Skip to content

کبوتر آباد

افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 17

کبوتر آباد

ڈاکٹر ریاض توحیدی(کشمیر)

کشمیر کے برفیلے نظارے…. آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ ساتھ تخیل کو بھی ایک حسین برفیلی کشش کا قیدی بنا دیتے ہیں۔انسان دنیا ومافیہاسے بے خبر ہوکر فینٹسی کے ایک ایسے سحرانگیزعالم کا اسیر ہوجاتا ہے کہ جہاں سفید برف کی چمکیلی کرنیں احساس کے آبشاروں میں مترنم سر بھر دیتی ہیں۔ آنکھوں کو حد نگاہ تک زمین کے اوپر برف کے سفید قالین ہی قالین نظر آتے ہیں‘پیڑوں کی شاخیں چاندی کی لڑیاں اور پہاڑیوں کے برفیلے منظر حسین و جمیل صنعت گری کی دلفریب عکاسی کرتے ہیں۔بہار میں کشمیر کا حسن جتنا فردوس نگاہ ہوتا ہے اتنا ہی سرما کا برفیلا نظارہ بھی مسحور کن ہوتا ہے۔ وہ ایک پہاڑی علاقہ تھاجہاں کے لوگ آج کے جدید دور میں بھی کم ہی جدید تعلیم سے آشنا تھے۔ یہاں پر روایتی انداز کی مکتبی تعلیم کا چلن عام تھااور چھوٹے بچے صبح سویرے کسی مکتب میں جاکر زیادہ تر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس کے باوجود یہ علاقہ خوشحال تھا۔زمین بھی زرخیز تھی اس لئے لوگ زراعت کے پیشے کو محبوب رکھتے تھے اور ضر وریات زندگی بھی بھیڑ بکریوں اور مویشیوں کی دیکھ ریکھ سے پوری ہوجاتی تھیں۔اس کے علاوہ یہاں کے لوگ کبوتر پالنے کے شوقین تھے۔اسی لئے اس گاؤں کا نام کبوتر آباد تھا۔ چند لوگوں کے بچے جدید تعلیم کے لئے قصبہ جات میں جاتے تھے کیونکہ ان کے والدین یا رشتہ دار وہاں پر محنت مزدوری کرتے رہتے۔یہ دوردراز علاقہ کشمیر کا حصہ ہونے کے باوجود پُرآشوب حالات کی قہرمانیوں سے بے خبر تھا۔کبھی کبھی جب کوئی بندہ ریڈیو نیوز میں کشمیر کے حالات کے بارے میں سنتا تو وہ دوسرے لوگوں کو بتاتا رہتا لیکن یہ باتیں زیادہ تر لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہی ہوتیں اور وہ بھی اس طرف کچھ زیادہ دھیان نہیں دیتے تھے۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بیشترلوگ خراب حالات کے ڈر سے قصبوں کا رخ نہیں کرتے تھے کہ کیا پتہ وہ بھی کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں اور گھر والوں کو پتہ تک نہ چلے۔ کیونکہ ایسا کئی بار ہوا بھی تھا۔

