Skip to content

ڈارون کو بلاﺅ

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر : 49

ڈارون کو بلاﺅ
تبسم ضیا۔ اسلام آباد ۔ پاکستان

سورج واپسی کے راستے پر تھا۔دروازے پردستک مسلسل ہو رہی تھی۔مسلسل یوں کہ دستک کو وہم جان کر دروازہ کھولنے وہ اٹھی ہی نہ تھی اور لفظوں کو کاغذ پر اتارے چلی جا رہی تھی۔
لکھتی جاتی تھی۔۔۔بس لکھتی جاتی تھی۔ پاپولر فکشن نہیں ، وہ خالص ادب لکھتی تھی ۔باوجود اس کے اس صدی میں سب سے زیادہ کہانیاں تخلیق کرنے والوں میں اس کا نام بھی شامل تھا۔وہ اکیلی تھی ۔اس نے شادی نہیں کی تھی ہاں لڑکپن اور جوانی میں کوئی دوست جب بھی اس کی زندگی میں آیا تو زیادہ دیر ٹک نہ سکا۔ اس حوالے سے ماضی میں بہت سی باتیں اس سے مشہور اور منسوب رہی تھیں۔مثلا یہ کہ وہ ایک نفسیاتی مریضہ ہے جو کتابوں اور کاغذوں سے سر نہیں اٹھاتی۔۔۔یا یہ کہ وہ ایک مشہور مصنفہ ہے اس لیے شاید کسی دوسرے کو اپنے لائق نہیں سمجھتی۔
عمر کے اِس حصے میں بھی سر میں سفیدی پوری طرح نہ اتری تھی ۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ گنتی کرنے پر سیاہ اور سفید برابر معلوم پڑیں گے۔لٹکے ہوئے کان اور جھریوں سے پُر دودھیا رنگت والے چہرے پر گول شیشوں والابڑاچشمہ ، جو اس کے بڑے سے چہرے اور قد کاٹھ کے تناسب سے زیادہ بڑا معلوم نہ ہوتا تھا۔ہمیشہ کشادہ گلے والا ڈھیلا ڈھالا کُرتا پہنا کرتی ۔گردن سے نیچے اورڈھلکی ہوئی چھاتیوں سے کچھ اوپر سرخ تِل یوں پھیلے ہوئے تھے جیسے سفید ٹائلوں پر کچی مسور گِرکر بکھر گئی ہو۔
اس نے کبھی کوئی ملازمہ رکھی تھی نہ گھر کے کام خود اس کے دھیان میں رہتے ۔ضرورت کی تمام اشیاءکا پھیلاﺅ اس کے گرد خوب رہتا تھا۔ مگر کچرا نہیں تھا۔وہ بالکل الگ سی جگہ پر رہتی تھی۔الگ سے مراد یہ نہیں کہ شہر سے دور کسی گاﺅں میں۔رہتی تو وہ شہر کے پوش علاقے میں تھی، چوں کہ وہ علاقہ شہر میں بہت پرانا اور موقع پرتھاتو زمین کی قیمت بھی ہمیشہ ہی سے آسمان کو چھو رہی تھی۔الگ سی جگہ وہ اس لیے تھی کہ اس کے مکان کے ارد گرد کوئی تعمیر نہ ہوئی تھی اور اس کے عین سامنے گھناجنگل تھا ،جس کے بعد ایک طویل پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ جنگل کا آخری کنارہ تھا اور اس کے بعد شہر کی حدود شروع ہو جاتی تھی ۔ بندر اس کے گھر میں ایسے آتے جاتے کہ جیسے وہ اسے اپنا ہی گھر مانتے ہوں۔۔۔بغیر اجازت اور بنا روک ٹوک۔۔۔پھر جب وہ اسے ستاتے ہی نہیں تھے تو اس نے بھی انھیں بھگانا اور ان سے دشمنی مول لینا کبھی مناسب نہ سمجھا تھا۔
