Skip to content

پھولوں والی قبر

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 29
پھولوں والی قبر
تانیہ رحمان، مانچسٹر، برطانیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دادی میں جاوٗں۔”
میرے لہجے میں زرا سی تلخی اتر آئی تھی۔جس کا ذائقہ میری ذبان نے بھی چکھا تھا۔
“نیند آ جائے گی۔” دادی نے میری انکھوں میں جھانکا۔
ان انکھوں میں صاف لکھا تھا کہ نیند نہیں ائے گی۔
“ایسی صورت میں تو بالکل ممکن نہیں ہی آپ کو پتا ہے میں ساری رات سو نہیں پاوٗں گی۔ ساری رات جاگ کر گزاروں گی۔پھر آپ مجھے کیوں ادھوری بات کی سولی پر لٹکا دیتی ہیں۔ بس اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔”
میرے لہجے کی ترشی دادی بھی محسوس کر سکتی تھی۔
“تو کیا سنا چاہتی ہے۔” دادی نے تھکے لہجے میں کہا۔ جیسے میری ضد کے باوجود اس کہانی کا تانا بانا کھولنے پر آمادہ نہ ہو۔
“مجھے لگتا ہے۔ یہ میری کہانی ہے۔ میں بھی کہیں نا کہیں اس کے کرداوں میں موجود ہوں۔۔۔ گاوں کے وہ سارے منظر مجھے میرے اپنے لگتے ہیں۔۔۔ کیونکہ وہی سارے منظر میرے سامنے ہیں۔۔۔۔ دادی جو میں نے حقیقت میں کبھی نہیں دیکھے مجھے اعتراف ہے کہ اس ادھوری کہانی میں میرا وجود کہیں نہیں تھا۔ میں اس کہانی کا حصہ ہو بھی نہیں سکتی تھی۔”
یہ کئی سال پہلے ان دنوں کا قصہ تھا۔ جب میں نے آنکھ بھی نہیں کھولی تھی۔ مگر جانے کیوں وہ پرانی کہانی میرے اندر اتر گئی تھی دادی نے ایک رات بہت ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے یہ کہانی شروع کی تھی۔ جب میں پاوٗں دباتے ہوئے ان کے گھٹنوں تک پہنچی۔ تو دادی نے یکدم چپ سادھ لی۔۔اس وقت درد دادی کے چہرے سے صاف عیاں تھا۔۔۔یہ پچھلے ماہ کی بایس تاریخ کی رات کی بات ہے۔ میں تب سے سو نہیں پائی۔ دادی کی چپ ختم نہیں ہوئی۔ میرے اندر کےتلاطم نے مجھے نڈھال کر رکھا تھا۔ میرے بیڈ کی سایڈ ٹیبل پر کتابوں کا ڈھیر جمح تھا۔ جہنیں میں نے کئی روز سے چھوا تک نہیں۔ یوں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں ہر رات کسی کتاب کے مطالعے میں نیند کی وادی میں اتر جاتی تھی۔ ٹی وی دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ میں وہ ہستی تھی۔ جس کی ٹی وی بغیر شام نہیں گزارتی تھی۔ایسابھی نہیں تھا کہ مجھے کسی سے محبت ہو گی ہو تو کوئی کام ہاتھ آ جاتا۔ لیکن یہاں ایسا بھی کچھ نہیں تھا۔
یہ سب موچی اللہ بخش کی وجہ سے ہو رہا تھا۔۔۔۔ جس کی گاوٗں میں چھوٹی سی دوکان تھی۔ وہ ہر سال اپنے کنبے میں ایک فرد کا اضافہ کے جا رہا تھا۔۔۔۔ لیکن نہیں میرا خیال ہے، میری بے چینی کا اصل سبب موچی کی بیوی تھی۔۔۔جس نے مسلسل پانچ سال پانچ بیٹوں کو جنم دےکر نا صرف ایک ریکارڈ قائم کیا تھا، بلکہ خالی کوکھ والی عورتوں کو رشک میں مبتلا کر رکھا تھا۔ کچھ اس حسد میں مبتلا تھیں کہ ان کے ہاں تو ہر سال بیٹی اللہ میاں بھیج دیتا ہے۔۔۔ اور موچی اللہ بخش کی بیوی کو ہر سال بیٹا۔۔۔دعایں تو وہ بھی بہت کرتی ہیں۔ مزاروں پر منتین بھی مانگتی ہیں لیکن ان کی گود میں بیٹی ہی کیوں؟ یا پھر میری بیزاری کا کا باعث موچی اللہ بخش کی غریب اور جاہل بیوی نہ ہو جو بچے پیدا کرنے والی مشین بن گئی تھی۔ رحمت کی پیدائش پر منائی جانے والی خوشی شاہدرحمت موچی اللہ بخش کی بیٹی تھی۔ جو پانچ بیٹوں کے بعد اس کے آنگن میں ائی تھی اور واقعی رحمت ثابت ہوئی تھی۔۔۔خوش بختی نے موچی اللہ بخش کے گھر کا راستہ دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ بیٹی کی پیدائش کے بعد خوشحال ہو گیا تھا۔۔۔بیٹے پیدا کرنا عورت کے اپنے بس میں ہے کیا؟ میں نے دادی سے پوچھا تھا کہ موچی کی بیوی سے گاوٗں کی کھاتے پیتے گھرانوں کی عورتیں بھی جلتی تھیں۔ جن کے خاوند انہیں طعنے دیتے تھے کہ وہ بیٹے نہیں جنتیں ۔۔۔۔ یہ تو اللہ کی دین ہے۔۔۔۔ وہ جسے چاہے بیٹا دے یا بیٹی۔۔۔ اس میں مرد عورت کا کیا اختیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادی نے کہا وہ رحمت سے رحمتے بن گئی، اس کے بعد موچی کا کوئی بچہ نہیں ہوا۔ بیٹیاں تو کھجور کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ رحمتے بھی یکدم ہی جوان ہو گئی، پانچ جماعت پاس تھی مگر شکل صورت نین نقیش کی بہت اچھی تھی۔۔۔ رشتے آنے لگے۔ اللہ بخش چاہتا تھا۔ کسی اچھے گھر کا لڑکا اس کی بیٹی کو بیاہ کر لے جائے۔ رحمتے کے بھائیوں کو بھی یہی فکر تھی کہ جلدی سے اپنے گھر چلی جائے بیاہ کر۔۔۔۔۔ کیونکہ رحمتے کی وجہ سے گاوٗں کے دو بدقماش لڑکوں سے ہاتھا پائی ہو چکی تھی۔ ایک روز رحمتے اور اس کی ماں ساتھ والے گاوٗں میں شادی پر گیئں۔۔۔۔ موچی اللہ بخش کی بیوی اور بیٹی تانگے پر سوار ٹہور ہوگئی۔ تانگہ ابھی گاوٗں کی کچی سڑک پر دھول اڑا رہا تھا۔۔۔ کہ رحمتے کو اپنے پیچھے آتے ہوئے ماسٹر کو دیکھ کر ااس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ وہ اپنا سکھ چین جاتا رہا۔۔۔۔ سائیکل چلاتے ہوئے ماسٹر کی نظریں اس کی نظروں سے ٹکرائیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماسٹر بھی بھول گیا کہ گاوٗں میں اسکی کتنی عزت اور کیسا وقار ہے۔۔۔لوگ اس کی شرافت کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔ وہ تو یکدم اپنے ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔ رحمتے کو کیا دیکھا۔۔۔۔ جسے اس کی نیندیں حرام ہو گئیں، ساری رات جاگتا رہا۔۔۔۔ کیا میں اسی کی تلاش میں تھا۔۔۔۔
یہاں کہانی روک جاتی۔ دادی کو چپ لگ جاتی تھی۔ یوں کئی بار ہوا تھا۔ اور آج بھی میں مایوس ہو کر اٹھنے والی تھی۔ مجھے نہیں سنی کہانی ماسٹر اور رحمتے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے انتہائی کڑوے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔ اور دادی کی پائتی سے اٹھ کر ناراض قدموں سے نکلنے لگی تھی۔ جب دادی کی مدہم آواز نے میرے قدم روک لئے۔
“وہ رات ماسٹر نے جاگ کر گزاری۔ آنکھیں بند کرتا۔ تو سامنے رحمتے کا چہرہ آ جاتا۔ میں سرشاری کی کیفیت میں دادی کی پیروں میں بستر پر ہی بیٹھ گئی۔ دادی نے کروٹ نہیں بدلی۔ منہ دیوار کی طرف کئے بولتی رہی۔
