Skip to content

کردار کی واپسی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 157
کردار کی واپسی
علی جبران رانا ، لاہور پاکستان

‎وہ کمرے میں بیٹھا نہایت انہماک سے ایک ادھ پھٹی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ اچانک اسکی حالت غیر ہونے لگی. اس کے ا عصا ب تن گئے. بیٹھے بیٹھے ہی سانس پھولنے لگا اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ برسوں پیچھے اپنے آنگن میں چلا گیا ایک میلے کچیلے پردے کی آڑ میں کھڑا چھپ کر وہ گھر کے ایک ایک فرد کو قتل ھوتا دیکھ رہا تھا قاتلوں کے ایک ساتھی نے یک دم مڑ کر پردے کی سمت دیکھا وہ جھٹکے سے ہوش حواس کی دنیا میں واپس آگیا لاشعو ری طورپر کتاب کے پیچھے چھپایا ھوا اسکا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ ہورہا تھا ایسے لگتا تھا جیسے اسکے اندر ابلتا لاوا بس آ ن کی آ ن میں پھٹنے والا ھو اس نے ایک زور دار جھٹکے سے کتاب کے آخری چند بچے کچھے اوراق بھی پھاڑکر الگ کر لیے ادھڑی ہو ئی گتےکی جلد اورپھٹےھو ئے اوراق مٹی سے اٹے فرش پر پھینک کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر
‎نکل گیا.

‎بچپن سے لاوارثی کی کشتی کی میں بیٹھ کر زندگی کے صحرا کو پار کرنے کی کوشش میں مصروف شہر کے فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں بیچتے اسے نہ جانے کتنا عرصہ بیت گیا تھا. .ا سے خود بھی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اس کے بوسیدہ کمرے میں کتابیں کٹی پھٹی لاشوں کی طرح بکھری پڑی رہتیں جنہیں وہ وقتا فوقتا پڑھتا رہتا تھا زندگی ا پنے معمول کے مطابق چل رہی تھی وہ ہر مہینے با قا ئد گی سے اسے ملنے شہر کی بدنام گلیوں میں چلا جاتا اسکی آمد پر پلنگ کی جلدی جلدی چادر تک بدلنے والی اسے کمرے کے فرش پر پڑے کپڑےکےغلیظ ٹکڑوں کو کبھی چھونے بھی نہیں دیتی تھی. .وہ ہر بار بجھی بجھی سی اسکے سامنے روتی فریاد کرتی کہ اسکو اس دوزخ سے نکال لے جا ئے مگر وہ جانتا تھا کہ جب تک شہر میں ایک بھی جسم خریدنے والا گاہک زندہ ہے اس عو رت کا بھلا نہیں کیا جا سکتا .اگر اس نے کو ئی ایسی ویسی کوشش کی بھی تو اس عو رت کے رکھوالے ان دونوں کو چند دنوں میں ہی ڈھونڈ نکالیں گے ویسے تو ہر وقت ہی سوچتے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہنا اسکا روز کا وظیفہ تھالیکن کچھ عرصے سے وہ ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت کا شکار رہنے لگا تھا سارا دن سونے کے بعد وہ شام ڈھلےبیدار ھوجاتا اورنہایت بے بسی سے اپنی پسندیدہ ترین کتاب پڑھنے لگتا جو اوراق پڑھ لیتا انکو پھا ڑ کرپھینک دیتا اور ہیجانی کیفیت سے دوچار گھر سے باہر نکل جاتا ..

