Skip to content

چاہت عقیدت یا ستم ظریفی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 116
چاہت عقیدت یا ستم ظریفی
ناہید طاہر ۔ ریاض ۔ سعودی عرب

عیدالاضحٰی کی آمد تھی، شنکراپّا نے بجلی ( گائے) کو ندی میں نہلا کر رنگین ربن سے اس کی سنگوں کو سجایااورمیلے کی جانب چل پڑا ۔میلے میں کافی رونق چھائی ہوئی تھی چاروں طرف بے شمار مویشی نظر آرہے تھے۔شنکر اپا بیڑی سلگاکر آرام سے بجلی کے قریب ہی بیٹھ گیا۔اسے یقین تھا کہ بجلی اچھے داموں میں فروخت ہوگی۔ گاہک ہر زاویہ سے بجلی کا مشاہدہ کررہے تھے اور وہ سکون سے بیڑی کا دھواں فضاء میں پھیلاتا ہوا قیمت میں کمی بیشی کرنے والے گاہکوں کے جواب میں اپنی گردن انکار میں ہلاتارہا ، کئی گاہک بڑی حسرت سے بجلی کوتکتے ہوئے منھ لٹکاکر آگے بڑھ گئے۔کچھ گھنٹوں بعد عبدل چاچا نامی بزرگ بجلی کےقریب تشریف لائے۔انھوں نے بہت پیار سے اسے دیکھا اور بڑی محبت سے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگے۔بجلی اس شفیق فرحت بخش احساس کو محسوس کرتی ہوئی اپنی آنکھیں موند کر جگالی کی رفتار دھیمی کر لی۔
بزرگ نےشنکر اپا کو منھ مانگی قیمت ادا کی۔شنکر اپا خوشی سے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتا ہوابجلی کی لگام بزرگ کے ہاتھوں سونپ دی۔تب بجلی نے بھی سکون کی سانس لی اور شکرادا کیا ۔اب اس کے دل میں کچھ خوف نہ رہا تھا کہ ، گردن قصائی کی چُھری کا نشانہ بنے گی یا قربانی کے نذر کردی جائے گی۔۔۔۔۔ !!! بزرگ اس کی لگام تھامےپگڈنڈیوں سے گزرتے ہوئے ایک خوبصورت گاؤں میں داخل ہوئے ، بجلی اشتیاق آمیز نظروں سے گاؤں کا جائزہ لینے لگی۔ ہریالی اور گھنے درختوں سے گِھراگاؤں بہت ہی خوبصورت تھا۔ اطراف و اکناف کچے مکان اور ٹوٹی ہوئی جھونپڑیاں تھیں۔بزرگ نےایک چبوترے کے قریب پہنچ کر آواز لگائی۔
“عمر۔۔۔۔!مریم۔۔۔۔۔!!!جلدی باہر آؤ۔”
“دیکھو کون آیا ہے۔۔۔۔۔! “اندر سے ایک خوبصورت دوشیزہ چلی آئی ۔
بہو اسے خاص تمھارے لئے لایا ہوں کیونکہ تمھیں شکایت تھی کہ ہمارے پاس صرف بیل ہی ہیں۔
شکریہ ابو۔۔۔!وہ خوش ہوتی ہوئی بجلی کے قریب آئی، بہت پیار سےاس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹا سا طبیلہ تھا۔۔۔۔جس میں کئی بیل آرام فرما تھے۔کچھ منچلے بیلوں نے بجلی کی آمد پر دم ہلاکر امبا!!!! کی صدا بلند کی جیسے بجلی کا پرتپاک خیر مقدم کررہے ہوں۔بجلی بری طرح شرماگئی۔
مریم نے اسے ایک کھوٹی سے باندھا اور پیار بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
“تم آرام سے یہاں رہنا ، بہت سارے بچھڑے دینا۔ساتھ میں دودھ ، دہی مکھن بھی۔۔۔۔۔!”
