Skip to content

کچی عورت

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 30
کچی عورت

کاوش صدیقی۔کرا چی ۔پاکستان

جس نے بھی سنا، دانتوں تلے انگلی دبا کے رہ گیا۔ بات تھی ہی نہیں یقین کرنے والی۔ مگر یہاں دروغ بر گردنِ راوی کا معاملہ ہی نہیں تھا، سب سے پہلے انہیں مرزا جی نے انہیں اس کے گھر جاتے دیکھا۔

مرزا جی کھلے ڈُلے انسان تھے۔ شادی شدہ تھے۔ دو لڑکیوں اور دو لڑکوں کے باپ تھے۔ مگر ازدواجی زندگی کے باوجود انہیں باہر کی عورت کا چسکا تھا۔ مرزا یارباش آدمی تھے۔ ان کے گھر کے دروازے ہمیشہ یار دوستوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔ اللہ نے خوشحالی، خوش مزاجی، خوش شکلی تینوں ہی چیزوں سے نوازا تھا۔ اس لئے شوق پالنا اور پیسے ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی نہ کوئی شغل رکھنا تو بنتا ہے لہٰذا مرزا جی اپنی دولت کو ٹھکانے لگاتے رہتے تھے۔

مگر یہ شکور بیگ وہاں کیا کر رہے تھے۔ یہ بڑے اچنبے کی بات تھی۔ شکور بیگ اکثر ان کے پاس آتے تھے۔ ایک ہی محلے میں دونوں کا رہنا تھا۔ سڑک کے اُس پار شکور بیگ کا گھر تھا اور سڑک کے ِاس پار مرزا کی کوٹھی تھی۔ سڑک نے سوسائٹی کو ہی نہیں تقسیم کیا تھا بلکہ طرزِ معاشرت کو بھی عیاں کر دیا تھا۔ مرزا کی ہزار گز کی کوٹھی اور شکور بیگ کا ایک سو بیس گز کا مکان۔ یعنی شکور بیگ جیسے آٹھ مکان مرزا کی ایک کوٹھی میں سما جائیں مگر مرزا نے کبھی کسی دوست کو اس کی حیثیت کا احساس نہیں دلایا۔

یار باش آدمی کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ دوستوں سے ملتا ہے، حیثیت سے نہیں۔

لیکن پھر بھی مرزا کو میڈم نسرین کے گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر حیرت ہوئی۔

دو چار دن کے بعد مرزا کے گھر شکور بیگ آئے۔ عموماً ہفتے کی رات مرزا کے وسیع و عریض گھر کے بیسمنٹ میں محفل جمتی تھی۔ مرزا نے اپنے شوق اپنے گھریلو معاملات سے قطعاً علیحدہ رکھے تھے۔ بیسمنٹ کا راستہ گیراج سے بھی کھلتا تھا۔ اکثر دوست گیراج سے سیدھے بیسمنٹ کی چھ آٹھ سیڑھیاں اتر کے اندر داخل ہو جاتے جبکہ مرزا بیسمنٹ میں گھر کی اوپری سیڑھیوں سے نیچے آتے تھے۔ یہ سیڑھیاں اوپر کے ڈرائنگ روم سے نیچے آتی تھیں۔

مرزا اس وقت مزے سے چسکیاں لے رہے تھے۔ بیچ میں تاش کی گڈی رکھی ہوئی تھی۔ ساتھ میں برف کا برتن دھرا تھا۔ جس کے بیرونی شیشے پر پانی کے ننھے ننھے قطرے نیچے پھسل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ساجد میاں بیٹھے تھے جوکہ کنسٹرکشن کا کام کرتے تھے۔

”آ جاﺅ ادھرہی آ جاﺅ“ مرزا نے انہیں آتے دیکھ کر کہا۔

”کیوں نا ایک ایک بازی ہو جائے“

”ابھی نہیں“ شکور بیگ نے کہا ”آپ لوگ کھیلئے میں دیکھوں گا۔“

”اب کھیلنے میں بھی آ جاﺅ۔ دُور، دُور سے دیکھنے کا کیا فائدہ؟“ ساجد میاں نے تاش کی گڈی پھینٹتے ہوئے کہا۔

”مجھے تاش نہیں آتے“ شکور بیگ نے قدرے خجالت سے کہا۔

”تو کیا ہوا۔ سیکھ لو۔“ مرزا نے قہقہہ لگایا۔ ”تاش کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں چار عدد بیگمات ہیں اور چاروں کی چاروں چپ رہتی ہیں۔“

”صحیح کہا“ ساجد میاں نے گرہ دی۔ ”اور چاروں کو جب چاہیں پھینٹ دیں، اُف تک نہیں کرتی ہیں۔“

مرزا نے قہقہہ مارا۔

”ارے واہ۔ ہم نے تو کبھی تاش کی اس صفت کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ کاش بیگم ہماری ایسی ہی ہوتیں“ مرزا نے ایک مصنوعی آہ بھری۔

”خیر اب ایسا بھی نہ کہو“ ساجد میاں نے کہا ”میں نے تو اتنے برتوں میں کبھی بھابی کی آواز تک نہ سنی بلکہ ہمیشہ وہ کچھ نہ کچھ بھجواتی ہی رہتی ہیں۔“

”آواز کہاں سے سنو گے؟“ مرزا ترنگ میں تھے ۔ ”یہ ساﺅنڈ پروف ہے۔“

شکور بیگ اس نوک جھونک میں کچھ نہ بولے۔ بس مسکراتے رہے۔

مرزا نے پوچھا ”کئی دنوں بعد آئے ہو۔ کہاں رہے؟“

”بس دفتر کے کاموں میں الجھا رہا۔ آپ کو تو پتا ہی ہے پچھلے سال ابو کا انتقال ہوا تھا۔ آبائی مکان بیچنے کا فیصلہ ہوا۔ مگر پہلے وراثت انتقال کے لئے بار بار دفتروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔“ شکوربیگ نے جواب دیا۔

مرزا نے کنکھیوں سے شکور بیگ کو دیکھا۔ مگر بولے کچھ نہیں۔

اتنے میں ملازم لڑکا اندر سے چائے لے آیا۔ اس نے ٹرے میں دیگر لوازمات ان کے سامنے رکھے اور واپس چلا گیا۔

”ارے شکور میاں آ جاﺅ۔ چائے پی لو۔ ہم تو پری کی سہلاٹوں میں گم ہیں۔“ مرزا نے اپنے گلاس کی جانب اشارہ کیا۔

شکور بیگ ہنس دیئے اور ان کے پاس آ بیٹھے۔ وہ چائے کی چسکیاں لیتے رہے۔ ساجد میاں اور مرزا تاش میں مگن ہو گئے۔

مرزا نے دو تین مرتبہ تاش کھلتے ہوئے اچٹتی ہوئی نگاہ شکور بیگ پر ڈالی۔ بظاہر وہ انہیں تاش کھیلتا دیکھ رہے تھے مگر وہ یہاں موجود نہیں تھے۔

