Skip to content

کتا اور بستر

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 155
کتا اور بستر
نعیم فاطمہ علوی اسلام آباد پاکستان

گاڑی رکی توغبارے والا فورا گاڑی دیکھ کر پاس آ گیا، اور مسکین سی شکل بنا کر بانو کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ صبح سے بھوکا ہوں۔ کچھ نہیں کھایا۔ تھوڑے سے بسکٹ ہی لے دو۔۔اُس نے بیکری کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
بانو نے شہر کی مشہور بیکری کے دروازے کو دیکھا ۔۔جسے اُس کا شوہر کھول کر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔ اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔غبارے والا کچھ دیر کھڑا آواز لگاتا رہا۔۔۔مگر بانو کی بے توجہی دیکھ کر کسی اور گاڑی کی طرف چلا گیا۔اتنی دیر میں موتیے کے ہار بیچنے والا لڑکا آ گیا۔ اُس نے بازو پر پھولوں کے بہت سے ہار لٹکائےہوئےتھے۔ دائیں ہاتھ میں تین چار ہار پکڑ کر شیشے کو انگلی کی مدد سے بجاتے ہوئےہار خریدنے کی تکرار کرنے لگا۔بانو نے گھور کر اُسے دیکھا۔اور پھر سامنے دیکھنے لگی۔موتیے کے ہار والا توجہ نہ پاکر سمجھ گیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔۔اور وہ بھی کسی اور منزل کی طرف چلا گیا۔۔۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی آئی اور شیشہ صاف کرنے لگ گئ۔ بانو نے بہت منع کیا، مگر وہ شیشہ صاف کرتی رہی۔۔۔۔۔کرتی رہے۔ میری بلاء سے بانو نے اسے بھی گھور کر دیکھااور گاڑی کے دروازوں کو لاک کر لیا۔
شام کے اخبار بیچنے والے نے دور سے اخبارلہراتے ہوئےکہا باجی اخبار لے لو۔۔۔مگر بانو نے اس کی طرف بھی توجہ نہ دی۔ گاڑی کے شیشے سے گھورتے ہوئےاس شخص کو بھی بانو نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھاجس نے ہاتھ میں اسلامی کتابیں پنجسورے اور کچھ تصبیحیں پکڑی ہوئ تھیں۔۔۔۔سوئیاں کلپ بیچنے والی بھی بانو کی توجہ نہ حاصل کر سکی۔گاڑیاں بیچنے والے رنگ برنگے ڈسٹر بیچنے والے نے بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور گاڑی کے پاس جا کر ایک آواز ضرور لگائ۔
اتنی دیر میں اس کا شوہر بیکری سے ایک ڈبہ اٹھائے آگیا۔ مانگنے اور بیچنے والوں نے ایک اور ہلہ بولا۔۔۔مگر یوسف نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا بیٹھا اور بے رحمی سے بند کر لیا۔۔۔ مانگنے والے ادھر ادھر ہوئے۔۔۔تو اچانک بانو کی نظربیکری کے ساتھ منسلک فٹ پاتھ پر پڑی ایک میلا سا بستر اور میلا سا لحاف دیوار کے ساتھ بچھا ہوا تھا۔بستر کے ایک طرف دوتین برتن پڑے ہوئے تھے۔جس میں ایک گلاس ایک پلیٹ اور چند بوسیدہ لفافے تھے۔ بستر کے اوپر لھاف آدھا بچھا ہوا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ ہی دیر پہلے کوئی اس لحاف سے نکل کر گیا ہے۔ اور اب اس بستر کو خالی دیکھ کرایک کتا مزے سے بیٹھا آرام کر رہا تھا۔
