Skip to content

پچھواڑے

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 12

پچھواڑے

صوفیہ بیدار، فیصل آباد

محبت کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کس قدر دلفریب فریضہ ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے محبت کو کھو دینے کے بعد دریافت کیا ہو۔ جیسے کوئی عمر رفتہ سے خوش کن منظر اُٹھا کر باقی ماندہ آرام سے آزاد ہو گیا ہو۔ تو یہ تھی محبت۔۔۔؟ سب کچھ صاف صاف، سب کچھ واضح۔۔۔ آئینے کی طرح روبرو۔۔۔ کچی یادوں میں پٹ سن کی رچی خوشبو جیسی۔۔۔ کسی سچے عاشق کی پیشانی جیسی۔۔۔ “اُس”کے زندگی میں آنے سے قبل اور چلے جانے کے بعد کا عرصہ ایک طرف اور وہ محبت سے ملفوف عرصہ ایک طرف دھر کے میں سوچتی ہوں.

کس لیے؟ اس محبت کے اطراف کا زمانہ کیوں؟ اس کی میری زندگی میں کیا ضرورت تھی؟ وہ راستہ جس پر میں کچھ دیر چلی تھی، اُس کے آگے اور اُس سے پہلےکے تمام راستے بے معنی تھے۔ تمام پگڈنڈیاں بے کار تھیں۔۔۔ جو “گٹھری” میں نے سر پر اُٹھا رکھی تھی اس کے علاوہ تمام اسباب بے مطلب تھے۔ دراصل وہ ہی میرا واحد اثاثہ تھی۔۔۔ ایک سوال میرے دل کی رکھوالی کیا کرتا ، وہ یہ کہ تمہارے ہجر کا زمانہ پھیکے، بے مزہ موسم جیسا سہی مگر اس لحاظ سے محترم ہے کہ اس میں تمہاری نارسائی کی خوشبو ہے، کہیں کہیں یادوں سے شہد ٹپکتا ہے جب کہ تم سے قبل کا زمانہ کس قطار و شمار میں ہے؟ عرصہء جاں کس لیے۔۔۔؟

“نورے۔۔۔ بند کرو یہ اپنی آزاد نظم جس کی آزادی میرے سانس سلب کر رہی ہے۔ کبھی تم خود سے مخاطب ہو جاتی ہو اور کبھی اس ناہنجار سے ۔۔۔ یہ سب کہہ کر تم ہم سب کی نا صرف توہین کر رہی ہو بلکہ ماضی میں چھپے تمام رشتوں کا بھی مذاق اڑا رہی ہو۔۔۔ کیا ہم سب تمہارے لیے کچھ نہیں؟ کیا تم صرف اس جھوٹے مکار فراڈیے کے لیے پیدا ہوئی تھی؟”

“یہ ایک اور سچائی ہے جو تم نے بیان کر دی شانزے۔۔۔ ہاں میں صرف اس کے لیے پیدا ہوئی تھی۔۔۔ باقی تمام رشتوں کی بنت تو اسی لیے تھی کہ میں ان میں رہ کر اس کی آمد کا انتظار کرتی۔۔۔”

“تم لفظوں کی درانتی سے رشتوں کی ڈوریاں کاٹتی چلی جا رہی ہو نورے”

” جو رشتہ درانتی سے کٹ سکتا ہے تم اسے رشتہ کیسے کہہ سکتی ہو شانزے؟”

“جس کے لیے تم یہ سب کر رہی ہو ، جس کے لیے پیدا ہونے کا دعویٰ کر رہی ہو وہ تمہارے لیے پیدا نہیں ہوا۔۔۔ ورنہ تمہیں یوں دھوکہ نہ دیتا. شانزے روہانسی ہو گئی”

“دھوکہ محبت ہی میں دیا جاتا ہے شانزے۔ کوئی اور اس کے دھوکے میں کیوں آتا۔ اس نے جو کچھ کیا وہ میں اب سمجھ سکتی ہوں تم۔تم اس کی حالت دیکھ رہی ہو۔۔۔؟”

“ہاں دیکھ رہی ہوں وہ اسی قابل ہے نورے۔۔۔ کیا تم اسے اب بھی معاف کر سکتی ہو۔۔۔؟”