دوسری صبح کھیتوں کی سیر پرکچھ آزادی میسر ہوئی تو ایک تندرست و توانا بیل جس کا نام عبدل چاچا نے بادل رکھا ہوا تھابجلی کے قریب آیا بجلی نے شرما کر اپنی نظروں کے ساتھ سر بھی جھکا لیا۔بجلی کی اس ادا پربادل اپنی مست نگاہوں سےاسے دیکھتا رہا۔جواب میں وہ اپنی تمام حشرسامانیوں کے ساتھ دم ہلاتی رہی۔اس طرح وہ دونوں پیار کے اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے۔زندگی بہت سکون سے گزر رہی تھی ۔اچانک وقت نے کروٹ لی ،اس بدلتے وقت نے اپنے دامن میں ان بے زبان جانوروں کے لئے ایک بھونچال لے آیا۔جس سے زمانہ قدیم سے حاصل سکون و چین ان سےچھین لیاگیا۔مذہبی خرد مندوں نے انھیں “گاؤ ماتا “کےلقب سے نواز رکھا تھا یہی رتبہ وبال جان ثابت ہونے لگا،بخشی گئی عزت افزائی نے ان بے زبانوں سے جیسے پاسباں چھین لیا۔گوشت کے کاروبار پر پابندی لگا دی گئی تھی ،عید پر گائے کی قربانی قانوناً جرم اورممنوع قرار دی گئی ۔اس طرح ملک بھر میں گائے ،بیل اپنے مالکوں پر بوجھ بنتے چلے گئے۔ جب خرید و فروخت کا مقصد ہی ختم ہوچکا تو لوگوں کوان کے کھانے پینے پر خرچ کرنا گویا غریبی میں آٹا گِیلا کرنے کے برابر لگا۔ اس پابندی اور سختی کے باوجود عبدل چاچا نے عید کے موقعے پر اپنے فرزند عمر کو ہمراہ کیے ٹرک تیار کیا جس میں چند جانور چھپا کر ،سودے کی نیت سے شہر کی جانب چل پڑے۔ مسلمان بھی حکومت سے چھپ چھپا کر گائے کی قربانی اداکرنے پر مجبور تھے۔
عبدل چاچابادل کو ساتھ لےگئے تھے۔بےزبان بجلی چلاکر دہائی بھی نہ دے سکی بس پھوٹ پھوٹ کر رودی۔غم ویاس کے بادل جو دل پر چھائےرہے انھیں اشکوں کی بارشیں دھونے لگیں۔لیکن افسوس یہ بارشیں تو صرف ایک بہتا ساگر ثابت ہوئیں۔۔۔دکھ درد کی تلخی اپنی جگہ چٹان کی طرح قائم رہ گئی۔اللہ تعالی نے جانوروں کو بھی محبت کا عظیم جذبہ عطا کیا ہے ، دل کواس کی پاک روشنی سے منور کیا۔۔۔درد کے احساس کے ساتھ ساتھ،آنکھوں میں اشک کی سوغات بھی عطا کی جنھیں وہ بہا تو سکتے ہیں لیکن زبان سے شکوہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔!!!بجلی نے خاموشی کی رِدا اوڑھے سارا دن کھانا نہیں کھایا۔ہر دوسری گھڑی کرب ناک انداز میں آوازیں لگاتی ہوئی اپنی بے چینی اور تڑپ کا مظاہرہ کرنے لگتی۔جب شام کے سائے گہرے ہونے لگے تواچانک موسم طوفانی چادر لہراتا ہوا ماحول پر دہشت پھیلاتا ہوانظر آیا ۔ہوا کےتیز جھونکوں نے چبوترےکوہلا کررکھ دیا تھا۔بجلی کے بدن پر خوف زدہ سنسناہٹ سرایت کرتی جارہی تھی۔دل سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا۔اس نے دیکھا گاؤں کے کئی مرد عمر اورعبدل چاچا کی لاشوں کو کاندھوں پر اٹھائے چلے آرہے تھے۔بجلی خوف سے کانپنے لگی۔سماج کے چند ظالم ٹھیکیدار نے عبدل چاچا سے سارے جانور چھین کرانھیں اور عمر کو بڑی بے رحمی سے پیٹا تھا، موقعہ واردات پر ان دونوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
عمر کی بیوی رورہی تھی اس کی کرب ناک چیخوں سے گاؤں کی فضاء دہل گئی ۔اس حادثے کے بعد ہی گھر اور گاؤں کے حالات تیزی سے بدلتے چلے گئے۔جب مریم کو ان جانوروں کو سنبھالنا مشکل ثابت ہوا تو اس نے بہت کم داموں میں سارے مویشی فروخت کردیئے۔
نیا مالک انھیں غیر ممالک ٹرانسپورٹنگ کی نیت سے ٹرکوں پر لاد کر کسی فارم کی جانب لے جار ہاتھا۔گاؤ ماتا کہہ کر جب اپنے ملک میں گوشت کی خرید وفروخت پرپابندی لگادی گئی تو پھر عمدہ قیمتوں پرگوشت کو ٹرانسفر کیوں کیا جارہاتھا۔۔۔۔؟یہ بات سمجھ کے باہر تھی۔بجلی نے وہاں سے فرار حاصل کی ۔بھٹکتے ہوئے اس جیسے کئی پریشان حال ساتھی راہ میں ملتے رہے۔ہر کسی کا حال بہت برا تھا۔
سارے ساتھی دن بھر آوارہ گرد، کھانے کی تلاش میں کچرے دانوں کی خاک چھانتے ، رات آتی تو ان سب کا قافلہ کسی سڑک کے درمیانی حصے پر آرام فرمانے لگتا۔ راہ گیر احتجاج میں ہارن بجاتے ہوئےآوازیں لگاتے لیکن انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دن اس بے فکر آوارہ گردی کو بھی کسی کی نظر لگ گئی۔انھیں ٹرک میں لاد کر گاؤں کے باہر ایک میدان میں لے جایا گیا۔جہاں سینکڑوں کی تعداد میں جانور موجود تھے۔جو بھوک و پیاس کی شدت سے تڑپ کر مرنے پر مجبور ہورہے تھے۔ سماج کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے گاوماتا کے نعرے بلند کرنے میں محوتھے۔بجلی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگی۔جب چاروں طرف سناٹا چھا گیا تو وہ بھاگتی ہوئی لوہے کی تار کے پاس آئی باہر جانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ہر طرف مردہ جانور پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے ایک جھرجھری سی لی۔ایک جانب اچانک نظر دوڑائی تو دیکھاکوئی جانور زخمی حالت میں تار کے باہر نکلنے میں کامیاب ہواتھا وہ بھی دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی دوسرے ہی پل وہ ششدر رہ گئی “بادل۔۔۔۔۔۔!!! وہ زخمی لاغر سا جانور نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا پھر بے اختیار اس کے قریب آنے کی کوشش کرنے لگا۔
” بجلی ۔۔۔۔۔! تم یہاں۔۔۔۔۔؟ تم تو بہت مزے میں زندگی گزاررہی تھی۔؟
بجلی ایک سرد آہ بھری اور کرب سے گویا ہوئی۔ گاوماتا جو بنادی گئی۔۔!!!
