Skip to content

کنڈ

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر : 46

کنڈ

گل ارباب پشاور۔ پاکستان

وہ گل مینا کو دفنا کر گھرواپس نہیں آنا چاہتا تھا کیونکہ گھر کے ہر کونے میں اس کی یادیں چھپی تھیں اور کچھ یادیں کند چھری کی طرح قسطوں میں انسان کو ذبح کرتی ہیں اسے اب معلوم ہوا تھا دونوں بیٹوں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر یوں سہارا دے رکھا تھا جیسے باپ دو قدم بھی ان کے بازوں کے بغیر نہیں چل پائے گا پچپن سال کی عمر میں پہلی بار وہ خود کو بہت بوڑھا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔کبھی کبھی جب گل مینا اپنی گہری نیلی آنکھوں میں شرارت کی چمک بھر کر کہتی تھی ” آپ بوڑھے ہوگئے ہیں خان جی اب حضاب لگانا شروع کر دیں ورنہ ۔۔۔یاد ہے نا اس دن والی بات ۔“ وہ کیسے بھول سکتا تھا اس دن وہ بن سنور کر شادی میں جانے کے لیے تیار ہوئی تھی کہ منیاری کا سامان بیچنے والی عورت اندر آگئی چند منٹ گل مینا نے چیزیں دیکھنے میں لگائے اتنے میں وہ تیار ہو کر اندر سے نکلا تو منیاری والی جو خود ادھیڑ عمر کی عورت تھی جھٹ اسے سلام کر کے گل مینا سے پوچھنے لگی ” یہ سسر ہیں تمہارے ؟“ بس پھر کیا تھا زیب خان نے غصیلے انداز میں کھلکھلا کر ہنستی گل مینا کو گھورا اور عورت کو گھر سے نکلنے کا اشارہ کرتا ہوا واپس کمرے میں چلا گیا ۔” خفا کیوں ہوتے ہو خان جی ۔۔۔خوش ہوا کرو کہ جواں بچوں کی ماں ہو کر بھی آپ کی محبت نے مجھے جوان رکھا ہوا ہے ۔“ وہ منہ پھلائے آئینے میں داڑھی مونچھوں میں سفید بال گنتا رہا وہ بہت کہتی رہتی کہ بال رنگنا شروع کر دیں لیکن زیب خان نہیں مانتا تھا ۔اچانک جانے کس کی بری نظر اس کی ہنستی مسکراتی پرسکون زندگی کو لگی کہ ۔۔۔ شدید بخار اور پھر ڈاکٹرز کے لکھے ٹیسٹ کا رزلٹ ان کی زندگی کی ساری خوشیاں کھا گیا ۔۔بون میرو کینسر کی تشخیص تو ہوگئی لیکن گل مینا کے علاج اور تکلیف کی شدت نے زیب خان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا آئے دن سرخ اور سفید خون کی بوتلیں چڑھتیں ہفتوں اسپتالوں کے چکر لگانے میں گزرتے باوجود اس کے کہ وہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا وہ کمزور ہوتی جا رہی تھی اس کی گل مینا تو زندگی سے بھرپور تھی یہ اسپتال کے بستر پر لیٹا ہڈیوں کا ڈھانچا تو کوئی اور تھا چمکتی نیلی آنکھوں کی جگہ دو گڑھے اور سنہری مینڈھیوں میں گندھے بالوں کی جگہ گنجا سر۔۔ تیر جیسی خم دار بھنویں جو سیدھا اس کے دل پر وار کرتی تھیں اور گھنی پلکیں جن کے سائے تلے کبھی اس کی ساری تھکاوٹ اتر جایا کرتی تھی اب جھڑ چکی تھیں زیب خان نے گھر کے سارے آئینے چھپا لیے تھے وہ ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس ڈر سے نہیں دیکھتا تھا کہ کہیں وہ یہ نہ پوچھ لے ” خان جی آپ کی آنکھوں میں نظر آتی یہ بدصورت عورت کون ہے ؟“ ۔۔۔