انجیر اور زیتون کے ساتھ ساتھ لان میں اُگے سبز پتوں والے پودے اور ایلوویرا اس کی غذائی و جسمانی صفائی جیسی ضروریات کو پورا کرنے کے کام آجاتے۔پھل دھوئے بغیر ہمیشہ یونہی کھایا کرتی اور اسی دوران وسیع لان کی سیر ہوجایا کرتی تھی۔یوں دن ،دو دن میں جسم کو ہوابھی لگ جاتی اور دنیا میں اپنی موجودگی کا یقین بھی رہتا۔ لان اور داخلی گیٹ کا حصہ بھی جنگل نما تھا۔درختوں کی بڑھی ہوئی ٹہنیاں،لمبی گھاس اور سوکھے پتے ہمہ وقت بکھرے رہتے تھے۔گھر اور جنگل کے درمیان واقع چوڑی سڑک ان کو جدا نہ کرتی تو وہ ایک ہی معلوم ہوتے۔ایک پرانی سی مزدا کار جس کا رنگ کبھی گہرا نیلا ہوا کرتا ہو گا اور جو غالباً سن ساٹھ سے پہلے کا کوئی ماڈل تھا،گیراج میں مستقل پارک رہتی۔ دیکھ کر یہ گمان نہیں کیا جاسکتا تھا کہ چلتی بھی ہوگی۔ گیراج کے بعد ایک برآمدے سے گزر کر گھر میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کا بڑا دروازہ نصب تھا۔
سورج واپسی کے راستے پر تھا۔دروازے پردستک مسلسل ہو رہی تھی اور وہ لفظوں کو کاغذ پر اتارے چلی جا رہی تھی۔لیکن جب دستک سماعت کے پردوں پر اپنا سر پٹخنے سے باز نہ آئی تو اسے اٹھنے کا ارادہ کرنا پڑا۔سیاہ رنگ کے بوسیدہ ریکلائینر میں وہ کھب چکی تھی اور چاہتی تھی کہ وہاں سے نکلنے کے لئے کوئی اس کی جانب ہاتھ بڑھائے۔اس کی چاہت پر فوری عمل ہوگا ایسااس نے سوچا نہ تھا۔اس کے سامنے واقعی ایک بڑھا ہوا ہاتھ تھا۔خاکی رنگ کا بے شمار بالوں والا ہاتھ۔۔۔وہ بے تحاشا چونک اٹھی، مگر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے چکی تھی ۔وہ اسے اپنی جانب کھینچ کر اس موٹے صوفے سے باہر نکال چکا تھا۔
”مم۔۔۔ معافی چاہتا ہوں،آپ پریشان مت ہوں۔میں تو بس آآآپ ہی کی مدد کو آیا ہوں۔“ اس کے خوف کو بھانپتے ہوئے وہ قدرے بھاری آواز میں ہکلایا۔
”میری مدد کو۔۔؟ کیوں؟ میں نے تمہیں کب بلایا اپنی مدد کو؟“ آدھ جھکی بوڑھی مصنفہ ورطہءحیرت بنی ہوئی تھی۔ غصے اور گھبراہٹ کے تاثرات جھریوں والے چہرے سے عیاں تھے ۔
”آآآ۔۔پ نے بب۔۔ بلایا تو نہیں لیکن آآآ۔۔پ نے کبھی ہمیں دھتکارا بھی نہیں۔۔۔اس لیے آپ کک۔۔کو بڑھاپے میں یوں تنہا چچھ ۔۔چھوڑا نہیں جاتا۔سو آپ کوسہ۔۔ہارادینے چلا آیا“۔ زبان میں لکنت کے باوجود اس کے لہجے میں اعتمادتھا۔
”تم ہو کون؟میں تمہیں نہیں جانتی“۔ نظر والے بڑے چشمے کے پیچھے وہ متحیر آنکھوں سے اسے خالی ریکلائینر کی جانب بڑھتا ہوا دیکھتی رہی۔
”میں آپ ہی کا ایک حصہ ہوں۔چارلس ڈارون نے آپ کو نہیں بتایا“؟ ہکلاہٹ اب ختم ہو چکی تھی اور وہ ڈھٹائی کے ساتھ اس موٹے سے صوفے کے بازو پر بیٹھا،لکھے ہوئے کاغذ اپنے ہاتھوں میں اٹھائے، ان کی جانچ کرتے ہوئے بول رہا تھا۔
