Skip to content

چہرے کی تلاش

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 15

چہرے کی تلاش

آدم شیر، لاہور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے آج تک سمندر نہیں دیکھا۔ اپنے گھر کی ٹی وی لاوٗنج کی دیوار پر آوایزاں چھپن انچ کی ایل سی ڈی میں لہراتی موجیں دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ جاؤں دور تک ۔۔۔ لڑکپن سے ایک خواب دیکھتا آ رہا ہوں ۔۔۔ عمر پچاس برس سے اوپر ہو تو ایک بڑی سی کشتی خرید لوں اور اس میں ڈھیر ساری کتابیں اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں بھر کر سمندر ی سفر پر نکل جاؤں ۔۔۔یا۔۔۔ سمندر میں ہی رہنا شروع کر دوں۔ بس پڑھوں، لکھوں اور سوتا رہا ہوں یا ہر طرف پھیلے پانی، جو رنگ بدلتا رہتا ہے، جو زندگی رواں دواں رکھتا ہے، کو دیکھوں ۔ وہ پانی جو لوگوں کے لئے رزق چھپائے رکھے ہے اور انسان کے کشٹ کرنے پر اگل دیتا ہے، جو موت کا باعث بھی بنتا ہے مگر کئی کے لئے حیات کا سبب بھی اسی میں ہے۔ پانی ۔۔۔ہاں پانی ۔۔۔ ہر طرف پانی جس میں بڑی مچھلیاں صرف زندہ رہنے کے لئے چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں اور زندگی یوں ہی موجوں کی طرح اوپر نیچے ، آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے ۔۔۔ بالکل میرے خواب کی طرح ۔۔۔ کسی کو یہ خواب جیسا بھی لگے ، مجھے پرواہ نہیں کیونکہ یہ میرا خواب ہے اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔

تو صاحب میں یہ خواب دیکھتا رہوں گا کہ میں سمندر میں ہوں۔۔۔ میں ایک کشتی میں ہوں ۔۔۔ خشکی سے دور ۔۔۔ بہت دور ۔۔۔ موٹی موٹی کتابوں کے درمیان دبلا پتلا سا میں ۔۔۔ حروف کے سمندر میں غوطہ زن ۔۔۔ اعمال سے دور ۔۔۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ساحل پر ایک گھر بنا لوں۔ لوگ ساحل پر ریت سے گھروندے بناتے ہیں جو ٹھہر نہیں پاتے۔ میں بھی ایک بناؤں ۔۔۔ لیکن پکا والا ۔۔۔ جسے طوفانی موجیں بھی نہ ڈھا سکیں۔ میں اس کے باہر آرام دہ کرسی رکھ کر تاحدِ نظر پھیلے پانی کو دیکھوں جس کے پار ابھرتے سورج کی کرنیں مجھ میں بے قابو ہو جانے والی توانائی بھر دیں اور غرقِ آب ہوتا آفتاب مجھے لوری سنا جائے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ وہاں جا کر بیٹھ جاؤں جہاں موجیں میرے قدموں میں آ کر دم توڑیں ۔۔۔ موجیں ۔۔۔ ہاں وہی موجیں جو بڑے بڑے جہازوں کو الٹانے میں دیر نہیں لگاتیں۔۔۔ پورے پورے شہر نگل جاتی ہیں ۔۔۔ اور حاکم لوگوں کی طرح ہمارا مال اپنے پیٹ میں چھپا لے جاتی ہیں ۔۔۔ میرے پیر چومیں اور لوٹ جائیں۔

