Skip to content

کم ہمت، بُزدل، پِدکڑ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر : 77
کم ہمت ، بُزدل ، پِدکڑ
احمد نعیم ہاشمی ، ملتان، پاکستان

یار عامر تو جاتا کیوں نہیں ؟
سنائی نہیں دے رہا ؟ اتنی دیر سے دستک ہو رہی ہے ،
جا ناں یار … اُٹھ….اُٹھ
دیکھ بھائی نہیں ہے،
چلا جا یار …
چلا جا……..
تو خود نہیں جا سکتا؟؟
مجھے کیوں کہہ رہا ہے ،
دروازے کے قریب تو زیادہ تُو ہے ۔ بجائے خود جانے کے ، اُلٹا مجھے ہی کہے جا رہا ہے – میرا ہی سر کھائے جا رہا ہے۔
جا خود جا… میں نہیں جاتا
عامر نے بستر پر لیٹے لیٹے تُرنت جوابدیا۔
اسی اثناء میں دستک پِھر سے ہوئی …
میری جان پر بن آئی ..عامر نے گیند میرے کورٹ میں ڈال کر خود دوسری طرف کروٹ لے لی تھی ۔ اور میں تھا کہ جیسے میرے سب “ریکٹ” ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شاید ہاتھ بھی !
میرا نام منیر ہے ۔ ایک اعلی’ سرکاری ادارے میں ادنی’ ملازم ہوں ۔ خاصا رقیق القلب واقع ہوا ہوں ۔ دِن کے اُجالے میں بھی کوئی غیر متوقع اندیشناک بات ، اطلاع ، انہونی ہر دو طرح کی (دھماکے دار یا ساءونڈ پروف) میرے سب اوسان خطا کر دیتی ہے ، شبِ سیاہ کا تو ذکر ہی کیا !! میں فزکس لیب میں پڑا وہ ٹیوننگ فورک ہو جاتا ہوں جسکو ہلکا سا ہاتھ لگا دیا جائے۔
یار لوگ اِسی بناء پہ مجھے ڈرپوک کہتے ہیں ، کم ہمت بھی ۔ بعضے بعضے تو پِدکڑ بھی کہہ پُکار جاتے ہیں ۔ کتنی ناانصافی کی بات ہے ویسے ، نرم دل ہونا کوئی اتنا بڑا عیب ہے؟ نرم خوئی کوئی اتنی بڑی خامی ہے ؟؟ جو یُوں بڑی بڑی تہمتیں دٙھر دی جائیں اُس انسان پہ جس نے احتیاط کو دل میں مناسب جگہ دے رکھی ہو ۔۔۔۔۔
کون نہیں ڈرتا ؟
کس پہ خوف غالب نہیں آتا؟؟
اپنے گردوپیش سے، متوقع حالات و واقعات سے ، اُن معاملات سے جسمیں کچھ خبر نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہو ۔
کون نہیں ڈرتا ؟؟
ہر کوئی سردارا ڈاکو تو ہونے سے رہا !!
