Skip to content

چوتھا فنکار

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 89

چوتھا فنکار

شبیر احمد،کولکاتا، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوڑھے نے بڑی احتیاط سے ہونٹوں کے ایک کونے میں بیڑی دبائی اور پھر سے وہی قصہ چھیڑا۔ یہ قصہ سناتے وقت بوڑھے پر ایک اضطرابی کیفیت چھا جاتی تھی۔

’’چاردوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلادے۔ بھگوان وشوکرمانے ان کی پرارتھنا سوئیکار کرلی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پورے جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھانا سیکھا۔‘‘

حسب عادت بوڑھے نے کئی باریہ قصہ دہرایا اور خاموش ہوگیا۔ بوڑھے کو خاموش دیکھ کر اس مرتبہ بھی لڑکے کو تجسس ہوا! اس نے پھروہی سوال پوچھا، ’’اور چوتھے نے؟‘‘

بوڑھا گم صم کھڑا رہا۔ وہ شاید چوتھے فن کار کے بارے میں کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا یا پھر اسے اس کے بارے میں کوئی علم ہی نہ تھا۔

لڑکے کا تجسس ہنوز برقرار تھا اورجب بوڑھے کو اس کے تجسس کا احساس ہوا تو اس نے بیڑی کے ٹکڑے کو پھونک مار کر پھینکا اور کہا، ’’ابے !گھبراتا کیوں ہے؟ اس کے بارے میں بھی بتاؤں گا! دھیرج دھر!! ‘‘

اور لڑکا پھر سے بانس کی ٹھٹری میں پوال باندھنے لگا۔ بوڑھے نے ایک اور بیڑی سلگائی۔ جلدی جلدی دو چار کش لگائے، کمر میں گمچھا باندھا، انگلیوں کے درمیان اپنے پچکے گال رکھے، داڑھی کے بال اینٹھے، تھوڑی دیرکچھ سوچا اور کام میں جٹ گیا۔

اب اس کا ہاتھ تیزی سے چل رہاتھا۔ رفتہ رفتہ پوال نظروں سے اوجھل ہورہی تھی۔ وہ بائیں ہاتھ سے ڈھانچے کو سہارا دیئے دائیں ہاتھ سے مٹی تھوپ رہاتھا۔ ہتھیلی کے نچلے حصے سے تھپکیاں بھی لگا رہاتھا۔ جہاں مٹی زیادہ ہو جاتی وہاں انگلیوں سے کاڑھ لیتا، جہاں مٹی کم پڑ جاتی وہاں چپکا دیتا۔ رہ رہ کر بیڑی کاسرا انگارے کی طرح دھکنے لگتا اور دوسرے ہی لمحہ اس پر راکھ کی تہہ جم جاتی۔

لڑکا پوال باندھ رہا تھا لیکن نظریں بوڑھے کی ہتھیلیوں اور انگلیوں کی جنبش پر ٹکی ہوئی تھیں۔

اورجب بوڑھا لڑکے کو دیکھتا تو مسکرا دیتا۔ ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا، ’’ابے ، مورتی ہاتھ میں نہیں ہوتی ہے۔‘‘ اور پھر دایاں ہاتھ سینے پر زور سے تھپک کر کہتا، ’’مورتی یہاں ہوتی ہے۔ سمجھا، یہاں، اس کے اندر!‘‘

لڑکا حیرت سے بوڑھے کا سینہ تکنے لگتا۔ اوبڑ کھابڑ ،ہڈیاں ہی ہڈیاں ،گوشت کا نام و نشاں نہیں!! بوڑھے کاہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔

اور جب بانس کی ٹھٹری پر پوال باندھنے کا کام مکمل ہو گیا تو لڑکے نے ڈھانچے کو گھما پھرا کر دیکھا۔ جسم کے نشیب و فراز کامختلف زاویوں سے معائنہ کیا۔ انگلیوں سے کھینچ تان کر ڈوری کے دم خم کاجائزہ لیا۔ ’’بابا کو ایسا ہی کسا ہوا ڈھانچہ پسند ہے۔‘‘ اس نے من ہی من کہا اور پھر سے بوڑھے کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا، ’’بابا کے ہاتھوں میں جادو ہے! چھوتے ہی ہاتھ، پاؤں، پیٹ، سینہ، نابھی، گردن سب ایک ایک کر کے ماٹی سے نکلنے لگتے ہیں!! ‘‘

بوڑھے نے چھاتی پر مٹی تھوپ کر چھوٹے چھوٹے دو ٹیلے بنادیئے تھے۔ اب وہ ان ٹیلوں پر ہتھیلیاں پھیررہاتھا اور جب وہ ایسا کرتا تھا تو اس پر عجیب سی ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ چہرہ تمتمانے لگتاتھا۔ آنکھوں کی پتلیاں ناچنے لگتی تھیں، ہونٹ کپکپانے لگتے تھے۔ سانس ٹوٹنے لگتی تھی۔ پہلے پہل لڑکے نے گھبرا کر اسے جھنجوڑا تھا۔ جواباً نرم اور نازک رخسار پر طمانچہ کھایا تھا۔ اس کے بعد کبھی اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ایسی حالت میں بوڑھے کے قریب پھٹکے۔

اورجب سینے کا تناؤ پوری آب و تاب سے نمایاں ہو جاتا تو بوڑھے کے چہرے پر سرور و انبساط کی ہزاروں لہریں دوڑ جاتیں۔ وہ مسکراتے ہوئے لڑکے کی طرف دیکھنے لگتا۔ سو اس نے اس بار بھی دیکھا۔ صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ ایک بے تکا سا سوال بھی پوچھ لیا، ’’اچھا، بتا تو بے، تو نے کبھی کسی ناری کا سریر دیکھا ہے؟ ایک دم ننگ دھڑنگ سریر!! ‘‘

لڑکاہکّا بکّا بوڑھے کو تکنے لگا۔ وہ تو اس کی بڑی عزت کرتا تھا۔ اسے بھگوان سمجھت اتھا۔ بھلا بھگوان بھی اس طرح کے سوال کرتے ہیں!! لڑکا پس و پیش میں پڑ گیا۔

’’کیا بے، جواب کیوں نہیں دیتا؟‘‘

لڑکے سے کچھ کہا نہ گیا۔

پاٹ اور مٹی کا گلاوا گڑھے میں پڑا پڑا سڑ چکا تھا۔ بدبو آنے لگی تھی۔ نالے میں کیچڑ کے سڑ جانے سے بھی ایسی ہی بدبوآتی ہے۔ بدبو لڑکے کے نتھنوں کو چھونے لگی اور یکسر اس کی نظروں کے سامنے کا منظر بدل گیا!!

****

بھادوں کی امس اور ہوا بند! گرمی ایسی کہ دم گھٹ جائے۔ سڑک اور فٹ پاتھ کے درمیان چوڑا ایک نالہ، کیچڑ سے اٹا ہوا۔ نالے کا پانی سڑ چکا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کیڑے کلبلا رہے ہیں۔ ناک نہیں ٹھہرتی۔ نالے سے لگا ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہے ۔ جھونپڑے میں بچہ ماں کی چھاتی سے چپکا سو رہا ہے۔ اچانک بچے کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ حیرت میں پڑ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اب وہ راستے پر اکیلا پڑا ہے۔ چاند میں بیٹھی بڑھیا چکی پیس رہی ہے۔ ہر طرف چاندنی پھیلی ہے۔

