Skip to content

چوتھی کا ایک اور جوڑا

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 9

چوتھی کا ایک اور جوڑا
(جہاں سے عصمت چغتائی کا ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ ختم ہوا)

ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا

کبریٰ کا کفن بیوتنے کے بعد سے بی اماں کے چہرے پر جو سکون اترا تھا وہ جیسے ٹھہر کر رہ گیاتھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کی ساری فکریں اور سارے جوڑتوڑ کبریٰ کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہوگئے تھے۔ انھیں اس کا بھی احساس نہیں تھا کہ ابھی ایک پہاڑ ان کی چھاتی پر اور دھرا تھا جس کی چوتھی کے جوڑے کی کتربیونت میں انہیں نئے سرے سے اپنے ہنر کو آزمانا باقی تھا۔ کبریٰ کے چہلم کے دن سہ دری میں وہی صاف ستھری جازم بچھائی گئی جسے مرحوم کبریٰ نے اپنے بخار سے تپتے کمزور اور کھردرے ہاتھوں سے دھوکر اس لیے سینتا تھا کہ اس کی بارات کے دن مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے بچھائی جائے گی۔ سہ دری کے چوکے پر جائے نماز بچھائی گئی تھی جس پر محلے کی مسجد سے منگائے گئے پھٹے ہوئے سپارے اور تسبیحیں رکھی تھیں۔ چند ایک بوڑھی عورتیں زور زور سے ہل ہل کر سپارے پڑھ رہی تھیں، لڑکی بالیاں تسبیح پر کلمہ پڑھ رہی تھیں۔ زیادہ تر عورتیں ناپاکی کا بہانہ کیے پیچھے کی طرف بیٹھی کاناپھوسی میں مصروف تھیں۔ ملگجے ململ کے دوپٹے میں لپٹی حمیدہ گھنٹوں پر بازوئوں کا حلقہ بنائے سر نہوڑے بیٹھی تھی۔ ذرا دیر میں ملانی جی آگئیں۔ انھوں نے بتاشوں پر نیاز دے کر ثواب معصوم ونامراد کبریٰ کو بخشا اور بی اماں کو بشارت دی کہ کبریٰ تو مزے سے جنت کے باغوں میں ٹہل رہی ہے جہاں غلمان اس کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ بی اماں کے جھریائے ہوئے سفید چہرے پر ابر ساچھاگیا، لیکن آنکھ سے پانی کی بوند بھی نہیں ٹپکی۔ عورتیں دو دو بتاشوں کا تبرک لے کر اپنے گھروں کو سدھاریں۔ حمیدہ سوچ رہی تھی کہ مرنے والی کوتو جنت کے باغ اور غلمان نصیب ہوگئے، مگر زندوں کا کیا ہوگا۔ کبریٰ کی موت اور خود اس کی تباہی کا ذمہ دار پہاڑ شادی رچا کر نئی نویلی دلہن کے چائو چونچلوں میں مصروف ہوگا۔ وہ یہ بھی بھول گیا ہوگا کہ دو کمزور، مجبور اور بیمار ہاتھوں نے اس کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے کیا کیا صعوبتیں نہیں اٹھائی تھیں اور پھر قبر میں جاسوئے تھے۔ وہ یہ بھی بھول گیا ہوگا کہ نیاز کے ملیدے کی طشتری جب لالٹیں پر جا گری تھی تو اس کے حریص ہاتھوں نے ایک اور جوانی کو زندہ درگور کردیاتھا۔ بی اماں کی آواز اسے کہیں دور سے آتی ہوئی لگ رہی تھی جو اس سے کہہ رہی تھیں کہ جازم تہہ کرکے صندوق میں رکھ دے میلی ہوجائے گی۔ حمیدہ کا جی چاہا کہہ دے کہ جازم میلی ہوئی تو دھل جائے گی، لیکن اس کی اپنی زندگی پر جو میل لگ گیا ہے، اسے کون دھوئے گا۔
