Skip to content

کن فیکون

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 63
کُن فیکون
راجہ یوسف، اننت ناگ، کشمیر، انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری فریاد رنگ لائی اور دو فرشتے میرے پاس بھیج دیئے گئے۔ مجھے مریخ سے اُٹھایا گیا۔ یہ مریخ کے ریتلے میدانوں میں انسان کا نیا کارنامہ تھا۔ صرف ایک ہزار سال پہلے جب ہم مریخ پر رہنے آیئے تھے تو یہاں پتھریلی زمین اور رتیلے میدانوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پانی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ ہم نے پتھریلے حصے میں آگ پیدا کر لی۔ آگ سے بھاپ اور بھاپ سے پانی بنا لیا۔ پھر رتیلے میدان میں مصنوعی بارش سے سبزہ اُگ آیا۔ یہ کام ہم پانچ ہزار سال پہلے ہی چاند اور دوسرے کئی سیاروں پر کر چکے تھے۔ تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب پانچ ہزار سال پہلے زمیں انسان کے لئے کم پڑ گئی اور ہماری وجہ سے رہنے کے قابل بھی نہ رہی تو ہم نے چاند ستاروں پر کمندیں ڈال دی تھیں۔ ان کو بھی آلودہ کرکے تب مریخ ہمارا مسکن بن چکا تھا۔ یہاں بھی اب ہم ایک ہزار سال سے رہ رہے ہیں لیکن اب لگ رہا ہے کہ مریخ کے بعد ہمیں کسی نئی کہکشاں کی کھوج میں سر گرداں ہونا پڑے گا۔ جب زمین کے اندرچھید پر چھید کرکے ہم نے ہزاروں میلوں کی مسافت کو کم کردیا، جس سے براعظموں کی دوریاں مٹ گیں۔ ہم نے بحرِالکاہل کے سمندر کو افغانستان کے خشک پہاڑوں سے بھروا دیا۔ انٹارکٹکا کے یخ بستہ پانی سے افریقہ کے ریگستان نخلستان میں بدل دیئے تو یہ انسانی ترقی کی معراج تھی۔ زمین کے بعد چاند، خلاء ، اڑوس پڑوس کے سیاروں کو ہم نے اپنا مسکن بنایا۔ کہکشاں کو سیڑھیوں کی طرح استعمال کیا اور مریخ تک جا پہنچے۔
دو فرشتے مجھے مریخ کی مخملی گھاس سے اٹھا کرمصنوعی بادلوں میں غوطہ دینے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا تن اُجلے بادلوں کی طرح شفاف اور سفید دکھنے لگا۔ میں اپنے آپ کو ہلکا ہلکا سا محسوس کر رہا تھا۔ پھر اوپر جا کر ہم آسمان کی نیلگوں وسعتوں میں کھو گئے۔ آگے جا کر کہیں روشنی کے رنگین ہالے جھلمل جھلمل کرتے میرے وجود کو روشن کر گئے تب میں خود کو دیکھ پایا۔ پھر نورانی کرنیں ہماری سیڑیاں بنیں اور اب جس مقام یا منزل پر ہم پہنچ گئے تھے اس کی تعریف یا تخصیص بیان کرنے میں میری زبان گنگ تھی۔ بس ایک خوشگوار سکوت تھا۔ روشنیوں کا فرش تھا۔ روشنیوں کے دبیز پردے تھے اور سامنے سنہری مکیشی روشنی میں ہلکی نیلاہٹ کے ساتھ ساتھ قوسِ قزاح جیسے رنگ چھن چھن کر برس رہے تھے۔ جن کی طرف دیکھنا صرف محال ہی نہیں ناممکن لگ رہا تھا۔ میں نے ہزار بار دیکھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار میری نظریں ان نورانی کرنوں سے چندھیا جاتی تھیں۔ یہاں فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کچھ کھڑے تسبیہ میں مشغول تھے۔ کچھ آ رہے تھے اور کچھ جا رہے تھے۔ ہر طرف پرُسکوں اور راحت بخش ماحول تھا۔ جس میں ، میں بذاتِ خود موجود تھا اور سوچ بھی رہا تھا۔ سامنے نورانی روشنی سے ایک آواز آئی جو میری سماعت کو بہت خوشگوار لگی۔
’’
اے آدم یہ تیری فریاد کیسی ہے؟ ایسی فریاد تو اب عنقا ہے۔ تم تو اب دعا کرنا بھی بھول چکے ہو۔ پھر تیری یہ فریاد کیسی ؟ جونہی تمہاری یہ فریاد ہم تک پہنچی۔ ہم نے اسی وقت تم کو اپنے دربار میں طلب کیا ہے۔ ا ب بتاوٗ کیا تم ہمارے روبرو آ کر بھی ایسی ہی خواہش رکھتے ہو یا تم نے اب اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔؟‘‘
’’
نہیں میرے مولا۔ میرے ارادے میں کوئی تغیر، کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ میری اب بھی یہی فریاد ہے۔‘‘
’’
