Skip to content

کوٹ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 108
کوٹ
ابن آدم ۔ مالیگاؤں ، انڈیا

مَیں نے سر اُٹھا کر دیکھا. بابا میرے سامنے کھڑے تھے. اُن کے ہونٹوں پر وہی پُراعتماد مسکراہٹ تھی، جو باہر جاتے وقت اُن کے چہرے پر سجی ہوتی تھی. اُنھوں نے اپنے بوسیدہ کوٹ کے آستین کا بٹن لگاتے ہوئے مجھے دیکھااور کہا، “بیٹے، جلدی سے اپنی پڑھائی ختم کرلو. پھر ہم ساتھ کھانا کھائیں گے. ٹھیک ہے نا. مَیں ابھی آتا ہوں.”
وہ پلٹے اور دروازے سے نکل گئے. مَیں خوش ہوگیا. آج کھانا ملے گا. وہ کھانا لائیں گے اور ہم دونوں!!! میرے منہ میں پانی آگیا. مَیں نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا. یہ پسلیوں سے گھرا ہوا تہہ تک خالی کنواں نجانے کس دن بھرے گا! اکثر دل میں آیا کہ مَیں اسے ایک دفعہ تو بھر ہی دوں مگر باباکے بھوکے رہ جانے کا خیال میرے ہاتھوں کی زنجیر بن جاتا. بابا… میری نظریں پھر دیوار کی طرف اُٹھیں. کوٹ کھونٹی پر ٹنگا ہوا تھا. خوف کی ایک لہر پیروں سے ہوتی ہوئی کنویں سے گزری اور اُبکائی بن کر میرے گلے میں اٹک گئی. مَیں نے بے چینی کے عالم میں کھڑکی سے جھانکا. برف روئی کے گالوں کی طرح فضا میں اُڑ رہی تھی.
میری حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی اور مَیں دروازہ سے باہر کی طرف لپکا. مَیں نے چاروں طرف دیکھا. وہ گلی کے نکّڑ پر نظر آئے. آسمان سے گرتا ہوا سرد عذاب اور یہ برفیلی ہوائیں کہیں بابا کو ٹھٹھرا نہ دیں! کنویں کے سانپ کہیں اُنھیں ڈس نہ لیں! کہیں اُنھیں دوبارہ غش آگیا تو!!؟ نہیں نہیں. بے ساختہ میرےہاتھ اُٹھے. چیخنے کے لیے میرا دہانہ کھُلا. مَیں نے زور بھی لگایا مگر آواز گلے میں گھُٹ کر رہ گئی اور وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے.
مَیں کیا کروں!؟ مَیں کیا کروں!؟ برف اور کئی انجان نظریں میرے بدن پر چُبھنے لگیں. مَیں نے اُن پر سر سری سی نظر ڈالی. ان میں میرے لیےغم اور افسوس تھا. گمان ہوا کہ میرے اُٹھے ہوئے ہاتھ اور کھلے ہوئے دہانے کودیکھ کر وہ مجھے دیوانہ سمجھ رہے ہیں. شرمندگی کے احساس نے میرے ہونٹ بھینچ دیئے اور اُٹھے ہوئے ہاتھ نیچے گرنے لگے.
مَیں پلٹ آیا. بابا…میری نظریں پھر کوٹ پر پڑیں. خوف، دوبارہ بے بسی کی موج بن کر میرے دل میں لہریں لینے لگا. مَیں نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ لیں. دیکھا کہ بابا راہ کے کنارے پڑے ہیں. راہگیروں نے اُنھیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے. اُن کا چہرہ زرد پڑ چکا ہے اور ہونٹوں پر سفیدی پھیلی ہوئی ہے جبکہ سر کے پیچھے کی سفید برف پر گاڑھا سُرخ خون پھیلتا جارہا ہے. میرا دل اِسے حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوا. اُنھیں سانسیں لینے میں دشواری ہورہی تھی. پھر اُن کا سر ڈھلک گیا. اچانک کسی نے کہا، “ہٹو، ہٹو سامنے سے. یہ کار حادثہ ہے. پولس آرہی ہے. ” میرے دل نے کہا،”نہیں یہ بس ایک خیال ہے. بابا نے کہا تھاکہ وہ جلد ہی لَوٹ آئیں گےاور ہم ساتھ کھانا کھائیں گے.”
میری ہتھیلیاں گالوں سے چپکنے لگیں. مَیں نے دیکھا کہ یہ آنکھوں سے نکلنے والے گرم قطرے تھے. کنویں کے سانپ، اژدھوں کی شکل اختیار کررہے تھے. ان کی پھنکار دل کو لرزاں کررہی تھی. مَیں جانتا تھا کہ وہ بے قابو ہورہے ہیں اور جلد ہی ان کے زہریلے دانت میرے ذہن میں اُترنے لگیں گے پھر مَیں بے چین ہو جاؤں گا. اس دائمی مرض کا عارضی تدارک لازمی تھا.
میری نظریں پھر کھونٹی کی طرف اُٹھیں. کوٹ اب بھی وہاں موجود تھا. نہ چاہتے ہوئے بھی میرے ہاتھ بڑھے. اگلے ہی لمحہ وہ میرے ہاتھوں میں تھا. اُسے پہنتے وقت آنکھوں سے بہنے والے قطرے زمین پر گر کر مٹّی میں جذب ہورہے تھے. مَیں نے آستینوں میں ہاتھ ڈالے اور وہ کاندھوں پر آٹِکا. ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی پہاڑ میرے شانوں پر آپڑا ہو. بوجھ تلے میرے کاندھے ٹوٹنے لگے. پیر کانپ اُٹھے. پل بھر کے لیے اپنے پیروں کے نیچے کی زمین لہراتی ہوئی محسوس ہوئی. یہ بوجھ مجھے زمین پر چِت کر ہی دیتا اگر مَیں نے گٹھنوں اور ایڑیوں پر خود کو نہ سنبھالا ہوتا. لرزتی ہوئی اُنگلیوں سے جب مَیں کوٹ کے بٹن لگانے لگا تو مجھے شدید گھٹن کا احساس ہونے لگا. کوٹ دائیں اور بائیں سے میری پسلیوں کو بھینچ رہا تھا. پسلیاں میرے پھیپھڑوں میں دھنسی جارہی تھیں. یوں محسوس ہورہا تھا کہ بس ابھی میری پسلیاں میرے دل کو چھید دیں گی اور کنواں جوہری بم کی طرح پھٹ پڑے گا. اس احساس کے ساتھ ہی اچانک ایک سوال میرے ذہن میں اُبھرا کہ اس جان لیوا کوٹ کو پہن کر بابا آخر کس طرح مسکراتے ہوں گے؟

Published inابن آدمافسانچہعالمی افسانہ فورم