‎دسمبر کی آخری شب تھی ہر طرف سردی اوراندھیرے کی حکمرانی تھی دھرتی کی بساط پرجمے مکان بے بس مہروں کی طرح خاموش کھڑے تھے شہر سے ملحقہ غیر گنجان آباد علاقے کے تقریبا وسط میں وا قع ایک قلعے نما گھر کی بیرونی دیوار پر ایک انسانی سایہ چھپکلی کی طرح چڑھا اور کسی بلی کی طرح خاموشی سے اندر اتر گیا گھر کے واحدروشن کمرےمیں ٹی وی پر نشر ہوتے پروگرام سے کسی صنف نازک کی مدھم آواز آ رہی تھی
‎ “ناظرین !آج ہم آپکی ملاقات ملک کے نامور
‎سا ئینسد ان ،محقق اور دانشور سے کروا رہے ھیں جو
‎کا ئینا ت ، فطرت ،مادیت اور توانائی کے بارے میں چند بنیادی باتیں بتانے کے ساتھ ساتھ فطری طاقتوں اور معا شر ے کے آپس میں تعلق بارے اپنا قیمتی تجزیہ پیش کریں گے ..”سر آپ موضو ع پر کچھ روشنی ڈالیں”میزبان لڑکی سا ئینسد ان کو د عو ت دیتی ہے ..”جی شکریہ!…. سب سے پہلے میں یہ بتا تا چلوں کہ اس مادی دنیا میں موجود ہر چیز کا آپس میں فطری تعلق ہے مادے کو فنا نہیں کیا جا سکتا اسکی ہیت کو صرف تبدیل کیا جا سکتا ہے …ہماری اس دنیا میں کی ھو ئی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی رد عمل کے طور ہمارے ارد گر د تبدیلیا ں برپا کرتی ہے ..”

‎ٹی وی کے با لکل سامنے بیٹھے شخص نے بوریت سے چینل تبدیل کر دیا ..”ماردھاڑ سے بھرپور فلم “پہلا قتل”آج شام پانچ بج کر تیس منٹ پر…نیا ہفتہ وار ڈرامہ سیریل “بازار حسن” ہر ہفتے کی شب رات آٹھ بجے دیکھنا مت بھولئے ،صرف “بے باک “چینل پر …ریموٹ کا بٹن دبتے ہی چینل پھر تبدیل ھو گیا ….خبرنامے کے وقت چلنے والی رو ا یتی موسیقی کی آواز حملہ آور ھو ئی ” وزیر مملکت نے ایک بار پھر ملک میں بڑھتے ھو ے جرا ئیم ،تشدد اور فحا شی کو ترجیحی بنیادوں پر ختم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے..موسیقی .. گزشتہ دنوں شہر میں ھو ے معصوم شہر یو ں کے قتل کا فی الحال کو ئی سراغ نہیں مل سکا … انتظامہ اور قانون نافذکرنے والے ادارے بری طرح ناکام نظر آتے ھیں …شہر میں موجود نا معلوم سیریل قاتل د ند نا تا پھر رہا ہے ..ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں ہونے والی قتل کی وارداتوں کے پیچھے ایک یا ایک سے زیادہ جنونی قا تلوں کا ہاتھ ھو سکتا ہے ……مو سیقی …” ٹی وی کے سامنے بیٹھا شخص استہز ا ئیہ انداز میں ہنس پڑا “بھلا یہ بھی کو ئی قاتل ہے” وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑ اتے ھو ے اٹھ کھڑا ھوا .. .”اصل قاتل تومیری لکھی ھو ئی کہا نیو ں میں ہوتے ھیں”اس نے کمرے کی چھت سے لٹکتے گڈ ے کو ہاتھ میں پکڑتے ھو ے خود کلا می کی …”تمہیں میرا تخلیق کیا ھوا وہ مشہورکردار یاد ہے نا ؟جس نے قا ر ئین کی نیندیں حرام کر دیں تھیں”اس نے کمرے کے کو نے کھدروں کی طرف متلاشی نظریں دوڑاتے
‎ھو ے سامنے لٹکتے گڈے سے دریافت کیا… وہی ،وہ فلم میں کام کرنے وا لا ولن(بد معا ش) .. “وہ جو فلم ڈائریکٹرکے سمجھا ئے ھو ئے قتل کے طریقوں کے عین مطابق فلم کے ساتھ ساتھ حقیقی دنیا میں بھی قتل کرتا جا تا ہے حتی کہ ایک دن ڈائریکٹر کو بھی اسکے گھر جا کر قتل کر دیتا ہے ” اس نے دوبارہ گڈے کو یاد دلا نے کی کوشش کی …پھراچا نک چونک کر کمرے کے ایک کونے کی طرف لپکا اوراس نے چند نا کا رہ اشیا تلے دبا ایک اور گڈ ا اٹھالیا ..گڈا اپنے حلیے سے ہی چھٹا ھوا بد معا ش لگ رہا تھا ..وہ اسے لیے صوفے پر آ بیٹھا …کمرے کی فضا آتش دان میں جلتی لکڑیوں کے باعث کافی گرم ھو رہی تھی ….اس نے سامنے میز پر پڑی پلیٹ سے سیب کا کٹا ھوا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالا اور دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا ….موسیقی ..