”کیا سوچ رہے ہو شکور بیگ؟“ ساجد میاں نے ان کا کندھا ہلایا۔

”اوہ …. کچھ نہیں۔“ شکور بیگ ہڑبڑا کے بولے۔

”کسی کی سوچ میں گم ہو؟“ مرزا نے تاش ایک طرف کرتے ہوئے پوچھا۔ اپنا سگریٹ سلگایا اور گہرا کش لے کر دھواں چھت کی طرف چھوڑا۔

”میں کس کی سوچ میں گم ہوں گا بھلا؟“ شکور بیگ نے ہنس کر کہا۔

مرزا بلکہ ساجد میاں کو بھی صاف صاف محسوس ہوا کہ شکور بیگ کی ہنسی جیسے زبردستی کی ہے۔

”اگر کوئی الجھن، پریشانی ہے تو بتاﺅ“ ساجد میاں نے پوچھا ”آخر دوست کس دن کو ہوتے ہیں؟“

”کوئی بات نہیں“ شکور بیگ نے سنبھلتے ہوئے کہا ”اگر کوئی بات ہوئی تو آپ لوگوں کو ضرور بتاﺅں گا۔“

”اچھا تمہاری مرضی“ ساجد میاں نے کہا اور سگریٹ سلگانے لگے۔

اسی وقت اندر سے لڑکا آیا اور بولا ”بھابی کہہ رہی ہیں کھانا بھجوا دوں؟“

”ہاں بھئی کھانا چلے گا؟“ مرزا نے ان دونوں سے پوچھا۔

ساجد میاں اور شکور نے نفی میں گردن ہلائی۔ شکور بیگ بولے ”بیٹا اگر آسانی ہو تو چائے پلا دو۔“

”جی بہتر“ لڑکا واپس چلا گیا۔

ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ موضوع سخن بڑھتی ہوئی مہنگائی تھا۔ شکور بیگ سب کچھ سنتے گئے مگر گفتگو میں ہوں ہاں کے سوا حصہ نہیں لیا۔

تھوڑی دیر میں چائے آ گئی۔ مرزا کے ہاں کی چائے بہت اچھی ہوتی تھی۔ دو تین بار شکور بیگ نے پوچھا ”مرزا آپ کے ہاں پتی کون سی استعمال ہوتی ہے؟“

مرزا صاحب بولے ”وہی بروک بانڈ۔“

شکور بیگ نے بے ساختہ کہا ”یہی تو ہمارے ہاں استعمال ہوتی ہے مگر ہمارے گھر وہ ذائقہ نہیں جو آپ کے ہاں ہے۔“

مرزا ہنسے اور بولے ”شکور بیگ، چائے صرف دودھ، پتی، شکر سے نہیں بنتی، ان کو تناسب میں چڑھانے اور اوٹانے والے ہاتھ، آنچ ناپنے والی نظر تو نہیں ہے آپ کے ہاں۔“

”واہ کیا بات ہے۔ کیا کہا۔ بھئی کمال کر دیا۔“ ساجد میاں مرزا کے فقرے پر لوٹ لوٹ گئے۔

”اللہ کی قسم مرزا تم نے تو کوزے میں دریا بند کر دیا۔ بھئی کمال ہی سارا تناسب کا ہے۔ واہ بھئی واہ۔“

نجانے شکور بیگ کو کیوں ساجد میاں کا اس طرح لوٹ لوٹ جانا اور داد دینا اچھا نہیں لگا۔ حالانکہ مرزا کی بات ان کے دل میں کھب گئی تھی۔

٭٭٭

اب یہ اتفاق تھا یا کیا تھا۔ مرزا اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے کہ انہوں نے شکور بیگ کو میڈم نسرین کے گھر سے نکلتے دیکھا۔ مرزا بھونچکا رہ گئے۔ میڈم نسرین شہر بھر میں میڈم کے نام سے پہچانی جاتی تھیں۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا شہر کے معروف لوگوں میں تھا جوکہ میڈم کو برداشت کر سکتے تھے۔ ان کے گھر میں بڑی بڑی دعوتیں ہوتی تھیں جن میں خوبرو لڑکیاں میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی تھیں۔ لذت کام و دھن کے ساتھ ساتھ بدن کی نگہتوں اور تشنگی کا مکمل خیال رکھا جاتا تھا اور تمام مہمان تمام لذتوں سے سیریاب ہوتے تھے۔

ان دعوتوں میں کئی بزنس ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ فائلیں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر چلی جاتی تھیں۔ ان تمام معاملات میں میڈم نسرین طاق تھیں مگر اس ماحول اور اس چنٹ اور چالاک خاتون کے گھر شکور بیگ کا آنا جانا مرزا کو ہضم نہیں ہوا۔

جتنی دیر میں مرزا نے یہ سب سوچا شکور بیگ سڑک پار کر کے نکل چکے تھے۔ میڈم نسرین کی کوٹھی کے سامنے مرزا کے وکیل سہراب خان کی کوٹھی تھی جو مرزا کے ٹیکس کے معاملات دیکھتے تھے۔ انہوں نے مرزا سے کہا تھا کہ اگر آپ آ جائیں اور ٹیکس کے پیپرز پر دستخط کر دیں تو صبح ہی صبح بینک میں چالان جمع ہو جائے گا ورنہ پھر سارا دن ہی لگ جائے گا۔ مر زا نے ہامی بھر لی۔ وہ اس وقت واپس جا رہے تھے کہ انہوں نے مرزا شکور کو دیکھ لیا۔

مرزا نے کچھ دیر سوچا پھر میڈم نسرین کی کوٹھی کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ گیٹ پر کھڑا چوکیدار انہیں دیکھتے ہی بانچھیں پھلا کے آگے بڑھا اور بڑے تپاک سے خیر مقدم کیا۔ مرزا نے اپنی گاڑی کی چابی اسے دی اور بولے” سامنے وکیل صاحب کے گھر پر گاڑی کھڑی ہے، ذرا یہاں لا کر پارک کر دو۔“

”جی لایا۔“ وہ مستعدی سے چابی تھام کر گیٹ سے باہر نکل گیا۔

مرزا طویل کارپورچ طے کر کے اندر پہنچے تو میڈم نسرین سامنے ہی بیٹھی تھیں۔

”زہے نصیب، آج مرزا صاحب ہمارے غریب خانے تشریف لائے۔“ میڈم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

میڈم گوری چٹی گدرائے ہوئے بدن کی عورت تھی۔ جس کی شخصیت میں دلکشی اور جاذبیت پر ماہ و سال نے اپنا کوئی خاص اثر مرتب نہیں کیا تھا۔

خوشحالی، بے فکری، خود خوبصورتی کا باعث بن جاتی ہے۔ لاپرواہی کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا ہے۔

”آپ کون سا ہمیں دل سے یاد کرتی ہیں۔“ مرزا نے ہنس کر شکوہ کیا۔

”ہم تو حیران ہیں کہ آپکی ابھی تک ہم میں دلچسپی برقرار ہے، ورنہ اپنے تو بدن کے تارہی ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ جوانی کا خمار سستے سے نشے جیسا ہو گیا ہے۔ چڑھتے ہی اتر جاتا ہے۔ مگر آپ ہیں کہ ہم پر اپنا پیار نچھاور کئے جاتے ہیں۔“

