Skip to content

پلکوں میں چھپے خواب

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر : 41
پلکوں میں چھپے خواب
راجہ یوسف کشمیر

سنڈے مارکٹ ۔۔۔ نام سنتے ہی ڈر اور خوف کی لہر جیسے میرے بدن سے چھوکر نکل گئی ۔ یہاں کے حالات ہی کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ بھیڑ بھاڑ والے بازاروں میں جانے سے خوف آتا تھا۔ پتا نہیں کب کیا حادثہ ہوجائے۔ گولیاں چلنے اور کہیں بھی بم پھٹنے کے واقعات عام ہورہے تھے۔
لیکن میرا جانا ضروری تھا۔ یہ میرے بابا کا حکم تھا۔ بابا بیس بائیس سال پہلے حج سے ایک ریڈیو سیٹ لائے تھے۔ جو جند مینے پہلے خراب ہوگیا۔ بابا کے حکم سے میں نے کئی میک نکس کو دکھایا لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ سب نے یہی بتایا کہ اس کی کوئی آئی سی خراب ہوچکی ہے جو یہاں نہیں مل سکتی۔ اب یہ ریڈیو کا زمانہ بھی نہیں تھا۔ ٹی وی پر لائیونیوز چینلز کی بھر مار تھی۔ بابا سے نیا ریڈیو سیٹ لاکے دینے کی بھی بات کہی۔ لیکن بابا کو کون سمجھائے۔ وہ اسی کو ٹھیک کروانے میں لگے تھے۔ پھر کسی نے ان سے کہہ دیا کہ ایسے ریڈیو سیٹ سنڈے مارکیٹ میں ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ بابا لگاتار چھ دن تک یاد دہانی کراتے رہے کہ اگلی اتوار کو سنڈے مارکیٹ جانا ہے اور وہاں سے ریڈیو سیٹ ٹھیک کراکے لانا ہے۔اتوار آگئی اور بابا میرے سر پر کھڑا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ اتوار کو دیر تک میرے سونے کی آرزو آرزو بن کر ہی رہ گئی۔ معمولی ناشتہ کرکے میں ریڈوسیٹ لے کر سنڈے مارکیٹ کی طرف نکل گیا۔ نزدیکی پارکنگ میں گاڑی لگا کر میں بازار میں آگیا۔ ایسے بازاروں میں جانے کا ڈر اپنی جگہ لیکن یہاں آکر مجھے مزہ آگیا۔ بھیڑسے بھرا بازار۔۔۔ سڑک کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ بھی بند۔ ریڈی والوں اور فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والوں کا شور۔آتے جاتے لوگوں کی بڑھتی تعداد جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔ بازار ایک دم کلرفل لگ رہا تھا۔ مجھے سب کے چہرے خوش اور مسکراتے نظر آرہے تھے ۔ لیکن ایک بات پر میں حیران تھا کہ سنڈے مارکیٹ میں ایسے کم ہی لوگ تھے جو پرانا سستا یا ٹوٹا پھوٹا سامان بیچتے تھے۔ زیادہ تر یہاں نئے ساز و سامان سے آراستہ ریڈیاں اور فٹ پاتھ بھرے تھے۔ میرے مطلب کے کئی چھوٹے موٹے میک نک بھی تھے۔ سب کو بابا کا ریڈیو سیٹ دکھایا لیکن کسی ایک کے پاس بھی اس کا علاج نہیں تھا۔ کچھ لوگ تو ریڈیو سیٹ دیکھ کے ہنس بھی لئے تھے۔ ایک نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا۔
”صاحب جی! یہ کیا سن سنتالیس کی چیز لئے گھومتے پھررہے ہیں آپ۔ کباڑی توپانچ روپئے بھی نہیں دے گا اس کے۔“ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے غصے پر قابو پا کے بڑی نرمی سے بولا۔
”تم اسے ٹھیک کر کے دے دو۔ میں تمہیں پانچ سو روپئے دے دوں گا۔“ اسنے پھر سے ریڈیو سیٹ کھولا۔ اسے غور سے دیکھا۔ آخر سر ہلا کر بولا۔
” نہیں صاحب جی۔ میرے بس کا نہیں ہے یہ ۔۔۔“ اس نے ریڈیو سیٹ بند کرکے واپس کردیا۔ میں بڑی ناامیدی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا، فٹ پاتھ کے بڑے حصے پرقالین والوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ میں قر یب گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک قالین جو میں نے کچھ ہفتے پہلے شہر کے ایک بڑے شوروم میں دیکھا تھا۔ ویسا ہی قالین یہاں فٹ پاتھ پربھی پڑا تھا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہر اصل چیز کی نقل ہمارے شہر میں بھی ملتی ہے۔ پھر بھی میں اسے قریب سے دیکھنے گیا۔”ہاں صاحب جی بولئے۔ کیا پسند آیا آپ کو۔“
”یہ قالین اصلی ہے۔۔۔ یا۔۔۔“
”اصلی ہے جناب۔۔۔ ہم نقلی مال نہیں بیچتے ہیں۔ ویسے بھی اتنے مہنگے قالین کی نقل نہیں بنی ہے ابھی تک “
”آپ کے پاس تو ایک ہی پیس ہے یہ۔ مجھے تو جوڑا چاہئے تھا۔“

