Skip to content

ڈیڑھ فٹ کا کھٹولہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 75
ڈیڑھ فٹ کا کھٹولہ
عثمان عالم
اسلام آباد(پاکستان)

لا الہ اللہ میں ایسا نہیں ہوں۔مجھے تو بس اس شیطان مردود نے۔۔۔۔
میں سچ کہتا ہوں ،جو میں ایسا سوچو بھی تو،
یہ میری سوچیں میرے خیالات کیسے ہوسکتے ہیں ،
ابلیس ہے ۔وسوسے ڈالتا ہے بے غیرت کہیں کا ۔
اب دیکھو ناں ،کر یانہ چلاتا ہوں ،لمبا چوڑا کنبہ ہے ، شادی کی سیڑھی پرجوان بہن بیٹھی ہے،ٹھہریں پھر شیطان آیا ۔۔۔۔دماغ میں کہیں دبک کے بیٹھا ہے بیٹھے بیٹھے وار کرتا ہے ،جب میں آپ سے بہن کی شادی کے بارے میں مخاطب ہوں تو رگوں میں ایک لذت کا احساس سر سرانے لگا ہے نجانے کیوں۔۔۔۔کیا یہ لذت بہن سے جڑی ہے یا پھر شادی سے ۔۔۔۔۔سچ پو چھیں۔۔۔ میں ہی سر پرست ہوں پھر نجانے کیوں اُس کو رخصت کرنے کو دل نہیں مانتا اور اُس چھوٹی کودیکھو۔۔۔۔ایک سال کے ا ندر اندر کیا قد کھاٹ نکالا ہے کہنے کو ابھی دسویں جماعت میں لگی ہے ۔۔۔۔لا حوال لا۔۔۔اس کم بخت نے ۔۔۔۔دل وماغ میں عجیب گندگی پھیلا رکھی ہے ۔
جس کو چھوٹی کہہ رہا ہوں یہ بیٹی ہے میری ۔۔۔آپ سوچنا بھی نہ ایسا ویسا ۔
لیکن کم بخت ماں کی جوانی پیچھے چھوڑتی ہے ۔
میرا کیا ہے پچاس کے پیٹے میں ہوں ۔جو گزرنی تھی سو گزری
باپ ورثے میں کریانہ چھوڑ گیا ،اُسی کو مستقبل میں گھسیٹے جا رہا ہوں ۔
آپ کو تو معلوم ہے کریانہ بھلا کیا دے سکتا ہے ۔خیر ،رسول پاک کے صدقے چلا ئے جا رہا ہوں ۔
میں کیا میری اوقات کیا ۔
بس کاندھے پرذمے داریوں کا بوجھ ہے جسے اُٹھائے پھر رہا ہوں،
صبح چھوٹی اور بہن کو مو ٹر سائیکل کی کاٹھی پر بیٹھا کر اُن کو منزل تک لے جاتا ہوں ،پھر اللہ رسول کا نام لے کر ہٹی کھول کر بیٹھ جاتا ہوں ۔
میراکامل ایمان ہے رزق اللہ کی ذات دیتی ہے۔۔۔۔بشرط کہ نیت ٹھیک ہو۔
بے غیرت سّور کا بچہ ۔۔۔۔نیت ہی تو ٹھیک نہیں ہونے دیتا ۔
صبح کا وہ آدھا گھنٹہ کسی عذاب سے کم نہیں ۔۔۔کیا کروں مجبوری ہے ۔جیب برداشت نہیں کرتی ۔ورنہ لاالہ الا کہتا ہوں چھوٹی کو اسکول اور بہن کو ووکیشنل ٹریننگ کے لئے گاڑی لگا کر دیتا ۔
خیر وہی موٹر سائیکل اور اُس کی اکلوتی سیٹ پر دب دبا کہ چھوٹی اور بہن بیٹھ تو جاتی لیکن مت پوچھو ۔
سچ کہتا ہوں ۔۔۔اللہ اور اُس کا رسول گواہ ہے جو اس سے پہلے میرے اس کمینے اور گھٹیا ذہن میں ایسی سوچ بھی آئی ہو۔۔۔
لیکن پھر۔۔۔
دسویں جماعت کی چھوٹی ایسے میرے پیچھے بیٹھا کرتی ہے کہ میری کمر دہکنے لگتی ہے ۔ایسے جیسے کسی نے مجھے کوئلوں کے آلاؤں پر کمر کے بل لٹا دیا ہو۔معذرت ہے ۔۔۔میں خود سے کچھ نہیں سوچتا ۔
میں سوچوتو مرنے پر کلمہ نصیب نہ ہو۔
پھُپھی ،بھتیجی بھی عجیب ہیں کبھی ایک میری کمر کے ساتھ لگ کر اُس کو دہکاتی اور کبھی دوسری ۔
معذرت کے ساتھ۔۔۔
جی ،آپ صحیح سمجھے میرا ذہنی توازن چل گیا ہے ۔
لیکن کلمے کی قسم میں ایسا نہیں ہوں ۔
میں منتظر امام کی قسم کھاتا ہوں ۔میں خود موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بیٹھتا ہوں ،پھر سوچتا ہوں۔۔۔وہ بھی مجبور ہیں ،ایک سیٹ پر بیٹھ کر گرمی ،سردی ،اور برسات کے دنوں میں ، روزانہ کی بنیاد پر کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا آسان نہیں ہے۔
ویسے دونوں طرف سے ایک شعوری کوشش رہی ہے کہ سفر کے دوران ایک خاص فاصلہ رہے ۔مگر کم بخت کبھی بریک ،کبھی پلو درست کرتے ،کبھی ٹانگ کی اکڑاہٹ دور کرتے وقت ۔۔۔۔اور کبھی ۔۔۔