گُل اور گُلشن کا بچپن بھی اسی فردوسِ نگاہ اور مسحور کن ماحول میں پروان چڑھا تھا۔ دونوں کے خوبصورت چہروں سے لگتا تھا کہ جیسے کسی پھلواڑی کے دوگلاب ہوں اور جب بات کرتے تھے تو جیسے کسی چمنستان کے آزادبلبل ہوں جو صرف چہکنا جانتے ہوں۔دونوں ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ رشتہ دار بھی تھے۔بچپن سے ساتھ ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور کھیلتے کودتے۔ایک دن جب گلشن نے برف سے گل کا برفیلا بت بنانا شروع کیا تو ایک گھنٹے کے بعد گل کو بلایا کہ ذرا وہ بھی دیکھیں کہ اس نے کتنا خوبصورت بت بنایا ہے۔گل یہ سن کر جب گھر سے باہر نکل آیا تواپنا بت دیکھ کر خوش ہوا لیکن جونہی اس کی نظر بت کی ناک پرپڑی جو کہ کوئلے کی وجہ سے کالی تھی تو وہ دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بہت دیرتک دوڑتے رہے اور برفیلی گیندیں ایک دوسرے پر پھینکتے رہے۔عجیب قسم کا فطری ماحول تھا۔دونوں بچے خرگوشوں کی طرح برف کے اوپر دوڑتے گرتے رہتے۔گل با نسری بجانے میں ماہر تھا۔یہ مہارت اس نے اپنے دادا جان سے پائی تھی۔وہ جب بہار کے موسم میں کسی درخت کی ٹہنی پر بیٹھ کر بانسری بجاتا تو نہ صرف بانسری کی مسحور کن آواز سے جنگلی پرندے محظوظ ہوجاتے بلکہ بھیڑ بکریاں بھی گھاس چرتے چرتے جیسے ناچتے رہتیں اور گلشن بھی وجد میں آکر ایک ناگن کی طرح رقص کرتی رہتی۔دوسرے لوگ بانسری کی آواز سن کر دائرے کی صورت میں بیٹھ جاتے اور بانسری کی آواز اورگلشن کے رقص سے محظوظ ہوجاتے۔گلشن جب سفید لباس پہنے سر پر خوبصورت مٹی کا مٹکا اٹھائے چشمے سے پانی لاتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے کنول کے اوپر چاند رکھا ہوا ہو۔زندگی کے ایام اسی طرح خوشحالی سے گزررہے تھے۔

ایک دن جب یہ دونوں بھیڑ بکریوں کے ساتھ گھر لوٹ رہے تھے تو گلشن کی ایک سہیلی راستے میں انہیں دیکھ کر کھل کھل کرہنسنے لگی۔گلشن نے جب ہنسنے کی وجہ پوچھی تو یہ سن کر گلشن کے گالوں پر شرم سے سرخی پھیل گئی کہ تمہارے گھر والوں نے تم دونوں کا رشتہ جوڑ دیا ہے۔گل نے بھی جب یہ غیر متوقع خبر سنی تو وہ بھی پسینے سے شرابور ہوگیا۔دونوں جب اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو وہاں پر خوشی کا سماں تھا۔چند مہینوں کے بعد دونوں کی شادی ہوگئی۔ گل تو اب بھی بانسری بجاتا تھالیکن گلشن رقص کرنے میں ہچکچاتی رہتی لیکن پھر گل اور دوسرے لوگوں کے اصرار پر دوبارہ ناگن کا رقص شروع ہوجاتا۔