‎ وہ ایک مشہور زمانہ مصو ر اور لکھا ری تھا جو اس ویران سے قصبے اور اتنے بڑے گھر میں مدت سے اکیلا رہ رہا تھا ..اسے بہت ماہر کہانی نگار مانا جاتا تھا …وہ کردار سازی اور منظر نگاری میں ایسا طاق تھا کہ اس کے تخلیق کیے ھو ے کردار قاری کو اپنے ارد گر د چلتے پھرتے محسوس ہوتے … وہ ہر کردار کو لکھنے سے پہلے مکمل طور پر اسکا ایک خاکہ بناتا اور اسے اچھی طرح سجاتا سنوارتا…ایک ایک کردار کا مکمل حلیہ، لباس ،کپڑوں کا رنگ ،اسکے خدوخال ،بناوٹ، یہاں تک کہ سر کا ایک ایک بال اور انگلیوں کا ایک ایک ناخن تک اس کمال محنت اور در ستگی سے تراشتا کہ اکثر خود اپنی تخلیق دیکھ کر دنگ رہ جاتا.کہانی لکھنے کا آغاز کرنے سے پہلے سفید گتے کے سخت کاغذی بورڈ پر بنے کرداروں کو نہا یت نفاست سے انکی بنا وٹ کے عین مطابق کاٹ کاٹ کر ایسے الگ کر لیتا کہ سب کے سب اپنی اپنی انفرادیت میں زندہ و جا و ید نظر آنے لگتے پھر انکو کمرے کی چھت سے لٹکتی ڈوریوں سے گرہ لگا لگا کر لٹکا دیتا.. ڈوریوں سے لٹکتے پتلے کمرے کی فضا میں گھومتے اور جھولتے عجیب منظر پیش کرتے رہتے….اپنی کہانی کا ہر منظرلکھنے سے پہلے وہ کمرے کی دیواروں کو پینٹ کرتا.. چاروں طرف رنگ و روغن سے کہانیوں کا ماحول بنا ڈالتا… برف یا بادلوں کے لیے روئی کے گالوں سے کام لیتا کبھی دیواروں پر چیتھڑے لٹکا دیتا کبھی سچ مچ ہتھوڑا لے کر دیواروں میں گڑھے اور سوراخ کر نے لگتا حتی کہ کہانی میں جلے ھو ے کمرے کی لفظی منظر کشی کرنے کے لیے اپنے کمرے کی دیواریں تک جلا ڈالتا ..دیواروں پر پینٹ مکمل کرنے کے بعدوہ اپنے چاروں طرف چلتے پتلی تماشے میں بیٹھ کر اپنے قلم سے کسی کیمرے کی طرح ارد گرد کے مناظر کی تصاویر کھینچ کھینچ کر کاغذ پر اتارنے لگتا.حقیقت نگاری ھو یا تصوراتی دنیا اسکی لفظی کہانیاں تصویری کہانیوں حتی کہ سینما سکرین پر چلتی تصا و یر سے بھی زیادہ متحرک و جاندار نظر آتیں….. …

‎ٹی وی کے سپیکر سے پھوٹتی آواز جیسے اچانک بند ھو گئی ..وہ چونک اٹھا ..اسکے با لکل سامنے ایک شخص جیسے ٹی وی بند کر کے اس کی سمت مڑا .اس نے منظر کو سمجھنے کی کوشش کی کہ کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی یک دم تبدیل ہو گئی .پیچھے دیوار کی صلیب پر نہ جانے کتنے برسوں سے ٹنگا ہوا وال کلاک بالکل بے آواز پگھلنے لگا .اس کے رونگٹے کھڑے ھو گئے جسم کا خون اندر ہی اندر جمنے لگا ایک عجیب سی ٹھنڈک اس کے گوشت میں اترتی چلی گئی ..”کک کک کون ھو تم ؟”اس نے ہکلا تے ھو ے بڑی مشکل سے صوفہ کے بازووں کا سہارا لیتے ھو ے اٹھنے کی کوشش کی .اس کو شدت سے احسا س ھوا کہ اس نے اس شخص کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