”آپ تو بہت علم رکھتی ہیں۔پھر یہ بات آپ کے علم سے کیسے رہ گئی۔۔۔؟ اس صدی میں سب سے زیادہ کہانیاں لکھنے والی مصنفہ۔۔۔ ،آپ ہیں۔میں بچپن سے یہاں گھومتا پھرتاہوں۔۔۔آپ کے لان میں، گھر میں، آپ کے کچن میں۔۔۔اورآج تک آپ نے جو کچھ لکھا ،وہ تو میں پڑھتا آیا ہوں۔اب جو میں بڑاہو گیا ہوں۔شعور اور اپنی ایک رائے رکھتا ہوں تو سوچا ،کیوں نہ آپ سے مل لوں۔آپ کوسہارا دینے کے ساتھ کچھ گپ شپ بھی ہو جایا کرے گی۔“
ڈارون کے نظریے سے اسے اتفاق تھا یا نہیں ،لیکن آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور اسے وہ آدمی ہی لگ رہا تھا۔شاید اپنے دو پیروں پر مسلسل کھڑا رہا تھااس لیے ۔۔۔اور پھر وہ حیوانِ ناطق ہی تو تھا۔مصنفہ کواس کے چہرے پر معصومیت نظر آئی۔ ریکلائینر کے سامنے آرام کرسی پر بیٹھتے ہوئے مصنفہ نے اپنے مزاج کو دانستہ بدلتے ہوئے کہا:
”ہاں ۔۔۔!!کیا کہہ رہے تھے تم؟؟ تم نے میری ساری کہانیاں پڑھ رکھی ہیں۔۔؟“ ”۔۔ تو۔۔بتاﺅ کیسی لگیں؟“ آرام کرسی پر جھولتے اور لطف اٹھاتے ہوئے، وہ بولی۔
”معاف کیجئے گا ۔۔۔لیکن بہت ہی فضول۔۔۔“ اس کے لہجے میں بلا کا اعتماد در آیا تھا اور وہیں بیٹھا وہ ان صفحات کو لاپرواہی سے دیکھتے ہوئے بڑے بڑے ناخنوں سے اپنا بالوں والا پٹ کھجا رہا تھا۔
آرام کرسی نے ایک دم جھولنا بند کر دیا۔ مصنفہ کے لیے یہ جواب بالکل نامانوس تھا۔ اسے قطعاً اس کی امید نہ تھی۔لیکن اس نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔وہ جانتی تھی کہ یہ پڑھنے والے کی ذاتی رائے ہے جس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
” شروع میں، جب میں چھوٹا تھا، تب توکچھ تحریریں مجھے اچھی لگیں۔ وہ جن میں مادہ کے مخصوص جسمانی اعضا کا ذکر ہوا کرتا تھا اور وہ جن میں نر اپنی جبلی ہوس کو مٹانے ان جگہوں پر جایا کرتے تھے جہاں بہت سی مادائیں اس مقصد کے لیے موجود ہوا کرتی تھیں۔لیکن پھر یہ اَن دیکھے اعتقادی فلسفوں پر مبنی کہانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔۔۔؟؟آپ خود ایک ہی طرح کا لکھ لکھ کر تنگ نہیں آجاتی؟“بوڑھی مصنفہ کواس کا یہ سوال واہیات لگا لیکن وہ خاموش رہی ۔وہ ریکلائینر کے بازو سے اٹھ چکا تھا اور یہاں وہاں بے مصرف گھومتے ہوئے بولتا جا رہا تھا۔
”ابھی آپ کے تازہ ناول کے چند صفحات ،جو آپ نے لکھ رکھے تھے، کل ہی میں نے پڑھے اور میرا سر چکرا گیا۔ اووور۔۔۔ پھر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے انہیں ردی کی نذر کر دیا۔۔۔اس لیے توآپ سے آج ملنے ہی چلا آیا کہ آپ اپنی وہ گھٹیا سی تحریر ڈھونڈتے ہوئے یوں ہی پریشان ہوں گی۔“ یہ کہنے کے بعد وہ کچھ جھینپ سا گیا اور اس کی کرسی کی پشت پر آ کر رک گیا۔۔۔ مصنفہ کا زرد چہرہ اب سرخ ہو رہا تھا اور تیوریاں بدل چکی تھی۔ وہ وہیں کرسی کے ساتھ پڑے بغلی میز پر تیزی کے ساتھ کاغذ الٹ پلٹ رہی تھی۔