“معاف۔۔۔؟ خیال گاہ میں دھیان کی پریاں ذرا سا لہرائیں تو روح کے معبد میں گھنٹیاں بجنے لگیں۔وہ جس نے مجھے آنسوؤپں سے لبریز کیا۔۔۔ وہ جس نے مرے اندر دکھوں کی رونق لگائی۔۔۔ وہ جس نے مجھے شاخ در شاخ ثمرور کیا جس نے میرے دل میں مٹی کا دیا روشن کر کے مجھے مالامال کر دیا۔۔۔ اس کے لیے معافی۔۔۔؟ شکر گزار نظریں مرادوں والے ٹھوٹھے بن جائیں تو معافیاں ہی معافیاں ہیں۔”

“یہ ایک اور طرح کا پاگل پن ہے۔۔۔ نورے۔۔۔ ہاں یہ ایک اور طرح کا پاگل پن ہے۔۔۔ تب سے اب تک ایک یہی بات تم نے درست کی شانزے۔ مگر تم نہیں سمجھو گی۔ میں کس قدر امیر ہو گئی ہوں ، کس قدر بزم آرائی ہے میرے اندر۔ شام ڈھلے اس سُونے گھر میں میلہ لگتا ہے.”

“تمہی سمجھو اس سے ۔ ہمیں تو بس یہ معلوم ہے ایک دو نمبر۔۔۔ اول درجے کےجھوٹے کی محبت میں ہذیان بک رہی ہو۔۔۔”

تضاد تو تمہارے لفظوں میں بھی ہے شانزے. پہلے اسے دو نمبر کہا، پھر اول درجے کا قرار دے دیا”۔ نورے مسکرا کر بولی تو چھوٹی بہن شانزے کا دل ہی جل گیا.

“توبہ ہے۔ بیکار ہے ۔تم جیسی عورتوں نے ہی ایسے گھٹیا مردوں کو خدا بنا رکھا ہے”

سارے گھٹیا مردوں کو نہیں۔۔۔ نورے مسلسل شانزے کو چڑا رہی تھی۔”

شانزے غصہ سے تلملاگئی۔ اٹھنے کو تھی کہ نورے نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔

” ناراض نہ ہو، میں تم سے جھوٹ کیسے بولوں؟ میری چھوٹی بہن ہو ۔ جب تم سے مخاطب ہوتی ہوں تو آئینے کے روبرو ہوتی ہوں۔ کیا تم سے بھی ایڈیٹنگ کر کے گفتگو کیا کروں جیسے اوروں سے کرتی ہوں۔”

“مگر تم جو سوچتی ہو، کس قدر تکلیف دہ ہے۔ تم نے ہم سب کی محبتوں کو ایک دو ٹکے کے فراڈیے کی جعلی محبت کے سامنے بے توقیر کر دیا ہے۔۔۔ کہاں کہاں تمہیں اس نے دھوکہ نہیں دیا؟ جب تم ہسپتال لائی جا رہی تھیں وہ مجرا سن رہا تھا۔۔۔ تمہیں یہ جھانسا دے کر کہ وہ تمہارے کامیاب آپریشن کے لیے منت مانگنے جا رہا ہے۔ جب اس کنجر خانے پر چھاپہ پڑا تو جاوید بھائی ریڈ کرنے والوں میں شامل تھے۔۔۔ کیسے کیسے بہانے بنا رہا تھا ان کے سامنے بہت ڈھیٹ ہے۔ “

“ارے نہیں شانزے، وہ مزار واقعی اس علاقے میں ہے جسے لوگ اچھا نہیں جانتے۔”

“تو پھر یہ وہاں کیا کر رہا تھا؟ علاقہ ایک سہی مگر اسے تو مزار پر ہونا چاہیے تھا۔”

“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ اسے اس کے دوست لے گئے تھے۔ویسے پہلے اس نے میرے لیے منت مانی تھی۔ میرا مطلب ہے میری صحت کے لیے۔”

تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ اُف تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا نورے یو۔۔۔ آر۔۔۔ امپاسبل۔۔۔ جاوید بھائی نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا۔۔۔ دوسروں کے ساتھ اسے بھی ہتھکڑیاں لگیں۔۔۔ رات بھر حوالات میں رہا، شراب کی جو بوتلیں اس کی گاڑی سے برآمد ہوئیں سو الگ۔”

