Skip to content

کانچ کی گڑیا

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 20
کانچ کی گڑیا ۔
شبیہ زہرا حسینی ۔کاموں پوری انڈیا ۔
یہ روز کا معمول تھا ۔جب بھی گوپی دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد تھکا ہارا گھر لوٹتا تھا، اسکی دس سالہ بچّی رانی بھاگتی ہوئی آکر اسکے پیتوں سے لپٹ جاتی تھی
“باپو میری چوڑیاں کہاں ہیں ۔۔۔؟”
“بٹیا ٹیم نہیں ملا ۔۔لادوں گا ایک روج ۔۔”
وہ ہر روز وعدہ کرتا ۔
گوپی صبح اپنے گاؤں سے قریب ایک قصبہ میں کام ڈھونڈنے کے لئے نکل جاتا تھا ۔اور جو بھی کام مل جاتا ۔۔تھوڑے بہت پیسے کما کر شام میں واپس آجاتا ۔اسکی بیوی ساوتری بھی کھیتوں پر کام کرتی تھی ۔اور اس طرح سے ان لوگوں کی گزر بسر ہو جاتی تھی ۔گوپی اور ساوتری کی شادی کو گیارہ سال ہوگئے تھے ۔
اور ان گیارہ سالوں میں چار بچّوں کی ذمہ داری ان پر آن پڑی تھی ۔اب یہ قدرت کی دین تھی یا انکا اپنا قصور تھا ۔۔۔۔تعلیم کی کمی تھی ۔یا غربت نے عقل خبط کر دی تھی ، جو بھی ہو بہر حال دو بچے ہوتے ہی مر گئے تھے اور چار بچّے روز مر مر کر جیتے تھے ۔دونوں ملکر بس اتنا کما لیتے تھے کہ زندہ رہنے کے لیئے روکھا سوکھا کھانے کو مل جاتا تھا ۔، بچوں کی نشونما کے لیئے جو اور لوازمات ہوتے ہیں ،دودھ ، دہی ،مکھن یہ بچّوں کو خود تو میسّر نہیں ہوتا تھا ہاں گاؤں میں رہنے والے ماسٹر صاحب اور ڈاکٹر صاحب اور پر دھان کے یہاں جب کام کے سلسلے میں اسکی ماں رانی اور اسکے بھائی کو بھیجتی تھی ،تو وہ انھیں کھا تا ضرور دیکھتے تھے ۔اور کام کے عوض میں باسی روٹی اور کبھی کبھی بچی ہوئی سبزی لیکر آجاتے تھے ۔
ان ہی کے گھر میں رانی نے عورتوں اور لڑکیوں کو بھر بھر ہاتھ چوڑیاں پہنتے دیکھا تھا ۔رنگ برنگی کانچ کی چوڑیان رانی کو بیحد پسند تھیں ۔
“آپ کی چوڑیاں بہت سندر ہیں ” ایک بار ڈاکٹر صاحب کی بیوی کا سر دباتے ہوئے اُس نے کہا ۔
“تجھے پسند ہیں چوڑیا ں ؟”
“ہاں بی بی جی جب آپ ہاتھ ہلاتی ہیں اور یہ چوڑیان سور (شور ) مچاتی ہیں تو من کو بھا تا ہے ۔۔چھن ۔۔چھن ۔۔۔۔ کھن کھن کی آواج سوندھی لگتی ہے ۔”
” میں سمجھی ۔۔۔تجھے چو ڑیوں کی کھنک اچھّی لگتی ہے ۔”
کہتے ہوئے انھوں نے اپنی بیٹی کی پرانی چوڑیاں اسکو پہننے کے لئے دے دیں ۔
اس دن رانی بہت خوش تھی ۔چوڑیاں پہن کر گھنٹوں ہاتھ ہوا میں جھلاُ کر لہرا کر ناچتی پھری ۔اور ساتھ اونچی آواز میں گاتی رہی ۔
“باجے چوڑی چھن چھن ۔۔چھن چھن ۔۔۔
چوڑیاں آپس میں ٹکرا کر کھنکتی تھیں تو رانی کا دل خوشی سے بلیوں اچھلتا تھا ۔غریب بچّوں کی بھی کیا چھوٹی چھوٹی خواہشات ہوتی ہیں ۔۔ہلکے پھلکے خواب ہوتے ہیں ۔جو پورے ہوجائیں تو انکومحسوس ہوتا ہے کہ دنیا انکے قدموں میں آگئی ہے ۔رانی کا بھی یہی حال تھا ۔
لیکن دوسرے ہی دن جب وہ پر دھان کے گھر برتن دھونے گئی تو ہاتھ سے پلیٹ پھسل کر گری اور ٹوٹ گئی ۔۔۔پھر کیا تھا قیامت آگئی ۔پر دھان کی بیوی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور غصّہ میں اسکو پیٹنا شروع کر دیا ۔اسکی چوڑی بھی ایک ایک کر کے ٹوٹ گئیں ۔رانی کے جسم پر جو مار کے زخم تھے اس کی تکلیف سے زیادہ اس کو چوڑیوں کے ٹوٹ جانے کا غم تھا ۔بار بار اپنا ننگا ہاتھ دیکھتی تھی اور بسورتی تھی ۔۔۔
” باپو میری ساری چوڑیاں ٹوٹ گئیں ۔۔”
ماں باپ کی نظریں زخموں پر تھیں ۔ساوتری گرم پانی سے بدن پر جا بجا سر خ چکتّوں کو سیک رہی تھی ۔گوپی اس کو گود میں لیئے پچکار رہا تھا ۔دل اندر ہی اندر سے مسوس رہا تھا ۔
