Skip to content

پروموشن

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر : 42
پروموشن
رضیہ کاظمی ۔ نیو جرسی،امریکہ

اچانک گلی میں اٹھنے والے شور نے انسپکٹر نصیر کی بیوی انوری کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔وہ وجہ جاننے کے لئے کھڑکی پر پہنچی تو دیکھتی کیا ہے کہ ایک پھٹے حال ،سن رسیدہ عورت ہاتھوں میں کنکر پتھر لئے اول فول بکتی ہوئی بچوں کودوڑارہی ہے۔
اتنی دیر میں اس کا چھوٹا بیٹا جاگ کر رونے لکااور مسز نصیرکھڑکی کا پلہ بند کرکے اسےدوبارہ سلانے چلی گئی۔
نعیم ایک پرائیویٹ اسکول کا چپراسی تھا۔ان کے یہاں اولادیں تو کئی پیدا ہوئیں لیکن سب غربت کی نذر ہوگئیں۔محدود آمدنی اور ماں ،باپ ومیاں بیوی چار افراد کا خرچ ۔گزارہ ہو تو کیسے ہو؟ لہذا کوئی سوکھا روگ اور کوئی نمونیہ کی بھینٹ چڑھ گیا۔اس بار جب شجاع پیدا ہوا تو اس کی پرورش وپرداخت میں ماں باپ جی جان سے جٹ گئے۔ان کی ریاضت رنگ لائی اور بچہ کافی صحت مند اور ہونہار نکلا۔ابتدائی جماعتوں سے ہی جو سوالات حل کرنے میں دورے طلبا عاجز رہتے وہ اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتے۔جیسے جیسے وہ اساتذہ کی آنکھ کا تارہ بنتاگیااپنے کئی ہم جماعتوں کے لئے کے باعث حسد بھی ۔ اکثر جب وہ اسے کہیں تنہا پاجاتےتو چپراسی کا بیٹا کہہ کر چڑھانے سے نہ چوکتے۔یہ تحقیرآمیز حرکت جس کے پیچھے غالبا” ان کے بزرگ بھی کارفرما تھےشجاع کے لئے بےحد تکلیف دہ تھی۔
“ اماں میں اب اسکول نہیں جاؤں گا۔”
“ کیوں؟ خیریت تو؟” محسنہ نے گھبراکر پوچھا۔
“سب مجھے چپراسی کہتے ہیں”
“ کیا چپراسی آدمی نہیں ہوتا؟”
“ہوتا ہے ماں لیکن وہ میری ہنسی اڑاتے ہیں نہ؟”
“ بیٹا کسی کسی کام کوچھوٹا سمجھ کر اگر سب چھوڑ دیں تو دنیا کا کام کیسے چلےگا۔”
“ ٹھیک ہے ماں لیکن وہ مجھے نوکر کہہ کر چھیڑتے ہیں تو شرم آتی ہے”
“شجو بیٹا ! تمہارے ابا نے زیادہ پڑھائی لکھائی نہیں کی تھی اس لئےانھیں اچھی نوکری نہیں مل پائی تھی مگرمیں تو اپنے اس اکلوتے بیٹے کو پڑھا لکھا کر خوب بڑا آدمی بناؤنگی۔”وہ اسے گلے لگاتے ہوئے بولی۔
اس نے اپنے آٹھ سالہ بچے کو سمجھانے کے لئے یہ کہہ تو دیا مگر سوچ رہی تھی کہ اگر مرکھپ کر کسی طرح اس نے بی اے ،ایم اے کر بھی لیا تو اس سفارش اور رشوت کے دور میں اسے نوکری کون دلائے گا۔خود اس کے دل میں نہ جانے کتنی خواہشیں پل رہی تھیں۔وہ ایک غریب کثیرالعیال والدین کی بیٹی تھی۔اس کاتعلق سماج کےایسے طبقے سے تھاجنھیں بچپن سے ہی اپنے سینے میں آرزوؤں کو دبانا سکھایا جاتا ہے۔
شجاع کی ذہانت اور ساتھ ہی اکتساب علم کی بے پناہ لگن نے اس کے لئے آگے کی پڑھائی کاراستہ ہموار کرنا شروع کردیا تھا۔ہائی اسکول سے ہی چھوٹے موٹے سرکاری وظائف کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ضروریات زندگی محدود تھیں۔رہائش آبائی مکان کے ایک مختصر سے حصہ میں تھی۔زندگی کی گاڑی منزل کی طرف رواں تھی کہ نعیم کو یرقان کا مرض لاحق ہوگیا۔اسکول میں کمر توڑ مشقت اور مناسب پرہیز وعلاج کی کمی نےبمشکل اسے صرف تین ماہ تک اور زندہ رہنے کا موقع دیا۔