“اگلے روز نکاح کے رجسٹر پر گواہوں کے خانے میں دستخط کرتے ہوئے ماسٹر نے دروازے میں کھڑی رحمتے کو دیکھا۔۔۔۔ پراندہ اس کی کمر سے لپٹ رہا تھا۔۔۔ ماسٹر کا دستخط کرتا ہاتھ روک گیا۔۔۔۔ اور شاہد دل کی دھڑکن بھی۔ وہ ٹکٹکی باندھے رحمتے کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔اور وہ رحمتے بھی پلکیں جھپکنا بھول گی۔ اس نے خواب میں جیسے دیکھا تھا۔ وہ آج اس کے سامنے اپنے خوب صورت وجود کے ساتھ موجود۔۔۔۔۔۔۔دونوں اس آگ کی تپش کو باخوبی محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔ جو ان دونوں کو اندر سے جلا رہی تھی۔
“رحمتے بہت خوب صورت تھی؟” میں نے ہولے سے پوچھا۔ دادی نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔کچھ دیر سکوت رہا پھر کہانی ایک نئے موڑ پر آ گئی۔ ماسٹر اور رحمتے کنویں کی منڈیر پر پہلی بار ملے۔۔۔۔۔ اور جیون بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھا بیٹھے۔۔۔۔ رحمتے تم نہیں جانتی۔ کہ تم نے مجھ پر کیسا جادو کر دیا ہے کسی کل چین نہیں۔۔۔ اب تو دل کرتا ہے کہ تم سامنے بیھٹی رہو۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ اور میں تو موت بھی تمھاری باہہوں میں چاہوں گا۔ “اللہ نا کرئے کیسی باتیں کر رہو ہو۔۔۔۔۔۔۔ میری عمر بھی آپ کو لگ جائے” ۔۔۔ رحمتے کو ماسٹر کی بیوی اور بچوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔ ”
“ماسٹر شادی شدہ تھا۔۔۔۔ بیوی بچوں والا؟” میں نے حیرت کے ساتھ پوچھا۔ میری حیرت کا بھی کوئی جواب نہیں ایا دادی اپنی رو میں بولتی چلی گئی۔ ماسٹر رحمتے کے عشق میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔ یاد تھی تو بس رحمتے۔۔۔ اس کے علاوہ کسی اور سے نہ غرض تھا اور نہ ہی واسطہ۔۔۔۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد رحمتے کا رشتہ مانگنے اس کے گھر آئے گا۔۔۔۔۔ رحمتے اور اس کی ماں اگلی شام اپنے گاوٗں کو واپس چلیں۔ تو ان کے پیچھے پیچھے ایک سائیکل سوار سائیکل کے پیڈل مارتا ہوا گاوٗں کے آخری کھیت تک آیا۔۔۔۔ جدائی کا درد اس کے چہرے سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔ لیکن رحمتے بھی کم اداس نہیں تھی۔ مگر دوبارہ ملنے کی خوشی ایک ہونے کی امید دونوں کو حوصلہ دے رہی تھی ۔۔۔ دادی نے کہا ۔۔۔۔ رشتہ مانگنے ماسٹر کو موچی اللہ بخش کے وہیڑے آنا نصیب نہیں ہوا۔۔۔ گاوٗں سے کچھ دور ہی کسی گھات لگائے بیھٹے ہوئے نے ماسٹر اور رحمتے کو ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔ کوچوان اور رحمتے کی ماں کو صبح سویرے لوگوں نے کھیتوں سے اٹھایا۔۔۔۔جو ساری رات وہاں بیہوش پڑے تھے۔۔۔دونوں کو سر پر چھوٹیں آئی ہوئی تھی۔ لیکن رحمتے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اسے زمین کھا گئی یا آسمان وہ کہاں گئی۔ “دادی۔۔۔۔ اسے کون لے گیا؟” مجھے عجیب سے بے چینی ہو رہی تھی۔ میں بے حد مضطرب تھی۔
