Skip to content

ڈیمنشیا

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 57
ڈیمنشیا
ڈاکٹر عشرت معین سیما
برلن ۔ جرمنی
ٹرین کا آخری اسٹیشن ہمارے گھر کے قریب ہے جب صبح میں ٹرین کے اس ڈبے میں داخل ہوئی تو ایک عورت عجیب و غریب حالت میں بالوں سے چہرہ چھپائے اورسر کو جھکائے عجیب سی آواز میں سسکیاں رہی تھی۔ اس کے میلے اور کھرنڈ ذدہ زخموں سے بھرے ہاتھ اور پاؤں سے خون رس رہا تھا ۔ صبح کے وقت ٹرین اکثر کام پہ جانے والوں اور اسکول کالج جانے والے بچوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ لیکن آج ٹرین قدرے خالی تھی جس کی وجہ ایک تو اسکول کالج کی تعطیلات اور دوسری وجہ اسٹیشن پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹرین کی غیر معینہ آمد و رفت تھی۔ لیکن اس ڈبے کے خالی ہونے کی ایک وجہ یہ عورت بھی تھی جس کے پاس سے ایک انتہائی تیز بدبو نے پورے ڈبے کی فضا کو ناگوار بنا دیا تھا ۔ اس کی درد بھری آواز میں سسکیاں جو کبھی اونچی ہوکر ٹرین کی گڑگڑاہٹ بھری آواز کو دبانے لگتی تھیں اور اس کا پر اسرار وجود اس ڈبے کو وحشت ناک بنا رہا تھا۔
صبح ساڑھے چھ بجے جب میں بھی ٹرین کے اس ڈبے میں داخل ہوئی تو پہلے صورتحال سے گھبرا کر باقی لوگوں کی طرح ڈبہ بدلنے کے لیے ایک لمحے اُلٹے قدموں جانے کا ارادہ کیا۔مگر جب اُس عورت کے منہ سے زوردار الفاظ “ گوڈ سائی ڈانک( خدا تیراشکریہ “ کے سنے تو ٹھٹھک کر رہ گئی اتنی بری حالت میں بھی وہ اپنے رب کوشکریے کے ساتھ یاد کر رہی تھی۔میں ہمت کرکے ڈبے میں اُسکے سامنے کی سیٹ پربیٹھ گئی۔اس نے اپنے بالوں سےچھپے چہرے سے میری جانب دیکھنے کے لیے نظر اٹھا ئی اور اپنی ساری طاقت جمع کر تے ہوئے زورسےآواز لگائی” بھاگ جاؤ” بھاگ جاؤ یہاں سے مجھے سکون سے رہنے دو”
اُ سکاسراسی طرح جھکا ہوا تھا۔ اس کے اس طرح چیخنے پر میں زرا گھبرا گئی تھی مگر پھر بھی میں اپنے حواس جمع کر کے کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی ٹرین کے چلتے ہی میں نے ہمت کر کےاپنالنچ بکس اور پانی کی بوتل اسکی طرف بڑھادی ۔ایک جھٹکے سےاُسنے میرے ہاتھ سے لپک کرچیزیں چھین لیں اور تیزی سے سینڈوچ کھانا شروع کر دیئے۔اس کے اس اچانک رد عمل سے میں چونک گئی اور میرادل بھی اس اچانک حملے پرزورزورسےدھڑکنے لگا۔اس وقت میں کچھ دیرکے لیے واقعی ڈرگئی تھی۔ٹرین کے اس ڈبے میں صرف ہم دونوں تھے ۔ چند لمحوں بعد
وہ پراسرارعورت سینڈوچ کے ساتھ انصاف کر نے لگی شاید میرے لنچ سے وہ اپنی دیرینہ بھوک مٹانے رہی تھی۔کچھ دیر کے بعد میں نے ایک بارپھر ہمت کی اور اپنے بیگ سے ٹیشو پیپر نکال کراسکومنہ اورہاتھ صاف کرنے کو پیش کیئے تواُس نے بھی بلا توقف جلدی سے وہ بھی لے لیے۔ ایک نظر اس نے غور سے مجھ کو دیکھا اور پھر سرجھٹک کر ٹیشو پیپر سےاپنے ہاتھ اور پاؤں سے بہتےخون کو پونچھ نے لگی۔