گاڑی ریورس ہو کر مین روڈ پر آ چکی تھی اور اب تیزی سے منزل کی طرف چلنے لگے تھی۔فٹ پاتھ پر لگے بستر کے اندر کتا دیکھنےکامنظر بہت جلد نظر سے تو اوجھل ہو گیا مگر دل کے نہاں خانوں میں اتر گیا۔ یوں تو وہ کافی دیر سے ان بھک منگوں کو اپنی تلخ نظروں اور غصیلے لہجے سے بھگاتی رہی۔ مگر یہ بستر اور کتا۔۔۔تو گویا اس کی آنکھوں میں بس گیا تھا۔۔۔کون تھا وہ؟۔۔۔جو رات کے گیارہ بجے یقینا ان سڑکوں پر بھیک مانگتا ہو گا۔ اور پھر سخت سردی میں کتے کو ہٹا کر اس بستر میں سوئےگا۔۔دل کے نہاں خانوں میں کتا آنکھیں کھولتا بند کرتا۔۔۔زبان نکالتا آرام کرتا۔۔۔۔ایسا گھس بیٹھاکہ کہیں جانے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس نے بہت کوشش کی پتھر مارے ڈنڈے برسائے۔۔لعن طعن کی۔۔ دھکے دیے۔۔ مگر وہ کتا اور فٹ پاتھ پر بچھابستر اس کی جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔اس شہر میں اس کا قیام ایک رات ہی کا تھا۔۔اگلے دن اسے واپس گھرآنا تھا۔ یوسف اپنے دفتری کام نمٹا کر آیا اور وہ بعد دوپہر اپنے گھرکی طرف روانہ ہو گئے۔ جوں جوں گاڑی چلتی رہی وہ شہر جہاں اس کا رات بھرکا قیام رہا تھادور سے دور ہوتا چلا گیا۔ مگر اسے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے وہ کتا اور بستر گاڑی کے پیچھے سڑک پر گھسٹتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
زخم کتنا بھی بڑا ہو گھاوکتنا بھی گہرا ہو وقت کی دھول میں بلآخرمندمل ہو ہی جاتا ہے۔۔۔بانو کی کسک بھی قدرے کم ہو گئ۔مگر ختم نہیں ہوئ تھی۔وہ جب اپنے اجلے بسترپر لیٹتی تو کچھ ہی دیر میں تڑپ کر اٹھ جاتی۔ تصور کی آنکھ سے بیکری کے ساتھ کونے میں لگے اس بستر اور کتے کے پاس پہنچ کر بیٹھ جاتی۔
اس واقعے کو گزرے کافی دن ہو گئے تھے۔یوسف اپنے دفتری کاموں میں مصروف ہو گیا۔۔اسے پتہ ہی نہ چلا کہ اس کی بیگم نے اندر ہی اندر کیا روگ پال لیا ہے۔۔مگر وہ یہ ضرور محسوس کر رہا تھا کہ بانو جب ملتان سے آئی ہے بجھی بجھی سی ہے۔۔ بانو اور یوسف کی سالگرہ کا دن آ پہنچا اتفاق سے لمبا ویک اینڈ بھی تھا۔۔ یوسف نے بانو کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئےکہا۔۔۔بانو بولو اس دفعہ سالگرہ پر کیا تحفہ لو گی۔
جو مانگوں گی دے دو گے۔ ہاں ہاں مانگو تو سہی۔۔تم بھی کیا یاد کرو گے کہ کس سخی سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔بولو بولو۔۔۔
بانو نے سنجیدگی سے یوسف کا ہاتھ پکڑا کر وعدہ لیا۔۔ اور اسے اپنے دل کاحال سناتے ہوئے کہامجھے اس بیکری کے پاس بچھے بستر کے پاس لے چلو میں اس شخص سے جس کا وہ بستر ہےملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ ورنہ گھٹ گھٹ کے مر جاوں گی۔۔یوسف نے دیکھاکہ بانو تو بہت سنجیدہ ہےاور مذاق نہیں کر رہی واقع ہی اس کے دل پر چوٹ لگی ہے۔۔یوسف نے فورا وعدہ کر لیا کہ کل ملتان چلیں گے۔ اس بیکری کے پاس رات گئےتک میں تمہارا اانتظار کروں گا۔ اور ہم دونوں مطلوبہ شخص کو یقینا ڈھونڈ لیں گے۔