ایک دفعہ کئی روز تک زوردار برف باری ہوئی اور دور دور تک زمین کی اوپری سطح برف سے ڈھک گئی۔گل اور گلشن کے علاوہ دوسرے لوگ بھی گاؤں کے نزدیکی چشمے پر موجود تھے۔چند لوگ چشمے سے برف ہٹا رہے تھے تاکہ برف کی تہہ میں موجود پانی نکالنے میں عورتوں کو آسانی ہوجائے۔اسی دوران جنگل کی طرف سے کچھ سائے سے نمودار ہوئے جیسے بستی کی طرف کالے بھالو بڑھ رہے ہوں۔ سب لوگ متحرک ہوگئے کیونکہ کبھی کبھار زیادہ برف باری کی وجہ سے جنگلی جانور بستی کی طرف رخ کرتے تھے۔ لیکن جب یہ سائے تھوڑا نظروں کے اور قریب آگئے تو لوگوں کو اطمینان ہوا کہ یہ کوئی بھالووالونہیں بلکہ بھالوؤں کی کھال اوڑے انسان ہی ہیں۔ یہ لوگ ابھی چشمے سے برف ہی ہٹا رہے تھے کہ یہ بھالو نما انسان نزدیک پہنچ گئے اور سب لوگوں کو ہاتھ کھڑے کرنے کا حکم دیا۔ یہ لوگ پریشان ہوگئے اور چند لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔جب ان میں سے ایک آدمی نے ہاتھ اوپر اٹھا کرکے دکھایا تو سبھی لوگ سمجھ گئے اور اپنے اپنے ہاتھ اوپر کرنے لگے۔ گل نے جونہی ہی فرن سے ہاتھ باہر نکالا اور کانگڑی کے ساتھ ہاتھ اوپر کئے تو ان لوگوں نے ہتھیار کے اشارے سے اسے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔گل کچھ کہہ دیتا اس سے پہلے گلشن نے اس کے ہاتھ سے کانگڑی چھینی اور اس میں سے آگ پھینک کر دکھایا کہ اس میں آگ ہے۔اسی دوران گاؤں کا ایک نوجوان جو قصبے میں پڑھتا تھا وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے جب ہتھیار بند فوجیوں کو دیکھا تو سبھی لوگوں سے کہا کہ یہ ہندوستانی فوج ہے جو سرحدوں اور قصبوں میں ہوتی ہیں۔اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔نوجوان کو دیکھ کر فوجی بھی خوش ہوئے کہ کوئی تو ہے جو ان کو پہچان پایا اور بات بھی سمجھ رہا ہے۔فوجیوں نے اسے بتایا کہ سارے گاؤں کے سبھی مردوں کو یہاں پر بلاؤ۔نوجوان نے چند لوگوں کو بتایاکہ وہ گھرگھر جاکر لوگوں کو چشمے پر جمع ہونے کے لئے کہیں۔وہ لوگ چلے گئے تو فوج کا افسراپنا اور اپنی فوج کا تعارف کرانے لگا۔ افسر کا حلیہ کچھ عجیب سا تھا۔اس کی کالی چمڑی اور موٹی ناک دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے وہ واقعی بھالو ہے۔افسر نے اپنا مختصر تعارف دیا اور تھوڑا بہت گاؤں سے متعلق پوچھا۔جب بیشتر لوگ جمع ہوگئے تو افسر بول پڑا:

” ہاں تو اس گاؤں کا نام’کبوتر آباد‘ ہے۔ہمیں اطلاع ملی ہے کہ اس گاؤں میں سرحد پار سے اُگروادی آتے رہتے ہیں

اور آپ میں سے کچھ لوگ ان کے ہیلپر ہیں‘ اس لئے آپ لوگ ہماری مدد کرو اور ان اُگروادیوں کے بارے میں

ہمیں بتاؤ۔ لوگوں کو پیسہ بھی دیا جائے گا۔ہمیں امید ہے کہ کبوتر آباد کے لوگ زیادہ غٹرغوں غٹرغوں نہیں کریں گے بلکہ

کبوتروں کی طرح امن کی علامت ثابت ہونگے۔“

افسر کی باتیں سن کر لوگ کانا پھوسی کرنے لگے اور چند باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آئیں۔گاؤں کے نوجوان نے جب بھانپ لیا کہ لوگ اُگروادی یا ہیلپرکا لفظ سمجھ نہیں پارہے ہیں تو اس نے گاؤں والوں کو آسان لفظوں میں سمجھایا کہ فوج کہتی ہے کہ اس گاؤں میں سرحد پار سے دشمن آتے ہیں۔اس لئے تم لوگ ہمیں ان کے بارے میں بتا دو۔یہ سنتے ہی لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور نوجوان سے سے کہا کہ یہاں پر ہم نے آج تک کسی بھی دشمن کو نہیں دیکھا ہے۔افسر نے جب یہ بات سنی تو اس کی آنکھیں لال ہوگئیں اور وہ پھنکارنے لگا:

”اگر تم لوگ سیدھے طور پر نہیں بتاؤ گے تو ہمیں منہ کھلوانا آتا ہے۔“

افسر نے ایک رات کی مہلت دے کر انہیں اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لئے کہا۔لوگ جب جانے لگے تو افسر نے گلشن کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔گلشن ڈر گئی لیکن گل اور نوجوان کے ساتھ افسر کے سامنے کھڑی ہوگئی۔افسر نے اس پر سر سے پیر تک ایک ترچھی نظر ڈالی اور کانگڑی کے بارے میں پوچھ بیٹھا۔گلشن کی بجائے نوجوان نے کانگڑی کے بارے میں بتایا کہ ہم لوگ سردیوں میں اس کا استعمال کرتے ہیں۔اس کے اندر آگ ڈالی جاتی ہے اور فرن یعنی چغاکے اندر رکھتے ہیں۔اور کبھی کبھی لڑائی جھگڑے کے وقت کانگڑی سے ایک دوسرے پر وار بھی کرتے ہیں۔ سبھی لوگ ہنس پڑے۔تھوڑے وقفے کے بعدافسرکہنے لگا کہ دراصل ہم آج پہلی بار کشمیر آئے ہیں۔ہمیں جہاز کے ذریعے یہاں سے چند کوس دور اتارا گیا اور نقشے کے مطابق یہاں پر آگئے۔اس لئے ہمیں یہاں کے بارے میں کچھ زیادہ پتہ نہیں ہے۔ افسر نے جب نوجوان‘ گل اور گلشن کے نام اور کام کے بارے میں پوچھا تونوجوان نے افسر کی باتیں سن کر اپنا تعارف اور ان دونوں کے نام اور کام کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ سر یہاں پر کوئی اُگر وادی نہیں آتا ہے اور آپ کی بات سن کر گاؤں والے بھی ایک دوسرے کو یہی بتا رہے تھے۔افسر تیوری چڑھا کر بولا کہ وہ دیکھناہمارا کام ہے۔آپ صرف ایک کام کرو‘گاؤں کے مردوں سے کہنا کہ کل دوبارہ یہاں پر آئیں اور زمین کھودنے کے اوزار اور بوریاں بھی ساتھ لائیں‘ کل اُس پہاڑی پر بنکر بنانے ہیں۔اُگر وادی وہاں سے ہی آتے ہونگے۔نوجوان نے یہ سن کر کچھ اور نہیں کہا کیونکہ اس نے قصبے میں فوجیوں کا سب حال دیکھا تھاکہ ان کے ساتھ بحث کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ٹھیک ہے سر کہہ کر وہ وہاں سے گل اور گلشن کے ساتھ چلا گیا دوسرے دن سارے گاؤں والے بنکر بنانے پر لگا دئے گئے۔ چند دنوں کے اندر

پہاڑی کیمپ میں تبدیل ہوگئی۔گاؤں والوں کو کئی دنوں تک کام کرنے کے بدلے ایک ایک کلو کھانڈ اور تھوڑا بہت آٹا دیا گیا۔کئی روز تک فوج گاؤں میں گشت کرتی رہی۔جب ان کی تعداد بڑھ گئی اور بہت سارے فوجی اور بھی آگئے تو رات کے وقت لوگ دیر تک پہاڑی کے خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہوتے رہتے کیونکہ ان کے گھروں میں صرف لاٹین‘شمع یا چراغ کی روشنی ہوتی تھی جبکہ کیمپ میں جنریٹر چلنے کی وجہ سے پہاڑی برقی قمقموں سے جگمگا اٹھی تھی۔ لاٹین اور شمع گاؤں میں دستیاب تھے کیونکہ گاؤں کے چند لوگ ہفتہ بھر کے لئے قصبوں میں جاتے تھے اور گھوڑوں خچروں پر سامان لادکر لاتے تھے۔ان لوگوں نے گھروں میں ہی چھوٹی چھوٹی دکانیں سجائی تھیں۔ان لوگوں کی وجہ سے گاؤں والوں کی معشیت بھی چلتی تھی کیونکہ یہ لوگ گاؤں والوں سے بھیڑ بکریاں اور دال چاول بھی خریدتے رہتے اور قصبوں میں فروخت کرتے تھے۔ گاؤں کے بیشتر مکان لکڑی کے بنے ہوئے تھے کیونکہ مقامی جنگل دیودار اور کایرو کے درختوں سے بھرا پڑا تھا۔کہیں کہیں گاؤں میں مٹی سے بنے کوٹھے بھی نظر آتے تھے۔ مکانوں کی چھت جنگل کی ایک مخصوص گھاس(گھمئی) سے بنائی جاتی تھی۔یہ گھاس اس لئے بھی اہم تھی کہ جب چھتوں پر برف جم جاتی تو خودبخود پھسل کر زمین پر گرکر چھت کو بھی ٹوٹنے سے بچاتی۔