”میڈم اسے محبت اور مجبوری سمجھیں۔“ مرزا ہنسے۔

”کیسی محبت اور کیا مجبوری؟“ میڈم نے اپنا پاﺅں اٹھا کے صوفے پر رکھا جس پر مرزا بیٹھے تھے۔

میڈم کا گورا گداز پاﺅں ابھی تک سفید تھا۔ ہلکی ہلکی نیلی اور سرخی مائل رگیں اس کے پاﺅں کی خوبصورتی کو بڑھا رہی تھیں۔ گورے رنگ پر گلابی نیل پالش کئے ناخن بہت دلکش لگ رہے تھے۔

مرزا نے ذرا سا کھسک کے میڈم کے پاﺅں کو اٹھا کے اپنے زانو پر رکھ لیا اور اس کاپیر سہلاتے ہوئے بولے۔

”خدا کی قسم، تم آج بھی سر سے پاﺅں تک خوبصورت ہو، دل کش ہو، دل نشین ہو۔“

”اچھے لگے رہے ہیں تمہارے گرم گرم ہاتھ۔“ میڈم نے مسکرا کے کہا اور دوسرا پاﺅں بھی اٹھا کے ان کے زانو پر رکھ دیا۔

”اس وقت مجھے فلم لیلیٰ مجنوں کے کردار یاد آ گئے۔ جب مجنوں آ کے لیلیٰ کے پیروں کی تعریف کرتا ہے اور ایک پائل اس کے پیروں میں پہناتا ہے۔ میں پازیب تو نہیں لایا مگر یہ ….“

مرزا نے جیب سے ہزار ہزار کے نوٹ نکالے اور ایک ایک کر کے میڈم نسرین کے دونوں پیروں کی انگلیوں میں اڑسا دیئے۔

”کمال ہے تم سے“ میڈم نسرین زور سے بولی۔

”کمال تو تم ہو سراپا کمال“ مرزا نے کہا۔

میڈم مسکرا دی۔

”او۔ ہاں“ میڈم چونکی۔ ”یہ محبت اور مجبوری والی کیا بات کہی تم نے؟“

”محبت ہے تم سے، کالج کے زمانے سے اور مجبوری یہ ہے کہ میرا اسکریپ کا بزنس ہے اور پرانی چیزوں کی قدر تو اسکریپ ٹریڈر ہی جانتا ہے قدردان کہتے ہیں ابے کباڑیئے۔“

مرزا نے بڑی سادگی سے کہا مگر لہجے میں شرارت ناچ رہی تھی۔

میڈم نسرین نے صوفہ کشن کھینچ کے مرزا کو مارا۔ مرزا نے ہاتھ بڑھا کے کیچ کر لیا۔

”دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا“ مرزا گنگنائے۔

”آواز میں تمہاری آج بھی دلکشی ہے“ میڈم نے کہا ”ایسی آواز پر تو میں مر مٹی تھی۔“

میڈم نے پرانے دن سہانے یاد کئے۔

”ہاں یہ بتاﺅ چائے پیو گے۔ کافی یا پھر اور کچھ؟“ میڈم نے پوچھا۔

”ابھی کچھ اور کا تو موڈ نہیں۔ ہاں چھی سی چائے پلوا دو“ مرزا نے فرمائش کی۔ پھر بڑے عام سے انداز میں پوچھا۔

”یہ ابھی نیلی پینٹ اور چیک والی شرٹ پہنے کون نکلا تھا۔ کچھ جانا پہچانا سا لگا۔ مگر میں پوری طرح پہچان نہیں سکا۔ وہ دور بہت تھا۔“

”ارے وہ شکور تھا۔ نوشین پر مر مٹا ہے۔“ میڈم ہنسی۔ نوشین میڈم کے پاس کام کرنے والی ورکر تھی۔

”اچھا۔“ مرزا نے حیرت سے کہا ”مگر وہ تو کچھ عام سا، غریب سا بندہ لگ رہا تھا۔ نوشین کا ایک وقت کا خرچہ ہی اس کی ساری تنخواہ کے برابر ہو گا۔“

”ارے اس کی پرواہ کس کو ہے۔“ میڈم نے لاپرواہی سے کہا ”اس کی سیٹ اہم ہے اور کوئی بات نہیں۔ اس وجہ سے نوشین نے اس کو ڈھیل دی ہوئی ہے۔ ویسے بھی بے ضرر سا آدمی ہے۔ بس ذرا میں ہی خوش ہو جاتا ہے۔“

”روز آتا ہے؟“ مرزا نے سرسری لہجے میں پوچھا۔

”ارے نہیں مہینے میں ایک آدھ بارہی آتا ہے۔ کبھی پھل، کبھی کچھ کبھی کچھ۔“ میڈم نے کہا ”بالکل گھریلو مرد کی طرح۔ نوشین کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ مفت کا عاشق کس کو برا لگتا ہے۔“

اسی وقت نوشین چائے لے کر اندر داخل ہوئی۔ اس نے سر کے اشارے سے مرزا کو سلام کیا۔

نوشین ہلکے نیلے رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس تھی۔ اس نےہم ر نگ دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوا تھا۔

”بڑی عمر ہے تمہاری ابھی تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا۔“ مرزا نے مسکرا کے کہا اور چائے کا ایک کپ اٹھا لیا۔

نوشین نے دوسرا کپ میڈم کی طرف ٹیبل پر رکھا اور میڈم کو دیکھا۔

میڈم نسرین نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر بولی ”شکور کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ بالکل گھریلو مرد کی طرح تمہارا خیال رکھتا ہے۔“

”ہاں وہ ایسے ہی ہیں“ نوشین مسکرائی۔ نوشین کے نقوش درمیانی تھے۔ وہ حسین و جمیل نہیں تھی مگر اچھی لگتی تھی۔ مجموعی طور پر پرکشش تھی۔ میڈم بہت چھان پھٹک کے اپنے لئے خام مال پسند کرتی تھی اور پھر ایک ماہر جوہری کی طرح انہیں نرمی، گرمی، تراش خراش کر کے خیرہ کرنے والے ہیرے میں بدل دیتی تھی۔ ایسا تراشیدہ ہیرا جس کا کوئی بھی زاویہ دل میں چھید کر کے کھب جاتا تھا۔

مرزا تھوڑی دیر بیٹھ کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ پانچ ہزار کا ایک نوٹ انہوں نے نوشین کو دیا۔ نوشین نے بڑے ادب سے جھک کے انہیں سلام کیا۔

مرزا باہر نکل آئے۔ گیٹ پر چوکیدار نے انہیں دیکھتے ہی بتیسی نکال دی۔ مرزا نے گاڑی کی طرف دیکھا۔ گاڑی چم چم کر رہی تھی۔ چوکیدار نے بہت اچھی طرح صفائی کر دی تھی۔ مرزا نے پانچ سو کا ایک نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھا اور چابی لے کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئے۔

وہ کیا سوچ رہے تھے۔ انہیں خود نہیں معلوم تھا۔ اس لمحے وہ خود کو قطعاً خالی الذہن محسوس کر رہے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر انہیں شکور کا آنا اچھا نہیں لگا تھا۔ اچانک انہیں احساس ہوا کہ وہ ابھی تک ایسے ہی بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ونڈ اسکرین کی طرف دیکھا۔ چوکیدار گیٹ کھولے انہیں حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے اپنا سر جھٹکا اور گاڑی ایک ہلکے سے جھٹکے سے آگے بڑھا دی۔

