Skip to content

چلتی پھرتی عورت

چلتی پھرتی عورت۔۔صبا ممتاز بانو

رنگو چاچا کا ہوٹل آیا تو راول کے پیٹ میں ناچتی بھوک نے سفر کرنے سے انکار کر دیا۔ راول نے ٹرک کو تھپکی دی اور نیچے اُتر گیا۔
’’جلدی آ چھوٹے۔۔۔! زور کی بھوک لگی ہے۔‘‘
راول نے ڈھابے پر اُترتے ہی فوراً چھوٹے کو آواز دی۔ اس وقت راول کو بھوک بھی بہت لگی تھی اور نیند بھی بہت آ رہی تھی۔ رات بھر وہ ٹرک چلاتے چلاتے تھک گیا تھا۔ اپنی تھکن کو اس نے کبھی خود گنگنا کر اور کبھی شیدے سے گانے سن کر کم کرنے کی کوشش تو کی تھی، مگر شیدے کی آواز اس کے ٹیپ ریکاڈر کا متبادل نہیں تھی۔ اس کا ٹیپ ریکاڈر کیسے کیسے سُریلے سُر چھوڑتا تھا ۔سیدھا اس کی روح میں اُتر جاتے تھے۔ خوابوں اور خیالوں میں اسے چاند نگر میں پہنچا دیتے تھے جہاں ایک چاند سی محبوبہ اس کے انتظار میں بیٹھی ہوتی تھی، جس کی کالی زلفوں میں وہ خلوت کی دُنیاآباد کر لیتا تھا۔ دوسرے ٹرک ڈرائیوروں کی طرح راول کو بھی رات کی روشنی میں سفر کرنا اچھا لگتا تھا۔ رات کی روشنی، چاند کی چاندنی، ستاروں کا ساتھ، سڑک پر رواں دواں اس کا ٹرک۔ ٹرک تو اپنا تھا ہی۔ ایسا لگتا جیسے سارا پاکستان اس کا اپنا ہوگیا ہو۔ رات کو سڑکیں اس کی محبوبائیں بن جاتیں۔ لگاوٹ من کے سنگھاسن پر محو رَقص ہوتی تو ہوائی بوسہ دے لیتا۔ راول نے ٹرک چلانا اپنے ابا سے سیکھا تھا۔ اس کا ابا ایک ٹرک ڈرائیور تھا، مگر وہ راول کو ٹرک ڈرائیور نہیں بنانا چاہتا تھا۔ وہ اسے کچھ اور بنانا چاہتا تھا۔ معمار، مستری، کاریگر، فنکار، کچھ بھی، مگر ٹرک ڈرائیور نہیں۔ وہ کہتا تھا۔
’’ٹرک ڈرائیور اور طوائف دونوں کی راتیں جاگتی ہیں۔ ڈرائیور سڑکوں سے کھیلتا ہے اور طوائف گاہکوں سے۔‘‘
جب باوجود ابا کی خواہش کے وہ کچھ اور نہ بن سکا تو دینو نے اسے اپنے ساتھ ٹرک پر ہی رکھ لیا اور اسے ڈرائیوری سکھانا شروع کر دی۔ ادھر اس نے جوانی کے خواب سے شباب کی سیڑھی پر قدم رکھا۔ ادھر کنڈیکٹری سے وہ ڈرائیوری پر آگیا۔ جیسے جوانی کو انتظار تھا کہ کب اس کے ہاتھ مہارت سے اسٹیئرنگ پر چلتے ہیں یا جیسے ڈرا ئیوری اس انتظار میں تھی کہ کب وہ شباب کی نگری میں جاتا ہے۔وہ خوش بھی تھا اور مطمئن بھی۔ بجائے اس کے وہ کہیں چاکری کرتا، وہ ایک ٹرک پر حکومت کرتا تھا۔ حکومت کا اپنا ایک نشہ ہوتا ہے، چاہے وہ کسی خطے، کسی ٹرک یا کسی عورت پر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک پورے کا پورا ٹرک اس کے اختیار میں تھا۔ وہ آدھے سے پورا ڈرائیور بن گیا، مگر جوان ہونے پر اسے ابھی تک کچھ نہیں ملا تھا۔ بس ایک اضطراب، ایک تناؤ جو اسے بے چین سا رکھتا تھا۔ بدن کا انتشار بے بسی کی پہاڑیوں پر گھومتا پھرتا رہتا، پھر سر نگوں ہو کر سو جاتا۔ راول نیا نیا جوان ہوا تھا، نئی نئی جوانی، نئی نئی فرمائشیں بھی تو کر تی ہے۔ وہ اسے ستاتی بھی تو بہت تھیں۔
پھر جیسے خدا نے اس کی سن لی، ایک رات برستی بارش میں جوانی کا تحفہ اسے چھمو کی صورت مل گیا۔ چھم چھم برستی بارش میں چھمو کسی رحمت سے کم تھی کیا۔ اس رات بہت تیز بارش تھی۔ ونڈ سکرین بار بار صاف کرنے کے باوجود ٹرک چلانے میں اسے دُشواری ہو رہی تھی۔ وہ دُشواری اس وجہ سے بھی تھی کہ اسے اس دِلربا موسم میں ٹرک چلانے کامزہ نہیں آ رہا تھا۔ راول کا دل بے ایمان ہوگیا۔
’’چلو آج رات آرام کرتے ہیں۔‘‘
ہوٹل پر ٹرک روکا۔ گرم گرم کھانا کھاتے ہی اسے نیند آنے لگی۔ پیٹ تو بھر گیا، مگر ایک بھوک باقی تھی۔
ہوٹل کے مالک نے اسے شرارت بھری نگاہوں سے دیکھا اور آنکھ مار کر کہا۔