’’میں یہاں کیسے ؟ ‘‘ بچہ اپنے ننھے سے ذہن کو جھٹکتا ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔اس کی نگاہ جھونپڑے پر پڑتی ہے۔ ایک شخص جھونپڑے سے باہر آتا ہے اور لنگی باندھتا ہوا پُر پیچ راستوں میں گم ہو جاتا ہے۔ بچہ جھونپڑے کی طرف لپکتا ہے اور جیسے ہی قدم اندر رکھتا ہے ٹھٹک کر رہ جاتا ہے۔ ماں کے جسم پر ایک دھاگا بھی نہیں۔ وہ آہٹ سنتی ہے۔ بدن پر ساری کھینچ لیتی ہے۔ پیٹھ پھیر کرسو جاتی ہے۔ بچہ کھڑا کانپنے لگتا ہے۔

لڑکا بھی کانپنے لگا۔ بوڑھے نے سوال دہرایا، ’’کیابے! جواب کیوں نہیں دیتا، دیکھا ہے؟‘‘

لڑکے نے نفی میں سر ہلایا۔

بوڑھے نے کہا ،’’جا پہلے دیکھ کر آ، پھر میں تجھے آگے کا سبق سکھاؤں گا۔۔۔۔ اور ہاں سن جیسے تیسے مت دیکھنا۔ غور سے دیکھنا۔ ایک ایک چیز دیکھنا، اچھی طرح سے دیکھنا۔ بھوئیں کتنی کھنچی ہوئی ہیں، پیشانی کتنی چوڑی ہے ، گردن کوتاہ ہے یا صراحی دار، پیٹ پر بل کتنے ہیں، چھاتیاں تنی ہوئی ہیں یا جھولی ہوئیں ، پھول نیلا ہے یا بھونرا ، ہونٹ گلابی ہیں یا کتھئی، نابھی گہری ہے یا ابھری ہوئی۔ ٹانگیں چکنی ہیں یا روئیں دار…‘‘

لڑکے کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ بوڑھے کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ بوڑھے نے مزید کہا، ’’سن ماٹی کو ہاتھ لگانے سے پہلے دونوں آنکھیں بند کر لینا۔ ذہن کے پردے پر اس ننگ دھڑنگ ناری کی چھبی دیکھنا۔ آنکھ، ناک، کان، ہونٹ، کپال، کندھا، چھاتی، پیٹ، نابھی، چوتڑ، کمر، ٹانگیں، بانہیں سب اچھی طرح من میں بسا لینا۔ اس کے بعد بچالی (پوال) کے اس ڈھانچے میں ماٹی جماتے جانا۔ یاد رہے نظروں سے وہ چھبی اوجھل نہ ہونے پائے۔‘‘

بوڑھا تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر مسکرایا اور بولا، ’’اچھا ایک کام کر، ماٹی میں چال کی تھوڑی سی بھوسی اور ملادے ۔‘‘

لڑکے نے پوچھا،’’اور پاٹ؟‘‘

’’نہیں پاٹ ملانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

لڑکا مٹی کے گڑھے میں بھوسی ڈال کر کچھ دیر پیروں سے رَلایا پھر دھیمی آواز میں بولا، ’’بابا، ایک بات پوچھوں؟ ‘‘

بوڑھے نے اثبات میں سر ہلادیا۔

لڑکے نے پوچھا،’’بابا، آپ کی ماں نہیں ہے؟ ‘‘

’’ارے جب تیری ماں نہیں ہے تو مجھ جیسے بوڑھے کی ماں کیسے ہو سکتی ہے! ہاں، ایک بیوی ضرور ہے لیکن میرے ساتھ رہنا اسے گوارا نہیں۔ وہ جو کھال کے پاس نیا اسٹیشن بنا ہے۔ کولکاتا اسٹیشن! حرام زادی، وہیں رہتی ہے۔ دارو بیچتی ہے اور سنا ہے، دھندہ بھی کرتی ہے۔ ریلوے کے جتنے سپاہی ہیں اس کے گاہک ہیں۔ ان کے ساتھ سوتی ہے۔ سوتی رہے سالی، میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔۔۔۔ اور تو سن عورتوں کا صرف بدن دیکھنا، غور سے دیکھنا، ایک ایک انگ دیکھنا لیکن خبردار ان کے ساتھ سونا نہیں! عورت کے ساتھ سونے سے آدمی نشٹ ہو جاتا ہے! کسی کام کا نہیں رہتا!‘‘