مجھے غلط مت سمجھو ،اپنا دماغ پاک رکھو ۔۔۔پاکیزگی ایمان کا بنیادی جز ہے ۔
جو آپ سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے مگر یہ مردود ۔۔۔۔بدعا یا ہوا ۔۔۔اللہ معاف کرے۔
جب بھی صبح کے اُس اجلے وقت ،موٹر سائیکل کی سواری میں ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہوتی ہے اور نرماہٹ کا احساس غالب آنے لگتا ہے تو اے میرے مالک ۔۔۔۔میرے سوہنے ربّا۔۔۔
مجھے معاف رکھ ۔۔۔میں کمزور۔۔۔میں بد بخت۔۔۔یہ نفس بہت ظالم چیز ہے ۔
مجھے بہن اور چھوٹی کی گولائیاں ۔۔۔۔استغفراللہ ،استغفراللہ۔۔۔میں گنا ہ گار ۔۔۔سوہنیاں میری توبہ قبول کر ۔۔۔میرے نفس کو کنٹرول میں رکھ ۔۔۔میں تجھ سے اس شیطان مردود کی پناہ مانگتا ہوں ۔
جو بھی ہیں۔۔۔ ۔محرم ہیں ،خوبصورت اور مقدس رشتے ہیں ۔
کبھی کبھی سوچتا ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اِس شیطان مردود کا بھی نہیں ،اِس غربت کا ہے ۔جس نے ڈیڑھ فٹ کے اُڑن کھٹولے پر مقدس رشتوں کو نفس کے امتحان کے لئے بیٹھا دیا ہے ۔
میں اس امتحان کے قابل نہیں ۔مشکل کشا میری مشکل حل کر ۔
چھوٹی،ابھی دو سال پہلے کی تو بات ہے جب میں لیٹا ہوتا تو میرے پیٹ پر چڑ بیٹھتی،اور اب ان دو سالوں میں ایسا کیا ہوگیا؟
اور بہن ،اللہ گواہ ہے اُسے اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہوں،ماں باپ کی رحلت کے بعد تو ۔۔۔
مجھے رونے دیجئے۔۔۔جی بھر کے رونے دیجئے۔۔۔ماں مجھے معاف کرنا ۔۔۔۔یہ میرے پاس تیری امانت ہے ۔
اِس نفس نے مجھے جوانی میں اتنا خوار نہیں کیا جتنا ان سفید بالوں میں کر رہا ہے ۔
کوئی چلہ کوئی وظیفہ نہیں چھوڑا،کسی مولوی کسی پیر کا دامن نہیں جانے دیا ۔۔۔کوئی پوچھتا ہے میاں کیا مسئلہ ہے ۔۔۔ایک چپ ۔۔۔بس چپ لگ جاتی ہے ۔بتاؤں بھی تو کیا بتاؤں ۔وسوسوں کا کہہ کر تعویذ اور وظیفے حاصل کر لیتا ہوں۔
بھائی جان سچ پوچھیں،اپنے مرشد پاک اجمیر شریف کی قسم کھاتا ہوں،اب تو گھر کے اندر اپنی ہی بیٹی اور بہن سے کتراتا پھیرتا ہوں اور صبح پھر ڈیڑھ فٹ کے اڑن کھٹولے پر قدرت بیٹھا دیتی ہے ۔
مجھے نہیں معلوم کہ اُن دونوں کو بھی اس قسم کے وسوسے آتے ہیں یا نہیں ؟
یا بس مجھے ہی اس مردود نے اپنے جال میں پھانس رکھا ہے ۔
میری ذہنی حالت کو سمجھیں ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میں ایسا سوچو۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میں ایسا محسوس کروں۔۔۔لیکن میں وہی سوچتا اور وہی محسوس کرتا ہوں ۔اس سے بڑا اور کیا جبر ہو سکتا ہے۔
اللہ معاف کرے ،اب تو محرم رشتے میرے لئے نامحرم ہوتے جارہے ہیں۔
بس جی ۔۔۔اب تو دل چاہتا ہے کہ موٹر سائیکل کسی ٹرک کے نیچے دے ماروں۔اس عذاب سے تو جان چھٹے۔
دونوں کو ،ایک دو مرتبہ طبیعت کی ناسازی اور موٹر سائیکل کے پرانے ہونے کا عذر پیش کرکے لوکل بھیج کر بھی دیکھا۔
پھر ۔۔۔پھر کیا
اُن کی جانب سے کبھی مطلوبہ مقام لیٹ پہنچنے کا شکوہ توکبھی فرنٹ سیٹ پرتین تین خواتین کی بے حرمتی کا قصہ ۔۔۔
اور پھر وہ۔۔۔۔سیٹیاں بجاتے ۔۔۔۔لوفر ۔۔۔ان کی ماں بہن کو تو ۔۔۔۔خون کھولنے لگتا ہے ۔
ایک دن واپس اکیلے آتے ہوئے،گلی کے ایک لوفر نے چھوٹی کوچھیڑنے کی کوشش کی ۔۔۔او میرے خدایا ۔
کہاں پھنسا دیا مجھے ۔۔۔
اور پھر مجھے سے چھوٹی کے آنسو نہ دیکھے گے ۔
اگلی صبح پھر سے ڈیڑھ فٹ کے کھٹولے پر تینوں سوار تھے۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد عثمان عالم