Skip to content

پہلا چہرہ

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 4
پہلا چہرا
زاہد مختار
ن60ی بستی اننت ناگ (اسلام آباد)، کشمیر

وہ بول رہا تھا اور میں خاموش تھا لیکن میرے اندر جو نامعلوم شخص اُس کی ہر بات کا جواب دینے کے لئے مچل رہا تھا وہ بھی گونگا تھا یا پھر اُس کی زبان کاٹ دی گئی تھی بالکل اُسی طرح جس طرح میری زبان پر تالے لگا دئے گئے تھے۔ میں پچھلے کئی دنوں سے اپنے ہی گھر میں مقید اُس اجنبی کی باتیں سُننے کے لئے مجبور تھا۔ اُس کا ہر حکم ماننے پر مجبور تھا۔ وہ جو چاہتا، کر لیتا تھا۔ میری الماری سے جو سوٹ چاہتا نکال کر پہن لیتا تھا، یہاں تک کہ وہ اب میرے گھر کے اندر پڑی نقدی پر بھی ہاتھ صاف کرنے لگا تھا۔ اور اس نوعیت کا ہر ایک کارنامہ انجام دینے کے بعد اُسکے چہرے پر ایک عجیب قسم کی چمک نمودار ہوتی تھی۔ وہ کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ مجھے تو وہ کوئی بہت بڑا ساحر ، کرتب باز دکھائی دیتا تھا کیونکہ ہر روز جب وہ میرے منہ پر ایک نیا تالا لگا کر قد آدم آئینے کے سامنے استادہ ہو کر اپنے اصلی چہرے پر ایک اور چہرا لگا کر باہر جانے کے لئے تیار ہوتا تھا تو میرے دل میں ایک ہی خواہش اُبھرتی تھی کہ کاش میں اُس کا اصلی چہرہ دیکھ پاوٗں لیکن میری یہ آرزو کبھی پوری نہ ہوئی۔ کھانا کھانے کے دوران وہ بے شک میرے ہاتھ کھول دیتا تھا اور میرے منہ پہ پڑا ہوا ٹیپ بھی اُتار دیتا تھا لیکن تب بھی اُس کی اصلیت کسی نہ کسی نقلی چہرے تلے مخفی رہتی اور میں ذہن و دل کے نہاں خانوں میں اُبھرنے والی درد بھری چیخ کو اندر ہی اندر محسوس کر کے رہ جاتا ۔ وہ ہر روز ایک نیا چہرہ لگا کر ایک نئی شخصیت کے ساتھ مجھے اپنے ہی گھر میں اپاہج بنا کر کہیں چلا جاتا تھا اور سورج ڈوبنے کے کچھ دیر بعد واپس آجاتا تھا۔ میں پچھلے کئی دنوں سے اُسکے رحم وکرم پر زندہ تھا۔ اگر چہ وہ صبح شام میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا لیکن اپنے ہی گھر میں ایک تنہا قیدی کی طرح رہنا میرے لئے کسی سزا ئے عمر قید سے کم نہ تھا۔ میرا رابطہ باہری دنیا سے مکمل طور کٹ چکا تھا۔ میں ہر روز اُسکے جانے کے بعد اپنے گھر کی کھڑکیوں کے بند شیشوں کے پاس رینگتے ہوئے جا کر چلاّ نے کی کوشش کرتا تھا لیکن میری چیخ میرے اندر ہی دب کے رہ جاتی تھی اور میں شدّت کے ساتھ اُس دن کے اپنے فیصلے پر افسوس کرنے پر مجبور ہو جاتا جس کے طفیل میں نے اپنی ’’انٹی لیکچول فطرت‘‘ کے زیر اثر پہلگام کے ایک پہاڑی سر سبز علاقے میں ایک زمین کے ٹکڑے پر ایک چھوٹی سی ہٹ (HUT) تعمیر کر کے بظاہر اپنے تمام شناساؤں سے دور ایک پُر سکون تنہائی کا اہتمام ِخشک و تر کر دیا تھا۔ اب یہاں دور دور تک کوئی نہ تھا جو میری مدد کو آ سکتا ۔ اگرچہ کبھی کبھار کوئی چرواہا یا کوئی اکادکا گوجر یا بکروال مجھے دور اُس پہاڑی پگڈنڈی پر جاتا ہوا دکھائی بھی دیتا لیکن تب بھی مجھے اپنی بے بسی اور لاچاری کا احساس خود اپنی زمین میں دفن کر دیتا تھا کیونکہ میں ایک ٹوٹی بانسری کی طرح اپنی فریاد کسی کو سنا بھی نہ سکتا تھا۔