رات کا وقت ہو ۔ گُھپ اندھیروں سے اٙٹی رات ، جسکی خوفناکی کو طوفانِ بادوباراں کی ہولناکی نے اور بھی خطرناک بنا دیا ہو ، زوروں کی طوفانی ہوا چلتی ہو ، گردوپیش کو پٹختی ہو، مُنہ زور مینہ برستا ہو ،گرجتا ہو ، بجلی چمکتی ہو ، کڑکتی ہو ۔ جاں لرزتی ہو ، دھڑکن بجائے دل کے دماغ میں جا دھڑکتی ہو ، تو کون ہوگا شہ زور جو خوف کا شکار نہ ہوگا ؟ کون ہوگا مائی کا لعل جو کانپتا نہ ہوگا؟
ایسی پرہول فضاء و انجانے ماحول میں پھنسے دو پنچھیوں کا ڈرنا تو فطری امر تھا ، عین حقیقت تھا، جبکہ اندھیری طوفانی کڑکتی رات کے اُس پہر دروازہ بھی زور سے بٙج اُٹھے ۔ بار بار بج اُٹھے ۔
بندہ بٙج نہیں اُٹھے گا کیا؟
ہمیں اُس فلیٹ (جسمیں ہم مقیم و موجود تھے) میں شفٹ ہوئے بمشکل ہفتہ بھر ہی ہوا تھا ۔ میدانی علاقے کے رہنے والے سادہ ملازم تبادلہ کر دئیے گئے تھے ایسے ضلع میں جو ہمارے لئے قطعی اجنبی تھا ، پہاڑی علاقوں پر مشتمل ، بارشیں ، طوفانی بارشیں جہاں نِت کا معمول تھیں ۔ شومئی قسمت کہ آتے ساتھ ہی ہمارا خُوب سواگت ہوا ۔
بلڈنگ کی دُوسری منزل پہ واقع اُس فلیٹ کا ایک کمرہ ہم نے کرایہ پر لے لیا تھا ۔ ملحق وسیع و سر سبز قطعہء اراضی پہ اُگے ہمہ قسمی بلند و چھتنار درخت بہت بھلے و خیرہ کُن مناظر کا مُوجب و منبع تھے ۔ کھڑکی سے پھل و پھولدار درختوں کی نرم و نازک کونپلوں ، ٹہنیوں کے وسط سے نگاہ جب سامنے سبزے سے ڈھکی پہاڑیوں پہ جا پڑتی ، تو واللہ ! کتنے ہی نظاروں کو سزا ملتی تھی ۔
پر اُسوقت وہ درخت جو ہمیشہ کمروں کی دیواروں سے کھڑکیوں سے سرگوشیاں کرتے تھے ، سر گوشیاں نہیں گوش پھاڑ رہے تھے شدت کی طوفانی ہوا کے زیر اثر ہمارے گوش پھاڑ رہے تھے ۔ جیسے چیخ چیخ کے کہہ رہے ہوں ….
ہمیں بھی آنے دو اندر……….باہر غضب کی غضبناکی ہے !
دفعتا” بجلی چمکی…زور کی کڑکتی آواز آئی،
ہوا شور کرتی چیختی چنگھاڑتی درختوں پتوں شاخوں کو جھنجھوڑتی پٹخاتی کھڑکی سے آ ٹکرائی ..کھڑکی کا نزار شیشہ چھناک سے ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔
دروازہ پھر سے بجا…
دونوں سراسیمہ روحیں چونک چونک اُٹھیں !
ایک روح اُٹھی …بتی جلائی …دوسری نے شُکر ادا کیا اور سوچا ہم میں ابھی بھی نیک روح ہے –
شکرگزار ہوئے میں سوچنے لگا چلیں مجھے نہیں عامر کو تو کم از کم اُس طوفانی موسم میں آئے مصیبت زدہ کا خیال آیا ہے (یہ اور بات کہ اُن دنوں جرائم کی بڑھتی وارداتوں کیوجہ سے وہ مصیبت زدہ کم اور مصیبت زیادہ لگ رہا تھا)۔
عامر اُٹھا تو سہی پر بجائے باہر جانے کے ، در کھولنے کے ، جائے نماز بچھا کر کھڑا ہو گیا ….اور فورا” سے پہلے نیت باندھ لی۔
پتہ نہیں وضو بھی تھا اُسکا کہ نہیں؟ ….مگر ہوگا لازما” ہوگا !
عامر ایک نیک انسان ہے …نہایت متقی بہت عبادت گزار …پانچ وقت کا نمازی …بلکہ اُس وقت تو چھ وقت کا لگ رہا تھا ۔
لیکن اُسکی سب پارسائی و پرہیزگاری کو بُھلاتے اور خاطر میں نہ لاتے ہوئے میں نے ڈر اور طیش سے مِلی جُلی عجیب کھوکھلی آواز میں کوسنے دینے شروع کر دئیے ۔
انسانی ہمدردی و خدمت کے جذبوں سے عاری ، اے غافل انسان !!