گھر پہنچتے پہنچتے مرزا کو معلوم ہو گیا تھا کہ انہیں نامعلوم سی الجھن کیوں ہو رہی ہے؟ آدمی اندر سے بڑا سفلہ، بڑا کمینہ ہوتا ہے۔ لاکھ بھید بھاﺅ بتانے کے باوجود ڈنڈی مارتا ہے۔ کچھ کونے ایسے ہوتے ہیں جہاں بندہ صرف اکیلے ہی ہاتھ مارنا چاہتا ہے۔ شاید یہ انسان کے اندر کا لاشعوری احساس ملکیت ہے۔ جو اسے سخی ہونے، دریا دل ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں بخیل ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔

مرزا کو غصہ اور الجھن یہ تھی کہ شکور بیگ نے ایسی جگہسیندھ لگائی ہے جو صرف ان کی تھی حالانکہ وہ بھی وہاں گاہک کی حیثیت سے ہی جاتے تھے اور اسی حوالے سے ان کی آﺅ بھگت ہوتی تھی۔

بالکل ایسے ہی جیسے دیگر امراءو رﺅسا کی ہوتی تھی مگر پھر انہیں شکور بیگ پر غصہ کیوں تھا۔

صرف اس لئے کہ شکور بیگ نے مرزا اطہر کی برابری کرنے کی کوشش کی تھی اور برابری بھی کچھ ایسی کہ شکور بیگ کو وہاں گاہک کی طرح نہیں بلکہ ایک گھریلو مرد کی طرح برتاﺅ کیا جا رہا تھا۔

طوائف کسی بھی درجے کی کیوں نہ ہو۔ اس کے اندر سے گھر کی بھوک نہیں جاتی۔ مرزا نے گاڑی اپنے پورچ میں لگاتے ہوئے سوچا۔

اور پھر خود ہی ہنس پڑے۔ ”سالی طوائف ہے نا۔“

٭٭٭

”کیا سوچ رہے ہیں؟“ رخشندہ نے شکوربیگ سے پوچھاجو اپنی مسہری کے سرہانے سے ٹکاخاموشی سے چھت پر چپکی چھپکلی کو دیکھے جا رہا تھا۔

”سنئے تو سہی“ رخشندہ نے اس کے کندھے کو ہلایا۔

”کیا بات ہے“ وہ ناگواری سے بولا۔

”کچھ نہیں۔“ رخشندہ جیسے اس کے لہجے سے دبک گئی۔ اپنے آپ میں سمٹ گئی۔

شکور بیگ کو احساس ہوا کہ اس کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔ ”معاف کرنا میں اصل میں دفتر کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ایک صاحب نے کام پکڑا دیا ہے، کچھ ٹیڑھا سا۔“

”کوئی بات نہیں“ رخشندہ نے جلدی سے کہا ”ایک تو یہ دفتر والے بھی نا۔ ہر اڑچن والا کام آپ پر ڈال دیتے ہیں۔“

اس نے دھیمے سے شکور بیگ کے گال کو چھوا۔

شکور بیگ کو لہسن کی بو اپنے نتھنوں میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بولا ”ہاتھ تو اچھی طرح دھو لیا کرو۔ لہسن پیاز کی بو ہی آتی رہتی ہے۔“

ذرا دیر کی نرمی اس کے اندر سے جیسے ایک دم غائب ہو گئی۔

رخشندہ نے شرمندہ ہو کر ایک دم، جیسے برقی سرعت سے ہاتھ اپنا پیچھے کھینچ لیا۔ چند لمحے تک وہ کچھ بول ہی نہ پائی۔

حالانکہ وہ بڑے پیار سے اس کے پاس آئی تھی۔ تینوں بچے دوسرے کمرے میں سو رہے تھے۔ وہ برتن دھو کے صبح کے لئے قیمے پراٹھے کے لئے لہسن پیاز ادرک چھیل کے گرائنڈر میں پیس کر آئی تھی۔ اس نے تو اپنی دانست میں ہاتھ اچھی طرح دھوئے تھے مگر شکور کی حس شاید بہت تیز تھی۔

”میں کھانا لاﺅں آپ کے لئے۔“ تھوڑی دیر بعد اس نے پوچھا۔

”ہاں لے آﺅ۔“ شکور بیگ نے قدرے نرمی سے کہا۔

رخشندہ فوراً ہی اٹھ گئی۔ اس نے مٹر چاول، ٹماٹر کی چٹنی بنائی تھی۔ وہ جلدی سے ٹرے میں کھانا لے آئی۔

شکور بیگ نے کھانا شروع کر دیا۔ دو چار لقمے لینے کے بعد اس نے دیکھا کہ رخشندہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”تم نے کھانا کھایا؟“ اچانک شکور صاحب کو احساس ہوا۔

”میں آپ سے پہلے کب کھانا کھاتی ہوں۔“ رخشندہ نے جیسے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔

”شکر گزار ہوں“ شکور بیگ نے کہا اور دوبارہ کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

رخشندہ چپ رہی۔

شکور نے کھانا کھا لیا مگر تھوڑے سے چاول پلیٹ میں چھوڑ دیئے۔ یہ اس کی ہمیشہ کی عادت تھی کہ پلیٹ پوری طرح صاف نہیں کرتا تھا۔ رخشندہ نے ٹرے اٹھائی اور باورچی خانے میں چلی گئی۔

اس نے ٹرے فرش پر رکھ لیا اور وہیں چوکی پر بیٹھ کر پلیٹ کو گھورنے لگی۔ چند آنسو اس کی آنکھوں سے پلیٹ میں گرے۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ سے دو، دو چار، چار کر کے چاول کے آنسو ملے دانے منہ میں ڈالنے شروع کر دیئے۔ چاول تھے ہی کتنے دو ڈھائی لقمے۔ اس نے پلیٹ صاف کر دی۔

مرد کا چھوڑا ہوا گند عورت ہی برداشت کرتی ہے۔ عورت ہی صاف کرتی ہے اور عورت ہی اس گند کو روپ سروپ دیتی ہے۔

رخشندہ نے پلیٹ دھوئی۔ باورچی خانے کی بتی بند کی۔ باہر کا دروازہ بند تھا۔ پھر بھی اس نے دوبارہ احتیاط سے دیکھا۔ وہ دروازہ، کھڑکی کھلا نہیں چھوڑتی تھی۔ پھر اس نے بچوںکے کمرے میں جھانکا۔ تینوں بچے گہری نیند میں تھے۔ سب سے چھوٹے آٹھ سال کے رضوان کے ہونٹوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ تھی۔ پھر وہ ہنسا۔ کروٹ بدل کے سو گیا۔ شاید وہ کوئی خوش کن خواب دیکھ رہا تھا۔

رخشندہ آپ ہی آپ مسکرا دی۔ ”تم جو سپنا دیکھ رہے ہو، اسی طرح تمہیں زندگی جاگتے میں بھی ہنستی مسکراتی ملے۔“رخشندہ نے بیٹے کو دیکھ کر دعا دی۔