پھر وہ دونوں وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

شام کافی سرد تھی۔شدید خنکی کے بنا بجلی کا بدن ہولے ہولےکانپ رہا تھا۔گزشتہ دودنوں سے اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔بھوک کی شدت سے پریشان پلاسٹک کھانے کی ضد کررہی تھی اور ہر مرتبہ بادل روک لیتا۔پلاسٹک کھانے سے کئی مویشیوں کی موت ہوچکی تھی۔بادل، بجلی کو دوبارہ کھونا نہیں چاہتا تھا۔ “خدایا یہ ہم جانوروں پر کیسی مصیبت آگئی۔۔۔۔!!! یہ کیسا کل یوگ آیا ہے۔۔۔؟” بادل نے سسکی سی بھری
” بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔!!! مجھے چکر آرہا ہے۔۔۔۔۔!!!کیا یہ کھاؤں۔۔۔؟ “وہ ہر بار کچرے کے ڈبوں سے ناامید ہوکر پلاسٹک کی جانب اشارہ کرتی۔ بادل تڑپ کر کہتا۔
“نہیں۔۔۔۔۔! یہ کھانے کی چیز نہیں ہے۔ کچھ صبر کرلے۔ہم صبح کہیں نہ کہیں کھانا تلاش کرلیں گے۔ پھروہ پیار سے بجلی کے آنسوؤں کو اپنی زبان سے چاٹنے لگتا۔ مجھےپیار نہیں کھانا چاہیے ۔۔۔!!!وہ نہایت نقاہت سے کہتی۔دوسرےدن وہ اور کمزور ہوگئی ،نقاہت سے زمین پر گر گئی اورتڑپنے لگی۔
میری سانسیں ٹوٹ رہی ہیں۔
تجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔!!!
تُو گاؤ ماتا ہے۔۔۔!!!
گاؤ ماتا ۔۔۔۔۔!!! تو پھرہمارا حشر اتنا درد ناک کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟وہ بڑے کرب سے کہتی ہوئی زمین پر پیر رگڑنے لگتی۔اس کی بچی ہوئی سانسیں اب مکمل تھمنے لگی تھیں ۔بادل شدت غم اور بےبسی سے بجلی کو تکتا رہا۔رات کی سیاہی دور ہونےکوتھی۔امید ابھی باقی تھی کے وقت کےبدلتے ہی کچھ نہ کچھ ٹھیک ہوگا۔وہ بڑی بے بسی سے اس کے قریب بیٹھ گیا۔ دور سے ایک تیز روشنی جھلملائی ،بادل بے بسی سے بجلی کے لاغر جسم کو دیکھا دوسرے ہی پل ایک تیزگڑگڑاہٹ کے ساتھ ٹرک دونوں کو کچل کرکچھ ہی فاصلےپرپلٹ گیا۔ بادل کاسر پھٹ گیا ، اس نےاپنی بند ہوتی آنکھوں سے بجلی کو دیکھا وہ موت کی نیند سوچکی تھی۔
صبح صادق کی پہلی کرن تھی جب یہ حادثہ ہوا، ٹرک ڈرائیور مسلمان تھا۔پھر کیا تھا اشرف المخلوقات نے گاؤ ماتا کے نام پر تعصب کی آگ بھڑکاتے ہوئے ڈرائیورکو بے تحاشا پیٹا ۔”گاؤ ماتا کے قاتل کو ہم اتنی آسانی سے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔!!!” وہ حیوانیت سے نعرا بلند کئے معطر فضاء کو تعصب سے زہرآلود کیے جارہےتھے۔ بادل طنز سے ہنسا۔”خود غرض انسان یہ تیری محبت عذاب بن گئی !!!”
ایک درد ناک سسکاری کے ساتھ وہ بھی بجلی کے ساتھ جا ملا۔وہ دونوں عیار انسانوں کی دنیا سے دور بہت دورچلے گئے۔

Published inعالمی افسانہ فورمناہید طاہر