ایک دن سارے گاؤں کا کریک ڈاؤن کیا گیا اور گھر گھر تلاشی لینے کے بعد کئی نوجوانوں کو کیمپ بھی لے جایا گیا۔ وہاں پر ان کا زبردست انٹروگیشن کیا گیا اور جب کوئی بھی سراغ نہیں مل پایا تو انہیں چند دنوں کی مہلت دے کر یہ کہہ کر چھوڑا گیا کہ دوبارہ پوری انفارمیشن کے ساتھ حاضر ہونا نہیں تو پھر پتہ نہیں تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔فوج کا وحشیانہ پن دیکھ کر سارے گاؤ ں والے خوف زدہ ہوگئے۔ وہ سوچنے لگے کہ جب یہاں پر کوئی بھی دشمن نہیں آتاہے تو ہم فوج کو کیا بتائیں گے۔اور پتہ نہیں یہ کیا کیا اُگروادی کہہ رہے ہیں‘ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا ہے۔گاؤں والے ایک گھر میں اکھٹا ہوئے اور صلح مشورہ کے بعد نوجوان اور چند بزرگوں کو کیمپ پر جانے کی صلح دے دی کہ وہ فوجی افسر کو بتائیں کہ یہاں پر کوئی بھی دشمن ہم نے نہیں دیکھا ہے۔اگر کبھی نظر آیا تو آپ کو اطلاع دیں گے۔یہ لوگ شام کے وقت کیمپ پر چلے گئے۔کئی گھنٹوں تک افسر کے ساتھ گفتگو چلتی رہی۔افسر نے ان کی باتیں سن کر کہا کہ چلو دیکھیں گے لیکن ہم رات کے وقت بھی تلاشی لینے کے لئے آتے رہیں گے تاکہ پتہ چلے کہ واقعی اس گاؤں میں اگروادی آتے ہیں کہ نہیں۔ تمام لوگوں کو چلے جانے کا حکم ہوا سوائے اس نوجوان کے۔