بی اماں نے آکر اس کا کندھا ہلایا ’’کہاں کھوگئی جنم جلی اتنی دیر سے آوازیں دے رہی ہوں۔‘‘ حمیدہ نے چونک کرسراٹھایا۔ بی اماں سے نگاہیں ملیں اور رکا ہوا سیلاب بہہ نکلا۔ حقیقت حال نے بی اماں کو گنگ کردیا، دھپ سے وہیں بیٹھ گئیں، جو آنکھیں کبریٰ کی موت پر خشک رہی تھیں حمیدہ کی بدنصیبی پر چھلک اٹھیں۔ ٹوٹی ہوئی کھپریل کی جھریوں میں سے دلان میں پھیلے ہوئے دھوپ کے آڑے ترچھے قتلے انہیں یوں لگ رہے تھے جیسے ان کا پورا وجود بکھر گیا ہو۔ انھوں نے بلبلا کر بددعا دی: ’’اے راحت بندے، اللہ کرے تجھے آدھی رات کو پردیس میں موت آئے، کوئی میت اٹھانے والا نہ ملے۔ تجھے کفن نصیب نہ ہو۔ تن تن کیڑے پڑیں۔ تیری آس اولاد نہ رہے۔‘‘ کوسنے دے کر بی اماں کا دل کچھ ٹھنڈاہوا دماغ گرم ہوگیا۔ وہ بی اماں تھیں، ان کی ساری زندگی کم کپڑے کو کھینچ تان کر اور کان نکال کر کتربیونت کرنے میں گذری تھی۔ مشکل سے مشکل کیس ان کے ہاتھوں سلجھ جاتاتھا۔ یہاں بھی ان کے دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیا۔ کبریٰ تو اپنے کنوارپن کی لعنت سمیت مٹی میں مل گئی، لیکن اس نامراد کنواری ماں کا بیڑا کیسے پار لگائیں۔ وہ جانتی تھیں کہ کان کیسے نکالا جاتا ہے اور قینچی کہاں چلائی جاتی ہے۔
ان کے دور کے رشتے کے ایک بھائی تھے، شیخ ناصر علی کوئی چالیس کے لپیٹے میں ہوں گے، لیکن اب تک چھڑے تھے۔ اماں بیٹے کے سر سہرا دیکھنے کے ارمان لیے جنت کو سدھار دیں، لیکن ناصرعلی شادی پر راضی نہیں ہوئے۔ ان کی ذات سے بہت سے قصے منسوب تھے، لیکن ثابت ایک الزام بھی نہ ہوا تھا۔ بی اماں کا کتربیونتی دماغ وہیں جاکر پھنسا۔ نہ آگے ناتھ نہ پیچھے پگا۔ بہت مناسب جوڑ تھا جیسے لال ٹول میں لٹھے کا نیفہ۔ بی اماں نے جھٹ شیخ ناصر علی کو بلوا بھیجا ، ساتھ یہ بھی کہلوادیا کہ نہ آئو تو میرا مرامنہ دیکھو۔ناصرعلی کبریٰ کی میت پر بھی نہیں آئے تھے، لیکن اس پیغام پر رکتے جھجھکتے آہی پہنچے۔ بی اماں نے حمیدہ کو شربت لانے کا حکم دیااور انہیں اندر والی کوٹھری میں لے گئیں۔ حمیدہ نے نیاز کے بچے ہوئے بتاشے گھول کر شربت بنایا اور لے کر چلی تو اندر سے آنے والی آوازیں سن کر سہ دری کے کھمبے کی آڑ میں ہی رک گئی۔ بی اماں ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان ناصرعلی کے سامنے گھگھیارہی تھیں ’’ناصر علی تمہیں مشکل کشا کا واسطہ میری حمیدہ کو اپنا لو ورنہ ہم دونوں ماں بیٹی کا خون ناحق تمہاری گردن پر ہوگا۔‘‘ حمیدہ کے قدم زمین نے پکڑ لیے۔ اس کا جی چاہا کہ ابھی زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ آنگن میں پھیلے ہوئے دھوپ کے قتلے اسے خون کے سرخ قتلے لگے، جن میں اس کی تمنائوں، آرزوئوں اوربی اماں کی عزت نفس کا خون شامل تھا۔