”وہ فکر نا کریں آپ صاحب جی۔ اس ڈیزائن میں آپ کو جتنے پیس چاہئے۔ مل جائیں گے۔ آپ چاہیں تو پورے گھر کو ڈیکوریٹ کر سکتے ہیں ۔۔۔ یہ اتنے پیس موجود ہیں ہمارے پاس ۔۔۔“

”کتنے کا جوڑا ملے گا۔“ اور اس نے جو قیمت بتا دی وہ شوروم کی قیمت سے آدھی تھی۔ اب تو مجھے پورا یقین ہوگیا تھاکہ یہ نقلی ہی ہے۔

”لیکن یہاں تو آپ کے پاس ایک ہی پیس ہے۔ دوسرا پیس کہاں سے دیں گے۔“

”صاحب جی یہ لیجئے ہمارے شوروم کا کارڈ۔ آپ کو یہاں صرف آرڈر بک کرنا ہے۔ مال تو آپ کو شوروم سے ہی ملے گا۔ آپ کا آرڈر تو ہم آپ کے گھر بھیج دیں گے۔ ہمارا سسٹم ہے ہوم ڈیلوری کا۔“ سیلزمین کچھ اور بھی کہہ رہا تھا لیکن میں کارڈ دیکھ کر ہکابکا رہ گیا تھا۔ یہ اسی شوروم کا کارڈ تھا جہاں سے یہی قالین مجھے اسے ڈبل قیمت پر مل رہا تھا۔
”لیکن شوروم پر تو آپ یہ قالین مہنگا بیچتے ہیں۔“
”صاحب جی شوروم کی بات الگ ہے اور یہاں کی بات الگ۔ اگر آپ اس قالین کی بکنگ یہاں سنڈے مارکیٹ سے کریں گے تو آپ کو یہی قیمت دینی پڑے گی۔ چاہے آپ کومال کی ڈیلوری کہیں سے بھی ملے۔“ میں نے ان کو کچھ رقم ایڈوانس کردی اور مجھے تب ایک اور جھٹکا لگا جب انہوں نے مجھے پیسوں کی رسید بھی اسی شوروم کی تھما دی۔ تو یہ ثابت ہوگیا تھا کہ یہ غریبوں کی مارکیٹ بس نام کی تھی اور قبضہ یہاں پر بھی بڑے بڑے مگر مچھوں کا ہی تھا۔
میں چلتے چلتے دوسری سڑک پر آگیا تو یہاں مجھے اصلی سنڈے مارکیٹ نظر آگیا۔ پرانی چیزیں۔ پرانے کپڑے۔ پرانا ساز و سامان۔ اور لوگوں کی بھیڑ جو یاس کی طرح پھیلتی جا رہی تھی۔ یہاں پر ہی مجھے اپنا مطلوبہ میکنک بھی مل گیا۔ یہ ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ اس کے کپڑے بوسیدہ ضرور تھے لیکن اس کا چہرہ خوبصورت تھا، آنکھیں روشن تھیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ ، بال ریشمی اور گیلے تھے۔ جیسے ابھی ابھی نہاکر آیا ہو۔ وہ ایک ٹوٹی پھوٹی ٹول نما کرسی پر بیٹھا تھا۔ سامنے بھی ایک ٹوٹی پھوٹی چھوٹی سی میز تھی، جس پر ریڈیو ٹھیک کرنے کا سامان اور کچھ پرانے ریڈیو سیٹس کے پرزے بکھرے پڑے تھے۔ میز کے نیچے بھی چند ٹوٹے ریڈیو سیٹ تھے۔ کچھ اور سامان بھی پڑا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں بیٹری سے چلتا ایک چھوٹا سا پاور انویٹر بھی تھا۔ یعنی میرا مطلوبہ آدمی یہاں پورے سازو سامان کے ساتھ بیٹھا تھا۔
”یہ ریڈیو سیٹ ٹھیک ہوگا“ میں نے اس کے قریب جاکر کہا۔
”کیوں نہیں ہوگا صاحب۔۔۔ راجو مستری ماسٹر ہے صاحب۔ ایسے ریڈیو سیٹ بائیں ہاتھ سے ٹھیک کرتا ہے۔“ اس نے میرے ہاتھ سے ریڈیو سیٹ لے کر کہا اور اسے کھولنا شروع کیا۔
”یہ۔۔ یہ راجو مستری کون ہے۔“ میں نے آس پاس دیکھنا شروع کیا۔ مجھے لگا اس کا مالک کوئی اور ہے۔ جس کا نام راجو ہے۔
”میں ہوں نا صاحب۔ راجو میرا نام۔“ راجو پر اعتماد تھا۔ اور اس کی آنکھوں سے ذہانت مترشح تھی اور ساتھ ہی مجھے اس کی آنکھوں میں وہ سارے خواب نظر آرہے تھے، جن میں کچھ کرنے کی لگن اور اپنی غربت سے نکل آنے کی جستجو رقصاں تھی۔