وہ جو کبھی اس کے شاداب بدن کو سنگ مرمر سے تراشے ہوئے تاج محل سے تشبیہہ دیتا تھا اب خزاں رسیدہ درخت کی سوکھی ٹہنی جیسا ہوگیا تھا وہ دکھ سے اسے دیکھتی اور کہتی ” شرمندہ ہوں خان جی تمہاری امانت میں خیانت ہوگئی “ وہ کہتا ” میں فقط بدن کا نہیں تیری روح کا بھی شیدائی ہوں وہ اپنی روح کے رسیا کو کیسے بتاتی کہ اب روح کی رحصتی کا وقت بھی تو قریب ہے “ بیماری دیمک بن کر اس کے شباب کے ساتھ ہر خواب کو بھی چاٹ گئی تھی گل زیب تڑپ کر اس کا ہاتھ تھامتا تو رگ و پے میں درد کی لہریں دوڑنے لگتیں جذبات کی حرارت سے عاری وہ ٹھںڈا ہاتھ اسے اپنے داجی کے اس لمس کی یاد دلاتا جو قبر میں اتارتے ہوئے اس کی لرزتی انگلیوں کی پوروں میں رہ گیا تھا۔۔۔ دو سال تک وہ شوہر کی محبت اور پیسے کی طاقت سے بیماری سے لڑتی رہی لیکن جب دونوں چیزیں کم ہوتے دیکھیں تو اس نے بیماری کے سامنے ہار مان لی اور وہ مر گئی ۔۔۔دونوں بیٹوں اور بہوؤں کے چہروں پر اطمینان تھا گل مینا کی زندگی بینک میں محفوظ پیسوں میں سے ان کے حصے کم کر رہی تھی ۔۔ ہاں بیٹی بہت رو رہی تھی رازدار سہیلی جو چلی گئی تھی زیب خان کو لگا جیسے بھری دنیا میں وہ بالکل اکیلا ہوگیا ہے ۔۔۔اپنے کمرے میں آتے ہی اسے گل مینا کی رنگ برنگی چوڑیوں کی جلترنگ سنائی دیتی ۔۔۔بستر کی چادر ٹھیک کرتے ہوئے وہ اکثر ٹپے گنگناتی رہتی اور زیب خان مسکراتے ہوئے سنتا رہتا ۔۔۔جب سے تینوں بچوں کی آگے پیچھے شادیاں کی تھیں انہیں لگتا تھا جیسے شادی کے نئے دن واپس آگئے ہوں بے فکری والے دن ۔۔۔دونوں بہوؤں نے اسے گھر کے کام کاج سے فارغ کر دیا تھا اب وہ کبھی مہندی لگاتی کبھی دنداسہ اور کبھی بالوں میں موتیے کی کلیوں کا گجرا سجا کر زیب خان کا انتظار کرتی اور بہوویں اسے دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکراتی رہتیں ۔” داجی کھانا کھا لیں ۔“ بڑی بہو پطنوس لا کر اس کے سامنے میز پر رکھ چکی تھی اس کے جانے کے بعد زیب خان نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسے وہ پطنوس یاد آیا جو گل مینا لاتی تھی شیشے کے نفیس برتنوں میں رکھے کھانے کے ساتھ ٹماٹر اور سبز مرچ کی چٹو میں پیسی گئی چٹنی ٬ دہی کا رایتہ ٬ سلاد ٬ اور ایک گوشت کے سالن کے ساتھ بھنی ہوئی سبزی ضرور ہوتی تھی گرمی میں لسی کا جگ اور سردی میں چائے کی چینک بھی لازمی ساتھ ہوتی تھی اور آج پلاسٹک کی پرانی پلیٹ میں صرف موٹے چاولوں کی کھچڑی سامنے پڑی اس کا منہ چڑا رہی تھی ۔۔۔گلے میں پھنسے آنسوؤں کے پھندے کو بدمزہ کھچڑی کے چھوٹے چھوٹے نوالے اندر دھکیل رہے تھے صحن میں اس کی پسندیدہ فرائی مچھلی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور وہ سب ہنستے بولتے کھا رہے تھے تھوڑی دیر بعد دوسری بہو اندر آکر برتن لے گئی اس نے یہ بھی نہ پوچھا کہ ” داجی ! آپ نے کھانا صرف چکھا ہے کھایا کیوں نہیں ؟“ گل مینا کہتی تھی ” خان جی پلیٹ خالی کریں ورنہ میں منہ میں نوالے ڈالنے لگوں گی ۔