پتا نہیں۔۔۔۔۔کوئی نہیں جانتا۔۔۔ اس کے باپ بھائیوں نے بہت تلاش کیا۔۔۔ مگر وہ نہیں ملی۔۔۔ کوئی کہتا، جن عاشق ہو گیا ہو گا۔۔۔۔ وہ اٹھا کر لے گیا۔۔۔۔ کوئی کہتا کسی چیڑیل نے مار دیا ہو گا۔۔۔۔ کیونکہ جب کوئی چیڑیل کسی انسان کو قتل کرتی ہے۔۔۔ تو اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔ جتنے منہ اتنی باتیں اور ماسٹر۔۔۔۔۔ مجھے بہت ترس آ رہا تھا۔۔۔ ماسٹر پر وہ تو ہوش کھو بیٹھا ۔۔۔ اپنے حواس میں نہ رہا۔۔۔۔ دادی نے ایک لمبا سانس لیا۔۔۔۔ جیسے اسے بھی بہت دکھ پہنچا ہو۔۔۔۔۔پاگل ہو گیا۔۔۔۔۔ پاگل تو وہ رحمتے کو پہلی بار دیکھ کر ہی ہو گیا تھا۔۔۔۔ جب وہ چلی گئی تو ماسٹر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا۔ لوگ کہتے آسیب ہے۔ کوئی کہتا۔ مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ ماسٹر کی بیوی تھوڑی بہت پڑھی لکھی تھی۔۔۔۔ اس نے ماسٹر کا خوب علاج کروایا۔۔۔۔ وہ سنبھل تو گیا۔۔۔۔ مگر اس کے اندر ایک تلاطم تھا جو اس کو سکون نہیں لینے دیتا تھا۔۔۔ اور سکون ملتا بھی کیسے۔۔۔۔ اس کی جان اس کی عزیز ترین ہستی گم ہو گئی تھی۔۔۔۔ رات دن بے چین روح کی طرح پھرتا رہتا۔۔۔۔ پھر ایک رات سنا کہ رحمتے ماسٹر کے خواب میں آئی تھی ”
خواب میں؟۔۔ اچھا پھر کیا ہوا۔” میرے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ دادی بولی۔
ہاں۔۔۔۔ اس نے ماسٹر سے کہا میری قبر کی مٹی بھی خشک ہو گئی ہے۔۔۔مگر تم نہیں آئے۔۔۔ بھول گے اپنے وعدے۔۔۔۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں۔۔۔۔ میں تمھارے انتطار میں ہوں ۔۔۔۔۔ میری قبر پر پھول نہیں ڈالو گے۔۔۔۔۔ یہ دو مہینے بعد کی بات ہے۔۔۔۔ اگلے دن ماسٹر پھول لے کر قبرستان گیا۔
“پھول لے کر۔۔؟۔۔ قبرستان۔۔؟۔۔ماسٹر کو کیا پتا تھا کہ رحمتے کی قبر کون سی ہے۔” میں بہت اضطراب میں تھی۔
“اسے نہیں پتا تھا۔ لیکن ایک یقین تھا، بہت سی قبروں کے درمیان ایک قبر پر بہت سے پھول پڑے تھے۔۔۔۔ جو بالکل تازہ تھے۔۔۔۔۔خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ قبروں کی مٹی برابر کرتے ہوئے ایک لڑکے نے بتایا۔۔۔ہم نہیں جانتے یہ کس کی قبر ہے، مگر یہاں کوئی بزرگ۔۔۔ اللہ والا۔۔۔ دفن ہے۔۔۔ جس کی قبر سے ہر وقت خوشبو آتی ہے۔۔۔ اور قبر پر تازہ پھول پڑے رہتے ہیں۔۔۔ لوگ دور دور سے اپنی مرادیں مانگنے آتے ہیں۔۔۔اور خالی نہیں جاتے۔۔۔ آ گے ہو ؟ کیا مراد ہے تمھاری ؟ ماسٹر کے کانوں میں رحمتے کی سرگوشی گونجی۔۔۔ اور اس نے وہ پھول اس قبر پر رکھ دیے۔۔۔۔ اس کی مراد پوری ہو گئی تھی۔ وہ جس سے ملنے آیا تھا۔ اس سے ملاقات ہو گئی۔
“دادی آپ ماسٹر کو جانتی ہیں۔۔۔ اس سے ملی ہیں کبھی۔” میں نے لرزتا ہوا ہاتھ دادی کے بازو پر رکھ دیا۔
“آخری بار اس سے تب ملی تھی جب وہ رحمتے سے ملا تھا۔۔۔۔ دادی کی آواز میں کوئی انجانا دکھ شامل ہو گیا تھا اور پہلی بار ؟ اپنے باپ کو مت بتانا۔۔۔۔ رحمتے کی قبر پر ڈالنے والے پھول میں نے ہی ماسٹر صاحب کو دے کر بھیجے تھے میں لرزتا کانپتا بدن لے کر دادی کی پاینتی سے اٹھ آئی۔۔۔۔ میرے آنسو میرے ضبط سے باہر تھے۔ اور میں جانتی تھی دیوار کی طرف کروٹ لیتی دادی کا چہرہ بھی پانی میں تر تھا۔۔۔ پانی، جو اس کی آنکھوں سے چشمے کی طرح بہہ نکالا تھا۔۔۔۔
مجھے پتا تھا کہ پہلی بار وہ ماسٹر صاحب سے کب ملی تھی۔ گاوٗں کی عورت سہاگ رات کو ہی اپنے مرد کو پہلی بار دیکھتی ہے۔

Published inتانیہ رحمانعالمی افسانہ فورم