بوڑھے کا لہجہ بھرّا گیا۔ آنکھیں نم ہونے لگیں۔ رات بھر بوڑھا اسی طرح بکتا رہا۔ خوب دارو پیتارہا۔ اوراپنی بیوی کو گالیاں دیتا ہوا زمین پر بدحواس سو گیا۔

****

بوڑھا دن چڑھے تک سوتا رہتا تھا۔ اس نے پارک کی پچھلی باونڈری وال سے پولیتھین باندھ کر چھوٹی سی ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی۔ جھونپڑی کے سامنے ہی وہ مورتیاں بناتا تھا۔ پارک کے دوسرے سرے پر واٹر سپلائی کے پائپ میں ایک جوڑ تھا جس سے خاصا پانی رستا تھا۔ تھوڑی دور فٹ پاتھ کی بائیں طرف کئی جھونپڑیاں تھیں۔ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے صبح ہی سے وہاں بھیڑ لگا دیتے تھے۔ عورتیں برتن اور کپڑا دھونے بیٹھ جاتیں، تو ٹلنے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔ لڑکا علی الصباح جاگ جاتا اوروہاں سے پرانے پلاسٹک کے جار میں پانی بھر لاتا۔ گڑھے میں مٹی اور پانی ڈال کر پیروں سے گوندھتا۔ غرض یہ کہ بوڑھے کے جاگنے تک اوپر کا تمام کام نپٹا دتیا تھا۔ گڑھے میں سوکھی مٹی ڈال کرجب وہ پانی ملاتا تو آس پاس کی فضا سوندھی سوندھی خوشبو سے مہک اٹھتی تھی۔ لڑکے کو یہ خوشبو اچھی لگتی تھی ۔ بملا کو بھی بھاتی تھی۔

ہاں، وہاں چھوٹی سی ایک بچی بھی رہتی تھی۔اس کی پیاری پیاری باتیں لڑکے کو کھینچنے لگیں۔ ایک دن اس نے بچی سے کہا،’’میرے ساتھ چل، ماٹی کی گڑیاں دوں گا۔‘‘

اور جب بچی آتی تو وہ اسے چھوٹی چھوٹی گڑیاں بنا کر دے دیتا تھا۔ اگرچہ ان گڑیوں میں ہزاروں عیب ہوتے تھے، لیکن بچی انھیں بڑے چاؤ سے لے لیتی تھی ۔

شروع شروع میں تو وہ گڑیوں کے لالچ میں چلی آتی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کا ذہن بڑی بڑی مورتیوں کی طرف مائل ہونے لگا۔ وہ گھنٹوں بوڑھے کو مورتیاں بناتے دیکھا کرتی تھی۔ اپنی پیاری پیاری باتوں سے بوڑھے کا بھی من موہ لیتی تھی۔

اور جب بوڑھا وہی پرانا قصہ سناتا تو وہ بھی غور سے سنتی؛

’’چار دوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان ! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلا دے۔ بھگوان وشوکرما نے ان کی پرارتھنا سوئیکار کر لی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پوری جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھاناسیکھا۔‘‘

اور جب بوڑھا خاموش ہو جاتا تو لڑکے کے ساتھ ساتھ وہ بھی تجسس بھرے لہجے میں وہی سوال دہراتی،’’اور چوتھے نے؟‘‘

جب بوڑھے سے کوئی جواب نہیں بن پاتا تو بچی بے باکی سے کہتی،’’ چھوڑیئے چھوڑیئے ،آپ کو پتہ نہیں ہے!‘‘

لیکن بوڑھا اس کی بات کا برا نہیں مانتا تھا، بس ہنس دیتا تھا۔

*****

بچی روزانہ صبح سویرے آنکھیں ملتی ہوئی چلی آتی تھی اور لڑکے کے ساتھ بیٹھ کر کبھی گڈا، کبھی گڑیا، کبھی توتا، کبھی مینا، کبھی شیر اور ہاتھی بنایا کرتی تھی۔ سامنے سیمنٹ کا ایک بوسیدہ ڈرین پائپ پڑا تھا۔ وہ اس پر بیٹھ جاتی اور دیر تک اس سے باتیں کیا کرتی تھی۔