’’راول۔۔۔! کمرے میں چل کر آرام کر، ابھی تیرا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
’’کیا کہا چچا رنگو۔۔۔؟‘‘
راول کو سمجھ نہیں آئی کہ رنگو اس کی حالت کیسے جان گیا۔۔۔؟
’’چاچا ہوں تیرا۔ تو مجھ سے چھوٹا ہے،میں تم سے بہت بڑا ہوں۔ تو چل تو سہی۔۔۔! تجھے اس موسم کے پہلے ساون بھادوں کا پہلا تحفہ دیتا ہوں اور وہ بھی ایسا کہ یاد کرے گا۔‘‘
راول نے کمرے کا پردہ ہٹایا۔ صاف ستھرا بستر بچھا تھا، وہ لیٹ گیا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اس نے لائٹ آف کر دی۔ روشنی میں اسے نیند نہیں آتی تھی۔ ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ روشنی کا جھپاکا اس کی آنکھوں پر پڑا۔ فوری طور پر تو اس نے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لئے۔ جب ذرا آنکھیں کھلنے کے قابل ہوئیں تو اس نے ہاتھ ہٹائے اور دیکھنے کی کوشش کی کہ کون ہے۔۔۔؟ ایک چھیل چھبیلی نار، اشکوں میں آنسو لئے دیوار گیر شیشے کے سامنے کھڑی زُلفیں سنوار رہی تھی۔ آنکھوں میں کجلا، ہاتھوں میں چوڑیاں، شوخ بھڑکیلا لباس، مگر اس پر یہ سب سولہ سنگھار بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ اُچھل کر اپنے بستر سے اُٹھا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگ پڑا۔ شیشے میں اس کی مچلتی جوانی کے عین پیچھے اس کا عکس نظر آ رہا تھامگر اس نے مُڑ کر دیکھنے کی زحمت گوارہ ہی نہیں کی۔ اس کی یہ ادائے بے نیازی اسے بہت اچھی لگی۔
’’ہاں۔۔۔! اسی کی ضرورت تھی جو مجھے محسوس ہوتی تھی۔‘‘
وہ اسی کی تو کھوج میں تھا۔ اس کی تلاش میں کیسے کیسے دلاسے نہیں دیئے تھے اس نے خود کو۔ روئے زمین پر آدم کو حوا سے قربت کے لئے کوئی ہُنر تھوڑی سکھایا گیا تھا۔ بس ایک جذبہ ہی تو تھا اور پھر سب کچھ اس جذبے کی بدولت خودبخود ہوتا چلا گیا۔ راول کے ہاتھ بھی خودبخود اُٹھے۔ اس نے اسے گود میں اُٹھایا اور بستر پر پٹک دیا، مگر بڑے پیار سے، نازکی سے، جیسے وہ شیشے کی گڑیا ہو۔ اس کے بال کتنے لمبے، کتنے ریشمی تھے، آنکھیں مست تھیں، ہونٹ رَس بھرے، نازک سی گردن اور پھر اُف۔۔۔! کتنا خوب صورت دل دھڑکا دینے والا سینہ، پتلی کمر اور پھر وہ، جسے سوچنے سے اسے سرور آتا تھا۔ چھمو نے اسے بتایا۔
’’اس کی ماں بیمار ہے، اس لئے وہ رو رہی تھی۔‘‘
راول نے اسے دلاسا دیا اور پیار کو ہر دُکھ کا تریاق قرار دیا۔ پتا ہی نہیں چلا رات کیسے بیت گئی۔ وہ صرف خوب صورت ہی نہیں تھی، خوب صورت اداؤں کی مالک بھی تھی۔ راول ایک ہی رات میں اس کا اسیر ہوگیا۔ چھمو نے اسے بتایا۔
’’اس کا باپ نہیں تھا، اس کی ماں گونگی تھی، اس سے بڑی ایک بہن تھی جس نے اُسے اس دھندے پر لگایا تھا۔ وہ دونوں مل کر گھر کا خرچا چلا رہی تھیں۔‘‘
راول کے دل سے آواز اُٹھی۔
’’ چھمو کو اب کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہئے۔‘‘
اس نے چھمو سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
’’چھمو۔۔۔! اگر میں تجھے اپنے دل کی رانی بنا لوں تو۔۔۔؟‘‘
راول نے چھمو سے پوچھا۔
’’تو میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔۔۔؟ مگر جب تک رضیہ میری بڑی بہن نہیں مانے گی، میں یہ قدم نہیں اُٹھا سکتی۔‘‘
’’رضیہ۔۔۔! اچھا، تو مجھے اس سے ملوا دے۔‘‘