اس زمانے میں غیر سرکاری اسکولوں کے ملازمین کےریٹائرمنٹ یاان کی فوتگی کے بعدانکی بیوی بچوں کی پنشن کا کوئی سلسلہ نہیں تھا۔محسنہ نےتھوڑی بہت رقم جوپس انداز کررکھی تھی سب وہ بھی نعیم کے علاج اور تجہیز و تدفین کے سلسلہ میں خرچ ہوگئی۔محسنہ نہ تو تعلیم یافتہ تھی اور نہ اسے کوئی ہنر آتا تھا کہ کوئی دھندا ہی چلا سکتی۔اخراجات روزمرہ کے لئے برتن بھانڈے بکتے رہے۔جب وہ بھی ختم ہوگئے تو چند دنوں میں فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی۔شجاع کے چھوٹے موٹے ٹیوشن سے پڑھائی اورگرہستی دونوں کا خرچ چلا پانا دشوار تھا۔
شجاع ابھی بی کام سال اول کا طالب علم تھا۔اس کا ارادہ وظائف اور ٹیوشن وغیرہ کی مدد سے کسی اچھے کالج سے ایم بی اے کا تھاجو فی الحال محال تھا۔حالات سے مجبور ہوکر ایک دن اس نے تعلیم کو خیر باد کہا اور بوریا بستر باندھ کر بمبئی کی راہ لی۔ماں کی ذمہ داری وہ اپنےچچازاد بھائی کے سپرد کرگیا تھا۔
محسنہ کو بیٹے کی جدا ئی سے زیادہ اس کی تعلیم کےادھوری رہ جانے کا غم تھا۔اس کا اندازہ شجاع کو بھی تھااور وہ جاتے جاتے اسے یقین دلا گیا تھا کہ وہ وہاں پیر جماتے ہی کسی نہ کسی طرح اس کی سبیل ضرور نکالے گا ۔خواہ اس کے لئے اسے کتنی ہی جی توڑ محنت نہ کرنی پڑےلیک وہ اس کے خوابوں کو بکھرنے نہیں دے گا۔
بمبئی میں شجاع کو کام کے لئے زیادہ بھٹکنا نہیں پڑا۔اس کے کسی ہم جماعت نے اپنے جس دوست کا پتہ دیا تھااس نےاسے اپنے ہی کاٹج انڈسٹری میں لگا دیا تھا۔جلد ہی وہ اپنی دیانت داری اور مشقت کے سبب افسران کےدلوں میں اس نے بہت جلد جگہ بنا لی ۔اس کی یہ ہر دل عزیزی کتنے ہی ھم مشربوں کے دلوں میں مثل خار کھٹک رہی تھی مگر اس کی نیک دلی کے سبب کسی سے کبھی کوئی ٹکراؤ عمل میں نہیں آیا تھا۔
ماں سے اس کی خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھا۔ماہ بہ ماہ ماہ پابندی سے خرچ بھی بھیجنے لگا تھا۔ادھر محسنہ بھی وقت گزاری کے لئےمحلہ کے درزی کی دکان سے لا کر کاج بٹن اور ترپائی کا کام کرنے لگی تھی۔اس خبر نے تو اسےبے حد نہال کردیا تھاکہ اس نے اپنا تعلیمی سلسلہ پھر سے شروع کردیا ہے۔غرضکہ زندگی ڈھرے پر آنے لگی تھی کہ اچانک اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔کچھ عرصہ بعداس کے کارخانہ سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ وہ کہیں لاپتہ ہوگیا ہے ، تلاش جاری ہےاور سراغ ملتے ہی خبر دی جائے گی۔