ایک دن لڑکے نے کہا، ’’ بملا، دیکھ میں نے رات بھر جاگ کر تیرے لیے ماں کالی کی پرتیما بنائی ہے۔ دیکھ اس کی زبان دیکھ، کتنی لمبی ہے!! اس کے گلے میں منڈیوں کی یہ مالا دیکھ !! کتنی محنت سے ایک ایک سر بنایا ہے۔ انھیں دھاگے میں پرویا ہے۔ دیکھ ، اس کے ایک ہاتھ میں کٹی ہوئی ایک بڑی سی منڈی لٹکاؤں گا اوردوسرے میں یہ داؤ۔۔۔۔ اور یہ سیار بھی بنایا ہے، جو منڈی سے ٹپکنے والا خون چاٹے گا۔ اور دیکھ یہ بابا بھولے ناتھ کا پتلا ہے ۔ اسے چت لٹا کر ماں کالی کی پرتیما اس پررکھ دوں گا۔۔۔۔۔‘‘

بچی نے ہونٹ بچکا کر کہا، ’’نہیں ،ٹھیک نہیں ہوا۔ ماں کالی کے تو چار ہاتھ ہوتے ہیں، اس کے دو ہیں۔ شیو ٹھاکر کی جٹا بھی نہیں ہے۔ شیر کی چھال کہاں ہے؟‘‘

لڑکا اداس ہو گیا۔ اس نے تمام مورتیاں توڑ ڈالیں۔

ویسے بھی وہ ہر روز بوڑھے کے جاگنے سے پہلے اپنی بنائی ہوئی تمام مورتیاں توڑ کر گڑھے میں ڈال دیتا تھا اور مٹی کو اس طرح ملا دیتا تھا کہ بوڑھے کو اس کی بھنک بھی نہیں مل پاتی تھی۔ اسے ڈر تھا ،کہیں بوڑھا ناراض نہ ہو جائے۔

دوسرے دن پھر بچی آئی۔ ابھی وہ ڈرین پائپ پر ٹھیک سے بیٹھی بھی نہ تھی کہ لڑکے نے مسکرا کر کہا، ’’بملا، آنکھیں بند کر !‘‘

بملانے آنکھیں بند کرلیں۔کچھ دیر بعد لڑکے نے کہا، ’’اب کھول ! دیکھ آج میں نے کیا بنایا ہے؟ بتا تو یہ کس کی مورتی ہے؟‘‘

بچی کے چہرے پر اتنی حیرت نہ تھی جتنا کہ اس نے امید لگائی تھی۔ بچی تتلاتے ہوئے بولی ،’’لگتی تو درگا جیسی ہے۔ لیکن…‘‘

بچی غور سے مورتی دیکھنے لگی اورگال پر دایاں ہاتھ رکھ کرشہادت کی انگلی ہلاتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ لڑکے کا تجسس بڑھ گیا۔

’’لیکن !‘‘

لڑکے نے بڑی بے صبری سے پوچھا،’’لیکن کیا؟‘‘

’’لیکن۔۔۔۔ اس کی ناک میں نتھ اور کانوں میں مندری کہاں ہے؟ ماتھے پرٹیکا، گلے میں ہار، ہاتھ میں چوڑی، پاؤں میں پائل، بھی نہیں۔ دھت یہ بھی کوئی ماں درگا ہوئی۔‘‘

اس بار بھی لڑکا اداس ہو گیا۔ اس نے یہ مورت بھی گڑھے میں ڈال دیا اسے مٹی میں ملا دیا۔ لڑکے کو اداس دیکھ کر بچی نے کہا،’’جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ناک میں نتھ، کان میں جھمکے،ہاتھ میں چوڑی پہنوں گی۔ گلے میں ہار، ماتھے پر ٹیکا، پاؤں میں پائل بھی پہنوں گی۔‘‘

