Skip to content

کالی شلوار والی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر18
کالی شلوار والی
منیر احمد فردوس ۔ ڈیرہ اسماعیل خان ۔ پاکستان

آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ سرکار نے اُس چوٹی کے ادیب کو کبھی بھولے سے بھی یاد کیا ہو. پتہ نہیں ایک دم سے سرکاری ایوانوں میں کیسی ہوا چل پڑی تھی کہ سیاسی ماحول یکسر ادبی موسم میں بدل گیا اور صفِ اول کے اُس کہانی کار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے لاہور جیسے ادبی مرکز میں سرکاری سطح پر ایک سیمینار رکھ دیا گیا تھا, ایک ایسا شہر جہاں کے پوش علاقے لکشمی مینشن میں رہتے ہوئے وہ تقسیم کے دنگے فساد کے خونی لمحات کا چشم دید گواہ بن کر انہیں اپنے افسانوں میں اتارتا رہا اور امر ہوتا رہا.

سیمینار کے بارے میں جس نے بھی سنا سرکار کی جھولی میں چند تعریفی سکے پھینکے بغیر نہ رہ سکا کہ چلو اُس کی زندگی میں نہ سہی, مرنے کے بعد ہی افسانے کے اُس بے تاج بادشاہ کو تسلیم کر لیا گیا تھا.

لاہور کے ایک اعلیٰ ترین ہوٹل کا سب سے بڑا ہال زرد اور سفید روشنیوں میں نہایا ہوا تھا. ہوٹل انتظامیہ نے بھی کمال کر دکھایا تھا کہ اُس شہرہ آفاق افسانہ نگار سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ہال کا نام ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال رکھ دیا تھا جو اس کے افسانوں کا سب سے بڑا حوالہ تھا. ٹوبہ ٹیک سنگھ ھال میں ہر طرف اُس بڑے ادیب کی تصویریں, اس کے کاٹ دار تیکھے جملے اور مختلف بینر لگے ہوئے تھے. ہال کے باہر تو اُس کی شان ہی الگ تھی کہ جہاں اُس کا ایک بڑا سا سنہری رنگ کا چمکتا ہوا عینک والا مجسمہ نصب کر دیا گیا تھا جس کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر آنے جانے والا فوٹو بنوا کر اس سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتا نظر آتا تھا جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل تھیں جو شاید سب لکھاری ہی تھے.

شہر کا شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال میں پلٹ آیا تھا جہاں ملکی سطح کے جانے مانے ادیبوں نے اُس کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اًس کی کہانیوں کو موجودہ سماجی ناہمواریوں کے ساتھ جوڑ کر انہیں نئے زاویئے عطا کئے. اس کی الجھی ہوئی شخصیت کی کئی گمنام پرتیں کھول کر لوگوں کی آنکھوں پر حیرتیں باندھی گئیں اور پردہِ سکرین پر اس کی ڈاکو مینٹری پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مشہورِ زمانہ افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مبنی ٹیلی فلم دکھا کر تقریب میں نئے رنگ بکھیرے گئے تھے اور اس کا لازوال تخلیقی جملہ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانہ دی منگ دی دال آف لالٹین” پورے ہال میں بار بار گونجتا رہا. ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال کبھی تالیوں سے جی اٹھتا, کبھی افسردگی کے گاڑھے دھوئیں سے بھر جاتا اور کبھی پورے ہال پر ایک دم سے سنجیدگی کی چادر تن جاتی تھی. میڈیا کے لوگ ان یادگار لمحات کو مستعدی سے اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے یہاں وہاں بھاگتے پھر رہے تھے. سٹیج پر نامی گرامی ادیبوں کے علاوہ چند بڑے حکومتی عہدیدار بھی کلف لگے اکڑے ہوئے سوٹوں میں بڑے طمطراق کے ساتھ کالے چشمے لگائے براجمان تھے.

سیمینار کا دلچسپ ترین اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ اُس بڑے ادیب کی عظمتوں کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کرنے کی ایک بہت عمدہ کوشش کی گئی تھی. علامتی طور پر اُس کے چند مشہور کرداروں کو بھی سٹیج پر بٹھایا گیا تھا اور حاضرین کی آنکھیں تو جیسے ان پر چپک کر رہ گئی تھیں. جن میں “نیا قانون” کا منگو کوچوان, “کھول دو” کی سکینہ, “بابو گوپی ناتھ” کا بابو, “گورمُکھ سنگھ کی وصیت” کا گورمُکھ سنگھ اور “کالی شلوار” کی سلطانہ بھی شامل تھی اور یہ سب یادگار کردار تمام لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے.