کچھ دیر بعد اس نے کچھ پیپر اور بوتل زمین پر پھینک کر ایک ساتھ بہت سارے ٹیشو پیپرز پاؤں کے پنجوں میں لپیٹ لیے اور اپنے دونوں ہاتھ بغل میں دبا کر اور اپنے بال چہرے پر بکھیر کر پہلے کی طرح اسی حالت میں بیٹھ گئی جیسے پہلے بیٹھی ہوئی تھی ۔ میں نے کچھ دیر بعد ٹرین کے ڈبے میں بکھرے ٹیشو پیپر سمیٹے اور خالی پانی کی بوتل زمین سے اٹھائی تو اس کے منہ سے اپنےلیے ہلکے سےشکریے کےالفاظ سنے ۔اُس لمحے میں نے مسکراتاہوااس کا معصوم سا چہرہ الجھے بالوں کے پیچھےچھپا دیکھا تھا۔ ٹرین سیٹی بجاتی آگے بڑھ رہی تھی۔
میں سوچ رہی تھی کہ خداؤں انسانوں کا شکریہ ادا کرنے والی یہ عورت یقیناً کسی اچھے خاندان کی تربیت میں پلی ہے۔خدا جانے زمانے کی تلخیاں اسے کیسے اس حال تک لے آئیں ۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے اس حال سے ۔ ناگوار بد بو کے سوا اب اس ڈبے میں فضا قدرے بہتر ہوگئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے لیے زیادہ اجنبی نہیں رہے تھے۔ ٹرین کا اگلا اسٹیشن آنے کو تھا ۔وہ اچانک اپنی اسکرٹ کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑانکال کر اگلے اسٹیشن پر اتر نے سے قبل مجھے دیتی ہوئی اترگئی ۔کاغذ پر جرمن زبان میں لکھا تھا
”میں ڈیمنشیا کی مریض ہوں براہ مہربانی مندرجہ ذیل پتے اورفون نمبر پر میرے بیٹے سے رابطہ کریں ۔ ڈاکٹر لوڈیا بیکر
وہ اتنی دیر میں ٹرین کے رکتے ہی اسٹیشن پر اتری کہ میں کوئی فیصلہ نہ کر پائی کہ اسٹیشن پر ڈیڑھ منٹ رکنے والی اس ٹرین سے اس عورت کے پیچھے اتروں یا نہیں۔ اگلی ٹرین نہ جانے کب آئے۔ اسی اثنا میں وہ اجنبی پراسرار عورت پلیٹ فارم پہ میری نظروں اوجھل ہوگئی – میرا موبائیل میرے ہاتھ ہی میں تھا۔ میں نے جلدی سے پرچی پہ لکھے موبائل نمبر پر کال کی۔دوسری جانب سے نیند میں ڈوبی آواز آئی “ اسٹیفان بیکر” میں نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور کہا” میں ٹیلٹو کے آخری سٹی ٹرین اسٹیشن پر ایس پچیس کے ڈبے میں سوار ہوئی تو ایک عورت برے حال میں بیٹھی تھی اور۔۔۔ابھی میں اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ دوسری جانب سےاسٹیفان بیکرنےکہا “ جی جی میں سمجھ گیا کسی لوڈیا بیکر کے پاس سے آپ کو یہ نمبر ملا ہے۔ یقین جانیئے میں کسی لوڈیا بیکر کو نہیں جانتا ۔ آپ برائے مہربانی پولیس یا قریبی کسی ہسپتال میں اس عورت کو پہنچا دیجئے اور پلیز مجھے دوبارہ فون نہ کیجئے گا۔ دوسری جانب سے فون بند ہوگیا۔ میں اس عورت کے تھکن اور زخموں سے اٹے وجود کو نظر میں سماتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ ڈیمنشیا کا مرض کتنا عجیب ہوتا ہے ۔ کبھی غیر محسوس طریقے سے بظاہر نارمل لوگوں کو بھی اپنے بے رحم شکنجے میں جکڑ لیتاہے ۔ اس مرض میں انسان جنہیں بھولنا چاہےوہ یاد رہتے ہیں اور جن کو بھول جائے تو وہ اپنی یادوں کے کنکر سے انہیں زندگی بھر لہولہان کرے رہتے ہیں ۔

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمعشرت معین سیما