Skip to content

کارخانہ قدرت

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 62
کارخانہِ قدرت
سید صداقت حسین، کراچی، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمیلہ ہو گی کوئی ۳۵ برس کی ۔ جسے جوانی میں ہی طلاق ہو چکی تھی۔ باہمت اور پڑھی لکھی ہونے کے باعث خوبصورت بدن کے ساتھ ساتھ جاذب نظر بھی تھی۔
وہ ایک بین الاقوامی فرم میں اعلی عہدے پر فائز تھی۔ روشن خیال اور اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باعث کارپوریٹ ماحول میں اسکی عزت و احترام ہر ایک کرتا دکھائی دیتا تھا مگر بدقسمتی سے سماج اپنی قدامت پسندی کے باعث جمیلہ اور جمیلہ جیسی نجانے کتنی طلاق شدہ خواتین کو احترام نہ دے سکا تھا۔
جمیلہ ان تمام سماجی لغویات سے بے بہرہ اپنے کام میں مگن رہتی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ والدین کے جلد انتقال کرجانے پر اس کی پرورش اس کے ماموں نے کی تھی۔ شادی سے لے کر طلاق تک وہ اپنے ذاتی اپارٹمنٹ میں تنہا رہتی تھی۔
“جمیلہ یہ شیلا ہیں، کل ہی لاہور لائزن آفس سے ان کا تبادلہ کراچی ہوا ہے اور یہ آپ کو اسسِٹ کریں گی۔ منیجر ہیومن ریسورس نے شیلا کا تعارف جمیلہ سے کراتے ہوئے کہا۔ جمیلہ نے ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ شیلا کو ویلکم کیا جو عمر میں لگ بھک جمیلہ کے ہی برابر تھی۔ خوبصورت نقوش کی حامل شیلا پہلی ہی نظر میں جمیلہ کو بھا گئی۔
دونوں جلد ہی گھل مل گئیں اور ایک دوسرے کے حال سے واقف ہونے لگیں۔
“میں اس فرم میں گزشتہ پانچ سالوں سے کام کررہی ہوں۔ تمھاری اسِسٹنس مجھے کافی ریلیف دے سکتی ہے۔” جمیلہ نے شیلہ کے خوبصورت ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
اگلے لمحے جمیلہ نے اپنے گھر پر رات کے ڈنر کی آفر کی، جسے شیلہ نے ایک حسین مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرلیا۔ شام چھ بجے دونوں آفس سے روانہ ہوئیں اور تھوڑی ہی دیر بعد جمیلہ شیلا کے ساتھ ہائی رائز بلڈنگ کے تیسویں فلور پر اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہو چکی تھی۔
شیلا کام سمجھنے اور اسے کرنے کی اہلیت سے مالا مال تھی وہ اس شہر میں نئی تھی اور محفوظ رہائش کا مسئلہ بھی درپیش تھا جسے جمیلہ نے انتہائی محبت سے سلجھا دیا تھا۔ یوں جمیلہ اور شیلا ایک دوسرے کی تنہائی کے شریک بن گئیں اور دونوں کی سماجی زندگی ایک دوسرے کی رفاقت میں اچھی گزرنے لگی۔ دونوں چھٹی کے اوقات میں ایک ساتھ کپڑوں، سینڈلز، جیولری اور میک اپ کے سامان کی شاپنگ کرتیں۔
جمیلہ اکثر شیلا سے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں تبادلہ خیال کرتی اپنی شادی کی ناکامی اور طلاق کے بارے میں بڑی افسردگی سے گفتگو کرتی۔ جسے سن کر شیلہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتی اور اس کی دلجوئی کرتی رہتی۔ شیلا جمیلہ کی نفسیاتی کیفیت کو دن بدن محسوس کرتی رہی اور اسے حل کرنے کی تدابیر پر غور بھی کرتی رہی۔
شیلا بذات خود فطرت کے ہاتھوں تنہا زندگی کا شکار تھی اور وہ لوگوں کا سامنہ کرنے سے کتراتی تھی۔ اسے جمیلہ کی صورت ایک بہترین رفیق میسر آ گیا تھا۔ آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آچکیں تھیں۔
رفتہ رفتہ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں کو پڑھ لیا۔ دلوں کی آواز سن لی ۔ اور پھر وہ جسموں کے فاصلوں کی قید سے آزاد ہوگئیں۔ قربتیں محبت کے اظہار کو زبان دینے لگیں اور پھر کچھ ہی لمحوں میں سرد، خاموش اور بلند ترین اپارٹمنٹ کا مدھم روشنی میں ڈوبا کمرہ دونوں کے تیز تیز سانسوں کی آوازوں سے گونجنا شروع ہو گیا۔
دنیا جہاں کے غموں اور لباس سے عاری دو دہکتے وجود آگ اگلتے رہے۔ شیلا بڑی مہارت سے جمیلہ کے پوشیدہ انگ انگ کو اپنی انگلیوں اور لبوں کی حرارت سے اس مقام پر لے آئی جہاں وجود کسی انکار کا متحمل نہیں ہوتا۔ دھیمی سرگوشیاں دیواروں سے ٹکراتیں رہیں۔ سرور کی یہ کیفیتیں جمیلہ کو سرشار کر رہی تھیں ۔ اس کے اندھیرے چھٹ چکے تھے۔ شیلا اور جمیلہ کے رات اور دن کہاں کیسے گزرے، اس کا احساس بڑا دلفریب تھا، ان دونوں کا دل چودھویں کے چاند کی نرم اور دبیز لہریں منعکس کرنے لگا تو کہیں روح ستاروں کی جھلملاہٹ کا حسین منظر پیش کر رہی تھی۔

ایک سال کا عرصہ بہت جلد بیت گیا۔۔۔۔۔ اور جمیلہ امید سے تھی۔ دونوں کو ایک نئی زندگی مل گئی تھی جمیلہ اور شیلا کے اندر کا اندھیرا ڈھل چکا تھا اور دونوں کے لئے ایک نئی سحر طلوع ہو چکی تھی

Published inافسانچہسید صداقت حسینعالمی افسانہ فورم