیٹھا انتظار کرتا رہا اس درمیان میں نے تین سگریٹ بھی پھونک ڈالے۔میرے کان ہرنوں کی طرح کھڑے تھے،اگر پتہ بھی کھڑکتاتو کھٹ سے میں اس طرف مڑ جاتا۔میں سراپا انتظار تھا مگر آواز تھی کہ آہی نہیں رہی تھی۔دھیرے دھیرے میں پریشان ہونے لگاکہ یہ کیا ہوا ؟معمول کے مطابق آواز کی آمد کافی پہلے شروع ہوجانی چاہئے تھی مگر یہاں تو کچھ ہے ہی نہیں۔انتظار کا وقفہ طویل تر ہوتاگیااور آخر میں نا امید ہوگیا۔میں بیٹھا سوچ رہاتھا اب کیاکروں مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھابالآخر واپس چلا آیا۔
دوسرے دن تھکن اور رات میںنہ سونے کی وجہ سے سر بہت بوجھل تھا۔دفتر میں ہی کسل مندی چھائی ہوئی تھی اس لئے بغیر کھانا کھائےہی سوگیا۔میں گہری نیند میں تھاکہ ایک نقرئی آواز نے مجھے پکارا،میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکی کھڑی تھی جو اپنا چہرہ ڈھانپے ہوئے تھی۔اگر وہ اپنی آواز کی طرح خوبصورت تھی تو مجھے آج بھی اسے نہ دیکھ پانے کا افسوس ہے۔وہ مجھ سے تھوڑا دوری پر کھڑی تھی،اس نے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
یہ دنیا کیاہے ایک جنگل اور انسان کیاہے ایک کھنڈر،اس جنگل میں بہت سے کھنڈر ہیں جہاں سے بہت سی آواز آتی ہیں، آپ ان کے پیچھے کیوں نہیں دوڑتے، ایک صرف میری آواز کے پیچھے پڑے ہیں۔کیا ملے گا آپ کو،اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟اس طرح آواز کے پیچھے پڑنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
اس نے تھوڑا میرے قریب آتے ہوئے کہا۔سنئے اپنا کام دیکھئے،زندگی کو آگے بڑھایئے، اس آواز کے پیچھے مت پڑیئے جس سے نہ کچھ آپ کو ملے گا نہ مجھے۔
پھر ایک دم سے اس کی آواز تیز ہوگئی، ایسا لگ رہاتھا کوئی آسمان ہے جو برس رہاہے، وہ کہہ رہی تھی۔کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میرا وہ درد جو میرے سینے میں ہے، باہر بھی نہ نکلے،اگر ایسا ہوا تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔خدا کے لئے اب ایسی غلطی دوبارہ مت کریئے گا اور واپس جانے کے لئے مڑ گئی۔میں جو ابھی تک اس کی بات خاموشی سے سن رہاتھا اور سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ مسئلہ کیا ہے۔فوراً آگے بڑھا اور اس کو روکنے لگا۔ہاتھ تو لگا نہیں سکتا تھا اس لئے اس کے آگے جا کر کھڑا ہوگیا اور اس سے سوال کر لیا۔مسئلہ کیا ہے اور آپ ہیں کون؟میں نے ایسی کون سی غلطی کردی؟
اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظر مجھ پر ڈالی اور بولی کل آپ نے ہی میرا گلا بند کرکےسینہ فگارکیا۔اگر آپ اس آواز کے چکر میں وہاں تک نہ جاتے تو میں یہاںنہ آتی۔
میں اس کی باتیں سن کر خواب میں اچھل پڑااورمیرے منھ سے نکل گیا۔’’کیا‘‘
میں حیرت زدہ تھا کہ جس کی تلاش میں رات بھر صحرا نوردی کرتا رہا،وہ میرے پاس ہی موجود ہے اور اہم بات یہ کہ پوری مجسم ہے جسے میں دیکھ سکتا ہوں اور چھو کر محسوس کر سکتاہوں۔میں حیرت و استعجاب کامجسمہ بنا کھڑا تھا اور وہ میری طرف دیکھے جا رہی تھی۔میں نے کہااگر آپ وہی ہیں تو مجھے مل کربڑی خوشی ہوئی اور میری تمنا پوری ہوئی لیکن وہ گیت جو آپ نے کل نہیں سنایاتھا، پہلے وہ سنایئے پھر اس کے بعد اور بہت سی باتیں کروں گا۔
اس نے کہا میں گیت سنانےنہیں آئی ہوں،میں آپ کو سمجھانے آئی تھی کہ اس طرح کی غلطی نہ کریں ورنہ مجھےتو پریشانی ہوگی ہی آپ بھی پریشانیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔
میں چاہتا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بولے کیونکہ اس کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی۔اس کی آواز ہی تو تھی جس نے مجھے رات میں بیابان کی خاک چھاننے پر مجبور کیا تھا۔بھلا روتی اورمنھ بسورتی آوازکسے پسند ہے اس لئے جب پہلے دن رونےکی آوازآئی توجانےکے بارے میں سوچاتک نہیں لیکن دوسرے دن اس کی سحر سامری والی آواز نے تو مجھے اپنی لپیٹ میں ایسا لیا کہ میں پورے پورے ہفتہ اس کاانتظارکرتااوراس رات سوتا نہیں کہ مجھے آواز سنناہے اور آج وہ میرے سامنے تھی اس لئے میں چاہتاتھا کہ اس سے وہ گیت سنوں جو وہ گایاکرتی تھی مگر دوری کی وجہ سے میں سمجھ نہیں پاتاتھالیکن اس نے انکار کردیا تھا ،اس لئے میں اب اسی پر قانع ہوگیاتھا کہ وہ بولتی رہے اور میں سنتا رہوں ،خواہ وہ کچھ بھی بولے۔
میں نے پھر اس سے ایک سوال کیا۔ اچھا یہ بتائے کہ ہفتہ میں دو دن ہی کیوں آواز آتی ہے حالانکہ میں ایک دوسرا سوال کرنے جا رہاتھا جو اس سے زیادہ اہم تھا مگر میں نے کسی وجہ سے وہ پوچھنے کے بجایے یہ سوال کردیا۔
وہ جو ابھی تک نگاہیں نیچے کئے ہوئے تھی ،سر اوپر اٹھایااور میری طرف دیکھ کر بولی۔
آپ کو اس میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟
میں نے کہا کیوں کہ میں سنتا ہوں ،اس لئے جاننا چاہتا ہوں ،پتہ نہیں کیسے اور کتنے بدذوق ہیں اس بستی کے لوگ، جو اتنی خوبصورت آواز سنتے ہیں مگر خاموش ہیں، کبھی کسی کو اس سے متعلق بات کرتےہوئے نہیں سنا،مجھے سخت افسو س ہے۔
اب جانے کے بجائے وہ ایسے کھڑی ہوگئی جیسے خود رکنا چاہتی ہو۔اس نے اپنا داہناہاتھ پیٹ پر اس طرح رکھاکہ اس کی ہتھیلی پیٹ کے بائیں طرف پہنچ گئی اور بایاں ہاتھ اٹھاکر ٹھوڑی سے لگالیا، و ہ ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
اس نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا’’اچھا‘‘مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
میں سوچ رہاتھا کہ کوئی جواب دے تاکہ اس کی آواز سن سکوں۔اس لیے میں نے دوسرا سوال کر لیا۔
اچھا یہ بتایئے ایک رات رونےاور ایک رات ہنسنے کی آوازکیوں آتی ہے؟
اس نے اب کی بڑے غور سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا آپ سوال بہت کرتے ہیں۔آپ سے جو کہا ہے اس پر عمل کریئے ورنہ نقصان میں رہیں گے۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتی۔
یہ کہہ کر وہ چل دی۔
میں نے اس کا راستہ روکتے ہوئےکہا ،دیکھئے اگر میرے اس سوال کا جواب نہیں دیں گی تو میں پھر آؤں گا۔ خواہ کتنابڑا نقصان کیوں نہ ہو جائے۔
اس نے خشمگیں نگاہوں سے میری طرف دیکھتےہو ئے کہا۔ٹھیک ہے ،نہ مانئے، ایک بار مری ہوں، دوبارہ پھر مر جاؤں گی مگر اتنا سن لو، اگر ایسا ہوا تو بخشوں گی نہیں۔
اس کی اس دھمکی سے میں ذرا سہما لیکن خاطر جمع کرتے ہوئے میں نے کہا، اچھا اگر بتا دیں گی تو کیا نقصان ہوجائےگا اور ہاں اگر آپ نے بتا دیا تو میں کبھی اس طرف نہیں آؤں گا ،یہاں تک کہ اگر آپ کہہ دیں گی تو یہ جگہ بھی چھوڑ کر چلاجاؤں گا لیکن آپ بتائیں۔ آپ نہیںجانتی ہیںکہ میں رونے کی آواز اور اس کا درد سن کر کانپ جاتاہوں،زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے، ایسا لگتاہے کہ غم نے مجھےبھی اپنی چادر میں لپیٹ لیاہے اگر یہ بین مجھ پر اتنا اثراندازہے تو جوبین کر رہاہے اس کے اندر کتنا دردہوگالیکن دوسرے دن جب شعلہ کی طرح آواز لپکتی ہے تو زندگی رقص کرنے لگتی، وہ ہزار رنگوں میں جلوہ گر ہوتی ہے،ایسا محسوس ہوتاہے کہ زندگی اپنی پوری رعنائیوں اور اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ عود کر آئی ہے۔اس لئےمیں اس بین اور رقص کرتی زندگی کاراز جاننا چاہتاہوں۔