آدھی رات کا وقت تھا۔ چاند کی روشنی برف کی چمک کو اور چمکا رہی تھی۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔اچانک گل کے دروازے پر دستک ہوئی۔ لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر دروازہ زور زور سے کھٹکھایا گیا۔سارے گھر والے ڈرکے مارے ایک کمرے میں سہم گئے۔ باہر سے جب گل درواز ہ کھولو کی آواز آئی توگل نے نوجوان کی آواز پہچانی۔اس نے دروازہ کھولا۔نوجوان کو دیکھتے ہی گل کی جان میں جان آئی۔لیکن اسی دوران جب نوجوان کے پیچھے چند فوجیوں پر نظر پڑی تو گل پہلے سر کے اشارے پھر زبان سے پوچھ بیٹھاکہ کیا بات ہے۔نوجوان گل کو مکان کے اندر لے گیااورکہا کہ مجھے افسر کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے اس لئے ذرا ہمت سے کام لینا۔اصل میں یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ مکان کی تلاشی لینی ہے لیکن پتہ نہیں باقی کیا ارادہ ہے۔اسی دوران ایک فوجی کی زوردار آواز آئی کہ سب گھر والے باہر نکلو۔سب لوگ خوفزدہ ہوکر مکان سے باہر نکل گئے۔فوجی مکان میں تلاشی کے بہانے داخل ہوگئے۔تقریباََ آدھے گھنٹے کی تلاشی کے بعد جب وہ خالی ہاتھ مکان سے باہر آئے تو افسر نے پوچھا کچھ سراغ ملا کہ نہیں۔ایک فوجی نے جب نفی میں سر ہلایا توتھوڑی دوری پر یہ لوگ دھیمی آواز میں باتیں کرنے لگے اور ایک فوجی گل کے پاس آکر کہنے لگا کہ صاحب کو گلشن سے کچھ پوچھناہے۔ گل نے بیوی کو بلایا اور اس کے ساتھ افسر کے پاس چلا گیا۔ افسر نے جونہی بات کرنے کے لئے منہ کھولا توعجیب قسم کی بو سے گلشن کو الٹی آنے لگی۔شراب کا نشہ اس کی آنکھوں کی سرخی سے بھی ظاہر ہورہا تھا۔ افسر بات کرتے ہوئے گل سے پوچھ بیٹھا کہ سنا ہے گلشن کو اُگروادیوں سے کنٹیکٹ ہے۔اس لئے ہمیں اسے ابھی کیمپ پر انفارمیشن کے لئے لے جانا پڑے گا۔گل یہ باتیں کچھ زیادہ نہیں سمجھ پایا لیکن جلدہی نوجوان نے نزدیک آکر گل کو سمجھا دیا۔ گل نے اسے کہا کہ یہ بات غلط ہے ہمیں کسی بھی اگروادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔نوجوان نے جب افسر کو یہ بات بتا دی تو وہ گالیاں بکتے ہوئے گلشن کابازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچنے لگا۔دہشت کے مارے گلشن خود کو افسر کی پکڑ سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی اور گل بھی گلشن کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔اسی دوران چند فوجی گل پر بندوق کا رعب جماتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کرنے لگے۔ افسر نے گلشن کی کنپٹی پر پسٹل رکھا اور دھمکاتے ہوئے دوبارہ اپنی گرفت میں لے لیا۔گھر والے رونے لگے لیکن گل نے ہمت نہیں ہاری۔غصے کی حرارت سے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کالے بھالو کابد صورت چہرہ کانگڑی کے دہکتے انگاروں سے تندور بن گیا۔جلن کی وجہ سے کالابھالواپنے چہرے کو بار بار برف کے اوپر مارنے لگا۔گلشن روتے بلکتے گل سے لپٹ گئی۔گل کا جسم برفیلی ہواؤں کے باجود پسینے سے شرابور تھا۔ آج بھی گل کے منہ سے بانسری کی سریلی آواز نکلی اور گلشن کا کنول جیسا جسم برف کے اوپر رقص کرنے لگا لیکن آج کوئی بھی گاؤں والا بانسری کی آواز سن نہیں رہا تھا اور نہ ہی کوئی ناگن کا رقص دیکھنے کے لئے موجود تھا۔ کیونکہ کبوتر آباد کے امن پسند کبوتر جنگلی چیلوں کے خوف سے سہم گئے تھے او ر ظلم کی تاریکی میں گھونسلوں میں اونگھتے رہے۔لیکن گولیوں کے رقص سے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ نے کبوتر آباد کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کردیا۔

(آج کے جدید دور میں بھی کشمیر کے کئی دیہات جدید سہولیات سے محروم ہیں۔اس لئے یہ فرضی افسانہ عصر حال کا عکاس ہے نہ کہ قدیم زمانے کا کوئی پرانا قصہ۔)

Published inڈاکٹڑ ریاض توحیدیعالمی افسانہ فورممرد افسانہ نگار