لڑکا سوچنے لگا، ’’جب بملا بڑی ہوجائے گی تو وہ کس کی طرح دکھے گی؟ درگا ماں کی پرتیما کی طرح، کالی مائی کی پرتیما کی طرح یا پھر ماں سرسوتی کی پرتیما جیسی؟ کیا اس کا کولھا اور سینہ بھی اسی طرح ابھر آئے گا۔ کیا اس کا جسم بھی اسی طرح کا ہو جائے گا جیسا بابا کو اپنی پرتیماؤں کے لیے پسند ہے۔ نہیں نہیں، وہ پرتیمائیں تو بول نہیں سکتیں۔ سب کی سب بے جان ہیں۔ ان میں آتما کہاں؟ میری بملا تو بولتی ہے! ٹپ ٹپ بولتی ہے، مینا کی طرح!! یہ تو زندہ ہے۔ ‘‘

لیکن افسوس کہ اس کی مینا زیادہ دنوں تک زندہ نہ رہ سکی!!

ہوا یوں کہ اس علاقے میں تیزی سے مہاماری پھیلنے لگی! بھادوں کے مہینے میں یہاں اکثر ایسا ہوتاتھا۔ جب وہ کئی روز تک نہیں آئی تو لڑکے کو فکر لاحق ہوئی۔ وہ اس کے گھر پہنچ گیا۔ بملا بے ست پڑی تھی۔ جسم پر لال لال چٹّے پڑ گئے تھے۔ لڑکے کو دیکھ کراس کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری۔ لڑکے نے پوچھا،’’بملا، بڑا کشٹ ہو رہا ہے کیا؟”

بملا کچھ نہیں بولی۔ اس نے اثبات میں صرف دھیرے سے گردن ہلا دی۔ سرہانے اس کی ماں بیٹھی سر پر پانی پٹّی چڑھا رہی تھی۔ سسکتے ہوئے بولی، ’’کئی دنوں سے بخار لگا ہے۔ اترنے کا نام نہیں لیتا۔ کہتی ہے، سر میں بہت دردہے! بدن کاجوڑ جو ڑ دکھ رہاہے!!‘‘

لڑکے سے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی۔ اس نے دل ہی دل پرارتھنا کی،’’اے ٹھاکر، میری بملا کو اچھا کر دے…!!‘‘

اس کے بعد وہ روزانہ جانے لگا۔ بملا کی ماں نے منع کیا،’’بیٹا، تواس کے پاس مت جایا کر۔ اسے چھوت کی بیماری ہوگئی ہے۔ تجھے بھی ہو جائے گی۔‘‘

لیکن لڑکا کب ماننے والاتھا۔ وہ بملا کی ہتھیلیاں اور تلوے سہلاتا، سر پر پٹی چڑھاتا۔ گھنٹوں اس کے سرہانے بیٹھا رہتا۔ کہتا،’’بملا، تو جلدی سے ٹھیک ہو جا۔ میں اس دفعہ تیری مورتی بناؤں گا۔‘‘

لیکن اس کی بملا ٹھیک نہیں ہوئی۔ اسے قے آنے لگی۔ پیٹ میں شدیددرد شروع ہوگیا۔ ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔ جسم زرد پڑتا گیا۔ لوگوں نے کہا، ’’ڈینگو بخار ہوا ہے۔ یہ نہیں بچے گی۔‘‘

اور واقعی وہ نہیں بچی۔ لوگوں کاماننا تھا کہ مہاماری میں مرنے والے بچے کی لاش جلانی نہیں چاہئے۔ سچ تو یہ تھا کہ اس کی غریب ماں کے پاس اتنا پیسہ ہی کہاں تھا کہ وہ لکڑیاں خریدتی۔ اپنی بچی کی چتا جلاتی ۔ چنانچہ اس کی لاش نہر کنارے مٹی میں دبا دی گئی۔ لڑکا پھر سے تنہا ہو گیا۔ اب اس کا جی کسی کام میں لگتا نہ تھا۔ بچی کی موت کا صدمہ بوڑھے کو بھی کم نہ تھا لیکن وہ اس صدمے کو دل میں دبائے لڑکے کو بہلانے کی کوشش کرتا۔ اس نے ایک بارپھر وہی قصہ چھیڑا؛