یہ اولاد نہیں کھیتی تھی جس پر بہار آنے کے انتظار میں وہ دن رات جتی رہتی تھی۔ رخشندہ واپس اپنے کمرے میں آئی۔ شکوراپنی قمیض اتارے سو رہا تھا۔ وہ نیند کا بہت کچا تھا۔ لیٹتے ہی سو جاتا تھا۔

مگر رخشندہ اس معاملے میں کوری تھی۔ اس کو یہ فن نہیں آتا تھا جو اپنے آپ سے بیگانہ ہو جاتے ہیں وہ نیند میں مست ہو جاتے ہیں۔ اسے اپنی اماں کی بات یاد آ گئی۔ وہ آہستہ سے بڑا بلب بند کر کے چھوٹا بلب جلا کے بنا کوئی آواز کئے دبے پاﺅں بلی کی طرح بنا کوئی آہٹ کئےمسہری کے ایک سرے پر لیٹ گئی اور سامنے دیوار کو تکنے لگی۔

تھوڑی دیر بعد اس نے کروٹ بدلی اور شکور بیگ کی طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔ شکور بیگ کی لمبی چوڑی پیٹ پر اس کی آنکھیں ٹک گئیں۔ شکور بیگ کی گندمی پیٹ پر کندھوں کے قریب سیاہ بالوں کے کچھ گچھے تھے۔ یہ بال یہ گچھے اسے اچھے لگتے تھے۔ تھوڑی دیر وہ شکور بیگ کی پیٹ کو دیکھتی رہی پھر اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے آہستہ آہستہ شکور بیگ کی پیٹ چھونے لگی۔ پھر اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے آہستہ آہستہ شکور بیگ کے بالوں بھرے کندھے کو بہت نرمی سے سہلانے لگی۔ چند لمحوں تک وہ ایسے ہی کرتی رہی۔ پھر دھیمے سے اٹھی۔ اس نے اپنے ہونٹوں سے شکور بیگ کے بالوں کو چھوا۔ اس کے حساس ہونٹوں کو بالوں کی ہلکی ہلکی سی کاٹ محسوس ہونے لگی۔ پھر اس نے ہلکی سی زبان باہر نکالی اور شکور بیگ کے بالوں بھرے کندھے پر پھیرنے لگی۔ اس کی زبان پر بالوں کی کاٹ اور پسینے کی نمکاہٹ محسوس ہونے لگی۔

رخشندہ کا جی چاہا کہ وہ بری طرح شکور بیگ سے لپٹ جائے اور اس کے سارے جسم کو پورے بدن کو اپنی زبان سے اور شکور کے لمس سے محسوس کرے۔ اس کے سارے بدن کو اپنے لعاب سے شرابور کر دے۔

مگر دفعتاً شکور نے سوتے میں ایک عجیب سی آواز نکالی۔ سوتے میں اپنے کندھے پر ہاتھ مارا۔

رخشندہ بلی کی سی تیزی سے اپنے بستر کے کنارے پر جا ٹکی۔

شکور بیگ نے کروٹ لی اور چت لیٹ کر خراٹے لینے لگا۔

درخشندہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی رہی۔

سوتے ہوئے بچے کو پیار کرنے سے بچہ محبت کی حرارت کو محسوس نہیں کر پاتا اور سوتے ہوئے شہر کو پیار کرنے سے جنسی تعلق محبت میں ڈھل نہیں سکتا۔ یکطرفہ تسکین نشے کو دو آتشہ نہیں بناتی۔ تسکین اور نشے دونوں کے لئے دونوں ہی فریق کو محسوس کرنا ہوتا ہے۔ کسی ایک کی بھی بے خبری سے جذبات کے کرنٹ کا بہاﺅ اپنے اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے۔

٭٭٭

کئی دن کے بعد شکور بیگ مرزا کے ہاں پہنچا۔ مرزا حسب معمول ساجد میاں کے ساتھ بیٹھے تاش کی بازی میں مصروف تھے۔ ساتھ میں برف اور دیگر لوازمات موجود تھے۔

”آﺅ شکور بیگ بہت دنوں بعد دکھائی دیئے“ ساجد میاں نے خیرمقدم کیا۔

”بس کچھ مصروف رہا۔ ایک صاحب کا انکم ٹیکس کا مسئلہ تھا۔ اس کی بھاگ دوڑ میں لگا تھا۔ یہ محکمہ جو ہے نا ہمارا بڑے بڑوں کا پِتا پانی کر دیتا ہے۔“ شکور بیگ نے کہا۔

”خیال رکھنا کہیں کسی کا پِتا پانی کرتے کرتے اپنا ہی دل پگھل نہ جائے۔“ مرزا نے ایکے کی بازی مارتے ہوئے کہا۔

”لو بھئی ساجد میاں ہم تو یہ بازی لے گئے۔“

”ارے بھئی قسمت کے دھنی ہو، مٹی میں ہاتھ ڈالو تو سونا بنا دو۔“ ساجد میاں ہنسے۔

”بھئی ہم نے یہ دیکھا ہے کہ سب ہی کچھ پیسہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات قسمت بھی ایسی جگہ لا بٹھاتی ہے کہ عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔“ مرزا نے شکور بیگ کو دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا۔

قسمت تو قسمت ہے صاحب۔ مگر یہ بھی ہرجائی فطرت ہے۔ ان ہی پر عاشق ہوتی ہے جو قیمت اوپر سے اچھی لکھوا لاتے ہیں۔“ ساجد میاں نے کہا اور یخ گلاس کا ایک گھونٹ لیا۔

”تم بھی لو۔“ انہوں نے بوتل کی جانب اشارہ کیا۔

”مجھے تو معاف ہی رکھئے۔ یہ مہنگا شوق ہے۔ ایک بار گلے پڑ جائے تو جان نہیں چھوڑتا۔ ہم جیسے بھلا اس کے ناز پرو ر کہاں ہو سکتے ہیں۔؟“ شکور بیگ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ پتا نہیں کیوں مرزا کے لہجے میں وہ تپاک نہیں تھا جو اس نے ہمیشہ محسوس کیا تھا۔ مرزا کی گفتگو اس کو معنی خیز محسوس ہو رہی تھی۔

وہ تھوڑی دیر بیٹھ کے اٹھ گیا اور دونوں سے اجازت لے کر باہر نکل آیا۔

ساجد میاں نے اس کے جانے کے بعد مرزا کو مخاطب کیا۔ ”مرزا آج تم کچھ اکھڑے اکھڑے سے لگ رہے ہو۔ خیر تو ہے نا؟“

”کوئی بات نہیں۔“ مرزا نے ہنس کر کہا ”آﺅ ایک بازی اور ہو جائے۔“

ساجد میاں نے کچھ نہ کہا۔ تاش پھینٹنے لگے۔

شام کے سات بج رہے تھے۔ شکور بیگ نے فائل کو تھپتھپایا اور اپنی موٹر سائیکل کا رخ میڈم نسرین کی کوٹھی کی طرف کر دیا۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ وہاں پہنچ گیا۔ راستے سے اس نے حسب معمول تھوڑے سے پھل لے لئے تھے۔ پھل خریدتے ہوئے اس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی جو پلاسٹک کے چھوٹے سے شیل میں گلاب کی کلی بیچ رہا تھا۔ اس نے وہ بھی خرید لی اور احتیاط سے اوپر کی جیب میں رکھ لی تھی۔