“میری کانچ کی گڑیا ۔۔مت رو بھگوان سمجھے گا اسے ۔۔”وہ پیار سے رانی کو کانچ کی گڑیا ہی کہتا تھا ۔
“ڈاکٹر نی نے چوڑیاں دی تھیں اب بار بار تھوڑے ہی دے گی ۔”وہ مسلسل روتی جارہی تھی ۔
“چپ ہوجا میری کانچ کی گڑیا ۔۔۔روتی کیوں ہے میں لاکر دوں گا چوڑیاں ” گوپی نے اسے دلاسہ دیا ۔
“جالم نے کیسے مارا ہے ایک پلیٹ ٹوٹ گئی گلتی تو کوئی بھی کر سکتا ہے ”
ساوتری نے آنسو پوچھتے ہوئے کہا ۔
اور اس دن کے بعد سے روز وہ بڑی بے چینی سے اپنے باپ کا انتظار کرتی ۔اور آتے ہی چوڑیوں کا سوال کرتی ۔لیکن گوپی روز چاہتے ہوئے بھی اس کی فر مائش پوری نہیں کر پاتا تھا ۔
کسی کسی دن تو کام ہی نہیں ملتا تھا اور وہ سارا سارا دن گھوم پھر کر خالی ہاتھ واپس آجاتا ۔بیٹی سے روز وعدہ کر کے جاتا
“دل چھوٹا نہ کر میری کانچ کی گڑیا لادوں گا تیری چو ڑیا ں ۔۔”
رانی مطمئن ہوجاتی ۔لیکن گوپی کے اندر ٹو ٹ پھوٹ جاری رہتی وعدہ جو پورا نہیں کر پا رہا تھا ۔
کسی کسی دن قسمت عروج پر ہوتی
اس دن گوپی یہی سمجھا تھا قصبہ میں جاتے ہی کچھ لوگ کھڑے نظر آئے ۔۔
وہ بھی روز تلاش ِ معاش میں آتے تھے ۔
پنڈت جی کے یہاں سادی (شادی ) ہے لڑکی کی ۔پانچ مجوروں (مزدوروں )جرورت ہے ۔ ہم چار ہیں تو پانچواں ہوجائے گا ۔چلتا ہے تو چل ۔۔۔اچھی مجوری ملے گی ۔”
ان میں سے ایک نے گوپی سے کہا ۔
“ہا ں ہاں کام تو کام ہے چل ۔۔۔”کہہ کر وہ انکے ساتھ ہولیا ۔
دن بھر کام کر کے شام میں آج اسکو اچھّی رقم مل گئی تھی ۔وہ فوراً چوڑیوں کی دوکان پر گیا اور اپنی کانچ کی گڑیا کے لیئے چو ڑیوں کے دو ڈبے بنوائے ۔پھر ساوتری کے ننگے ہاتھ بھی یاد آگئے ۔بیچاری کو سوائے بچّون کے اور دیا ہی کیا ہے ۔کپڑے بھی دوسروں کے دئے پرانے اترن ہی پہنتی ہے ۔۔۔دن بھر کھیت پر تن جلاتی ہے ۔
اس خیال کے آتے ہی اس نے ساوتری کے لئے بھی چوڑیوں کا ایک ڈبہ خرید لیا ۔لمبت لمبے قدم لیتا ۔۔۔۔خوشی کے دوش پر اڑتا ، وہ اپنے گاؤں کے اندر داخل ہوا ۔دو چار جھونپڑوں کے بعد کچھ دور کونے میں اسکی جھونپڑی تھی ۔اسکی جھونپڑی کے سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے ۔
“معاملہ کیا ہے ۔۔؟” وہ دل ہی دل میں بد بدا یا ۔
لمبے لمبے ڈگ بھر تا ہوا وہ اپنی جھونپڑی کی طرف لپکا ۔اسکے تلے اوپر کے تینوں لڑکے جھونپڑی کے باہر ماں کے ساتھ کھڑے تھے ۔گوپی کو دیکھ کر ساوتری کی چیخ نکل گئی ۔ابھی تک وہ شاید سکتے کے عالم میں تھی ۔
دھم سے زمین پر گری ۔تینوں بچّے زور زور سے رونے لگے عوریں ساوتری کو ہوش میں لانے کی کوشش کر نے لگیں ۔
“کیا ہوا میری لوگائی کو ۔۔؟” گوپی تڑپ کر آگے بڑھا ۔
“گجب ہو گیا ۔۔۔۔گوپی ۔” ایک آواز آئی
“باپو ۔۔دیدی ۔۔۔” آٹھ سالہ بچّے نے جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا ۔
“کیا ہوا میری کانچ کی گڑیا کو ؟؟”چیختے ہوئے وہ جھونپڑی میں داخل ہوا ۔ٹمٹماتی ہوئی روشنی میں اسُ کی آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ۔۔۔وہ مبہوت دیکھتا رہ گیا ۔آگے اس نے کسی سے کوئی سوال نہیں کیا ،جس حال میں اسکی کانچ کی گڑیا پڑی تھی اسُ پر صاف عیان ہوگیا کہ یہ چوری ڈکیتی یا قتل کا معاملہ نہیں ۔۔غریب کی کٹیا میں پیسہ چرا نے کون آتا ہے ۔
“ہے رام ۔۔۔” صرف یہی اس کے منھ سے نکلا اسکے ہاتھوں سے چوڑیوں کے ڈبے چھوٹ گئے ۔۔۔چھن سے آواز آئی رنگ برنگی لال پیلی چوڑیاں ادھر ادُھر بکھر کر چورُ چورُ ہو گئیں ۔۔۔
بالکل اس کی کانچ کی گڑیا کی طرح ۔۔۔

Published inشبیہ زہرا حسینیعالمی افسانہ فورم