افسوس کی بات البتہ یہ ہے کہ میں سمندر سے بہت دور ہوں ۔۔۔ اتنا دور بھی نہیں کہ جا نہ سکوں پر اپنی ڈرپوک طبعیت کے ہاتھوں ڈرتا رہتا ہوں اور بس ایسی مہم جوئی پر مبنی فلمیں دیکھنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں جو سمندر کی زندگی پر بنی ہوتی ہیں۔ مجھے ایسی دستاویزی فلمیں بھی بہت پسند ہیں جن میں پانی کے نیچے رہنے والی رنگ برنگی ، دل للچانے اور ڈرانے والی مخلوق نظر آتی ہے لیکن سکرین پر دیکھ دیکھ کر بھی اکتا سا جاتا ہوں ۔۔۔ میں پانی میں اتر کر دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ہر چیز جو اس میں چھپی ہوئی ہے۔۔۔ جان داروں کے ساتھ ساتھ وہ آبی بوٹے، گڑھے اور غاریں ۔۔۔ ہاں وہ غاریں جن میں پانی میں چھپے بڑے جان داروں نے اپنا ٹھکانا بنایا ہوتا ہے ۔۔۔ اور علیحدہ علیحدہ نظر آنے والے پتھر جو چٹانوں کی یادگار ہیں۔۔۔ میں منگوں کی چٹانوں سے اپنی مرضی کے ٹکڑے بھی تراشنا چاہتا ہوں جو میں اپنے گھر کے کمروں کے آتش دانوں پر سجا سکوں۔ میں یہ سب محسوس کرنا چاہتا ہوں اپنے اندر تک ۔۔۔ اور اپنے گماں میں موجود اطمینان خود میں بھر لینا چاہتا ہوں ۔ یقین کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دنیا واقعی میں اتنی ہی رنگین ہے جتنی سکرین پر نظر آتی ہے ۔۔۔ میرے خیال میں یہ اس سے کہیں زیادہ ساحرہ ثابت ہو گی جیسی ٹی وی پر دلفریب لگتی ہے۔ میں سکرین پر ہی سمندر نہیں دیکھتا بلکہ کاغذوں پر اترے ہوئے الفاظ میں بھی سحر ہی ڈھونڈتا رہتا ہوں۔۔مجھے ‘ہرمن میلول’ کی ‘موبی ڈک’ پسند ہے۔ ‘ارنسٹ ہیمنگوے’ کا چھوٹا سا ناول بھی کئی بار پڑھا ہے جس میں ایک بوڑھا مچھلی پکڑنے جاتا ہے اور ایک بہت بڑی مچھلی اس کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے اور ۔۔۔ اور انگ انگ میں جوش بھر دینے والی ‘اوڈیسی’ تو میرے سرہانے تلے دھری رہتی ہے، جب جی چاہتا ہے ورق الٹتا ہوں اور اس میں کھو جاتا ہوں۔ اور خواب دیکھتا ہوں کہ میں ایک بڑی کشتی میں ہوں جو اپنے بادبانوں کے سہارے ہوا کے دباؤ پر بہہ رہی ہے اور کبھی کبھی ہچکولے بھی کھاتی ہے ۔۔۔ میرے خیالات کی طرح ۔۔۔ اور میں فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کراچی جاؤں یا گوادر جانا چاہئے۔ میں نے پڑھا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے شام کے وقت بڑا دل کش نظارہ پیش کرتے ہیں۔ میں تصور کرتا ہوں کہ اگلے وقتوں میں روشنیوں کے اس مشہور شہر جو اب گولیوں کی دھڑ دھڑ سے بدنام شہر ہو چکا ہے میں ساحل کے قریب کھڑی کی گئی آسماں کو چھوتی عمارتوں کا عکس جب سمندر پر پڑتا ہو گا تو کیا نظر آتا ہوگا؟ وہ تب اتنی ہی پرکشش ہوتی ہوں گی جیسی سر اوپر اٹھا کر دیکھنے سے محسوس ہوتی ہیں۔ پانی میں ڈوبتی عمارتوں کو دیکھنے کے لئے سر جھکانا پڑے گا تو ان کی شان میں فرق پڑے گا یا نہیں؟ سوچتا ہوں کہ سمندر کے بیٹے جب مچھلی پکڑنے جائیں تو ان میں سے کسی کی کشتی پر سوار ہو جاؤں جو گہرے پانیوں میں جائے گی۔

قریب قریب ساری مچھلیاں اور سمندر کا پانی بھی دریائی پانیوں کے ساتھ آتی گندگی ۔۔۔ کارخانوں کا تیزابی پانی ۔۔۔ اور بندرگاہ سے بہایا جانے والا تیل نگل چکا ہے عفریت کی طوح پھیلے شہرِ کراچی کی اپنی گندگی اوپر سے الگ ہے۔ پھر بھی سارے ملک سے لوگ کراچی جاتے ہیں سمندر کے کنارے خوشی ڈھونڈنے کے لئے۔۔۔ میں بھی جانا چاہتا ہوں ۔۔۔ اور اس شہر کے دو اطراف موجود چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی بڑی عینک سے پانی کے باہر اور اندر بنتے ، مٹتے نقوش سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور یہیں رکنا نہیں چاہتا بلکہ آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میں جہاں رہتا ہوں یہاں سے گوادر جانے کے لئے پہلے کراچی جانا پڑتا ہے ۔۔۔ تو کراچی مفت میں دیکھا جائے گا لیکن اصل مزہ تو سمندر کے ساتھ ساتھ سفر میں ہے ۔۔۔ ہر منظر کی پانی پر علیحدہ چھاپ دیکھنے کی چاہ بھی عجیب ہے۔ جب ہلکے بادل ہوں گے تو سمندر کیسا ہوگا؟ گہرے کالے بادل سطح آب کو ڈراؤنا بنا دیں گے یا سحر انگیز ۔۔۔ ہر لمحہ گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ سطحِ آب رنگ بدلتی دکھائی دے گی تو میرے باطن میں بھی تو تبدیلی کی لہریں اٹھیں گی۔ سورج کی چھنکتی کرنوں سے میرے دائیں ہاتھ موجود چیزیں بائیں ہاتھ پانی پر کتنا حسین عکس پھینکیں گی۔۔۔ مناظر ہیبت ناک بھی ہوں گے یا حیران زدہ کر دینے والے؟