رات گئے تک سیمینار جاری رہا اور لوگ آخری دم تک پرجوش ہو کر یوں بیٹھے رہے جیسے سٹیج پر وہ چوٹی کا ادیب بھی بیٹھا ہو. تقریب ختم ہوئی تو لوگوں نے تمام علامتی کرداروں کو گھیر لیا اور ان کے ساتھ تصویریں بنوانے لگے. کافی دیر تک فوٹو سیشن چلتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے. تمام بڑے لوگ جو مہمان تھے, دن بھر کے تھکے ماندے اپنے اپنے ٹھنڈے کمروں میں جا گھسے. اُس بڑے ادیب کے سبھی کرداروں کو بھی رخصت کر دیا گیا تھا سوائے کالی شلوار والی سلطانہ کے جو سٹیج پر بھی کالی شلوار پہنے اپنے بے پناہ حسن سے سبھی کے دلوں میں ہلچل مچاتی رہی اور لوگوں کی تیکھی نظریں اسے جگہ جگہ سے ٹٹولتی رہی تھیں. بڑے لوگوں کی فرمائش پر سلطانہ کو ہوٹل میں ہی روک لیا گیا اور رات بھر اس کی کالی شلوار مختلف کمروں میں سفر کرتی رہی. پوری رات اسے ایک پل کو بھی آرام کرنے کا موقع نہ مل سکا تھا.

صبح ہوئی تو دیر تک بڑے لوگ اپنے کمروں میں دھت پڑے رھے. ہوٹل کی انتظامیہ انہیں نہ جگاتی تو شاید وہ سارا دن یونہی سوئے رہتے. ناشتے کے لئے سب ایک ہی جگہ پر جمع ہو گئے. سبھی کے خمار آلود چہروں پر ایک خاص قسم کی مسکراہٹ ناچ رہی تھی اور ان کی چمکتی آنکھیں کالی شلوار کو ڈھونڈتی ادھر ادھر گردش کرتی ہوئیں آپس میں ٹکرا جاتیں مگر وہ کسی کو بھی نظر نہیں آ رہی تھی. کوئی بھی نہ جانتا تھا کہ کالی شلوار والی سلطانہ صبح ہوتے ہی کہاں چلی گئی تھی.

رات کے نشیلے لمحوں میں کھوئے سب نے مل کر پر تکلف ناشتہ کیا اور پروگرام کے مطابق اُس بڑے ادیب کی قبر پر حاضری دینے کے لئے سب تیار ہو گئے جہاں انہیں پھول اور چادر چڑھانا تھی.

دس بارہ لوگوں کا وفد ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا میانی صاحب قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا. آگے پیچھے پولیس کی دو گاڑیاں دوڑ رہی تھیں جن پر گنیں تھامے کالی وردیوں میں ملبوس پولیس کے جوان چوکس بیٹھے تھے. پون گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ سب قبرستان کے داخلی دروازے پر کھڑے تھے. غیر معمولی گہما گہمی, بڑے لوگوں کا ہجوم, پولیس گاڑیوں کے بجتے سائرن, پروٹوکول اور اخباری نمائندوں کو دیکھ کر ہوائی چپل پہنے بوکھلایا ہوا گورکن دور سے بھاگتا ہوا آیا اور عاجزانہ انداز میں جھک کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا.
“منٹو کی قبر کس طرف ہے…؟” کسی پولیس والے نے ادھیڑ عمر گورکن سے پوچھا
“حضور اُس طرف ہے…..چلیں میں لے چلتا ہوں.” گورکن نے قبرستان کے مشرقی کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہا. اس کی پھٹی ہوئی آستین لٹک رہی تھی اور اس کا سانولایا بازو باہر کو جھانک رہا تھا. وہ وفد کے آگے آگے چلتا سفید کتبوں والی چھوٹی بڑی قبریں عبور کرتا ہوا اسی سمت چل پڑا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا. اس دوران کیمروں کے دو تین فلیش جھمکے اور گورکن سمیت وفد کی تصویریں اخباری نمائندوں کے کیمروں میں محفوظ ہو چکی تھیں. پولیس والوں کے بھاری بھرکم بوٹوں کی دھم دھم نے قبرستان کے سکوت کو تہس نہس کر دیا تھا جو وفد کے اعلیٰ نمائندوں کے آگے پیچھے چل رہے تھے. گورکن کی معیت میں کچی پکی قبروں کو پھلانگتے ہوئے وہ اس قبر کی طرف بڑھ رہے تھے جو قبر کی بجائے کتابوں میں پڑا ہوا تھا. ایک منحنی سا شخص ٹیڑھی چال چلتا ہوا بار بار وفد کے آگے پیچھے ہو رہا تھا جس نے ایک ہاتھ میں گلاب کے پتیوں سے بھری ٹوکری اور دوسرے ہاتھ میں قبر پر چڑھانے کے لئے چادر تھام رکھی تھی.

کالی عینکیں چڑھائے دمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ جب وہ سب اُس مایہ ناز ادیب کی سنگِ مرمر سے بنی سفید قبر پر پہنچے تو ایک دم سے ان کے قدموں کی گونجتی دھم دھم یوں دم توڑ گئی جیسے ان کے پیروں سے سانپ لپٹ گئے ہوں. اکڑے ہوئے جسموں والے وفد کے قدم کچی قبر کی طرح سے بُھرنا شروع ہو گئے اور وہ سب اپنی اپنی جگہ پر ہکا بکا کھڑے تھے. جس کالی شلوار کو وہ ناشتے کی میز پر ڈھونڈتے رہے تھے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے سب سے بڑے کہانی کار کی قبر پر چڑھی ہوئی تھی جہاں چند کملائے ہوئے پھول بھی پڑے تھے جن کی بکھری پتیاں بتا رہی تھیں کہ انہیں شدت کے ساتھ نوچا گیا تھا.

Published inعالمی افسانہ فورممنیر احمد فردوس