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری کہانی کو ضائع کرنے کی۔۔۔؟تم ہو کون۔۔۔؟ مصنفہ کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔
”او ہو۔۔۔آئی ایم سو سوری۔۔۔لیکن مجھے آپ سے جس رویے کی توقع تھی آپ نے بالکل ویسا ہی کیا۔آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔“ دونوں پیروں پر کودتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ” میں بھی تو آپ کو ایک عرصے سے برداشت کر رہا ہوں۔۔یہ فضول قسم کی کہانیاں۔۔وہ کیاکہتے ہیں آپ لوگ اسے؟ادب۔۔!بڑی بے ادب ہیں۔۔آپ نے کیوں خود پر یہ فرض کر لیا ہے کہ آپ نے صرف اور صرف لکھتے ہی جانا ہے۔۔میں کبھی بھی آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتا۔۔“ اسی دوران اس کی آواز کی پچ اچانک بڑھ گئی اور وہ اچھل کر آرام کرسی کے پاس مصنفہ کے رو برو اکڑوں بیٹھا، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مخاطب رہا: ”لیکن ہاں۔۔مجھے یہ سب کرنے کے لیے نہ تو آپ کی اجازت کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھے اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ آپ کو مجھ پر غصہ آرہا ہے ۔ میں تو بس اب یہیں رہوں گا۔“
مصنفہ خود کو لاچار پا کر سہم گئی۔کچھ دیر خاموشی رہی ۔ماحول کو بھانپتے ہوئے اس نے موضوع کو بدلا اور بے مصرف یہاں وہاں گھومتے ہوئے کہنے لگا۔
”آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟“ ”آپ کو کیا لگتا تھا کہ آپ بس لکھنے ہی کے لیے بنی ہیں ۔۔۔؟؟کیا دنیا میں دوسرا کوئی نہیں لکھ رہا ۔۔۔؟؟ یا آپ کو یہ مغالطہ ہو گیا تھاکہ آپ سے اچھا کوئی نہیں لکھ رہا۔۔ ۔؟؟ ارے جانے دیجیے۔۔۔میں تو کہتا ہوں آپ نے وقت ضائع کیا۔لفظوں سے خالی جملے ۔۔۔ جملوں سے خالی کہانیاں۔۔۔اور کہانیوں سے خالی تمہاری یہ کتابیں اور یہ صفحے۔۔۔“
مصنفہ ساکت آرام کرسی پر نڈھال سی پڑی چھت کو دیکھ رہی تھی ۔کچھ توقف کے بعد وہ پھر بولا:
”اپنے ارد گرد دیکھو۔۔۔موسم کو۔۔۔جنگل کو۔۔۔پہاڑوں کو۔۔۔مم ۔۔مجھے۔۔۔“ یہاں پھراس کی زبان لکنت کا شکار ہوئی اور وہ ریکلائینر میں کھب گیا۔
مصنفہ نے اسی آسن میں پڑے پڑے آنکھیں گھما کراس کی طرف دیکھا۔ وہ اُس کی بے تکلفی پر حیران تھی ۔ظاہر ہے کہ وہ عمر میں ا س سے بہت بڑی تھی ،نام ور مصنفہ تھی۔ مگر وہ خاموش رہی۔ جیسے بولنے کی طاقت اس میں سے ختم ہو چکی ہو۔