……..تیری یہ عبادتیں کسی کام کی نہیں جو تو نے کسی کی مُشکل میں مدد نہ کی ،
تجھے باہر آئے مصیبت کے مارے کا خیال نہیں تو ، اپنے دوست اپنے بھائی کا ہی خیال کر لے ،
“دیکھ کب سے تڑپ رہا ہوں ”
نہ نیند ہے نہ قرار ہے نہ طبیعت باہر جانے کو تیار ہے ۔
حقوق العباد سے مکمل کنارہ کشی کرتے ہوئے جسطرح کی بے حسی اور کٹھورپن کو اپنے اوپر طاری کر کے تُو مُصلے پر چڑھ کھڑا ہوا ہے , مجھے خدشہ نہیں ، یقین ہے ، تیری یہ نمازیں تیرے مُنہ پہ مار دی جائیں گی ۔
لیکن اُس پہ کسی بھی قسم کا کوئی اثر نہ ہوا . عامر نے میرا کوسنا یوں سُنا جیسے بکواس سُنی ہو اور مکمل سُنی ان سُنی کرتے ہوئے سجدے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے طویل سجدے میں کہ گمان گذرنے لگا لڑھک ہی نہ جائے بچارا ………
عامر بھی میری ہی طرح کا احتیاط پسند نرم طبیعت انسان ہے …….بلکہ اس معاملے میں بیان کئے گئے ہر حوالے سے میرا بڑا بھائی ہے !!
دروازہ پھر سے بج اُٹھا ۔۔!
دستکوں کے وقفے کم سے کم ہوتے جا رہے تھے ۔
وقفے تو کم ہو رہے تھے لیکن میرے خدشے بڑھتے ہی جا رہے تھے ۔
سوچنے لگا اس فلیٹ میں فقط میں اور عامر ہی تو نہیں ہیں ، ایک عدد مالک مکان (فلیٹ) بھی تو ہے … اُسے دستک کی آوازیں نہیں جا رہی ہوں گی ؟ کیا وہ نہیں سُن رہا ہوگا ؟؟ پہلے تو کبھی بھی کسی موقعے پر یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ بہرا ہے ۔ اگر بہرا نہیں ہے تو اُٹھتا کیوں نہیں ہے ، جاتا کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ اپاہج ہے ؟؟
پھر خیال آتا ، یہ جو باہر آیا ہوا ہے ، مصیبت زدہ یا پھر مصیبت بھرا ۔۔۔۔۔ اُسے ہمارا ہی فلیٹ کیوں نظر آ رہا ہے ۔ اور بھی تو دسیوں فلیٹ ہیں اس بلڈنگ میں ، وہ کیوں نہیں دِکھتے اُسے ،
….کیا اندھا ہے؟؟
کبھی خیال اُس ڈاکٹر کیطرف لے جاتا جس نے ایسی ہی اِک طوفانی رات میں دستک سے کامل سمع پوشی کرتے ہوئے اپنے آرام کو ترجیح دی تھی اور بقیہ ساری عمر آرام کو ترسا تھا !
پھر ہر خیال کو…. خوف آنکھیں دِکھانے لگتا !
یہ خوف بھی کیا عجب شے ہے سوچوں کے کتنے ہی در وا کرتا جاتا ہے ۔ خیال کو کتنی ہی راہوں پہ سرپٹ دوڑاتا ہے ۔ مگر ظالم اسقدر کہ سب کی سب راہیں ، گلیاں بند ۔۔سوچ، فکر ،خیال کو کوئی راہ ہی نہیں مِلتی ۔ نکلنے کی عیاں ہونے کی !
میں سوچتا ہی جا رہا تھا ….عامر گِڑگِڑاتا ہی جا رہا تھا ….دروازہ بجتا ہی جا رہا تھا !!