آج وہ شام ڈھلتے ہی لوٹنے کے بعد خلاف توقع مُسکرارہا تھا ۔ وہ مجھ سے یوں مخاطب ہوا:
’’کیوں۔ آج کتنی گالیاں دی میرے نام پر اور اندر ہی اندر میری ذات کو کتنی بددعائیں دی ہیں ۔ اچھا کیا جو بھی کیا۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔ لیکن اب تمہیں خوش ہونا چاہئیے کیونکہ کل سحر ہوتے ہی میں تمہارے اس چھوٹے اور خوبصورت گھر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہنے جا رہا ہوں ۔‘‘
میں آنکھیں پھاڑے صرف اُسے دیکھتا رہ گیا حالانکہ یہ مژدہ جان افزا سننے کے بعد میری آنکھوں سے مسرت کی ایک چمک چھلکنی چاہئے تھی لیکن نہ جانے کیوں میں ان گزرے دنوں میں ایک پتھر کی مانند تمام احساسات اور جذبات سے بے نیاز ہو گیا تھا اور شأید یہی وجہ تھی کہ میں سنگدل بھی بن چکا تھا اور سرد مہر بھی، لیکن میری سنگدلی اور سردمہری نہ میرا احتجاج بن سکی اور نہ میرا کوئی مداوا کرنے میں کامیاب ۔ وہ حسب عادت اپنی باتیں سُنا کر میرے منہ اور میری پیٹھ پیچھے بندھے میرے ہاتھ پیر آزاد کرکے باہر سے لایا ہوا کھانا میرے سامنے رکھ کر میری چوکیداری کرنے لگا لیکن آج میں اُس کی توقع کے خلاف اُس سے مخاطب نہ ہوا۔ وہ کچھ لمحوں کے لئے خاموش رہا شاید میرے بولنے کا یا شکر یہ ادا کرنے کا منتظر تھا لیکن جب میں نے کھانا کھئے بغیر خاموشی سے کھانے کی تھالی کو ایک طرف سرِکا کر بھی اپنی خاموشی کا طلسم نہ توڑا تو اُس کے اندر بھرا سارا ز ہریلا دھواں جیسے باہر اُبل پڑا۔
’’ میں تمہیں کل سے آزاد کر رہا ہوں، تمہیں یہ سن کر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ مجھ سے آج کوئی سوال کیوں نہیں پوچھتے! پوچھو! آج میں تمہارے سارے سوالوں کا جواب دوں گا تاکہ تم کسی تجُسس کے بغیر اپنی باقی ماندہ زندگی گذار سکو۔‘‘
لیکن میں نے اُس سے کوئی سوال نہیں پوچھا۔ میں نے خاموشی سے اُسی ٹیپ رول کا ایک ٹکڑہ اپنے منہ پر خود ہی چپکا لیا جو وہ ہر روز میرے منہ پر چپکا کر اپنی من مانی کرتا تھا۔ اسکے بعد میں نے اپنے ہاتھ پیر اُس کے قریب کردئے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مجھے حسب معمول باندھ کر اپاہج بنادے۔ وہ غصے سے تلملا اُٹھا اور پھر نہ جانے کیوں اُس نے وہ حرکت کی جس کا مجھے وہم وگمان بھی نہ تھا۔ اُس نے بڑی بے دردی کے ساتھ میرے منہ پر چپکے ہوئی ٹیپ کو اُدھیڑ کر پھینک دیا اور بناِ میرے ہاتھ پیر باندھے میری نظروں سے اپنے آپ کو بچا کر قد آدم آئینے کے سامنے ایک نیا چہرہ لگانے میں مصروف ہو گیا۔ اب کی بار میری آنکھوں سے درد بھرے آنسوؤں کے ساتھ حیرت بھی ٹپکنے لگی۔ میں نے اُس کی پُشت پر آنکھیں گاڑھ دیں۔