گھبراہٹ ہو تو گاڑی روک کر خود سے مختلف مگر ملتے جلتے لوگوں سے ملوں گا تو مجھے اور ان کو کیا محسوس ہوگا؟ اور جب منزل پر پہنچ جاؤں گا تو وہاں ہزاروں سال سے سانسیں لیتے شہر کو ملتی نئی زندگی دیکھوں گا۔ سنا ہے کہ نیا جنم پرانے سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔ وہاں ایک نئی بندر گاہ بھی بن رہی ہے جو پڑھ رکھا ہے کہ خوشحالی کا دروازہ کھولے گی اور منقول ہے کہ اس کی بدولت یہ شہر بلوچوں کو ایک ہی جھٹکے میں غاروں کی دنیا سے نکال باہر اکیسویں صدی میں لا سکتا ہے۔ میں اس علاقے اور بستوں کو دیکھنا چاہتا ہوں جن کے لوگوں کو خواب دکھائے جا رہے ہیں ۔۔۔ پتہ نہیں پورے ہوں گے یا نہیں ۔۔۔ میں خواب ٹوٹنے سے ڈرتا ہوں ۔۔۔ اور اس وقت سے پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں اور یقین کرنا چاہتا ہوں کہ سبز باغ محاورے سے نکل کر روزمرہ کا روپ کیسے دھار لے گا ۔۔۔ اور مجھے مائل کرے گا کہ میں بھی اسی باغ کے کسی گوشے میں بس جاؤں یا اس کے آس پاس کہیں اپنا کوئی درخت اُگا لوں جو میٹھے میٹھے پھل دے جنہیں وہیں رہ کر بیچنا شروع کر دوں۔

یہ اگر سب سچ ہو جائے تو میں اُس شہر میں جہاں میں جنمایا گیا ہوں اور جس کی گندگی میں بھی اپنا ایک حسن ہے ۔۔۔ واپس نہ آؤں کہ اب اسے بھیڑ بکریوں کا باڑہ بنا دیا گیا ہے اور چارہ بھی کم کر دیا گیا ہے ۔۔۔ اسی ساحلی علاقے میں اپنی کشتی کے راستے پانی میں اترتا اور چڑھتا رہوں ۔۔۔ جی چاہے تو ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کی طرف دیکھوں جس کے پانی میں مجھے اپنے پیچھے موجود پہاڑیاں بھی نظر آئیں گی اور ہر وقت چلنے والی ہوا بھی لہرائے گی۔۔۔ جب تھک جاؤں تو واپس باغ میں آ کر آرام سے سو جاؤں۔

میں خیالی پلاؤ ہی نہیں پکاتا بلکہ عملی طور پر بھی جانا چاہتا ہوں اور ایک بار جانے کے لئے پوری تیاری بھی کر لی لیکن میرے گھر والے راستے کی دیوار بن گئے ۔ حالانکہ صرف یہ بتایا تھا کہ صرف سیر کے لئے جا رہا ہوں ، واپس آ جاؤں گا۔ بسیرا کرنے جاؤں گا تو سب کو ساتھ لوں گا لیکن وہ نہیں مانے۔ گوادر تو بڑی دور ہے ، وہ کراچی کے لئے بھی راضی نہ ہوئے۔ سوال کیا کہ تیاری کی ہوئی ہے چلو سمندر پھر کبھی دیکھ لیں گے، اس بار سرسبز پہاڑی علاقے ہی نہ دیکھ آؤں کیا؟ جواب ملا کہ ان حالات میں وہاں جانا بھی ٹھیک نہیں۔ کہا،