راول نے کہا۔ رضیہ بھی چھمو کی طرح محبت کا دھندا کرتی تھی۔ وہ بھی ایک ہوٹل تھا، ٹرک اوربسوں کا ہوٹل، ڈرائیوروں کا مسکن، کنڈیکٹروں کی بستی۔ اس طرح کے ہوٹل میں کسی کو دلالی نہیں دینا پڑتی تھی اور کمائی بھی اچھی ہو جاتی تھی، بلکہ ان ہوٹلوں کے مالک اُلٹا ان کو پیسے دیتے تھے، کیونکہ ٹرک ڈرائیور اس ہوٹل کا رُخ زیادہ کرتے تھے جہاں ان کے لئے عورتوں کا اہتمام ہوتا تھا۔ ٹرک ڈرائیوروں کی معشوق اور محبوبہ بننا چھمو کو شروع میں تو بہت بُرا لگا تھا۔ ایسے ایسے ڈرائیور آتے تھے جو گندے مندے ہوتے، کپڑے میلے، پسینے اور بدبو سے بھرا جسم، با ل دُھول مٹی سے اَٹے۔ وہ کبھی نہا لیتے اور کبھی تو منہ دھونے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کرتے تھے۔ ایسے میں چھمو کو بہت کراہت آتی، دل خراب ہونے لگتا، مگر مجبوری تھی، کیا کرتی۔۔۔؟ آہستہ آہستہ وہ ان میلے کچیلے جسموں کی ایسی عادی ہوئی کہ جب کوئی صاف ستھرا، خوشبو سے مہکتا ہوا گاہک اس کے پاس آتا تو ایسے لگتا جیسے وہ جنت میں آگئی ہو، مگر ایسی جنت میں جہاں سکون ہی کیا جا سکتا ہے، دھندا کرنے کو من نہیں کرتا۔ بدن میں سما ئی ہوئی بو، خوشبو کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی۔ راول کی عمر بھی چھمو کی طرح کچی تھی۔ راول کا سچا پیار چھمو کے دل میں اُتر گیا۔ راول نے وعدہ کیا تھا۔
’’وہ چھمو کی بہن سے بات کرے گا۔‘‘
راول نے چھمو سے کہا تھا۔
’’اب وہ دھندا نہ کرے، وہ خرچا خود دے گا۔‘‘
واقعی راول نے چھمو کا خرچا اُٹھا بھی لیا تھا، مگر عورت جب تک عورت رہتی ہے، تب تک تو اس کے لئے مرد کے پیار کی اہمیت ہوتی ہے، مگر جب وہ طوائف بن جاتی ہے توپھر اس کی ترجیح پیسہ ہوتا ہے۔ پھر وہ پیسے کے لئے ہی مرد کو پیار دیتی ہے۔ راول، چھمو کی بہن سے بات کر چکا تھا۔
’’چند ماہ بعد وہ چھمو سے شادی کر لے گا۔ اس وقت تک چھمو اس کی امانت ہے۔ وہ اس سے دھندا نہ کرائے۔‘‘
مگر وہ رجو (رضیہ) ہی کیا جو سمجھ جائے۔۔۔؟ رجو کے منہ کو پیسہ لگ چکا تھا۔ اس نے چھمو کو روکنے کی بجائے اسے داؤ پیچ سکھانا شروع کر دیئے۔
’’چھمو۔۔۔! ارے راول کو کیا پتا کہ تو اس کی غیر موجودگی میں پیشہ کرتی ہے۔ میں تجھے کل بشیر کے ہوٹل پر چھوڑ آؤں گی۔ رنگو، راول کو بتا سکتا ہے۔ بشیر کے ہوٹل پر یہ خطرہ نہیں۔‘‘
چھمو نے تھوڑا سا احتجاج کیا، مگر پھر اس کے اپنے بدن نے ہی اسے منا لیا۔ کرتی بھی کیا۔۔۔؟ جب بھی اپنے گل بدن کو صرف راول کا ہونے کا کہتی، چاند بدلیوں میں چھپ جاتا،قوس وقزح اسے اشارے کرنے لگتی ، بو فضا میں راج کرنے لگتی۔ اس کی سانسیں اس بو سے جل تھل ہو جاتیں۔ مٹھیوں میں بھینچی پسینے کی مہک نتھنوں میں گھسنے لگتی۔اس کا نشہ اس کو مدہوش کر دیتا۔ اگلے دن چھمو، بشیر کے ہوٹل پر تھی۔ بشیر کا ہوٹل رنگو کے ہوٹل سے نسبتاً بہتر تھا۔ یہاں ٹرک ڈرائیوروں کے علاوہ بھی اچھے اور تگڑے گاہک آتے تھے۔ وہ اسے اچھے اچھے کھانے کھلاتے، موٹر گاڑیوں میں گھماتے اور شاپنگ بھی کرواتے۔ رنگ برنگے مرد رنگ برنگی چیزیں دیتے۔ ان رنگ برنگے، نت نئے مردوں میں اسے راول بھولا نہیں تھا، اس لئے کہ ان مردوں میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اس سے سچا پیار کرتا ہو۔ یہ سب تو اسے استعمال کرتے تھے، مگر راول اسے استعمال نہیں کرتا تھا، اس سے پیار کرتا تھا۔ وہ اسے چُھوتا تو مندروں میں گھنٹیاں بجنے لگتیں۔ وہ اس کے بالوں سے کھیلتا تو تاریکی میں جگنو چمکنے لگتے۔ اس کی محبت نورانی پیکروں جیسی تھی۔ وہ بولتا تو لگتا جیسے چرچ میں عبادت ہو رہی ہو۔ کعبے کا تقدس اس کے الفاظ کی پاکیزگی میں سما جاتا تھا، جن میں ہوس کا شائبہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ جب اس سے ملتا،بے اختیاری سے گلے لگا لیتا تھا۔ چھمو کے ساتھ کچھ نہ کرنے کے باوجود بھی وہ خوش رہتا۔ وہ کہتا تھا۔
