Skip to content

پیچھا کرتی آوازیں

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 75
پیچھا کرتی آوازیں
نعیم بیگ، اسلام آباد، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکیوں نے کھنکتے قہقہوں کے درمیان اسے بالآخر کمرے میں دھکیل دیا گیا۔ موسم کی خنکی اور مہکتی مسکراتی فضا کے باوجود اس کے جسم سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے عیاں تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ اسکی کپکپاتی ٹانگیں جلد ہی اسکے اوپر کے دھڑ کو سہارا دینے سے انکار کر دیں گی۔ اس نے اندر گھستے ہی جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور اسکی چٹخنی کھینچ د ی اور چند لمحوں تک اپنی سانس کو متوازن کیا ۔ اسکے قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔ دل کی دھڑکن تیز تر ہونے سے سینہ پھٹنے لگا تھا۔ خوف کی شدید لہر نے اسکے ذہن کو اپنی مٹیالی دھند میں لپیٹ لیا تھا اور منظر غائب ہو رہے تھے۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا آہستہ آہستہ چلتاپھولوں کی لڑیوں سے آراستہ مسہری کے قریب جا کھڑا ہوا۔ دلہن کمرے کے بیچ رکھے پھولوں کی لڑیوں سے آراستہ نئے پلنگ کے بے شکن بستر پر شادی کا جوڑا پہنے سکڑی ہوئی بیٹھی تھی۔ پھولوں کی لڑیوں کو ایک طرف کرتے ہوئے وہ مسہری کی پائنتی پر بیٹھ گیا۔ دلہن نے ہلکے سے اپنی نظروں کو اٹھایا تو اسکی جان نکل گئی۔ وہ اسے یوں زردی مائل پسینے میں شرابور دیکھ کر گھبرا سی گئی۔ وہ اپنے شوہر کو نہیں جانتی تھی ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے اس نے صرف تصویر دیکھ رکھی تھی ۔ دلہن نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسکے گھٹنوں پر رکھے شدید کپکپاتے گرم ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور پھر مدت کے بعد فوزی گہری نیند میں اتر گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غربت اور معذوری نے منظور کو ذہنی طور پر ابتری کا شکار کر دیا تھا۔ گو سارا دن رکشا چلانا اس کے بس میں نہیں تھا لیکن کسی دوسرے کام کے وہ قابل بھی تو نا تھا۔ لکڑی کی ایک ٹانگ اسکی مجبوری تھی۔ وہ دن بھر کا تھکا ماندہ گھر پہنچتا تو شیداں اپنی ایک عدالت سجا دیتی ہر روز بچوں میں سے کسی ایک کو ملزم کے طور پر پیش کر کے وہ ناجانے کس بات کا بدلہ لے رہی تھی اور اب یہ معمول اس کے لئے ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا۔ وہ گھر پہنچتے ہی خود ہی کسی معمولی بات پر کسی بچے کی پٹائی کر دیتا پھر رات کے کسی پہر تک اپنے غصے کو چھپائے رکھتا ۔ اسے شیدان سے نفرت ہو چکی تھی ۔ سارے بچے جلدی سونے کے عادی تھے تاہم اسکا چہیتا پانچ سالہ فوزی دیر تک باپ کے پاس لیٹا جاگتا رہتا اور پھر کسی پہر سو جاتا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے خواجہ صاحب ایک نیک شخص تھے جنہوں نے شیداں کو انکے گھر کی پرانی ملازمہ کے ناطے از راہِ اللہ اپنی بیگم کی وفات کے بعد رہنے کو ایک کمرہ دے رکھا تھا جو دالان کے اس پار کونے والا تھا۔ خواجہ صاحب کی اپنی ساری اولادیں ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے منظور کے بچے خواجہ صاحب کو انکی خواہش پر دادا کہتے تھے۔ خواجہ صاحب اکثر میاں بیوی کو انکے جھگڑوں کی وجہ سے ڈانٹ چکے تھے بلکہ ایک آدھ بار تو انہوں نے گھر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دے دی تھی ۔جس پر منظور اب خاموش ہو چکا تھا لیکن شیداں کی آواز اب بھی نہیں رکتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ دادا۔۔۔ دادا۔۔۔‘‘ پانچ سالہ فوزی نے دالان میں چارپائی پر سوئے دادا کے کندھے کو ہلاتے ہوئے اسے جگا دیا۔ ’’ کیا ہے فوزی؟‘‘ دادا نے غنودگی میں پوچھا۔ ’’ دادا ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کوئی اندر اماں کو مار رہا ہے اور ا بّا بھی بستر پر نہیں ہیں۔‘‘ خوف سے فوزی کے منہ سے بڑی مشکل سے الفاظ نکل رہے تھے۔ ’’ ہائیں! کیا کہا ! مار رہا ہے؟ داد ایکدم سے جاگ گئے۔ ’’دادا اماں چیخ رہی ہیں‘‘ ’’ تم نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔ ‘‘ خواجہ صاحب نے اسے تسلی دی۔ ’’ دادا ۔۔۔ نہیں جلدی کریں اماں مر جائیں گی؟ اس نے روتے ہوئے کہا۔ ’’ اچھا بابا ۔۔۔ اچھا ‘‘ ۔ داد جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر تیزی سے دالان سے گزر کر کونے والے کمرے کے باہر پہنچ گئے۔ دروازہ نِیم کھُلا تھا جسے فوزی نے شاید باہر نکلتے ہوئے کھُلا چھوڑ دیا تھا۔ خواجہ صاحب نے اندر جھانکا۔ اندھیرا ہونے کے باوجود اسے پلنگ پر دو سائے حرکت کرتے محسوس ہوئے اور دبی دبی سے نسوانی چیختی آوازیں بھرپور مردانہ سانسوں میں بسی مبہم گالیوں سے ملاپ کرتی کچھ نمایاں تھیں۔ جسموں کے ملاپ میں روحیں چٹخ رہی تھیں ۔۔۔ اور فِضا ہولناک تھی۔ ’’ ہت تیرے کی! ‘‘ خواجہ صاحب نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو خوفزدہ فوزی بھی پیچھے ہی کھڑا تھا۔ انہوں نے خاموشی سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنی چارپائی پر آکر لیٹ گئے۔ ’’ اوئے فوزی پُتر۔۔۔ تم میرے پاس ہی سو جا ؤ۔‘‘ خواجہ صاحب نے پرسکون ہوتے ہوئے فوزی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ ’’ لیکن دادا۔۔۔۔ ؟ ‘‘ فوزی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ’’ اوئے ۔۔۔ تجھے بولا ہے نا۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔ شاباش سو جا۔‘‘ ایسے ہی رقابت کا سفر جسموں کے ادھورے ملاپ میں طے کر رہے ہیں۔ وہ منہ میں بڑبڑائے ۔۔۔’’چل ادھر میرے ساتھ ہی پلنگ پر سو جا ۔‘‘ خواجہ صاحب نے اسے ایک تکیہ دیتے ہوئے کہااور خودانہوں نے دوبارہ سکون سے چادر اوڑھی اورفوزی کے کپکپاتے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے گہری نیند میں چلے گئے لیکن وہ منظر فوزی کے اندر پوری شدت سے جاگتا رہا۔

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمنعیم بیگ