“ اور وہ شرارت سے منہ کھول کر کہتا اسی لیے تو نہیں کھا رہا کہ جو مزہ پکاتے ہوئے تیرے ہاتھوں میں سے کھانے میں شامل ہونے سے رہ گیا ہے وہ اب نوالوں سے کشید کر لوں “ وہ ادھر ادھر دیکھ کر چپکے سے نوالہ اس کے منہ میں ڈال دیتی دل میں ڈر بھی ہوتا کہ کہیں بہو بیٹے یہ منظر نہ دیکھ لیں وہ اک آہ بھر کر بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا یہ پلنگ کبھی جون جولائی کی سخت گرمی میں بھی یوں کاتٹا نہیں تھا جیسے اب جسم کو جلا رہا ہے ۔۔۔ دو سال سے وہ بیمار تھی شوہر سے کیا دواؤں کے زیر اثر خود سے بھی بے خبر تھی لیکن یہ احساس کہ اس کے بازو پر نہ سہی بستر پر تو دوسرا وجود موجود ہے اطمینان دلاتا تھا وہ دھندلی آنکھوں سے اس کے چمکتے سرخ گالوں اور لمبے بالوں والے بیماری سے پہلے والے سراپے کو تصور میں دیکھتے ہوئے بستر پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے روٹھی ہوئی نیند کو منانے کی کوششیں شروع کرتا تو کہیں آدھی رات کو نیند نخرے دیکھاتی آنکھوں کے دریچوں میں اترتی تھی ۔۔ اسے وہ راتیں رلاتی تھیں ۔۔۔جب وہ اسے بے چینی سے کروٹیں بدلتے دیکھ کر سرہانے بیٹھ جاتی اور اس کا سر گود میں رکھ کر اپنے نرم ہاتھوں کی مسیحا انگلیوں سے یوں مالش کرتی کہ وہ منٹوں میں اس کے بدن کی خوشبو سے لپٹ کر سو جاتا ۔” داجی کی طرف دھیان رکھا کرو کہیں اس عمر میں ہمارے سر پر ساس لا کر نہ بیٹھا دے ۔“ وہ چھوٹے بیٹے سے یہ کہنے آیا تھا کہ اب وہ ٹھیک ہے اور کاروباری معاملات خود ہی سنبھالے گا کہ ۔۔۔بہو کے جملے نے پاوں میں دکھ کی زنجیر ڈال دی وہ بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات ٹھیک کرکے اندر گیا بہو اپنے شوہر کی ٹانگیں دبا رہی تھی سسر کو دیکھ کر پل بھر کے لیے رنگت متغیر ہوئی لیکن وہ نظر انداز کر گیا ” داجی آپ کے آرام کے دن ہیں کاروبار ہم سنبھال سکتے ہیں آپ ڈیرے پر آنے کی زحمت نہ کریں “ بیٹے نے روکھے لہجے میں کہا تو وہ خاموشی سے باہر نکل آیا ۔۔اس دن کے بعد اسے لگتا جیسے ہمہ وقت اس کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔۔ایک بار اس نے حیرانی سے دیکھا چھوٹا بیٹا اس کے موبائل فون کو چیک کر رہا تھا علاقے میں جگت ببو جانہ رشتے کرانے کے لیے اچھی شہرت رکھتی تھی وہ نماز کے لیے مسجد جا رہا تھا کہ راستے میں ببو جانہ مل گئی ” اللہ بخشے تیری بیوی تو ہیرا تھی زیب خان وہ خدا ترس ہر مہینے میرے لیے پیسے ضرور بھیجتی تھی ۔۔۔اب بھی دعا کے لیے ہاتھ پھیلاتی ہوں تو سامنے کھڑی ہوجاتی ہے “ زیب خان نے دکھ سے سوچا مجھے تو ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی پڑتی وہ ہمہ وقت نظروں کے سامنے ہی رہتی ہے ۔“ اس نے جیب سے چند نوٹ نکال کر ببو جانہ کی مٹھی میں چپکے سے پکڑا دئیے وہ دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی نماز کے بعد وہ گھر آیا تو صحن میں عدالت لگی ہوئی تھی وہ حیرانی سے سب کی باتیں سن رہا تھا ” داجی مجھے میرے سسرال میں منہ دیکھانے کے قابل تو چھوڑیں نا “ یہ کشمالے تھی اس کی اکلوتی بیٹی جس کی پلکوں پر چمکتے خوابوں کے جگنوؤں کو مٹھی میں بھر کر رواجوں کے اندھیرے مٹانے والے باپ نے قبیلے سے باہر کے لڑکے سے یہ کہہ کر اس کی شادی کر دی تھی کہ دوست کا بیٹا ہے وہ چاہتا تو روایتی باپ بن کر رواجوں کی پتھریلی زمین میں اس کی قبر بھی بنا سکتا تھا جس کا نشان بھی نہ ملتا ۔” میں نے ایسا کیا کر دیا ہے ؟