‎میں کون ھوں؟..مجھے نہیں پہچا نتے ؟”اجنبی اس کے با لکل سامنے تن کر کھڑا ھو گیا ..”نہیں ،کک ،کون ھو تم ؟”ڈر اس کے بد ن سے کسی آسیب کی طرح چمٹ گیا تھا بے شک اس نے پہچا ننے سے انکار کر دیا تھا لیکن اس کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ وہ اس شخص کو بہت اچھی طرح جانتا ہے “میرا حلیہ غور سے دیکھو میں تمہاری ہی ایک کہانی کا کردار ھوں جو تم آج بھی لکھ رہے ھو”اس شخص نے کہانی نگار کا
‎ گر یبا ن پکڑ کر اسکو جھنجھوڑ دیا” “کک کک کیا!!!!” خوف کے مارے اسکی گھگھی بند ھ گئی ،مگر وہ محسوس کر سکتا تھا کہ چھت سے لٹکتے ھو ے
‎ پتلو ں میں سے ایک پتلے کا گوشت پوست کا بنا جیتا جاگتا ہمزاد اس کے سامنے کھڑا ہے “پہچا نا ؟” اسکی کہانی کے کردار نے چھت سے لٹکتے اپنے پتلے کے دھاگے کو کھینچ کر توڑ ڈالا اور اسکےچہرے کے با لکل سامنے لاکر طنزیہ انداز میں سوال کیا “تت تم حقیقی دنیا میں کیسے ؟؟مم میرا مطلب ہے ،یہ ،یہ کو ئی خواب ہے کیا ؟ لکھاری کی آواز میں کپکپاہٹ نمایاں تھی “مجھے جانتے ھو یا نہیں”کردار بہت زور سے چیخا” “ہا ں ہا ں میں جانتا ھوں تمہیں ..تم ،تم ایک جنگجو قبیلے کے سردار ھو ،لڑا کو ں کے ہیرو”میں ،میں آج کل تمہاری کہانی کا ہی اگلا باب لکھ رہا ھوں جس میں تم نے بہت ہی خطرنا ک دشمن سے لڑنا ہے “ہاں ! میں وہی ھوں” کردار نے ٹھنڈی آ ہ بھر کر کہا”..”تم، تم آخر کیسے زندہ ھو گئے ؟”اس کے اوسان قدرے بحا ل ھو چکے تھے “میں تمہیں بتا نے آیا ھوں کہ میں لڑ لڑ کر تھک گیا ھوں ،مجھ سے اب اور نہیں لڑا جاتا “کردار کی آواز میں تھکن نمایاں تھی “کیوں ؟کیا ھوا؟تمہاری تو بہت دلچسب اور نہا یت خطرناک لڑائی ھو نے والی ہے میں نے تو اس بار تمہارے لیے بڑا ہی طا قت ور اور خطرناک دشمن تخلیق کیا ہے ،لوگ اس لڑا ئی کو مدتوں نہیں بھول سکیں گے ” لکھاری نے اسکو اپنے تئیں سمجھا نے کی کوشش کی “اچھا !تمھارے لیے یہ کو ئی مذاق ہے؟چلو دکھاتا ھوں تمہیں” کردار اسکا گریبان پکڑکر اسکو سامنے والی دیوار کی سمت گھسیٹنے لگا جس پر جنگ کا نہایت ہولناک منظر پینٹ کیا گیا تھا اور انتہا ئی سفا ک دشمن موت کا فرشتہ بنا صاف نظر آ رہا تھا “یہ ،یہ کیا کر رہے ھو”لکھاری نے خود کو دیوار سے ٹکرائے جانے سے بچا نے کی کوشش کی کہ “غڑپ” کی آواز کے ساتھ اسکو ایک جھٹکا لگا.. دونوں میدان جنگ میں کھڑے تھے ،کالی سیاہ رات ،جنگل،شد ید سردی،طوفانی بارش اور سامنے کھڑے دشمن نے اسکے اوسان خطا کرد ئیے..ماحول کی دہشت اسکی ہڈ یو ں کے گودے میں اترنے لگی .وہ اپنے ہی قلم سے تخلیق کیے ھو ے خوفنا ک تر ین منظر میں کھڑا تھا..اچانک دور سے اڑتا ھوا ایک سفاک تیر آیا اور اسکے پیٹ میں پیوست ھو گیا لکھاری کے منہ سے ایک درد ناک چیخ نکلی “اب لڑو،دکھا و ذرا اس سے لڑ کر ،دکھا و مجھے اس خوف زدہ ماحول میں رہ کر ،ہر وقت موت کا دھڑکا لگا رہنا کیسا لگتا ہے .. محسوس تو کرو ” کردار نے اسکو دشمن کی جانب ہلکا سا دھکا دیتے ھوے زہر آلود لہجے میں کہا..”مم مم میں