راجو ریڈیو سیٹ کے پرزے الگ الگ کررہا تھا تو مجھے لگا اس کو ابھی وقت لگے گا۔ میں بھی سنڈے مارکیٹ گومتے گومتے تھک چکا تھا۔ اور چائے کی بھی سخت طلب ہورہی تھی۔ راجو کو کہہ کر میں پاس ہی ایک ریسٹورانٹ کے اندر چلاگیا۔ یہاں کافی رش تھا۔ ایک بیرے نے رہنمائی کی اور میں دوسری منزل پر آگیا۔ یہاں بھی اچھی خاصی بھیڑ تھی لیکن مجھے کھڑکی کے پاس ایک کرسی مل ہی گئی۔ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہی سستانے کیلئے تھوڑی دیر آنکھیں بند کرلیں۔ بیرا آگیا میں نے اسے چائے اور کھانے کے لئے کچھ ہلکا پھلکا لانے کا آرڈر دے دیا۔ چائے آگئی۔ اچھی چائے تھی۔ میں مزے سے چسکیاں لے کر کھڑکی سے باہر سنڈے مارکیٹ کا نظارہ کرنے لگا۔
یہاں سے سنڈے مارکیٹ کا بڑا حصہ میری نظر وں کے سامنے تھا۔ میں راجو کو دیکھ رہا تھا۔ جو میرے ریڈیو سیٹ میں لگا تھا۔ اس کے پاس ایک دو لوگ اور بھی آچکے تھے۔ وہ اس سے کچھ کہہ رہے تھے۔ شاید وہ بھی جواب دے رہا تھا لیکن اس کی نظریں ریڈیو سیٹ پر ہی جمی تھیں۔ راجو کے قریب ہی ایک ریڈی والا پرانے استعمال شدہ زنانہ کپڑے بیچ رہا تھا۔ پھر ایک اور آدمی بیٹھا تھا وہ پرانے جوتے بیچتا تھا۔ اس سے آگے دو لوگ اور بیٹھے تھے جن کے سامنے سستے مال کا اسٹال لگا تھا۔ اور ان کے آگے کئی ریڈی لگانے والے پرانا اور سستا سامان ہی بیچ رہتے تھے۔ راجو کے ساتھ لگا ریڈی والاجو پرانے زنانہ کپڑے بیچ رہا تھا۔ اس کے گرد عورتوں اور لڑکیوں کی اچھی خاصی بھیڑ جمع ہورہی تھی۔ جو کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھیں۔ شاید کوئی کچھ خریدبھی رہی تھی۔ اب میری نظریں ریڈی والے کی طرف ہوگئی تھیں۔ وجہ تھی وہ دو بچیاں جو بہت ہی معصوم اور خوبصورت تھیں۔ ان دو میں جو چھوٹی لڑکی تھی۔ اس کی مسکر اہٹ بہت پیاری تھی۔ وہ دونوں بار بار ایک رنگین فراق شلوارہا تھ میں ا ٹھاتی تھیں۔ اس کو الٹ پلٹ کرتی۔ اوپر نیچے دیکھ کر واپس رکھ دیتی تھیں۔ پھر کچھ اور کپڑوں کو دیکھ کر ان کی نگاہیں واپس اسی جوڑے پر اٹک جا تی تھیں۔ مجھے لگا فراق شلوار تو ان کو پسندآیا ہے۔ لیکن یا تو ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ یہ خرید سکیں یا کپڑے میں کوئی نقص ہے۔ بڑی لڑکی نے آہستہ سے کچھ کہا توچھوٹی لڑکی کی مسکراتی آنکھوں میں تشویش کے سائے لہرانے لگی۔۔۔ میں ابھی کچھ طئے بھی نہیں کرپایا تھا کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔ میں نے بس اتنا دیکھا۔ ہوا میں دھول کے ساتھ ساتھ انسانی اجزا بھی تیر رہے تھے۔ ان میں وہ خوبصورت اور معصوم چہرے بھی تھے جن کی کھلی آنکھوں میں ایک پرانی فراق شلوار نہ خرید پانے کی وجہ سے تشویش کے سائے لہرا اٹھے تھے۔ ایک چہرہ راجو کا بھی تھا جس کی آنکھوں میں وہ سارے خواب سمٹ کر یاس اور ناامیدی میں ڈل چکے تھے۔ جن کو وہ اپنی ذہانت اور خوش اخلاقی سے پورا کرنا چاہتا تھا۔ زمین پر آتے آتے وہ اداس آنکھیں بند ہوچکی تھی کہ کھلی رہ گئی تھیں، مجھے نہیں معلوم ۔۔۔

Published inراجہ یوسفعالمی افسانہ فورم