چوکیدار نے اسے پہچان کے گیٹ کھول دیا۔ اس نے اپنی موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور اندر بڑھ گیا۔ وہ جا کر ڈرائنگ روم سے ملحقہ کمرے میں بیٹھ گیا۔ وہ وہیں بیٹھتا تھا۔ میڈم نسرین کے وہ تمام لوگ جن کا تعلق مختلف کاموں سے ہوتا تھا اسی کمرے میں آتے اور بیٹھتے تھے۔ ڈرائنگ روم میں نہیں بٹھائے جاتے تھے۔ میڈم نسرین کاکاروبار اور ضرورت کو علیحدہ علیحدہ رکھتی تھی۔

وہ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ نوشین آ گئی۔

”کیسے ہیں آپ؟“ اس نے پوچھا۔ وہ ہلکے گلابی رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس تھی۔ دوپٹہ اس نے بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوا تھا۔ ہلکی ہلکی سی یاسمین کی مہک اس سے پھوٹ رہی تھی۔

”میں ٹھیک ہوں“ وہ بولا ”تم کیسی ہو؟“

”ہمیشہ کی طرح تر و تازہ۔ یہاں کسی باسی چیز کی گنجائش کہاں۔“ نوشین نے ہنس کر کہا۔

”یہ میں تمہارے لئے لایا ہوں۔“ اس نے پھل کے لفافے کی طرف اشارہ کیا ”اور یہ صرف تمہارے لئے۔“

اس نے گلاب کی کلی جیب سے نکال کے نوشین کو دی۔

نوشین نے کلی اس کے ہاتھ سے لے کر چوم لی۔ ”تحفے دینے کا قرینہ تو کوئی آپ سے سیکھے۔“

”کیوں دل رکھنے والی باتیں کرتی ہو۔ ہماری دی ہوئی چیزوں کی چند روپوں سے زیادہ کیا اوقات۔“ شکور بیگ نے دھیمے سے کہا۔

”ایسے نہ کہیں۔ جن تحفوں کے ساتھ دل کا تعلق جڑا ہو، ان کی قیمت کا اندازہ کوئی کیا کر سکے گا۔ اس کی قیمت صرف وہی جان سکتا ہے جو محبت سے آشنا ہو۔“

”تمہاری باتوں نے ہی تو مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔“ وہ مسکرایا۔

”چائے پئیں گے یا کھانا کھائیں گے؟“ نوشین نے پوچھا۔

”آج بڑا سناٹا ہے۔ سب کہاں ہیں؟“ شکور بیگ نے چاروں طرف چھائے ہوئے سناٹے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔

”آج غضنفر صاحب کے بیٹے کا ولیمہ ہے۔ سب وہیں گئے ہیں۔ میرے سر میں درد تھا اس لئے نہیں گئی۔“ نوشین نے بتایا۔

”تم آرام کرو پھر۔ میں چلتا ہوں۔“

”ارے نہیں۔“ نوشین نے بے ساختہ کہا۔ ”آج ہم بہت ساری باتیں کریں گے۔“

”اچھا۔“ شکور بیگ مسکرایا۔

”آپ کی آمد مجھے گھر کا سا احساس دلاتی ہے۔ جیسے کوئی صرف میری فکر کرنے والا ہے۔ جس کو صرف مجھ سے مطلب ہے۔“ نوشین نے کہا۔

”آیئے اپنے کمرے میں چلتے ہیں۔“ نوشین نے کہا اور چل دی۔ شکور بیگ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔

شکور بیگ پہلی مرتبہ میڈم کے ساتھ اپنے دفتر میں ملا تھا۔ نوشین اس کے ساتھ تھی۔ انکم ٹیکس کا مسئلہ تھا۔ میڈم نسرین کی شہر میں چار پانچ کوٹھیاں تھیں جنہیں اس نے کرائے پر چڑھایا ہوا تھا۔ کمپیوٹرائزڈ سسٹم نے جائیدادوں کا کھوج لگانا شروع کیا تو محکمہ نے بھاری رقم کا ٹیکس معہ جرمانہ عائد کر دیا۔ میڈم اسی سلسلے میں آئی تھی۔ اس کے ساتھ نوشین بھی تھی۔ اس نے میڈم کی ساری بات سنی۔ چالیس لاکھ کا ٹیکس تھا۔ میڈم نسرین اس چکر میں تھی کہ سب معاف ہو جائے مگر سب کہاں معاف ہوتا ہے۔

”میڈم ایسا نہیں ہو سکتا۔“ شکور بیگ نے کہا۔

”کیوں نہیں ہو سکتا۔ آپ کے قلم میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔“ میڈم نسرین نے چمک کے کہا ”میں درانی صاحب سے مل لوں گی۔“

”ضرور۔“ شکور بیگ نے مسکرا کے کہا۔ ”آپ ضرور ملیں، میری آپ سے کوئی ذاتی پرخاش تو ہے نہیں۔ جیسے بھی کم ہو سکے ضرور کرا لیجئے۔ پیسہ سارا ہو یا آدھا۔ جانا تو سرکاری خزانے میں ہی ہے۔“

میڈم کچھ سوچنے لگی۔ پھر اس نے پرس سے پانچ ہزار کے دو نوٹ نکالے اور ٹیبل پر پھیلے کاغذات کے نیچے رکھ دیئے۔

”یہ واپس رکھ لیجئے۔“ شکور بیگ نے ناگواری سے کہا ”سب کو ایک ہی چھڑی سے نہ ہانکئے۔“

”میڈم آپ نہیں سمجھیں سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔“ دفعتاً نوشین نے کہا اور ہاتھ بڑھا کے نوٹ واپس لے لئے۔

پہلی بار شکور بیگ نے اس کا ہاتھ دیکھا۔ نرم، گلابی آمیز سپید ہاتھ۔ اس نے نظر اٹھا کے نوشین کی طرف دیکھا۔

نوشین اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

شکور بیگ کی نگاہیں نوشین سے چار ہوئیں۔ نوشین مسکرا دی۔

جہاندیدہ میڈم نسرین نے چند لمحوں میں فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنا پرس کھولا اور اپنا وزٹنگ کارڈ اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولی ”چلیں کوئی بات نہیں۔ لیکن آج شام کی چائے تو ہمارے ساتھ پی سکتے ہیں؟“

میڈم کارڈ رکھ کر واپس مڑ گئی۔ نوشین بھی پلیٹ کر میڈم کے پیچھے چل پڑی۔ باہر نکلتے ہوئے اس نے مڑ کے پیچھے دیکھا، شکور بیگ مسلسل ان ہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

نوشین لمحہ بھر کو ٹھہری، مسکرائی اور آنکھوں سے کہا۔ ”میں انتظار کروں گی۔ آﺅ گے نا۔“