ناصر علی کی ندامت میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ’’آپا آپ مجھے شرمندہ نہ کریں۔ خدارا اپنا یہ پاک دوپٹہ میرے گناہ گار پیروں پر سے ہٹالیں۔ میری مجبوری کو سمجھیں۔ میں آپ کی بیٹی کو کوئی خوشی نہ دے سکوں گا۔ قدرت نے مجھے اس جوہر سے محروم رکھا ہے جو عورت کی زندگی میں رنگ بھرتا ہے۔ لوگوں نے مجھ پر بہت الزام لگائے مگر میں خاموش رہا۔ آپ کی بے بسی سے مجبور ہوکر یہ راز آشکار کررہا ہوں۔‘‘
اسی دم حمیدہ شربت کا گلاس لیے اندر داخل ہوئی ’’ناصر علی صاحب مجھے مرد ذات سے نفرت ہے۔ میں نے مرد کا وہ گھنونا روپ دیکھا ہے کہ اگر میری بدنصیبی نے یہ گل نہ کھلایا ہوتا تو وہ خدا کی قسم کبھی مرد کی طرف تھوکتی بھی نہیں۔ مجھے آپ سے کوئی خوشی نہیں چاہیے۔ صرف ایک چھت کا آسرا اور اپنے بچے کو باپ کا نام چاہیے۔ میں اپنی بیوہ اور بدنصیب ماں کے سفید سر پر کالک نہیں دیکھ سکتی۔ آپ مجھے نوکرانی سمجھ کر رکھیے۔ مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘
شیخ ناصرعلی نے سراٹھا کر اپنے سے آدھی عمر کی اس باحوصلہ اور بے باک لڑکی کو دیکھا جو ان کے سامنے سوالی تھی، لیکن مجبور یا گناہ گار نہیں تھی۔ وہ سوچ میں پڑگئے۔ وہ جانتے تھے محلے والے ان کی شادی نہ کرنے کے فیصلے کو لے کر کیسی کیسی قیاس آرائیاں کرتے تھے۔ کوئی ان کی دلچسپی لڑکوں میں بتاتا تو کوئی قسمیں کھاکر کوٹھوں پر ان کی موجودگی کی گواہی دیتا۔ کچھ پڑوسیوںکا خیال تھا کہ اپنی دوکان پر آنے والی نائن کی لڑکی سے ان کا ٹانکا بھڑگیا تھا۔ اماں نے جان دینے کی دھکی دی۔ نائن کو الگ ڈرایا دھمکایا تو اس نے فوراً لڑکی کے ہاتھ پیلے کردیے اور ناصر علی نے جوگ لے لیا۔ اصلی وجہ کسی کو معلوم نہیں تھی، لیکن اگر کبھی بھید کھل گیاتو ان کی مردانگی مٹی میں رُل جائے گی اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ موقع اچھا ہے۔ بیوی آگئی تو سب کے منہ بند ہوجائیں گے اور بچہ ہوگیا تو مستقبل میں رسوائی کی تلوار بھی سر سے ہٹ جائے گی اور ناصر علی نے حامی بھر کے بی اماں کی چھاتی سے چٹان کا بوجھ ہٹادیا۔ اگلے جمعہ کو نکاح طے ہوا۔ بی اماں کے ادھ موئے بدن میں پھر سے نئی جان پڑگئی۔ لپاک جھپاک انھوں نے بھاری قبر جیسے صندوق کی تہہ سے وہ سارے جوڑے نکال ڈالے جن میں کبریٰ کی نامراد تمنائیں ٹمٹمارہی تھیں۔ سہ دری کے چوکے پرپھرسے صاف ستھری جازم بچھی۔ محلے ٹولے کی عورتوں نے بغلوں میں بچوں کو دبائے بھرّا مار کر آنگن میں دھاوا بول دیا۔ بی اماں نے ادھورے بیونتے ہوئے کپڑوں پر قینچی چلادی اور لڑکی بالیوں نے جھٹ سوئی میں دھاگا ڈال کر ٹانکے بھرنے شروع کردیے۔ بی اماں نے اپنی منہ بولی بہن کو بھی راز دار نہیں بنایاتھا۔ بات ہونٹوں سے نکل جائے تو کوٹھوںچڑھ کر بولتی ہے۔ لیکن سب کو حیرت تھی کہ آناًفاناً میں رشتہ کہاں سے طے ہوگیا۔ عورتوں میں کھسر پھسر ہونے لگی۔
’’لو بوا۔نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔ بڑی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور چھوٹی کی برات چڑھنے لگی۔‘‘
’’اے بہن جنم جلی کریں بھی تو کیا کریں۔ رانڈ بیوہ کے سر پر کنواری بیٹی پتھر کی سل ہوتی ہے، نہ جیتے بنے نہ مرتے۔ جوان بیٹی کا گھائو کھایا ہے۔ کل کلاں کو آنکھ بند ہوجائے تو چھوٹی تو بے آس رہ جائے گی۔‘‘
’’ہاں بہن بیٹی اپنے گھر کی ہوجائے اسی میں ثواب ہے۔ خوشی کیسی یہ تو فرض اتارنا ہے۔‘‘ حمیدہ پلنگڑی پر بیٹھی سب کی باتیں سنتی رہی اپنی شادی کا ذکر سن کر وہ نہ تو مچھروں والی کوٹھری میں گھسی اور نہ ہی لاج شرم کا کوئی عکس اس کے چہرے پر لہرایا۔ پتھر کی طرح ٹھس ہوگئی تھی۔
جمعہ کے دن پورے آنگن میں ٹاٹ کا فرش بچھایاگیا۔ سہ دری کے چوکے پر صاف ستھری جازم بچھا کر دلہن بنی حمیدہ کو بٹھادیاگیا۔ ناصرعلی چار پانچ دوستوں کے ساتھ گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے بارات لے کر آگئے۔ لڑکی بالیوں کو بڑی مایوسی ہوئی نہ صافہ، نہ سہرا، نہ باجا، نہ گاہے۔ناصر علی نے دو روز پہلے ہی کچھ روپے بی اماں کی مٹھی میں زبردستی ٹھونس دیے تھے۔ گوشت روٹی سے مہمانوں کی تواضع ہوئی اور حمیدہ رخصت ہوکر ناصر علی کے گھر پہنچ گئی۔
چوک میں ناصر علی کی بسا طی کی دوکا ن تھی ہا ر بندے، سرخی پائوڈر، کنگھی چوٹی،چوڑی بندی سے لے کر رومال، بنیان، سوئی دھاگا، لچکا سلمہ ستارے تک عوتوں کی ضرورت کا ہر سامان ان کی دوکان پر مل جاتا تھا۔ ہر وقت عور توں اور لڑکیوں کی بھیڑ رہتی تھی۔ اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی۔اوپر کی منز پر تین کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا۔ جیسا مردوں کا ہوتا ہے۔ ہر چیز بے قرینے ہر چیز بے جگہ ۔ حمیدہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہا ں بیٹھے ۔ جس چیز کو ہاتھ لگائو، ڈھیروں دھول چاٹو۔ ناصر علی کے کمرے میں ان کا بستر دھول سے تو ضرور پاک تھا۔لیکن گندامیلا پلنگ پوش ،غلیظ تیل میں چکٹے ہوئے تکیے کے غلاف پلنگ کے نیچے میلے کپڑوں کا ڈھیر۔ حمیدہ کا جی الٹنے لگا۔ ویسے بھی ناصر علی کے کمرے میں سونے کا کوئی سوال نہیں تھا۔