Skip to content

پھول کی پتی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ 149
“پھول کی پتی”
افسانہ نگار ۔ نرمین سرھیو۔۔ حیدرآباد ۔۔ پاکستان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“وہ مجھ سے پیار کرتا ہے، نہیں کرتا، کرتا ہے، نہیں کرتا…..” پھول کی پتیوں کو نوچتے ہوئے وہ یہ ورد جاری رکھے ہوئے تھی جبکہ کان میں ہلکی ہلکی ٹیسیں بھی اٹھ رہی تھیں- صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو ایک خوشنما پھولوں سے بنا گلدستہ اس کے سرہانے رکھا ہوا تھا- ساتھ میں ایک کارڈ بھی تھا جس میں اسے جلد ٹھیک ہونے کی دعا گئی تھی- کچھ دیر قبل شاھ زیب اس کا حال احوال پوچھنے آیا تھا اور وہ نظریں جھکائے محض سر اور پلکوں کو خفیف سی جبنش ہی دے سکی تھی مگر اس کے جاتے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کرلیا تھا-
“پیار کرتا ہے، نہیں…” اچانک پتیاں نوچتے اس کے ہاتھ رک گئے تھے- گلدستے کے سارے پھولوں کی پتیاں اس کے بستر اور کمرے کے فرش پر بکھری ہوئی تھیں اور بس ایک ہی پتی اس سرخ پھول میں بچی تھی- کیا یہ اسے توڑ دینا چاہیے؟ نہیں شاید چھوڑ دینا چاہیے جب ہر چیز بکھر چکی ہو تو پھول پر ایک پتی کا رہنا ضروری ہوتا ہے.. امید کی کرن کے لیے، بہتری کے لیے، دلاسے کے لیے… آہ درد… اس نے کان کو سہلایا…. لیکن ساری دنیا سے مایوس جو اس کی خوشبو چرا چکی ہو.. خالی پھول کے پاس ایک ننھی پتی تو ہونے چاہیے کہ وہ امید، خوش کن جذبات کے ننھے سے آسرے ہی سہی مگر جی تو سکے…. اسے یہ پتی نہیں توڑنی چاہیے…. کان سے سیال کی لکیر نکلنے لگی تھی- وہ ہاتھ سے کان کو سہلاتے ہوئے سوچ رہی تھی- یہ درد وقت بےوقت کیوں نازل ہوجاتا ہے- کان میں خارش ہونے لگی تھی- یہ درد، بیماری تو جیسے کوئی مایوسانہ خیال ہو جو خوش کن خیالات کے درمیان ایسے آ ٹپکتا ہے کہ جیسے یہی اس کی اصل رہائش گاہ ہو- سر کو دائیں بائیں جھٹکتے ہوئے ایک گلاس میں پانی ڈال کر وہ ایک پتی کا ادھورا سرخ پھول گلاس میں سجانے لگی کہ جیسے یہی اس کی امید ہو، روشنی کی آخری کرن جو جلد نئی صبح روشن ہونے کا پتا دے گی- سر کو دباتے ہوئے وہ شاہ زیب کے ساتھ گزرے لمحوں کو یاد کرنے لگی- اس کی پہلی چاہت اور محبت… اس کا چچا زاد… وہ دونوں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے تھے اور اب جلد ان کی منگنی ہونے والی تھی….. سر کو تکیے پر پٹخکتے ہوئے وہ درد کم کرنے اور نیند کی دوا نکالنے لگی- پانی کی ٹھنڈی شفاف بوتل فرج سے نکالتے ہوئے اسے جیسے پانی میں اپنا اور شاہ زیب کا عکس نظر آیا تھا- ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دوا نگلی تھی- خوش کن خیالات کے باعث گولی کی کڑواہٹ میں بھی مٹھاس محسوس ہوئی تھی- آنکھوں میں بھی جگنو چمک رہے تھے- پھر بستر پر لیٹے لیٹے وہ زیتون کے تیل سے اپنے کان کو مساج کرنے لگی- ہر دباؤ پر ذہن میں ننھی سی کوئی یاد ابھرتی تھی- اپنے ہاتھوں پر شاہ زیب کا لمس بے ساختہ محسوس ہوتا تھا جب کبھی وہ اپنی محبت کا یقین دلانے اور اظہار کرنے کے لیے پکڑتا تھا- جوش کن خیالات کی رو میں بہتی وہ نیند کی آغوش میں اتر گئی تھی-