’’چھمو۔۔۔! تو اب میرا پیار ہے۔ پیار کو تو دیکھ لینا ہی پا لینا ہے۔ میں تجھے دیکھ کر خوش ہو جاتا ہوں۔ جسم کا نشہ کرنے کے لئے تو بہت وقت ہے۔ زندگی پڑی ہے۔‘‘
چھمو کی بہن راول سے بھی کھاتی اور چھمو کو دوسری جگہ بھی چلاتی۔ چھمو کے دل میں راول کے لئے محبت تھی، مگر اپنے گھر کے حالات بھی اس کے سامنے تھے اور اس کے مزاج میں رنڈی پیشہ بھی سرایت کر چکا تھا۔ ایک دن راول نے چھمو کو اپنا ہی لیا۔ چھمو کو اپنانے کے لئے اس نے دو لاکھ روپے دیئے اور پانچ سال تک دس ہزار مہینہ رجو کے نام طے پایا، مگر پھر بھی وہ بہت خوش تھا۔ پیار کے لئے تو لوگ جائیدادیں قربان کر دیتے ہیں۔ اس نے اگر چھمو کو پانے کے لئے کچھ رقم ادا کر دی تھی تو کیا ہوا۔۔۔؟ پیار کو تو پا لیا تھا، یہ کوئی کم تھا۔۔۔؟ دُنیا میں وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جن کو ان کا پیار مل جاتا ہے۔ پیسے کو سنبھال کر رکھنے والے کبھی پیار کو نہیں پا سکتے۔ پیسے کو پیار کے چرنوں پر قربان کرنا ہی پڑتا ہے، تبھی پیار کا دیوتا رام ہوتا ہے۔ چھمو کے ساتھ محبت بھرے لمحات گزارنے کے لئے راول نے کئی دنوں کو راتوں کا روپ دیا تھا، مگر کئی راتیں گزارنے کے بعد بھی اسے اس رات کا انتظار تھا، جب چھمو بلاشرکت غیرے اس کی ملکیت بن جاتی۔ عاشق کی چاہت اپنے محبوب پر رقیب کی دسترس کہاں برداشت کرتی ہے۔۔۔؟ راول کمرے میں داخل ہوا تو چھمو اُس سے پہلی ملاقات کی طرح آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ راول، چھمو کی اس عادت سے واقف تھا کہ اسے سجنا سنورنا، گھنٹوں خود کو آئینے میں دیکھتے رہنا بہت پسند تھا، مگر آج اسے چھمو کا اتنی دیر آئینہ دیکھنا اچھا نہیں لگا۔
’’اب آئے گی بھی یا خود کو ہی شیشے میں دیکھتی رہے گی۔۔۔؟‘‘
راول بڑی دیر سے اسے آئینہ دیکھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ تنگ آکر بے زاری سے بولا تو چھمو نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
’’راول۔۔۔! تو نے ایسے کہا جیسے تو کہے تو میں بیٹھ جاؤں، تو کہے تو کھڑی ہو جاؤں۔ ہاں ہاں۔۔۔! آج زندگی بھر کو تو نے خرید جو لیا مجھے۔‘‘
چھمو کے الفاظ میں اُداسی سی تھی۔
’’آزادی کھو دینے کا غم یا بہت سارے عاشقوں کی فہرست سے نکل کر ایک کے پاس جانے کا دُکھ۔‘‘
’’اچھا بابا۔۔۔! تو نہ آ۔۔۔ ساری رات جاگ اور اس آئینے کے سامنے کھڑی رہ۔‘‘
’’کیوں۔۔۔؟ مجھے کیا سزا ملی ہے کھڑے ہونے کی۔۔۔؟‘‘
وہ تڑخ کر بولی۔
’’توبہ ہے، توبہ۔۔۔! لڑکی ہے یا طوفان۔۔۔؟ نہ اس طرف ٹکتی ہے اور نہ اس طرف۔‘‘
ابھی اس نے اپنی بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ وہ دھڑام سے اس کے اوپر آ گری۔ راول بہت خوش تھا۔ خوش تو وہ بھی تھی، مگر زیادہ نہیں۔ پتا نہیں کیوں۔۔۔؟ اس بات کو راول بھی محسوس کر چکا تھا، مگر یہ بات نہ راول کی سمجھ میں آ رہی تھی اور نہ چھمو کی۔ راول، چھمو کو مری لے گیا۔ اس نے چھمو کو خوب گھمایا پھرایا۔ اسے ڈھیر سارے کپڑے اور اس کی پسند کی چیزیں لے کر دیں۔ چھمو اس کے ساتھ باتیں کرتے، گھومتے پھرتے بہت خوش رہتی، لیکن نہ جانے کیوں جب وہ اس کے قریب آتا تو ایک اُداسی سی اس کے چہرے پر چھا جاتی۔۔۔؟ اب وہ اس کے ساتھ پہلے جیسا پیار، محبت بھی نہیں کرتی تھی۔ اس کا احساس ان دونوں کو تھا، مگر وجہ پتا نہیں کیا تھی۔۔۔؟ لگاوٹ کی گرہیں آخر کیوں کمزور ہو رہی تھیں۔۔۔؟
’’کون کھول رہا تھا ان کو۔۔۔؟‘‘
’’من کے اندر بیٹھا خدا یاتن میں سمایا ابلیس۔۔۔!‘‘