پھر تو یوں ہوا دروازہ ایسے بجنے لگا جیسے ہاتھوں کی بجائے لاتوں سے بجایا جا رہا ہو …. بہت زور سے، دھڑا دھڑ ۔
وقفے کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گئے تھے …دروازہ مسلسل بغیر کسی توقف کے بجایا جا رہا تھا، ہاتھوں لاتوں اور پتہ نہیں کِن کِن اعضاء کی مدد سے ۔
جب یہ نوبت آ پہنچی تو میں نے گھبرا کر عامر سے کہا……
بھائی جان اُٹھیں ،
جس مصیبت سے بچنے کی خاطر ہم دبکے پڑے ہیں،
میں کمرے کے کونے میں ….اور آپ مصلے سے بچھونے میں ..
وہ مصیبت دروازہ اُکھاڑ کے آیا ہی چاہتی ہے
اس سے پہلے کہ دروازہ اُکھڑے ، پھر ہمارے قدم اُکھڑیں اور آخر میں ہم بھی اُکھڑ جائیں ۔۔۔۔
رہے نام اللہ کا،
اُٹھیے اور چلیئے !
عامر نے اور تو کُچھ نہ سُنا مگر میری انتباہ بھری آواز لازما” سُنی …..اور آنا” فانا” سلام پھیر دیا ۔
ہم دونوں رقیق القلب، نرم خو، احتیاط پسند اُٹھ کھڑے ہوئے ، پر پہل کا قدم اُٹھانے میں ابھی بھی کسی میں ہمت نہ تھی ۔
آوازیں مسلسل آ رہی تھیں ، بجلی کڑک رہی تھی ، طوفانی ہوا چنگھاڑ رہی تھی ، کھڑکی کپکپا رہی تھی ، اٙدھ ٹُوٹا شیشہ کھڑکھڑا رہا تھا ، دروازہ مسلسل پِٹ رہا تھا ، میں اِدھر اور عامر اُدھر ، ہولے ہولے سمٹ رہا تھا ۔
میں نے اشارے سے عامر کو آگے چلنے کا اشارہ کیا ۔ وُہ ہچکچایا، ذرا کِسمسایا پر مٙرے مٙرے قدموں سے آگے چل ہی پڑا اور میں شکر پڑھتا اُسکے پیچھے ہو لیا ۔
ہم اپنے کمرے سے باہر آئے ۔ سامنے بالکونی کی کھڑکی تھی ۔۔ کُھلے پٹ سے تیز ہوا کا جھونکا جو اچانک آ ٹکرایا تو ہم لرز گئے . آگے چلتے عامر کے قدم فورا” رُک گئے ،اُس نے میری طرف نگاہ کی پر میں نے نگاہیں پھیر لیں ، دروازے پر جٙما لیں ۔ ہمارے کمرے کے دروازے سے بائیں طرف صدر دروازہ تھا …” در پیٹنے کی سب صدائیں وہاں سے نہیں آ رہی تھیں ، بلکہ دائیں طرف واقع مالک مکان کے کمرے سے آ رہی تھیں جسکا دروازہ عین ہمارے دروازے سے دائیں طرف متصل تھا ”
معاملے کی تہہ تک پہنچتے پہنچتے میں نے عامر کو ، عامر نے مجھے دیکھا،
آنکھوں ہی آنکھوں کچھ نہ کہتے ہوئے
یوں کہا…..
دھت ….تیرے کی
یہ “کہہ” کر ہم چوہے سے شیر ہوگئے اور لگے مالک مکان کو نکال باہر کرنے….