“ وہ حیران و پریشان تھا ” داجی ببو جانہ کو رشتہ دیکھنے کے لیے پیسے کس نے دئیے ہیں ؟“ بدلحاظ بیٹے نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا تو وہ گہرے صدمے کے زیر اثر قریب رکھی چارپائی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ” تو میری نگرانی کی جاتی ہے ؟“ اس سوال کے جواب میں سب بولنے لگے ۔” ہاں تو آپ کے طور طریقے ہی ایسے ہیں کل بیٹھ کر داڑھی اور بالوں میں حضاب لگا رہے تھے ۔۔۔ بار بار نور بی بی کو کمرے میں کسی نہ کسی کام سے بلاتے ہیں اور آج ببو جانہ سے ملاقات طے تھی وہ بھی ہم سے چھپ کر ۔“ زہر بھرا لہجہ اس کی ہڈیوں تک کو چاٹ گیا تھا وہ جانتا تھا کہ بڑی بہو جو اس کی بھانجی بھی تھی بد زبان ہے لیکن ساس کے ہوتے ہوئے اس نے کبھی نظریں اٹھا کر بھی گھر کے سربراہ کی طرف دیکھنے کی گستاخی نہیں کی تھی ۔” میں تمہارا سگا ماموں ہوں زرینہ بیٹا !“ اس نے دکھی انداز میں کہا تو وہ بڑبڑانے لگی ۔ ” داجی ایک تو نور بی بی آپ کے کمرے میں آئیندہ نہیں جائے گی اور دوسرا خدا کے لیے ببو جانہ سے میل جول بند کر دیں ۔۔ ہم سب کی پرسکون زندگیوں میں ہلچل مچانے کی کوشش نہ کریں آپ کی عمر سہرا سجانے کی نہیں ہے ہم اس کاروبار اور جائداد میں کوئی اور شراکت دار برداشت نہیں کریں گے ۔“ اس کے اندر گہرا سکوت پھیل گیا تھا ۔۔۔نور بی بی بچپن سے ان کے گھر کام کرنے والی گونگی لڑکی کا نام تھا اور وہ اس معذور بچی کو بالکل اپنی بیٹی کی طرح سمجھتا تھا ۔” ہمارے حال پر رحم کریں ہمارے اور بھی بہت سے کام ہیں ہم آپ کی نگرانی کرتے کرتے تھک گئے ہیں ۔“ چھوٹی بہو نے ہاتھ جوڑ کر تحقیر آمیز انداز میں کہا تو وہ سر جھکائے اٹھ کر باہر نکل آیا ہمیشہ سے نفاست پسندی اس کی فطرت میں شامل تھی وہ اپنے پلنگ کی گندی میلی چادر ملگجے سے پردے۔۔۔ اور چکنے میل سے بھرے تکیے دیکھ دیکھ کر افسوس سے ہاتھ ملتا رہتا کمرے میں پھیلی بدبو سے اس کا جی متلانے لگا تھا نور بی بی کا اس کے کمرے میں داخلہ بند ہوگیا تھا وہ افسوس سے گندے کپڑوں میں ملبوس الجھے بالوں اور سفید داڑھی والے بوڑھے شخص کی طرف دیکھ کر آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔اب تو اس کے گھر سے مسجد تک جانے پر بھی پابندی لگ گئی تھی وجہ وہ رنڈوے دوست تھے جنہوں نے بچوں کی مخالفت کے باوجود دوسری شادیاں کی تھیں اور اب وہ ان کے داجی کو بھی ورغلا رہے تھے ۔