وہ آ گیا۔

اور پھر آنے لگا۔ ٹیکس کے معاملات درست ہو گئے۔ میڈم نے یہ ذمہ داری اسی پر ڈال دی۔

”کہاں گم ہیں؟“ نوشین نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا۔

شکور بیگ چونک گیا۔

نوشین کھانے کی ٹرے لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی دھیمی دھیمی مہک اس کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔

وہ جلدی سے سیدھا ہو کے بیٹھ گیا۔ نوشین نے کھانے کی ٹرے اس کے سامنے رکھی۔ وہ کھانا کھانے لگا۔ اس نے لقمہ بنا کے نوشین کی طرف بڑھایا۔

نوشین نے لقمہ منہ میں لے لیا۔ شکور بیگ ایک لقمہ خود کھاتا، ایک لقمہ اسے کھلاتا۔ کبھی نوشین لقمہ بنا کے اسے کھلاتی۔ اس طرح دونوں نے کھاتے کھاتے کھانا مکمل کیا۔

”مجھے لگتا ہے کہ جیسے آپ مجھے مکمل کر رہے ہیں۔“ نوشین نے کہا۔

”مجھے لگتا ہے کہ تم مجھے مکمل کر رہی ہو۔“ شکور بیگ نے کہا۔

دونوں ہی اپنی بات پر ہنسنے لگے۔

”آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں، تھک گئے ہوں گے۔“ نوشین نے کہا۔

شکور بیگ کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹ گیا۔ نوشین اس کے پاس بیٹھ گئی۔

”جب تم میرے پاس ہوتی ہو تو میں خوشبو ہو جاتا ہوں۔“ شکور بیگ نے اس کے دوپٹے کو اپنی ناک سے لگا کے گہری سانسیں لیں۔ ”تم ساری کی ساری خوشبو ہو۔“

نوشین کچھ نہ بولی۔ اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلاتی رہی۔

”یہاں بہت سکون ملتا ہے“ شکور بیگ نے کہا۔

”سکون تعلق سے ملتا ہے۔ آسائشوں سے نہیں۔“ نوشین نے دھیرے سے کہا۔ ”جو چیز یہاں آنے والے کو چاہئے ہوتی ہے وہ ہنگامہ ہے۔ طوفان ہے۔ یہ اے سی، بجلی، پانی، گیزر، اعلیٰ قالین، بہترین کراکری، یہ ہماری دلکشی زیبائی ہر شے کی یہاں قیمت چکانی پڑتی ہے۔ مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف ہمارے وقت کی قیمت دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بدلے میں ہمارے بدن کے ریشے ریشے اذیت سے بنے جاتے ہیں۔“

”پھر یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتی ہو؟“ شکور بیگ نے کہا ”اگر یہ زندگی اتنی تکلیف دہ ہے تو چھوڑ دو۔“

”اے کاش کہ ایسا ہوتا۔“ نوشین نے ٹھنڈی سانس بھر کے کہا ”اس زندگی کی سب سے بڑی قیمت یہ ہے کہ واپسی کا راستہ بھولنا پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ اذیت یہی ہے کہ واپسی کی راہ کھلی ہونے کے باوجود ہم جا نہیں سکتیں۔ ہمارا قفس اتنا وسیع و عریض ہے کہ ہم اس میں بھاگتے بھاگتے پر مارتے مارتے بے دم ہو جاتے ہیں۔ مر جاتے ہیں مگر جا نہیں سکتے۔“

”تم سے ایک بات پوچھوں“ شکور بیگ نے اس کے سر کو اپنے سینے پر جھکا لیا۔

”ہونہہ!“

”تم نے مجھ میں ایسا کیا دیکھا جو مجھے اس طرح سنبھا ل لیا۔ میں تو عام سی شکل و صورت والا بے حیثیت آدمی ہوں۔“

”ہماری اوقات ہی کیا ہے“ وہ ہنسی ”جتنے بھی پاکیزہ بن جائیں پیٹ میں گندگی بھرے گھومتے ہیں۔ گوہ پر بیٹھنے والی مکھی جب چاہے ہمارے چہرے پر پر مارتی چلی جائے۔ پھر کاہے کی شکل کاہے کی امیری؟“ نوشین ذرا ٹھہری پھر بولی ”آپ کے اندر بازاری پن، شہدا پن نہیں ہے۔ آپ ایک گھریلو مرد ہیں جس کو خیال رکھنا آتا ہے۔ آپ کے برتنے میں ایک جھجک ایک ٹھہراﺅ ہوتا ہے جبکہ دیگر اپنی پوری قیمت وصولنے کے لئے بھیڑیئے بن جاتے ہیں۔“

وہ چپ ہو گئی اور آہستہ آہستہ شکور بیگ کے بدن پر ہاتھ پھیرتی رہی۔

شکور بیگ نے کہا ”تم بھی مجھے اچھی لگتی ہو۔ تمہاری نرمی، تمہاری نوک پلک سنوری سنورائی ، دلکشی مجھے بے بس کر دیتی ہے۔ تمہارے کپڑوں سے، بدن سے، بالوں سے خوشبو آتی ہے۔ تمہیں چھونے سے ایک مسرت کا احساس ہوتا ہے۔“

”آپ تو شاعری کرنے لگے ہیں۔“ نوشین ہنسی۔ کمرے میں اس کی ہنسی سے رونق ہو گئی۔ بعض اوقات آواز بھی نقرہ بن کے روشنی پھیلا دیتی ہے۔

”کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ تمہیں اپنی بیوی سے ملواﺅں۔“ شکور بیگ نے ہولے سے اس کے رخسار کو چھوا۔

”کیوں؟“ نوشین نے پوچھا۔

”وہ تم سے ملے گی تو اس کو معلوم ہو گا کہ عورت کیا ہوتی ہے۔ کیسے رہتی ہے۔ کیسے دل موہ لیتی ہے۔“ شکور بیگ نے کہا۔

”ایسا غضب نہ کیجئے گا۔“ نوشین تیزی سے بولی ”کہاں میں۔ کہاں وہ۔“

”کیوں گھبرا رہی ہو کون سی وہ تمہاری سوتن ہے۔“ شکور بیگ کو ہنسی آ گئی۔

”آپ نہیں سمجھیں گے۔“ نوشین نے کہا۔ ”مرد کبھی نہیں سمجھ سکتے ہم عورتوں کے احساس۔“

”بتاﺅ گی تو سمجھیں گے۔“ شکور بیگ نے کہا۔

”گھر کے کھانے میں جو صفائی اور پاکیزگی ہوتی ہے باہر کے کھانے میں لذت تو ہوتی ہے مگر پاکیزگی کا معیار نہیں۔“ وہ چپ ہو گئی۔

”کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ بدن باتیں کرتے رہے۔

٭٭٭

شکور بیگ کے چھوٹے لڑکے کی طبیعت خراب تھی۔ اس کی بیوی رخشندہ بہت پریشان تھی۔ تینوں بچے ہی اوپر تلے کے تھے۔ وہ بیمار بچے کی دیکھ بھال میں تھک جاتی تھی۔ اوپر سے اکیلی ہونے کی وجہ سے کوئی ساتھ دینے والا بھی نہیں تھا۔ ساس سسر مر چکے تھے۔ دونوں نندیں اپنے اپنے سسرال میں تھیں۔ دونوں کے سسرال دوسرے شہر میں تھے۔ اکلوتا دیور سعودی عرب میں اپنی بیوی کے ساتھ خوش تھا۔ خود اس کا اپنا میکہ دوسرے شہر میں تھا۔ ایسے میں وہ خود کو اور زیادہ پریشان محسوس کرتی تھی۔