شام کے سائےگہرے ہونے لگے۔ اور وہ اس چوک پر پہنچ چکے تھے۔جس سے چند قدم پر وہ بیکری نظر آرہی تھی جہاں بانو چند لمحے رکی تھی۔ مگر ایک گہری چوٹ لے کر واپس آئی تھی۔ گاڑی سرخ بتی پر رکی اور جھٹکے کے ساتھ بند ہو گئ۔۔چوک پر گاڑی کو دیکھ کر یوسف کچھ گبھراگیا اس نے بارہا سیلف دینے کی کوشش کی مگر گاڑی سٹارٹ نہ ہوئِ۔۔اتنی دیر میں ایک لنگڑا آدمی لاٹھی کا سہارا لے کر گاڑی کیطرف بڑھا۔۔اس کے ہاتھ میں رنگ برنگے ڈسٹر تھےاس نے ڈسٹر کندھے پر رکھے اور گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کرنے لگا۔۔ اسے محسوس ہوا گاڑی محض اس کے دھکے سے سٹارٹ نہیں ہو گی اس نے فٹ پاتھ پر چلتےہوئےلوگوں کو آواز دی چوک پر گاڑی رکنے سے کافی پریشانی ہوئ۔ ہارن بجنے لگے اور گاڑیاں دائیں بائیں سے ہو کر گزرنے لگیں دو تین لوگوں نے مل کر دھکا لگایا تو گاڑی سٹارٹ ہو گئی یوسف کی جان میں جان آئ، فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگ اپنی منزل کی طرف چلے گئے اور لنگڑا بھی بغیر کسی تعریف وتحسین وصول کئے ڈسٹر بیچنے میں مشغول ہو گیا۔۔یوسف نے چوک کراس کرتے ہوئے بیکری کے پاس گاڑی روکی اور اس لنگڑے کی طرف اس کا شکریہ ادا کرنے چلا گیا ۔۔بانو گاڑی سے نکل کر اس کونے کو دیکھنے لگی۔۔جس کونے میں اس نے چند ہفتے پہلے کتے اور بستر کو دیکھا تھا۔۔ اب اس کونے میں نہ تو بستر تھا۔۔نہ برتن نہ میلے کچیلے شاپر بیگ۔۔وہ بہت مایوس ہوئ۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔اس نے سوچا آج پھرمیں اس کسک کے ساتھ واپس جاوں گی۔۔تو کیسے جی پاوں گی۔ اچانک اس کی نظر درخت پر پڑی ۔۔۔ملگجے اندھیرے میں درخت کے ساتھ بندھا بستر نظر آیا۔ بانو نے سوچا یہ یقینا اسی کا بستر ہے امید کا شعلہ لپکا اتنی دیر میں یوسف اس لنگڑے کو ڈھونڈکر لے آیا جس نے آج اسے ایک بڑی خفت سے بچایا تھا۔۔۔۔کہاں رہتے ہو۔۔میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔۔چھوڑیں صاحب جی۔۔۔ میں نے ایسا کیا کیا ہے۔۔۔ گاڑی کو دھکا ہی تو لگایا تھا۔۔۔۔دن رات دھکے کھانےوالوں کو دھکوں کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہو گا تو کس کو ہوگا۔ مگر دھکے کھانے اور دھکے دینے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔کہاں رہتے ہو یوسف نے ایک دفعہ پھرسوال کیا۔۔۔۔بیکری کے اس کونے میں۔۔۔درخت کے ساتھ بندھا بستر میرا ہی ہے دن کو باندھ دیتا ہوں۔۔۔رات کو بچھا لیتا ہوں۔۔۔۔
میرے ساتھ چلو گے۔۔۔کہاں۔۔۔میرے گھر۔۔۔۔ کیوں مذاق اڑاتے ہو صاحب جی۔۔۔ہم جیسوں کو گھر میں کون رکھتا ہے۔
نوکری کرو گے ۔۔۔تنخواہ کے ساتھ رہائش بھی دوں گا۔۔۔۔
دراصل مجھے چوکیدار کی ضرورت ہے۔۔۔ ۔۔میرے پاس تو شناختی کارڈ بھی نہیں جی ۔۔۔اورآپ میرا حسب جانتے ہیں نہ نسب۔۔۔۔ انسانیت سے بڑا نسب کیا ہوتا ہے۔۔۔بولو چلوگے۔۔۔۔۔ دو موٹے موٹے آنسو لنگڑے کی آنکھ سے نکل کر اس کا دامن بھگونےلگے۔۔۔۔سر تسلیم خم دیکھ کر یوسف نے اس سے کہا۔آو بیکری سے کچھ کھانے کی چیزیں لے لیں۔۔۔بیکری کے دروازے پر کھڑے چوکیدار نے لنگڑے کو یوسف کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھاتو فیصلہ نہ کر پایا کہ اسے روکوں یا جانے دوں۔۔۔
بیکری سے باہر فٹ پاتھ پر رہنے والا لنگڑا آج پہلی دفعہ اس بیکری کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔۔۔وہ روئےیا ہنسے۔۔۔چیخے یا چلائے۔۔۔ مستقبل کی ساری امیدوں کو اکٹھا کرکے اس نے کشتی میں رکھا اور بادبان یوسف کے ہوالے کردیا،

Published inعالمی افسانہ فورمنعیم فاطمہ علوی