وہ دن بھر گھڑی میں نمازوں کے اوقات دیکھتا تلاوت کرتا اور باوضو رہ کر ان فطری خواہشات کے خلاف لڑتا جو بہت منہ زور تھیں لیکن ان کی تسکین سے پہلے بچوں کے ہاتھوں عزت کا جنازہ ضرور نکلتا اس لیے وہ باقی کی بچی ہوئی تھوڑی سی عزت کی حفاظت کر رہا تھا کئی گاڑیوں ٹرکوں اور رکشوں کا مالک جس کی پرائیوٹ پبلک ٹرانسپورٹ پشاور سے لںڈی کوتل تک چلتی تھی اسے چند سو روپیہ کا بیلنس موبائل میں ڈلوانے کی خواہش پر فضول خرچی کا طعنہ ملتا تو اس نے اب کہنا بھی چھوڑ دیا تھا اس طرح زیب خان کے بچے مل کر اس کا رابطہ دنیا سے کٹوا چکے تھے اس کی دنیا تھی ہی کتنی بیوی بچوں کے علاؤہ چند دوست اور کچھ قریبی رشتے دار ۔۔۔اب جا کر اندازہ ہوا تھا کہ مرد کی ساری دنیا تو بس بیوی ہی ہوتی ہے ۔۔ وہ منتظر تھا اس نئی دنیا کا جہاں اس کے ہر اچھے برے عمل کا حساب اس سے مانگا جائے گا جو اس نے کیا ہوا ہے ہوگا اسے ان اعمال کا حساب نہیں دینا پڑے گا جو اس نے کئے ہی نہیں ہوں گے۔اس دن دوپہر کے وقت سب کمروں میں سوئے ہوئے تھے گرمی بہت تھی اور بجلی بھی غائب تھی اس نے کروٹیں بدلتے ہوئے وہ وقت یاد کیا جب اس کی بیوی بہوؤں کو کہتی ”پنکھے بند کردو یو پی ایس ختم ہوا تو خان جی کی نیند خراب ہو جائے گی “ اور جب یو پی ایس بند ہوجاتا تب وہ سرہانے بیٹھ کر اسے پنکھا جھلتی رہتی وہ چند لمحے چھت پر لٹکے بند پنکھے کو گھورتا رہا اندر باہر دونوں کے سکوت سے اس کا دل آج کچھ زیادہ ہی گھبرانے لگا تو وہ باہر نکل آیا دھوپ بہت تیز تھی صحن میں مرغیوں کے لیے پانی جس مٹی کی سینک میں رکھا جاتا تھا وہ بھی دھوپ میں پڑی تھی وہ شدید گرمی میں مرغیوں کی پیاس کا اندازہ ان کی کھلی چونچوں سے لگا کر سینک چھاؤں میں لے آیا ۔۔۔دیوار کے ساتھ سایے میں رکھی گھڑونچی پر رکھے مٹی کے گھڑے سے ٹھنڈا پانی لے کر سینک میں ڈالا تو مرغیاں تیزی سے آکر پانی پینے لگیں اس نے دیکھا بکریاں اور گائے تو جانوروں کے لیے بنائے گئے برآمدے میں دھوپ سے محفوظ تھیں لیکن ۔۔۔گدھی جس کا نام اس کی بیوی گل مینا نے نیلی رکھا تھا دھوپ میں جل رہی تھی ۔۔ وہ بہوؤں کے اس ظالمانہ رویے پر دل ہی دل میں افسوس کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا ٹھنڈی آہ بھر کر نیلی کی رسی کھولتے ہوئے وہ بڑبڑانے لگا ” ارے نیلی ! سب کا خیال رکھنے والی گل مینا تو چلی گئی اب انسان کی اہمیت جس گھر میں نہیں۔۔۔۔ اس میں تیری کیا حیثیت ؟ اب اپنا خیال ہمیں خود رکھنا ہوگا “ اس نے دیکھا برآمدے میں نیلی کے لیے جگہ نہیں تھی وہ اسے تھپکتا ہوا گھر کے پچھواڑے بنی اس کوٹھری کی طرف لے گیا جہاں سردیوں میں سب جانوروں کو با ندھا جاتا تھا ۔۔۔بڑی بہو زرینہ کی آنکھ اچانک کسی آواز سے کھلی تھی وہ باہر نکلی اور سسر کو نیلی کے ساتھ گھر کے پچھواڑے جاتا دیکھ کر چند منٹ بعد شور مچا دیا حیران نظروں سے پیچھے کھڑے بچوں اور پڑوسیوں کے چہروں پر پھیلی نفرت اور کراہیت دیکھ کر اسے سمجھ نہ آئی کہ اس سے اب کون سی غلطی سرزد ہوگئی ہے ۔۔۔دوسرے دن مقامی اخبار میں ایک پچپن سالہ بوڑھے کی تصویر اور ساتھ لگی ہوئی سرخی پڑھتے ہوئے لوگ استغفرُللہ کہہ کر کانوں کو ہاتھ لگا رہے تھے بوڑھے کے منہ پر کالک اور اس کے گلے میں پھٹے ہوئے جوتوں کا ہار تو سب کو نظر آ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں جمی شدید حیرانی کسی نے نہ دیکھی

Published inعالمی افسانہ فورمگل ارباب