“ویسے جاوید بھائی کو کم از کم اسے ہتھکڑی نہیں لگانی چاہیے تھی۔” نور ہسپتال کے بستر پر متفکر ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ چہرے پر اداسی چھا گئی۔۔۔ شانزے نے سر پکڑ لیا

“درست کہتی ہو۔ہتھکڑی نہیں لگانی چاہیے تھی، پھانسی پر چڑھانا چاہیے تھا۔”

“اوہو۔۔۔ تم لوگ اس کے گاڑی میں پڑی شراب کی بوتلیں تو دیکھتے ہو مگر اس لحظہ لحظہ سہمے ہوئے دل کو نہیں دیکھتے جو میرے آگے کس قدر جوابدہ ہے۔ وہ جھوٹ میرے ڈر سے بولتا ہے، کھونا نہیں چاہتا اس لیے۔سچ کی خوفناکی اسے ڈراتی ہے۔ تم لوگ اپنی آنکھوں کا علاج کیوں نہیں کرواتے جنہیں شراب کی بوتلیں اور ناچتے قدم فوراً دکھائی دیتے ہیں مگر اس بے ہمت ہوتے انسان کی جیب میں پڑے نیاز کے مکھانے تمہاری نظروں میں نہیں آتے۔ تم لوگ ہماری اس منفی سوچ کا عکس ہو جو ہمیشہ برائی برآمد کرتی ہے۔ جسے ہتھیلیوں میں چھپی مرادیں، انگلیوں کی پوروں میں تسبیح کا لمس اور پیشانی پر سجدوں کے عکس نہیں دیکھتے۔۔۔ تم لوگ جب تک جائے نماز برآمد نہ کرو، تمہارے لیے کوئی نمازی نہیں۔”

” بیلے کی کلیاں، درگاہ کے پھول، نیاز کے مکھانے بھی تو برآمد ہوئے تھے اس کی جیب سے۔

وہیں کہیں سے ڈال لیے ہوں گے فراڈیے نے۔۔۔ ہم تو تمہارا مجرم ہسپتال لے کر آئے تھے اس کے کرتوت سمیت۔۔۔ ڈر تھا تو اتنا کہ اپنے ہونے والے شوہر کے کارنامے سن کر کہیں تم دنیا سے کوچ نہ کر جاؤ۔ مگر جاوید بھائی نے کہا جو سیاہ سفید ہے، نورے کو دکھا دو۔ تا کہ اسے اپنی پسند کا اصل تعارف ہو جائے مگر یہاں تو ایسا اندھا جنون ہے جو تمہیں کچھ دکھائی نہیں دینے دیتا۔”

“جنون ایک ایسا دانشمند اندھیرا ہے جو منظر سے غیر ضروری عناصر کی تدوین کر دیتا ہے”

“توبہ ہے نورے۔۔۔ تم اور تمہاری منطق۔۔۔ حیرت ہے تم پر کوئی بجلی نہیں گری کیا تم آشنا تھیں؟”

“ہاں ناں میری چھوٹی شہزادی، مجھے معلوم ہے وہ کبھی کبھی پیتا ہے اور ایسی حالت میں ناچتے پاؤں، تھرکتی موسیقی اور آوارہ دوست اسے مائل کر لیتے ہیں۔کیا ایسے حالات میں وہ محفلِ نعت جائے گا؟”

ابھی شانزے اس منطق پر انگشت بدنداں ہی تھی مزید وکالت ہوئی۔اور یہ لڑکیاں آج کل کی۔ توبہ ہے خود ہی گلے پڑتی ہیں۔ کبھی اس کا موبائل دیکھو، میسج باکس بھرا پڑا ہوتا ہے، ایسے ایسے میسج کہ کیا بتاؤں.”