دوسرا کمرہ شاید ان کی اماں کارہا ہوگا جسے مہینوں سے کسی ہاتھ نہیں لگایاتھا۔ رات اتر آئی تھی۔ حمیدہ نے بان کے پلنگ کو کھڑا کر کے جھاڑا ۔ چادر جھاڑ کر بچھائی اور لیٹ گئی۔چھت پر لٹکے ہوئے جالوں کے تانے بانے میں اپنی قسمت کا سرا تلاش کرتے ہوئے جانے کب نیند آگئی۔ پتہ نہیںکتنی دیر بعد ناصر علی آئے اور چپ چاپ اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گئے۔ صبح کھٹر پٹر کی آواز سن کر حمیدہ کی آنکھ کھلی۔ ناصر علی فجر کی نماز کو جا رہے تھے۔ حمیدہ اٹھ بیٹھی ۔منہ پر پانی کے چھپکے مار کر گھر کا چکر لگایا۔باور چی خانہ نہ جانے کب سے استعمال نہیں ہوا تھا۔ ضرورت کاہر سامان تھا۔ لیکن برسوں سے دھول کھارہاتھا ناصر علی بھٹیاری کے ہاں دونوں وقت کھانا کھاتے اور مہینے پر حساب ہوجاتا۔جمعہ کو دکان بند رہتی تھی تو خود ہی گھر میں جھاڑ رو لگالیتے اور ہفتہ بھر کے میلے کپڑے دھو لیتے۔
ناصر علی نماز پڑھ کر آئے تو گلاس میں چائے اور کا غذ کے تھیلے میں چار پاپے لاکر حمیدہ کو تھمادیے۔ ان کے دکان جانے کے بعد حمیدہ نے دوپٹہ کمر میں ارسا، شلوار کے پائچے چڑھائے اور جھاڑو لے پل پڑی۔ خدا جھوٹ نہ بلائے تو جھوّا بھر کے کوڑا کباڑا نکلا۔ شام تک گھر جگمگا نے لگا۔ شام کو ناصر علی آئے تو خود اپنا ہی گھر نہ پہنچان پائے۔ بس اتنا ہی کہہ پائے ’’ آپ نے اتنی تکلیف کیوں کی ‘‘؟؟
’ حمیدہ نے رسان میں سمجھا یا ’’یہ آ پ جناب چھوڑیے میں آپ کی منکوحہ بیوی ہوں۔ نام کی ہی سہی، یہ میرا بھی گھر ہے۔ یہ بھٹیار بازی بہت ہوئی۔ آٹا دال اور جنس کا سامان لاکر رکھیے اورکھانا گھر پر کھایا کیجیے‘‘۔
ناصر علی فطرتاً شریف آدمی تھے۔ بے دام کے غلام بن گئے جو حمیدہ حکم دیتی فوراً پورا ہوجاتا کھانا گھر میں پکنے لگا، روز کے روز کپڑے دھلنے لگے ،ہر چیز قرینے سے جگہ پر ملنے لگی، گھر جگر جگر کرنے لگا۔ محلے والے ناصر علی کی قسمت پر رشک کرنے لگے ناصر علی کو اور کیا چاہیے تھا۔ حمیدہ غریب گھر کی لڑکی تھی۔ خالی بیٹھنا نہ اس کی سر شت میں تھا اور نہ تر بیت میں۔ دو آدمیوں کا کام ہی کتنا ،ذرا کی ذرا نبٹ جاتا۔ سارادن خالی ہوجاتی تو نفس ڈنک مارتا۔بی اماں نے سلائی کڑھائی میں طاق کر دیا تھا۔ حمیدہ نے محلے والیوں کے کپڑے سلائی پر سلنے شروع کرد یے ہاتھ میںہنر تھا۔ ایک منہ سے دوسرے منہ ہوتی اس کے ہنر کی شہرت دور تک پہنچی کہ حمیدہ کو کام سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ یوں بھی پیٹ پھولتا جارہاتھا۔ زیادہ دیر بیٹھتی تو کمر میں ٹیسیں اٹھنے لگتیں۔حمیدہ نے ایک مغلانی کو نوکر رکھ لیا۔گھر کا تیسرا کمرہ درزی خانہ بن گیا۔ ناصرعلی کی آمدنی دن دونی رات چوگنی ہونے لگی اور پھر ایک دن حمیدہ نے ایک گل گوتھنی سی بچی کوجم دے کر ناصرعلی کو باپ کے درجے پر فائز کردیا۔ بچی دسویں مہینے پیداہوئی تھی۔کسی کو شک بھی نہ ہوا۔بچی ہو بہو راحت کی شکل تھی وہی ہاڑماس، وہی رنگ روپ،لیکن ناصر علی بھی گورے چٹے لمبے چوڑے پورے مرد تھے جس نے دیکھا یہی کہا کہ باپ پہ گئی ہے۔ ہلتی کا نپتی بی اماں بھی نواسی کو دیکھنے آئیں اور سینے سے لگاکر پیار کرتے ہوئے دھیرے بولیں ـــــ’’ حرامن۔ حرام خورباپ کی اولاد۔‘‘
حمیدہ نے بی اماں کاہاتھ دبایا ’’بی اماں۔خدا کے لیے‘‘۔ حمیدہ نے بچی کانا م ناصرہ رکھا۔ ناصر علی خوشی سے پھولے نہ سماتے کبھی کوئی شوہر اپنی بیوی کے پیٹ سے پیدا ہونے والی دوسرے مرد کی اولاد پاکر اتنا خوش نہیں ہوا ہوگا۔ حمیدہ کو جب ناصر ہ کے چہرے میں راحت کی شباہت آتی تو اسے پلنگڑی پر پٹک دیتی۔ دوھ بھی نہیں پلاتی۔ ’’سانپ کی بیٹی سنپولن‘‘۔ لیکن ناصر علی جھٹ اٹھاکر چھاتی سے لگا لیتے۔ ’’بیوی یہ بچی میری خوش بختی ہے، اس سے ناراض نہ ہوا کرو‘‘، ناصر ہ تل تل کر کے بڑھنے لگی،پانچ سال کی تھی تو بی اماں بھی دو دن کی بیمار ی میں چٹ پٹ ہوگئیں۔ جاتے جاتے اپنا مکان حمیدہ کے نام کر گئیں۔ ناصرہ کو حمیدہ نے اسکول میں بھرتی کرادیا۔وہ چاہتی تھی اس کی بیٹی خوب پڑھ لکھے ۔ ڈپتی کلکٹر بن جائے تاکہ کسی مرد کی دست نگر نہ رہے اس کی شادی کے لیے کسی کے آگے گڑ گڑانا نہ پڑے، بلکہ اس سے بیاہ کرنا مائیں اپنے بیٹوںکی خوش نصیبی سمجھیں۔ جس سال ناصرہ نے دسویں درجے کا امتحان پاس کیاحمیدہ نے بی اماں والا گھر اور ناصر علی کا گھر بیچ کر شریفوں کے محلے میں ایک اچھا سا گھر لے لیا اور صدر کے علاقے میں ناصر کے لیے جنر اسٹور اور اپنے لیے بوٹیک بھی خرید لیا۔ حمیدہ کے بوٹیک پر امیر گھرانے کی فیشن اپیل عورتیں کپڑے سلوانے آتی تھیں۔ حمیدہ خود تو معمولی اردو اور حساب پڑھی ہوئی تھی۔ جو اس نے اپنے محلے کی استانی جی سے سیکھا تھا۔ لیکن اس کے طور طریقوں اور بات چیت سے کوئی بھی اس کی کم علمی کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ حمیدہ نے اپنی محرومیوں کو ناصرہ کے مستقبل کی خاطریوں دفن کر دیا تھا کہ فاتحہ پڑھنے کی بھی مہلت نہیں ملتی تھی۔ ناصرہ کا لج میں آگئی مقابلے کے امتحان میں بیٹھی اور سچ مچ ڈپتی کلکٹر بن گئی۔ ناصر علی بھول گئے تھے کہ وہ ان کی بیٹی نہیں ہے اس کی ہر کامیابی ،انھیں اپنی کامیابی لگتی،حمیدہ کے دل میں کھٹکنے والی بھانس بھی اب اپنا نشتر کھو چکی تھی۔ جب ایک دن ناصرہ اپنے ساتھ احمد حسین کو لے کر آئی سانولا سلونا، چھر یرے بدن، لمبے قد کا ہنس مکھ سا احمد حسین حمیدہ کو بھی اچھا لگا۔ اس نے ایک لمبی سانس لے کر سوچا ’’تو آخر ایک اورچوتھی کا جوڑا بیوتنے کا وقت آہی گیا ‘‘۔