‎و عد ہ کرتا ھوں کہ اس دشمن کو کہانی سے نکال دوں گا …مجھ پر رحم کرو “لکھاری پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے کرا ہتے ھو ے
‎با قا عد ہ منت سما جت کرنے لگا اس پر موت کی کیفیت طاری تھی “رحم ؟.ہا ہا ہا ..اس خون خرابے کو دیکھ دیکھ کر اب تو میرے قبیلے کے معصوم بچے تک بے رحم ھو چکے ھیں .خون خون خون .”کردار نے اس کے پیٹ سے رستے ھو ے خون میں اپنی انگلیاں تر کر کے اسی کے چہرے پر مل دیں “..” سنو ! میری بات سنو ..تمہاری پچھلی جنگ ہی آخری جنگ تھی ..بس اب تم فتح پا چکے .. اب بس ہر طرف امن و امان ھو گا …تخت تمہارا ھوا .. کہانی کا ہنسی خوشی اختتام ھوگیا ..بس مجھے ایک د فعہ واپس جانے دو ” وہ گیلی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر گڑ گڑ ا یا ..کردار نے چونک کر اسے دیکھا ..”یہ تمہارا ہما ری دنیا پر احسان ھو گا “کردار نے اسے واپسی کی سمت دھکیلتے ھو ے زور دار دھکا دیا اور لکھاری “غڑپ” کی آواز کے ساتھ واپس اپنے کمرے میں آ گرا . وہ ابھی اپنے اوسان بحال کر ہی رہا تھا کہ کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی یک دم پھر تبدیل ہو گئی اسے کمرے میں پھرسے کسی کی موجودگی کا احسا س ھوا اس نے کمرے میں
‎سر ا سیمگی سے نظر دو ڑا ئی ..سیب کی کاشوں سے قطرہ قطرہ خون رس رہا تھا .سامنے میز کے پاس کھڑی عو رت خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی ..وہ اپنے حلیے سے کسی طرح بھی ایک گھریلو
‎اور شریف عو رت دکھا ئی نہیں دیتی تھی وہ اسکو دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ بھی اسکی ایک نا مکمل کہانی کا کردار تھی اسکا پتلا بھی ابھی چھت سے لٹک رہا تھا جس کو وہ کبھی کبھا ر پکڑ کرچھیڑتا ، گھماتا اور محظوظ ھوتا رہتا تھا “تمہیں میر ے لیے طوائف کے علا وہ کو ئی اور کردار نہیں ملا تھا؟عو ر ت کا زور دار تھپڑ اسکا چہرہ سرخ کر گیا ..”مجھ عو رت کو ہی بکا و مال کی طرح لوگوں اور بازاروں میں بکنا تھا؟ اس نے اپنے ہی تخلیق کار کے منہ پر تھوک دیا ” میں عو رت ھوں اسی لیے مجھے ہی ہر بار تیرے گاہکوں کے سامنے ننگا ہونا اور ناچنا ہے بے شرم انسان؟عورت نے شکست خوردہ انداز میں سر جھکا لیا ..”لیکن اب، اب ایسا نہیں ہو گا” ..طوائف کا چہرہ یک دم انتقام کی آگ میں جلنے لگا “لکھاری نے کچھ بولنے کی کوشش کی کہ کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی یک دم پھر تبدیل ہو گئی اسکا جسم جیسے پتھر کا ہو گیا ..عورت نے جیسے ہی اسکو گریبان سے پکڑا وہ کاغذ کی ہلکی پھلکی پتنگ کی طرح عورت کے ہاتھ میں لہراتا کمرے کی اس دیوار کی سمت بے یارومددگار اڑنے لگا جس پر نہایت شاندار کوٹھے کا منظرپوری جانفشانی کی ساتھ پینٹ کیا گیا تھا .عورت بھاگ کر اس دیوار سےجا ٹکرائی غڑپ کی آواز کے ساتھ دونوں رقص و سرور کی محفل میں آ گرے .عورت نے باقا عدہ اپنے پیروں سے گھنگھرو اتار کر اسکے پیروں میں باندھنے شرو ع کر