اس نےمجھےگھورتے ہوئے کہاآپ بہت ڈھیٹ ہیں۔
میں بھی اس کی آنکھوں میں جھانک رہاتھا۔میں پہلے ذرا دوری پر کھڑا تھا مگر اب اس کے کافی قریب ہو چکا تھا۔
اس نے کہا یہ آنکھیں تو بہت چھوٹی چھوٹی ہیں مگر ان میں بلا کی ہمت ہے۔اوربڑی خوبصورت بھی،چلو میں ان آنکھوں کااحترام کرتے ہوئے تھوڑا سابتائے دیتی ہوں کیونکہ کہانی بہت طویل ہے لیکن اس کے بعد ضد مت کرنا۔
میں نے کہا یہ توکوئی بات نہیں ہوئی۔
اس نے جواب دیا۔ یہ آخری موقع ہے۔ اس کے بعد میں چلی جاؤں گی پھر آپ جانیں اور آپ کا کام جانے ،میں جس لئے آئی تھی وہ کہہ چکی۔
میں نے کچھ سوچ کر کہا ۔اچھا ٹھیک ہے سنایئے۔
وہ کہنے لگی،زیادہ دن نہیں ہوئے ہم بھی بہت خوشی خوشی زندگی کرتے تھےمگر کچھ ایسا زندگی میں رونما ہوا کہ ساری خوشیاں کافورہو گئیں اس لئے جب خوشی کے دن یاد آتے ہیں تو گیت گاتی ہوں،رقص کرتی ہوں اور جب برے دن یاد آتے ہیں تو روتی ہوں اور بین کرتی ہوں۔
اتنا کہنے کے بعد وہ خاموش ہوگئی۔
میں نے کہا مگر خوشی کس بات کی تھی اور غم کس بات کا؟
اس نے غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ واقعی بہت عجیب انسان ہیں۔میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس کے بعد سوال مت کرنامگر آپ مانیں گے کہاں۔
میں سوچ رہاتھا کہ ابھی بتایاہی کیا ہے، اتناتو بغیر بتائے میں ہی کیا ہر کوئی جان سکتاہے۔
اس لئے میں نے بھی تھوڑی برہمی سے جواب دیا۔
عجیب میں نہیں، آپ ہیں۔بتاتی بھی ہیں اور نہیں بھی۔یہ کون سی بات ہوئی ۔
میری بات کا اثر ہوا اور اس کے لب ایک بار پھر نور کی بارش کرنے لگے۔
اس نے کہنا شروع کیا،دراصل آپ لوگ صرف آوازوں کے پیچھے بھاگتے ہیں،ان کی حقیقت کا ادراک نہیں چاہتے،آپ جو رقص کرتی آواز سنتے ہیں،وہ در اصل خوشی نہیںاورجو بین کرتی آواز سنتے ہیںوہ غم نہیں۔یہ تو زندگی کے دو رنگ ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہ آوازیں خود آپ کے اندر سے آرہی ہیں،جبکہ میری تجسیم آپ کا ہی وجودہے اور آپ ان کو باہر تلاش کرکے مجھےیعنی خود کوہی پریشان کرتے ہیں۔
وہ بولے جا رہی تھی اور میں ساکت وجامد صرف سن رہا تھا
آ پ آواز کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں،اپنے اندر جھانکئے ،اپنے ارد گرد دیکھئے،جنگل تک آنے کی ضرورت نہیںہے۔اس کے سرچشمے آپ کو اپنے آس پاس ہی مل جائیںگے۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔میں اس کی آواز کے سحر میں گرفتار بس اس کی آنکھوں میں دیکھے جا رہاتھا کیونکہ چہرہ چھپا ہوا تھا،ورنہ میری نگاہ بارباربھٹک اس کےلبوں پر ہوتی۔میرے سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا تھا اس لئے میں ملتجی نگاہوںکے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔میں نے کہا لیکن آپ نے یہ نہیں بتایاکہ آپ کون ہیں؟
اس نے برہمی کا اظہار کرتےہوئےکہا،آپ بالکل گدھے ہیں،ابھی تک آپ نہیں سمجھ سکے ۔اتنی دیر سے میں اور کیا بتا رہی تھی۔