راول کراچی کے سفر پر تھا۔ چھمو کو یہ چند دن راول کے بغیر گزارنے تھے۔ رات کو بستر پر لیٹتے ہی چھمو کے ذہن میں راول کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات یاد آنے لگے۔ ایک فلم سی چلنے لگی۔ مختلف سایے اس کے وجود میں سمانے کے لئے مچلنے لگے۔ ہر عاشق اپنے اپنے انداز میں اس کے ذہن کے تصوراتی پردے پر دستک دینے لگا۔ رشید کے بوسے یاد آئے تو بدن میں آگ سی دہکنے لگی۔
’’اور وہ مشاق، وہ تو اللہ میاں کی گائے تھا۔ مرد ہو کر بھی عورت جیسا۔ کئی بار قریب آنے کے باوجود بھی جھجکتا ہوا۔ شرماتا ہوا، ہر بار پہل اسے ہی کرنا پڑتی۔ پھر ہر بات کی فرمائش بھی اسی کی طرف سے ہوتی۔ اس کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے اسے ایسا لگتا جیسے وہ عورت نہیں، مرد ہے اور مشاق عورت ہے۔ عجیب مرد تھا عورتوں جیسا۔‘‘
نعمان جسے وہ پیار سے ’’نامان‘‘ کہتی تھی۔ نعمان پیار کے دارو کا اسیر نہیں تھا۔ اسے تو ناری ذات کوہزار زاویوں سے دیکھنے کا شوق تھا۔ کبھی اس طرح، کبھی اُس طرح، پتا نہیں کہاں سے سیکھتا تھا۔۔۔؟ وہ یہ سب اور پھر اسے سکھاتا تھا۔ کبھی کبھی وہ ضد پر اڑ جاتی تھی۔
’’نہیں بابو۔۔۔! آج سیدھا سادا پیار چلے گا۔‘‘
جب تھکاوٹ بدن کو ہرا دیتی تو وہ ڈھیر ہو جاتی، مگر نعمان اس کا کوئی بہانہ نہیں مانتا تھا۔ اسی لئے وہ اسے نامان کہتی تھی۔
’’اچھا۔۔۔! میں تجھے مالش کر دوں گا ناں۔۔۔! تیری ساری تھکاوٹ اُتار دوں گا۔ بس۔۔۔! تو آجا۔۔۔! یہ دیکھ، آج ایسے بن کر دکھا۔‘‘
وہ اسے کبھی کبھی تصویر بھی دکھا دیتا تھا۔ تصویر دیکھ کر وہ آنکھیں بند کر لیتی، مگر اب اسے بھی اس کھیل میں مزہ آنے لگا تھا۔ پوز بناتے ہوئے اسے ایسے لگتا جیسے وہ کوئی مورتی ہو اور نعمان اس کا پجاری۔ جو اسے اس حالت میں غور سے دیکھتا اور پھر اس کی ہر حالت کو بے حال کر دیتا۔
’’اُف۔۔۔! اور وہ انعام۔۔۔! لمس کا بادشاہ۔۔۔!‘‘
اس کی دونوں اُنگلیاں اس کے سینے، اُس کی کمر پر چلتیں تو دھیرے دھیرے اس کے پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی۔ فاصلے طے ہوتے جاتے تو اس کی بے چینی اور بڑھتی جاتی۔ آج اسے ایک ایک کر کے سب پریمی یاد آ رہے تھے۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔ اُس نے دروازہ بند کیا۔ اس کی اُنگلیاں اس کے اپنے جسم پر تھرکنے لگیں۔ ان کی حرکت سے اسے گدگدی ہونے لگی، دل مچلنے لگا۔ اس نے پہلو بدلا اور جسم کو دھیرے سے موڑا۔ زاویوں کا کھیل اسے گدگدانے لگا۔ اپنی ہی کلائی پر اس نے اپنے دانت گاڑھ دیئے۔ طلب کے کتنے آسمان تھے۔ تشنگی اب پکار بنتی جا رہی تھی۔ کیا کیا یاد آ رہا تھا۔۔۔؟
’’ہائے۔۔۔! کیا کروں۔۔۔؟ کہاں جاؤں۔۔۔؟ کوئی ایسا جس میں یہ سب ہو، یا پھر وہی دن وہی راتیں۔۔۔!‘‘
وہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔
’’ایک ہی کھانا کوئی کتنے روز کھائے۔۔۔؟ کبھی مچھلی، کبھی مرغ، کبھی سبزی، مزہ تو تب ہے جب زبان کو ہر روز نیا کھانا کھانے کو ملے۔ زبان کب تک ایک ہی کھانا چکھے۔۔۔؟ یہ دل کب تک ایک کے ساتھ گزارہ کرے۔۔۔؟‘‘
آج چھمو کو پتا چلا تھا کہ اسے راول کے ساتھ قربت اس لئے نہیں بھاتی تھی کہ اسے اپنے پرانے سنگی ساتھی یاد آتے تھے۔ پتنگ ایک چھت کی مکین کہاں رہتی ہے۔۔۔؟ اسے توکھلے آسمانوں پر دَر دَر اُڑنا اچھا لگتا ہے۔شادی کو چار ماہ گزر چکے تھے۔ چھمو کے دل میں راول کے لئے عزت بھی تھی اور محبت بھی۔ اسے اپنا گھر اُجاڑنا بھی مقصود نہ تھا، لیکن وہ خوش نہیں تھی۔ اس کا بدن تسکین کے مختلف زاویوں کو طلب کرتا تھا۔ وہ راول سے بے وفائی نہیں کرنا چاہتی تھی، وہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا نہیں چاہتی تھی، اس کی روح صاف تھی، شفاف صرف اور صرف راول کی محبت میں ڈوبی ہوئی، لیکن جسم میں جو بلبلے اُٹھتے تھے، وہ رہ رہ کر ان عاشقوں کو پکارتے جن کے ساتھ وہ وقت گزار چکی تھی، جن مردوں کے ساتھ اس کا زیادہ وقت گزرا تھا، وہ اسے چھیڑتے، اشارے کرتے، تنگ کرتے۔ اس کا اپنا ہی جسم اس سے بغاوت کر دیتا۔