‎د ئیے .. گاہک غصے سے تلملانے لگے ..”او چھنال ! یہ کیا ڈرامہ ہے ؟اپنے بڈھے باپ کو بھی دھندے پر لے آ ئی ہے کیا ؟.وہ سخت ہیجان میں مبتلا کسی بیمار کی طرح کردار نگار کا دامن پھاڑ کر اسکا پیٹ بھی ناچنے والیوں کی طرح ننگا کرنے کی کوشش کرنے لگی …وہ کبھی اپنے چہرے سے رگڑ رگڑ کے میک اپ اتارتی جاتی اور اس کے چہرے پر ملتی جاتی کبھی اپنا ہار سنگھار کھینچ کھینچ کر اسکے چہرے اور گردن کے گرد زبردستی سجانے لگتی.”. شراب کے نشے میں دھت تماش بین دونوں کے ساتھ ساتھ دلال کو بھی گالیاں بکنے لگے.. کہانی نگار کی تو جیسے جان ہی نکل گئی “سنو! خدا کے لیے میری بات سنو، ابھی سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے، تم ،تم طوائف نہیں رھو گی ، …میں، میں قسم کھاتا ھوں کہ تمہاری یہ گھٹیااور تکلیف دہ زند گی بس اب ختم ھو نے والی ہے تمہارا جوڑا زمین پر میں خود اپنے ہاتھوں سے بناؤں گا..بس ایک مو قع دو مجھے .”لکھاری پیچھے ہٹتے
‎ھو ے بولا …وہ ایک لمحے کو ٹھٹھک گئی .. اس کی کئی راتوں سے جاگتی آ نکھوں میں تشکر کے آنسو جھانکنے لگے وہ روتے ھو ے کسی ایسے بچے کی طرح بہل گئی جسکو من پسند چیز مل گئی ھو اپنی قسمت میں لکھے ھو ے کردار کے ہاتھوں مجبورھو کر نہ جانے کتنی مدت سے ناچتے اور مردانہ درندگی کی اذیت اٹھاتےاسکے تھکے بدن میں جیسے جان آ گئی ..وہ خوشی کے مارے پاگلوں کی طرح لکھاری کو کوٹھے کی داہنی دیوار کی جانب دھکیلنے لگی دونوں کو بھاگتا دیکھ کر گالیاں بکتے ایک تماش بین نے ہاتھ میں پکڑا ادھ بھرا گلاس پوری طاقت سے دونوں پر دے مارا ..گلاس بھاگتے لکھاری کی عین گردن پر لگا . درد کی شدت سے سے اسے چکر آگیا ..وہ لڑکھڑا تا ہوا دیوار سے جا ٹکرایا اور غڑپ کی آواز کے ساتھ پھر سے ایک کمرے میں آن گرا .اس نے اجنبی کمرے کو پہچاننے کی کوشش کی کہ کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی یک دم پھر تبدیل ہوگئی ..وہ اپنے کمرے میں موجود تھا اس کے جسم میں درد کا نام و نشان تک نہ تھا ..وہ لباس درست کرتا زمین سے اٹھ کھڑا ھوا ۔چھت سے لٹکتے پتلے اپنے ھاتھوں اور دانتوں سے گرہیں کھولنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ صوفہ کی سمت مڑا کہ ایک اور کردار اسکا انتظار کر رہا تھا .اسی کے صوفے پر بیٹھا ولن (بد معا ش) شکست خوردہ انداز میں مسکرایا “میری کہانی تو کب کی ختم ھوچکی. اس میں توتم نے ردوبدل کی گنجا ئیش ہی نہیں چھوڑی.. “ولن صوفے سے اٹھ کر اسکی سمت چلنے لگا “ٹھک ٹھک ٹھک “اسکے بوٹوں کی سخت ایڑیاں پتھر کے فرش پر گونجنے لگیں..”ٹھک ٹھک ٹھک”..کردار با لکل سر پر آ ن پہنچا.””