’’جھیلوں کی سرزمین کو چوم آؤں؟‘‘۔

سنا، ’’ نہیں۔ پھر کبھی سہی۔ جھیلوں میں بھی طغیانی بھر دی گئی ہے۔‘‘

میں جا سکتا تھا اور اب تک جانے کے لئے تیار ہوں لیکن ۔۔۔ میں وسائل کے لئے گھر والوں کا محتاج ہوں نہ میں کوئی چھوٹا سا لڑکا ہوں ۔ میں اپنے شہر میں آدھی آدھی رات کو بھی بے مقصد گھر سے نکل پڑتا ہوں اور گاڑی میں گھومتا رہتا ہوں تو میں ڈرپوک بھی نہیں۔ اپنے شہر میں جہاں میرا جی چاہتا ہے، چلا جاتا ہوں۔ ہاں دوسرے شہر جانے کے لئے اطلاع دینا ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ کراچی بھی بتائے بغیر نہیں جا سکتا اور گوادر کے لئے بھی رخصت لینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ میرے گھر والوں نے مجھے باندھ کر نہیں رکھا ہوا۔ مجھے معلوم ہے کہ جب میں جانا چاہوں ، مجھے کوئی نہیں روک پائے گا ۔۔۔اور میں چلا جاؤں گا لیکن ۔۔۔ میں ڈرتا ہوں ۔۔۔ مجھے اپنے گھر والوں کی طرح خدشہ ہے کہ کیا میں ’ہوا کے دروازے ‘ تک پہنچ پاؤں گا؟ اگر پہنچ گیا تو اسے کھٹکھٹا کر واپس بھی آ پاؤں گا کہ نہیں؟ اسی خوف سے میں اپنی برسوں پرانی خواہش پوری نہیں کر پا رہا جسے میں کسی بھی وقت پورا کر سکتا ہوں مگر کر نہیں پا رہا۔

میں خوشی کی تلاش میں جانا چاہتا ہوں لیکن میں کھیتوں اور کھلیانوں کی زمین سے ہوں اور ہیبت ناک خوبصورتی سے بھرا سمندر، پانی کے عظیم دیوتا اباسین کی گزر گاہ سے خاصا پرے ہے ۔۔۔ یا ۔۔۔ ان سخت جان یودھاؤں کی دھرتی کو چھوتا ہے جن کو لوری ملتی ہے:

‘ میرا پھول سا بچہ جواں ہو گا۔۔۔ کاندھے پہ رکھ بندوق رواں ہوگا۔’

۔۔۔ اور میں پانچ دریاؤں کی دھرتی کا بھوری رنگت والا بیٹا ہر جگہ قابل نفرین بنا دیا گیا ہوں ۔ وہ پرانی بندرگاہوں کا دیس ہو یا دوبارہ بنائی جا رہی بندرگاہ کا وطن ۔۔۔ نیلی جھیلوں کی سرزمین ہو کہ پھلوں اور پھولوں سے لدے ہرے بھرے باغوں سے سجی دھرتی جو مذہبی جنونیت پسندوں اور جارحیت پسندوں کا کھیل تماشا دیکھنے والے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان لے جاتی ہے یا جنت نظیر کشمیر ۔۔۔ میں کہیں مقبول نہیں۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور اسی دیس کے دوسرے علاقوں کے عام آدمیوں کی مجھ سے نفرت سمجھ سے باہر ہے مگر خواص کی مہربانی ہے جو نفرت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور میرا چہرہ بگاڑتے رہتے ہیں۔

مجھے نیا چہرہ نہیں چاہئے۔ میں اپنا اصلی چہرہ واپس چاہتا ہوں جس پر مَلا ہوا گند صاف کرنے کے لئے کوئی نمکین پانی دینے کو تیار نہیں ۔۔۔ سمندر سے بھی زیادہ نمکین ۔۔۔ اتنا کہ پانی، پانی نہیں رہتا، تیزاب بن جاتا ہے جو سب صاف کر دیتا ہے اور اگر یہ کہیں باہر ان علاقوں میں مَل دیا گیا تو صفائی کیسے ہو گی؟ ۔۔۔صرف کالک اترے گی یا چمڑی بھی پگھل جائے گی اور میں پہچانا نہیں جاؤں گا اپنے دوست کی طرح جو بھری جیب لیے پھل کے سایہ دار درخت لگانے خواب نگر گیا تھا یا پھر ویسے جیسے آج کی خبر بنے ان محنت کشوں کی طرح ۔۔۔ جو روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنوں سے بہت دور کسی کے چمن کی آبیاری کے لئے پسینہ بہانے جا رہے تھے لیکن شناخت کرکے ناقابل شناخت بنا دیئے گئے۔

Published inآدم شیر