“مجھے بتانا بھی مت خود ہی ہوتی رہو ثمر ور۔۔۔ اور کرتی رہو شاعری” شانزے ہاتھ چھُڑا کر بھاگی۔

نورے آنکھیں موندے اپنے گھر کے پچھواڑے بچھی یاد پر خمیدہ زن ہو گئی۔ عجب گھر تھا یہ جس کا عقبی معمہ تو قدیم سرخ اینٹوں کی چنوائی سے بھروایا گیا تھا جب کہ پیشانی جاوید بھائی نے جدید طرز پر تعمیر کروا رکھی تھی۔۔۔ سامنے کی بیٹھک لائونج اور لان دیکھ کر لگتا ہی نہ تھا کہ گھر کا عقبی معمہ کبوتروں کی غٹر غوں، پرانے کنویں اور الگنی پر پڑی رنگ برنگی اوڑھنیوں سے سجا ہوا ہے۔۔۔

جاوید بھائی اکثر پولیس کی وردی میں ملبوس ہاتھ میں چھڑی پکڑے اشارے سے گھر کی تقسیم کرتے ہوئے کہا کرتے، گھر کا اگلا حصہ شانزے اورپچھواڑا نورے کا ہے۔ شانزے جدید ہے اور نورے قدیم ہے۔

نورے دھیان کے آنگن میں خیال کا زینہ اترتی اپنے گھر کے عقبی حصے میں چپلوں کی آہٹیں، پتوں کی پازیبیں اور کبوتروں کے پیاموں میں سمٹی سمٹائی گنگناتا وجود بن گئی۔

رات کے دل میں اتر جاتی ہوں رانی بن کر

گھر کے پچھواڑے کوئی یاد پرانی بن کر

مصرعوں کی برسات ہونے لگی۔ سوچ کے رگ و ریشے تخیل سے سج گئے۔ رنگوں کی بارشیں ہو گئیں۔ فراز کا درگاہ تلک جانا اور بھٹک کر گھنگھرئوں کی جھنکار میں کھو جانا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور جیب میں منت والے نیاز کے مکھانے۔۔۔ کیا ٹھیک تھا اور کیا غلط

ایک شاعرانہ دل ایسے حساب کیسے کرے۔وہ خود کو اس گناہ ثواب کی گنتی میں کیسے ڈالے؟ دل کی تسبیح پر ہوتے ہوئے ورد کو فراموش کر کے نیکی بدی کا شمار کیا کرے؟ اس نے پورے انسان کو چاہا تھا۔ جب کہ شانزے، جاوید بھائی اور ان جیسے بے شمار لوگ انسان کو نہیں چاہتے، اس کی خوبیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس کی خامیوں سے نفرت۔۔۔ وہ سمجھتی تھی کہ ایک رائٹر جانتا ہے کہ انسان ہزار رنگوں میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔ کبھی کوئی رنگ گہرا ہو جاتا ہے کوئی دھیما مگر رنگوں کے استعمال سے اس کے خد و خال بنتے ہیں اس کے عکس کے زاویے ابھرتے ہیں۔ وہ اپنے سائے سے الگ دکھتا ہے۔

کسی ترشی ہوئی متوازن شخصیت کے سو پہلو ہوتے ہیں۔ مگر بے سمت، آوارہ اور سرکش ہوائوں میں ایک ہی پیغام چھپا ہوتا ہے جس کا یقین کر لینا چاہیے۔ یہ ہوائیں سمٹنا نہیں چاہتیں، پردوں میں نہیں چھپتیں۔۔۔ کھڑکیوں کے در بجاتیں، اپنا سچ بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔ فراز بھی ان سرکشی گھٹاؤں جیسا تھا۔ وہ چھوٹ کو ریشم و اطلس میں سجا کر نہیں پیش کر سکتا تھا۔

نورے کا ہسپتال میں اپنڈکس کا آپریشن ہونا قرار پایا تھا۔ جب خون دینے کا وقت آیا تو سارے خون کے رشتے ادھر اُدھر ہونے لگے۔ کوئی بلڈ بینک دوڑا تو کوئی دوسرا انتظام کرنے۔۔۔ فراز نشے میں ہونے اور حوالات میں رات گزارنے کے باوجود نہ جانے کہاں سے اپنے جیسے پانچ سات لفنگے اٹھا لایا جو سارے کے سارے خون دینے کے لیے بے قرار تھے۔ فراز کا بلڈ گروپ اور تھا ورنہ وہ کئی مرتبہ نورے کی ناراضگی پر اپنی کلائیاں کاٹ کر اتنا خون تو بہا چکا تھا جتنا محبت کے یقین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ نورے جب بھی اس کی کسی بڑی حرکت پر ناراض ہونے لگتی تو جڑے ہوئے ہاتھ اور کلائیوں پر پڑے نشان دیکھ کر چپ ہو جاتی۔

پچھلی رات جب جاوید بھائی اسے پولیس وین سے اتار کر نورے کے روبرو اس ذلت آمیز طریقے سے لائے تو نورے کو غصے کی بجائے ترس آ گیا۔ اس کی فردِ جرم کمرے میں موجود دو نرسوں، ڈاکٹر، ابا جان اور تمسخر اڑاتی نظروں والی بھابھی جان کے سامنے سنائی جا رہی تھی۔ فراز نظریں جھکائے بے بس کھڑا تھا.