اُنکا دروازہ کمرے کی پچھلی کھڑکی (جو عین اُس دروازے کی سیدھ میں تھی) سے آنیوالی پُرزور ہوا کیوجہ سے مکمل ائیرلاک ہوا ہوا تھا …سخت قسم کا ائیر لاک
صورتِ حال یہ تھی، اندر سے میاں مالک مکان اور باہر سے ہم تازہ دم “شیر” جُتے ہوئے تھے ۔ مگر دروازہ تھا کہ کُھلنے میں ہی نہیں آ رہا تھا ۔
اچانک عامر دھاڑا ،
پیچھے …پیچھے ہٹ جا، مُنے۔۔! پیچھے ہٹ جا !
جی تو بہت کیا کہ عامر اور دروازے کے بیچ میں آجاءوں۔ یہ کونسا وقت تھا یُوں مخاطب کرنے کا ۔یہ میں ہی تھا جو بہادری سے اُس کم ہمت بزدل پِدکڑ کو گھسیٹ کر باہر لایا تھا ۔۔ وگرنہ تو مُصلا مٙلے اُس موصوف کی گھگھیاہٹ تو مالک مکان بھی ضرور سُنی ہوگی ۔
مانا ہم دوست تھے مگر اتنی بے تکلفی بھی نہ تھی کہ مجھے میرے اُلٹے نام سے پُکارتا ۔۔گھر والوں کے لئے بھلے بے شک میں منیر مُنا تھا ، مگر باہر تو ہمیشہ منیر ہی بُلایا پُکارا جاتا تھا ۔۔۔کسی اور وقت وہ مُنا کہہ بھی دیتا تو بات اور تھی ، اُس آزمائش بھری گھڑی میں اُسکا خود کو بہادر بنا کے مجھے مُنا کہنا ہرگز قبول نہ تھا مجھے ۔۔۔ممکن تھا کہ کوئی ردِ عمل دیتا میں کہ
دروازہ پِھر پِٹا ۔۔۔۔
یک بہ یک
مجھے راہ چھوڑنا پڑی ، پیچھے ہٹنا پڑا ۔
میرے پیچھے ہٹتے ہی خاصا لحیم شحیم عامر ، خاصا پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا اور دروازے پر جا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ ایکدم ہی دھڑم سے کُھلا ،
عامر بھی ساتھ ہی کُھلتا چلا گیا ،
اور دھڑام سے مالک مکان پر جا گرا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔جو بچارے پہلے ہی دروازے کی ٹکر سے گِرے ہوئے تھے۔
میں نے بتایا ہے ناں! عامر بہت نیک انسان ہے . بہت متقی، عبادت گزار ،،
وہ ایک دفعہ پھر سجدے میں تھا۔۔۔!!
مالک مکان کی حالت بہت ناگفتہ بہ اور دیدنی تھی،
سر تا پا پسینے میں شرابور , ہانپتا کانپتا بنیان سے جھانکتا سینہ دھونکنی کیطرح چل رہا تھا , چہرہ بالکل پیلا زرد جسے مُردے کا ہوتا ہے ۔ آواز بڑی مُشکل سے نکل رہی تھی ۔
ہم نے اُنھیں بستر پر لٹایا ۔ پانی وغیرہ پلایا ۔ اُنکی طبیعت بحال کرنے میں جُت گئے
جب اُنکے اوسان ذرا بحال ہوئے تو پُوچھا …
خیر تو تھی صاحب؟
کیا ہوا تھا ، دروازہ کیوں بجانے لگ گئے تھے ؟
باہر آنے ، نکلنے کی ضرورت کیا پڑ گئی تھی جناب ؟؟
بھلے اکیلے تھے لیکن تھے تو اپنے ہی کمرے میں ….. لیٹے رہتے،
دروازہ بھی کُھل ہی جاتا آخر ۔
لُٹے پُٹے قبیلے کے کسی درماندہ فرد کیطرح انھوں نے اپنا جُھکا سر اوپر اُٹھایا…
آہ بھرا اِک لمبا سانس لیا ،،
اور مٙری مٙری آواز میں بولے ،
بھیا ۔۔۔۔۔!
“میں ڈر گیا تھا “

Published inاحمد نعیم ہاشمیعالمی افسانہ فورم