‎لکھاری ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اسکی سانس کسی دھو نکنی کی مانند تیز تیز چل رہی تھی ..خوفناک خواب ختم ھو چکا تھااس کا پورا جسم سردی کے با وجود پسینے سے شرابور تھا..وہ صوفے پر اسی حالت میں بیٹھا تھا اسکے پاس ولن (بد معا ش)گڈا بالکل بے جان پڑا تھا…سامنے ٹی وی کی سکرین پہلے کہ طرح روشنیاں بکھیر رہی تھی سیب کی کٹی ہوئی قاشیں پلیٹ میں پڑی پڑی سیاہی مائل ہو رہیں تھیں . لکڑیاں نہ جانے کب کی جل کر راکھ ہو چکیں تھیں کمرہ ہر طرح کے جیتے جاگتے تصوارتی کرداروں سے با لکل خا لی تھا ..پتلے ہمیشہ کی طرح کمرے کی فضا میں خاموشی سے محو رقص تھے .. “اوہ خدایا !کتنا بھیانک خواب تھا”اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر دوبار ہ صوفے سے ٹیک لگا نے کی کوشش کی

‎ “ٹھک ٹھک ٹھک ”
‎اب کہ آواز بہت بلند تھی .. وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر کمرے کے دروازے کے سمت خوف و حیرانگی سے تکنے لگا …اسکی آنکھ درحقیقت کمرے کے دروازے پر ہونے والے دستک نما شور کی وجہ سے کھلی تھی دروازہ ایک زور دار ٹھوکر کی آواز سے کھلا اور اجنبی کمرے میں داخل ہوگیا ..دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے تک رہے تھے ….

‎وہ گھر سے نکل کر شہرکو چل دیا…شہرکے جانے پہچانے چور راستوں سے ہوتا ہوا وہ تنگ و تاریک گلیوں کی بھول بھلیوں میں جیسے گم ہوگیا مدھم روشنیوں اور اندھیروں میں جلتا بجھتا جسم اپنی مخصوس چال چلتا بالاخر شہر کی مشہور مسجد اور اسکے اونچے میناروں کے دامن میں واقع ایک ڈھلوانی اور نسبتا کھلی گلی میں داخل ہو گیا گلی کے ماتھے پر کلنک کی طرح بلدیہ کی طرف سے آویزاں کپڑے کا بینر جنسی روابط میں احتیاط کرنے اور خود کو ہمیشہ اپنے جیون ساتھی تک محدود رکھنے کا پیغام دیتے دیتے فطری قوتوں کے ہاتھوں ہمیشہ کی طرح دھجیوں میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا..شہر کے اجڑے ہوئے قدیم ثقافتی اور طوائفی مرکز نے اسے یاسیت بھری نگاہوں سے دیکھا .. بوڑھی مگر تجربہ کار بنیادیں اپنی
‎چھا تیو ں پر اٹھتے قدموں کو پہچانتی تھیں کہ آنے والا یہاں صرف بصری تفریح ، موسیقی اور مشہور روایتی دیسی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کی غرض سے نہیں آیا کرتا. . گلی کی نکڑ پر کھلے میڈیکل سٹور کے کاونٹر کی سب سے نچلی خفیہ دراز میں عارضی طور پر مردانہ جنسی طاقت بڑھانے والی گولیوں کی نرم و نازک گتے کی مجبور ڈبیا چاروں شانے چت پڑی تھی .. باربار کھلنے اور بند ہونے کی وجہ سے اسکا منہ ڈھانپنے والی باریک پرت کب کی پھٹ کر اسکا کنوارہ پن چھین چکی تھی ..کبھی ڈبیا میں موجود گولیوں کو ماؤں کی طرح محفوظ رکھنے والے حاملہ جسم بچے جَن جَن کرانہی گلیوں میں نہ جانے کہاں کہاں ادھڑے پڑے تھے….