“اسے کوٹھے سے پکڑ کر لایا ہوں نورے۔ اپنے ہاتھ سے یہ انگوٹھی اتار کر اس کے منہ پر مار دے۔۔۔ ڈاکٹر ویسے بھی زیور اتارنے کا کہہ گئے ہیں۔ بھابھی جان نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی۔۔۔ نورے نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔۔۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ ایسے وقت میں گھر والے اس کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع مل رہا تھا۔ اس سے بھی سِوا رنج یہ ہے کہ فراز کو ذلتوں کے نشیب میں اتارا جا رہا ہے۔وہ بری صحبت میں پڑ گیا تھا.برا تو نہیں تھا.

نہ جانے کس طرح سے جاتے جاتے فراز نے وہ ہاتھ جو ہتھکڑی سے آزاد تھا، جیب میں ڈال کر نیاز کے مکھانے جو وہ درگاہ سے لایا تھا، نکال کر اس کی ہتھیلی میں تھما کر مٹھی بند کر دی۔ اسی اثناء میں جاوید بھائی اسے دھکیلتے ہوئے باہر لیے جا رہے تھے اور وہ پلٹ کر نورے کو دیکھتا ہوا دھکم پیل سے دروازے سے باہر کیا جا رہا تھا۔ ۔۔

“لاحول ولا قوۃ۔ “ابا جان سر پر کروشیے سے بنی ٹوپی برابر کرتے ہوئے نورے کے لیے نفل پڑھنے اٹھ کھڑے ہوئے۔ “شانزے جاوید واپس آتا ہی ہو گا، فراز کے گھر سے کسی کو آنے نہ دینا۔ میں نماز کے ساتھ دو نفل منت کے پڑھ کر واپس آتا ہوں۔۔۔ صبح اس کا آپریشن ہے، اسے سلا دو۔”

ابا نورے سے نظریں ملائے بغیر شانزے کو ہدایت دیتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔

نورے نے موقع پا کر ہتھیلی پر دھری نیاز آنکھوں سے لگانا چاہی ۔ شانزے نے لپک کر اس کی ہتھیلی کھول کر محبت کی سوغات سرد مہری سےفرش پر بکھیر دی۔

” اف شانزے۔۔۔ یہ تم نے کیا کیا؟؟”

“آپ کا صبح آپریشن ہے، آپ کو کچھ نہیں کھانا۔۔۔ نرس نے فرش سے نیاز کے مکھانے چنتے ہوئے کیا۔” نورے نے ضبط میں پلکیں جھپکیں تو موٹے موٹے آنسو بہہ نکلے.

نورے نے آنکھیں موند کر سماعتوں پر برسنے والے اس شور کو روکنا چاہا جو بیک وقت گھنگھرئوں والے پیروں کی دھمک بن جاتی تو کبھی درگاہ سے اٹھنے والی قوالی کی معطرخوشبو۔ نرس نے بڑھ کر انجکشن لگایا اور دماغ نیند کے بھاری پتھر تلے دبتا چلا گیا۔

صبح ہی صبح ٹیسٹوں کا رزلٹ، بخار، بلڈ پریشر، شوگر لیول۔سب چیک ہو رہا تھا۔ گھر والے دوڑ دوڑ کر سارے انتظام میں ہاتھ بٹا رہے تھے اور ڈاکٹر رپورٹ پڑھتے ہوئے منمنایا، ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر H.Bذرا کم ہے، بلڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ آپ سب بلڈ چیک کروا کر کراس میچنگ کروائیں۔ ابا کو شوگر تھی، اماں سدا کی بیمار۔شانزے کو پچھلے سال ٹائیفائیڈ ہوا تھا۔۔۔