’’تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، راول سے بے وفائی کر لو۔ ویسے بھی راول کون سا اِدھر ہے۔۔۔؟ اسے کیا پتا۔۔۔؟‘‘
صبر ہر ناری کی گھٹی میں تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔؟ اس کو تو گھٹی بھی اس کے قبیلے کی عورت نے دی تھی، جو کبھی کسی ایک کی ہو کر نہیں رہتی تھی۔ رشید، مشتاق، نعمان اور انعام۔ ان چاروں نے اسے لاچار کر دیا تھا۔ اپنے حال پر وہ خود پریشان تھی۔ ایک کسک سی ہر وقت پریشان کئے رکھتی تھی۔ اِدھر چھمو پریشان تھی، اُدھر راول کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
’’شادی سے پہلے اتنا خوش خوش رہنے والی چھمو کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟‘‘
وہ کراچی کے اس سفر پر سارا رستہ یہی سوچتا رہا۔ اس نے چھمو کو موبائل لے کر دے رکھا تھا۔ رات کو وہ ٹرک بھی چلاتا اور چھمو سے باتیں بھی کرتا۔ مشتاق، انعام، نعمان اور رشید، چھمو کے وہ عاشق تھے جو صرف چھمو کو طلب کیا کرتے تھے۔ چھمو کے خاص طلب گار، خاص گاہک۔ چھمو کی شادی سے انہیں بہت دُکھ ہوا تھا۔ اللہ میاں کی گائے مشتاق تو کئی دن تک زار زار روتا رہا تھا۔
’’ہائے۔۔۔! کوئی ایسی کہاں ملے گی جو اسے مشقت نہیں اُٹھانے دیتی تھی اور سب خود ہی کر لیتی تھی۔‘‘
چھمو کے بعد سے اب تک اس نے کسی اور کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ راول کے آنے میں ابھی چار دن تھے اور چار دن ان چاروں کے ساتھ گزارے جاسکتے تھے۔
’’ایک ایک دن، یعنی ہر ایک کے لئے ایک دن۔۔۔!‘‘
اس کے پاس چاروں کے موبائل نمبر تھے۔ سب سے پہلے اس نے نعمان کا نمبر ملایا۔ دل چاہ رہا تھا کہ بس تن کو پیرہن سے آزاد کر دے۔ دودھیا بدن کے مجسمے اکیلے بناتے بناتے وہ تھک گئی تھی۔ کوئی تعریف کرنے والا ہی نہیں تھا۔ پہلا دن اس نے رشید کے ساتھ گزارا۔ اس کے بوسوں نے اس کے پھڑکتے ہوئے بدن کو پرُسکون کر دیا۔ رات کو گھر آکر بستر کی آغوش میں مدہوش ہو کر ایسے سوئی جیسے بچہ ماں کی گود میں سوتا ہے، یا پھر تن مردہ سے روح نکل جاتی ہے۔ اس سے اگلا دن مشتاق کے لئے تھا۔ مشتاق جس نے اسے سکھایا تھا، عورت چاہے تو اکیلی بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔ مشتاق اب بھی پہلے ہی کی طرح تھا۔ کچھ بھی کرنے سے بے زار، مگر شوق کا مارا ہوا۔ اب کی بار محنت پھر اسے ہی کرنا پڑی، مگر یہ دُنیا جنس ہائے تفرقہ کا ہی تو کارخانہ ہے۔ شو ق بھی اسی سے مہمیز پاتا ہے۔ اگلا دن نعمان کا تھا۔ نعمان کی اِدھر اُدھر کی فرمائش نے اسے دُنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا۔ نعمان نے اگر اسے تھکایا تو اتنا ہی سکون بھی بخشا۔ اس نے اسے خوب دبایا۔ اس کے جسم کی مالش بھی کی۔ اب ایک آخری دن اس کے پاس بچا تھا۔ یہ دن انعام کے لئے تھا۔ اس نے انعام کو انعام میں سارا دن دیا۔ وہی اُنگلیاں، وہی سنسنی، وہی بے چینی، پھڑکنا، اُچھلنا، تڑپنا اور پھر ٹھنڈا پڑ جانا۔ چار دن گزر چکے تھے۔ راول اگلی صبح آنے والا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے بے چینی سے راول کا انتظار تھا۔ اب اسے سمجھ آئی تھی کہ وہ کس کرب کا شکار تھی۔۔۔؟ اس کے اندر کون سا آتش فشاں اُبل رہا تھا۔ اس کے گاؤں میں ایک باجی جی کہانیاں لکھتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک عورت نے ان سے پوچھا تھا۔