اس کی آنکھ ممی بابا کے اطلاعی فون پر کھلی کہ وہ رپورٹس لے کر کراچی سے نکل رہے ہیں اور جلد ہی حیدرآباد پہنچ جائیں گے- کھڑکیوں کے باہر شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے- کچھ دیر بعد بےچینی گویا اس کی رگ رگ میں سمانے لگی تھی- نجانے کتنے دن ہوگئے تھے اس طرح کمرے میں بند رہ کر… ہر چیز کمرے میں مل جاتی تھی- ہر آسائش وہاں موجود تھی- صفائی کا بھی خیال رکھا جاتا تھا مگر درد سے بےحال اس سے چلا ہی نہ جاتا تھا، باہر نکلا ہی نہ جاتا تھا- نجانے سب کیا سوچ رہے ہوں گے- نجانے شاھ زیب کیوں اتنے دنوں سے ملنے نییں آیا تھا- شاید اس کے سوتے وقت شاہ زیب آیا ہو یا شاید نہیں- نگر وہ تو سارا دن سوتی رہتی تھی- سائڈ ٹیبل کا سہارا لیے وہ اٹھ بیٹھی تھی، دل بےچین تھا- بستر پر بیٹھتے ہوئے، درد کرتے اپنے سوجن زدہ کان کو سہلاتے ہوئے اس نے گاڑی کی آواز سنی، اپنے کمرے سے پورچ میں کھلنے والی کھڑکی سے چچا چاچی اور پھوپھو لان میں بیٹھے نظر آئے- دانت پر دانت جمائے درد کو روکتے ہوئے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی- کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہ زیب کی کمرے کی جانب بڑھنے لگی تھی کہ اچانک اسے کچن سے آواز آئی-
“جو جیسا دیکھا وہی مانتی ہوں-” اس کی پھوپھو زاد ایشل کی آواز میں ناجانے خفگی کیوں تھی- چکراتے سر کو دباتے ہوئے وہ کچن کی جانب بڑھی-
“جو ہوا وہ ماضی تھا اور اب تمہی میرا حال اور مستقبل ہو-” مردانہ آواز میں پُر شدت لہجہ محسوس کرتے ہوئے وہ کچن سے ملحق کھڑکی کے سامنے ٹہر گئی تھی-
“یقین کرو-” فرطِ جذبات سے ایشل کے ہاتھوں کو پکڑے، لہجہ تیقین کا تاثر لیے ہوئے تھا-اس کی آنکھوں میں کرچیاں چھبنے لگے تھیں- سر کو دباتے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں پر کوئی محبوب سا لمس اچانک اجنبی محسوس ہوا تھا- آنکھیں جلنے لگیں تو نظریں بےساختہ شاہ زیب کی آنکھوں میں جھلملاتی شدتوں پر پڑیں- کان سے سیال نکلنے لگا تھا اور کان سہلانے کی شدید خواہش پر اس کا ہاتھ ہوا معلق رہ گیا جب شاھ زیب کا ہاتھ ایشل کے بالوں پر آ ٹکا- کان کو زور سے دباتے ہوئے اس سے ایشل کے لبوں کی مسکراہٹ سہی نہ جا سکی- کانوں سے نکلتے سیال کے ساتھ اب آنکھوں سے نمکین پانی بھی بہنے لگا تھا-
“بھلا کوئی کب تک ایک معذور کے ساتھ گزارا کرے-” لاؤنج سے گزرتے اسے لان سے چچی کی آواز آئی تھی- ذہن کے پردے میں دو ہفتے قبل کا اذیت ناک واقعہ لہرا گیا جب اسے کان کی دائمی معذوری اور ساخت بگڑنے کی اطلاع دی گئی تھی- چہرے کو ہاتھوں سے رگڑتے ہوئے وہ کمرے کی جانب بھاگی تھی- کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر دوائیوں پر پڑی- یہ دوائیں بھی کیسی نعمت ہیں نا آدھا درد بھلا دیتی ہیں- گولیوں کی نامعلوم تعداد نگلتے ہوئے وہ لیٹ گئی- غم سے جان چھڑا دیتی ہیں، ذہن کو سلا دیتی ہیں، خواب بھلا دیتی ہیں اور… اور.. ” اس کی بڑبڑاہٹ مدھم پڑنے لگی- سائد ٹیبل پر گلاس میں پڑت پھول کی پتی بدستور پھول کے ساتھ لگی ہوئی تھی نگر نیچے موجود پانی اسے دوبارہ سر سبز نہ کر سکا تھا- کھلی فضا میں سانس لیتے پھول کو گھٹن زدہ ماحول نے مرجھا دیا تھا- پھول کی آخری پتی سکڑ کر اپنا رنگ اور تاثیر کھو چکی تھی

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمنرمین سرھیو