آپ یہ سب اپنی خوشی کے لئے پوچھ رہے ہیں ناحالانکہ اس سے آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔میرے وجود سے آگاہی آپ کی زندگی کو کیا موڑ دے سکتی ہے جو اس قدرپیچھے پڑ گئے ہیں۔اگراس سے فائدہ اٹھانا ہے تو میرے وجود کو جاگتی آنکھوں سے تلاش کرنا وہاں ساز بھی ہو گا اور آواز بھی ہوگی لیکن آپ تو رات اور خواب کے عادی ہیںبس زندگی کواسی میں تلاش کرتے ہیں جہاں زندگی نہیںہے۔
میں اس کی اس فلسفیانہ باتوںکو نہیں سمجھ پا رہا تھا اس لئے میرے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہو رہی تھی جسے میں ضبط کر رہا تھا۔لیکن کہاں تک ضبط کرتا آخر پھر ایک سوال کردیا لیکن اس بار میرا لہجہ ذرا سخت تھا۔
تو آپ نہیں بتائیں گی ،بس گول مول باتیں کریںگی؟
اس نے ہونٹ اور بھنویں اس طرح سکوڑیںکہ آنکھیں چھوٹی ہوگئیںاوراوپر والا ہونٹ سکڑ کر ناک تک پہنچ گیااور مٹھیاں بھینچتےہوئےکہا
جس طرح آپ اپنی خوشی کے لئے مجھے پریشان کرتے ہیں اسی طرح میںنے بھی اپنی خوشی کے لئے کسی کی پروا نہیں کی اور خوشی کے اس سر چشمے سے ہمکنار ہوئی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتاکیونکہ میں اپنی خوشی کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی تھی جو کرکے دکھایا۔ایسے لوگوں کو بھی میں نےکنارے کر دیا جن کی میری زندگی میں بڑی اہمیت تھی مگر جب وہ میری خوشی سے متصادم ہوئےتو تاش کے پتوں کی طرح انہیں بھی بکھیر کر رکھ دیا اور اپنی خوشی حاصل کر لی۔اتناکہہ کرایک لمحہ کے لئے خاموش ہوئی اور پھر بولی۔بس اتنا سمجھئے کہ خوشی اور غم زندگی کے دو رنگ ہیں۔جن کے مابین انسان جھولے کی طرح جھولتارہتاہے کسی کو دوام حاصل نہیں۔خوشیاں اور غم انسان کی زندگی میں بہت تھوڑی دیر کے لئے آتے ہیں اور انسان انہیں تا عمر کی خو شیاں سمجھ بیٹھتا ہے اور یہی غلطی میں نے کی تھی۔
اس کے بعد پھر خاموشی چھاگئی ،اس کے طویل سکوت پر میں نے کہالیکن آپ نے تو آوازکا راز بتایا ہی نہیں اور نہ ہی اپنی حقیقت کے بارے میں۔
یہ سنتے ہی وہ چیخ پڑی اور چلا کر بولی۔
نہ آپ خوش رہنا چاہتےہیں اور نہ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ارے سب کچھ تو بتا دیا اب بچا ہی کیا ہے لیکن آپ ایسے کہاں مانیںگےآپ کو تو دلیلیں چاہئے لایئے ادھر ہاتھ اور مجھے چھو کر دیکھ لیجئے۔اتنا کہہ کر اس نے خود اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاکر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہاتھ کے مس ہوتے ہی اس کا وجود ایک دم سے پگھل گیا اور میں ارے ارے کرتا رہ گیاپھر ایک ساتھ رونے اور ہنسنے کی آوازوں سے میرا کمرہ گونج اٹھا۔اس شور سے میری آنکھ کھل گئی ۔میں پسینے سے شرابورتھااور سینہ دھونکنی کی طرح چل رہاتھا۔میں نہیں سمجھ پارہاتھا کہ یہ سب کیا ہوا ہے مگر ایسا لگ رہاتھا کہ ہر طرف سے بس آوازیں ہی آوازیں آ رہی ہیں۔جن سے بچنے کے لئے میںنے دروازہ کھولا اور گھر سےجنگل کی طرف نکل گیا۔اب بھی میں ان آوازوںکے تعاقب میں ہوں،ایسا لگتاہے میں جنگل میںہوں اور وجود کھنڈرہے، ان ہی دونوں میں سے کسی سےاس کی آوازیں نکل کرمیرے کانوں میںآج بھی گونجتی ہیںاورمیںاپنے آس پاس اس کو تلاش کر رہاہوں۔دیکھو!کب تک تلاش جاری رہتی ہے۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد حنیف خان