انوری اندھی گلی کے آخری مکان میں رہتی تھی ۔یہاں ہر دم آوارہ بچوں کا کریکٹ ، کنچااور گلی ڈنڈا چلتا رہتااور ساتھ ہی مارپیٹ اور گالی گلوج بھی۔یہ حشرات الارض نہ معلوم کہاں کہاں سے آجایا کرتے تھے۔ان میں سے کافی بچے سرکاری اسکولوں کے و ظیفہ یافتہ ہوتےاور کچھ نام نہاد فرضی اسکولوں کے۔رجسٹر پر ان کی حاضری ماسٹروں کی موجودگی پر منحصر تھی ۔ہفتہ میں جس دن وہ خود حاضرہوتے بچوں کو ھی پرساد طرح مل جایا کرتی تھی ۔ماں باپ کو یا تو اپنے ان نونہالوں کے روز نام چوں خبر ہی نہ ہوتی ہوگی یا اگر ہوئی بھی تو کیا نقصان تھاکیونکہ سال کہ سال کلاس تومل ہی جاتا تھا۔اکثر والدین تو اپنے بچوں کو شایدیہیں چھوڑ کر دھندوں میں بھی چلے جاتے تھے۔
دوپہر کا وقت تھا۔انوری اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کو سلاکر گھر کے کام نپٹانے چلی تواسے گھر کے باہر عین اپنے دروازے کے قریب کچھ غیرمعمولی ہنگامہ سنائی دیا۔وہ بنا کچھ سوچے مقناطیسی انداز میں جھپٹتی ہوئی باہری کمرے کی کھڑکی پر پہنچ گئی۔پلہ کھول کر دیکھاتو پھر اسی شکستہ حال عورت کو گلی کے آوارہ بچے گھیرے ہوئے تھے۔وہ سب اس سے کوئی چیز چھیننے کی جبرا” کوشش کررہے تھےجس کی وہ جی جان سے حفاظت کررہی تھی۔بچے عام طور پر پولیس سے بہت ڈرتے ہیں۔انوری نے ان کو جب شوہر سے ڈرایا تووہ سب دھیرےدھیرے کھسک لئے۔بچوں کے جانے کے بعد عورت تھوڑی پرسکون ہوگئی۔ویسے بھی آج ابھی اس کی دیوانگی زیادہ نہیں بھڑکی تھی۔
“کہاں رہتی ہو بہن تم؟”انوری نے تجسس میں پوچھا۔
“کیوں بتاؤں؟ تم کون لگتی ہو میری؟
“ہاں کوئی نہیں ہوں۔اچھا تو تمہارے سب گھر والے کہاں ہیں؟”
“تم سے مطلب؟”وہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔
“اچھا یہ بتاؤ تم نے یہ اپنے آنچل میں کیا چھپا رکھا ہے؟انوری اچانک پوچھ بیٹھی۔
“لو دیکھو۔یہ ہے میرا بیٹا۔”وہ خوش ہوگئی۔
اب کےناراض ہونے کے بجائے اس نے فورا” اپنے آنچل سےایک خوبرو نوجوان کی پوسٹ کارڈ تصویر نکال کر اس کے سامنے کردی ۔انوری نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ضرور اپنے اسی بیٹے کی تلاش میں اس حال کو پہنچی ہوگی۔اس کا دل مسوس اٹھااور اس نے یہ عہد کیا کہ وہ ضرور اپنے شوہرسے اس کی تلاش کے سلسلے میں سفارش کرے گی ۔اسی لمحہ وہ ڈیوٹی سے واپس آتا دکھائی دے گیا تو وہ اور بھی بحال ہو گئی ۔انسپکٹر نے تصویر کو دیکھا اور اکدم ٹھٹک کردیکھتا رہ گیا۔مجذوب عورت نے خوف زدہ ہوکرفورا”اسے پھر کپڑوں میں چھپالیااور بھاگتی ہوئی تنگ گلیوں میں پھر کہیں سما گئی۔
انوری نے دروازہ کھولاتو انسپکٹر خاموشی سے گھر میں داخل ہوااور خلاف معمول سیدھے بڈروم میں جاکر بستر پر دراز ہوگیا۔
وہ اس سےاس اچانک خاموشی کی وجہ پوچھتی رہی مگر وہ تھکن اور سر درد کا بہانہ بنا کر ٹال گیا۔اب اسے وہ یہ کیسے بتاتا کہ میں نے اپنے حالیہ پرموشن کے لئے پچھلے فرضی این کاؤنٹر (Encounter) میں جن چراغوں کو بجھایا تھا ان میں ایک یہ بے قصوربھی تھا

Published inرضیہ کاظمیعالمی افسانہ فورم