’’مرد اگر چار شادیاں کر لے تو کیا وہ پہلی عورت سے دُور ہوتا جاتا ہے۔۔۔؟‘‘
باجی جی نے کہا تھا۔
’’نہیں۔۔۔! مرد کا دل عورت سے کبھی نہیں بھرتا اور اس چار شادیوں میں بھی مصلحت ہوتی ہے۔ جس طرح ایک ہی کھانا ہر روز کھایا جائے تو دل بھر جاتا ہے، لیکن روز کوئی نئی ڈِش مزے دار لگتی ہے۔ اسی طرح جب مرد کے پاس چار کھانے ہوتے ہیں تو اس کی زندگی میں تبدیلی، نیا پن اور رنگا رنگی رہتی ہے۔ اگر پہلی بیوی ہو تو اس سے محبت کم نہیں ہوتی، بلکہ اور بڑھ جاتی ہے ۔‘‘
چھمو کو باجی جی کی یہ بات چار دن چار مردوں کے ساتھ گزار کر سمجھ آئی تھی۔اس نے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ باجی نے مرد ذات کی بات کی تھی ،عورت ذات کی نہیں۔ آج پانچواں دن تھا۔ یہ راول کا دن تھا،جو اس کا اپنا تھا۔ اس نے راول کے پسندیدہ کھانے پکائے۔ اس کا پسندیدہ جوڑا پہنا۔ بالوں میں گجرا لگایا۔ لباس پر پرفیوم چھڑکا اور راول کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ راول آیا تو وہ بے ساختہ اس کے سینے سے لگ گئی۔ اس کا دل اس سے ملے بغیر واقعی بہت اُداس ہوگیا تھا۔ رشید، مشتاق، نعمان اور انعام سب اس کے ذہن سے محو ہوگئے تھے۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے راول کو دل سے پیار کیا۔ راول بھی بہت خوش تھا۔ وہ سمجھا، اس کی جدائی نے چھمو کو بے چین کر دیا تھا اور یہ اسی کا نتیجہ تھا۔ اسے کیا پتا تھا چھمو رنگ برنگے مردوں سے سیر ہو کر آئی تھی اور اب سوا سیر ہونے کے لئے اسے اس کی ضرورت تھی جو روح میں بستا تھا، دل میں دھڑکتا تھا اور بدن میں چھپا ہوا تھا۔ جتنے دن راول گھر رہا، چھمو بہت خوش رہی اور اسے بھی خوش کرتی رہی۔ راول کو ایک ماہ ہوگیا تھا، اس نے طویل سفر نہیں کیا تھا۔ چھمو پھر باؤلی باؤلی سی پھرتی تھی۔ گھر کے چاروں کونوں کو دیکھتی تو وہ چاروں یاد آ جاتے۔ ایک کونے پر نگاہ پڑتی تو ایسا لگتا نعمان لپک کر باہر آ جائے گا۔ دوسرے کونے پر نظر جاتی تو لگتا مشتاق اسے پکار رہا ہو۔ تیسرا کونا رشید کے اشاروں کی جھلک دکھاتا۔ چوتھے کونے میں انعام کھڑا ہوتا۔ ان سب کے درمیان میں راول تھا۔ وہ پاگل سی ہوگئی تھی۔ پھر شیطان کی سنی ہی گئی ۔ راول کو دو دن کے لئے دُور کے سفر پر جانا پڑ گیا۔ چھمو بہت خوش تھی۔
’’یہ دو دن، ہاں۔۔۔! میں ان دو دنوں کو تقسیم کر لوں گی۔ آدھا دن ایک کے ساتھ اور آدھا دوسرے کے ساتھ۔ پھر اگلا دن آدھا تیسرے کے ساتھ اورآدھا چوتھے کے ساتھ۔ پھر تیسرے دن راول آجائے گا۔‘‘
آخر وہ اس کا شو ہر تھا اور اس کا حق سب سے زیادہ تھا۔ راول کو دو دن بعد آنا تھا، مگر وہ ایک دن بعد ہی آگیا۔ ارادتاً نہیں بلکہ سفر اگلے دن پر ٹل گیا تھا۔ اس نے سوچا۔
’’ایک دن اڈے پر کیوں گزارہ جائے۔۔۔؟ یہ تو شادی سے پہلے کے چونچلے ہوتے ہیں۔ شادی کے بعد تو اڈے، تھڑے، چوک اور کھیل تماشے سب بُرے لگتے ہیں۔ بس گھر اچھا لگتا ہے، جہاں ایک گھر والی اپنے گھر والے کی راہ دیکھ رہی ہوتی ہے۔‘‘
یہی سوچ کر راول گھر لوٹ آیا، مگر گھر والی گھر میں نہیں تھی۔ باہر کے دروازے کی ایک چابی اس کے پاس ہوتی تھی، تاکہ اگر راول کبھی آدھی رات کو لوٹ آئے یا پھر چھمو کو اچانک میکے جانا پڑ جائے تو راول کو پریشانی نہ ہو، مگر اب راول کو پریشانی ضرور ہوگئی تھی۔ اس لئے کہ دوپہر ہی اس کی چھمو کی بہن سے بات ہوئی تھی۔ اگر چھمو ادھر ہوتی تو وہ ذکر ضرور کرتی۔