ایک لمبی خاموشی ان کے بیچ در آئی تھی۔شام کا گہرامالٹا رنگ اب ماند پڑتا جا رہا تھا اور اندھیرا تیزی سے اس پر غالب آ رہا تھا۔ مصنفہ کو کافی کی طلب ہوئی۔
”کافی پیو گے؟“ وہ سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گویا ہوئی۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔
مصنفہ اٹھنے لگی تو وہ اچھل کر اس کے سامنے آ رہا اور اپنا بالوں والا ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھنے میں مدد دی۔ چار آنکھوں نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں کافی کے دو مگ لیے کچن سے برآمد ہوئی۔وہ خالی آرام کرسی کے پاس کھڑا اسے جھولے دے رہا تھا۔ مصنفہ نے ایک مگ اسے تھمایا اور خود اپنے ریکلائینر پر جا بیٹھی۔ وہ وہیں کرسی کے پاس کھڑا رہا۔ دونوں کافی کی چسکیاں لینے لگے۔
”کیا آپ میرے ساتھ درخت پر رہنے چلیں گی؟“ اس نے مگ میز پر رکھتے اور اپنی پسلیاں کھجاتے ہوئے خاموشی توڑی۔
”دیکھو تم میرے مہمان ہو،اس لیے میں نے تمہیں یہاں رکنے دیا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم مجھ سے بے تکلف ہو جاﺅ اور جو چاہے کہتے پھرو۔“ وہ بے تاثر سی بولی۔
”اس میں حرج ہی کیا ہے؟ وہ دھیمے مگر پرجوش لہجے میں بولا۔
”کس میں؟“
”بے تکلف ہونے میں۔“
”حدِ ادب۔۔گستاخ !! تخاطب کا یہ بے تکلفانہ انداز۔۔مجھے بالکل پسند نہیں۔ اس نے رعب ڈالتے ہوئے اپنی باریک سی ، دکھائی نہ دینے والی بھویں ماتھے پر رکھتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔۔
”میں تمہیں غیر نہیں جانتا۔۔تم کیا جانو۔۔بلا کی اپنائیت ہے ہمارے اس ”بے تکلف“سے تعلق میں۔۔“ اس نے ”بے تکلف “کے لفظ کو دانتوں کے نیچے پیس دیا اور یہاں وہاں بے مصرف گھومتے اور اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولتا چلا گیا۔
”عمروں کے فرق کے پیمانے کو میں کیا سمجھوں۔۔۔؟؟میں تو ٹھہرا پہاڑوں کا باسی۔۔۔درختوں سے ہے اپنی یاری۔۔۔ہاں درخت اور پہاڑ سے یاد آیا۔۔۔تمہارے کمرے کے باتھ روم کی کھڑکی جس کا رخ پہاڑوں کی جانب ہے۔وہ سیدھا شاہ بلوط پر میری سٹڈی پرکھلتی ہے۔۔۔اور کھلی ہی رہتی ہے ۔کتنا پانی ضائع کرتی ہو تم نہاتے ہوئے۔۔۔“ اسے چِت کرنے پر تلا ، وہ مسکراتا ہوا اس کے گرد چکر لگانے لگا۔
مصنفہ اس وقت اسے ایسے ہی دیکھ رہی تھی جیسے ہار مانتا ہوا پہلوان خود پربرتری پا جانے والے پہلوان کو دیکھ رہا ہو۔ کرسی پر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ پھر بول پڑا۔