تم نے تو کب سے میری حکمِ عدولی شروع کر رکھی ہے۔ اپنی حکمت اور اپنی شریعت نافذ کردی ہے۔ ساری کائنات کو اپنی میراث سمجھنے لگے ہو۔ اپنی تحقیق اور ترسیل پر نازاں ہو۔ اپنی نئی نئی تحقیقات کے لئے کوشاں ہو۔ ساری کائنات کو تسخیر کرنے کی دُھن میں میرے ساتھ ساتھ خود کو بھی بھول چکے ہو۔۔۔۔۔ اور آج تیرے لبوں پر یہ کیسی حیران کن فریادہے۔؟‘‘
’’
میرے مولا۔۔۔۔۔ میں، ہم انسانوں کے لڑائی جھگڑے اور مرنے مارنے کی بات نہیں کر رہا ہوں، مذہبی تعصب، فرقہ پرستی، سماجی نابراری ، اونچ نیچ کی غیر محذبانہ لڑئیاں، اُن سے بھی پریشان نہیں ہوں۔ یہ تو ہر دور میں ہوتا آ رہا ہے۔ ہزاروں لاکھوں برسوں سے ایک انسان دوسرے انسان پر اپنی برتری دکھا رہا ہے۔ اپنے ظلم سے دوسرے کو دبا رہا ہے۔ اس بھاگ دوڑ میں زمین کم پڑ گئی تو ہم چاند پر پہنچ گئے۔چاند چھوٹا پڑ گیا تو ہم نے کہکشاں کو پیروں تلے روندا۔ ہم نے چاند تاروں، مریخ یہاں تک کہ سورج کی طرف بھی قدم بڑھائے۔ مجھے ان چیزوں کی بھی پروا نہیں ہے۔ میں تو بس ایک بات کے لئے پریشان ہوں۔ آپ نے جو اپنی اس کائنات کو ایک جہت دی تھی۔ ایک محور دیا تھا۔ جس کے گرد تیرا یہ سارا کارخانہ چل رہا تھا۔ ہم نے اسے آلودہ بنادیا۔ اس کا توازن بگاڑدیا۔ یہاں کی کوئی بھی چیز اب اپنے راستے پر نہیں چل رہی ہے۔ سب الٹا پڑ رہا ہے۔ ہم نے سب سے پہلے آپ کی دی ہوئی زمین کو خراب کردیا ہے۔ پھر چاند، پھر تارے اور اب مریخ۔۔۔۔ تمہاری ساری کائنات کا حقیقی توازن بگڑ رہا ہے۔ اسے جو نتائج سامنے آ رہے ہیں وہ سب بھیانک ہیں۔ خوفناک ہیں۔ اب ہم مر نہیں رہے ہیں، انسان ہزاروں سال تک جی رہا ہے۔ ہمارے اعضاء کٹ رہے ہیں تو ہم منٹوں میں پیوند کرکے نئے اعضاء بنا لیتے ہیں۔ بیماریاں اور طاعون ہم سے ڈر کے کہیں اندھیرے غاروں میں چھپ گئے ہیں۔ کوئی مریخ پر گھر بنا رہا ہے تو کوئی چاند پر، کوئی خلاء میں چھپ رہا ہے تو کوئی سمندر میں۔ لیکن ہم جئے جا رہے ہیں۔ اب ہم اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ تمہاری ساری کائنات چھوٹی پڑ رہی ہے۔ سورج قمر اور تارے اپنا محور بدل رہے ہیں۔ سمندروں کے سوتے خشک ہو گئے ہیں۔ آسمان سمندروں سے زیادہ پانی برسا رہا ہے۔ زمین اب اناج کے بدلے سونا چاندی اور ہیرے اگل رہی ہے۔‘‘
’’
بس بس اب تیرا بہت سن لیا ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو جو کچھ تم میری کائنات میں کر رہے ہو، میں اے غافل ہوں۔ غافل تو تم لوگ ہو۔ میں دیکھ بھی رہا ہوں اور سن بھی رہا ہوں۔ اب تم مختصراََ بتا دو تم کیا چاہتے ہو۔‘‘
’’
میرے مولا میں تو اتنا سمجھ گیا ہوں کہ گردشِ شام وسحر یوں ہی نہیں پسِ پردہ تو کوئی ذات لگے بس وہ ذاتِ واحد ، وہ حقِ معبود اپنی کائنات کو پھر سے اپنی ڈگر پر لائے۔ یہ پھر سے اپنے محور پر گھومتی رہے اس کا بگڑا توزن پھر سے بحال ہوجائے۔‘‘
مجھے اپنے ارد گرد لطیف سے تبسم کا احساس ہو رہا ہے۔ جیسے میرے مولا نے میری بات پر ہلکا سا مسکرا دیا ہو۔ میرے انگ انگ میں مسرت اور جوش بھر گیا۔ میں نے جذبات میں آ کر کہہ دیا۔
’’
میرے مولا اب آپ نئے سرے سے ہی کُن کہہ دیجئے۔۔۔۔‘‘
تھوڑی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔ میں نے محسوس کیا میرے ارد گرد آتے جاتے اور تسبیہ میں مشغول سارے فرشتے رک گئے ہیں۔ میرے ساتھ کھڑے دونوں فرشتے حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ جیسے قوسِ قزا ح کے رنگ بکھرا گئے ہوں۔ نورانی فرش ہل رہا ہو۔۔۔۔۔ روشنیاں سارے ماحول کو چکا چوند کر رہی ہیں اور مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے مولا نے’’ کن ‘‘ کہہ دیا ہو اور’’ فیکون ‘‘ کا عمل جاری ہو گیا ہے۔ میں تحلیل ہو رہاہوں۔ لیکن تحلیل ہوتے ہوتے مجھے اپنی فریاد پر افسوس ہو رہا ہے۔
کیا پتا اِس کن فیکون کے بعد اب جو نئی کائنات وجود میں آئے گی اس میں آدم کا ظہور ہو گا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔ اب جیسی بھی تھی یہ کائنات میری تھی اور میں اس کا واحد وارث تھا۔

Published inراجہ یوسفعالمی افسانہ فورم