جاوید کو تو ویسے ہی اتنی سخت ڈیوٹی کرنا ہوتی ہے، پہلے ہی طاقت کی کمی ہے۔۔۔ بھابھی ان کے سڑک پر بے ہوش ہو جانے کا قصہ سنا رہی تھیں۔۔۔ فراز جیسے ہزار فراڈیوں پر ڈنڈے برسانے ہوتے ہیں، تھک کر ہانپنے لگتے ہیں۔ انہیں تو خود خون چاہیے۔”

” ہمیں آدھے گھنٹے تک بتا دیں، “ڈاکٹر بور ہو کر بولا۔۔۔ بارہ بجے سے زیادہ انتظار نہیں کر سکتے اپنڈکس پھٹ بھی سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب گلوکوز کی رفتار مدھم کر کے اپنے عملے کے ساتھ باہر نکل گئے.

بھابھی کی میڈ نے اشارہ کیا”وہ باہر۔۔۔ “کیا؟؟؟” بھابھی نے کھا جانے والی نظروں سے میڈ کو دیکھا۔۔۔ وہ جی وہ باہر فراز بھیا پھٹے کپڑے پہنے گیلے بالوں کے ساتھ نہائے دھوئے تسبیح پھیر رہے ہیں۔

“اس کو تو۔۔۔”جاوید بھائی برآمدے کو لپکے۔

“جاوید بھائی۔۔۔” نورے چیخی اور پیشانی پسینے سے تر ہو گئی۔”

نرس نے جھٹ بی پی لیا. ان کا بلڈ پریشر بگڑ رہا ہے، پلیز آپریشن لیٹ ہو جائے گا، آپ لوگ باہر جائیں۔ اچھی بھلی کنڈیشن تھی پیشنٹ کی۔

نرس بڑبڑانے لگی۔اماں خاموش ہو کر کونے میں بچھی جائے نماز پر جا بیٹھی۔جاوید بھائی کو بھابھی موقع غنیمت جان کر گھر لے گئیں۔ تو وہ ناہنجارآنکھوں کے عین سامنے آ کھڑا ہوا۔ سرخ ڈوریوں سے لبریز آنکھیں چھلک رہی تھیں۔ دونوں ہاتھ جڑے ہوئے تھے۔ سفید کاٹن کے سوٹ میں سیاہ تر بتر بال سرخی مائل رنگت پر موتی جھلکا رہے تھے۔

“صبح سے پیر مکی والے کی درگاہ پر بیٹھا تیرے لیے دعا کر رہا تھا۔۔۔ جلدی سے کلائی ادھر کر نورے۔”فراز نے جلدی سے سرخ دھاگہ پڑھ کر پھونکا اور نورے کی کلائی پر باندھ دیا “اسے آپریشن کے وقت بھی اپنی کلائی سے اتارنے نہ دینا، یہ تیری حفاظت کرے گا۔خون کا بندوبست میں نے کر لیا ہے۔ راجو، راکٹ، نواب۔۔۔ سارے باہر بیٹھے ہیں، کسی نہ کسی کا تو ضرور میچ ہو جائے گا۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھ لیا ہے، میرا دل تو تجھ سے ملتا ہے مگر خون نہیں۔ “

“بیٹا فراز باہر جاؤ۔ اماں نے ناراضگی سے کہا۔تو وہ سب کی نظریں بچا کر لبوں سے چومنے کا ہلکا سا اشارہ کرتے ہوئے۔ ہاتھ جوڑے۔ آنکھوں میں ترلے لیے الٹے قدموں دروازے کو مڑا۔ نورے جذبوں کے ابہام میں مدغم ہوتی چلی گئی۔نیم بیہوشی میں چھن چھن ، دور ہوتی کٹلری کی جھنکار، بجھتی روشن ہوتی یادوں میں اندھیرے گہرے ہونے لگے۔۔۔ ڈاکٹر، نرس، ٹرالی، عجیب سی مہک، انجکشن اور بند ہوتے ہوئے ہوش کے دروازے کسی اور گیان میں کھلنے لگے۔۔۔ کلائیوں پر دعائیں بندھی تھیں ،جسم کسی کے وصال کی چاہ میں .دھڑکن کی رفتار بڑھا رہی ہے، آخری سرگوشی۔۔۔ کون دوبارہ ہوش میں لائے گا؟ ایک یقین۔۔۔ ایک خیال۔۔۔ ایک دعا۔۔۔ ایک دھیان۔۔۔ ایک آرزو۔۔۔ ہاں فقط ایک آرزو