’’چاردوست تھے ۔چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلادے۔ بھگوان وشوکرما نے ان کی پرارتھنا سوئیکار کر لی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پوری جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھانا سیکھا۔‘‘

لیکن اس بار بوڑھے کو خاموش دیکھ کر اس نے اپنا سوال نہیں دہرایا۔

اورتب بوڑھے نے کہا، ’’ آ، میں تجھے ماس جمانا اور چمڑے کا غلاف چڑھانا سکھلا دوں ۔‘‘

لیکن لڑکا تو کسی اور خیال میں گم تھا۔ خاموش کھڑا رہا۔

دوسرے دن وہ نہر کنارے اداس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ پیلی سی ایک چیز پر پڑی۔ اس نے غور سے دیکھا، ’’کہیں یہ بملا کے پیر کی ہڈی تو نہیں؟ تو کیا جانوروں نے اس کی قبر کھود کر اس کی لاش کھا لی ہے!!‘‘

ہاں، بملا کی لاش کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ اس نے ایک ایک ہڈی ڈھونڈی اور انھیں اٹھا کر لے آیا۔

چاندنی رات تھی۔ لڑکے نے آسمان کی طرف نگاہ کی۔ دور دور تک بادل کانام و نشاں نہ تھا۔ چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مگر درخت کا ایک پتا بھی نہیں ہل رہا تھا۔ فضا میں عجیب سی گھٹن تھی۔

وہ کچھ دیر تک ٹکٹکی باندھے چاند کو تکتا رہا۔ بڑھیا چاند میں بیٹھی چکّی پیس رہی تھی۔ پھر اس نے جھونپڑے کی طرف دیکھا۔ بوڑھا ہر دن کی طرح آج بھی دارو پی کر اوندھا پڑا ہوا تھا۔

لڑکا ہڈیاں جوڑتا گیا اور بڑبڑاتا گیا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا…!‘‘

اورجب ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا تو لڑکا اس ڈھانچے پر مٹی تھوپتا گیا اور بڑبڑاتا گیا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا …!‘‘

اب وہ مورتی کو ہتھیلیوں سے لیپ رہا تھا اور بڑبڑاتا جارہا تھا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا،دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا … ‘‘

******

پوَ پھٹ چکی تھی۔ فضا میں گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تھا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی بوڑھا خوابِ غفلت میں پڑا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں ایک آواز آئی۔ وہ چونک کر جاگ گیا۔

پہلے تو اسے یقین ہی نہ ہوا۔ اس نے ہتھیلیوں سے آنکھیں ملیں، کان سہلائے اور اپنے آپ سے کہا، ’’نہیں، یہ خواب نہیں! یہ خواب نہیں ہے!!‘‘

بوسیدہ ڈرین پائپ پر بملا کی پرتیما تھی!! لڑکا پرتیما کے سامنے نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑا تھا۔ وہ بڑبڑاتا جا رہا تھا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا… ‘‘

بوڑھے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ڈرتا ڈرتا پرتیما کے قریب آیا۔ دم بخود کچھ دیرتک اسے دیکھتا رہا۔ پھر لڑکے کی طرف مڑا۔ا سے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا! پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا!! اوردھم سے اس کے قدموں پر گر پڑا !!!

پرتیما اب بھی بول رہی تھی،’’ اور چوتھے نے روح پھونکی!۔۔۔۔۔۔ اور چوتھے نے روح پھونکی۔۔۔۔۔!!!‘‘

Published inشبیر احمدعالمی افسانہ فورم