”اور ہاں لفظ بھی تو ایسے ہی ضائع کرتی ہوتم، اپنی کہانیوں میں۔۔۔بالکل بے مقصد اور بے وجہ۔۔۔بھئی میں تو کہوں گا کہ لکھنا ہی چھوڑ دو۔کیوں روگ پال رکھا ہے خواہ مخواہ کا۔۔۔؟؟“ اس بار وہ سنجیدہ تھا۔
”دیکھو بندے۔۔۔میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ تم میری تحریروں کے قاری ہو اس لیے تمہارا حق ہے کہ تم اپنے خیالات کا اظہار کر لو، لیکن مجھے مشورے مت دو۔میں نے تمام عمر بس یہی ایک کام کیا ہے اور تم کہتے ہو کہ اسے چھوڑ دوں۔۔۔؟ اس کی آواز میں نقاہت تھی۔
وہ چہرے پر طنز آمیز تاثرات لیے کرسی پر جھولتا،خاموش رہا۔مصنفہ کو خاموشی میں لپٹا یہ طنز تیکھی مرچ کی طرح لگا۔ اسے پانی کی طلب ہوئی ۔اس کی سانسیں اکھڑنے لگی تو ریکلائینر پر ہاتھ مار مار کر کچھ تلاش کرنے لگی ۔وہ اسے پھڑکتے ہوئے دیکھتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد شمامہ ہاتھ آیا تو ہونٹوں سے لگاکر’ پھُس پھُس ‘کیا ۔۔۔چند لمحے خاموشی رہی۔
”کیا میں آج رات یہاں رک سکتا ہوں؟“ اس کے لہجے میں پیار، چہرے پر بے پناہ معصومیت اورالفاظ کی ادائیگی کے دوران ہونٹوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا تھا۔
مصنفہ نے بنا گردن گھمائے شمامہ بغلی میز پر رکھا توبچی ہوئی کافی کا مگ ہاتھ لگنے سے توازن کھو بیٹھا اور وہاں رکھے صفحات کو کافی پلاتا ہوا لفظوں کو میز سے نیچے بہالے گیا۔ مصنفہ ایک جھٹکے کے ساتھ لرز گئی۔ وہ بے اختیار اسے دلاسا دینے کو آگے بڑھا تو ایک ہاتھ اس کے کاندھے اور دوسراگھٹنے پرآن پڑا۔ مصنفہ نے اس کے بالوں والے بھدے ہاتھوں میں دلاسا اور بے حد گرمائش کو محسوس کیا۔ وہ اس پر جھکا ہوا تھا۔ کُرتے کے کشادہ گلے میں سے سفید ٹائلوں پر بکھری مسورصاف دکھائی دے رہی تھی ۔ جھریوں کے جال والا چہرہ دودھیا آئینے کے سامنے موجود تھا۔ مصنفہ کو اس کی سانسوں میں کوئی بو محسوس نہ ہوئی۔ قربت کی تپش تھی کہ وفورِ جذبات سے جسم کا کوئی عضو فضا میں جھوم رہا تھا۔ اپنے پتلے مگر جوان بازوﺅں میں اٹھا کر وہ اسے اس کے بیڈ پر لے گیا۔ بوڑھی مصنفہ نے اسے نہ روکا۔
صبح ہوئی ہی نہ تھی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بوڑھے دیوداروں اور شاہ بلوط میں سے ہلکی ہلکی دھوپ کے نیزے بیڈ روم کی کھڑکی کے پیچھے کھڑی مصنفہ کے جسم کو چھید رہے تھے۔ وہ اس کے عقب میں کھڑا بڑی باریکی سے اس کے گیسووں کو پھرول رہا تھا۔ پھٹے ہوئے بے شمار کاغذپہاڑوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ نو وارد افسانے کا عنوان اس کے ذہن سے ٹپک کر کان کے پردوں پر بہہ رہا تھا۔۔۔”ڈارون کو بلاﺅ“

Published inتبسم ضیاءعالمی افسانہ فورم