“شکر ہے خدا کا نورے تم نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا۔”

بے ہوشی اتنی گہری ہو گئی کہ قومے میں جانے کا خطرہ تھا۔ آپریشن تو ٹھیک ہو گیا تھا مگر شعور بیدار نہیں ہو رہا تھا۔” شانزے مسلسل روتے ہوئے بول رہی تھی۔

” ہم تو ڈر ہی گئے تھے۔ ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ اگر چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا تو تم باقاعدہ قومے میں چلی جائو گی۔ شکر ہے ،فراز بھائی کا یقین ،ان کی دعا اور ان کی گریہ زاری تمہیں اس جہان میں واپس لے آئی۔ جاوید بھائی نے بمشکل انہیں تمہارے سرہانے بیٹھ کر وظیفہ پڑھنے کی اجازت دی ورنہ تمہارے جسم نے رسپانس دینا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹرز بھی دعا کا کہہ کر چلے گئے تھے۔ جب سب رو پیٹ چکے تو فراز بھائی نے اماں کی منت کی ، تیری کلائی پر پھر سے دھاگہ باندھا جو آپریشن تھیٹر میں اتار دیا گیا تھا، تجھے پڑھ پڑھ کر پھونکا۔۔۔ اور اور۔۔۔ تو ۔۔۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔”

“مبارک ہو۔۔۔ ڈاکٹرز نرسز کی ٹیم اندر آ گئی۔۔۔ ان کا چیک اپ کرنے دیں۔ کوئی دو گھنٹے بعد کلیئرینس ملی تو جاوید بھائی اور ابا کے باہر جانے کے بعد نورے نے ڈاکٹر سے استفسار کیا، مجھے کیا ہوا تھا؟؟ آپ کا جسم کسی دوا، کسی کاوش کو رسپانس نہیں کر رہا تھا۔۔۔ جب تک پیشنٹ رسپانس نہ کرے، خالی دوا کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔ آپ لگ بھگ آٹھ گھنٹے بے ہوش رہیں۔ یہ عجیب کیس تھا۔۔۔ کیا آپ کچھ سن رہی تھیں۔۔۔؟

جی ڈاکٹر صاحب۔۔۔ میں ہوش و بے ہوشی کے درمیان خود کو اپنے گھر کے اگلے حصے میں محسوس کر رہی تھی جہاں جاوید بھائی، بھابھی اور سارے لوگ مجھے میرے اصل سے دور ہونے کی ترکیبیں کر رہے تھے، میں یہ سب سننا نہ چاہتی تھی اس لیے نیند میری ترجیح تھی۔۔۔ پھر کوئی لمس، کوئی مہک، کوئی آیت مجھے میرے گھر کے مانوس پچھواڑے لے گئی جہاں زندگی تھی، خوشی تھی، سرسراہٹ تھی، میں جسے سن رہی تھی، غور سے سننا چاہتی تھی، دھیان لگا کر اسی لیے کوشاں ہو گئی بہت غور سے، بہت لگن سے، بہت چاہت سے، بہت محبت سے۔۔۔ اور آنکھیں کھول دیں.مجھے وہیں رہنا ہے فراز کے ساتھ”

ڈاکٹرز نے جانے کا کہہ دیا.

“انہیں گھر لے جائیے۔۔۔ آں ہاں مگر ان کے پسندیدہ حصےمیں یعنی پچھواڑے میں اور تھوڑی سی زندگی ہے انہیں جینے دیجئے ان کی مرضی اور ان کے ڈھب سے”ڈاکٹر صاحب نے ابا سے کہا.تو وہ دروازے میں سہمے سے کھڑے فراز کو دیکھ کر مسکرائے اور بازو وا کر دیے.

نورے نے آسودگی سے آنکھیں موند لیں وہ اپنے گھر کے پچھواڑے میں اپنی شاعری اور اپنے محبوب فراز کے ساتھ ننگے پاؤں چلنے لگی.

Published inصوفیہ بیدارعالمی افسانہ فورم