’’پھر چھمو کہاں گئی۔۔۔؟‘‘
’’بازار۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔!‘‘
گھر میں آئے دو گھنٹے اسے بھی ہوگئے تھے۔ اتنی دیر میں اسے لوٹ آنا چاہئے تھا۔ اس کا موبائل بھی بند جا رہا تھا۔ راول سوچتے سوچتے بستر پر لیٹ گیا۔ پتا نہیں کب باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔؟ چھمو کے قدموں کی چاپ اسے سنائی دی، مگر کوئی اور بھی تھا جو اس کے ساتھ تھا۔ آواز راول کے کانوں میں پڑی۔
’’ چھوڑو ناں مجھے، ایک تو تمہارا دل نہیں بھرتا۔ آدھا دن تمہارے ساتھ گزارا ہے۔ آدھا کر دیا ہے تم نے مجھے۔ ابھی بھی ندیدوں کی طرح میری جان نہیں چھوڑ رہے۔‘‘
چھمو لاڈ پیار سے اسے سمجھا رہی تھی، مگر وہ چھمو کو کچھ اور سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ راول نے کھڑکی کا پردہ ہلکا سا ہٹایا اور صحن میں جھانکا۔ چھمو اجنتا کے مجسمے کی طرح نیم برہنہ انداز میں ساکت و جامد کھڑی تھی۔
’’نعمان۔۔۔؟‘‘
وہ بھی اسی ڈیرے پر آتا تھا جہاں راول جاتا تھا۔ وہ اس کی چھمو کو والہانہ دیکھ رہا تھا۔ یہ منظر راول کے اندر آگ لگانے کے لئے کافی تھا۔ غصہ، نفرت اور طیش راول کے اندر شدت سے اُبھرے، مگر اتنی دیر میں چھمو نے زاویہ بدل لیا۔ سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ چھمو کا یہ روپ تو کبھی راول نے دیکھا ہی نہیں تھا۔
’’اُف۔۔۔! کس قدر غضب کی لگ رہی تھی۔‘‘
ہر زاویہ اس کے بدن کو نئے انداز سے دکھاتا۔
’’کیا یہ اس کی بیوی تھی۔۔۔؟‘‘

ہاں۔۔۔! مگر یہ تو کوئی رنڈی لگ رہی تھی۔
’’بیوی ہوتی تو کیا ایسا کرتی۔۔۔؟‘‘
مختلف سوچیں راول کے دماغ پر چلنے لگیں۔ دوسری طرف چھمو کے بدن کی مستیاں خرمستیوں کو دعوت دے رہی تھیں۔ راول نے ضبط کے سمندر میں خود کو غرق کر لیا۔ ایک فلم تھی جو پردۂ سکرین پر چل رہی تھی۔ نعمان چلا گیا۔ چھمو نے کپڑے اُٹھائے اور اندر آگئی۔ راول کو دیکھ کر وہ ایک دم ٹھٹک گئی۔ اس نے جلدی جلدی خود کو ڈھانپا۔
’’کیا ہوا۔۔۔؟ غیروں کے سامنے بے حیائی، خصم کے سامنے حیا۔۔۔؟‘‘
’’وہ میں۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے۔۔۔‘‘
چھمو کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
’’تمہاری کوئی غلطی نہیں چھمو۔۔۔! قصور میرا ہے۔ بڑے کہتے ہیں، چلتی پھرتی عورت سے کبھی شادی نہ کرو، وہ کبھی گھر دار نہیں بن سکتی۔‘‘
’’میں اب کبھی ایسا نہیں کروں گی راول۔۔۔! مجھے معاف کر دو۔ لیکن میں کیا کروں۔۔۔؟ پتا نہیں کیا ہو جاتا ہے مجھے۔۔۔؟ اپنے آپ پر کنٹرول ہی نہیں رہتا۔‘‘
چھمو گڑگڑا رہی تھی۔
’’نہیں چھمو۔۔۔! اُٹھو۔۔۔! اُٹھو ناں۔۔۔! کھڑی ہو جاؤ۔‘‘
راول نے اسے اُٹھایا۔ چھمو اُٹھی اور کھڑی ہوگئی۔
’’ایسے نہیں۔۔۔!‘‘
راول بولا۔
’’پھر کیسے۔۔۔؟‘‘
چھمو نے اسے دیکھا۔
’’ویسے ہی جیسے تم نعمان کے سامنے کھڑی تھی۔ بس۔۔۔! ویسے ویسے ہی مچلتی جاؤ۔‘‘
راول کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
’’میں تمہاری بیوی ہوں راول۔۔۔! تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔! اب تم میری بیوی نہیں رہیں۔ چلتی پھرتی عورت بیوی کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن جائے تو اس کو مٹادینا چاہئے۔‘‘
چھمو کی غیرت جاگی، مگر راول غیرت سے غیریت پر آگیا تھا۔چھمو کا سر جھک گیا۔ راول کے ایک جملے نے چھمو کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا تھا۔

Published inصبا ممتاز بانو