وہ چند لمحوں میں اپنا نیا چہرہ لگا کر جب میری جانب مڑا تو میرے منہ سے ایک دبی دبی سی چیخ نکل گئی۔ میرے سامنے ’’میں‘‘ کھڑا تھا ۔ ہاں ’’میں‘‘ ۔ بالکل میری صورت ۔ اُس نے آج میری صورت کا چہرہ اپنے اجنبی چہرے پر لگا لیا تھا۔ اچانک میری حیرت اُسکی مکروہ ہنسی میں دفن ہوگئی۔ُُ
’’دیکھا! میں کیا کرسکتا ہوں۔ اب تمہیں میری طاقت ، میری ذہانت کا احساس ہو جائے گا۔ میں اب کل کی بجائے ابھی تمہاری اس چار دیواری سے باہر جارہا ہوں، ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ۔ اب میں ’’تم‘‘ بن کر وہ کام کروں گا جس سے تمہیں اپنے اس چہرے سے بھی نفرت ہو جائے گی۔ یہی تمہاری آج کی خاموش بغاوت کی سزا ہو گی۔ گڈ بائی۔‘‘
وہ پلک جھپکتے ہی کمرے سے باہر نکل گیا بالکل اُسی طرح جس طرح وہ پہلے دن آناً فاناً میرے کمرے میں آ وارد ہوا تھا۔ میں خاموش در و دیوار تکتا رہ گیا اور پھر جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک ایسے مریض کی طرح اپنے ہاتھ پیر ہلانے لگا جو فالج کے حملے کے بعد قدرے سنبھلا ہو۔ وہ رات کیسے بیتی ، مجھے شأید قیامت صغریٰ کا مفہوم پہلی بار سمجھ میں آیا تھا۔ پو پھٹتے ہی میں اُس قید تنہائی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ ہٹ کے خوبصورت لان کو پھلا نگتا ہوا جب میں پہاڑی پگڈنڈی پر پہنچا تو چند قدم چلنے کے بعد مجھے میری شکل وصورت کا وہ پر اسرارا جنبی ایک دیودار کے درخت تلے خون میں لت پت پڑا ہوا نظر آیا۔ میں نے کچھ حیرت، کچھ خوف کے ملے جلے تاثرات اپنے اندر اُبھرتے ہوئے محسوس کئے اور جب میں نے اُس کے قریب جا کر اُسے چھو کے دیکھا تو اُس کا سرد جسم اپنی آخری کہانی بیان کر رہا تھا، وہ شأید رات کے اندھیرے میں کسی آدم خور درندے کے نوکیلے دانتوں کا شکار ہو چکا تھا، اسکے نرخرے کے دونوں طرف دوسوراخ ایک لہو لہو کہانی رقم کر رہے تھے۔ اُسکے چہرے پر اب بھی میرا ہی چہرا تھا لیکن اب کے اُسکی آنکھوں میں نفرت اور حقارت کی بجائے کوئی انجانی حسرت عیاں تھی۔ میں نے لرزتے اور کانپتے ہاتھوں سے اُسکے چہرے سے اپنا چہرا کھرُ چنے کی کوشش کی۔ آج مجھے اُس کا اصلی چہرا دیکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ لیکن ایک لمبی مشقت کے بعد جب میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تو مجھے اپنی پیٹھ پر کسی آدم خور درندے کے پنچوں اور نوکیلے دانتوں کا احساس ہونے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے کوئی مجھے بوٹی بوٹی نوچ رہا ہو۔ آسمان پر ہزاروں گدھ اور چیلیں منڈ لا رہی ہوں۔ اُسکا اصلی چہرہ میرے سامنے بے نقاب تھا۔ لیکن وہ چہرہ میرے لئے اجنبی نہ تھا وہ، ۔ ۔ ۔ ۔ اصلیت میں بھی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ میں ہی تھا۔

Published inزاہد مختارعالمی افسانہ فورم