شکور بیگ آٹھ بجے دفتر پہنچنے کے لئے ساڑھے سات بجے تک گھر سے نکل جاتا تھا۔ دونوں بچوں کو اسکول لانا، لے جانا، گھر کا سودا سلف لانا سب اسی کی ذمہ داری تھی۔ اوپر سے چھوٹے کی طبیعت نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔

وہ چھوٹے کو دوا پلا کے ابھی ذرا دیر کو کمر ٹکانے کے لئے لیٹی تھی۔ نیچے فرش پر بہت سارے برتن گندے پڑے ہوئے تھے جن پر مکھیاں بھنبنا رہی تھیں ۔ کمر میں شدید درد ہو رہا تھا۔ چھوٹا دوا کے زیراثر سو گیا تھا۔

وہ چپ لیٹی گھوں گھوں چلتے پنکھے کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ کتنے ہی دن ہو گئے تھے شکور اس کے پاس نہیں آتا تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ شکور سے پیار کرے، محبت کرے مگر شکور کبھی اس کی طرفپیار بھری نظروں سے نہیں دیکھتا تھا۔ بچے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے چکر میں پیدا ہو گئے تھے۔ اسے بچوں سے کوئی خاص محبت نہیں تھی۔ بس ایک ذمہ داری کی طرح اپنے اپنے معاملات نبھائے جا رہے تھے۔

ایک بار ماں سے اس نے کہا تو ماں نے کہا ”یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ لاپرواہ، اکھڑ، ان باتوں کا سوچا نہ کر۔ تنخواہ تو ساری لا کر دیتا ہے نا۔“

وہ چپ ہو گئی تھی۔ کم گو اور دبو ٹائپ تو وہ ہمیشہ ہی سے تھی۔ ماں ہمیشہ یہی کہتی تھی کہ مرد کو خدمت اور ذائقے سے جیتا جاتا ہے۔ اس میں اس نے کوئی کسر نہ چھوڑی مگر اس کے باوجود شکر کی نگاہوں میں والہانہ پن نہ دیکھ سکی۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی اسے معلوم ہوا کہ شکور کسی طوائف کے گھر جانے لگا ہے وہ بری طرح ڈر گئی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس بارے میں شکور سے کچھ پوچھ سکتی۔ مگر اندر ہی اندر دہل کے رہ گئی۔ سارا گھر سنبھالتی ہوں۔ بچے پیدا کئے۔ ان کی دیکھ بھال، کھانا پکانا، سینا پرونا، کیا نہیں کرتی مگر اس کے باوجود میں محبت کے لائق نہیں۔

رخشندہ کی آنکھیں خشک تھیں مگر اندر ہی اندر آنسو گر رہے تھے۔ جو آنسو اندر جاتے ہیں وہ تیزاب بن کر اندر ہی اندر گلاتے رہتے ہیں۔

چھوٹا نیند میں کسمسایا۔ اس نے اس کو تھپتھپایا۔ وہ دوبارہ سو گیا۔ وہ اٹھی اور برتن سمیٹ کر دھونے بیٹھ گئی۔

برتن دھو کر اس نے گوشت نکالا اور پیاز کاٹنے لگی۔ پھر اس نےمصالحہ تیار کیا اور بھوننے لگی۔ چھوٹا سا گھر مصالحہ بھننے کی مہک سے بھر گیا۔ پھر اس نے مصالحے میں گوشت ڈالا اور چمچ چلانے لگی۔ گوشت میں مصالحہ رچنے لگا۔

اس نے ایک گہری سانس لی۔ اسے ہمیشہ سے سالن کے بھوننے کی ،تازہ پکتی ہوئی روٹی کی مہک اچھی لگتی تھی۔ بس ان خوشبوﺅں کی بری بات یہ تھی کہ یہ فضا میں بکھرتے بکھرتے اس کے کپڑوں، اس کے بدن میں بھی گھس جاتی تھیں۔ مگر اس نے خود میں سے کبھی کوئی علیحدہ مہک محسوس نہیں کی تھی۔ سچ تو یہ تھا کہ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بدن کی مہک بھی ہوتی ہے۔

اچانک چھوٹا رونے لگا۔ وہ چونک گئی۔

٭٭٭

”کیا بات ہے تم بہت چپ چپ ہو۔“ رخشندہ کی پڑوسن نسیمہ نے پوچھا۔وہ چھوٹے کیطبیعت کا پوچھنے آئی تھی۔

”کوئی بات نہیں بس چھوٹے کی وجہ سے پریشان ہوں۔ اتنا تیز بخار چڑھتا ہے کہ آنکھیں الٹ جاتی ہیں۔ سانس اکھڑنے لگتا تھا۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔“ رخشندہ نے کہا۔ اس کی شکل روہانسو ہو گئی۔

”پریشان نہیں ہوتے۔ بچے تو بیمار ہوتے رہتے ہیں۔“ نسیمہ نے تسلی دی۔ پھر بولی ”کیا یہ سچ ہے کہ شکور کسی دوسری عورت کے چکر میں پڑ گیا ہے؟“

رخشندہ نے اسے دیکھا۔ بولی کچھ نہیں۔

”تم کو پوچھنا چاہئے تھا۔“ نسیمہ نے کہا ”ان مردوں کو کھلی چھوٹ دے دو تو دیوانے سانڈ کی طرح جگہ جگہ سینگ اڑا بیٹھتے ہیں۔“

”بھلا مردوں پر بس چلتا ہے؟“ رخشندہ نے اس کی طرف دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔

نسیمہ چپ رہی پھر بولی ”ایک بات کیوں اگر تو برا نہ مانے۔“

”کہو بھلا میں تمہاری بات کا کیوں برا مانوں گی۔“

”ذرا اپنے حلئے پر بھی توجہ دیا کرو۔ تھوڑا بن سنور کے رہو۔ کپڑے بدل لیا کرو۔ جب اس کے آنے کا وقت ہوا کرے۔ مرد کو فقط سلیقے کی ہی نہیں دل داری، آﺅ بھگت ناز نخرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔“

”رہنے دو۔“ رخشندہ نے چمک کے کہا۔ بن سنور کے مردوں کا استقبال کرنے کے انداز ہم کو نہیں آتے۔ میں گھریلو عورت ہوں۔ کوئی طوائف نہیں۔“ رخشندہ گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی۔

نسیمہ چپ چاپ روتی ہوئی رخشندہ کو دیکھے جا رہی تھی۔

گھر کی محدود ر فضا میں لہسن ہلدی کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ یہی بو رخشندہ میں سے اٹھ رہی تھی۔

اس وقت رخشندہ جیتی جاگتی عورت کے بجائے ادرک کی ایک بڑی سی گانٹھ لگ رہی تھی۔

Published inعالمی افسانہ فورمکاوش صدیقی