ناصر علی کو بھی لڑکا پسند آیا۔احمد حسین کے جانے کے بعد حمیدہ نے ناصرہ سے کہا ’’بیٹی تم خود سمجھ دار ہو۔ تم نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا لیکن لڑکے خاندان کا بھی کچھ اتا پتہ ہے۔‘‘؟
امی۔ ا حمد کو میں کئی سالوں سے جانتی ہوں، کالج میں بھی وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے۔ ان کے والد چودھری حسین ڈپٹی کمشنر تھے۔ان کا انتقال ہوچکا ہے۔احمد اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی والدہ بارہ بنکی کی رہنے والی ہیں۔ بڑا سالمبا چوڑا ننھیال ہے۔ ددھیال میں کوئی نہیں ہے۔
حمیدہ نے سکھ کی سانس لی۔اگلے ہفتے احمد اپنی والدہ نجیبہ بیگم کو لے کر آگئے۔ احمد بالکل اپنی ماں پر گیا تھا۔ وہی کھڑا کھڑا نقشہ بڑی بڑی آنکھیں ،سانولا رنگ ،لمبا قد خوش مزاج اور نرم خو۔ حمیدہ کو انکار کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی،شادی کی تیاریاں زوروں پر شروع ہوگئیں،حمیدہ نے بیٹی کے لیے ایسا چوتھی کا جوڑا ڈیزائن کیا تھا جو دیکھنے دکھانے کے قابل تھا۔ بوٹیک میں ایک کاریگر صرف اس جوڑے پر کام کررہا تھا، وہاں آنے والی ہر گاہک کی نظر اسی جوڑے میں اٹک کر رہ جاتی، حمیدہ کو آج بھی وہ دن یاد تھے جب بی اماں سستے سلمہ ستارے اور جھوٹی کرن سے سجا کر کبریٰ کے لیے جوڑا بیوتا کر تی تھیں۔ وہ خود تو کبھی چوتھی کا جوڑا نہیں پہن سکی لیکن بیٹی کے لیے ایسا جوڑا بنانے کی خواہش مند تھی جس کا جواب نہ ہو۔
دھوم دھام سے بارات چڑھی بڑے بڑے اونچے افسران باراتی تھے، سجے سجائے ہال میں ناصر علی نے بارات کا استقبال کیا، سرخ شاہانہ جوڑا پہنے ناصرہ اندر کمرے میں سہیلیوں کے جھر مٹ میں بیٹھی تھی۔ جب شور ہواکہ وکیل اور گواہ ایجاب قبول کروانے آرہے ہیں حمیدہ کی منہ بولی بہن رضیہ نے حمیدہ کو ٹہوکا دیا نکاح کے وقت بیٹی کے پاس جا کر بیٹھو۔
دو پٹے کے کونے سے آنکھیں رگڑ تی حمیدہ ناصرہ کے پاس آکر ٹک گئی۔ وکیل نے نکاح نامہ پڑھنا شروع کیا۔
مسماۃ ناصرہ علی بنت شیخ ناصر علی ساکن ہر دوئی،آپ کا نکاح احمد حسین ولد چودھری راحت حسین مرحوم ،ساکن بدایوں سے بعوض اکیاون ہزار سکّہ رائج وقت مہر مؤ جل۔۔۔۔
’’ نہیں‘‘ ایک تیز چیخ ابھری اور وکیل کے الفاظ ادھورے رہ گئے۔ ناصر علی دوڑے ہوئے آئے، ناصرہ نے حیرت سے گھونگھٹ اٹھا کر ماں کو دیکھا۔حمیدہ نے دیوانوں کی طرح نہیں، نہیں، چلاتے ہوئے وکیل کے ہاتھ سے کاغذ لے کر ٹکرے ٹکڑے کر دیا اور لہرا کر ناصر علی کی بانہوں میں گری اور بے ہوش ہوگئی۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمنعیمہ جعفری پاشا