گلی کے ساتھ ساتھ چلتی نالی نے گارےاورغلاظت کے عین نیچے بہاؤ جاری رکھنے والے خارجی سوراخوں کے منہ میں پھنسی چھوٹی چھوٹی ان گنت تھیلیوں کی وجہ سے احتجاجا سڑک پر ہی قے کر دی تھی..وہ اندھیرے میں ڈوبے غلیظ قحبہ خانوں اور نشہ کرنے والوں کی آماجگاہوں سے گزرتا ان اونچے مکانوں کے درمیان پہنچ گیا جنہیں آباد کرنے والے کب کے شرفا کے محلوں میں نقل مکانی کر چکے تھے .. . “بیٹھنا ہے؟”،”ہاں” “کتنے پروگرام ؟”،”دو” وہ لکڑی کے خستہ خال ادھ کھلے کواڑوں کے پیچھے چھپی آنکھوں اور اندھیری گلی میں کھڑے سائے کے درمیان ہوتی سرگوشیاں سنے بغیر بھی سن سکتا تھا..چلتے قدم بالاخر اس اونچے مکان کے سامنے پہنچ گئے جسے وہ حسرت سے دیکھا کرتا تھا . مکان کی پہلی منزل پر بنے جھروکوں کے پیچھے سے جھانکتا آخری دروازہ دل ہی دل میں ہمیشہ اسی عجیب سی اضطرابی کیفیت کے شکار گاہک کا منتظر پایا جاتا مگر شومئی قسمت جب بھی یہ گاہک اپنی محبت کے دروازے پر پہنچتا سختی سے بند کواڑوں کے درمیان اندر سے باہر کی جانب اڑسا ہوا سرخ پردہ دستک دینے والے کو خبردار کرتا کہ اندر پہلے سے گاہک موجود ہے.. زیرو بلب کی روشنی میں بند سیڑھیوں کے چاروں طرف اکھڑا ہوا پلاسٹر، پان کی پیک سے بھری دیواریں اورجا بجا بجھے ہوئے سگریٹو ں کے ٹکڑے اسے آج بھی ہمیشہ کی طرح مانوس لگے ….اس نے قدم بچا کر با ئیں جانب رکھا اور آگے بڑھ گیا .. سیڑھیوں کے فرش پردائیں جانب نہ جانے کب سے پڑی خشک ہوتی غلاظت سے ابھی تک شراب کی بو کے بھبھکے اٹھنا بند نہیں ہوئے تھے. بائیں بازو اور دیوار کا لمحے بھر کا وصل بھی اسکی سیاہ قمیض پرسفیدی کا نشان چھوڑ گیا . پہلی منزل پہ واقع دروازوں اور پردوں کی قطار کے سامنے سے گزرتا وہ آخری دروازے کے بالکل سامنے خاموشی سے کھڑا ہو گیا ..خواجہ سراؤں سے آباد ملحقہ کمرے کی دیواروں کے عقب سے رات کے اس پہر بھی فحش شاعری سے بھرپور موسیقی اور چرس بھرے سگریٹوں کی جلن اسکی سماعتیں اور سانسیں پوری شدت سے محسوس کر رہی تھیں.. ..تیسری دستک پر دروازہ کھل گیا “ہم ابھی شہر چھوڑ کر جارہے ھیں “اس نےحیرت اور نیند بھری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرنہا یت پرسکون لہجے میں کہا..شہر کے خارجی راستے میں پڑتے دریا کے پل پر کھڑے ھو کراس نےہاتھ میں تھما پلاسٹک کا تھیلا دریا میں پھینک دیا “اس میں کیا تھا ؟”عو رت نے آہستگی نے پوچھا ..”کچھ پرانی کتابیں تھیں” اس نے پرسوچ لہجے میں جواب دیا ..دونوں نے دور شہر کی مدھم روشنیوں پر آلوداعی نگاہ ڈالی اور
‎اندھیرے میں غا ئب ہو گئے …کٹے ھو ئےخون آلود ہاتھ دریا کے پانی کو سرخ کرتے جا رہے تھے۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمعلی جبران رانا